Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Friday, Jumada I 6, 1448 AH · Oct 16, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند امام احمد بن حنبل

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble

by Musnad Imam Bin Hanble

28,221 Hadith18 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16050

حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو الْمُنْذِرِ سَلَّامُ بْنُ سُلَيْمَانَ النَّحْوِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ أَبِي النَّجُودِ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنِ الْحَارِثِ بْنِ يَزِيدَ الْبَكْرِيِّ قَالَ خَرَجْتُ أَشْكُو الْعَلَاءَ بْنَ الْحَضْرَمِيِّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَرَرْتُ بِالرَّبَذَةِ فَإِذَا عَجُوزٌ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ مُنْقَطِعٌ بِهَا فَقَالَتْ لِي يَا عَبْدَ اللَّهِ إِنَّ لِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَاجَةً فَهَلْ أَنْتَ مُبَلِّغِي إِلَيْهِ قَالَ فَحَمَلْتُهَا فَأَتَيْتُ الْمَدِينَةَ فَإِذَا الْمَسْجِدُ غَاصٌّ بِأَهْلِهِ وَإِذَا رَايَةٌ سَوْدَاءُ تَخْفِقُ وَبِلَالٌ مُتَقَلِّدٌ السَّيْفَ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ مَا شَأْنُ النَّاسِ قَالُوا يُرِيدُ أَنْ يَبْعَثَ عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ وَجْهًا قَالَ فَجَلَسْتُ قَالَ فَدَخَلَ مَنْزِلَهُ أَوْ قَالَ رَحْلَهُ فَاسْتَأْذَنْتُ عَلَيْهِ فَأَذِنَ لِي فَدَخَلْتُ فَسَلَّمْتُ فَقَالَ هَلْ كَانَ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَ بَنِي تَمِيمٍ شَيْءٌ قَالَ فَقُلْتُ نَعَمْ قَالَ وَكَانَتْ لَنَا الدَّبْرَةُ عَلَيْهِمْ وَمَرَرْتُ بِعَجُوزٍ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ مُنْقَطِعٌ بِهَا فَسَأَلَتْنِي أَنْ أَحْمِلَهَا إِلَيْكَ وَهَا هِيَ بِالْبَابِ فَأَذِنَ لَهَا فَدَخَلَتْ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنْ رَأَيْتَ أَنْ تَجْعَلَ بَيْنَنَا وَبَيْنَ بَنِي تَمِيمٍ حَاجِزًا فَاجْعَلْ الدَّهْنَاءَ فَحَمِيَتْ الْعَجُوزُ وَاسْتَوْفَزَتْ قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَإِلَى أَيْنَ تَضْطَرُّ مُضَرَكَ قَالَ قُلْتُ إِنَّمَا مَثَلِي مَا قَالَ الْأَوَّلُ مِعْزَاءُ حَمَلَتْ حَتْفَهَا حَمَلْتُ هَذِهِ وَلَا أَشْعُرُ أَنَّهَا كَانَتْ لِي خَصْمًا أَعُوذُ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ أَنْ أَكُونَ كَوَافِدِ عَادٍ قَالَ هِيهْ وَمَا وَافِدُ عَادٍ وَهُوَ أَعْلَمُ بِالْحَدِيثِ مِنْهُ وَلَكِنْ يَسْتَطْعِمُهُ قُلْتُ إِنَّ عَادًا قَحَطُوا فَبَعَثُوا وَافِدًا لَهُمْ يُقَالُ لَهُ قَيْلٌ فَمَرَّ بِمُعَاوِيَةَ بْنِ بَكْرٍ فَأَقَامَ عِنْدَهُ شَهْرًا يَسْقِيهِ الْخَمْرَ وَتُغَنِّيهِ جَارِيَتَانِ يُقَالُ لَهُمَا الْجَرَادَتَانِ فَلَمَّا مَضَى الشَّهْرُ خَرَجَ جِبَالَ تِهَامَةَ فَنَادَى اللَّهُمَّ إِنَّكَ تَعْلَمُ أَنِّي لَمْ أَجِئْ إِلَى مَرِيضٍ فَأُدَاوِيَهُ وَلَا إِلَى أَسِيرٍ فَأُفَادِيَهُ اللَّهُمَّ اسْقِ عَادًا مَا كُنْتَ تَسْقِيهِ فَمَرَّتْ بِهِ سَحَابَاتٌ سُودٌ فَنُودِيَ مِنْهَا اخْتَرْ فَأَوْمَأَ إِلَى سَحَابَةٍ مِنْهَا سَوْدَاءَ فَنُودِيَ مِنْهَا خُذْهَا رَمَادًا رِمْدِدًا لَا تُبْقِ مِنْ عَادٍ أَحَدًا قَالَ فَمَا بَلَغَنِي أَنَّهُ بُعِثَ عَلَيْهِمْ مِنْ الرِّيحِ إِلَّا قَدْرَ مَا يَجْرِي فِي خَاتِمِي هَذَا حَتَّى هَلَكُوا قَالَ أَبُو وَائِلٍ وَصَدَقَ قَالَ فَكَانَتْ الْمَرْأَةُ وَالرَّجُلُ إِذَا بَعَثُوا وَافِدًا لَهُمْ قَالُوا لَا تَكُنْ كَوَافِدِ عَادٍ

حضرت حارث بن حسان سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں مقام ربذہ میں ایک بوڑھی عورت کے پاس سے گذرا جو بنوتمیم سے کٹ چکی تھی اس نے پوچھا کہ تم کہاں جارہے ہو میں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف وہ کہنے لگی کہ مجھے بھی اپنے ساتھ لے چلو مجھے ان سے ایک کام ہے مدینہ پہنچ کر میں مسجد نبوی میں داخل ہوا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں میں گھرے ہوئے تھے اور اک سیاہ جھنڈا لہرا رہا تھا میں نے لوگوں سے پوچھا کہ آج کوئی خاص بات ہے لوگوں نے بتایا کہ دراصل نبی صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عمرو بن عاص کو ایک لشکر دے کر کسی طرف روانہ فرما رہے ہیں میں نے آگے بڑھ کر عرض کیا یا رسول اللہ اگر آپ مناسب سمجھیں تو ہمارے اور بنوتمیم کے درمیان حجاز کو بیان قرار دیدیں کیوکہ کبھی ایسا ہی تھا اس پر وہ بڑھیا کود کر سامنے آئی اور اس کی رگ حمیت نے جوش مارا اور کہنے لگی کہ یا رسول اللہ اپنے مضر کو آپ کہاں مجبور کریں گے میں نے عرض کیا یا رسول اللہ میں اس بڑھیا کو اٹھا کر لایا ہوں مجھے کیا خبر تھی کہ یہی مجھ سے جھگڑنے لگے گی۔ میں اللہ کی پناہ میں آتا ہوں اس بات سے کہ اس شخص کی طرح ہوجاؤں جیسے پہلوں نے کہا تھا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا پہلوں نے کیا کہا تھا میں نے عرض کیا کیا آپ نے ایک باخبر آدمی سے پوچھا لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم بیان کرو دراصل نبی صلی اللہ علیہ وسلم پوری بات سننا چاہتے تھے۔ میں نے عرض کیا قوم عاد نے اپنے ایک آدمی کو بطور وفد کے بھیجا وہ ایک مہینے تک معاویہ بن بکر کا مہمان بنا رہا وہ انہیں شراب پلاتا تھا اور دومنیوں سے گانے سنواتا تھا ایک دن وہ روانہ ہوا اور جبال مہرہ پر پہنچا اور کہنے لگا کہ اے اللہ میں اس لئے نہیں آیا کہ اس کا بدلہ چکاؤں نہ کسی بیمار کے لئے اس کا علاج کرسکوں لہذا تو اپنے بندوں کو وہ کچھ پلا جو تو پلا سکتا ہے اور معاویہ بن بکر کو ایک ماہ تک پلانے کا انتظام فرمادراصل یہ اس شراب کا شکریہ تھا جو و وہ اس کے یہاں ایک مہینہ تک پیتارہا تھا اسی اثناء میں سیاہ بادل آگئے اور کسی نے آواز دے کر کہا کہ یہ خوب بھرے ہوئے تھن والا بادل لے لو اور قوم عاد میں سے کسی ایک شخص کو بھی پیاسا نہ چھوڑو۔

الْحَارِثِ بْنِ يَزِيدَ الْبَكْرِيِّ ← أَبِي وَائِلٍ ← عَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُودِ، ← أَبُو الْمُنْذِرِ سَلَّامُ بْنُ سُلَيْمَانَ النَّحْوِيُّ ← زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16050

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16051

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ الْجُرَيْرِيُّ عَنْ أَبِي السَّلِيلِ عَنْ أَبِي تَمِيمَةَ الْهُجَيْمِيِّ قَالَ إِسْمَاعِيلُ مَرَّةً عَنْ أَبِي تَمِيمَةَ الْهُجَيْمِيِّ عَنْ رَجُلٍ مِنْ قَوْمِهِ قَالَ لَقِيتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ طُرُقِ الْمَدِينَةِ وَعَلَيْهِ إِزَارٌ مِنْ قُطْنٍ مُنْتَثِرُ الْحَاشِيَةِ فَقُلْتُ عَلَيْكَ السَّلَامُ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ إِنَّ عَلَيْكَ السَّلَامَ تَحِيَّةُ الْمَوْتَى إِنَّ عَلَيْكَ السَّلَامَ تَحِيَّةُ الْمَوْتَى إِنَّ عَلَيْكَ السَّلَامَ تَحِيَّةُ الْمَوْتَى سَلَامٌ عَلَيْكُمْ سَلَامٌ عَلَيْكُمْ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا هَكَذَا قَالَ سَأَلْتُ عَنْ الْإِزَارِ فَقُلْتُ أَيْنَ أَتَّزِرُ فَأَقْنَعَ ظَهْرَهُ بِعَظْمِ سَاقِهِ وَقَالَ هَاهُنَا اتَّزِرْ فَإِنْ أَبَيْتَ فَهَاهُنَا أَسْفَلَ مِنْ ذَلِكَ فَإِنْ أَبَيْتَ فَهَاهُنَا فَوْقَ الْكَعْبَيْنِ فَإِنْ أَبَيْتَ فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَا يُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُورٍ قَالَ وَسَأَلْتُهُ عَنْ الْمَعْرُوفِ فَقَالَ لَا تَحْقِرَنَّ مِنْ الْمَعْرُوفِ شَيْئًا وَلَوْ أَنْ تُعْطِيَ صِلَةَ الْحَبْلِ وَلَوْ أَنْ تُعْطِيَ شِسْعَ النَّعْلِ وَلَوْ أَنْ تَنْزِعَ مِنْ دَلْوِكَ فِي إِنَاءِ الْمُسْتَسْقِي وَلَوْ أَنْ تُنَحِّيَ الشَّيْءَ مِنْ طَرِيقِ النَّاسِ يُؤْذِيهِمْ وَلَوْ أَنْ تَلْقَى أَخَاكَ وَوَجْهُكَ إِلَيْهِ مُنْطَلِقٌ وَلَوْ أَنْ تَلْقَى أَخَاكَ فَتُسَلِّمَ عَلَيْهِ وَلَوْ أَنْ تُؤْنِسَ الْوُحْشَانَ فِي الْأَرْضِ وَإِنْ سَبَّكَ رَجُلٌ بِشَيْءٍ يَعْلَمُهُ فِيكَ وَأَنْتَ تَعْلَمُ فِيهِ نَحْوَهُ فَلَا تَسُبَّهُ فَيَكُونَ أَجْرُهُ لَكَ وَوِزْرُهُ عَلَيْهِ وَمَا سَرَّ أُذُنَكَ أَنْ تَسْمَعَهُ فَاعْمَلْ بِهِ وَمَا سَاءَ أُذُنَكَ أَنْ تَسْمَعَهُ فَاجْتَنِبْهُ

حضرت ابوتمیمہ ہجیمی سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ مدینہ منورہ کے کسی راستے میں میری ملاقات نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ہوگئی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت اون کا بنا ہوا تہبند جس کے کنارے پھولے ہوئے تھے باندھ رکھا تھا میں نےسلام کرتے ہوئے کہا علیک السلام یا رسول اللہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا علیک السلام تو مردوں کو سلام ہے پھر میں نے تہبند کے حوالے سے پوچھا کہ میں تہبند کہاں تک باندھا کروں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی پنڈلی کی ہڈی سے کپڑا ہٹایا اور فرمایا کہ یہاں تک باندھا کرو اگر ایسا نہیں کر سکتے تو پھر اس سے ذرا نیچے باندھ لیا کرو اگر یہ بھی نہیں کر سکتے تویہاں ٹخنوں تک باندھ لیا کرو اگر ایسابھی نہیں کرسکتے تو پھر اللہ کسی شیخی خورے متکبر کو پسند نہیں کرتا۔پھر میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے نیکی کے متعلق پوچھا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کسی نیکی کو حقیر نہ سمجھا کرو اگرچہ کسی کو ایک رسی ہی دو یا کسی کو جوتی کاتسمہ ہی دو یا اپنے ڈول میں سے کسی کو پانی مانگنے والے برتن میں پانی کھینچ کر ڈال دیا کرو یاراستے میں سے کوئی ایسی چیز دور کردو جس سے انہیں تکلیف ہو رہی ہو یا اپنے بھائی سے خندہ پیشانی سے ملو یا اپنے بھائی سے ملاقات کرکے اسے سلام کرو یا زمین میں اجنبی سمجھ جانے والوں سے انس ومحبت ظاہر کرو اور گر کوئی آدمی تمہیں گالی دے اور ایسی چیز کا طعنہ دے جس کا تمہاری ذات کے حوالے سے علم ہو اسے تو بھی اسی قسم کے کسی عیب کے بارے میں جانتے ہو تو تم اسے اس عیب کا طعنہ نہ دو یہ تمہارے لے باعث اجر اور اس کے لئے باعث وبال ہوگا اور جس چیز کو تمہارے کان سننا پسند کریں اس پر عمل کرلو اور جس چیز کو سننا تمہارے کانوں کو پسند نہ ہو اس سے اجتناب کرو۔

رجل من قومه ← أَبِي تَمِيمَةَ الْهُجَيْمِيِّ ← إِسْمَاعِيلُ مَرَّةً ← أَبِي تَمِيمَةَ الْهُجَيْمِيِّ ← أَبِي السَّلِيلِ ← سَعِیْدٍ الْجُرَیْرِیِّ، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16051

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16052

قَالَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنِ الْجُرَيْرِيِّ عَنْ أَبِي الْعَلَاءِ بْنِ الشِّخِّيرِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ صُحَارٍ الْعَبْدِيِّ عَنْ أَبِيهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يُخْسَفَ بِقَبَائِلَ فَيُقَالُ مَنْ بَقِيَ مِنْ بَنِي فُلَانٍ قَالَ فَعَرَفْتُ حِينَ قَالَ قَبَائِلَ أَنَّهَا الْعَرَبُ لِأَنَّ الْعَجَمَ تُنْسَبُ إِلَى قُرَاهَا

حضرت صحار عبدی سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا قیامت اس وقت تک قائم نہ ہوگی جب تک کچھ قبائل کو زمین میں دھنسا نہ دیا جائے اور لوگ پوچھنے لگیں فلاں قبیلے میں سے کتنے لوگ باقی بچے ہیں میں نے جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو قبائل کا ذکر کرتے ہوئے سنا تو میں سمجھ گیا کہ اس سے مراد اہل عرب ہیں کیونکہ عجمیوں کو ان کے شہروں کی طرف منسوب کیا جاتا ہے۔

أَبِيهِ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ صُحَارٍ الْعَبْدِيِّ، ← أَبِي الْعَلَاءِ بْنِ الشِّخِّيرِ؛ ← الْجُرَيْرِيِّ، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16052

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16053

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ قَالَ وَحَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ يَسَارٍ قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ صُحَارٍ الْعَبْدِيُّ عَنْ أَبِيهِ قَالَ اسْتَأْذَنْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَأْذَنَ لِي فِي جَرَّةٍ أَنْتَبِذُ فِيهَا فَرَخَّصَ لِي فِيهَا أَوْ أَذِنَ لِي فِيهَا

حضرت صحار عبدی سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی مجھے مٹکے میں نبیذ بنانے کی اجازت دیدو چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اجازت دیدی۔

أَبِيهِ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ صُحَارٍ الْعَبْدِيِّ، ← يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ، ← الضَّحَّاكِ بْنِ يَسَارٍ ← سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16053

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16054

حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عَقِيلٍ يَعْنِي الثَّقَفِيَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَقِيلٍ حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ الْمُسَيَّبِ أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ أَبِي الْجَعْدِ عَنْ سَبْرَةَ بْنِ أَبِي فَاكِهٍ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ الشَّيْطَانَ قَعَدَ لِابْنِ آدَمَ بِأَطْرُقِهِ فَقَعَدَ لَهُ بِطَرِيقِ الْإِسْلَامِ فَقَالَ لَهُ أَتُسْلِمُ وَتَذَرُ دِينَكَ وَدِينَ آبَائِكَ وَآبَاءِ أَبِيكَ قَالَ فَعَصَاهُ فَأَسْلَمَ ثُمَّ قَعَدَ لَهُ بِطَرِيقِ الْهِجْرَةِ فَقَالَ أَتُهَاجِرُ وَتَذَرُ أَرْضَكَ وَسَمَاءَكَ وَإِنَّمَا مَثَلُ الْمُهَاجِرِ كَمَثَلِ الْفَرَسِ فِي الطِّوَلِ قَالَ فَعَصَاهُ فَهَاجَرَ قَالَ ثُمَّ قَعَدَ لَهُ بِطَرِيقِ الْجِهَادِ فَقَالَ لَهُ هُوَ جَهْدُ النَّفْسِ وَالْمَالِ فَتُقَاتِلُ فَتُقْتَلُ فَتُنْكَحُ الْمَرْأَةُ وَيُقَسَّمُ الْمَالُ قَالَ فَعَصَاهُ فَجَاهَدَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَنْ فَعَلَ ذَلِكَ مِنْهُمْ فَمَاتَ كَانَ حَقًّا عَلَى اللَّهِ أَنْ يُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ أَوْ قُتِلَ كَانَ حَقًّا عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ يُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ وَإِنْ غَرِقَ كَانَ حَقًّا عَلَى اللَّهِ أَنْ يُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ أَوْ وَقَصَتْهُ دَابَّتُهُ كَانَ حَقًّا عَلَى اللَّهِ أَنْ يُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ

حضرت سبرہ بن ابی فاکہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ شیطان ابن آدم کو گمراہ کرنے کے لئے مختلف راستوں میں بیٹھا ہوتا ہے پہلے اسلام کے راستے میں بیٹھتا ہے اور اس سے کہتا ہے کہ کیا تواسلام قبول کرکے اپنا اور اپنے اباؤ اجداد کا دین ترک کردے گا وہ اس کی نافرمانی کر کے اسلام قبول کرلیتا ہے توشیطان ہجرت کے راستے میں آکر بیٹھ جاتا ہے اور اس سے کہتا ہے کہ تو ہجرت کرکے اپنے زمین اور آسمان کو چھوڑ کر چلاجائے گا مہاجر کی مثال تو لمبائی میں گھوڑے جیسی ہے وہ پھر اس کی نافرمانی کر کے ہجرت کر جاتا ہے پھر شیطان جہاد کے راستے میں بیٹھ جاتا ہے اور اس سے کہتا ہے کہ اس سے جان مال دونوں کو خطرہ ہے تو لڑائی میں شرکت کرتا ہے اور ماراجائے گا تیری بیوی سے کوئی اور نکاح کرلے گا اور تیرے مال کا بٹوارہ ہوجائے گا لیکن وہ اس کی نافرمانی کرکے اور جہاد کے لئے چلاجاتاہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص یہ کام کر کے فوت ہوجائے تو اللہ کے ذمہ حق ہے کہ اس کو جنت میں داخل کرے اگر وہ شہید ہوجائے یاسمندر میں ڈوب جائے یا جانور سے گر کر فوت ہوجائے تب بھی اللہ کے ذمے حق ہے کہ اس کو جنت میں داخل کرے۔

فَعَصَاهُ فَجَاهَدَ ← لَهُ هُوَ جَهْدُ النَّفْسِ وَالْمَالِ فَتُقَاتِلُ فَتُقْتَلُ فَتُنْكَحُ الْمَرْأَةُ وَيُقَسَّمُ الْمَالُ ← ثُمَّ قَعَدَ لَهُ بِطَرِيقِ الْجِهَادِ ← فَعَصَاهُ فَهَاجَرَ ← أَتُهَاجِرُ وَتَذَرُ أَرْضَكَ وَسَمَاءَكَ وَإِنَّمَا مَثَلُ الْمُهَاجِرِ كَمَثَلِ الْفَرَسِ فِي الطِّوَلِ ← فَعَصَاهُ فَأَسْلَمَ ثُمَّ قَعَدَ لَهُ بِطَرِيقِ الْهِجْرَةِ ← لَهُ أَتُسْلِمُ وَتَذَرُ دِينَكَ وَدِينَ آبَائِكَ وَآبَاءِ أَبِيكَ ← إنَّ الشَّيْطَانَ قَعَدَ لاِبْنِ آدَمَ بِأَطْرُقِهِ فَقَعَدَ لَهُ بِطَرِيقِ الإِسْلاَمِ ← رَسُولِ اللَّهِ ← سَبْرَةَ بْنِ أَبِي فَاكِهٍ ← سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، ← مُوسَى بْنِ الْمُسَيَّبِ ← أَبُو عَقِيلٍ يَعْنِي الثَّقَفِيَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَقِيلٍ ← هاشم بن القاسم

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16054

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16055

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ قَالَ أَخْبَرَنِي أَبِي عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَرْقَمَ أَنَّهُ حَجَّ فَكَانَ يُصَلِّي بِأَصْحَابِهِ يُؤَذِّنُ وَيُقِيمُ فَأَقَامَ يَوْمًا الصَّلَاةَ وَقَالَ لِيُصَلِّ أَحَدُكُمْ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِذَا أَرَادَ أَحَدُكُمْ أَنْ يَذْهَبَ إِلَى الْخَلَاءِ وَأُقِيمَتْ الصَّلَاةُ فَلْيَذْهَبْ إِلَى الْخَلَاءِ

حضرت عبداللہ بن ارقم ایک مرتبہ حج پر گئے وہ خود ہی اپنے ساتھیوں کو نماز پڑھاتے اور اذان دیتے اور اقامت کہتے تھے ایک دن اقامت کہنے لگے تو فرمایا کہ تم میں سے کوئی شخص آگے بڑھ کر نماز پڑھا دے کیونکہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سناہے کہ اگر نماز کھڑی ہوجائے اور تم میں سے کوئی شخص بیت الخلاء جانے کی ضرورت محسوس کرے تو اسے چاہیے کہ بیت الخلا پہلے جائے۔

عَبْدِ اللَّهِ بن أَرْقَمَ، ← أَبِي ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16055

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16056

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ عَنْ أَبَانَ بْنِ صَالِحٍ عَنِ الْفَضْلِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْقِلِ بْنِ سِنَانٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نِيَارٍ الْأَسْلَمِيِّ عَنْ عَمْرِو بْنِ شَأْسٍ الْأَسْلَمِيِّ قَالَ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ الْحُدَيْبِيَةِ قَالَ خَرَجْتُ مَعَ عَلِيٍّ إِلَى الْيَمَنِ فَجَفَانِي فِي سَفَرِي ذَلِكَ حَتَّى وَجَدْتُ فِي نَفْسِي عَلَيْهِ فَلَمَّا قَدِمْتُ أَظْهَرْتُ شَكَايَتَهُ فِي الْمَسْجِدِ حَتَّى بَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَخَلْتُ الْمَسْجِدَ ذَاتَ غُدْوَةٍ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نَاسٍ مِنْ أَصْحَابِهِ فَلَمَّا رَآنِي أَمَدَّنِي عَيْنَيْهِ يَقُولُ حَدَّدَ إِلَيَّ النَّظَرَ حَتَّى إِذَا جَلَسْتُ قَالَ يَا عَمْرُو وَاللَّهِ لَقَدْ آذَيْتَنِي قُلْتُ أَعُوذُ بِاللَّهِ أَنْ أُوذِيَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ بَلَى مَنْ آذَى عَلِيًّا فَقَدْ آذَانِي

حضرت عمر بن شاس جواصحاب حدیبیہ میں سے ہیں کہتے ہیں کہ میں حضرت علی کے ساتھ یمن سے روانہ ہوا دوران سفر سے ان سے میری کچھ حق تلفی ہوگئی جس کی بناء پر میرے دل میں ان کے معلق بوجھ پیدا ہوگیا یہی وجہ ہے کہ مدینہ پہنچ کر میں نے مسجد میں یہ شکایت لوگوں کے سامنے ظاہر کی ہوتے ہوتے یہ بات نبی صلی اللہ علیہ وسلم تک بھی جاپہنچی اگلے دن جب میں مسجد میں داخل ہوا تو دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے چند صحابہ کے ساتھ بیٹھتے ہوئے ہیں مجھے دیکھ کر آپ نے تیز نظروں سے گھورا اور جب میں بیٹھ گیا تو آپ نے فرمایا عمرو واللہ تم نے مجھے اذیت پہنچائی ہے میں نے عرض کیا یا رسول اللہ میں اللہ کی پناہ میں آتاہوں کہ آپ کواذیت پہنچاؤں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیوں نہیں جس نے علی کو اذیت پہنچائی اس نے مجھے اذیت پہنچائی۔

وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ الْحُدَيْبِيَةِ ← عَمْرِو بْنِ شَأْسٍ الْأَسْلَمِيِّ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نِيَارٍ الْأَسْلَمِيِّ، ← الْفَضْلِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْقِلِ بْنِ سِنَانٍ ← أَبَانُ بْنُ صَالِحٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبِي ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16056

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16057

حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ قَالَ حَدَّثَنَا الْمُرَجَّى بْنُ رَجَاءٍ الْيَشْكُرِيُّ قَالَ حَدَّثَنِي سَلْمُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ سَمِعْتُ سَوَادَةَ بْنَ الرَّبِيعِ قَالَ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلْتُهُ فَأَمَرَ لِي بِذَوْدٍ ثُمَّ قَالَ لِي إِذَا رَجَعْتَ إِلَى بَيْتِكَ فَمُرْهُمْ فَلْيُحْسِنُوا غِذَاءَ رِبَاعِهِمْ وَمُرْهُمْ فَلْيُقَلِّمُوا أَظْفَارَهُمْ وَلَا يَعْبِطُوا بِهَا ضُرُوعَ مَوَاشِيهِمْ إِذَا حَلَبُوا

حضرت سوادہ بن ربیع سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کچھ تعاون کی درخواست کی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ایک اونٹ دینے کا حکم دیا پھر مجھ سے فرمایا کہ جب تم لوٹ کر اپنے گھرجاؤ تو اپنے اہل خانہ کو حکم دینا کہ زمین کا عمدہ بیج رکھا کریں اور ناخن کاٹا کریں اور دودھ دوہتے وقت اپنے جانوروں کے تھن اپنے ناخنوں سے خون آلود نہ کیا کریں۔

أَتَيْتُ النَّبِيَّ فَسَأَلْتُهُ فَأَمَرَ لِي بِذَوْدٍ ثُمَّ ← سَوَادَةَ بْنِ الرَّبِيعِ، ← سلم بن عبد الرحمن ← الْمُرَجَّى بْنُ رَجَاءٍ الْيَشْكُرِيُّ ← أَبُو النَّضْرِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16057

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16058

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ حَبِيبِ بْنِ هِنْدِ بْنِ أَسْمَاءَ الْأَسْلَمِيِّ عَنْ هِنْدِ بْنِ أَسْمَاءَ قَالَ بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى قَوْمِي مِنْ أَسْلَمَ فَقَالَ مُرْ قَوْمَكَ فَلْيَصُومُوا هَذَا الْيَوْمَ يَوْمَ عَاشُورَاءَ فَمَنْ وَجَدْتَهُ مِنْهُمْ قَدْ أَكَلَ فِي أَوَّلِ يَوْمِهِ فَلْيَصُمْ آخِرَهُ

حضرت ہند بن اسماء سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اپنی قوم کی طرف جس کا تعلق بنواسلم سے تھا بھیجا اور فرمایا اپنی قوم کو حکم دو کہ آج عاشورہ کے دن کا روزہ رکھیں اگر تم ان میں کوئی ایسا شخص پاؤ جس نے دن کے پہلے حصے میں کچھ کھاپی لیا ہو تو اسے چاہیے کہ بقیہ دن کھائے پیے بغیر گذار دے۔

بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ إِلَى قَوْمِي مِنْ أَسْلَمَ ← هِنْدِ بْنِ أَسْمَاءَ ← حَبِيبِ بْنِ هِنْدِ بْنِ أَسْمَاءَ الْأَسْلَمِيِّ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، ← ابْنِ إِسْحَاقَ، ← أَبِي ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16058

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16059

قَالَ حَدَّثَنَا عَفَّانُ قَالَ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ حَرْمَلَةَ عَنْ يَحْيَى بْنِ هِنْدِ بْنِ حَارِثَةَ وَكَانَ هِنْدٌ مِنْ أَصْحَابِ الْحُدَيْبِيَةِ وَأَخُوهُ الَّذِي بَعَثَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُ قَوْمَهُ بِصِيَامِ عَاشُورَاءَ وَهُوَ أَسْمَاءُ بْنُ حَارِثَةَ فَحَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ هِنْدٍ عَنْ أَسْمَاءَ بْنِ حَارِثَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَهُ فَقَالَ مُرْ قَوْمَكَ بِصِيَامِ هَذَا الْيَوْمِ قَالَ أَرَأَيْتَ إِنْ وَجَدْتُهُمْ قَدْ طَعِمُوا قَالَ فَلْيُتِمُّوا آخِرَ يَوْمِهِمْ

حضرت ہند بن اسماء سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اپنی قوم کی طرف جس کا تعلق بنواسلم سے تھا بھیجا اور فرمایا اپنی قوم کو حکم دو کہ آج عاشورہ کے دن کا روزہ رکھیں اگر تم ان میں کوئی ایسا شخص پاؤ جس نے دن کے پہلے حصے میں کچھ کھا پی لیا ہو تو اسے چاہیے کہ بقیہ دن کھائے پیے بغیر گذار دے۔

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16059

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16060

قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ هِشَامٍ يَعْنِي ابْنَ عُرْوَةَ قَالَ أَخْبَرَنِي أَبِي عَنِ الْأَحْنَفِ بْنِ قَيْسٍ عَنْ عَمٍّ لَهُ يُقَالُ لَهُ جَارِيَةُ بْنُ قُدَامَةَ أَنَّ رَجُلًا قَالَ لَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قُلْ لِي قَوْلًا وَأَقْلِلْ عَلَيَّ لَعَلِّي أَعْقِلُهُ قَالَ لَا تَغْضَبْ فَأَعَادَ عَلَيْهِ مِرَارًا كُلُّ ذَلِكَ يَقُولُ لَا تَغْضَبْ قَالَ يَحْيَى كَذَا قَالَ هِشَامٌ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَهُمْ يَقُولُونَ لَمْ يُدْرِكْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

حضرت جاریہ بن قدامہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک شخص نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ مجھے کوئی مختصر نصیحت فرمادیجیے شاید میری عقل میں آجائے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا غصہ نہ کیا کرو اس نے کئی مرتبہ اپنی درخواست دہرائی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر مرتبہ یہی جواب دیا کہ غصہ نہ کیا کرو۔

لَهُ: ← عَمٍّ لَهُ يُقَالُ لَهُ جَارِيَةُ بْنُ قُدَامَةَ أَنَّ رَجُلًا ← الْأَحْنَفِ بْنِ قَيْسٍ، ← أَبِي ← هِشَامٌ يَعْنِي ابْنَ عُرْوَةَ ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16060

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16061

حَدَّثَنَا عِصَامُ بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ بْنِ أَبِي إِسْحَاقَ الْهَمْدَانِيُّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ عَنْ ذِي الْجَوْشَنِ قَالَ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ أَنْ فَرَغَ مِنْ أَهْلِ بَدْرٍ بِابْنِ فَرَسٍ لِي فَقُلْتُ يَا مُحَمَّدُ إِنِّي قَدْ جِئْتُكَ بِابْنِ الْعَرْجَاءِ لِتَتَّخِذَهُ قَالَ لَا حَاجَةَ لِي فِيهِ وَلَكِنْ إِنْ شِئْتَ أَنْ أَقِيضَكَ بِهِ الْمُخْتَارَةَ مِنْ دُرُوعِ بَدْرٍ فَقُلْتُ مَا كُنْتُ لِأَقِيضَكَ الْيَوْمَ بِعُدَّةٍ قَالَ فَلَا حَاجَةَ لِي فِيهِ ثُمَّ قَالَ يَا ذَا الْجَوْشَنِ أَلَا تُسْلِمُ فَتَكُونَ مِنْ أَوَّلِ هَذَا الْأَمْرِ قُلْتُ لَا قَالَ لِمَ قُلْتُ إِنِّي رَأَيْتُ قَوْمَكَ قَدْ وَلِعُوا بِكَ قَالَ فَكَيْفَ بَلَغَكَ عَنْ مَصَارِعِهِمْ بِبَدْرٍ قَالَ قُلْتُ بَلَغَنِي قَالَ قُلْتُ إِنْ تَغْلِبْ عَلَى مَكَّةَ وَتَقْطُنْهَا قَالَ لَعَلَّكَ إِنْ عِشْتَ أَنْ تَرَى ذَلِكَ قَالَ ثُمَّ قَالَ يَا بِلَالُ خُذْ حَقِيبَةَ الرَّجُلِ فَزَوِّدْهُ مِنْ الْعَجْوَةِ فَلَمَّا أَنْ أَدْبَرْتُ قَالَ أَمَا إِنَّهُ مِنْ خَيْرِ بَنِي عَامِرٍ قَالَ فَوَاللَّهِ إِنِّي لَبِأَهْلِي بِالْغَوْرِ إِذْ أَقْبَلَ رَاكِبٌ فَقُلْتُ مِنْ أَيْنَ قَالَ مِنْ مَكَّةَ فَقُلْتُ مَا فَعَلَ النَّاسُ قَالَ قَدْ غَلَبَ عَلَيْهَا مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ قُلْتُ هَبِلَتْنِي أُمِّي فَوَاللَّهِ لَوْ أُسْلِمُ يَوْمَئِذٍ ثُمَّ أَسْأَلُهُ الْحِيرَةَ لَأَقْطَعَنِيهَا

حضرت ذی الجوشن کہتے ہیں کہ قبول اسلام سے قبل میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اس وقت حاضر ہوا جب آپ اہل بدر سے فراغت پاچکے تھے میں اپنے ساتھ اپنے گھوڑے کا بچہ لے کر آیا تھا میں نے آکر کہا اے محمد میں آپ کے پاس اپنے گھوڑے کا بچہ لے کر آیا ہوں تاکہ آپ اسے خرید لیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا فی الحال مجھے اس کی کوئی ضرورت نہیں ہے البتہ اگر تم چاہو تو میں اس کے بدلے میں تمہیں بدری زرہیں دے سکتا ہوں میں نے کہا آج تو میں کسی غلام کے بدلے میں بھی یہ گھوڑا نہیں دوں گا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر مجھے بھی اس کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ پھر فرمایا اے ذی الجوشن تم مسلمان کیوں نہیں ہوجاتے کہ اس دین کے ابتدائی لوگوں میں تم بھی شامل ہوجاؤ میں نے عرض کیا نہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ کیوں میں نے عرض کیا میں نے دیکھاہے کہ آپ کی قوم نے آپ کا حق مارا ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ تمہیں اہل بدر کے مقتولین کے حوالے سے کچھ معلوم نہیں ہے میں نے عرض کیا مجھے معلوم ہے کیا آپ مکہ مکرمہ پر غالب آکر اسے جھکاسکیں گے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تم زندہ رہے تو وہ دن ضرور دیکھوگے۔ پھر حضرت بلال سے فرمایا کہ ان کاتھیلا لے کر عجوہ کھجوروں سے بھردو تاکہ زادراہ رہے جب میں پشت پھیر کر واپس جانے لگا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ بنوعامر میں سب سے بہتر ہے میں ابھی اپنے اہل خانہ کے ساتھ غوز میں ہی تھا کہ ایک سوارآیا میں نے پوچھا کہ کہاں جارہے ہو اس نے کہا مکہ مکرمہ سے آرہاہوں میں نے پوچھا کہ لوگوں کے کیا حالات ہیں اس نے بتایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان پر غالب آگئے ہیں میں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا اگر میں اسی دن مسلمان ہوجاتا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے حیرہ نامی شہر بھی مانگتا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم وہ مجھے دیدیتے۔

أَتَيْتُ النَّبِيَّ بَعْدَ ← ذِي الْجَوْشَنِ ← جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← عِيسَى بْنُ يُونُسَ بْنِ أَبِي إِسْحَاقَ الْهَمْدَانِيُّ ← عِصَامُ بْنُ خَالِدٍ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16061

chevron_left Previous
1…195196197…232
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    0. Chapter
2. Book
    0. Chapter
3. Book
    0. Chapter
4. Book
    0. Chapter
5. Book
    0. Chapter
6. Book
    0. Chapter
7. Book
    0. Chapter
8. Book
    0. Chapter
9. Book
    0. Chapter