Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند امام احمد بن حنبل

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble

by Musnad Imam Bin Hanble

28,221 Hadith18 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16181

حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ بْنِ الْمُصْطَلِقِ عَنْ زَيْنَبَ امْرَأَةِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَتْ أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالصَّدَقَةِ فَقَالَ تَصَدَّقْنَ يَا مَعْشَرَ النِّسَاءِ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ قَالَ

حضرت زینب سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا صدقہ خیرات کیا کرو اگرچہ اپنے زیوارت ہی سے کرو وہ کہتی ہیں کہ میرے شوہر عبداللہ بن مسعود ہلکے ہاتھ والے مالی طور پر کمزور تھے میں نے ان سے کہا کہ کیا یہ ممکن ہے کہ میں تم پر اور اپنے یتیم بھتیجوں پر صدقہ کردیا کروں انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھ لو چنانچہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر کے دروازے پر ایک اور انصاری عورت جس کا نام بھی زینب ہی تھا نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی مسئلہ پوچھنے کے لئے آئی ہوئی تھی۔ حضرت بلال باہر آئے تو ہم نے ان سے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ مسئلہ پوچھ کر آؤ اور یہ نہ بتانا کہ ہم کون ہیں چنانچہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چلے گئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا وہ دونوں کون ہیں انہوں نے بتادیا کہ دونوں کا نام زینب ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کون سی زینب انہوں نے بتایا کہ ایک تو عبداللہ بن مسعود کی بیوی اور دوسری زینب انصاریہ ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں دونوں کو اجرملے گا اور دوہرا اجر ملے گا ایک اجر قرابت داری کا اور ایک صدقہ کرنے کا۔

أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ بِالصَّدَقَةِ فَقَالَ تَصَدَّقْنَ يَا مَعْشَرَ النِّسَاءِ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ ← زَيْنَبَ امْرَأَةِ عَبْدِ اللَّهِ ← عمرو بن الحارث بن المصطلق ← مَنْصُورٌ، ← الْاَعْمَشِ ← ابْنِ نُمَيْرٍ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16181

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16182

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ شَقِيقٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ بْنِ الْمُصْطَلِقِ عَنْ زَيْنَبَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَصَدَّقْنَ يَا مَعْشَرَ النِّسَاءِ فَذَكَرَهُ

حضرت زینب سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا صدقہ خیرات کیا کرو اگرچہ اپنے زیوارت ہی سے کرو وہ کہتی ہیں کہ میرے شوہر عبداللہ بن مسعود ہلکے ہاتھ والے مالی طور پر کمزور تھے میں نے ان سے کہا کہ کیا یہ ممکن ہے کہ میں تم پر اور اپنے یتیم بھتیجوں پر صدقہ کردیا کروں انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھ لو چنانچہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر کے دروازے پر ایک اور انصاری عورت جس کا نام بھی زینب ہی تھا نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی مسئلہ پوچھنے کے لئے آئی ہوئی تھی۔ حضرت بلال باہر آئے تو ہم نے ان سے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ مسئلہ پوچھ کر آؤ اور یہ نہ بتانا کہ ہم کون ہیں چنانچہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چلے گئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا وہ دونوں کون ہیں انہوں نے بتادیا کہ دونوں کا نام زینب ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کون سی زینب انہوں نے بتایا کہ ایک تو عبداللہ بن مسعود کی بیوی اور دوسری زینب انصاریہ ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں دونوں کو اجرملے گا اور دوہرا اجر ملے گا ایک اجر قرابت داری کا اور ایک صدقہ کرنے کا۔

زَيْنَبَ، ← عمرو بن الحارث بن المصطلق ← شَقِيقٍ، ← الْاَعْمَشِ ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16182

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16183

قَالَ قَالَ حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ وَسُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ قَالَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ عَنْ رَائِطَةَ امْرَأَةِ عَبْدِ اللَّهِ وَكَانَتْ امْرَأَةً صَنَاعًا وَكَانَتْ تَبِيعُ وَتَصَدَّقُ فَقَالَتْ لِعَبْدِ اللَّهِ يَوْمًا لَقَدْ شَغَلْتَنِي أَنْتَ وَوَلَدُكَ فَمَا أَسْتَطِيعُ أَنْ أَتَصَدَّقَ مَعَكُمْ فَقَالَ مَا أُحِبُّ إِنْ لَمْ يَكُنْ فِي ذَلِكَ أَجْرٌ أَنْ تَفْعَلِي فَسَأَلَا عَنْ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَكِ أَجْرُ مَا أَنْفَقْتِ عَلَيْهِمْ

حضرت رائط جو کاریگر خاتون تھیں اور تجارت کرتی تھیں اور اللہ کے راستہ میں صدقہ بھی کرتی تھیں نے ایک دن اپنے شوہر حضرت عبداللہ سے کہا تم نے اور تمہارے بچوں نے مجھے دوسروں پر صدقہ کرنے سے روک رکھاہے اور میں تمہاری موجودگی میں دوسروں پر کچھ صدقہ نہیں کرپاتی حضرت عبداللہ نے ان سے فرمایا واللہ اگر اس میں تمہارے لئے کوئی ثواب نہ ہو تو میں اسے پسند نہیں کروں گا چنانچہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق پوچھا اور عرض کیا یا رسول اللہ میں کاریگر عورت ہوں تجارت کرتی ہوں اس کے علاوہ میرا اور میرے شوہر اور بچوں کا گذارے کے لئے کوئی دوسراذریعہ بھی نہیں ہے تو ان لوگوں نے مجھے صدقہ سے روک رکھا ہے اور میں ان کی موجودگی میں کچھ صدقہ نہیں کرپاتی میں ان پر جو کچھ خرچ کرتی ہوں کیا مجھے اس پر کوئی ثواب ملے گا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا خرچ کرتی رہو کیونکہ تم ان پر جو بھی خرچ کرو گی تمہیں اس کا ثواب ضرور ملے گا۔

لَهَا رَسُولُ اللَّهِ لَكِ أَجْرُ مَا أَنْفَقْتِ عَلَيْهِمْ ← ذَلِکَ رَسُولَ اللَّهِ ← مَا أُحِبُّ إِنْ لَمْ يَكُنْ فِي ذَلِكَ أَجْرٌ أَنْ تَفْعَلِي فَسَأَلَا ← لِعَبْدِ اللَّهِ يَوْمًا لَقَدْ شَغَلْتَنِي أَنْتَ وَوَلَدُكَ فَمَا أَسْتَطِيعُ أَنْ أَتَصَدَّقَ مَعَكُمْ ← رَائِطَةَ امْرَأَةِ عَبْدِ اللَّهِ وَكَانَتْ امْرَأَةً صَنَاعًا وَكَانَتْ تَبِيعُ وَتَصَدَّقُ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ← عُرْوَةَ ← أَبِيهِ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ، ← ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ وَسُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ← حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16183

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16184

قَالَ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا أَبِي عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ حَدَّثَنِي هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ عَنْ رَائِطَةَ امْرَأَةِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ وَأُمِّ وَلَدِهِ وَكَانَتْ امْرَأَةً صَنَاعَ الْيَدِ قَالَ وَكَانَتْ تُنْفِقُ عَلَيْهِ وَعَلَى وَلَدِهِ مِنْ صَنْعَتِهَا قَالَتْ فَقُلْتُ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ لَقَدْ شَغَلْتَنِي أَنْتَ وَوَلَدُكَ عَنْ الصَّدَقَةِ فَمَا أَسْتَطِيعُ أَنْ أَتَصَدَّقَ مَعَكُمْ بِشَيْءٍ فَقَالَ لَهَا عَبْدُ اللَّهِ وَاللَّهِ مَا أُحِبُّ إِنْ لَمْ يَكُنْ فِي ذَلِكَ أَجْرٌ أَنْ تَفْعَلِي فَأَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي امْرَأَةٌ ذَاتُ صَنْعَةٍ أَبِيعُ مِنْهَا وَلَيْسَ لِي وَلَا لِوَلَدِي وَلَا لِزَوْجِي نَفَقَةٌ غَيْرَهَا وَقَدْ شَغَلُونِي عَنْ الصَّدَقَةِ فَمَا أَسْتَطِيعُ أَنْ أَتَصَدَّقَ بِشَيْءٍ فَهَلْ لِي مِنْ أَجْرٍ فِيمَا أَنْفَقْتُ قَالَ فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْفِقِي عَلَيْهِمْ فَإِنَّ لَكِ فِي ذَلِكَ أَجْرَ مَا أَنْفَقْتِ عَلَيْهِمْ

حضرت رائط جو کاریگر خاتون تھیں اور تجارت کرتی تھیں اور اللہ کے راستہ میں صدقہ بھی کرتی تھیں نے ایک دن اپنے شوہر حضرت عبداللہ سے کہا تم نے اور تمہارے بچوں نے مجھے دوسروں پر صدقہ کرنے سے روک رکھاہے اور میں تمہاری موجودگی میں دوسروں پر کچھ صدقہ نہیں کرپاتی حضرت عبداللہ نے ان سے فرمایا واللہ اگر اس میں تمہارے لئے کوئی ثواب نہ ہو تو میں اسے پسند نہیں کروں گا چنانچہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق پوچھا اور عرض کیا یا رسول اللہ میں کاریگر عورت ہوں تجارت کرتی ہوں اس کے علاوہ میرا اور میرے شوہر اور بچوں کا گذارے کے لئے کوئی دوسراذریعہ بھی نہیں ہے تو ان لوگوں نے مجھے صدقہ سے روک رکھا ہے اور میں ان کی موجودگی میں کچھ صدقہ نہیں کرپاتی میں ان پر جو کچھ خرچ کرتی ہوں کیا مجھے اس پر کوئی ثواب ملے گا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا خرچ کرتی رہو کیونکہ تم ان پر جو بھی خرچ کرو گی تمہیں اس کا ثواب ضرور ملے گا۔

الصَّدَقَةِ فَمَا أَسْتَطِيعُ أَنْ أَتَصَدَّقَ مَعَكُمْ بِشَيْءٍ ← فَقُلْتُ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ لَقَدْ شَغَلْتَنِي أَنْتَ وَوَلَدُكَ ← وَكَانَتْ تُنْفِقُ عَلَيْهِ وَعَلَى وَلَدِهِ مِنْ صَنْعَتِهَا ← رَائِطَةَ امْرَأَةِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ وَأُمِّ وَلَدِهِ وَكَانَتْ امْرَأَةً صَنَاعَ الْيَدِ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← ابْنِ إِسْحَاقَ، ← أَبِي ← يَعْقُوبُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16184

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16185

قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ عَنْ يَزِيدَ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْأَحْوَصِ عَنْ أُمِّهِ قَالَتْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْمِي جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ مِنْ بَطْنِ الْوَادِي يَوْمَ النَّحْرِ وَهُوَ يَقُولُ يَا أَيُّهَا النَّاسُ لَا يَقْتُلُ بَعْضُكُمْ وَلَا يُصِيبُ بَعْضُكُمْ وَإِذَا رَمَيْتُمْ الْجَمْرَةَ فَارْمُوهَا بِمِثْلِ حَصَى الْخَذْفِ فَرَمَى بِسَبْعٍ وَلَمْ يَقِفْ وَخَلْفَهُ رَجُلٌ يَسْتُرُهُ قُلْتُ مَنْ هَذَا قَالُوا الْفَضْلُ بْنُ الْعَبَّاسِ

حضرت ام سلیمان بن احوص سے مروی ہے کہ میں نے دس ذی الحجہ کے دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بطن وادی سے جمرہ عقبہ کو کنکریاں مارتے ہوئے دیکھا اس وقت آپ فرما رہے تھے کہ اے لوگوں ایک دوسرے کو قتل نہ کرنا، ایک دوسرے کو تکلیف نہ پہنچانا اور جب جمرات کی رمی کرو تو اسے کے لئے ٹھیکری کی کنکریاں استعمال کرو پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے سات کنکریاں ماریں اور وہاں رکے نہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے ایک آدمی تھا جو آپ کے لئے آڑ کا کام کرتا تھا میں نے لوگوں سے پوچھا کہ یہ کون ہے تو لوگوں نے بتایا کہ یہ فضل بن عباس ہیں۔

أُمِّهِ2، ← سُلَيْمَانَ بْنِ عَمْرِو بْنِ الأَحْوَص ← يَزِيدُ: ← ابْنُ فُضَيْلٍ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16185

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16186

قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْأَحْوَصِ عَنْ أُمِّهِ وَكَانَتْ بَايَعَتْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ يَقُولُ وَهُوَ يَرْمِي الْجَمْرَةَ مِنْ بَطْنِ الْوَادِي وَهُوَ يَقُولُ يَا أَيُّهَا النَّاسُ لَا يَقْتُلْ بَعْضُكُمْ بَعْضًا وَإِذَا رَأَيْتُمْ الْجَمْرَةَ فَارْمُوهَا بِمِثْلِ حَصَى الْخَذْفِ

حضرت ام سلیمان سے مروی ہے کہ میں نے دس ذی الحجہ کے دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بطن وادی سے جمرہ عقبہ کو کنکریاں مارتے ہوئے دیکھا اس وقت آپ فرما رہے تھے کہ اے لوگو ایک دوسرے کو قتل نہ کرنا اور جب جمرات کی رمی کرو تو اس کے لئے ٹھیکری کی کنکریاں استعمال کرو۔

وَهُوَ يَرْمِي الْجَمْرَةَ مِنْ بَطْنِ الْوَادِي وَهُوَ ← رَسُولِ اللَّهِ ← أُمِّهِ وَكَانَتْ بَايَعَتْ النَّبِيَّ ← سُلَيْمَانَ بْنِ عَمْرِو بْنِ الأَحْوَص ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16186

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16187

قَالَ حَدَّثَنَا رَوْحٌ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْأَحْوَصِ الْأَزْدِيِّ عَنْ أُمِّهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهَا سَمِعَتْهُ يَقُولُ عِنْدَ جَمْرَةِ الْعَقَبَةِ يَا أَيُّهَا النَّاسُ لَا تَقْتُلُوا أَنْفُسَكُمْ وَارْمُوا الْجَمْرَةَ أَوْ الْجَمَرَاتِ بِمِثْلِ حَصَى الْخَذْفِ هَذَا آخِرُ مُسْنَدِ الْمَكِّيِّينَ

حضرت ام سلیمان سے مروی ہے کہ میں نے دس ذی الحجہ کے دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بطن وادی سے جمرہ عقبہ کو کنکریاں مارتے ہوئے دیکھا اس وقت آپ فرما رہے تھے کہ اے لوگو! ایک دوسرے کو قتل نہ کرنا اور جب جمرات کی رمی کرو تو اس کے لئے ٹھیکری کی کنکریاں استعمال کرو۔ مکی صحابہ کرام کی احادیث ختم ہوئیں۔

النَّبِيِّ أَنَّهَا ← أُمِّهِ2، ← سليمان بن عمرو بن الأحوص الأزدي ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، ← شُعْبَةُ، ← رَوْحٌ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16187

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16188

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ وَقَالَ سُفْيَانُ مَرَّةً إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ إِلَى سُتْرَةٍ فَلْيَدْنُ مِنْهَا مَا لَا يَقْطَعُ الشَّيْطَانُ عَلَيْهِ صَلَاتَهُ

حضرت سہل سے مروی ہے کہ نبی نے ارشاد فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص سترے کے سامنے کھڑا ہو کر نماز پڑھے تو اس کے قریب کھڑا ہوتا کہ شیطان اس کی نماز خراب نہ کر دے۔

وَقَالَ سُفْيَانُ مَرَّةً ← سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ ← نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ ← صَفْوَانُ بْنُ سُلَيْمٍ، ← سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16188

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16189

قَالَ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ سَمِعَ بُشَيْرَ بْنَ يَسَارٍ مَوْلَى بَنِي حَارِثَةَ قَالَ سُفْيَانُ هَذَا حَدِيثُ ابْنِ حَثْمَةَ يُخْبِرُ عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ وَوُجِدَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَهْلٍ مِنْ الْأَنْصَارِ قَتِيلًا فِي قَلِيبٍ مِنْ قُلُبِ خَيْبَرَ فَجَاءَ عَمَّاهُ وَأَخُوهُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخُوهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَهْلٍ وَعَمَّاهُ حُوَيِّصَةُ وَمُحَيِّصَةُ فَذَهَبَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَتَكَلَّمُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ الْكِبَرَ الْكِبَرَ فَتَكَلَّمَ أَحَدُ عَمَّيْهِ إِمَّا حُوَيِّصَةُ وَإِمَّا مُحَيِّصَةُ قَالَ سُفْيَانُ نَسِيتُ أَيُّهُمَا الْكَبِيرُ مِنْهُمَا فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا وَجَدْنَا عَبْدَ اللَّهِ قَتِيلًا فِي قَلِيبٍ مِنْ قُلُبِ خَيْبَرَ ثُمَّ ذَكَرَ يَهُودَ وَشَرَّهُمْ وَعَدَاوَتَهُمْ قَالَ لِيُقْسِمْ مِنْكُمْ خَمْسُونَ أَنَّ يَهُودَ قَتَلَتْهُ قَالُوا كَيْفَ نُقْسِمُ عَلَى مَا لَمْ نَرَ قَالَ فَتُبْرِئُكُمْ يَهُودُ بِخَمْسِينَ يَحْلِفُونَ أَنَّهُمْ لَمْ يَقْتُلُوهُ قَالُوا كَيْفَ نَرْضَى بِأَيْمَانِهِمْ وَهُمْ مُشْرِكُونَ قَالَ فَوَدَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عِنْدِهِ فَرَكَضَتْنِي بَكْرَةٌ مِنْهُ قِيلَ لِسُفْيَانَ فِي الْحَدِيثِ وَتَسْتَحِقُّونَ دَمَ صَاحِبِكُمْ قَالَ هُوَ ذَا

حضرت سہل سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ عبداللہ بن سہل انصاری خیبر کے وسط میں متقول پائے گئے ان کے دوچچازاد بھائی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور ان کے بھائی کا نام عبدالرحمن بن سہل اور چچاؤں کے نام حویصہ اور محیصہ تھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے عبدالرحمن بولنے لگے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بڑوں کو بولنے دو چنانچہ ان کے چچاؤں میں سے کسی ایک نے گفتگو شروع کی یہ میں بھول گیا کہ ان میں سے بڑا کون تھا اور کہنے لگے کہ یا رسول اللہ ہم نے قلب خبیر میں عبداللہ کی لاش پائی ہے پھر انہوں نے یہودیوں کے شر اور عداوتوں کا ذکر کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے پچاس آدمی قسم کھا کر کہہ دیں کہ اس کو یہودیوں نے قتل کیا ہے وہ کہنے لگے ہم نے جس چیز کو اپنی آنکھوں سے دیکھا ہی نہیں ہے اس پر قسم کیسے کھاسکتے ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر پچاس یہودی اس بات کی قسم کھا کر برائت ظاہر کردیں اور کہہ دیں کہ ہم نے اسے قتل نہیں کیا وہ کہنے لگے یا رسول اللہ ہم ان کی قسم پر کیسے اعتماد کر سکتے ہیں وہ تو مشرک ہیں اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پاس سے ان کی دیت ادا کردی دیت کے ان اونٹوں میں سے ایک جوان اونٹ نے مجھے ٹانگ مار دی تھی۔

سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ، ← سُفْيَانُ هَذَا حَدِيثُ ابْنِ حَثْمَةَ يُخْبِرُ ← بُشَيْرُ بْنُ يَسَارٍ، مَوْلَى بَنِي حَارِثَةَ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← سُفْيَانَ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16189

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16190

قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ عَنْ بُشَيْرِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ التَّمْرِ بِالتَّمْرِ وَرَخَّصَ فِي الْعَرَايَا أَنْ تُشْتَرَى بِخَرْصِهَا يَأْكُلُهَا أَهْلُهَا رُطَبًا قَالَ سُفْيَانُ قَالَ لِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ وَمَا عِلْمُ أَهْلِ مَكَّةَ بِالْعَرَايَا قُلْتُ أَخْبَرَهُمْ عَطَاءٌ سَمِعَهُ مِنْ جَابِرٍ

حضرت سہل بن ابی حثمہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پکے ہوئے پھل کی درخت پر لگے ہوئے پھل کے بدلے بیع سے منع فرمایا ہے اور عرایا میں اندازے سے خریدنے کی اجازت دی ہے تاکہ اس کے اہل خانہ بھی تر کھجور کھا سکیں۔

عَطَاءٌ سَمِعَهُ مِنْ جَابِرٍ ← لِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ وَمَا عِلْمُ أَهْلِ مَكَّةَ بِالْعَرَايَا قُلْتُ ← سُفْيَانَ، ← بَيْعِ التَّمْرِ بِالتَّمْرِ وَرَخَّصَ فِي الْعَرَايَا أَنْ تُشْتَرَى بِخَرْصِهَا يَأْكُلُهَا أَهْلُهَا رُطَبًا ← «نَهَى رَسُولُ اللَّهِ ← سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ، ← بَشِيرِ بْنِ يَسَارٍ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← سُفْيَانَ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16190

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16191

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ حَدَّثَنَا خُبَيْبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَسْعُودِ بْنِ نِيَارٍ عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ قَالَ أَتَانَا وَنَحْنُ فِي مَسْجِدِنَا قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا خَرَصْتُمْ فَخُذُوا وَدَعُوا دَعُوا الثُّلُثَ فَإِنْ لَمْ تَدَعُوا أَوْ تَجُدُّوا شُعْبَةُ الشَّاكُّ الثُّلُثَ فَالرُّبُعَ

عبدالرحمن بن مسعود کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت سہل بن ابی حثمہ ہماری مسجد میں تشریف لائے اور یہ حدیث بیان کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب تم پھل کاٹا کرو تو کچھ کاٹ لیا کرو اور کچھ چھوڑ دیا کرو تقریبا ایک تہائی چھوڑ دیا کرو اگر ایسا نہ کرو تو ایک چوتھائی چھوڑ دیا کرو ۔

أَتَانَا وَنَحْنُ فِي مَسْجِدِنَا ← سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ، ← عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ مَسْعُودِ بْنِ نِيَارٍ ← خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16191

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16192

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ أَخْبَرَنِي خُبَيْبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَسْعُودِ بْنِ نِيَارٍ قَالَ أَتَانَا سَهْلُ بْنُ أَبِي حَثْمَةَ فِي مَسْجِدِنَا فَقَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا خَرَصْتُمْ فَخُذُوا وَدَعُوا دَعُوا الثُّلُثَ فَإِنْ لَمْ تَجُدُّوا أَوْ تَدَعُوا فَالرُّبُعَ

عبدالرحمن بن مسعود کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت سہل بن ابی حثمہ ہماری مسجد میں تشریف لائے اور یہ حدیث بیان کی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب تم پھل کاٹا کرو تو کچھ کاٹ لیا کرو اور کچھ چھوڑ دیا کرو تقریبا ایک تہائی چھوڑ دیا کرو اگر ایسا نہ کرسکو تو ایک چوتھائی چھوڑ دیا کرو ۔

أَتَانَا سَهْلُ بْنُ أَبِي حَثْمَةَ فِي مَسْجِدِنَا فَقَالَ ← عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ مَسْعُودِ بْنِ نِيَارٍ ← خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← شُعْبَةُ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16192

chevron_left Previous
1…206207208…232
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    0. Chapter
2. Book
    0. Chapter
3. Book
    0. Chapter
4. Book
    0. Chapter
5. Book
    0. Chapter
6. Book
    0. Chapter
7. Book
    0. Chapter
8. Book
    0. Chapter
9. Book
    0. Chapter