Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند امام احمد بن حنبل

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble

by Musnad Imam Bin Hanble

28,221 Hadith18 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16608

قَالَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ قَالَ حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ عَنْ إِيَاسِ بْنِ سَلَمَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ قَتَلْتُ رَجُلًا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ قَتَلَ هَذَا فَقَالُوا ابْنُ الْأَكْوَعِ فَقَالَ لَهُ سَلَبُهُ

حضرت سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے ایک شخص کو قتل کر دیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے کس نے قتل کیا ہے؟ لوگوں نے بتایا ابن اکوع نے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کا سارا سازو سامان اسی کا ہوگیا۔

لَهُ سَلَبُهُ. ← ابْنُ الأَكْوَعِ ← رَسُولُ اللَّهِ مَنْ قَتَلَ هَذَا ← قَتَلْتُ رَجُلًا ← أَبِيهِ ← إِيَاسِ بْنِ سَلَمَةَ ← عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ← وَكِيعٌ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16608

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16609

قَالَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ قَالَ حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ عَنْ إِيَاسِ بْنِ سَلَمَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ كَانَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غُلَامٌ يُسَمَّى رَبَاحًا

حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک غلام تھا جس کا نام " رباح " تھا۔

كَانَ لِلنَّبِيِّ غُلَامٌ يُسَمَّى رَبَاحًا ← أَبِيهِ ← إِيَاسِ بْنِ سَلَمَةَ ← عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ← وَكِيعٌ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16609

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16610

قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ قَالَ حَدَّثَنَا يَعْلَى بْنُ الْحَارِثِ قَالَ سَمِعْتُ إِيَاسَ بْنَ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ عَنْ أَبِيهِ قَالَ كُنَّا نُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْجُمُعَةَ ثُمَّ نَرْجِعُ فَلَا نَجِدُ لِلْحِيطَانِ فَيْئًا يُسْتَظَلُّ فِيهِ

حضرت سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جمعہ کی نماز پڑھتے تھے، پھر ہم لوگ اس وقت واپس آتے تھے کہ جب ہمیں باغات میں اتنا بھی سایہ نہ ملتا کہ کوئی شخص وہاں سایہ حاصل کر سکتا ہے۔

أَبِيهِ ← إِيَاسُ بْنُ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ، ← يَعْلَی بْنُ الْحَارِثِ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16610

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16611

قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ قَالَ حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ عَنْ إِيَاسِ بْنِ سَلَمَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ بَيَّتْنَا هَوَازِنَ مَعَ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ وَكَانَ أَمَّرَهُ عَلَيْنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

حضرت سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم نے بنو ہوازن پر حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی معیت میں شب خون مارا انہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارا امیر مقرر کیا تھا۔

بَيَّتْنَا هَوَازِنَ مَعَ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ وَكَانَ أَمَّرَهُ عَلَيْنَا النَّبِيُّ ← أَبِيهِ ← إِيَاسِ بْنِ سَلَمَةَ ← عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16611

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16612

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ عَنْ إِيَاسِ بْنِ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ عَنْ أَبِيهِ قَالَ كَانَ شِعَارُنَا لَيْلَةَ بَيَّتْنَا فِي هَوَازِنَ مَعَ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ وَأَمَّرَهُ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمِتْ أَمِتْ وَقَتَّلْتُ بِيَدَيَّ لَيْلَتَئِذٍ سَبْعَةً أَهْلَ أَبْيَاتٍ

حضرت سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جس رات ہم نے حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی معیت میں " جنہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارا امیر مقرر کیا تھا " بنو ہوازن پر حملہ کیا، اس میں باہم پہچاننے کے لئے ہماری شناخت کی علامت یہ لفظ تھا امت امت ، اس رات میں نے اپنے ہاتھ سے سات گھرانے والوں کو قتل کیا تھا۔

أَبِيهِ ← إِيَاسُ بْنُ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ، ← عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16612

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16613

قَالَ حَدَّثَنَا بَهْزٌ قَالَ حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ الْيَمَامِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا إِيَاسُ بْنُ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لِرَجُلٍ يُقَالُ لَهُ بُسْرُ ابْنُ رَاعِي الْعِيرِ أَبْصَرَهُ يَأْكُلُ بِشِمَالِهِ فَقَالَ كُلْ بِيَمِينِكَ فَقَالَ لَا أَسْتَطِيعُ فَقَالَ لَا اسْتَطَعْتَ قَالَ فَمَا وَصَلَتْ يَمِينُهُ إِلَى فَمِهِ بَعْدُ و قَالَ أَبُو النَّضْرِ فِي حَدِيثِهِ ابْنُ رَاعِي الْعِيرِ مِنْ أَشْجَعَ

حضرت سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو " جس کا نام بسر بن راعی العیر تھا " بائیں ہاتھ سے کھانا کھاتے ہوئے دیکھا تو فرمایا دائیں ہاتھ سے کھاؤ، اس نے کہا کہ میں دائیں ہاتھ سے کھانے کی طاقت نہیں رکھتا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تجھے اس کی توفیق نہ ہو، چنانچہ اس کے بعد اس کا داہنا ہاتھ اس کے منہ تک نہیں جاسکا۔

فَمَا وَصَلَتْ يَمِينُهُ إِلَى فَمِهِ بَعْدُ و ← لَا اسْتَطَعْتَ ← لَا أَسْتَطِيعُ ← «كُلْ بِيَمِينِكَ» ← لِرَجُلٍ يُقَالُ لَهُ بُسْرُ ابْنُ رَاعِي الْعِيرِ أَبْصَرَهُ يَأْكُلُ بِشِمَالِهِ ← رَسُولِ اللَّهِ ← إِيَاسُ بْنُ سَلَمَةَ بْنِ الْأَکْوَعِ أَنَّ أَبَاهُ ← عِكْرِمَةَ بْنِ عَمَّارٍ الْيَمَامِيِّ، ← بَهْزٌ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16613

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16614

قَالَ حَدَّثَنَا بَهْزٌ قَالَ حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ عَنْ إِيَاسِ بْنِ سَلَمَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ سَلَّ عَلَيْنَا السَّيْفَ فَلَيْسَ مِنَّا

حضرت سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص ہمارے اوپر تلوار سونتے، وہ ہم میں سے نہیں ہے۔

أَبِيهِ ← إِيَاسِ بْنِ سَلَمَةَ ← عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ← بَهْزٌ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16614

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16615

قَالَ حَدَّثَنَا بَهْزٌ عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ عَمَّارٍ قَالَ حَدَّثَنَا إِيَاسُ بْنُ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ كُنْتُ قَاعِدًا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَطَسَ رَجُلٌ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْحَمُكَ اللَّهُ ثُمَّ عَطَسَ أُخْرَى فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الرَّجُلُ مَزْكُومٌ

حضرت سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں ایک مرتبہ میں بیٹھا ہوا تھا کہ ایک آدمی کو چھینک آئی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یرحمک اللہ کہہ کر اسے جواب دیا، اس نے دوبارہ چھینک ماری تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس شخص کو زکام ہے۔

رَسُولُ اللَّهِ «الرَّجُلُ مَزْكُومٌ» ← رَسُولُ اللَّهِ يَرْحَمُكَ اللَّهُ ثُمَّ عَطَسَ أُخْرَى ← كُنْتُ قَاعِدًا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ فَعَطَسَ رَجُلٌ ← أَبِي ← إِيَاسُ بْنُ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ، ← عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ← بَهْزٌ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16615

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16616

حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ حَدَّثَنَا إِيَاسُ بْنُ سَلَمَةَ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ خَرَجْنَا مَعَ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي قُحَافَةَ وَأَمَّرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْنَا قَالَ غَزَوْنَا فَزَارَةَ فَلَمَّا دَنَوْنَا مِنْ الْمَاءِ أَمَرَنَا أَبُو بَكْرٍ فَعَرَّسْنَا قَالَ فَلَمَّا صَلَّيْنَا الصُّبْحَ أَمَرَنَا أَبُو بَكْرٍ فَشَنَنَّا الْغَارَةَ فَقَتَلْنَا عَلَى الْمَاءِ مَنْ قَتَلْنَا قَالَ سَلَمَةُ ثُمَّ نَظَرْتُ إِلَى عُنُقٍ مِنْ النَّاسِ فِيهِ الذُّرِّيَّةُ وَالنِّسَاءُ نَحْوَ الْجَبَلِ وَأَنَا أَعْدُو فِي آثَارِهِمْ فَخَشِيتُ أَنْ يَسْبِقُونِي إِلَى الْجَبَلِ فَرَمَيْتُ بِسَهْمٍ فَوَقَعَ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ الْجَبَلِ قَالَ فَجِئْتُ بِهِمْ أَسُوقُهُمْ إِلَى أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حَتَّى أَتَيْتُهُ عَلَى الْمَاءِ وَفِيهِمْ امْرَأَةٌ مِنْ فَزَارَةَ عَلَيْهَا قَشْعٌ مِنْ أَدَمٍ وَمَعَهَا ابْنَةٌ لَهَا مِنْ أَحْسَنِ الْعَرَبِ قَالَ فَنَفَّلَنِي أَبُو بَكْرٍ ابْنَتَهَا قَالَ فَمَا كَشَفْتُ لَهَا ثَوْبًا حَتَّى قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ ثُمَّ بِتُّ فَلَمْ أَكْشِفْ لَهَا ثَوْبًا قَالَ فَلَقِيَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي السُّوقِ فَقَالَ لِي يَا سَلَمَةُ هَبْ لِي الْمَرْأَةَ قَالَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَاللَّهِ لَقَدْ أَعْجَبَتْنِي وَمَا كَشَفْتُ لَهَا ثَوْبًا قَالَ فَسَكَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتَرَكَنِي حَتَّى إِذَا كَانَ مِنْ الْغَدِ لَقِيَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي السُّوقِ فَقَالَ يَا سَلَمَةُ هَبْ لِي الْمَرْأَةَ لِلَّهِ أَبُوكَ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَاللَّهِ أَعْجَبَتْنِي مَا كَشَفْتُ لَهَا ثَوْبًا وَهِيَ لَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ فَبَعَثَ بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى أَهْلِ مَكَّةَ وَفِي أَيْدِيهِمْ أُسَارَى مِنْ الْمُسْلِمِينَ فَفَدَاهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِتِلْكَ الْمَرْأَةِ

حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے ساتھ نکلے جنہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارا امیر مقرر کیا تھا، ہم بنو فزارہ سے جہاد کے لئے جا رہے تھے، جب ہم ایسی جگہ پر پہنچے جو پانی کے قریب تھی تو حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے ہمیں حکم دیا اور ہم نے پڑاؤ ڈال دیا، فجر کی نماز پڑھ کر انہوں نے ہمیں دشمن پر حملہ کا حکم دیا اور ہم ان پر ٹوٹ پڑے، اور اس ندی کے قریب بے شمار لوگوں کو قتل کر دیا، اچانک میری نظر ایک تیز رفتار گروہ پر پڑی جو پہاڑ کی طرف چلا جا رہا تھا، اس میں عورتیں اور بچے تھے، میں ان کے پیچھے روانہ ہوگیا، لیکن پھر خطرہ ہوا کہ کہیں وہ مجھے سے پہلے ہی پہاڑ تک نہ پہنچ جائیں اس لئے میں نے ان کی طرف ایک تیر پھینکا جو ان کے اوپر پہاڑ کے درمیان جاگرا۔پھر میں انہیں ہانکتا ہوا حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے پاس لے آیا، اور اسی ندی کے پاس پہنچ گیا، ان میں بنو فزارہ کی ایک عورت بھی تھی جس نے چمڑے کی پوستین پہن رکھی تھی، اس کے ساتھ اس کی بیٹی تھی جو عرب کی انتہائی حسین و جمیل لڑکی تھی، اس کی وہ بیٹی حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے مجھے انعام کے طور پر بخش دی، میں نے مدینہ منورہ پہنچنے تک اس کا گھونگھٹ بھی کھول کر نہیں دیکھا، پھر رات ہوئی تب بھی میں نے اس کا گھونگھٹ نہیں ہٹایا، اگلے دن سر بازار نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے میری ملاقات ہوگئی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم مجھ سے فرمانے لگے سلمہ! وہ عورت مجھے ہبہ کردو ، میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! مجھے وہ اچھی لگی ہے اور میں نے اب تک اس کا گھونگھٹ بھی نہیں ہٹایا، یہ سن کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہوگئے اور مجھے چھوڑ کر چلے گئے، اگلے دن پھر سر بازار نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات ہوئی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بات دہرائی اور مجھے میرے باپ کی قسم دی، میں نے قسم کھا کر عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! مجھے وہ اچھی لگی ہے اور میں نے اب تک اس کا گھونگھٹ بھی نہیں ہٹایا، لیکن یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! اب میں وہ آپ کو دیتا ہوں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ لڑکی اہل مکہ کے پاس بھجوادی جن کے قبضے میں بہت سے مسلمان قیدی تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے فدیئے میں اس لڑکی کو پیش کر کے ان قیدیوں کو چھڑا لیا۔

أَبِي ← إِيَاسِ بْنِ سَلَمَةَ ← عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ← بَهْزٌ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16616

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16617

قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ الْأَنْصَارِيُّ أَنَّ سَلَمَةَ بْنَ الْأَكْوَعِ قَالَ لَمَّا كَانَ يَوْمُ خَيْبَرَ قَاتَلَ أَخِي قِتَالًا شَدِيدًا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَارْتَدَّ عَلَيْهِ سَيْفُهُ فَقَتَلَهُ فَقَالَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ذَلِكَ وَشَكُّوا فِيهِ رَجُلٌ مَاتَ بِسِلَاحِهِ شَكُّوا فِي بَعْضِ أَمْرِهِ قَالَ سَلَمَةُ فَقَفَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ خَيْبَرَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَتَأْذَنُ لِي أَنْ أَرْجُزَ بِكَ فَأَذِنَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَهُ عُمَرُ اعْلَمْ مَا تَقُولُ قَالَ فَقُلْتُ وَاللَّهِ لَوْلَا اللَّهُ مَا اهْتَدَيْنَا وَلَا تَصَدَّقْنَا وَلَا صَلَّيْنَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَدَقْتَ فَأَنْزِلَنْ سَكِينَةً عَلَيْنَا وَثَبِّتْ الْأَقْدَامَ إِنْ لَاقَيْنَا وَالْمُشْرِكُونَ قَدْ بَغَوْا عَلَيْنَا فَلَمَّا قَضَيْتُ رَجَزِي قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ قَالَ هَذَا قُلْتُ أَخِي قَالَهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْحَمُهُ اللَّهُ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَاللَّهِ إِنَّ نَاسًا لَيَهَابُونَ أَنْ يُصَلُّوا عَلَيْهِ وَيَقُولُونَ رَجُلٌ مَاتَ بِسِلَاحِهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَاتَ جَاهِدًا مُجَاهِدًا قَالَ ابْنُ شِهَابٍ ثُمَّ سَأَلْتُ ابْنَ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ فَحَدَّثَنِي عَنْ أَبِيهِ مِثْلَ الَّذِي حَدَّثَنِي عَنْهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ غَيْرَ أَنَّ ابْنَ سَلَمَةَ قَالَ قَالَ مَعَ ذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَهَابُونَ الصَّلَاةَ عَلَيْهِ كَذَبُوا مَاتَ جَاهِدًا مُجَاهِدًا فَلَهُ أَجْرُهُ مَرَّتَيْنِ وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِإِصْبَعَيْهِ

حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ غزوہ خیبر کے موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں میرے بھائی (دوسری روایت کے مطابق چچا) نے سخت جنگ لڑی ، لیکن اسی دوران اس کی تلوار اچٹ کر خود اسی پر لگ گئی اور وہ اسی کی دھار سے شہید ہوگیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین ان کے متعلق شکوک و شبہات کا اظہار کر کے چہ میگوئیاں کرنے لگے کہ وہ اپنے ہی ہتھیار سے مارا گیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب واپس ہوئے تو میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! کیا آپ کی طرف سے مجھے رجزیہ اشعار پڑھنے کی اجازت ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت دے دی، حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ سوچ سمجھ کر کہنا۔ میں نے شعر پڑھتے ہوئے کہا کہ بخدا! اگر اللہ نہ ہوتا تو ہم کبھی ہدایت یافتہ نہ ہوتے، صدقہ و خیرات کرتے اور نہ ہی نماز پڑھتے ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم نے سچ کہا، میں نے آگے کہا کہ اے اللہ! ہم پر سکینہ نازل فرما، اور دشمنوں سے آمنا سامنا ہونے پر ہمیں ثابت قدمی عطاء فرما کہ مشرکین نے ہمارے خلاف سرکشی پر کمر باندھ رکھی ہے۔ میں نے جب اپنے رجزیہ اشعار مکمل کئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ یہ اشعار کس نے کہے ہیں ؟ میں نے عرض کیا میرے بھائی نے کہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس پر اللہ تعالیٰ کی رحمتیں نازل ہوں ، میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! کچھ لوگ ان کی نماز جنازہ پڑھنے سے گھبرا رہے ہیں اور کہتے ہیں کہ وہ اپنے ہتھیار سے ہی مرا ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ محنت کرتا ہوا مجاہد بن کر شہید ہوا ہے۔ ایک دوسری سند میں یوں بھی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو لوگ ان پر نماز جنازہ پڑھنے سے گھبرا رہے ہیں انہیں غلطی لگی ہے، وہ تو محنت کرتا ہوا مجاہد بن کر شہید ہوا ہے، اور اسے دوہرا اجر ملے گا، یہ کہہ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو انگلیوں سے اشاردہ فرمایا۔

ابْنِ شِهَابٍ، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16617

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16618

قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ عَنْ حَسَنِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ وَسَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُمَا قَالَا كُنَّا فِي غَزَاةٍ فَجَاءَنَا رَسُولُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ اسْتَمْتِعُوا

حضرت جابر رضی اللہ عنہ رضی اللہ عنہ اور سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ کسی جہاد میں شریک تھے، اسی دوران ہمارے پاس نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک قاصد آیا اور کہنے لگا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے تم عورتوں سے فائدہ اٹھاسکتے ہو۔

كنا في غزاة فجاءنا رسول رسول الله ← سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ أَنَّهُمَا ← جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← حَسَنِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16618

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16619

قَالَ حَدَّثَنَا قُرَّانُ بْنُ تَمَّامٍ عَنْ عِكْرِمَةَ الْيَمَامِيِّ عَنْ إِيَاسِ بْنِ سَلَمَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ خَرَجْتُ مَعَ أَبِي بَكْرٍ فِي غَزَاةِ هَوَازِنَ فَنَفَّلَنِي جَارِيَةً فَاسْتَوْهَبَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَعَثَ بِهَا إِلَى مَكَّةَ فَفَدَى بِهَا أُنَاسًا مِنْ الْمُسْلِمِينَ

حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے ساتھ بنو ہوازن سے جہاد کے لئے نکلے ، حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے ایک باندی مجھے انعام کے طور پر بخش دی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم مجھ سے فرمانے لگے سلمہ! وہ عورت مجھے ہبہ کر دو، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ لڑکی اہل مکہ کے پاس بھجوادی جن کے قبضے میں بہت سے مسلمان قیدی تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے فدیئے میں اس لڑکی کو پیش کر کے ان قیدیوں کو چھڑا لیا۔

أَبِيهِ ← إِيَاسِ بْنِ سَلَمَةَ ← عِكْرِمَةَ الْيَمَامِيِّ ← قران بن تمام

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16619

chevron_left Previous
1…202122…232
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    0. Chapter
2. Book
    0. Chapter
3. Book
    0. Chapter
4. Book
    0. Chapter
5. Book
    0. Chapter
6. Book
    0. Chapter
7. Book
    0. Chapter
8. Book
    0. Chapter
9. Book
    0. Chapter