Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند امام احمد بن حنبل

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble

by Musnad Imam Bin Hanble

28,221 Hadith18 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16313

حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ نَحْوَ حَدِيثِ زُبَيْدٍ هَذَا عَنْ أَبِي سَعِيدٍ لَمْ يَبْلُغْهُ كُلُّ ذَلِكَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

حضرت ابوسعید خدری ایک مرتبہ حضرت قتادہ کے گھر آئے اور دیکھا کہ بقرعید کے گوشت میں بنا ہوا ثرید ایک پیالے میں رکھا ہوا ہے انہوں نے اسے کھانے سے انکار کردیا حضرت قتادہ بن نعمان ان کے پاس آئے اور انہیں بتایا کہ ایک موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم حج کے دوران کھڑے ہوئے اور فرمایا میں نے تمہیں پہلے حکم دیا تھا کہ تین دن سے زیادہ قربانی کا گوشت نہ کھاؤ تاکہ تم سب کو پورا ہوجائے اب میں تمہیں اس کی اجازت دیتاہوں اب جب تک چاہو کھاسکتے ہو اور فرمایا کہ ہدی اور قربانی کے جانور کا گوشت مت بیچو خود کھاؤ یاصدقہ کردو اور اس کی کھال سے بھی فائدہ اٹھا سکتے ہو اگر تم کسی کو ان کا گوشت کھلا سکتے ہو تو خود بھی جب تک چاہو کھا سکتے ہو۔

النَّبِيِّ ← أَبِي سَعِيدٍ لَمْ يَبْلُغْهُ كُلُّ ذَلِكَ ← جَابِرٍ نَحْوَ حَدِيثِ زُبَيْدٍ هَذَا ← أَبُو الزُّبَيْرِ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← حجاج،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16313

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16314

قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو قَالَ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ عَنْ شَرِيكٍ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ تَمِيمٍ عَنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنْ أَبِيهِ وَعَمِّهِ قَتَادَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ كُلُوا لُحُومَ الْأَضَاحِيِّ وَادَّخِرُوا

حضرت ابوسعیدخدری اور حضرت قتادہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قربانی کا گوشت کھاؤ اور ذخیرہ کرو۔

أبيه وعمه قتادة ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← شَرِيكٍ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ تَمِيمٍ ← زُهَيْرٍ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ ← عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16314

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16315

قَالَ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ قَالَ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنِ بْنِ جَعْفَرٍ وَأَبِي إِسْحَاقُ بْنُ يَسَارٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خَبَّابٍ مَوْلَى بَنِي عَدِيِّ بْنِ النَّجَّارِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ نَهَانَا عَنْ أَنْ نَأْكُلَ لُحُومَ نُسُكِنَا فَوْقَ ثَلَاثٍ قَالَ فَخَرَجْتُ فِي سَفَرٍ ثُمَّ قَدِمْتُ عَلَى أَهْلِي وَذَلِكَ بَعْدَ الْأَضْحَى بِأَيَّامٍ قَالَ فَأَتَتْنِي صَاحِبَتِي بِسَاقٍ قَدْ جَعَلَتْ فِيهِ قَدِيدًا فَقُلْتُ لَهَا أَنَّى لَكِ هَذَا الْقَدِيدُ فَقَالَتْ مِنْ ضَحَايَانَا قَالَ فَقُلْتُ لَهَا أَوَلَمْ يَنْهَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَنْ نَأْكُلَهَا فَوْقَ ثَلَاثٍ قَالَ فَقَالَتْ إِنَّهُ قَدْ رَخَّصَ لِلنَّاسِ بَعْدَ ذَلِكَ قَالَ فَلَمْ أُصَدِّقْهَا حَتَّى بَعَثْتُ إِلَى أَخِي قَتَادَةَ بْنِ النُّعْمَانِ وَكَانَ بَدْرِيًّا أَسْأَلُهُ عَنْ ذَلِكَ قَالَ فَبَعَثَ إِلَيَّ أَنْ كُلْ طَعَامَكَ فَقَدْ صَدَقَتْ قَدْ أَرْخَصَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْمُسْلِمِينَ فِي ذَلِكَ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں تین دن سے زیادہ قربانی کا گوشت کھانے سے منع فرمایا تھا کہ ایک مرتبہ میں کسی سفر پر چلا گیا جب واپس گھر آیا تو بقرعید کوابھی کچھ ہی دن گذرے تھے میری بیوی گوشت میں پکے ہوئے چقندر لے کر آئی میں نے اس سے پوچھا کہ یہ گوشت کہاں سے آیا اس نے بتایا کہ قربانی کاہے میں نے اس سے کہا کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں تین دن سے زیادہ اسے کھانے سے ممانعت نہیں فرمائی اس نے کہا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بعد میں اجازت دیدی تھی میں نے اس کی تصدیق نہیں کی اور اپنے بھائی حضرت قتادہ بن نعمان جو بدری صحابی تھے کے پاس یہ مسئلہ پوچھنے کے لئے ایک آدمی کو بھیج دیا انہوں نے مجھے جواب میں کہلابھیجا کہ تم کھانا کھا لو تمہاری بیوی صحیح کہہ رہی ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو اس کی اجازت دیدی تھی۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خَبَّابٍ، مَوْلَى بَنِي عَدِيِّ بْنِ النَّجَّارِ، ← أَبِي إِسْحَاقُ بْنُ يَسَارٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنِ بْنِ جَعْفَرٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبِي ← يَعْقُوبُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16315

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16316

قَالَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ هِلَالِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ رِفَاعَةَ الْجُهَنِيِّ قَالَ أَقْبَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى إِذَا كُنَّا بِالْكَدِيدِ أَوْ قَالَ بِقُدَيْدٍ فَجَعَلَ رِجَالٌ مِنَّا يَسْتَأْذِنُونَ إِلَى أَهْلِيهِمْ فَيَأْذَنُ لَهُمْ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ مَا بَالُ رِجَالٍ يَكُونُ شِقُّ الشَّجَرَةِ الَّتِي تَلِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبْغَضَ إِلَيْهِمْ مِنْ الشِّقِّ الْآخَرِ فَلَمْ نَرَ عِنْدَ ذَلِكَ مِنْ الْقَوْمِ إِلَّا بَاكِيًا فَقَالَ رَجُلٌ إِنَّ الَّذِي يَسْتَأْذِنُكَ بَعْدَ هَذَا لَسَفِيهٌ فَحَمِدَ اللَّهَ وَقَالَ حِينَئِذٍ أَشْهَدُ عِنْدَ اللَّهِ لَا يَمُوتُ عَبْدٌ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ صِدْقًا مِنْ قَلْبِهِ ثُمَّ يُسَدِّدُ إِلَّا سُلِكَ فِي الْجَنَّةِ قَالَ وَقَدْ وَعَدَنِي رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ أَنْ يُدْخِلَ مِنْ أُمَّتِي سَبْعِينَ أَلْفًا لَا حِسَابَ عَلَيْهِمْ وَلَا عَذَابَ وَإِنِّي لَأَرْجُو أَنْ لَا يَدْخُلُوهَا حَتَّى تَبَوَّءُوا أَنْتُمْ وَمَنْ صَلَحَ مِنْ آبَائِكُمْ وَأَزْوَاجِكُمْ وَذُرِّيَّاتِكُمْ مَسَاكِنَ فِي الْجَنَّةِ وَقَالَ إِذَا مَضَى نِصْفُ اللَّيْلِ أَوْ قَالَ ثُلُثَا اللَّيْلِ يَنْزِلُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا فَيَقُولُ لَا أَسْأَلُ عَنْ عِبَادِي أَحَدًا غَيْرِي مَنْ ذَا يَسْتَغْفِرُنِي فَأَغْفِرَ لَهُ مَنْ الَّذِي يَدْعُونِي أَسْتَجِيبُ لَهُ مَنْ ذَا الَّذِي يَسْأَلُنِي أُعْطِيهِ حَتَّى يَنْفَجِرَ الصُّبْحُ قَالَ

حضرت رفاعہ جہنی سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مکہ مکرمہ سے واپس آرہے تھے کہ مقام کدید میں پہنچ کر کچھ لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے اہل خانہ کے پاس واپس جانے کی اجازت مانگنے لگے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اجازت دیدی پھر کھڑے ہو کر اللہ کی حمدوثناء بیان کی اور فرمایا لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ درخت وہ حصہ جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب ہے انہیں دوسرے حصے سےزیادہ اس سے نفرت ہے اس وقت ہم نے سب لوگوں کو روتے ہوئے دیکھا پھر ایک آدمی کہنے لگا کہ اب کے بعد جو شخص آپ سے جانے کی اجازت مانگے گا وہ بیوقوف ہی ہوگا اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے الحمدللہ کہا اور فرمایا اب میں گواہی دیتاہوں کہ جو شخص لا الہ الا اللہ کی اور میرے رسول ہونے کی گواہی دیتا ہو جو صدق قلب اور درست نیت کے ساتھ ہو مر جائے وہ جنت میں داخل ہوگا اور میرے رب نے مجھ سے وعدہ کیا ہے کہ جنت میں میری امت کے ستر ہزار ایسے آدمیوں کو داخل کرے گا جن کا کوئی حساب کتاب اور انہیں کوئی عذاب نہ ہوگا اور مجھے امید ہے کہ وہ اس وقت تک جنت میں داخل نہ ہوں گے جب تک تم اور تمہارے آباؤ اجداد اور بیوی بچوں میں سے جو اس کے قابل ہوں گے جنت میں داخل نہ ہوجائیں ۔ اور فرمایا کہ جب ایک نصف یا دو تہائی رات بیت جاتی ہے تو اللہ آسمان دنیا پر نزول فرماتا ہے اور اعلان کرتا ہے کہ میں اپنے بندوں کے متعلق کسی دوسرے سے نہیں پوچھوں گا کون ہے جو مجھ سے معافی مانگے کہ میں اسے معاف کردو کون ہے جو مجھ سے دعا کرے اور میں اس کی دعا قبول کرو اور کون ہے جو مجھ سے سوال کرے اور میں اسے عطا کروں یہ اعلان صبح صادق تک ہوتارہتا ہے۔

رِفَاعَةَ الْجُهَنِيِّ ← عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ← هِلَالُ بْنُ أَبِي مَيْمُونَةَ ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16316

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16317

حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ قَالَ حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ هِلَالِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ رِفَاعَةَ بْنِ عَرَابَةَ الْجُهَنِيِّ قَالَ صَدَرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ مَكَّةَ فَجَعَلَ النَّاسُ يَسْتَأْذِنُونَهُ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ قَالَ وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ إِنَّ الَّذِي يَسْتَأْذِنُكَ بَعْدَ هَذِهِ لَسَفِيهٌ فِي نَفْسِي ثُمَّ إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَمِدَ اللَّهَ وَقَالَ خَيْرًا ثُمَّ قَالَ أَشْهَدُ عِنْدَ اللَّهِ وَكَانَ إِذَا حَلَفَ قَالَ وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ مَا مِنْ عَبْدٍ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ ثُمَّ يُسَدِّدُ إِلَّا سُلِكَ فِي الْجَنَّةِ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ

حضرت رفاعہ جہنی سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مکہ مکرمہ سے واپس آرہے تھے کہ مقام کدیدی پہنچ کر کچھ لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے اہل خانہ کے پاس واپس جانے کی اجازت مانگنے لگے پھر روای نے پوری حدیث ذکر کی اور کہا حضرت ابوبکر نے فرمایا اب کے بعد جو شخص آپ سے جانے کی اجازت مانگے گا وہ بیوقوف ہوگا اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے الحمدللہ کہا اور فرمایا کہ اب میں گواہی دیتاہوں کہ جو شخص اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو جوصدق قلب اور درست نیت کے ساتھ ہو مرجائے وہ جنت میں داخل ہوگا پھر راوی نے پوری حدیث ذکر کی۔

وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ إِنَّ الَّذِي يَسْتَأْذِنُكَ بَعْدَ هَذِهِ لَسَفِيهٌ فِي نَفْسِي ثُمَّ ← صَدَرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ مِنْ مَكَّةَ فَجَعَلَ النَّاسُ يَسْتَأْذِنُونَهُ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ ← رِفَاعَةَ بْنِ عَرَابَةَ الْجُهَنِيِّ ← عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ← هِلَالُ بْنُ أَبِي مَيْمُونَةَ ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← أَبُو الْمُغِيرَةِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16317

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16318

حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى قَالَ حَدَّثَنَا شَيْبَانُ عَنْ يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ أَبِي كَثِيرٍ قَالَ حَدَّثَنِي هِلَالُ بْنُ أَبِي مَيْمُونَةَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ رِفَاعَةَ بْنِ عَرَابَةَ الْجُهَنِيِّ قَالَ أَقْبَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى إِذَا كُنَّا بِالْكَدِيدِ أَوْ قَالَ بِعَرَفَةَ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ

حضرت رفاعہ جہنی سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مکہ مکرمہ سے واپس آرہے تھے کہ مقام کدیدی پہنچ کر کچھ لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے اہل خانہ کے پاس واپس جانے کی اجازت مانگنے لگے پھر روای نے پوری حدیث ذکر کی اور کہا حضرت ابوبکر نے فرمایا اب کے بعد جو شخص آپ سے جانے کی اجازت مانگے گا وہ بیوقوف ہوگا اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے الحمدللہ کہا اور فرمایا کہ اب میں گواہی دیتاہوں کہ جو شخص اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو جوصدق قلب اور درست نیت کے ساتھ ہو مرجائے وہ جنت میں داخل ہوگا پھر راوی نے پوری حدیث ذکر کی۔

بِعَرَفَةَ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ ← أَقْبَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ حَتَّى إِذَا كُنَّا بِالْكَدِيدِ أَوْ ← رِفَاعَةَ بْنِ عَرَابَةَ الْجُهَنِيِّ ← عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ← هِلَالُ بْنُ أَبِي مَيْمُونَةَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ ← يَحْيَى، يَعْنِي ابْنَ أَبِي كَثِيرٍ ← شَيْبَانَ ← حَسَنُ بْنُ مُوسَی

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16318

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16319

قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ يَعْنِي الدَّسْتُوَائِيَّ قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ هِلَالِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ قَالَ حَدَّثَنَا عَطَاءُ بْنُ يَسَارٍ أَنَّ رِفَاعَةَ الْجُهَنِيَّ حَدَّثَهُ قَالَ أَقْبَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى إِذَا كُنَّا بِالْكَدِيدِ أَوْ قَالَ بِقُدَيْدٍ جَعَلَ رِجَالٌ يَسْتَأْذِنُونَ إِلَى أَهْلِيهِمْ فَيُؤْذَنُ لَهُمْ قَالَ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ وَقَالَ خَيْرًا وَقَالَ أَشْهَدُ عِنْدَ اللَّهِ لَا يَمُوتُ عَبْدٌ شَهِدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ صَادِقًا مِنْ قَلْبِهِ ثُمَّ يُسَدِّدُ إِلَّا سُلِكَ فِي الْجَنَّةِ ثُمَّ قَالَ وَعَدَنِي رَبِّي أَنْ يُدْخِلَ مِنْ أُمَّتِي سَبْعِينَ أَلْفًا بِغَيْرِ حِسَابٍ وَإِنِّي لَأَرْجُو أَنْ لَا يَدْخُلُوهَا حَتَّى تَبَوَّءُوا أَنْتُمْ وَمَنْ صَلَحَ مِنْ أَزْوَاجِكُمْ وَذَرَارِيِّكُمْ مَسَاكِنَ فِي الْجَنَّةِ وَقَالَ إِذَا مَضَى نِصْفُ اللَّيْلِ أَوْ ثُلُثُ اللَّيْلِ يَنْزِلُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا فَيَقُولُ لَا أَسْأَلُ عَنْ عِبَادِي أَحَدًا غَيْرِي مَنْ ذَا الَّذِي يَسْتَغْفِرُنِي أَغْفِرُ لَهُ مَنْ ذَا الَّذِي يَدْعُونِي فَأَسْتَجِيبَ لَهُ مَنْ ذَا الَّذِي يَسْأَلُنِي فَأُعْطِيَهُ حَتَّى يَنْفَجِرَ الصُّبْحُ

حضرت رفاعہ جہنی سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مکہ مکرمہ سے واپس آرہے تھے کہ مقام کدید میں پہنچ کر کچھ لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے اہل خانہ کے پاس واپس جانے کی اجازت مانگنے لگے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اجازت دیدی پھر کھڑے ہو کر اللہ کی حمدوثناء بیان کی اور فرمایا لوگوں کو کیا ہوگیا ہے کہ درخت وہ حصہ جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب ہے انہیں دوسرے حصے سےزیادہ اس سے نفرت ہے اس وقت ہم نے سب لوگوں کو روتے ہوئے دیکھا پھر ایک آدمی کہنے لگا کہ اب کے بعد جو شخص آپ سے جانے کی اجازت مانگے گا وہ بیوقوف ہی ہوگا اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے الحمدللہ کہا اور فرمایا اب میں گواہی دیتاہوں کہ کہ جو شخص لا الہ الا اللہ کی اور میرے رسول ہونے کی گواہی دیتا ہوا جو صدق قلب اور درست نیت کے ساتھ ہو مرجائے وہ جنت میں داخل ہوگا اور میرے رب نے مجھ سے وعدہ کیا ہے کہ جنت میں میری امت کے ستر ہزار ایسے آدمیوں کو داخل کرے گا جن کا کوئی حساب کتاب اور انہیں کوئی عذاب نہ ہوگا اور مجھے امید ہے کہ وہ اس وقت تک جنت میں داخل نہ ہوں گے جب تک تم اور تمہارے آباؤ اجداد اور بیوی بچوں میں سے جو اس کے قابل ہوں گے جنت میں داخل نہ ہوجائیں۔ اور فرمایا کہ جب ایک نصف یا دو تہائی رات بیت جاتی ہے تو اللہ آسمان دنیا پر نزول فرماتا ہے اور اعلان کرتا ہے کہ میں اپنے بندوں کے متعلق کسی دوسرے سے نہیں پوچھوں گا کون ہے جو مجھ سے معافی مانگے کہ میں اسے معاف کردو کون ہے جو مجھ سے دعا کرے اور میں اس کی دعا قبول کرو اور کون ہے جو مجھ سے سوال کرے اور میں اسے عطا کروں یہ اعلان صبح صادق تک ہوتا رہتا ہے۔

عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ← هِلَالُ بْنُ أَبِي مَيْمُونَةَ ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← هِشَامُ يَعْنِي الدُّسْتُوَائِيَّ ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16319

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16320

حَدَّثَنَا عَفَّانُ قَالَ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ قَالَ حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ عَنْ الرَّجُلِ الَّذِي مَرَّ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُنَاجِي جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَام فَزَعَمَ أَبُو سَلَمَةَ أَنَّهُ تَجَنَّبَ أَنْ يَدْنُوَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَخَوُّفًا أَنْ يَسْمَعَ حَدِيثَهُ فَلَمَّا أَصْبَحَ قَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا مَنَعَكَ أَنْ تُسَلِّمَ إِذْ مَرَرْتَ بِي الْبَارِحَةَ قَالَ رَأَيْتُكَ تُنَاجِي رَجُلًا فَخَشِيتُ أَنْ تَكْرَهَ أَنْ أَدْنُوَ مِنْكُمَا قَالَ وَهَلْ تَدْرِي مَنْ الرَّجُلُ قَالَ لَا قَالَ فَذَلِكَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام وَلَوْ سَلَّمْتَ لَرَدَّ السَّلَامَ وَقَدْ سَمِعْتُ مِنْ غَيْرِ أَبِي سَلَمَةَ أَنَّهُ حَارِثَةَ بْنَ النُّعْمَانِ

ابوسلمہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم حضرت جبرائیل سے سرگوشی فرما رہے تھے کہ ایک آدمی وہاں سے گذرا وہ اس خوف سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب نہیں گیا کہ کہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بات کانوں میں نہ پڑ جائے اور وہ کوئی اہم بات ہو صبح ہوئی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا کہ رات کو جب تم میرے پاس گذر رہے تھے تو تمہیں مجھ کوسلام کرنے سے کس چیز نے روکا اس نے کہا کہ میں نے دیکھا کہ آپ کسی شخص سے سرگوشی کر رہے ہیں مجھے اندیشہ ہوا کہ کہیں آپ کو میرا قریب آنا ناگوار نہ لگے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم جانتے ہو وہ آدمی کون تھا اس نے کہا نہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ جبرائیل تھے اگر تم سلام کرتے تو وہ بھی تمہیں جواب دیتے بعض اسناد سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ گذرنے والے حارثہ بن نعمان تھے۔

الرَّجُلِ الَّذِي مَرَّ بِرَسُولِ اللَّهِ وَهُوَ يُنَاجِي جِبْرِيلَ فَزَعَمَ أَبُو سَلَمَةَ ← أَبُو سَلَمَةَ ← مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، ← وُهَيْبٌ، ← عَفَّانُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16320

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16321

قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا مَالِكٍ الْأَشْجَعِيَّ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ أَخْبَرَنِي مَنْ رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فِي ثَوْبٍ قَدْ خَالَفَ بَيْنَ طَرَفَيْهِ

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کرنے والے ایک صحابی سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ صرف ایک کپڑے میں اس طرح نماز پڑھی کہ اس کے دونوں کنارے مخالف سمت سے نکال کر کندھے پر ڈال رکھے تھے۔

مَنْ رَأَى النَّبِيَّ يُصَلِّي فِي ثَوْبٍ قَدْ خَالَفَ بَيْنَ طَرَفَيْهِ ← أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← أَبَا مَالِكٍ الْأَشْجَعِيَّ ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16321

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16322

قَالَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ هِشَامٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَمْعَةَ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَذْكُرُ النِّسَاءَ فَوَعَظَ فِيهِنَّ وَقَالَ عَلَامَ يَضْرِبُ أَحَدُكُمْ امْرَأَتَهُ وَلَعَلَّهُ أَنْ يُضَاجِعَهَا مِنْ آخِرِ النَّهَارِ أَوْ آخِرِ اللَّيْلِ

حضرت عبداللہ بن زمعہ سے مروی ہے کہ میں نے ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو خواتین کا تذکرہ کرتے ہوئے سنا اور ان کے متعلق نصیحت کرتے ہوئے سنا کہ تم میں سے کوئی شخص اپنی بیوی کو کس طرح مار لیتا ہے حالانکہ ہوسکتا ہے کہ اسی دن کے آخر یا رات کے آخر میں وہ اس کے ساتھ ہم بستری بھی کرے۔

النَّبِيَّ يَذْكُرُ النِّسَاءَ فَوَعَظَ فِيهِنَّ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَمْعَةَ ← أَبِيهِ ← هِشَامٍ ← وَكِيعٌ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16322

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16323

قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَمْعَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ انْبَعَثَ أَشْقَاهَا انْبَعَثَ لَهَا رَجُلٌ عَارِمٌ عَزِيزٌ مَنِيعٌ فِي رَهْطِهِ مِثْلُ أَبِي زَمْعَةَ ثُمَّ وَعَظَهُمْ فِي الضَّحِكِ مِنْ الضَّرْطَةِ فَقَالَ إِلَى مَا يَضْحَكُ أَحَدُكُمْ مِمَّا يَفْعَلُ قَالَ ثُمَّ قَالَ إِلَى مَا يَجْلِدُ أَحَدُكُمْ امْرَأَتَهُ جَلْدَ الْعَبْدِ ثُمَّ لَعَلَّهُ أَنْ يُضَاجِعَهَا مِنْ آخِرِ يَوْمِهِ

حضرت عبداللہ بن زمعہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اذانبعث اشقہا کی تفسیر میں فرمایا کہ ناقۃ اللہ کی ٹانگیں کاٹنے کے لئے ایک موذی آدمی جسے اپنے گروہ میں اہمیت وعزت حاصل تھی روانہ ہوا جیسے ابوزمعہ کی حثییت ہے پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی کے خروج ریح پر ہنسنے سے منع کرتے ہوئے فرمایا کہ تم اس کام پر کیوں ہنستے ہو جو خود کرتے ہو پھر فرمایا کہ تم میں سے کوئی شخص اپنی بیوی کو غلاموں کی طرح کیوں مارتا ہے ہو سکتا ہے کہ دن کے آخری حصے میں اس کے ساتھ ہم بستری بھی کرے۔

عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَمْعَةَ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← أَبُو مُعَاوِيَةَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16323

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16324

قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَمْعَةَ قَالَ خَطَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ النَّاقَةَ وَذَكَرَ الَّذِي عَقَرَهَا فَقَالَ إِذْ انْبَعَثَ أَشْقَاهَا انْبَعَثَ لَهَا رَجُلٌ عَارِمٌ عَزِيزٌ مَنِيعٌ فِي رَهْطِهِ مِثْلُ أَبِي زَمْعَةَ ثُمَّ ذَكَرَ النِّسَاءَ فَوَعَظَهُمْ فِيهِنَّ فَقَالَ عَلَامَ يَجْلِدُ أَحَدُكُمْ امْرَأَتَهُ جَلْدَ الْعَبْدِ وَلَعَلَّهُ يُضَاجِعُهَا مِنْ آخِرِ يَوْمِهِ ثُمَّ وَعَظَهُمْ فِي ضَحِكِهِمْ مِنْ الضَّرْطَةِ فَقَالَ عَلَامَ يَضْحَكُ أَحَدُكُمْ عَلَى مَا يَفْعَلُ

حضرت عبداللہ بن زمعہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اذانبعث اشقہا کی تفسیر میں فرمایا کہ ناقۃ اللہ کی ٹانگیں کاٹنے کے لئے ایک موذی آدمی جسے اپنے گروہ میں اہمیت وعزت حاصل تھی روانہ ہوا جیسے ابوزمعہ کی حثییت ہے پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی کے خروج ریح پر ہنسنے سے منع کرتے ہوئے فرمایا کہ تم اس کام پر کیوں ہنستے ہو جو خود کرتے ہو پھر فرمایا کہ تم میں سے کوئی شخص اپنی بیوی کو غلاموں کی طرح کیوں مارتا ہے ہو سکتا ہے کہ دن کے آخری حصے میں اس کے ساتھ ہم بستری بھی کرے۔

الَّذِي عَقَرَهَا، ← النَّاقَةَ، ← خَطَبَ رَسُولُ اللَّهِ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَمْعَةَ ← أَبِيهِ ← هِشَامٍ ← ابْنِ نُمَيْرٍ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16324

chevron_left Previous
1…217218219…232
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    0. Chapter
2. Book
    0. Chapter
3. Book
    0. Chapter
4. Book
    0. Chapter
5. Book
    0. Chapter
6. Book
    0. Chapter
7. Book
    0. Chapter
8. Book
    0. Chapter
9. Book
    0. Chapter