Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Friday, Jumada I 6, 1448 AH · Oct 16, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند امام احمد بن حنبل

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble

by Musnad Imam Bin Hanble

28,221 Hadith18 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16062

حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَالْحَكَمُ بْنُ مُوسَى قَالَا حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ عَنْ ذِي الْجَوْشَنِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ

حضرت ذی الجوشن کہتے ہیں کہ قبول اسلام سے قبل میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اس وقت حاضر ہوا جب آپ اہل بدر سے فراغت پاچکے تھے میں اپنے ساتھ اپنے گھوڑے کا بچہ لے کر آیا تھا میں نے آکر کہا اے محمد میں آپ کے پاس اپنے گھوڑے کا بچہ لے کر آیا ہوں تاکہ آپ اسے خرید لیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا فی الحال مجھے اس کی کوئی ضرورت نہیں ہے البتہ اگر تم چاہو تو میں اس کے بدلے میں تمہیں بدری زرہیں دے سکتا ہوں میں نے کہا آج تو میں کسی غلام کے بدلے میں بھی یہ گھوڑا نہیں دوں گا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر مجھے بھی اس کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ پھر فرمایا اے ذی الجوشن تم مسلمان کیوں نہیں ہوجاتے کہ اس دین کے ابتدائی لوگوں میں تم بھی شامل ہوجاؤ میں نے عرض کیا نہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ کیوں میں نے عرض کیا میں نے دیکھاہے کہ آپ کی قوم نے آپ کا حق مارا ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ تمہیں اہل بدر کے مقتولین کے حوالے سے کچھ معلوم نہیں ہے میں نے عرض کیا مجھے معلوم ہے کیا آپ مکہ مکرمہ پر غالب آکر اسے جھکاسکیں گے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تم زندہ رہے تو وہ دن ضرور دیکھوگے۔ پھر حضرت بلال سے فرمایا کہ ان کاتھیلا لے کر عجوہ کھجوروں سے بھردو تاکہ زادراہ رہے جب میں پشت پھیر کر واپس جانے لگا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ بنوعامر میں سب سے بہتر ہے میں ابھی اپنے اہل خانہ کے ساتھ غوز میں ہی تھا کہ ایک سوارآیا میں نے پوچھا کہ کہاں جارہے ہو اس نے کہا مکہ مکرمہ سے آرہاہوں میں نے پوچھا کہ لوگوں کے کیا حالات ہیں اس نے بتایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان پر غالب آگئے ہیں میں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا اگر میں اسی دن مسلمان ہوجاتا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے حیرہ نامی شہر بھی مانگتا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم وہ مجھے دیدیتے۔

النَّبِيِّ نَحْوَهُ ← ذِي الْجَوْشَنِ ← جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← عِيسَى بْنُ يُونُسَ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَالْحَكَمُ بْنُ مُوسَى ← عَبْدُ اللَّهِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16062

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16062.1

قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ ذِي الْجَوْشَنِ أَبِي شِمْرٍ الضِّبَابِيِّ نَحْوَ هَذَا الْحَدِيثِ قَالَ سُفْيَانُ فَكَانَ ابْنُ ذِي الْجَوْشَنِ جَارًا لِأَبِي إِسْحَاقَ لَا أُرَاهُ إِلَّا سَمِعَهُ مِنْهُ

حضرت ذی الجوشن کہتے ہیں کہ قبول اسلام سے قبل میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اس وقت حاضر ہوا جب آپ اہل بدر سے فراغت پاچکے تھے میں اپنے ساتھ اپنے گھوڑے کا بچہ لے کر آیا تھا میں نے آکر کہا اے محمد میں آپ کے پاس اپنے گھوڑے کا بچہ لے کر آیا ہوں تاکہ آپ اسے خرید لیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا فی الحال مجھے اس کی کوئی ضرورت نہیں ہے البتہ اگر تم چاہو تو میں اس کے بدلے میں تمہیں بدری زرہیں دے سکتا ہوں میں نے کہا آج تو میں کسی غلام کے بدلے میں بھی یہ گھوڑا نہیں دوں گا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر مجھے بھی اس کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ پھر فرمایا اے ذی الجوشن تم مسلمان کیوں نہیں ہوجاتے کہ اس دین کے ابتدائی لوگوں میں تم بھی شامل ہوجاؤ میں نے عرض کیا نہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ کیوں میں نے عرض کیا میں نے دیکھاہے کہ آپ کی قوم نے آپ کا حق مارا ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ تمہیں اہل بدر کے مقتولین کے حوالے سے کچھ معلوم نہیں ہے میں نے عرض کیا مجھے معلوم ہے کیا آپ مکہ مکرمہ پر غالب آکر اسے جھکاسکیں گے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تم زندہ رہے تو وہ دن ضرور دیکھوگے۔ پھر حضرت بلال سے فرمایا کہ ان کاتھیلا لے کر عجوہ کھجوروں سے بھردو تاکہ زادراہ رہے جب میں پشت پھیر کر واپس جانے لگا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ بنوعامر میں سب سے بہتر ہے میں ابھی اپنے اہل خانہ کے ساتھ غوز میں ہی تھا کہ ایک سوارآیا میں نے پوچھا کہ کہاں جارہے ہو اس نے کہا مکہ مکرمہ سے آرہاہوں میں نے پوچھا کہ لوگوں کے کیا حالات ہیں اس نے بتایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان پر غالب آگئے ہیں میں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا اگر میں اسی دن مسلمان ہوجاتا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے حیرہ نامی شہر بھی مانگتا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم وہ مجھے دیدیتے۔

ذِي الْجَوْشَنِ أَبِي شِمْرٍ الضِّبَابِيِّ نَحْوَ هَذَا الْحَدِيثِ ← أَبِي إِسْحَاقَ ← سُفْيَانَ، ← مُحَمَّدِ بْنِ عَبَّادٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16062.1

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16063

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا أَبَانُ الْعَطَّارُ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ أَنَّهُ طَبَخَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قِدْرًا فِيهِ لَحْمٌ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَاوِلْنِي ذِرَاعَهَا فَنَاوَلْتُهُ فَقَالَ نَاوِلْنِي ذِرَاعَهَا فَنَاوَلْتُهُ فَقَالَ نَاوِلْنِي ذِرَاعَهَا فَقَالَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ كَمْ لِلشَّاةِ مِنْ ذِرَاعٍ قَالَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْ سَكَتَّ لَأَعْطَتْكَ ذِرَاعًا مَا دَعَوْتَ بِهِ

حضرت ابوعبید سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے ایک ہنڈیا میں گوشت پکایا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے اس کی دستی نکال کردو چنانچہ میں نے نکال کردی تھوڑی دیر بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسری تیسری طلب فرمائی میں نے وہ بھی دیدی تھوڑی دیر بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر طلب فرمائی میں نے عرض کیا اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک بکری کی کتنی دستیاں ہوتی ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے اگر تم خاموش رہتے تو اس ہنڈیا سے اس وقت تک دستیاں نکلتی رہتیں جب تک تم اسے نکالتے رہتے۔

يَا نَبِيَّ اللَّهِ كَمْ لِلشَّاةِ مِنْ ذِرَاعٍ ← «نَاوِلْنِي ذِرَاعَهَا» ← «نَاوِلْنِي ذِرَاعَهَا» فَنَاوَلْتُهُ، ← رَسُولُ اللَّهِ «نَاوِلْنِي ذِرَاعَهَا» فَنَاوَلْتُهُ، ← أَبِي عُبَيْدٍ أَنَّهُ طَبَخَ لِرَسُولِ اللَّهِ قِدْرًا فِيهِ لَحْمٌ ← شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ← قَتَادَةَ ← أَبَانُ الْعَطَّارُ ← عَفَّانُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16063

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16064

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ عَمَّارٍ قَالَ حَدَّثَنِي الْهِرْمَاسُ بْنُ زِيَادٍ الْبَاهِلِيُّ قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ عَلَى رَاحِلَتِهِ يَوْمَ النَّحْرِ بِمِنًي

حضرت ہرماس بن زیاد سے مروی ہے کہ میں نے دس ذی الحجہ کے دن میدان منی میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو خطبہ دیتے ہوئے دیکھا ہے۔

رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ يَخْطُبُ عَلَى رَاحِلَتِهِ يَوْمَ النَّحْرِ بِمِنًي ← الْهِرْمَاسُ بْنُ زِيَادٍ الْبَاهِلِيُّ ← عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16064

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16065

حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ وَهُوَ الْعِجْلِيُّ حَدَّثَنَا الْهِرْمَاسُ بْنُ زِيَادٍ الْبَاهِلِيُّ قَالَ كُنْتُ رِدْفَ أَبِي يَوْمَ الْأَضْحَى وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ عَلَى نَاقَتِهِ بِمِنًى

حضرت ہرماس بن زیاد سے مروی ہے کہ میں نے دس ذی الحجہ کو میدان منی میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی اونٹنی پر خطبہ دیتے ہوئے دیکھا ہے اس وقت میں اپنے والد کے پیچھے سواری پر بیٹھا ہوا تھا۔

كُنْتُ رِدْفَ أَبِي يَوْمَ الْأَضْحَى وَرَسُولُ اللَّهِ يَخْطُبُ عَلَى نَاقَتِهِ بِمِنًى ← الْهِرْمَاسُ بْنُ زِيَادٍ الْبَاهِلِيُّ ← عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ وَهُوَ الْعِجْلِيُّ ← هاشم بن القاسم

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16065

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16066

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَاقِدٍ قَالَ أَخْبَرَنِي عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ عَنِ الْهِرْمَاسِ قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي عَلَى بَعِيرٍ نَحْوَ الشَّامِ

حضرت ہرماس سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو شام کی جانب رخ کرکے اپنے اونٹ پر نفلی نماز پرھتے ہوئے دیکھا ہے۔

رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ يُصَلِّي عَلَى بَعِيرٍ نَحْوَ الشَّامِ ← الْهِرْمَاسِ ← عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ وَاقِدٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16066

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16067

حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عِمْرَانَ بْنِ أَبِي عَلِيٍّ أَبُو مُحَمَّدٍ مِنْ أَهْلِ الرَّيِّ وَكَانَ أَصْلُهُ أَصْبَهَانِيًّا قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ الضُّرَيْسِ قَالَ حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ عَنْ هِرْمَاسٍ قَالَ كُنْتُ رِدْفَ أَبِي فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى بَعِيرٍ وَهُوَ يَقُولُ لَبَّيْكَ بِحَجَّةٍ وَعُمْرَةٍ مَعًا

حضرت ہرماس سے مروی ہے کہ میں اپنے والد صاحب کے پیچھے بیٹھا ہوا تھا میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اونٹ پر سوار دیکھا اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم یوں فرما رہے تھے لبیک بحجۃ وعمرۃ معا۔

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16067

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16068

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زُرَارَةَ السَّهْمِيُّ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ جَدِّي الْحَارِثِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّهُ لَقِيَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ فَقُلْتُ بِأَبِي أَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ اسْتَغْفِرْ لِي قَالَ غَفَرَ اللَّهُ لَكُمْ قَالَ وَهُوَ عَلَى نَاقَتِهِ الْعَضْبَاءِ قَالَ فَاسْتَدَرْتُ لَهُ مِنْ الشِّقِّ الْآخَرِ أَرْجُو أَنْ يَخُصَّنِي دُونَ الْقَوْمِ فَقُلْتُ اسْتَغْفِرْ لِي قَالَ غَفَرَ اللَّهُ لَكُمْ قَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ الْفَرَائِعُ وَالْعَتَائِرُ قَالَ مَنْ شَاءَ فَرَّعَ وَمَنْ شَاءَ لَمْ يُفَرِّعْ وَمَنْ شَاءَ عَتَرَ وَمَنْ شَاءَ لَمْ يَعْتِرْ فِي الْغَنَمِ أُضْحِيَّةٌ ثُمَّ قَالَ أَلَا إِنَّ دِمَاءَكُمْ وَأَمْوَالَكُمْ عَلَيْكُمْ حَرَامٌ كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا فِي بَلَدِكُمْ هَذَا وَقَالَ عَفَّانُ مَرَّةً حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ زُرَارَةَ السَّهْمِيُّ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ جَدِّهِ الْحَارِثِ

حضرت حارث بن عمرو سے مروی ہے کہ حجۃ الوداع کے موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات ہوئی تو میں نے عرض کیا یا رسول اللہ میرے باپ آپ پر قربان ہوں میرے لئے بخشش کی دعا فرمادیجیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تم سب کی بخشش فرمائے اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم عضباء نامی اونٹنی پر سوار تھے میں گھوم کر دوسری جانب آیا اس امید پر کہ شاید نبی صلی اللہ علیہ وسلم خصوصیت کےساتھ میرے لئے دعا فرمائیں اور دوبارہ عرض کیا کہ میرے لئے بخشش کی دعا فرما دیجیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پھریہی فرمایا کہ اللہ تم سب کی بخشش فرمائے۔ اسی دوران ایک آدمی نے پوچھا یا رسول اللہ جانور کا پہلا بچہ ذبح کرنے یارجب کے مہینے میں قربانی کرنے کا کیا حکم ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جوجانور کا پہلابچہ ذبح کرنا چاہے وہ کرلے اور جونہ چاہے وہ نہ کرے اسی طرح جو شخص ماہ رجب میں قربانی کرنا چاہے کرلے اور جونہ چاہے وہ نہ کرے البتہ بکری میں بھی قربانی ہوتی ہے پھر فرمایا کہ یاد رکھو تمہاری جان مال ایک دوسرے کے لئے اسی طرح قابل احترام ہیں جیسے اس شہر میں اس دن کی حرمت ہے۔

أَبِي ← يَحْيَى بْنُ زُرَارَةَ السَّهْمِيُّ ← عَفَّانُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16068

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16069

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ قَالَ حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ السَّبَّاقِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ قَالَ كُنْتُ أَلْقَى مِنْ الْمَذْيِ شِدَّةً فَكُنْتُ أُكْثِرُ الِاغْتِسَالَ مِنْهُ فَسَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ إِنَّمَا يُجْزِئُكَ مِنْهُ الْوُضُوءُ فَقُلْتُ كَيْفَ بِمَا يُصِيبُ ثَوْبِي فَقَالَ يَكْفِيكَ أَنْ تَأْخُذَ كَفًّا مِنْ مَاءٍ فَتَمْسَحَ بِهَا مِنْ ثَوْبِكَ حَيْثُ تَرَى أَنَّهُ أَصَابَ

حضرت سہل بن حنیف سے مروی ہے کہ مجھے کثرت سے خروج مذی کامرض تھا جس کی بناء پر مجھے کثرت سے غسل بھی کرنا پڑتا تھا ایک دن میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق پوچھا تو آپ نے فرمایا تمہارے لئے وضو ہی کافی ہے میں نے پوچھا کہ اس کے جوقطرے کپڑوں کو لگ جائیں فرمایا اس کے لئے اتناہی کافی ہے کہ ہتھیلی میں پانی بھرو اور جہاں اس کے نشانات دیکھو اس پر چھڑک دو۔

إِنَّمَا يُجْزِئُكَ مِنْهُ الْوُضُوءُ فَقُلْتُ كَيْفَ بِمَا يُصِيبُ ثَوْبِي ← ذَلِكَ ← كُنْتُ أَلْقَى مِنَ الْمَذْيِ شِدَّةً فَكُنْتُ أُكْثِرُ الاغْتِسَالَ مِنْهُ فَسَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ ← سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ ← أَبِيهِ ← سَعِيدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ السَّبَّاقِ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16069

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16070

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ قَالَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي وَائِلٍ قَالَ قَالَ سَهْلُ بْنُ حُنَيْفٍ اتَّهِمُوا رَأْيَكُمْ فَلَقَدْ رَأَيْتُنَا يَوْمَ أَبِي جَنْدَلٍ وَلَوْ نَسْتَطِيعُ أَنْ نَرُدَّ أَمْرَهُ لَرَدَدْنَاهُ وَاللَّهِ مَا وَضَعْنَا سُيُوفَنَا عَنْ عَوَاتِقِنَا مُنْذُ أَسْلَمْنَا لِأَمْرٍ يُفْظِعُنَا إِلَّا أَسْهَلَ بِنَا إِلَى أَمْرٍ نَعْرِفُهُ إِلَّا هَذَا الْأَمْرَ مَا سَدَدْنَا خَصْمًا إِلَّا انْفَتَحَ لَنَا خَصْمٌ آخَرُ

حضرت سہل بن حنیف سے مروی ہے کہ اپنی رائے کو ہمیشہ صحیح نہ سمجھا کرو میں نے ابوجندل والا دن دیکھا ہے اگر ہم میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی حکم کو ٹالنے کی ہمت ہوتی تو اس دن ٹال دیتے واللہ اسلام قبول کرنے کے بعد جب بھی ہم نے کسی پریشان کن معاملے میں اپنے کندھوں سے تلواریں اتاریں وہ ہمارے لئے آسان ہوگیا سوائے اس معاملے کے کہ جب بھی ہم ایک فریق کا راستہ بند کرتے ہیں تو دوسرے کا راستہ کھل جاتا ہے ۔

أَبِي وَائِلٍ ← الْاَعْمَشِ ← سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16070

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16071

حَدَّثَنَا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ سِيَاهٍ عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ قَالَ أَتَيْتُ أَبَا وَائِلٍ فِي مَسْجِدِ أَهْلِهِ أَسْأَلُهُ عَنْ هَؤُلَاءِ الْقَوْمِ الَّذِينَ قَتَلَهُمْ عَلِيٌّ بِالنَّهْرَوَانِ فَفِيمَا اسْتَجَابُوا لَهُ وَفِيمَا فَارَقُوهُ وَفِيمَا اسْتَحَلَّ قِتَالَهُمْ قَالَ كُنَّا بِصِفِّينَ فَلَمَّا اسْتَحَرَّ الْقَتْلُ بِأَهْلِ الشَّامِ اعْتَصَمُوا بِتَلٍّ فَقَالَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ لِمُعَاوِيَةَ أَرْسِلْ إِلَى عَلِيٍّ بِمُصْحَفٍ وَادْعُهُ إِلَى كِتَابِ اللَّهِ فَإِنَّهُ لَنْ يَأْبَى عَلَيْكَ فَجَاءَ بِهِ رَجُلٌ فَقَالَ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ كِتَابُ اللَّهِ أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ أُوتُوا نَصِيبًا مِنْ الْكِتَابِ يُدْعَوْنَ إِلَى كِتَابِ اللَّهِ لِيَحْكُمَ بَيْنَهُمْ ثُمَّ يَتَوَلَّى فَرِيقٌ مِنْهُمْ وَهُمْ مُعْرِضُونَ فَقَالَ عَلِيٌّ نَعَمْ أَنَا أَوْلَى بِذَلِكَ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ كِتَابُ اللَّهِ قَالَ فَجَاءَتْهُ الْخَوَارِجُ وَنَحْنُ نَدْعُوهُمْ يَوْمَئِذٍ الْقُرَّاءَ وَسُيُوفُهُمْ عَلَى عَوَاتِقِهِمْ فَقَالُوا يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ مَا نَنْتَظِرُ بِهَؤُلَاءِ الْقَوْمِ الَّذِينَ عَلَى التَّلِّ أَلَا نَمْشِي إِلَيْهِمْ بِسُيُوفِنَا حَتَّى يَحْكُمَ اللَّهُ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُمْ فَتَكَلَّمَ سَهْلُ بْنُ حُنَيْفٍ فَقَالَ يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّهِمُوا أَنْفُسَكُمْ فَلَقَدْ رَأَيْتُنَا يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ يَعْنِي الصُّلْحَ الَّذِي كَانَ بَيْنَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبَيْنَ الْمُشْرِكِينَ وَلَوْ نَرَى قِتَالًا لَقَاتَلْنَا فَجَاءَ عُمَرُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَسْنَا عَلَى الْحَقِّ وَهُمْ عَلَى بَاطِلٍ أَلَيْسَ قَتْلَانَا فِي الْجَنَّةِ وَقَتْلَاهُمْ فِي النَّارِ قَالَ بَلَى قَالَ فَفِيمَ نُعْطِي الدَّنِيَّةَ فِي دِينِنَا وَنَرْجِعُ وَلَمَّا يَحْكُمِ اللَّهُ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُمْ فَقَالَ يَا ابْنَ الْخَطَّابِ إِنِّي رَسُولُ اللَّهِ وَلَنْ يُضَيِّعَنِي أَبَدًا قَالَ فَرَجَعَ وَهُوَ مُتَغَيِّظٌ فَلَمْ يَصْبِرْ حَتَّى أَتَى أَبَا بَكْرٍ فَقَالَ يَا أَبَا بَكْرٍ أَلَسْنَا عَلَى حَقٍّ وَهُمْ عَلَى بَاطِلٍ أَلَيْسَ قَتْلَانَا فِي الْجَنَّةِ وَقَتْلَاهُمْ فِي النَّارِ قَالَ بَلَى قَالَ فَفِيمَ نُعْطِي الدَّنِيَّةَ فِي دِينِنَا وَنَرْجِعُ وَلَمَّا يَحْكُمِ اللَّهُ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُمْ فَقَالَ يَا ابْنَ الْخَطَّابِ إِنَّهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَنْ يُضَيِّعَهُ اللَّهُ أَبَدًا قَالَ فَنَزَلَتْ سُورَةُ الْفَتْحِ قَالَ فَأَرْسَلَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى عُمَرَ فَأَقْرَأَهَا إِيَّاهُ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَفَتْحٌ هُوَ قَالَ نَعَمْ

حبیب بن ابی ثابت کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں ابووائل کے پاس ان کے گھر کی مسجد میں آیا تاکہ ان سے ان لوگوں کے متعلق پوچھ سکوں جنہیں حضرت علی نے نہروان کے مقام پر قتل کیا تھا انہوں نے حضرت علی کی کون سی بات مانی کس میں اختلاف کیا۔ اور حضرت علی نے کس بناء پر ان سے قتال کو جائز سمجھا وہ کہنے لگے کہ ہم لوگ صفین میں تھے جب اہل شام کے مقتولین کی تعداد زیادہ بڑھنے لگی تو وہ ایک ٹیلے پر چڑھ گئے اور حضرت عمرو بن عاص نے حضرت امیر معاویہ سے کہا کہ آپ حضرت علی کے پاس قرآن کریم کا ایک نسخہ بھیجیے اور انہیں کتاب اللہ کی دعوت دیجیے وہ آپ کی بات سے کسی صورت انکار نہیں کریں گے۔ چنانچہ حضرت علی کے پاس ایک آدمی یہ پیغام لے کر آیا اور کہنے لگا کہ ہمارے اور تمہارے درمیان کتاب اللہ ثالث ہے اور یہ آیت پڑھی کیا آپ نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جنہیں کتاب کا کچھ حصہ دیا گیا وہ انہیں کتاب اللہ کی طرف دعوت دیتے ہیں تاکہ وہ ان کے درمیان فیصلہ کرنے کا زیادہ حق دارہوں ہمارے اور تمہارے درمیان کتاب اللہ ثالث ہے اس کے بعد خوارج جنہیں ہم اس وقت قراء کہتے تھے حضرت علی کے پاس اپنے کندھوں پر تلواریں لٹکائے ہوئے آئے اور کہنے لگے کہ اے امیر المومنین یہ لوگ جوٹیلے پر ہیں ان کے متعلق ہم کس چیز کا انتظار کررہے ہیں کیا ہم ان پر اپنی تلواریں لے کر حملہ نہ کردے یہاں تک کہ اللہ ہمارے اور ان کے درمیان فیصلہ کردے۔ اس پر حضرت سہل بن حنیف بولے اور کہنے لگے اے لوگو اپنے آپ کو ہمیشہ صحیح مت سمجھا کرو ہم نے حدیبیہ کا وہ دن بھی دیکھا ہے جس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور مشرکین کے درمیان صلح ہوئی تھی اگر ہم جنگ کرنا چاہتے تو کر سکتے تھے اسی دوران حضرت عمر بارگاہ رسالت میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے یا رسول اللہ کیا ہم حق پر ہیں اور وہ باطل پر نہیں ہیں کیا ہمارے مقتول جنت میں اور ان کے مقتول جہنم میں نہیں جائیں گے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیوں نہیں وہ کہنے لگے کہ پھر ہم اپنے دین کے معاملے میں دب کر صلح کیوں کریں اور اسی طرح واپس لوٹ جائیں کہ اللہ نے ابھی تک ہمارے اور ان کے درمیان کوئی فیصلہ ہی نہیں کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے ابن خطاب میں اللہ کا پیغمبر ہوں وہ مجھے کبھی بھی ضائع نہیں کرے گا۔ حضرت عمر اسی طرح غصے کی حالت میں واپس چلے گئے اور ان سے صبر نہ ہوسکا وہ حضرت ابوبکر کے پاس پہنچے اور ان سے بھی یہی سوال وجواب ہوئے حضرت صدیق اکبر نے فرمایا وہ اللہ کے رسول ہیں اور اللہ انہیں کبھی بھی ضائع نہیں کرے گا اس کے بعد سورت فتح نازل ہوئی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حضرت عمر کے پاس بھیجا اور انہیں یہ سورت پڑھ کر سنائی حضرت عمر کہنے لگے یا رسول اللہ کیا یہ فتح ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں ۔

حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ سِيَاهٍ ← يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16071

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16072

حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ قَالَ أَنْبَأَنَا الْعَوَّامُ قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو إِسْحَاقَ الشَّيْبَانِيُّ عَنْ يُسَيْرِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَلِيَّةُ قَوْمٍ قِبَلَ الْمَشْرِقِ مُحَلَّقَةٌ رُءُوسُهُمْ وَسُئِلَ عَنْ الْمَدِينَةِ فَقَالَ حَرَامٌ آمِنٌ حَرَامٌ آمِنٌ

حضرت سہل بن حنیف سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا مشرق کی طرف سے ایک قوم آئے گی جو بھٹکتی پھرے گی اور ان کے سرمنڈے ہوئے ہوں گے کسی نے مدینہ منورہ کے متعلق پوچھا تو فرمایا کہ وہ حرم ہے اور امن وامان والا ہے۔

سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ ← يُسَيْرِ بْنِ عَمْرٍو ← أَبُو إِسْحَاقَ الشَّيْبَانِيُّ ← العوام ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16072

chevron_left Previous
1…196197198…232
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    0. Chapter
2. Book
    0. Chapter
3. Book
    0. Chapter
4. Book
    0. Chapter
5. Book
    0. Chapter
6. Book
    0. Chapter
7. Book
    0. Chapter
8. Book
    0. Chapter
9. Book
    0. Chapter