Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Friday, Jumada I 6, 1448 AH · Oct 16, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
مسند امام احمد بن حنبل

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble

by Musnad Imam Bin Hanble

28,221 Hadith18 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16038

حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ قَالَ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى قَالَ نَادَى رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الشَّامِ يَوْمَ صِفِّينَ أَفِيكُمْ أُوَيْسٌ الْقَرَنِيُّ قَالُوا نَعَمْ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ مِنْ خَيْرِ التَّابِعِينَ أُوَيْسًا الْقَرَنِيَّ

عبدالرحمن بن ابی لیلی کہتے ہیں کہ جنگ صفین کے دن ایک شامی آدمی نے پکار کر کہا کیا تمہارے درمیان اویس قرنی موجود ہیں لوگوں نے کہا ہاں اس پر انہوں نے کہا میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ تابعین میں سب سے بہترین شخص اویس قرنی ہے۔

رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ مِنْ خَيْرِ التَّابِعِينَ أُوَيْسًا الْقَرَنِيَّ ← نَعَمْ ← نَادَى رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الشَّامِ يَوْمَ صِفِّينَ أَفِيكُمْ أُوَيْسٌ الْقَرَنِيُّ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، ← شَرِيکٍ ← أَبُو نُعَيْمٍ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16038

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16039

حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ قَالَ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَلْقَمَةَ قَالَ أُتِيَ عَبْدُ اللَّهِ فِي امْرَأَةٍ تَزَوَّجَهَا رَجُلٌ ثُمَّ مَاتَ عَنْهَا وَلَمْ يَفْرِضْ لَهَا صَدَاقًا وَلَمْ يَكُنْ دَخَلَ بِهَا قَالَ فَاخْتَلَفُوا إِلَيْهِ فَقَالَ أَرَى لَهَا مِثْلَ صَدَاقِ نِسَائِهَا وَلَهَا الْمِيرَاثُ وَعَلَيْهَا الْعِدَّةُ فَشَهِدَ مَعْقِلُ بْنُ سِنَانٍ الْأَشْجَعِيُّ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى فِي بِرْوَعَ ابْنَةِ وَاشِقٍ بِمِثْلِ مَا قَضَى

علقمہ کہتے ہیں کہ حضرت عبداللہ کی خدمت میں یہ مسئلہ پیش ہوا کہ ایک عورت ہے جس سے ایک شخص نے نکاح کیا اور تھوڑی دیر بعد فوت ہوگیا اس نے ابھی اس کا مہر مقرر کیا تھا اور نہ ہی تخلیہ کیا تھا اس کا کیا حکم ہے۔ مختلف صحابہ نے مختلف آراء پیش کی حضرت ابن مسعود نے فرمایا میری رائے یہ ہے کہ اس عورت کو مہر مثل ملے گا اس کو وراثت میں بھی حصہ ملے گا اور وہ عدت بھی گذارے گی اس فیصلے کو سن کر حضرت معقل بن سنان نے گواہی دی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بیعینہ اس طرح کا فیصلہ بروع بنت واشق کے بارے میں بھی کیا تھا ۔

عَلْقَمَةَ ← إِبْرَاهِيمَ، ← مَنْصُورٌ، ← سُفْيَانَ، ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16039

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16040

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ قَالَ عَبْد اللَّهِ وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ قَالَ شَهِدَ عِنْدِي نَفَرٌ مِنْ أَهْلِ الْبَصْرَةِ مِنْهُمْ الْحَسَنُ بْنُ أَبِي الْحَسَنِ عَنْ مَعْقِلِ بْنِ سِنَانٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِهِ وَهُوَ يَحْتَجِمُ لِثَمَانِ عَشْرَةَ قَالَ أَفْطَرَ الْحَاجِمُ وَالْمَحْجُومُ

حضرت معقل بن سنان سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ماہ رمضان کی اٹھارہویں رات کو سینگی لگارہا تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس سے گذرے مجھے اس حال میں دیکھ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سینگی لگانے والے لگوانے والے دونوں کا روزہ ٹوٹ جاتا ہے۔

معقل بن سنان ← شَهِدَ عِنْدِي نَفَرٌ مِنْ أَهْلِ الْبَصْرَةِ مِنْهُمْ الْحَسَنُ بْنُ أَبِي الْحَسَنِ ← عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، ← ابْنُ فُضَيْلٍ، ← مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ ← عَبْدُ اللَّهِ وَسَمِعْتُهُ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16040

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16041

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ قَالَ حَدَّثَنَا كَهْمَسُ بْنُ الْحَسَنِ عَنْ سَيَّارِ بْنِ مَنْظُورٍ الْفَزَارِيِّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ بُهَيْسَةَ عَنْ أَبِيهَا قَالَ اسْتَأْذَنْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَخَلْتُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ قَمِيصِهِ قَالَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا الشَّيْءُ الَّذِي لَا يَحِلُّ مَنْعُهُ قَالَ الْمَاءُ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا الشَّيْءُ الَّذِي لَا يَحِلُّ مَنْعُهُ قَالَ الْمَاءُ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا الشَّيْءُ الَّذِي لَا يَحِلُّ مَنْعُهُ قَالَ أَنْ تَفْعَلَ الْخَيْرَ خَيْرٌ لَكَ

بھیسہ کے والد کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت لی اور آپ کی مبارک قمیص کے نیچے سے جسم کو چوسنے اور چمٹنے لگا پھر میں نے پوچھا کہ یا رسول اللہ وہ کون سی چیز ہے جس سے روکنا جائز نہیں ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پانی ، میں نے پھریہی سوال کیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر یہی جواب دیا تیسری مرتبہ پوچھنے پر فرمایا تمہارے لئے نیکی کے کام کرنا زیادہ بہتر ہے۔

فَقُلْتُ: ← اسْتَأْذَنْتُ النَّبِيَّ فَدَخَلْتُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ قَمِيصِهِ ← أَبِيهَا ← بهيسة ← أَبِيهِ ← سَيَّارِ بْنِ مَنْظُورٍ الْفَزَارِيِّ، ← کهمس بن الحسن ← وَكِيعٌ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16041

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16042

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ حَدَّثَنَا كَهْمَسٌ قَالَ سَمِعْتُ سَيَّارَ بْنَ مَنْظُورٍ الْفَزَارِيَّ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ بُهَيْسَةَ قَالَتِ اسْتَأْذَنَ أَبِي عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَخَلَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ قَمِيصِهِ فَذَكَرَ مَعْنَاهُ

بھیسہ کے والد کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت لی اور آپ کی مبارک قمیص کے نیچے سے جسم کو چوسنے اور چمٹنے لگا پھر میں نے پوچھا کہ یا رسول اللہ وہ کون سی چیز ہے جس سے روکنا جائز نہیں ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پانی ، میں نے پھریہی سوال کیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر یہی جواب دیا تیسری مرتبہ پوچھنے پر فرمایا تمہارے لئے نیکی کے کام کرنا زیادہ بہتر ہے۔

اسْتَأْذَنَ أَبِي عَلَى النَّبِيِّ فَدَخَلَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ قَمِيصِهِ فَذَكَرَ مَعْنَاهُ ← بهيسة ← أَبِي ← سَيَّارِ بْنِ مَنْظُورٍ الْفَزَارِيِّ، ← كَهْمَسٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16042

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16043

حَدَّثَنَا يَزِيدُ حَدَّثَنَا كَهْمَسٌ قَالَ حَدَّثَنِي سَيَّارُ بْنُ مَنْظُورٍ الْفَزَارِيُّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ بُهَيْسَةَ قَالَتِ اسْتَأْذَنَ أَبِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَعَلَ يَدْنُو مِنْهُ وَيَلْتَزِمُهُ ثُمَّ قَالَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ مَا الشَّيْءُ الَّذِي لَا يَحِلُّ مَنْعُهُ قَالَ الْمَاءُ ثُمَّ قَالَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ مَا الشَّيْءُ الَّذِي لَا يَحِلُّ مَنْعُهُ قَالَ الْمِلْحُ ثُمَّ قَالَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ مَا الشَّيْءُ الَّذِي لَا يَحِلُّ مَنْعُهُ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنْ تَفْعَلْ الْخَيْرَ خَيْرٌ لَكَ قَالَ فَانْتَهَى قَوْلُهُ إِلَى الْمَاءِ وَالْمِلْحِ قَالَ وَكَانَ ذَلِكَ الرَّجُلُ لَا يَمْنَعُ شَيْئًا وَإِنْ قَلَّ

بھیسہ کے والد کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت لی اور آپ کی مبارک قمیص کے نیچے سے جسم کو چوسنے اور چمٹنے لگا پھر میں نے پوچھا کہ یا رسول اللہ وہ کون سی چیز ہے جس سے روکنا جائز نہیں ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پانی ، میں نے پھر یہی سوال کیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر یہی جواب دیا تیسری مرتبہ پوچھنے پر فرمایا تمہارے لئے نیکی کے کام کرنا زیادہ بہتر ہے۔

يا نبي الله! ما الشيء الذي لا يحلّ مَنعه؟ ← الْمِلْحُ ثُمَّ ← يا نبي الله! ما الشيء الذي لا يحلّ مَنعه؟ ← الْمَاءُ ثُمَّ ← يا نبي الله! ما الشيء الذي لا يحلّ مَنعه؟ ← اسْتَأْذَنَ أَبِي النَّبِيَّ فَجَعَلَ يَدْنُو مِنْهُ وَيَلْتَزِمُهُ ثُمَّ ← بهيسة ← أَبِيهِ ← سَيَّارِ بْنِ مَنْظُورٍ الْفَزَارِيِّ، ← كَهْمَسٍ، ← يَزِيدُ:

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16043

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16044

قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ شَيْبَةَ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ عَنْ يَحْيَى بْنِ الْحَارِثِ التَّيْمِيِّ عَنْ يَحْيَى بْنِ غَسَّانَ التَّيْمِيِّ عَنِ ابْنِ الرَّسِيمِ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ قَالَ وَفَدْنَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَهَانَا عَنْ الظُّرُوفِ قَالَ ثُمَّ قَدِمْنَا عَلَيْهِ فَقُلْنَا إِنَّ أَرْضَنَا أَرْضٌ وَخِمَةٌ قَالَ فَقَالَ اشْرَبُوا فِيمَا شِئْتُمْ مَنْ شَاءَ أَوْكَأَ سِقَاءَهُ عَلَى إِثْمٍ

حضرت رسیم کہتے ہیں کہ ہم لوگ وفد کی شکل میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں چند مخصوص برتنوں سے منع فرمایا ہم دوبارہ حاضر ہوئے تو عرض کیا کہ ہماری زمین شور ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم جس برتن میں چاہو پانی پی سکتے ہو اور جو چاہے وہ گناہ کی چیز پر اپنے مشکیزے کا منہ بند کرلے۔

فَقَالَ اشْرَبُوا فِيمَا شِئْتُمْ مَنْ شَاءَ أَوْكَأَ سِقَاءَهُ عَلَى إِثْمٍ ← ثُمَّ قَدِمْنَا عَلَيْهِ فَقُلْنَا إِنَّ أَرْضَنَا أَرْضٌ وَخِمَةٌ ← الظُّرُوفِ. ← وَفَدْنَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ فَنَهَانَا ← أَبِيهِ أَنَّهُ ← ابْنِ الرَّسِيمِ ← يَحْيَى بْنِ غَسَّانَ التَّيْمِيِّ ← يَحْيَى بْنِ الْحَارِثِ التَّيْمِيِّ ← عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ، ← مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ شَيْبَةَ ← عَبْدُ اللَّهِ وَسَمِعْتُهُ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16044

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16045

حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُسْلِمٍ أَبُو زَيْدٍ عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ التَّيْمِيِّ عَنْ يَحْيَى بْنِ غَسَّانَ التَّيْمِيِّ عَنْ أَبِيهِ قَالَ كَانَ أَبِي فِي الْوَفْدِ الَّذِينَ وَفَدُوا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عَبْدِ قَيْسٍ فَنَهَاهُمْ عَنْ هَذِهِ الْأَوْعِيَةِ قَالَ فَأَتْخَمْنَا ثُمَّ أَتَيْنَاهُ الْعَامَ الْمُقْبِلَ قَالَ فَقُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّكَ نَهَيْتَنَا عَنْ هَذِهِ الْأَوْعِيَةِ فَأَتْخَمْنَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ انْتَبِذُوا فِيمَا بَدَا لَكُمْ وَلَا تَشْرَبُوا مُسْكِرًا فَمَنْ شَاءَ أَوْكَأَ سِقَاءَهُ عَلَى إِثْمٍ

حضرت رسیم کہتے ہیں کہ ہم لوگ وفد کی شکل میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں چند مخصوص برتنوں سے منع فرمایا ہم دوبارہ حاضر ہوئے تو عرض کیا کہ ہماری زمین شور ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم جس برتن میں چاہو پانی پی سکتے ہو اور جو چاہے وہ گناہ کی چیز پر اپنے مشکیزے کامنہ بند کرلے۔

أَبِيهِ ← يَحْيَى بْنِ غَسَّانَ التَّيْمِيِّ ← يحيى بن عبد الله التيمي، ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُسْلِمٍ أَبُو زَيْدٍ، ← حَسَنُ بْنُ مُوسَی

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16045

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16046

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْ عُثْمَانَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ قَالَ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ خُثَيْمٍ الْهِلَالِيُّ قَالَ سَمِعْتُ جَدَّتِي رَبِيعَةَ ابْنَةَ عِيَاضٍ قَالَتْ سَمِعْتُ جَدِّي عُبَيْدَةَ بْنَ عَمْرٍو الْكِلَابِيَّ يَقُولُ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ فَأَسْبَغَ الْوُضُوءَ قَالَ وَكَانَتْ رِبْعِيَّةُ إِذَا تَوَضَّأَتْ أَسْبَغَتْ الْوُضُوءَ

حضرت عبیدہ سے مروی ہے کہ میں نے ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو وضو کرتے ہوئے دیکھا آپ نے خوب اچھی طرح مکمل وضو کیا راوی کہتے ہیں میری دادی رابعیہ بھی خوب کامل وضو کرتی تھیں۔

وَكَانَتْ رِبْعِيَّةُ إِذَا تَوَضَّأَتْ أَسْبَغَتْ الْوُضُوءَ ← رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ تَوَضَّأَ فَأَسْبَغَ الْوُضُوءَ ← جَدِّي عُبَيْدَةَ بْنَ عَمْرٍو الْكِلَابِيَّ ← جَدَّتِي رَبِيعَةَ ابْنَةَ عِيَاضٍ ← سَعِيدُ بْنُ خُثَيْمٍ الْهِلَالِيُّ، ← مِنْ عُثْمَانَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، ← عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ وَسَمِعْتُهُ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16046

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16047

حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ طَلْحَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ أَنَّهُ رَأَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْسَحُ رَأْسَهُ حَتَّى بَلَغَ الْقَذَالَ وَمَا يَلِيهِ مِنْ مُقَدَّمِ الْعُنُقِ مَرَّةً قَالَ الْقَذَالُ السَّالِفَةُ الْعُنُقِ

طلحہ ایامی کے داداسے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو سر کامسح اس طرح کرتے ہوئے دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے گردن کے پچھے حصے تک اور اس کے ساتھ ملے ہوئے اگلے حصے کا ایک مرتبہ مسح کیا۔

جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← طَلْحَةَ، ← لَيْثٌ، ← أَبِي ← عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16047

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16048

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ قَالَ حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ أَبِي النَّجُودِ عَنِ الْحَارِثِ بْنِ حَسَّانَ الْبَكْرِيِّ قَالَ قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ فَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ وَبِلَالٌ قَائِمٌ بَيْنَ يَدَيْهِ مُتَقَلِّدٌ السَّيْفَ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَإِذَا رَايَاتٌ سُودٌ وَسَأَلْتُ مَا هَذِهِ الرَّايَاتُ فَقَالُوا عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ قَدِمَ مِنْ غَزَاةٍ

حضرت حارث بن حسان سے مروی ہے کہ ہم لوگ مدینہ منورہ حاضر ہوئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر موجود تھے اور آپ کے سامنے حضرت بلال تلوار لٹکائے کھڑے تھے اور کچھ کالے جھنڈے بھی نظر آرہے تھے میں نے ان جھنڈوں کے متعلق پوچھا تو لوگوں نے بتایا کہ حضرت عمرو بن عاص ایک غزوے سے واپس آئے ہیں۔

الحارث بن حسان البكري ← عَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُودِ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16048

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16049

حَدَّثَنَا عَفَّانُ قَالَ حَدَّثَنَا سَلَّامٌ أَبُو الْمُنْذِرِ عَنْ عَاصِمِ بْنِ بَهْدَلَةَ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنِ الْحَارِثِ بْنِ حَسَّانَ قَالَ مَرَرْتُ بِعَجُوزٍ بِالرَّبَذَةِ مُنْقَطِعٌ بِهَا مِنْ بَنِي تَمِيمٍ قَالَ فَقَالَتْ أَيْنَ تُرِيدُونَ قَالَ فَقُلْتُ نُرِيدُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ فَاحْمِلُونِي مَعَكُمْ فَإِنَّ لِي إِلَيْهِ حَاجَةً قَالَ فَقُلْتُ فَدَخَلْتُ الْمَسْجِدَ فَإِذَا هُوَ غَاصٌّ بِالنَّاسِ وَإِذَا رَايَةٌ سَوْدَاءُ تَخْفِقُ فَقُلْتُ مَا شَأْنُ النَّاسِ الْيَوْمَ قَالُوا هَذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُرِيدُ أَنْ يَبْعَثَ عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ وَجْهًا قَالَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنْ رَأَيْتَ أَنْ تَجْعَلَ الدَّهْنَاءَ حِجَازًا بَيْنَنَا وَبَيْنَ بَنِي تَمِيمٍ فَافْعَلْ فَإِنَّهَا كَانَتْ لَنَا مَرَّةً قَالَ فَاسْتَوْفَزَتْ الْعَجُوزُ وَأَخَذَتْهَا الْحَمِيَّةُ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيْنَ تَضْطَرُّ مُضَرَكَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ حَمَلْتُ هَذِهِ وَلَا أَشْعُرُ أَنَّهَا كَائِنَةٌ لِي خَصْمًا قَالَ قُلْتُ أَعُوذُ بِاللَّهِ أَنْ أَكُونَ كَمَا قَالَ الْأَوَّلُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَا قَالَ الْأَوَّلُ قَالَ عَلَى الْخَبِيرِ سَقَطْتَ يَقُولُ سَلَّامٌ هَذَا أَحْمَقُ يَقُولُ الرَّسُولُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْخَبِيرِ سَقَطْتَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هِيهْ يَسْتَطْعِمُهُ الْحَدِيثَ قَالَ إِنَّ عَادًا أَرْسَلُوا وَافِدَهُمْ قَيْلًا فَنَزَلَ عَلَى مُعَاوِيَةَ بْنِ بَكْرٍ شَهْرًا يَسْقِيهِ الْخَمْرَ وَتُغَنِّيهِ الْجَرَادَتَانِ فَانْطَلَقَ حَتَّى أَتَى عَلَى جِبَالِ مُهْرَةَ فَقَالَ اللَّهُمَّ إِنِّي لَمْ آتِ لِأَسِيرٍ أُفَادِيهِ وَلَا لِمَرِيضٍ فَأُدَاوِيَهُ فَاسْقِ عَبْدَكَ مَا كُنْتَ سَاقِيَهُ وَاسْقِ مُعَاوِيَةَ بْنَ بَكْرٍ شَهْرًا يَشْكُرْ لَهُ الْخَمْرَ الَّتِي شَرِبَهَا عِنْدَهُ قَالَ فَمَرَّتْ سَحَابَاتٌ سُودٌ فَنُودِيَ أَنْ خُذْهَا رَمَادًا رِمْدِدًا لَا تَذَرْ مِنْ عَادٍ أَحَدًا قَالَ أَبُو وَائِلٍ فَبَلَغَنِي أَنَّ مَا أُرْسِلَ عَلَيْهِمْ مِنْ الرِّيحِ كَقَدْرِ مَا يَجْرِي فِي الْخَاتَمِ

حضرت حارث بن حسان سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں مقام ربذہ میں ایک بوڑھی عورت کے پاس سے گذرا جو بنوتمیم سے کٹ چکی تھی اس نے پوچھا کہ تم کہاں جارہے ہو میں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف وہ کہنے لگی کہ مجھے بھی اپنے ساتھ لے چلو مجھے ان سے ایک کام ہے مدینہ پہنچ کر میں مسجد نبوی میں داخل ہوا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں میں گھرے ہوئے تھے اور اک سیاہ جھنڈا لہرا رہا تھا میں نے لوگوں سے پوچھا کہ آج کوئی خاص بات ہے لوگوں نے بتایا کہ دراصل نبی صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عمرو بن عاص کو ایک لشکر دے کر کسی طرف روانہ فرما رہے ہیں میں نے آگے بڑھ کر عرض کیا یا رسول اللہ اگر آپ مناسب سمجھیں تو ہمارے اور بنوتمیم کے درمیان حجاز کو بیان قرار دیدیں کیوکہ کبھی ایسا ہی تھا اس پر وہ بڑھیا کود کر سامنے آئی اور اس کی رگ حمیت نے جوش مارا اور کہنے لگی کہ یا رسول اللہ اپنے مضر کو آپ کہاں مجبور کریں گے میں نے عرض کیا یا رسول اللہ میں اس بڑھیا کو اٹھا کر لایا ہوں مجھے کیا خبر تھی کہ یہی مجھ سے جھگڑنے لگے گی۔ میں اللہ کی پناہ میں آتا ہوں اس بات سے کہ اس شخص کی طرح ہوجاؤں جیسے پہلوں نے کہا تھا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا پہلوں نے کیا کہا تھا میں نے عرض کیا کیا آپ نے ایک باخبر آدمی سے پوچھا لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم بیان کرو دراصل نبی صلی اللہ علیہ وسلم پوری بات سننا چاہتے تھے۔ میں نے عرض کیا قوم عاد نے اپنے ایک آدمی کو بطور وفد کے بھیجا وہ ایک مہینے تک معاویہ بن بکر کا مہمان بنا رہا وہ انہیں شراب پلاتا تھا اور دومنیوں سے گانے سنواتا تھا ایک دن وہ روانہ ہوا اور جبال مہرہ پر پہنچا اور کہنے لگا کہ اے اللہ میں اس لئے نہیں آیا کہ اس کا بدلہ چکاؤں نہ کسی بیمار کے لئے اس کا علاج کرسکوں لہذا تو اپنے بندوں کو وہ کچھ پلا جو تو پلا سکتا ہے اور معاویہ بن بکر کو ایک ماہ تک پلانے کا انتظام فرمادراصل یہ اس شراب کا شکریہ تھا جو و وہ اس کے یہاں ایک مہینہ تک پیتارہا تھا اسی اثناء میں سیاہ بادل آگئے اور کسی نے آواز دے کر کہا کہ یہ خوب بھرے ہوئے تھن والا بادل لے لو اور قوم عاد میں سے کسی ایک شخص کو بھی پیاسا نہ چھوڑو۔

الحارث بن حسان ← أَبِي وَائِلٍ ← عَاصِمِ بْنِ بَهْدَلَةَ، ← سَلَّامٌ أَبُو الْمُنْذِرِ ← عَفَّانُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16049

chevron_left Previous
1…194195196…232
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    0. Chapter
2. Book
    0. Chapter
3. Book
    0. Chapter
4. Book
    0. Chapter
5. Book
    0. Chapter
6. Book
    0. Chapter
7. Book
    0. Chapter
8. Book
    0. Chapter
9. Book
    0. Chapter