Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند امام احمد بن حنبل

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble

by Musnad Imam Bin Hanble

28,221 Hadith18 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16169

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ ثَابِتٍ قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ النُّعْمَانِ بْنِ مَعْبَدِ بْنِ هَوْذَةَ الْأَنْصَارِيُّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِالْإِثْمِدِ الْمُرَوَّحِ عِنْدَ النَّوْمِ

حضرت معبد بن انصاری سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سوتے وقت اثمد نامی ٹھنڈا سرمہ لگایا کرو۔

جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← عبد الرحمن بن النعمان بن معبد بن هَوْذَةَ الأنصاري ← عَلِيِّ بْنِ ثَابِتٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16169

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16170

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ قَالَ عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنَاه أَبِي عَنْهُ وَهُوَ حَيٌّ قَالَ حَدَّثَنَا حُجْرُ بْنُ الْحَارِثِ الْغَسَّانِيُّ مِنْ أَهْلِ الرَّمْلَةِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَوْنٍ الْكِنَانِيِّ وَكَانَ عَامِلًا لِعُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ عَلَى الرَّمْلَةِ أَنَّهُ شَهِدَ عَبْدَ الْمَلِكِ بْنَ مَرْوَانَ قَالَ لِبَشِيرِ بْنِ عَقْرَبَةَ الْجُهَنِيِّ يَوْمَ قُتِلَ عَمْرُو بْنُ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ يَا أَبَا الْيَمَانِ إِنِّي قَدْ احْتَجْتُ الْيَوْمَ إِلَى كَلَامِكَ فَقُمْ فَتَكَلَّمْ قَالَ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ قَامَ يَخْطُبُ لَا يَلْتَمِسُ بِهَا إِلَّا رِيَاءً وَسُمْعَةً أَوْقَفَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مَوْقِفَ رِيَاءٍ وَسُمْعَةٍ

عبداللہ بن عوف کنانی جو کہ عمر بن عبدالعزیز کی طرف سے رملہ کے گورنر تھے کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ وہ عبدالملک بن مروان کے پاس موجود تھے کہ عبدالملک نے حضرت بشیر بن عقربہ جہنی سے جس دن عمر بن سعید بن عاص مقتول ہوئے کہا اے ابویمان آج مجھے آپ کے کلام کرنے کی ضرورت ہے لہذا آپ کھڑے ہو کر کلام کر لیجیے انہوں نے فرمایا میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے جو شخص دکھاوے اور شہرت کی خاطر تقریر کرنے کے لئے کھڑا ہو اللہ قیامت کے دن اس دکھاوے اور شہرت کے مقام پر روک کر کھڑا کردے گا۔

كَانَ عَامِلًا لِعُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ عَلَى الرَّمْلَةِ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَوْنٍ الْكِنَانِيِّ ← حُجْرُ بْنُ الْحَارِثِ الْغَسَّانِيُّ مِنْ أَهْلِ الرَّمْلَةِ ← أَبِي عَنْهُ وَهُوَ حَيٌّ ← عَبْدُ اللَّهِ ← سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16170

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16171

حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ قَالَ سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ مَيْمُونٍ يُحَدِّثُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبِيعَةَ السُّلَمِيِّ عَنْ عُبَيْدِ بْنِ خَالِدٍ السُّلَمِيِّ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ آخَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ رَجُلَيْنِ قُتِلَ أَحَدُهُمَا عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ مَاتَ الْآخَرُ فَصَلَّوْا عَلَيْهِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا قُلْتُمْ قَالَ قُلْنَا اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ اللَّهُمَّ ارْحَمْهُ اللَّهُمَّ أَلْحِقْهُ بِصَاحِبِهِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَيْنَ صَلَاتُهُ بَعْدَ صَلَاتِهِ وَأَيْنَ صِيَامُهُ أَوْ عَمَلُهُ بَعْدَ عَمَلِهِ مَا بَيْنَهُمَا أَبْعَدُ مَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ

حضرت عبید بن خالد سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دو آدمیوں کے درمیان مواخات فرمائی ان میں سے ایک تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں پہلے شہید ہوگیا اور کچھ عرصے بعد دوسراطبعی طور پر فوت ہوگیا لوگ اس کے لئے دعاکرنے لگے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم لوگ کیا دعاکر رہے ہو ہم نے عرض کیا یہ کہہ رہے ہیں کہ اے اللہ اس کی بخشش فرما اس پر رحم فرما اور اسے اس کے ساتھی کی رفاقت عطا فرما نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تو پھر شہید ہونے والے کے بعد اس کی پڑھی جانے والی نمازیں کہاں ہیں جو روزے اس نے بعد میں رکھے یا جو اعمال اس نے کئے وہ کہاں ہیں ان دونوں کے درمیان تو زمین و آسمان سے بھی زیادہ فاصلہ ہے۔

عُبَيْدِ بْنِ خَالِدٍ السُّلَمِيِّ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبِيعَةَ السُّلَمِيِّ ← عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ1 ← عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ← شُعْبَةُ، ← أَبُو النَّضْرِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16171

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16172

قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ قَالَ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ الْأَنْصَارِيُّ وَهُوَ أَحَدُ الثَّلَاثَةِ الَّذِينَ تِيبَ عَلَيْهِمْ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ بَعْضُ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ يَوْمًا عَاصِبًا رَأْسَهُ فَقَالَ فِي خُطْبَتِهِ أَمَّا بَعْدُ يَا مَعْشَرَ الْمُهَاجِرِينَ فَإِنَّكُمْ قَدْ أَصْبَحْتُمْ تَزِيدُونَ وَأَصْبَحَتْ الْأَنْصَارُ لَا تَزِيدُ عَلَى هَيْئَتِهَا الَّتِي هِيَ عَلَيْهَا الْيَوْمَ وَإِنَّ الْأَنْصَارَ عَيْبَتِي الَّتِي أَوَيْتُ إِلَيْهَا فَأَكْرِمُوا كَرِيمَهُمْ وَتَجَاوَزُوا عَنْ مُسِيئِهِمْ

ایک صحابی سے مروی ہے کہ ایک دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے سر مبارک پر پٹی باندھ کر نکلے اور خطبہ میں امابعد کہہ کر فرمایا اے گروہ مہاجرین تم لوگوں کی تعداد دن بدن بڑھ رہی ہے جبکہ انصار کی آج جو حالت ہے وہ اس سے آگے نہیں بڑھیں گے انصار میرے راز دان ہیں جہاں میں نے ٹھکانہ حاصل کیا اس لئے ان کے شرفاء کا احترام کرو اور ان کی خطاکاروں سے درگذر کیا کرو۔

عَبْدُ اللَّهِ بْنُ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ الْأَنْصَارِيُّ وَهُوَ أَحَدُ الثَّلَاثَةِ الَّذِينَ تِيبَ عَلَيْهِمْ ← الزُّهْرِيِّ، ← شُعَيْبٌ، ← أَبُو الْيَمَانِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16172

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16173

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي الْوَاسِطِيَّ قَالَ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ يَحْيَى الْأَنْصَارِيُّ عَنْ زِيَادِ بْنِ أَبِي زِيَادٍ مَوْلَى بَنِي مَخْزُومٍ عَنْ خَادِمٍ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٍ أَوْ امْرَأَةٍ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِمَّا يَقُولُ لِلْخَادِمِ أَلَكَ حَاجَةٌ قَالَ حَتَّى كَانَ ذَاتَ يَوْمٍ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ حَاجَتِي قَالَ وَمَا حَاجَتُكَ قَالَ حَاجَتِي أَنْ تَشْفَعَ لِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ قَالَ وَمَنْ دَلَّكَ عَلَى هَذَا قَالَ رَبِّي قَالَ إِمَّا لَا فَأَعِنِّي بِكَثْرَةِ السُّجُودِ

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک خادم صحابی جن کے مذکر یا مونث ہونے کی تعین میں راوی کو شک ہے سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اکثر خادم سے پوچھتے رہتے تھے کہ تمہیں کوئی ضرورت اور کام تو نہیں ہے ایک دن اسی طرح میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا یا رسول اللہ میرا ایک کام ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا کام ہے میں نے عرض کیا کہ قیامت کے دن آپ میری سفارش کردیجیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ خیال تمہیں کہاں سے آیا اس نے عرض کیا اللہ نے دل میں ڈال دیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر کثرت سے سجود کے ذریعے میری مدد کرو۔

حَتَّى كَانَ ذَاتَ يَوْمٍ فَقَالَ ← لِلْخَادِمِ أَلَكَ حَاجَةٌ ← كَانَ النَّبِيُّ مِمَّا ← خَادِمٍ لِلنَّبِيِّ رَجُلٍ أَوْ امْرَأَةٍ ← زِيَادِ بْنِ أَبِي زِيَادٍ مَوْلَى بَنِي مَخْزُومٍ ← عَمْرُو بْنُ يَحْيَى الْأَنْصَارِيُّ، ← خَالِدٍ يَعْنِي الْوَاسِطِيَّ ← عَفَّانُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16173

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16174

حَدَّثَنَا حُجَيْنُ بْنُ الْمُثَنَّى أَبُو عُمَرَ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ عَمْرٍو الضَّمْرِيِّ قَالَ خَرَجْتُ مَعَ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَدِيِّ بْنِ الْخِيَارِ إِلَى الشَّامِ فَلَمَّا قَدِمْنَا حِمْصَ قَالَ لِي عُبَيْدُ اللَّهِ هَلْ لَكَ فِي وَحْشِيٍّ نَسْأَلُهُ عَنْ قَتْلِ حَمْزَةَ قُلْتُ نَعَمْ وَكَانَ وَحْشِيٌّ يَسْكُنُ حِمْصَ قَالَ فَسَأَلْنَا عَنْهُ فَقِيلَ لَنَا هُوَ ذَاكَ فِي ظِلِّ قَصْرِهِ كَأَنَّهُ حَمِيتٌ قَالَ فَجِئْنَا حَتَّى وَقَفْنَا عَلَيْهِ فَسَلَّمْنَا فَرَدَّ عَلَيْنَا السَّلَامَ قَالَ وَعُبَيْدُ اللَّهِ مُعْتَجِرٌ بِعِمَامَتِهِ مَا يَرَى وَحْشِيٌّ إِلَّا عَيْنَيْهِ وَرِجْلَيْهِ فَقَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ يَا وَحْشِيُّ أَتَعْرِفُنِي قَالَ فَنَظَرَ إِلَيْهِ ثُمَّ قَالَ لَا وَاللَّهِ إِلَّا أَنِّي أَعْلَمُ أَنَّ عَدِيَّ بْنَ الْخِيَارِ تَزَوَّجَ امْرَأَةً يُقَالُ لَهَا أُمُّ قِتَالٍ ابْنَةُ أَبِي الْعِيصِ فَوَلَدَتْ لَهُ غُلَامًا بِمَكَّةَ فَاسْتَرْضَعَهُ فَحَمَلْتُ ذَلِكَ الْغُلَامَ مَعَ أُمِّهِ فَنَاوَلْتُهَا إِيَّاهُ فَلَكَأَنِّي نَظَرْتُ إِلَى قَدَمَيْكَ قَالَ فَكَشَفَ عُبَيْدُ اللَّهِ وَجْهَهُ ثُمَّ قَالَ أَلَا تُخْبِرُنَا بِقَتْلِ حَمْزَةَ قَالَ نَعَمْ إِنَّ حَمْزَةَ قَتَلَ طُعَيْمَةَ بْنَ عَدِيٍّ بِبَدْرٍ فَقَالَ لِي مَوْلَايَ جُبَيْرُ بْنُ مُطْعِمٍ إِنْ قَتَلْتَ حَمْزَةَ بِعَمِّي فَأَنْتَ حُرٌّ فَلَمَّا خَرَجَ النَّاسُ يَوْمَ عِينِينَ قَالَ وَعِينِينُ جُبَيْلٌ تَحْتَ أُحُدٍ وَبَيْنَهُ وَادٍ خَرَجْتُ مَعَ النَّاسِ إِلَى الْقِتَالِ فَلَمَّا أَنْ اصْطَفُّوا لِلْقِتَالِ قَالَ خَرَجَ سِبَاعٌ مَنْ مُبَارِزٌ قَالَ فَخَرَجَ إِلَيْهِ حَمْزَةُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَقَالَ سِبَاعُ بْنُ أُمِّ أَنْمَارٍ يَا ابْنَ مُقَطِّعَةِ الْبُظُورِ أَتُحَادُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ ثُمَّ شَدَّ عَلَيْهِ فَكَانَ كَأَمْسِ الذَّاهِبِ وَأَكْمَنْتُ لِحَمْزَةَ تَحْتَ صَخْرَةٍ حَتَّى إِذَا مَرَّ عَلَيَّ فَلَمَّا أَنْ دَنَا مِنِّي رَمَيْتُهُ بِحَرْبَتِي فَأَضَعُهَا فِي ثُنَّتِهِ حَتَّى خَرَجَتْ مِنْ بَيْنِ وَرِكَيْهِ قَالَ فَكَانَ ذَلِكَ الْعَهْدُ بِهِ قَالَ فَلَمَّا رَجَعَ النَّاسُ رَجَعْتُ مَعَهُمْ قَالَ فَأَقَمْتُ بِمَكَّةَ حَتَّى فَشَا فِيهَا الْإِسْلَامُ قَالَ ثُمَّ خَرَجْتُ إِلَى الطَّائِفِ قَالَ فَأَرْسَلَ إِلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ وَقِيلَ لَهُ إِنَّهُ لَا يَهِيجُ لِلرُّسُلِ قَالَ فَخَرَجْتُ مَعَهُمْ حَتَّى قَدِمْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَلَمَّا رَآنِي قَالَ أَنْتَ وَحْشِيٌّ قَالَ قُلْتُ نَعَمْ قَالَ أَنْتَ قَتَلْتَ حَمْزَةَ قَالَ قُلْتُ قَدْ كَانَ مِنْ الْأَمْرِ مَا بَلَغَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِذْ قَالَ مَا تَسْتَطِيعُ أَنْ تُغَيِّبَ عَنِّي وَجْهَكَ قَالَ فَرَجَعْتُ فَلَمَّا تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَخَرَجَ مُسَيْلِمَةُ الْكَذَّابُ قَالَ قُلْتُ لَأَخْرُجَنَّ إِلَى مُسَيْلِمَةَ لَعَلِّي أَقْتُلُهُ فَأُكَافِئَ بِهِ حَمْزَةَ قَالَ فَخَرَجْتُ مَعَ النَّاسِ فَكَانَ مِنْ أَمْرِهِمْ مَا كَانَ قَالَ فَإِذَا رَجُلٌ قَائِمٌ فِي ثَلْمَةِ جِدَارٍ كَأَنَّهُ جَمَلٌ أَوْرَقُ ثَائِرٌ رَأْسُهُ قَالَ فَأَرْمِيهِ بِحَرْبَتِي فَأَضَعُهَا بَيْنَ ثَدْيَيْهِ حَتَّى خَرَجَتْ مِنْ بَيْنِ كَتِفَيْهِ قَالَ وَوَثَبَ إِلَيْهِ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ قَالَ فَضَرَبَهُ بِالسَّيْفِ عَلَى هَامَتِهِ

جعفر بن امیہ ضمری کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں عبیداللہ بن عدی کے ساتھ شام کے سفر میں نکلا جب ہم شہر حمص میں پہنچے تو عبیداللہ نے مجھ سے کہا اگر تمہاری مرضی ہو تو چلو وحشی حبشی کے پاس چل کر حضرت حمزہ کی شہادت کے متعلق پوچھتے ہیں میں نے کہاچلو حضرت وحشی حمص میں ہی رہتے تھے ہم نے لوگوں سے اس کا پتہ پوچھا تو ایک شخص نے کہا وہ سامنے اپنے محل کے سایہ میں بیٹھے ہوئے ہیں جیسے پانی سے بھری ہوئی بڑی مشک۔ ہم ان کے پاس گئے اور وہاں پہنچ کر انہیں سلام کیا حضرت وحشی نے سلام کا جواب دیا عبیداللہ اس وقت چادر میں اس طرح لپٹے ہوئے تھے کہ سوائے آنکھوں اور پاؤں کے جسم کا کوئی حصہ نظر نہ آتا تھا عبیداللہ نے حضرت وحشی سے پوچھا کہ آپ مجھ کو پہچانتے ہو وحشی نے غور سے دیکھا اور کہنے لگا کہ اللہ کی قسم میں اور تو جانتا نہیں صرف اتناجانتاہوں کہ عدی بن خیار نے ام القتال سے نکاح کیا تھا عدی اس عورت سے ایک لڑکا مکہ میں پیدا ہوا میں نے اس لڑکے کے لئے دودھ پلانے والی تلاش کی اور لڑکے کو مال سمیت لے جا کر ان کودیدیا اب مجھے تمہارے پاؤں دیکھ کر اس لڑکے کا خیال ہوا یہ سن کر عبیداللہ نے اپنا منہ کھول دیا اور کہا حضرت حمزہ کا واقعہ بیان کیجیے۔وحشی نے کہا ہاں قصہ یہ ہے کہ جنگ بدر میں طعیمہ بن عدی کو حمزہ نے قتل کردیا تھا یہ دیکھ کر میرے آقاجبیر بن مطعم نے کہا اگر تو میرے چچا کے عوض حمزہ کو قتل کردے گا تو میری طرف سے تو آزاد ہے چنانچہ جب لوگ قریش عینین والے سال نکلے تو میں بھی ان کے ساتھ لڑائی کے لئے چلا صفیں درست ہونے کے بعد سباع میدان میں نکلا اور آواز دی کیا کوئی مقابلہ پر آ سکتا ہے حمزہ بن عبدالمطلب اس کے مقابلے کے لئے نکلے اور کہنے لگے کہ اے سباع عورتوں کے ختنہ کرنے والی کے بیٹے کیا تو اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرتا ہے یہ کہہ کر حضرت حمزہ نے اس پر حملہ کردیا اور سباع مارا گیا

جعفر بن عمرو الضمري ← سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ، ← عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ← حُجَيْنُ بْنُ الْمُثَنَّى أَبُو عمر،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16174

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16175

قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْفَضْلِ فَأَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ يَسَارٍ أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ فَقَالَتْ جَارِيَةٌ عَلَى ظَهْرِ بَيْتٍ وَأَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ قَتَلَهُ الْعَبْدُ الْأَسْوَدُ

جعفر بن امیہ ضمری کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں عبیداللہ بن عدی کے ساتھ شام کے سفر میں نکلا جب ہم شہر حمص میں پہنچے تو عبیداللہ نے مجھ سے کہا اگر تمہاری مرضی ہو تو چلو وحشی حبشی کے پاس چل کر حضرت حمزہ کی شہادت کے متعلق پوچھتے ہیں میں نے کہاچلو حضرت وحشی حمص میں ہی رہتے تھے ہم نے لوگوں سے اس کا پتہ پوچھا تو ایک شخص نے کہا وہ سامنے اپنے محل کے سایہ میں بیٹھے ہوئے ہیں جیسے پانی سے بھری ہوئی بڑی مشک۔ ہم ان کے پاس گئے اور وہاں پہنچ کر انہیں سلام کیا حضرت وحشی نے سلام کا جواب دیا عبیداللہ اس وقت چادر میں اس طرح لپٹے ہوئے تھے کہ سوائے آنکھوں اور پاؤں کے جسم کا کوئی حصہ نظر نہ آتا تھا عبیداللہ نے حضرت وحشی سے پوچھا کہ آپ مجھ کو پہچانتے ہو وحشی نے غور سے دیکھا اور کہنے لگا کہ اللہ کی قسم میں اور تو جانتا نہیں صرف اتناجانتاہوں کہ عدی بن خیار نے ام القتال سے نکاح کیا تھا عدی اس عورت سے ایک لڑکا مکہ میں پیدا ہوا میں نے اس لڑکے کے لئے دودھ پلانے والی تلاش کی اور لڑکے کو مال سمیت لے جا کر ان کودیدیا اب مجھے تمہارے پاؤں دیکھ کر اس لڑکے کا خیال ہوا یہ سن کر عبیداللہ نے اپنا منہ کھول دیا اور کہا حضرت حمزہ کا واقعہ بیان کیجیے۔وحشی نے کہا ہاں قصہ یہ ہے کہ جنگ بدر میں طعیمہ بن عدی کو حمزہ نے قتل کردیا تھا یہ دیکھ کر میرے آقاجبیر بن مطعم نے کہا اگر تو میرے چچا کے عوض حمزہ کو قتل کردے گا تو میری طرف سے تو آزاد ہے چنانچہ جب لوگ قریش عینین والے سال نکلے تو میں بھی ان کے ساتھ لڑائی کے لئے چلا صفیں درست ہونے کے بعد سباع میدان میں نکلا اور آواز دی کیا کوئی مقابلہ پر آ سکتا ہے حمزہ بن عبدالمطلب اس کے مقابلے کے لئے نکلے اور کہنے لگے کہ اے سباع عورتوں کے ختنہ کرنے والی کے بیٹے کیا تو اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرتا ہے یہ کہہ کر حضرت حمزہ نے اس پر حملہ کردیا اور سباع مارا گیا

عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ ← سليمانَ بنِ يسارٍ، أنَّه ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16175

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16176

حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ رَبِّهِ قَالَ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ عَنْ وَحْشِيِّ بْنِ حَرْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ أَنَّ رَجُلًا قَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّا نَأْكُلُ وَمَا نَشْبَعُ قَالَ فَلَعَلَّكُمْ تَأْكُلُونَ مُفْتَرِقِينَ اجْتَمِعُوا عَلَى طَعَامِكُمْ وَاذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ تَعَالَى عَلَيْهِ يُبَارَكْ لَكُمْ فِيهِ

حضرت وحشی بن حرب سے مروی ہے کہ ایک شخص نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا کہ ہم لوگ کھانا تو کھاتے ہیں لیکن سیراب نہیں ہو پاتے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہو سکتا ہے کہ تم لوگ الگ الگ کھاتے ہو کھانا اکٹھا کھایا کرو اور اللہ کا نام لے کر کھایا کرو اس میں برکت پیدا ہوجائے گی۔

نَأْكُلُ وَمَا نَشْبَعُ ← لِلنَّبِيِّ ← جَدِّهِ، أَنَّ رَجُلًا ← أَبِيهِ ← وَحْشِيُّ بْنُ حَرْبٍ ← الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ رَبِّهِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16176

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16177

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ زُفَرَ عَنْ بَعْضِ بَنِي رَافِعِ بْنِ مَكِيثٍ عَنْ رَافِعِ بْنِ مَكِيثٍ وَكَانَ مِمَّنْ شَهِدَ الْحُدَيْبِيَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ حُسْنُ الْخُلُقِ نَمَاءٌ وَسُوءُ الْخُلُقِ شُؤْمٌ وَالْبِرُّ زِيَادَةٌ فِي الْعُمُرِ وَالصَّدَقَةُ تَمْنَعُ مِيتَةَ السَّوْءِ

حضرت رافع بن مکیث جو شرکاء احد میں سے ہیں سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا حسن خلق ایک ایسی چیز ہے جس میں نشو ونما کی صلاحیت ہے اور بدخلقی نحوست ہے نیکی سے عمر میں اضافہ ہوتا ہے اور صدقہ بری موت کوٹالتا ہے۔

رافع بن مكيث وكان ممن شهد الحديبية ← بَعْضِ بَنِي رَافِعِ بْنِ مَکِيثٍ ← عُثْمَانَ بْنِ زُفَرَ ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16177

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16178

حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ أَنَّ الْحُسَيْنَ بْنَ السَّائِبِ بْنِ أَبِي لُبَابَةَ أَخْبَرَهُ أَنَّ أَبَا لُبَابَةَ عَبْدَ الْمُنْذِرِ لَمَّا تَابَ اللَّهُ عَلَيْهِ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ مِنْ تَوْبَتِي إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ أَهْجُرَ دَارَ قَوْمِي وَأُسَاكِنَكَ وَأَنْ أَنْخَلِعَ مِنْ مَالِي صَدَقَةً لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَلِرَسُولِهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُجْزِئُ عَنْكَ الثُّلُثُ

حسین بن سائب کہتے ہیں کہ جب اللہ نے حضرت ابولبابہ کی توبہ قبول فرما لی تو وہ کہنے لگے یا رسول اللہ میری توبہ کا ایک حصہ یہ بھی ہے کہ میں اپنی قوم کا گھر چھوڑ کر آپ کے پڑوس میں آکر بس جاؤں اور اپنا سارا مال اللہ اور اس کے رسول کے لئے وقف کردوں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہاری طرف سے ایک تہائی بھی کافی ہوگا۔

أَنَّ أَبَا لُبَابَةَ عَبْدَ الْمُنْذِرِ لَمَّا تَابَ اللَّهُ عَلَيْهِ ← ابْنُ شِهَابٍ أَنَّ الْحُسَيْنَ بْنَ السَّائِبِ بْنِ أَبِي لُبَابَةَ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← رَوْحٌ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16178

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16179

قَالَ حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ حَدَّثَنَا الْعَطَّافُ قَالَ حَدَّثَنِي مُجَمِّعُ بْنُ يَعْقُوبَ عَنْ غُلَامٍ مِنْ أَهْلِ قُباءٍ أَنَّهُ أَدْرَكَهُ شَيْخًا أَنَّهُ قَالَ جَاءَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقُبَاءٍ فَجَلَسَ فِي فَيْءِ الْأَحْمَرِ وَاجْتَمَعَ إِلَيْهِ نَاسٌ فَاسْتَسْقَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسُقِيَ فَشَرِبَ وَأَنَا عَنْ يَمِينِهِ وَأَنَا أَحْدَثُ الْقَوْمِ فَنَاوَلَنِي فَشَرِبْتُ وَحَفِظْتُ أَنَّهُ صَلَّى بِنَا يَوْمَئِذٍ الصَّلَاةَ وَعَلَيْهِ نَعْلَاهُ لَمْ يَنْزِعْهُمَا

اہل قباء کے ایک غلام صحابی کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس قبا میں تشریف لائے اور کنکریوں کے بغیر صحن میں بیٹھ گئے لوگ بھی جمع ہونے لگے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی منگوا کر نوش فرمایا میں اس وقت سب سے چھوٹا اور آپ کی دائیں جانب تھا لہذا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا پس خوردہ مجھے عطا فرمایا جسے میں نے پی لیا مجھے یہ بھی یاد ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دن ہمیں جو نماز پڑھائی تھی اس میں آپ نے جوتے پہن رکھے تھے انہیں اتارا نہیں تھا۔

غُلَامٍ مِنْ أَهْلِ قُباءٍ ← مُجَمِّعُ بْنُ يَعْقُوبَ ← الْعَطَّافُ ← يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16179

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16180

قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سُلَيْمَانَ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ عَنْ زَيْنَبَ امْرَأَةِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّهَا قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلنِّسَاءِ تَصَدَّقْنَ وَلَوْ مِنْ حُلِيِّكُنَّ قَالَتْ فَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ خَفِيفَ ذَاتِ الْيَدِ فَقَالَتْ لَهُ أَيَسَعُنِي أَنْ أَضَعَ صَدَقَتِي فِيكَ وَفِي بَنِي أَخِي أَوْ بَنِي أَخٍ لِي يَتَامَى فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ سَلِي عَنْ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِذَا عَلَى بَابِهِ امْرَأَةٌ مِنْ الْأَنْصَارِ يُقَالُ لَهَا زَيْنَبُ تَسْأَلُ عَمَّا أَسْأَلُ عَنْهُ فَخَرَجَ إِلَيْنَا بِلَالٌ فَقُلْنَا انْطَلِقْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَلْهُ عَنْ ذَلِكَ وَلَا تُخْبِرْ مَنْ نَحْنُ فَانْطَلَقَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَنْ هُمَا فَقَالَ زَيْنَبُ فَقَالَ أَيُّ الزَّيَانِبِ فَقَالَ زَيْنَبُ امْرَأَةُ عَبْدِ اللَّهِ وَزَيْنَبُ الْأَنْصَارِيَّةُ فَقَالَ نَعَمْ لَهُمَا أَجْرَانِ أَجْرُ الْقَرَابَةِ وَأَجْرُ الصَّدَقَةِ

حضرت زینب سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا صدقہ خیرات کیا کرو اگرچہ اپنے زیوارت ہی سے کرو وہ کہتی ہیں کہ میرے شوہر عبداللہ بن مسعود ہلکے ہاتھ والے مالی طور پر کمزور تھے میں نے ان سے کہا کہ کیا یہ ممکن ہے کہ میں تم پر اور اپنے یتیم بھتیجوں پر صدقہ کردیا کروں انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھ لو چنانچہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر کے دروازے پر ایک اور انصاری عورت جس کا نام بھی زینب ہی تھا نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی مسئلہ پوچھنے کے لئے آئی ہوئی تھی۔ حضرت بلال باہر آئے تو ہم نے ان سے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ مسئلہ پوچھ کر آؤ اور یہ نہ بتانا کہ ہم کون ہیں چنانچہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چلے گئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا وہ دونوں کون ہیں انہوں نے بتادیا کہ دونوں کا نام زینب ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کون سی زینب انہوں نے بتایا کہ ایک تو عبداللہ بن مسعود کی بیوی اور دوسری زینب انصاریہ ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں دونوں کو اجرملے گا اور دوہرا اجر ملے گا ایک اجر قرابت داری کا اور ایک صدقہ کرنے کا۔

زَيْنَبَ امْرَأَةِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّهَا ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ← أَبِي وَائِلٍ ← سُلَیْمَانَ ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16180

chevron_left Previous
1…205206207…232
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    0. Chapter
2. Book
    0. Chapter
3. Book
    0. Chapter
4. Book
    0. Chapter
5. Book
    0. Chapter
6. Book
    0. Chapter
7. Book
    0. Chapter
8. Book
    0. Chapter
9. Book
    0. Chapter