Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
مسند امام احمد بن حنبل

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble

by Musnad Imam Bin Hanble

28,221 Hadith18 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16596

قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى عَنْ مَعْمَرٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ مَحْمُودِ بْنِ الرَّبِيعِ عَنْ عِتْبَانَ بْنِ مَالِكٍ أَنَّهُ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ السُّيُولَ تَحُولُ بَيْنِي وَبَيْنَ مَسْجِدِ قَوْمِي فَأُحِبُّ أَنْ تَأْتِيَنِي فَتُصَلِّيَ فِي مَكَانٍ فِي بَيْتِي أَتَّخِذُهُ مَسْجِدًا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَنَفْعَلُ قَالَ فَلَمَّا أَصْبَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَدَا عَلَى أَبِي بَكْرٍ فَاسْتَتْبَعَهُ فَلَمَّا دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَيْنَ تُرِيدُ فَأَشَرْتُ لَهُ إِلَى نَاحِيَةٍ مِنْ الْبَيْتِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصُفِفْنَا خَلْفَهُ فَصَلَّى بِنَا رَكْعَتَيْنِ وَحَبَسْنَاهُ عَلَى خَزِيرٍ صَنَعْنَاهُ فَسَمِعَ أَهْلُ الدَّارِ يَعْنِي أَهْلَ الْقَرْيَةِ فَجَعَلُوا يَثُوبُونَ فَامْتَلَأَ الْبَيْتُ فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ الْقَوْمِ أَيْنَ مَالِكُ بْنُ الدُّخْشُمِ فَقَالَ رَجُلٌ ذَاكَ مِنْ الْمُنَافِقِينَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَقُولُهُ يَقُولُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ يَبْتَغِي بِهَا وَجْهَ اللَّهِ قَالَ أَمَّا نَحْنُ فَنَرَى وَجْهَهُ وَحَدِيثَهُ إِلَى الْمُنَافِقِينَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَقُولُهُ يَقُولُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ يَبْتَغِي بِذَلِكَ وَجْهَ اللَّهِ فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ الْقَوْمِ بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَئِنْ وَافَى عَبْدٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يَقُولُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ يَبْتَغِي بِذَلِكَ وَجْهَ اللَّهِ إِلَّا حُرِّمَ عَلَى النَّارِ فَقَالَ مَحْمُودٌ فَحَدَّثْتُ بِذَلِكَ قَوْمًا فِيهِمْ أَبُو أَيُّوبَ قَالَ مَا أَظُنُّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ هَذَا قَالَ فَقُلْتُ لَئِنْ رَجَعْتُ وَعِتْبَانُ حَيٌّ لَأَسْأَلَنَّهُ فَقَدِمْتُ وَهُوَ أَعْمَى وَهُوَ إِمَامُ قَوْمِهِ فَسَأَلْتُهُ فَحَدَّثَنِي كَمَا حَدَّثَنِي أَوَّلَ مَرَّةٍ وَكَانَ عِتْبَانُ بَدْرِيًّا قَالَ

حضرت عتبان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! میری قوم کی مسجد اور میرے درمیان سیلاب حائل ہو جاتا ہے، آپ کسی وقت تشریف لا کر میرے گھر میں نماز پڑھ دیں تو میں اسے ہی اپنے لئے جائے نماز منتخب کر لوں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے ایسا کرنے کا وعدہ کر لیا، چنانچہ ایک دن حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے ساتھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے ، اور گھر میں داخل ہو کر فرمایا تم کس جگہ کو جائے نماز بنانا چاہتے ہو؟ میں نے گھر کے ایک کونے کی طرف اشارہ کر دیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو گئے، ہم نے ان کے پیچھے صف بندی کر لی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں دو رکعتیں پڑھائیں ، ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کریم صلی اللہ علیہ کو کھانے پر روک لیا، انصار کے کانوں تک یہ بات پہنچی تو وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کے لئے آنے لگے، سارا گھر بھر گیا، ایک آدمی کہنے لگا کہ مالک بن دخشم کہاں ہے؟ دوسرے نے جواب دیا کہ وہ منافق ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایسے نہ کہو، وہ اللہ کی رضا کے لئے لا الہ الا اللہ پڑھتا ہے، اس نے کہا کہ ہم تو یہی دیکھتے ہیں کہ اس کی توجہ اور باتیں منافقین کی طرف مائل ہوتی ہیں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر وہی جملہ دہرایا ، دوسرے آدمی نے کہا کیوں نہیں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص اللہ کی رضا کے لئے لا الہ الا اللہ کی گواہی دیتا ہوا قیامت کے دن آئے گا، اللہ نے اس پر جہنم کی آگ کو حرام قرار دیا ہے، محمود کہتے ہیں کہ یہ حدیث جب میں نے ایک جماعت کے سامنے بیان کی جن میں ایوب بھی تھے، تو وہ کہنے لگے میں نہیں سمجھتا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا ہوگا، میں نے کہا کہ جس وقت میں مدینہ منورہ پہنچا اور حضرت عتبان رضی اللہ عنہ زندہ ہوئے تو میں ان سے یہ سوال ضرور کروں گا، چنانچہ میں وہاں پہنچا تو وہ نابینا ہو چکے تھے، اور اپنی قوم کی امامت فرماتے تھے، میں نے ان سے اس حدیث کے متعلق پوچھا تو انہوں مجھے یہ حدیث اس طرح سنا دی جیسے پہلے سنائی تھی، اور یہ بدری صحابی تھے۔

عِتْبَانَ بْنِ مَالِكٍ أَنَّهُ ← مَحْمُودِ بْنِ الرَّبِيعِ، ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16596

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16597

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ مَحْمُودِ بْنِ الرَّبِيعِ عَنْ عِتْبَانَ بْنِ مَالِكٍ قَالَ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ إِنِّي قَدْ أَنْكَرْتُ بَصَرِي فَذَكَرَ مَعْنَاهُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ مَالِكُ بْنُ الدُّخْشُنِ وَرُبَّمَا قَالَ الدُّخَيْشِنِ وَقَالَ حُرِّمَ عَلَى النَّارِ وَلَمْ يَقُلْ كَانَ بَدْرِيًّا

حضرت عتبان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! میری قوم کی مسجد اور میرے درمیان سیلاب حائل ہو جاتا ہے، آپ کسی وقت تشریف لا کر میرے گھر میں نماز پڑھ دیں تو میں اسے ہی اپنے لئے جائے نماز منتخب کر لوں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے ایسا کرنے کا وعدہ کر لیا، چنانچہ ایک دن حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے ساتھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے ، اور گھر میں داخل ہو کر فرمایا تم کس جگہ کو جائے نماز بنانا چاہتے ہو؟ میں نے گھر کے ایک کونے کی طرف اشارہ کر دیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو گئے، ہم نے ان کے پیچھے صف بندی کر لی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں دو رکعتیں پڑھائیں ، ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کریم صلی اللہ علیہ کو کھانے پر روک لیا، انصار کے کانوں تک یہ بات پہنچی تو وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کے لئے آنے لگے، سارا گھر بھر گیا، ایک آدمی کہنے لگا کہ مالک بن دخشم کہاں ہے؟ دوسرے نے جواب دیا کہ وہ منافق ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایسے نہ کہو، وہ اللہ کی رضا کے لئے لا الہ الا اللہ پڑھتا ہے، اس نے کہا کہ ہم تو یہی دیکھتے ہیں کہ اس کی توجہ اور باتیں منافقین کی طرف مائل ہوتی ہیں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر وہی جملہ دہرایا ، دوسرے آدمی نے کہا کیوں نہیں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص اللہ کی رضا کے لئے لا الہ الا اللہ کی گواہی دیتا ہوا قیامت کے دن آئے گا، اللہ نے اس پر جہنم کی آگ کو حرام قرار دیا ہے، محمود کہتے ہیں کہ یہ حدیث جب میں نے ایک جماعت کے سامنے بیان کی جن میں ایوب بھی تھے، تو وہ کہنے لگے میں نہیں سمجھتا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا ہوگا، میں نے کہا کہ جس وقت میں مدینہ منورہ پہنچا اور حضرت عتبان رضی اللہ عنہ زندہ ہوئے تو میں ان سے یہ سوال ضرور کروں گا، چنانچہ میں وہاں پہنچا تو وہ نابینا ہو چکے تھے، اور اپنی قوم کی امامت فرماتے تھے، میں نے ان سے اس حدیث کے متعلق پوچھا تو انہوں مجھے یہ حدیث اس طرح سنا دی جیسے پہلے سنائی تھی، اور یہ بدری صحابی تھے۔

الدُّخَيْشِنِ وَقَالَ حُرِّمَ عَلَى النَّارِ وَلَمْ يَقُلْ كَانَ بَدْرِيًّا ← مَالِكُ بْنُ الدُّخْشُنِ وَرُبَّمَا ← أَتَيْتُ النَّبِيَّ فَقُلْتُ إِنِّي قَدْ أَنْكَرْتُ بَصَرِي فَذَكَرَ مَعْنَاهُ إِلَّا أَنَّهُ ← عِتْبَانَ بْنِ مَالِكٍ: ← مَحْمُودِ بْنِ الرَّبِيعِ، ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16597

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16598

قَالَ حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ يَعْنِي ابْنَ حَازِمٍ عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ قَدِمَ أَبِي مِنْ الشَّامِ وَافِدًا وَأَنَا مَعَهُ فَلَقِينَا مَحْمُودَ بْنَ الرَّبِيعِ فَحَدَّثَ أَبِي حَدِيثًا عَنْ عِتْبَانَ بْنِ مَالِكٍ قَالَ أَبِي أَيْ بُنَيَّ احْفَظْ هَذَا الْحَدِيثَ فَإِنَّهُ مِنْ كُنُوزِ الْحَدِيثِ فَلَمَّا قَفَلْنَا انْصَرَفْنَا إِلَى الْمَدِينَةِ فَسَأَلْنَا عَنْهُ فَإِذَا هُوَ حَيٌّ وَإِذَا شَيْخٌ أَعْمَى قَالَ فَسَأَلْنَاهُ عَنْ الْحَدِيثِ فَقَالَ نَعَمْ ذَهَبَ بَصَرِي عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ذَهَبَ بَصَرِي وَلَا أَسْتَطِيعُ الصَّلَاةَ خَلْفَكَ فَلَوْ بَوَّأْتَ فِي دَارِي مَسْجِدًا فَصَلَّيْتُ فِيهِ فَأَتَّخِذُهُ مُصَلًّى قَالَ نَعَمْ فَإِنِّي غَادٍ عَلَيْكَ غَدًا قَالَ فَلَمَّا صَلَّى مِنْ الْغَدِ الْتَفَتَ إِلَيْهِ فَقَامَ حَتَّى أَتَاهُ فَقَالَ يَا عِتْبَانُ أَيْنَ تُحِبُّ أَنْ أُبَوِّئَ لَكَ فَوَصَفَ لَهُ مَكَانًا فَبَوَّأَ لَهُ وَصَلَّى فِيهِ ثُمَّ حَبَسَ أَوْ جَلَسَ وَبَلَغَ مَنْ حَوْلَنَا مِنْ الْأَنْصَارِ فَجَاءُوا حَتَّى مُلِئَتْ عَلَيْنَا الدَّارُ فَذَكَرُوا الْمُنَافِقِينَ وَمَا يَلْقُونَ مِنْ أَذَاهُمْ وَشَرِّهِمْ حَتَّى صَيَّرُوا أَمْرَهُمْ إِلَى رَجُلٍ مِنْهُمْ يُقَالُ لَهُ مَالِكُ بْنُ الدُّخْشُمِ وَقَالُوا مِنْ حَالِهِ وَمِنْ حَالِهِ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَاكِتٌ فَلَمَّا أَكْثَرُوا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَلَيْسَ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ فَلَمَّا كَانَ فِي الثَّالِثَةِ قَالُوا إِنَّهُ لَيَقُولُهُ قَالَ وَالَّذِي بَعَثَنِي بِالْحَقِّ لَئِنْ قَالَهَا صَادِقًا مِنْ قَلْبِهِ لَا تَأْكُلُهُ النَّارُ أَبَدًا قَالُوا فَمَا فَرِحُوا بِشَيْءٍ قَطُّ كَفَرَحِهِمْ بِمَا قَالَ

ابوبکر بن انس کہتے ہیں کہ میرے والد صاحب شام سے واپس آئے ، میں ان کے ہمراہ تھا، تو ہماری ملاقات محمود بن ربیع سے ہو گئی انہوں نے میرے والد صاحب کو حضرت عتبان رضی اللہ عنہ کے حوالے سے حدیث سنائی والد صاحب نے فرمایا بیٹے! اس حدیث کو یاد کر لو کہ یہ حدیث کا خزانہ ہے واپسی پر جب ہم مدینہ منورہ پہنچے تو ہم نے حضرت عتبان رضی اللہ عنہ سے اس کے متعلق پوچھا کہ وہ اس وقت حیات تھے لیکن انتہائی بوڑھے اور نابینا ہو چکے تھے، انہوں نے فرمایا ہاں !

أَبُو بَكْرِ بْنُ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ← عَلِيِّ بْنِ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ، ← جَرِيرٌ يَعْنِي ابْنَ حَازِمٍ ← حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16598

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16599

قَالَ حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ وحُجَيْنٌ قَالَا حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنِ الْبَرَاءِ عَنْ خَالِهِ أَبِي بُرْدَةَ أَنَّهُ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا عَجَّلْنَا شَاةَ لَحْمٍ لَنَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقَبْلَ الصَّلَاةِ قُلْتُ نَعَمْ قَالَ تِلْكَ شَاةُ لَحْمٍ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ عِنْدَنَا عَنَاقًا جَذَعَةً هِيَ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ مُسِنَّةٍ قَالَ تُجْزِئُ عَنْهُ وَلَا تُجْزِئُ عَنْ أَحَدٍ بَعْدَهُ

حضرت ابوبردہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ انہوں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! ہم نے اپنی بکری کو بہت جلدی ذبح کر لیا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا نماز عید سے بھی پہلے؟ میں نے اثبات میں جواب دیا تو فرمایا کہ یہ تو گوشت والی بکری ہوئی، عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! ہمارے پاس ایک چھ ماہ کا بچھ ہے جو پورے سال کے جانور سے زیادہ ہماری نگاہوں میں عمدہ ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہاری طرف سے کافی ہو جائے گا لیکن تمہارے بعد کسی کی طرف سے وہ کفایت نہیں کر سکے گا۔

خَالِهِ أَبِي بُرْدَةَ أَنَّهُ ← الْبَرَاءِ، ← أَبِي إِسْحَاقَ ← اِسْرَائِیْلُ ← حَجَّاجٌ وحُجَيْنٌ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16599

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16600

قَالَ حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ قَالَ حَدَّثَنَا لَيْثٌ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ قَالَ حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِي بُرْدَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ لَا يُجْلَدُ فَوْقَ عَشْرِ جَلَدَاتٍ إِلَّا فِي حَدٍّ مِنْ حُدُودِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ

حضرت ابوبردہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا حدود اللہ کے علاوہ کسی سزا میں دس سے زیادہ کوڑے نہ مارے جائیں۔

أَبِي بُرْدَةَ، ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ← سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، ← بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ، ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ← ليث يعني ابن سعد ← حجاج،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16600

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16601

قَالَ حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ عَنْ عَمْرٍو أَنَّ بُكَيْرًا حَدَّثَهُ قَالَ بَيْنَمَا أَنَا جَالِسٌ عِنْدَ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ إِذْ جَاءَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ يُحَدِّثُ سُلَيْمَانَ ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْنَا سُلَيْمَانُ فَقَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ جَابِرٍ أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا بُرْدَةَ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا تَجْلِدُوا فَوْقَ عَشَرَةَ أَسْوَاطٍ إِلَّا فِي حَدٍّ مِنْ حُدُودِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ كَذَا قَالَ لَنَا فِيهِ قَالَ أَبِي وَأَنَا أَذْهَبُ إِلَيْهِ يَعْنِي الْحَدِيثَ يَعْنِي حَدِيثَ أَبِي بُرْدَةَ بْنِ نِيَارٍ

حضرت ابوبردہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ حدود اللہ کے علاوہ کسی سزا میں دس سے زیادہ کوڑے نہ مارے جائیں۔

عَمْرٍو، ← عَبْدِ اللهِ بْنِ وَهْبٍ ← مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16601

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16602

قَالَ حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ عَنْ بُكَيْرٍ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا بُرْدَةَ بْنَ نِيَارٍ الْأَنْصَارِيَّ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا تَجْلِدُوا فَوْقَ عَشَرَةَ أَسْوَاطٍ إِلَّا فِي حَدٍّ مِنْ حُدُودِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ

حضرت ابوبردہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ حدود اللہ کے علاوہ کسی سزا میں دس سے زیادہ کوڑے نہ مارے جائیں ۔

رَسُولِ اللَّهِ ← أَبَا بُرْدَةَ بْنَ نِيَارٍ الْأَنْصَارِيَّ ← أَنَّهُ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ أَبَاهُ ← سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، ← بُكَيْرٍ، ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ وَهْبٍ ← سُرَيْجٌ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16602

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16603

قَالَ حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ عَمْرٍو الْكَلْبِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عِيسَى عَنْ جُمَيْعٍ أَوْ أَبِي جُمَيْعٍ عَنْ خَالِهِ أَبِي بُرْدَةَ بْنِ نِيَارٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى طَعَامًا فَأَدْخَلَ يَدَهُ فِيهِ فَرَأَى غَيْرَ ذَلِكَ فَقَالَ لَيْسَ مِنَّا مَنْ غَشَّنَا

حضرت ابوبردہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ راستے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کے غلے میں ہاتھ ڈال کر باہر نکالا تو اس میں دھوکہ نظر آیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ شخص ہم میں سے نہیں ہے جو ہمیں دھوکہ دے۔

خَالِهِ أَبِي بُرْدَةَ بْنِ نِيَارٍ ← جُمَيْعٍ أَوْ أَبِي جُمَيْعٍ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ عِيسَی ← شَرِيکٍ ← سُوَيْد بْنُ عَمْرٍو الْكَلْبِيُّ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16603

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16604

قَالَ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ قَالَ حَدَّثَنِي بُشَيْرُ بْنُ يَسَارٍ مَوْلَى بَنِي حَارِثَةَ عَنْ أَبِي بُرْدَةَ بْنِ نِيَارٍ قَالَ شَهِدْتُ الْعِيدَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَخَالَفَتْ امْرَأَتِي حَيْثُ غَدَوْتُ إِلَى الصَّلَاةِ إِلَى أُضْحِيَّتِي فَذَبَحَتْهَا وَصَنَعَتْ مِنْهَا طَعَامًا قَالَ فَلَمَّا صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَانْصَرَفْتُ إِلَيْهَا جَاءَتْنِي بِطَعَامٍ قَدْ فُرِغَ مِنْهُ فَقُلْتُ أَنَّى هَذَا قَالَتْ أُضْحِيَّتُكَ ذَبَحْنَاهَا وَصَنَعْنَا لَكَ مِنْهَا طَعَامًا لِتَغَدَّى إِذَا جِئْتَ قَالَ فَقُلْتُ لَهَا وَاللَّهِ لَقَدْ خَشِيتُ أَنْ يَكُونَ هَذَا لَا يَنْبَغِي قَالَ فَجِئْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ لَيْسَتْ بِشَيْءٍ مَنْ ذَبَحَ قَبْلَ أَنْ نَفْرُغَ مِنْ نُسُكِنَا فَلَيْسَ بِشَيْءٍ فَضَحِّ قَالَ فَالْتَمَسْتُ مُسِنَّةً فَلَمْ أَجِدْهَا قَالَ فَجِئْتُهُ فَقُلْتُ وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَقَدْ الْتَمَسْتُ مُسِنَّةً فَمَا وَجَدْتُهَا قَالَ فَالْتَمِسْ جَذَعًا مِنْ الضَّأْنِ فَضَحِّ بِهِ قَالَ فَرَخَّصَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْجَذَعِ مِنْ الضَّأْنِ فَضَحَّى بِهِ حَيْثُ لَمْ يَجِدْ الْمُسِنَّةَ

حضرت ابوبردہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے عید کی نماز نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ پڑھی، پیچھے سے میری بیوی نے قربانی کا جانور پکڑ کر اسے ذبح کر لیا، اور اس کا کھانا تیار کر لیا، نماز سے فارغ ہو کر جب میں گھر پہنچا تو وہ کھانے کی چیزیں لے کر آئی، میں نے اس سے پوچھا یہ کہاں سے آیا؟ اس نے کہا ہم نے قربانی کا جانور ذبح کر کے آپ کے لئے کھانا تیار کر لیا تاکہ واپس آکر آپ ناشتہ کر سکیں ، میں نے اس سے کہا کہ مجھے خطرہ ہے کہ اس طرح کرنا صحیح نہ ہوگا، چنانچہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور سارا واقعہ بتایا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قربانی نہیں ہوئی، جو شخص ہماری نماز سے فارغ ہونے سے قبل ہی جانور ذبح کر لے اس کی قربانی نہیں ہوئی ، لہذا تم دوبارہ قربانی کرو، میں نےجب سال بھر کا جانور تلاش کیا تو وہ مجھے ملا نہیں ، لہذا میں نے دوبارہ حاضر ہو کر عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! واللہ میں نے مسنہ تلاش کیا ہے لیکن مجھے مل نہیں رہا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر بھیڑ کا چھ ماہ کا بچہ تلاش کر کے اسی کی قربانی کر لو، یا یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے ان کے لئے رخصت تھی۔

أَبِي بُرْدَةَ بْنِ نِيَارٍ ← بُشَيْرُ بْنُ يَسَارٍ، مَوْلَى بَنِي حَارِثَةَ، ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبِي ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16604

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16605

قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ الْمُقْرِئُ قَالَ أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ قَالَ حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِي بُرْدَةَ بْنِ نِيَارٍ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا يُجْلَدُ فَوْقَ عَشَرَةِ أَسْوَاطٍ فِيمَا دُونَ حَدٍّ مِنْ حُدُودِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ كَذَا قَالَ لَنَا لَمْ يَقُلْ عَنْ أَبِيهِ

حضرت ابوبردہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ حدود اللہ کے علاوہ کسی سزا میں دس سے زیادہ کوڑے نہ مارے جائیں۔

أَبِي بُرْدَةَ بْنِ نِيَارٍ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ← سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، ← بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ، ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ ← عَبْدُ اللَّهِ الْمُقْرِئُ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16605

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16606

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عُمَيْسٍ عَنْ إِيَاسِ بْنِ سَلَمَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ بَارَزْتُ رَجُلًا فَقَتَلْتُهُ فَنَفَّلَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَلَبَهُ

حضرت سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروہ ہے کہ ایک مرتبہ میں نے ایک شخص کو مقابلہ کی دعوت دی اور اسے قتل کر دیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا سارا سازوسامان مجھے انعام میں بخش دیا۔

بَارَزْتُ رَجُلًا فَقَتَلْتُهُ فَنَفَّلَنِي رَسُولُ اللَّهِ سَلَبَهُ ← أَبِيهِ ← إِيَاسِ بْنِ سَلَمَةَ ← أَبُو عُمَيْسٍ ← وَكِيعٌ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16606

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16607

قَالَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ قَالَ حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ عَنْ إِيَاسِ بْنِ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى رَجُلًا يَأْكُلُ بِشِمَالِهِ فَقَالَ كُلْ بِيَمِينِكَ فَقَالَ لَا أَسْتَطِيعُ فَقَالَ لَا اسْتَطَعْتَ قَالَ فَمَا رَجَعَتْ إِلَيْهِ

حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو بائیں ہاتھ سے کھانا کھاتے ہوئے دیکھا تو فرمایا دائیں ہاتھ سے کھاؤ، اس نے کہا کہ میں دائیں ہاتھ سے کھانے کی طاقت نہیں رکھتا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تجھے اس کی توفیق نہ ہو، چنانچہ اس کے بعد اس کا داہنا ہاتھ اس کے منہ تک نہیں جا سکا۔

أَبِيهِ ← إِيَاسُ بْنُ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ، ← عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ← وَكِيعٌ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16607

chevron_left Previous
1…192021…232
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    0. Chapter
2. Book
    0. Chapter
3. Book
    0. Chapter
4. Book
    0. Chapter
5. Book
    0. Chapter
6. Book
    0. Chapter
7. Book
    0. Chapter
8. Book
    0. Chapter
9. Book
    0. Chapter