Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Friday, Jumada I 6, 1448 AH · Oct 16, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند امام احمد بن حنبل

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble

by Musnad Imam Bin Hanble

28,221 Hadith18 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 15990

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ عَطَاءٍ يَعْنِي ابْنَ السَّائِبِ عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَكْرِ بْنِ وَائِلٍ عَنْ خَالِهِ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَعْشِرُ قَوْمِي قَالَ إِنَّمَا الْعُشُورُ عَلَى الْيَهُودِ وَالنَّصَارَى وَلَيْسَ عَلَى أَهْلِ الْإِسْلَامِ عُشُورٌ

بکر بن وائل کے ایک صاحب اپنے ماموں سے نقل کرتے ہیں ایک مرتبہ میں نے بارگاہ نبوت میں عرض کیا یا رسول اللہ میں اپنی قوم سے ٹیکس وصول کرتا ہوں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ٹیکس تو یہود ونصاری پر ہوتا ہے مسلمانوں پر کوئی ٹیکس نہیں ہے۔

قُلْتُ ← خَاله ← رَجُلٍ مِنْ بَكْرِ بْنِ وَائِلٍ ← عطاء يعني ابن السائب ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 15990

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 15991

قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَطَاءٍ عَنْ حَرْبِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ الثَّقَفِيِّ عَنْ خَالِهِ قَالَ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ لَهُ أَشْيَاءَ فَسَأَلَهُ فَقَالَ أَعْشِرُهَا فَقَالَ إِنَّمَا الْعُشُورُ عَلَى الْيَهُودِ وَالنَّصَارَى وَلَيْسَ عَلَى أَهْلِ الْإِسْلَامِ عُشُورٌ

بکر بن وائل کے ایک صاحب اپنے ماموں سے نقل کرتے ہیں ایک مرتبہ میں نے بارگاہ نبوت میں عرض کیا یا رسول اللہ میں اپنی قوم سے ٹیکس وصول کرتا ہوں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ٹیکس تو یہود ونصاری پر ہوتا ہے مسلمانوں پر کوئی ٹیکس نہیں ہے۔

أَعْشِرُهَا ← لَهُ أَشْيَاءَ فَسَأَلَهُ ← اَتَیْتُ النَّبِیَّ ← خَاله ← حَرْبِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ الثَّقَفِيِّ، ← عَطَاءٍ، ← سُفْيَانَ، ← أَبُو نُعَيْمٍ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 15991

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 15992

حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ عَنْ حَرْبِ بْنِ هِلَالٍ الثَّقَفِيِّ عَنْ أَبِي أُمِّهِ رَجُلٌ مِنْ بَنِي تَغْلِبَ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَيْسَ عَلَى الْمُسْلِمِينَ عُشُورٌ إِنَّمَا الْعُشُورُ عَلَى الْيَهُودِ وَالنَّصَارَى

ابوامیہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ٹیکس تو یہود ونصاری پر ہوتا ہے مسلمانوں پر کوئی ٹیکس نہیں ہے۔

لَيْسَ عَلَى الْمُسْلِمِينَ عُشُورٌ إِنَّمَا الْعُشُورُ عَلَى الْيَهُودِ وَالنَّصَارَى ← النَّبِيِّ ← أَبِي أُمِّهِ رَجُلٌ مِنْ بَنِي تَغْلِبَ أَنَّهُ ← حَرْبِ بْنِ هِلال الثقفى ← عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، ← جَرِيرٌ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 15992

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 15993

حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو قَالَ حَدَّثَنَا زَائِدَةُ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِرَجُلٍ كَيْفَ تَقُولُ فِي الصَّلَاةِ قَالَ أَتَشَهَّدُ ثُمَّ أَقُولُ اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْجَنَّةَ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ النَّارِ أَمَا إِنِّي لَا أُحْسِنُ دَنْدَنَتَكَ وَلَا دَنْدَنَةَ مُعَاذٍ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَوْلَهَا نُدَنْدِنُ

ایک صحابی سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص سے پوچھا کہ تم نماز میں کیا پڑھتے ہو اس نے کہا تشہد پڑھ کر یہ کہتا ہوں کہ اے اللہ میں آپ سے جنت کا سوال کرتا ہوں اور جہنم سے آپ کی پناہ مانگتاہوں البتہ میں اچھی طرح آپ کا طریقہ یا حضرت معاذ کا طریقہ اختیار نہیں کر پاتا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی فرمایا ہم بھی اسی کے آس پاس گھومتے ہیں۔

بَعْضِ أَصْحَابِ النَّبِيِّ ← اَبِیْ صَالِحٍ ← الْاَعْمَشِ ← زَائِدَۃَ، ← مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 15993

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 15994

حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ أَخْبَرَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مَيْسَرَةَ قَالَ سَمِعْتُ كُرْدُوسًا قَالَ أَخْبَرَنِي رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ بَدْرٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَأَنْ أَقْعُدَ فِي مِثْلِ هَذَا الْمَجْلِسِ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أُعْتِقَ أَرْبَعَ رِقَابٍ

ایک بدری صحابی سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا مجھے اس طرح کی مجلس وعظ میں بیٹھنا چار غلاموں کو آزاد کرنے سے زیادہ پسند ہے۔

رَسُولِ اللَّهِ ← رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ بَدْرٍ ← كُرْدُوسًا ← عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَيْسَرَةَ، ← شُعْبَةُ، ← بَهْزٌ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 15994

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 15995

حَدَّثَنَا هَاشِمٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَيْسَرَةَ قَالَ سَمِعْتُ كُرْدُوسَ بْنَ قَيْسٍ وَكَانَ قَاصَّ الْعَامَّةِ بِالْكُوفَةِ قَالَ أَخْبَرَنِي رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ بَدْرٍ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَأَنْ أَقْعُدَ فِي مِثْلِ هَذَا الْمَجْلِسِ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أُعْتِقَ أَرْبَعَ رِقَابٍ قَالَ شُعْبَةُ فَقُلْتُ أَيَّ مَجْلِسٍ تَعْنِي قَالَ كَانَ قَاصًّا

ایک بدری صحابی سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا مجھے اس طرح کی مجلس وعظ میں بیٹھنا چار غلاموں کو آزاد کرنے سے زیادہ پسند ہے۔

رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ بَدْرٍ ← كُرْدُوسَ بْنَ قَيْسٍ وَكَانَ قَاصَّ الْعَامَّةِ ← عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَيْسَرَةَ، ← شُعْبَةُ، ← هَاشِمٌ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 15995

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 15996

حَدَّثَنَا أَبُو الْجَوَّابِ حَدَّثَنَا عَمَّارُ بْنُ رُزَيْقٍ عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ قَالَ حَدَّثَنِي نَفَرٌ مِنْ أَهْلِ الْبَصْرَةِ مِنْهُمْ الْحَسَنُ عَنْ مَعْقِلِ بْنِ سِنَانٍ الْأَشْجَعِيِّ أَنَّهُ قَالَ مَرَّ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أَحْتَجِمُ فِي ثَمَانِ عَشْرَةَ لَيْلَةً خَلَتْ مِنْ شَهْرِ رَمَضَانَ فَقَالَ أَفْطَرَ الْحَاجِمُ وَالْمَحْجُومُ

حضرت معقل بن سنان سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں ماہ رمضان کی اٹھارویں رات کو سینگی لگارہا تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس سے گذرنے مجھے اس حال میں دیکھ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سینگی لگانے والے اور لگوانے والے دونوں کا روزہ ٹوٹ جاتا ہے۔

أَفْطَرَ الْحَاجِمُ وَالْمَحْجُومُ. ← أَحْتَجِمُ فِي ثَمَانِ عَشْرَةَ لَيْلَةً خَلَتْ مِنْ شَهْرِ رَمَضَانَ ← مَرَّ عَلَيَّ رَسُولُ اللهِ ← مَعْقِلِ بْنِ سِنَانٍ الْأَشْجَعِيِّ أَنَّهُ ← نَفَرٌ مِنْ أَهْلِ الْبَصْرَةِ، مِنْهُمُ الْحَسَنُ، ← عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، ← عَمَّارُ بْنُ رُزَيْقٍ ← أَبُو الْجَوَّابِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 15996

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 15997

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ قَالَ خَالِدٌ الْحَذَّاءُ أَخْبَرَنِي عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ عَمْرِو بْنِ سَلِمَةَ قَالَ كَانَ تَأْتِينَا الرُّكْبَانُ مِنْ قِبَلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَسْتَقْرِئُهُمْ فَيُحَدِّثُونَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِيَؤُمَّكُمْ أَكْثَرُكُمْ قُرْآنًا

حضرت عمرو بن سلمہ کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے ہمارے کچھ سوار آتے تھے ہم ان سے قرآن پڑھتے تھے وہ ہم سے یہ حدیث بیان کرتے ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تم میں سے جو شخص زیادہ قرآن جانتا ہو اسے تمہاری امامت کرنی چاہیے۔

كَانَ تَأْتِينَا الرُّكْبَانُ مِنْ قِبَلِ رَسُولِ اللَّهِ فَنَسْتَقْرِئُهُمْ فَيُحَدِّثُونَا ← عَمْرِو بْنِ سَلَمَةَ، ← أَبِي قِلَابَةَ، ← خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ← عَلِي بْنُ عَاصِمٍ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 15997

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 15998

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى قَالَ أَخْبَرَنِي مَالِكٌ عَنْ سُمَيٍّ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ النَّاسَ بِالْفِطْرِ عَامَ الْفَتْحِ وَقَالَ تَقَوَّوْا لِعَدُوِّكُمْ وَصَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَبُو بَكْرٍ قَالَ الَّذِي حَدَّثَنِي لَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْعَرْجِ يَصُبُّ عَلَى رَأْسِهِ الْمَاءَ مِنْ الْعَطَشِ أَوْ مِنْ الْحَرِّ ثُمَّ قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ طَائِفَةً مِنْ النَّاسِ قَدْ صَامُوا حِينَ صُمْتَ فَلَمَّا كَانَ بِالْكَدِيدِ دَعَا بِقَدَحٍ فَشَرِبَ فَأَفْطَرَ النَّاسُ

ایک صحابی سے مروی ہے کہ فتح مکہ کے سال نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو ترک صیام کا حکم دیتے ہوئے فرمایا کہ اپنے دشمن کے لئے قوت حاصل کرو لیکن خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے روزہ رکھ لیا راوی کہتے ہیں میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مقام عرج میں پیاس یا گرمی کی وجہ سے اپنے سر پر پانی ڈالتے ہوئے دیکھا ہے اسی دوران کسی شخص نے بتایا کہ یا رسول اللہ جب لوگوں نے آپ کو روزہ رکھے ہوئے دیکھا تو روزہ رکھ لیا چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مقام کدید پہنچ کر پانی کا پیالہ منگوایا اور اسے نوش فرمالیا اور لوگوں نے بھی روزہ افطار کرلیا۔

بَعْضِ أَصْحَابِ النَّبِيِّ ← أَبِي بَكْرِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ، ← سُمَيٍّ ← مَالِكٍ، ← إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 15998

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 15999

قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الزُّبَيْرِيُّ حَدَّثَنَا سَعْدٌ يَعْنِي ابْنَ أَوْسٍ الْعَبْسِيَّ عَنْ بِلَالٍ الْعَبْسِيِّ قَالَ أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ الضَّبِّيُّ أَنَّهُ أَتَى الْبَصْرَةَ وَبِهَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ أَمِيرًا فَإِذَا هُوَ بِرَجُلٍ قَائِمٍ فِي ظِلِّ الْقَصْرِ يَقُولُ صَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ صَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ لَا يَزِيدُ عَلَى ذَلِكَ فَدَنَوْتُ مِنْهُ شَيْئًا فَقُلْتُ لَهُ لَقَدْ أَكْثَرْتَ مِنْ قَوْلِكَ صَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ فَقَالَ أَمَا وَاللَّهِ لَئِنْ شِئْتَ لَأَخْبَرْتُكَ فَقُلْتُ أَجَلْ فَقَالَ اجْلِسْ إِذًا فَقَالَ إِنِّي أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ بِالْمَدِينَةِ فِي زَمَانِ كَذَا وَكَذَا وَقَدْ كَانَ شَيْخَانِ لِلْحَيِّ قَدْ انْطَلَقَ ابْنٌ لَهُمَا فَلَحِقَ بِهِ فَقَالَا إِنَّكَ قَادِمٌ الْمَدِينَةَ وَإِنَّ ابْنًا لَنَا قَدْ لَحِقَ بِهَذَا الرَّجُلِ فَأْتِهِ فَاطْلُبْهُ مِنْهُ فَإِنْ أَبَى إِلَّا الِافْتِدَاءَ فَافْتَدِهِ فَأَتَيْتُ الْمَدِينَةَ فَدَخَلْتُ عَلَى نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ إِنَّ شَيْخَيْنِ لِلْحَيِّ أَمَرَانِي أَنْ أَطْلُبَ ابْنًا لَهُمَا عِنْدَكَ فَقَالَ تَعْرِفُهُ فَقَالَ أَعْرِفُ نَسَبَهُ فَدَعَا الْغُلَامَ فَجَاءَ فَقَالَ هُوَ ذَا فَأْتِ بِهِ أَبَوَيْهِ فَقُلْتُ الْفِدَاءَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ قَالَ إِنَّهُ لَا يَصْلُحُ لَنَا آلُ مُحَمَّدٍ أَنْ نَأْكُلَ ثَمَنَ أَحَدٍ مِنْ وَلَدِ إِسْمَاعِيلَ ثُمَّ ضَرَبَ عَلَى كَتِفِي ثُمَّ قَالَ لَا أَخْشَى عَلَى قُرَيْشٍ إِلَّا أَنْفُسَهَا قُلْتُ وَمَا لَهُمْ يَا نَبِيَّ اللَّهِ قَالَ إِنْ طَالَ بِكَ الْعُمُرُ رَأَيْتَهُمْ هَاهُنَا حَتَّى تَرَى النَّاسَ بَيْنَهُمَا كَالْغَنَمِ بَيْنَ حَوْضَيْنِ مَرَّةً إِلَى هَذَا وَمَرَّةً إِلَى هَذَا فَأَنَا أَرَى نَاسًا يَسْتَأْذِنُونَ عَلَى ابْنِ عَبَّاسٍ رَأَيْتُهُمْ الْعَامَ يَسْتَأْذِنُونَ عَلَى مُعَاوِيَةَ فَذَكَرْتُ مَا قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

عمران بن حصین ضبی کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ وہ بصرہ آئے اس وقت وہاں کے گورنر حضرت عبداللہ بن عباس تھے وہاں ایک آدمی محل کے سائے میں کھڑا ہواباربار یہی کہے جارہا تھا کہ اللہ اور اس کے رسول نے سچ فرمایا وہ اس سے آگے نہیں بڑھتا تھا میں اس کے قریب گیا اور اس سے پوچھا کہ آپ نے اتنی زیادہ مرتبہ کہا ہے کہ اللہ اور اس کے رسول نے سچ فرمایا اس نے جواب دیا کہ اگر تم چاہتے ہو تو میں تمہیں بتا سکتا ہوں میں نے کہا ضرور اس نے کہا پھر بیٹھ جاؤ اس نے کہا کہ ایک مرتبہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں فلاں فلاں وقت حاضر ہوا جبکہ آپ مدینہ منورہ میں تھے۔ اس وقت ہمارے قبیلے کے دو سراداروں کا ایک بچہ نکل کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوگیا وہ دونوں مجھ سے کہنے لگے کہ وہاں ہمارا ایک بچہ بھی اس آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے جا کر مل گیا ہے تم اس آدمی کے پاس جا کر اس سے ہمارا بچہ واپس دینے کی درخواست کرنا اگر وہ فدیہ لئے بغیر نہ مانے تو فدیہ بھی دیدینا چنانچہ میں مدینہ منورہ پہنچ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم مجھے قبیلے کے دو سردراوں نے یہ کہہ کربھیجا ہے کہ ان کا جو بچہ آپ کے پاس آگیا ہے اسے اپنے ساتھ لے جانے کی درخواست کروں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ تم اس بچے کو جانتے ہو میں نے عرض کیا کہ میں اس کانسب نامہ جانتا ہوں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس لڑکے کو بلایا وہ آیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ یہی بچہ ہے تم اسے اس کے والدین کے پاس لے جا سکتے ہو۔ میں نے بارگاہ نبوت میں عرض کیا اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کچھ فدیہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہم آل محمد کے لئے یہ مناسب نہیں ہے کہ اولاد اسماعیل کی قیمت کھاتے پھریں پھر میرے کندھے پرہاتھ مار کر فرمایا کہ مجھے قریش کے متعلق خود انہی سے خطرہ ہے میں نے پوچھا کہ یا رسول اللہ کیا مطلب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تمہاری عمر لمبی ہوئی تو تم انہیں یہاں دیکھو گے اور عام لوگوں کو ان کے درمیان پاؤ گے جیسے دوحوضوں کے درمیان بکریاں ہوں جو کبھی ادھر جاتی ہیں اور کبھی ادھر جاتی ہیں چنانچہ میں دیکھ رہاہوں کہ کچھ لوگ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے ملنے کی اجازت چاہتے ہیں یہ وہی لوگ ہیں جنہیں میں نے اسی سال حضرت معاویہ سے ملنے کی اجازت مانگتے ہوئے دیکھا تھا اس وقت مجھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد یاد آگیا۔

عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ الضَّبِّيُّ ← بِلَالٍ الْعَبْسِيِّ ← سَعْدٌ يَعْنِي ابْنَ أَوْسٍ الْعَبْسِيَّ ← أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الزُّبَيْرِيُّ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 15999

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16000

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ مُبَارَكٍ قَالَ أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ يَزِيدَ وَهُوَ أَبُو شُجَاعٍ قَالَ سَمِعْتُ الْحَارِثَ بْنَ يَزِيدَ الْحَضْرَمِيَّ يُحَدِّثُ عَنْ عَلِيِّ بْنِ رَبَاحٍ عَنْ نَاشِرَةَ بْنِ سُمَيٍّ الْيَزَنِيِّ قَالَ سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ يَقُولُ فِي يَوْمِ الْجَابِيَةِ وَهُوَ يَخْطُبُ النَّاسَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ جَعَلَنِي خَازِنًا لِهَذَا الْمَالِ وَقَاسِمَهُ لَهُ ثُمَّ قَالَ بَلْ اللَّهُ يَقْسِمُهُ وَأَنَا بَادِئٌ بِأَهْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ أَشْرَفِهِمْ فَفَرَضَ لِأَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَشْرَةَ آلَافٍ إِلَّا جُوَيْرِيَةَ وَصَفِيَّةَ ومَيْمُونَةَ فَقَالَتْ عَائِشَةُ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَعْدِلُ بَيْنَنَا فَعَدَلَ بَيْنَهُنَّ عُمَرُ ثُمَّ قَالَ إِنِّي بَادِئٌ بِأَصْحَابِي الْمُهَاجِرِينَ الْأَوَّلِينَ فَإِنَّا أُخْرِجْنَا مِنْ دِيَارِنَا ظُلْمًا وَعُدْوَانًا ثُمَّ أَشْرَفِهِمْ فَفَرَضَ لِأَصْحَابِ بَدْرٍ مِنْهُمْ خَمْسَةَ آلَافٍ وَلِمَنْ كَانَ شَهِدَ بَدْرًا مِنْ الْأَنْصَارِ أَرْبَعَةَ آلَافٍ وَلِمَنْ شَهِدَ أُحُدًا ثَلَاثَةَ آلَافٍ قَالَ وَمَنْ أَسْرَعَ فِي الْهِجْرَةِ أَسْرَعَ بِهِ الْعَطَاءُ وَمَنْ أَبْطَأَ فِي الْهِجْرَةِ أَبْطَأَ بِهِ الْعَطَاءُ فَلَا يَلُومَنَّ رَجُلٌ إِلَّا مُنَاخَ رَاحِلَتِهِ وَإِنِّي أَعْتَذِرُ إِلَيْكُمْ مِنْ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ إِنِّي أَمَرْتُهُ أَنْ يَحْبِسَ هَذَا الْمَالَ عَلَى ضَعَفَةِ الْمُهَاجِرِينَ فَأَعْطَى ذَا الْبَأْسِ وَذَا الشَّرَفِ وَذَا اللَّسَانَةِ فَنَزَعْتُهُ وَأَمَّرْتُ أَبَا عُبَيْدَةَ بْنَ الْجَرَّاحِ فَقَالَ أَبُو عَمْرِو بْنُ حَفْصِ بْنِ الْمُغِيرَةِ وَاللَّهِ مَا أَعْذَرْتَ يَا عُمَرُ بْنَ الْخَطَّابِ لَقَدْ نَزَعْتَ عَامِلًا اسْتَعْمَلَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَمَدْتَ سَيْفًا سَلَّهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَوَضَعْتَ لِوَاءً نَصَبَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَقَدْ قَطَعْتَ الرَّحِمَ وَحَسَدْتَ ابْنَ الْعَمِّ فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ إِنَّكَ قَرِيبُ الْقَرَابَةِ حَدِيثُ السِّنِّ مُغْضَبٌ مِنْ ابْنِ عَمِّكَ

ناشرہ کہتے ہیں کہ میں نے جابیہ میں حضرت عمر فاروق کے دوران خطبہ لوگوں سے یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ اللہ نے مجھے مال کاصرف خزانچی اور تقسیم کنندہ بنایا ہے پھر فرمایا کہ بلکہ اللہ ہی اسے تقسیم کرنے والاہے البتہ میں اس کا آغاز نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل خانہ سے کروں گا پھر درجہ بدرجہ معززین کو دوں گا چنانچہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات میں سے حضرت جویریریہ صفیہ اور حضرت میمونہ کے سواسب کے لئے دس دس ہزار درہم مقرر کئے ، حضرت عائشہ کو معلوم ہوا تو انہوں نے فرمایا نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہم سب کے درمیان انصاف سے کام لیتے تھے چنانچہ حضرت عمر نے ان کا حصہ بھی برابر کردیا۔پھر فرمایا میں صحابہ میں اپنے مہاجرین اولین ساتھیوں سے آغاز کروں گا کیونکہ ہم لوگوں کو اپنے وطن سے ظلما نکالا گیا تھا پھر ان میں سے جو زیادہ معزز ہوں گے چنانچہ انہوں نے ان میں سے اصحاب بدر کے لئے پانچ پانچ ہزار درہم مقرر کئے اور غزوہ بدر میں شریک ہونے والے انصاری صحابہ کے لئے چار چار ہزار درہم مقرر کئے اور شرکاء احد کے لئے تین تین ہزار مقرر کئے اور فرمایا جس نے ہجرت میں جلدی کی میں اسے عطا کرنے میں جلدی کروں گا اور جس نے ہجرت میں سستی کی میں اسے عطا کرنے میں سستی کروں گا اس لئے اگر کوئی شخص ملامت کرتا ہے تو صرف اپنی سواری کو ملامت کرے اور میں تمہارے سامنے خالد بن ولید کے حوالے سے معذرت کرتا ہوں دراصل میں نے انہیں یہ حکم دیا تھا کہ یہ مال صرف کمزور مہاجرین پر خرچ کریں لیکن انہوں نے جنگجوؤں ، معزز اور صاحب زبان لوگوں کو یہ مال دینا شروع کردیا اس لئے میں نے ان سے یہ عہدہ واپس لے کر حضرت ابوعبیدہ بن جراح کو دیدیا۔ اس پر ابوعمرو بن حفص بن مغیرہ کہنے لگے کہ اے عمر واللہ میں تمہارایہ عذر قبول نہیں کرتا آپ نے ایک ایسے گورنر کو معزول کیا ہے جسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مقرر کیا تھا آپ نے ایک ایسی تلوار کو نیام میں ڈال لیا جس کو اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سونتا تھا آپ نے ایک ایساجھنڈا سرنگوں کردیا جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے گاڑا تھا آپ نے قطع رحمی کی اور اپنے چچا زاد سے حسد کیا حضرت عمر نے یہ سب سن کر فرمایا کہ تمہاری ان کےساتھ زیادہ قریب رشتہ داری ہے یوں بھی تم نوعمر ہوں اور تمہیں اپنے چچا زاد بھائی کے حوالے سے زیادہ غصہ آیا ہوا ہے۔

عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ تعالى عَنْهُ ← ناشرة بن سمي اليزني ← عَلِیِّ بْنِ رَبَاحٍ، ← الْحَارِثِ بْنِ يَزِيدَ الْحَضْرَمِيِّ ← سَعِيدُ بْنُ يَزِيدَ وَهُوَ أَبُو شُجَاعٍ ← عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ مُبَارَكٍ ← عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16000

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16001

حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنِ النُّعْمَانِ الْأَنْصَارِيُّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ وَكَانَ قَدْ أَدْرَكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اكْتَحِلُوا بِالْإِثْمِدِ الْمُرَوَّحِ فَإِنَّهُ يَجْلُو الْبَصَرَ وَيُنْبِتُ الشَّعْرَ

حضرت معبد بن ہوذہ جنہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو پایا تھا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اثمد نامی ٹھنڈاسرمہ لگایا کرو کیونکہ یہ بینائی کو تیز کرتا ہے اور پلکوں کے بال اگاتا ہے۔

جَدِّهِ وَكَانَ قَدْ أَدْرَكَ النَّبِيَّ ← أَبِيهِ ← أَبُو النُّعْمَانِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنِ النُّعْمَانِ الْأَنْصَارِيُّ ← أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16001

chevron_left Previous
1…190191192…232
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    0. Chapter
2. Book
    0. Chapter
3. Book
    0. Chapter
4. Book
    0. Chapter
5. Book
    0. Chapter
6. Book
    0. Chapter
7. Book
    0. Chapter
8. Book
    0. Chapter
9. Book
    0. Chapter