Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند امام احمد بن حنبل

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble

by Musnad Imam Bin Hanble

28,221 Hadith18 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16584

قَالَ حَدَّثَنَا عَفَّانُ قَالَ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ يَحْيَى عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَاصِمٍ قَالَ لَمَّا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ يَوْمَ حُنَيْنٍ مَا أَفَاءَ قَالَ قَسَمَ فِي النَّاسِ فِي الْمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهُمْ وَلَمْ يَقْسِمْ وَلَمْ يُعْطِ الْأَنْصَارَ شَيْئًا فَكَأَنَّهُمْ وَجَدُوا إِذْ لَمْ يُصِبْهُمْ مَا أَصَابَ النَّاسَ فَخَطَبَهُمْ فَقَالَ يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ أَلَمْ أَجِدْكُمْ ضُلَّالًا فَهَدَاكُمْ اللَّهُ بِي وَكُنْتُمْ مُتَفَرِّقِينَ فَجَمَعَكُمْ اللَّهُ بِي وَعَالَةً فَأَغْنَاكُمْ اللَّهُ بِي قَالَ كُلَّمَا قَالَ شَيْئًا قَالُوا اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَمَنُّ قَالَ مَا يَمْنَعُكُمْ أَنْ تُجِيبُونِي قَالُوا اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَمَنُّ قَالَ لَوْ شِئْتُمْ لَقُلْتُمْ جِئْتَنَا كَذَا وَكَذَا أَمَا تَرْضَوْنَ أَنْ يَذْهَبَ النَّاسُ بِالشَّاةِ وَالْبَعِيرِ وَتَذْهَبُونَ بِرَسُولِ اللَّهِ إِلَى رِحَالِكُمْ لَوْلَا الْهِجْرَةُ لَكُنْتُ امْرَأً مِنْ الْأَنْصَارِ لَوْ سَلَكَ النَّاسُ وَادِيًا وَشِعْبًا لَسَلَكْتُ وَادِيَ الْأَنْصَارِ وَشِعْبَهُمْ الْأَنْصَارُ شِعَارٌ وَالنَّاسُ دِثَارٌ وَإِنَّكُمْ سَتَلْقَوْنَ بَعْدِي أَثَرَةً فَاصْبِرُوا حَتَّى تَلْقَوْنِي عَلَى الْحَوْضِ

حضرت عبداللہ بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ غزوہ حنین کے موقع پر اللہ تعالیٰ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو جب مال غنیمت عطاء فرمایا تو آپ نے اسے ان لوگوں میں تقسیم کردیا جو مؤلفۃ القلوب میں سے تھے، اور انصار کو اس میں سے کچھ بھی نہیں دیا، غالباً اس چیز کو انصار نے محسوس کیا کہ انہیں وہ نہیں ملا جو دوسرے لوگوں کو مل گیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم ہوا تو آپ نے ان کے سامنے خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا اے گروہ انصار! کیا میں نے تمہیں گم کردہ راہ نہیں پایا کہ اللہ نے میرے ذریعے تمہیں غنی کردیا؟ ان تمام باتوں کے جواب میں انصار صرف یہی کہتے رہے کہ اللہ اور اس کے رسول کا بہت بڑا احسان ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا بات ہے، تم کوئی جواب نہیں دیتے؟ انہوں نے پھر یہی کہا کہ اللہ اور اس کے رسول کا بہت بڑا احسان ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تم چاہتے تو یوں بھی کہہ سکتے تھے کہ آپ ہمارے پاس اس اس حال میں آئے تھے وغیرہ، کیا تم اس بات پر راضی نہیں کہ لوگ بکری اور اونٹ لے جائیں اور تم اپنے خیموں میں پیغمبر اللہ کو لے جاؤ، اگر ہجرت نہ ہوتی تو میں انصار ہی کا ایک فرد ہوتا، اگر لوگ کسی ایک راستے پر چل رہے ہوں تو میں انصار کے راستے پر چلوں گا، انصار میرے جسم کا لگا ہوا کپڑا ہیں اور باقی لوگ اوپر کا کپڑا ہیں اور تم میرے بعد ترجیحات دیکھو گے، سو اس وقت تم صبر کرنا یہاں تک کہ مجھ سے حوض پر آملو۔

عبد الله بن زيد بن عاصم ← عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ ← عَمْرُو بْنُ يَحْيَى، ← وُهَيْبٌ، ← عَفَّانُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16584

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16585

قَالَ حَدَّثَنَا عَفَّانُ قَالَ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ قَالَ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ يَحْيَى عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ قَالَ لَمَّا كَانَ زَمَنُ الْحَرَّةِ أَتَاهُ آتٍ فَقَالَ هَذَا ابْنُ حَنْظَلَةَ وَقَالَ عَفَّانُ مَرَّةً هَذَاكَ ابْنُ حَنْظَلَةَ يُبَايِعُ النَّاسَ قَالَ عَلَى أَيِّ شَيْءٍ يُبَايِعُهُمْ قَالَ عَلَى الْمَوْتِ قَالَ لَا أُبَايِعُ عَلَى هَذَا أَحَدًا بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

یحیی کہتے ہیں کہ کسی شخص نے حرہ کے موقع پر حضرت عبداللہ بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہا آئیے! ابن حنظلہ کے پاس چلیں جو لوگوں سے بیعت لے رہا ہے، انہوں نے پوچھا کہ وہ کس چیز پر بیعت لے رہا ہے؟ بتایا گیا کہ موت پر، انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد میں کسی شخص سے اس پر بیعت نہیں کر سکتا۔

لَا أُبَايِعُ عَلَی هَذَا أَحَدًا بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ ← عَلَی الْمَوْتِ ← عَلَى أَيِّ شَيْءٍ يُبَايِعُهُمْ ← عَفَّانُ مَرَّةً هَذَاكَ ابْنُ حَنْظَلَةَ يُبَايِعُ النَّاسَ ← هَذَا ابْنُ حَنْظَلَةَ ← لَمَّا کَانَ زَمَنُ الْحَرَّةِ أَتَاهُ آتٍ ← عَبْدِ اللہِ بْنِ زَیْدٍ: ← عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ ← عَمْرُو بْنُ يَحْيَى، ← وُهَيْبٌ، ← عَفَّانُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16585

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16586

حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ الْوَاسِطِيَّ الطَّحَّانَ عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَاصِمٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ مِنْ كَفٍّ وَاحِدٍ

حضرت عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ہی ہتھیلی سے کلی کی او رناک میں پانی ڈالا۔

عبد الله بن زيد بن عاصم ← أَبِيهِ ← عَمْرُو بْنُ يَحْيَى، ← خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ الْوَاسِطِيَّ الطَّحَّانَ ← خَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16586

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16587

قَالَ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ بَحْرٍ قَالَ حَدَّثَنَا الدَّرَاوَرْدِيُّ عَنْ عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ إِلَى الْمُصَلَّى يَسْتَسْقِي وَعَلَيْهِ خَمِيصَةٌ سَوْدَاءُ فَأَخَذَ بِأَسْفَلِهَا لِيَجْعَلَهَا أَعْلَاهَا فَثَقُلَتْ عَلَيْهِ فَقَلَبَهَا عَلَى عَاتِقِهِ

حضرت عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز استسقاء پڑھائی آپ نے اس وقت ایک سیاہ چادر اوڑھ رکھی تھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے نچلے حصے کو اوپر کی طرف کرنا چاہا لیکن مشکل ہوگیا، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دائیں جانب کو بائیں طرف اور بائیں جانب کو دائیں طرف کر لیا۔

عَبْدِ اللہِ بْنِ زَیْدٍ: ← عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ ← عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ ← الدَّرَاوَرْدِيُّ ← عَلِيُّ بْنُ بَحْرٍ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16587

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16588

قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ قَالَ حَدَّثَنَا أَبَانُ هُوَ الْعَطَّارُ قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ أَنَّهُ شَهِدَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمَنْحَرِ وَرَجُلًا مِنْ قُرَيْشٍ وَهُوَ يَقْسِمُ أَضَاحِيَّ فَلَمْ يُصِبْهُ مِنْهَا شَيْءٌ وَلَا صَاحِبَهُ فَحَلَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأْسَهُ فِي ثَوْبِهِ فَأَعْطَاهُ فَقَسَمَ مِنْهُ عَلَى رِجَالٍ وَقَلَّمَ أَظْفَارَهُ فَأَعْطَاهُ صَاحِبَهُ قَالَ فَإِنَّهُ لَعِنْدَنَا مَخْضُوبٌ بِالْحِنَّاءِ وَالْكَتَمِ يَعْنِي شَعْرَهُ

حضرت عبداللہ بن زید بن عبدربہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ وہ اور ایک قریشی آدمی منی کے میدان میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوئے، اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم قربانی کا گوشت تقسیم کر رہے تھے لیکن وہ انہیں یا ان کے ساتھی کو نہ مل سکا، اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کپڑے میں سر منڈوا کر بال رکھ لیے، اور وہ انہیں دے دیئے اور اس میں کچھ بال چند لوگوں کو بھی دیئے، پھر اپنے ناخن تراشے تو وہ ان کے ساتھی کو دے دیئے۔

مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ أَنَّ أَبَاهُ ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← يَحْيَى، يَعْنِي ابْنَ أَبِي كَثِيرٍ ← أَبَانُ هُوَ الْعَطَّارُ ← عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16588

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16589

قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا أَبَانُ الْعَطَّارُ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ حَدَّثَهُ أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ أَخْبَرَهُ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ شَهِدَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ الْمَنْحَرِ هُوَ وَرَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ فَقَسَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَحَايَا فَلَمْ يُصِبْهُ وَلَا صَاحِبَهُ شَيْءٌ فَحَلَقَ رَأْسَهُ فِي ثَوْبِهِ فَأَعْطَاهُ وَقَسَمَ مِنْهُ عَلَى رِجَالٍ وَقَلَّمَ أَظْفَارَهُ فَأَعْطَاهُ صَاحِبَهُ فَإِنَّ شَعْرَهُ عِنْدَنَا مَخْضُوبٌ بِالْحِنَّاءِ وَالْكَتَمِ

حضرت عبداللہ بن زید بن عبد ربہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ وہ اور ایک قریشی آدمی منی کے میدان میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوئے، اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم قربانی کا گوشت تقسیم کر رہے تھے لیکن وہ انہیں یا ان کے ساتھی کو نہ مل سکا، اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کپڑے میں سر منڈوا کر بال رکھ لیے، اور وہ انہیں دے دیئے اور اس میں کچھ بال چند لوگوں کو بھی دیئے، پھر اپنے ناخن تراشے تو وہ ان کے ساتھی کو دے دیئے۔حضرت عبداللہ کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے وہ بال جن پر مہندی اور وسمہ کا خضاب کیا گیا تھا، آج بھی ہمارے پاس موجود ہیں۔

أن محمد بن عبد الله بن زيد ← يَحْيَی بْنِ أَبِي کَثِيرٍ أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ ← أَبَانُ الْعَطَّارُ ← أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16589

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16590

قَالَ حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ أَبُو الْحُسَيْنِ الْعُكْلِيُّ قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو سَهْلٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو قَالَ أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ عَنْ عَمِّهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ أَنَّهُ أُرِيَ الْأَذَانَ قَالَ فَجِئْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْتُهُ فَقَالَ أَلْقِهِ عَلَى بِلَالٍ فَأَلْقَيْتُهُ فَأَذَّنَ قَالَ فَأَرَادَ أَنْ يُقِيمَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنَا رَأَيْتُ أُرِيدُ أَنْ أُقِيمَ قَالَ فَأَقِمْ أَنْتَ فَأَقَامَ هُوَ وَأَذَّنَ بِلَالٌ

حضرت عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں خواب میں اذان کے کلمات سیکھ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور یہ خواب بیان کیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ کلمات بلال کو سکھا دو، چنانچہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! چونکہ یہ خواب میں نے دیکھا ہے، اس لئے میری خواہش ہے کہ اقامت میں کہوں ، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اقامت کہنے کی اجازت دے دی، اس طرح اقامت انہوں نے کہی اور اذان حضرت بلال نے دی۔

فَأَرَادَ أَنْ يُقِيمَ فَقُلْتُ ← فَجِئْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ فَأَخْبَرْتُهُ فَقَالَ أَلْقِهِ عَلَى بِلَالٍ فَأَلْقَيْتُهُ فَأَذَّنَ ← عَمِّهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ أَنَّهُ أُرِيَ الْأَذَانَ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ ← أَبُو سَهْلٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ← زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ أَبُو الْحُسَيْنِ الْعُكْلِيُّ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16590

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16591

قَالَ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ قَالَ أَخْبَرَنَا أَبِي عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ وَذَكَرَ مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ الزُّهْرِيُّ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَبْدِ رَبِّهِ قَالَ لَمَّا أَجْمَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَضْرِبَ بِالنَّاقُوسِ يَجْمَعُ لِلصَّلَاةِ النَّاسَ وَهُوَ لَهُ كَارِهٌ لِمُوَافَقَتِهِ النَّصَارَى طَافَ بِي مِنْ اللَّيْلِ طَائِفٌ وَأَنَا نَائِمٌ رَجُلٌ عَلَيْهِ ثَوْبَانِ أَخْضَرَانِ وَفِي يَدِهِ نَاقُوسٌ يَحْمِلُهُ قَالَ فَقُلْتُ لَهُ يَا عَبْدَ اللَّهِ أَتَبِيعُ النَّاقُوسَ قَالَ وَمَا تَصْنَعُ بِهِ قُلْتُ نَدْعُو بِهِ إِلَى الصَّلَاةِ قَالَ أَفَلَا أَدُلُّكَ عَلَى خَيْرٍ مِنْ ذَلِكَ قَالَ فَقُلْتُ بَلَى قَالَ تَقُولُ اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ قَالَ ثُمَّ اسْتَأْخَرْتُ غَيْرَ بَعِيدٍ قَالَ ثُمَّ تَقُولُ إِذَا أَقَمْتَ الصَّلَاةَ اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ قَدْ قَامَتْ الصَّلَاةُ قَدْ قَامَتْ الصَّلَاةُ اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ قَالَ فَلَمَّا أَصْبَحْتُ أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْتُهُ بِمَا رَأَيْتُ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ هَذِهِ لَرُؤْيَا حَقٌّ إِنْ شَاءَ اللَّهُ ثُمَّ أَمَرَ بِالتَّأْذِينِ فَكَانَ بِلَالٌ مَوْلَى أَبِي بَكْرٍ يُؤَذِّنُ بِذَلِكَ وَيَدْعُو رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الصَّلَاةِ قَالَ فَجَاءَهُ فَدَعَاهُ ذَاتَ غَدَاةٍ إِلَى الْفَجْرِ فَقِيلَ لَهُ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَائِمٌ قَالَ فَصَرَخَ بِلَالٌ بِأَعْلَى صَوْتِهِ الصَّلَاةُ خَيْرٌ مِنْ النَّوْمِ قَالَ سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ فَأُدْخِلَتْ هَذِهِ الْكَلِمَةُ فِي التَّأْذِينِ إِلَى صَلَاةِ الْفَجْرِ

حضرت عبداللہ بن زید بن عبدربہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو نماز کے لئے جمع کرنے کے طریقہ کار میں ناقوس بجانے پر اتفاق رائے کر لیاگو کہ نصاری کے ساتھ مشابہت کی وجہ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اس سے کراہت بھی ظاہر تھی تو رات کو خواب میں میرے پاس ایک آدمی آیا اس نے دو سبز کپڑے پہن رکھے تھے اور اس کے ہاتھ میں ایک ناقوس تھا جو اس نے اٹھا رکھا تھا، میں نے اس سے کہا اے بندہ خدا! یہ ناقوس بیچوگے؟ اس نے پوچھا کہ تم اس کا کیا کرو گے؟ میں نے کہ ہم اسے بجا کر لوگوں کو نماز کی دعوت دیا کریں گے، اس نے کہا کہ کیا میں تمہیں اس سے بہتر طریقہ نہ بتادوں ؟ میں نے کہا کیوں نہیں ۔ اس نے کہا تم یوں کہا کرو ۔ اللہ اکبر اللہ اکبر، اللہ اکبر اللہ اکبر، اشہد ان لا الہ الا اللہ، اشہد ان لا الہ الا اللہ، اشہد ان محمدا رسول اللہ، اشہد ان محمدا رسول اللہ، حی علی الصلاۃ حی علی الصلاۃ، حی علی الفلاح حی علی الفلاح، اللہ اکبر اللہ اکبر، لا الہ الا اللہ۔ پھر کچھ ہی دیر بعد اس نے کہا کہ جب نماز کھڑی ہونے لگے تو تم یوں کہا کرو اور آگے وہی کلمات ایک ایک مرتبہ بتائے، اور حی علی الفلاح کے بعد دو مرتبہ قد قامت الصلاۃ کا اضافہ کردیا، جب صبح ہوئی تو میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اپنا خواب بیان کیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انشاء اللہ یہ خواب سچا ہوگا، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اذان کا حکم دیا تو حضرت ابوبکر صدیق کے آزاد کردہ غلام حضرت بلال اذان دینے لگے اور نماز کی طرف بلانے لگے، ایک دن وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور فجر کے لئے اذان دی، کسی نے انہیں بتایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سو رہے ہیں ، تو انہوں نے بلند آواز سے پکار کر کہا الصلاۃ خیر من النوم، سعید بن مسیب کہتے ہیں کہ اس وقت سے فجر کی اذان میں یہ کلمہ بھی شامل کر لیا گیا۔

لما أجمع رسول الله ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَبْدِ رَبِّهِ ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ الزُّهْرِيُّ، ← ابْنِ إِسْحَاقَ، ← أَبِي ← يَعْقُوبُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16591

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16592

قَالَ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ قَالَ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ التَّيْمِيُّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَبْدِ رَبِّهِ قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ زَيْدٍ قَالَ لَمَّا أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالنَّاقُوسِ لِيُضْرَبَ بِهِ لِلنَّاسِ فِي الْجَمْعِ لِلصَّلَاةِ طَافَ بِي وَأَنَا نَائِمٌ رَجُلٌ يَحْمِلُ نَاقُوسًا فِي يَدِهِ فَقُلْتُ لَهُ يَا عَبْدَ اللَّهِ أَتَبِيعُ النَّاقُوسَ قَالَ مَا تَصْنَعُ بِهِ قَالَ فَقُلْتُ نَدْعُو بِهِ إِلَى الصَّلَاةِ قَالَ أَفَلَا أَدُلُّكَ عَلَى مَا هُوَ خَيْرٌ مِنْ ذَلِكَ قَالَ فَقُلْتُ لَهُ بَلَى قَالَ تَقُولُ اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ثُمَّ اسْتَأْخَرَ غَيْرَ بَعِيدٍ ثُمَّ قَالَ تَقُولُ إِذَا أُقِيمَتْ الصَّلَاةُ اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ قَدْ قَامَتْ الصَّلَاةُ قَدْ قَامَتْ الصَّلَاةُ اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ فَلَمَّا أَصْبَحْتُ أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْتُهُ بِمَا رَأَيْتُ فَقَالَ إِنَّهَا لَرُؤْيَا حَقٌّ إِنْ شَاءَ اللَّهُ فَقُمْ مَعَ بِلَالٍ فَأَلْقِ عَلَيْهِ مَا رَأَيْتَ فَلْيُؤَذِّنْ بِهِ فَإِنَّهُ أَنْدَى صَوْتًا مِنْكَ قَالَ فَقُمْتُ مَعَ بِلَالٍ فَجَعَلْتُ أُلْقِيهِ عَلَيْهِ وَيُؤَذِّنُ بِهِ قَالَ فَسَمِعَ بِذَلِكَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ وَهُوَ فِي بَيْتِهِ فَخَرَجَ يَجُرُّ رِدَاءَهُ يَقُولُ وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ لَقَدْ رَأَيْتُ مِثْلَ الَّذِي أُرِيَ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلِلَّهِ الْحَمْدُ

حضرت عبداللہ بن زید بن عبدربہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو نماز کے لئے جمع کرنے کے طریقہ کار میں ناقوس بجانے پر اتفاق رائے کر لیاگو کہ نصاری کے ساتھ مشابہت کی وجہ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اس سے کراہت بھی ظاہر تھی تو رات کو خواب میں میرے پاس ایک آدمی آیا اس نے دو سبز کپڑے پہن رکھے تھے اور اس کے ہاتھ میں ایک ناقوس تھا جو اس نے اٹھا رکھا تھا، میں نے اس سے کہا اے بندہ خدا! یہ ناقوس بیچو گے؟ اس نے پوچھا کہ تم اس کا کیا کرو گے؟ میں نے کہ ہم اسے بجا کر لوگوں کو نماز کی دعوت دیا کریں گے، اس نے کہا کہ کیا میں تمہیں اس سے بہتر طریقہ نہ بتادوں ؟ میں نے کہا کیوں نہیں ۔ اس نے کہا تم یوں کہا کرو ۔ اللہ اکبر اللہ اکبر، اللہ اکبر اللہ اکبر، اشہد ان لا الہ الا اللہ، اشہد ان لا الہ الا اللہ، اشہد ان محمدا رسول اللہ، اشہد ان محمدا رسول اللہ، حی علی الصلاۃ حی علی الصلاۃ، حی علی الفلاح حی علی الفلاح، اللہ اکبر اللہ اکبر، لا الہ الا اللہ۔ پھر کچھ ہی دیر بعد اس نے کہا کہ جب نماز کھڑی ہونے لگے تو تم یوں کہا کرو اور آگے وہی کلمات ایک ایک مرتبہ بتائے، اور حی علی الفلاح کے بعد دو مرتبہ قد قامت الصلاۃ کا اضافہ کردیا، جب صبح ہوئی تو میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اپنا خواب بیان کیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انشاء اللہ یہ خواب سچا ہوگا، تم بلال کے ساتھ کھڑے ہو کر اسے یہ کلمات بتاتے جاؤ او روہ اذان دیتا جائے، کیونکہ اس کی آواز تم سے زیادہ اونچی ہے، چنانچہ میں حضرت بلال کے ساتھ کھڑا ہوگیا، میں انہیں یہ کلمات بتاتا جاتا اور وہ اذان دیتے جاتے تھے، حضرت عمر نے اپنے گھر میں جب اذان کی آواز سنی تو چادر گھسیٹتے ہوئے نکلے، اور کہنے لگے کہ اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے، میں نے بھی اسی طرح کا خواب دیکھا ہے، اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا فللہ الحمد۔

عَبْدِ اللہِ بْنِ زَیْدٍ: ← مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَبْدِ رَبِّهِ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ التَّيْمِيِّ، ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبِي ← يَعْقُوبُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16592

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16593

قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ مُبَارَكٍ عَنْ مَعْمَرٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ مَحْمُودِ بْنِ رَبِيعٍ عَنْ عِتْبَانَ بْنِ مَالِكٍ قَالَ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضُحًى وَسَلَّمْنَا حِينَ سَلَّمَ وَأَنَّهُ يَعْنِي صَلَّى بِهِمْ فِي مَسْجِدٍ عِنْدَهُمْ

حضرت عتبان سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے چاشت کی نماز پڑھی، جس وقت آپ نے سلام پھیرا، ہم بھی سلام پھیر کر فارغ ہو گئے، یہ نماز نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی مسجد میں پڑھی تھی۔

عِتْبَانَ بْنِ مَالِكٍ: ← مَحْمُودِ بْنِ رَبِيعِ ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← ابْنُ مُبَارَكٍ، ← يَحْيَی بْنُ آدَمَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16593

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16594

قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ الزُّهْرِيِّ فَسُئِلَ سُفْيَانُ عَمَّنْ قَالَ هُوَ مَحْمُودٌ إِنْ شَاءَ اللَّهُ أَنَّ عِتْبَانَ بْنَ مَالِكٍ كَانَ رَجُلًا مَحْجُوبَ الْبَصَرِ وَأَنَّهُ ذَكَرَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ التَّخَلُّفَ عَنْ الصَّلَاةِ قَالَ هَلْ تَسْمَعُ النِّدَاءَ قَالَ نَعَمْ قَالَ فَلَمْ يُرَخِّصْ لَهُ

حضرت عتبان بن مالک کی بینائی انتہائی کمزور تھی (تقریبا نابینا تھے) انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بات کا تذکرہ کیا کہ وہ جماعت کی نماز سے رہ جاتے ہیں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا کہ کیا تم اذان کی آواز سنتے ہو؟ انہوں نے کہا جی ہاں ! تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں عدم حاضری کی رخصت نہ دی۔

هُوَ مَحْمُودٌ ← الزُّهْرِيِّ فَسُئِلَ سُفْيَانُ عَمَّنْ ← سُفْيَانَ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16594

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16595

قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ قَالَ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ بْنُ حُسَيْنٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ مَحْمُودِ بْنِ الرَّبِيعِ أَوْ الرَّبِيعِ بْنِ مَحْمُودٍ شَكَّ يَزِيدُ عَنْ عِتْبَانَ بْنِ مَالِكٍ قَالَ أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ إِنِّي رَجُلٌ ضَرِيرُ الْبَصَرِ وَبَيْنِي وَبَيْنَكَ هَذَا الْوَادِي وَالظُّلْمَةُ وَسَأَلْتُهُ أَنْ يَأْتِيَ فَيُصَلِّيَ فِي بَيْتِي فَأَتَّخِذَ مُصَلَّاهُ مُصَلًّى فَوَعَدَنِي أَنْ يَفْعَلَ فَجَاءَ هُوَ وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ فَتَسَامَعَتْ بِهِ الْأَنْصَارُ فَأَتَوْهُ وَتَخَلَّفَ رَجُلٌ مِنْهُمْ يُقَالُ لَهُ مَالِكُ بْنُ الدُّخْشُنِ وَكَانَ يُزَنُّ بِالنِّفَاقِ فَاحْتَبَسُوا عَلَى طَعَامٍ فَتَذَاكَرُوا بَيْنَهُمْ فَقَالُوا مَا تَخَلَّفَ عَنَّا وَقَدْ عَلِمَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَارَنَا إِلَّا لِنِفَاقِهِ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ وَيْحَهُ أَمَا شَهِدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ بِهَا مُخْلِصًا فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ حَرَّمَ النَّارَ عَلَى مَنْ شَهِدَ بِهَا

حضرت عتبان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ میری نظر کمزور ہے اور میرے اور آپ کے درمیان یہ وادی اور ظلمت بھی حائل ہے ، آپ کسی وقت تشریف لا کر میرے گھر میں نماز پڑھ دیں تو میں اسے ہی اپنے لئے جائے نماز منتخب کر لوں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے ایسا کرنے کا وعدہ کر لیا، چنانچہ ایک دن حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے ، انصار کے کانوں تک یہ بات پہنچی تو وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کے لئے آنے لگے ، لیکن ایک آدمی " جس کا نام مالک بن وخش تھا " آنے سے رہ گیا اور لوگ اس پر نفاق کا طعنہ اور الزام پہلے ہی سے لگاتے تھے۔ لوگ کھانے کے وقت تک رکے رہے اور آپس میں باتیں کرنے لگے، باتوں باتوں میں وہ کہنے لگے کہ اسے پتہ بھی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے یہاں تشریف لائے ہیں لیکن وہ محض اپنے نفاق کی وجہ سے ہی پیچھے رہ گیا ہے، اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ رہے تھے، نماز سے فارغ ہو کر فرمانے لگے افسوس! کیا وہ خلوص جل کے ساتھ " لا الہ اللہ " کی گواہی نہیں دیتا ؟ جو شخص اس کلمے کی گواہی دیتا ہے، اللہ نے اس پر جہنم کی آگ حرام قرار دے دی ہے۔

أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ فَقُلْتُ إِنِّي رَجُلٌ ضَرِيرُ الْبَصَرِ وَبَيْنِي وَبَيْنَكَ هَذَا الْوَادِي ← عِتْبَانَ بْنِ مَالِكٍ: ← مَحْمُودِ بْنِ الرَّبِيعِ أَوْ الرَّبِيعِ بْنِ مَحْمُودٍ شَكَّ يَزِيدُ ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانُ بْنُ حُسَيْنٍ ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16595

chevron_left Previous
1…181920…232
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    0. Chapter
2. Book
    0. Chapter
3. Book
    0. Chapter
4. Book
    0. Chapter
5. Book
    0. Chapter
6. Book
    0. Chapter
7. Book
    0. Chapter
8. Book
    0. Chapter
9. Book
    0. Chapter