Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Jumada I 7, 1448 AH · Oct 17, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند امام احمد بن حنبل

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble

by Musnad Imam Bin Hanble

28,221 Hadith18 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 15643

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ يَعْلَى بْنُ عَطَاءٍ أَنْبَأَنِي قَالَ سَمِعْتُ عُمَارَةَ بْنَ حَدِيدٍ رَجُلٌ مِنْ بَجِيلَةَ قَالَ سَمِعْتُ صَخْرًا الْغَامِدِيَّ رَجُلٌ مِنْ الْأَزْدِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ اللَّهُمَّ بَارِكْ لِأُمَّتِي فِي بُكُورِهَا قَالَ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا بَعَثَ سَرِيَّةً بَعَثَهُمْ أَوَّلَ النَّهَارِ وَكَانَ صَخْرٌ رَجُلًا تَاجِرًا وَكَانَ لَهُ غِلْمَانٌ فَكَانَ يَبْعَثُ غِلْمَانَهُ مِنْ أَوَّلِ النَّهَارِ قَالَ فَكَثُرَ مَالُهُ حَتَّى كَانَ لَا يَدْرِي أَيْنَ يَضَعُهُ

حضرت صخر غامدی سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا فرماتے تھے کہ اے اللہ میری امت کے پہلے اوقات میں برکت عطا فرما خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب کوئی لشکر روانہ کرتے تو اس لشکر کو دن کے ابتدائی حصے میں بھیجتے تھے اور راوی حدیث حضرت صخر تاجر آدمی تھے یہ بھی اپنے نوکروں کو صبح سویرے ہی بھیجتے تھے نتیجہ یہ ہوا کہ ان کے پاس مال دولت کی اتنی کثرت ہوگئی تھی کہ انہیں یہ سمجھ میں نہیں آتی تھی کہ اپنا مال دولت کہاں رکھیں ۔

صَخْرًا الْغَامِدِيَّ رَجُلٌ مِنْ الْأَزْدِ ← عُمَارَةَ بْنَ حَدِيدٍ رَجُلٌ مِنْ بَجِيلَةَ ← يَعْلَى بْنُ عَطَاءٍ ← شُعْبَةُ، ← عَفَّانُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 15643

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 15644

حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ حَدَّثَنِی یَحْیَی بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْعَصْرِیُّ حَدَّثَنَا شِھَابُ بْنُ عَبَّادٍ اَنَّہٗ سَمِعَ بَعْضَ وَفْدِ عَبْدِ الْقَیْسِ وَھُمْ یَقُولُونَ قَدِمْنَا عَلَی رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَاشْتَدَّ فَرَحُھُمْ بِنَا فَلَمَّا انْتَھَیْنَا إِلَی الْقَوْمِ أَوْسَعُوا لَنَا فَقَعَدْنَا فَرَحَّبَ بِنَا النَّبِیُّ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَدَعَا لَنَا ثُمَّ نَظَرْ إِلَیْنَا فَقَالَ مَنْ سَیَّدُکُمْ وَزَعِیمُکُمْ فَاَشَرْنَا بِأَجْمَعِنَا إِلَی الْمُنْذِرِ بْنِ عَائِذٍ فَقَالَ النَّبِیُّ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اَھَدَا الْاَشَجُّ وَکَانَ أَوَّلَ یَوْمٍ وُضِعَ عَلَیْہِ ھَذَا اِلاسْمُ بِضَرْبَۃٍ لِوَجْھِہِ بِحَافِرِ حِمَارٍ قُلْنَا نَعَمْ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِتَخَلَّفَ بَعْدَ الْقَوْمِ فَعَقَلَ رَوَاحِلَھُمْ وَضَمَّ مَتَاعَھُمْ ثُمَّ أَخْرَجَ عَیْبَتَہُ فَاَلْقَی عَنْہُ ثِیَابَ السَّفَرِ وَلَبِسَ مِنْ صَالِحِ ثِیَابِہِ ثُمَّ أَقْبَلَ إِلَّی النَّبِیَّ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَقَدْ بَسَطَ النَّبِیُّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَاسْتَوَی قَاعِدًا وَقَبَضَ رِجْلَہُ ھَاھُنَا یَا أَشَجُّ فَقَعَدَ عَنْ یَمِینٍ النَّبِیَّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَرَحَّبَ بِہِ وَاَلْطَفَہُ وَسَأَلَہُ عَنْ بِلَادِہِ وَسَمَّی لَہُ قَرْیَۃً قَرْیَۃً الصَّفَا وَالْمُشَقَّرَ وَغَیْرَ ذَلِکَ مِنْ قُرَی ھَجَرَ فَقَالَ بِأَبِی وَأُمَّی یَا رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَأَنْتَ أَعْلَمُ بِأَسْمَاءِ قُرَانَا مِنَّا فَقَالَ إِنَّی قَدْ وَطِئْتُ بِلَاہَ کُمْ وَفُسِحَ لِی فِیھَا قَالَ ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَی الْأَنْصَارِ فَقَالَ یَا مَعْشَرَ الْاَنْصَارِ اَکْرِمُوا إِخْووَانَکُمْ فَإِنَّھُمْ أَشْبَاھُکُمْ فِی الْإِسْلَامِ أَشْبَہُ شَیْئًا بِکُمْ أَشْعَارًا وَأَبْشَارًا اَسْلَمُوا طَائِعِینَ غَیْرَ مُکْرَھِینَ وَلَا مَوْتُورِینَ إِذْ أَبَی قَوْمٌ أَنْ یُسْلِمُوا حَتَّی قُتِلُوا قَالَ فَلَمَّا أَنْ أَصْبَحُوا قَالَ کَیْفَ رَأَیْتُمُ کَرَامَۃَ إِخْوَانِکُمْ وَضِیَافَتَھُمْ إِیَّاکُمْ قَالُوا خَیْرَ إِخْوَانٍ أَلَانُوا فِرَاشَنَا وَاَطَابُوا مَطْعَمَنَا وَیَاتُوا وَاَصْبَحُوا یُعَلَّمُو نَا کِتَابَ رَبَّنَا تَبَارَکَ وَتَعَالَی وَسُنَّۃَ نَبِیَّنَا صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَأَعْجَبَتْ النَّبِیَّ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَفَرِحَ بِھَا ثُمَّ اَقْبَلَ عَلَیْنَا رَجُلًا رَجُلًا فَعَرَضْنَا عَلَیْہِ مَا تَعَلَّمْنَا وَعَلِمْنَا فَمِنَّا مَنْ عَلِمَ التَّحِیَّاتِ وَاُمَّ الْکِتَابِ وَالسُّورَۃَ وَالسُّورَتَیْنِ وَالسُّنَنَ ثُمَّ اَقْبَلَ عَلَیْنَا بِوَجْھِہِ فَقَالَ ھَلْ مَعَکُمْ مِنْ اَزْوَادِکُمْ شَیْءٌ فَفَرِحَ الْقَوْمُ بِذَلِکَ وَابْتَدَرُوارِحَالَھُمْ فَاَقْبَلَ کُلُّ رَجُلٍ مِنْھُمْ مَعَہُ صُرَّۃٌ مِنْ تَمْرٍ فَوَضَعُوھَا عَلَی نِطْعٍ بَیْنَ یَدَیْہِ فَاَوْمَاَ بِجَرِیدَۃٍ فِی یَدِہِ کَانَ یَخْتَصِرُ بِھَا فَوْقَ الدَّرَاعِ وَدُونَ الذَّرَاعَیْنِ فَقَالَ أَتُسَمُّونَ ھَذَا التَّعْضُوضَ قُلْنَا نَعَمْ ثُمَّ اَوْمَاَ إِلَی صُرَّۃٍ اُخْرَی فَقَالَ اَتُسَمُّونَ ھَذَا الصَّرَفَانَ قُلْنَا نَعَمْ اَوْمَاَ إِلَی صُرَّۃٍ فَقَالَ أَتُسَمُّونَ ھَذَا الْبَرْنِیَّ قُلْنَا نَعَمْ فَقَالَ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اَمَا إِنَّہُ خَیْرُ تَمْرِکُمْ وَاَنْفَعُہُ لَکُمْ قَالَ فَرَجَعْنَا مِنْ وِفَادَتِنَا تِلْکَ فَاَکْثَرْنَا الْغَرْزَ مِنْہُ وَعَظُمَتْ رَغْبَتُنَا فِیہِ حَتَّی صَارَ معْظَمَ نَخْلِنَا وَتَمْرِنَا الْبَرْنِیُّ فَقَالَ الْاَشَجُّ یَا رَسُولَ اللہِ إِنَّ اَرْضَنَا اَرْضَ ثَقِیلَۃٌ وَخِمَۃٌ وَإِنَّا إِذَا لَمْ تَشْرَبْ ھَذِہِ الْاَشْرِبَۃَ ھِیجَتْ اَلْوَانْنَا وَعَظُمَتْ بُطُونُنَا فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَا تَشْرَبُوا فِی الدُّبَّاءِ وَالْحَنْتَمِ وَالنَّقِیرِ وَالْیَشْرَبُ اَحَدُکُمْ فِی سِقَاءٍ بُلَاثُ عَلَی فِیہِ فَقَالَ لَہُ الْاَشَجُّ بِاَبِی وَاُمَّی یَا رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ رَخَّصْ لَنَا فِی مِثْلِ ھَذِہِ وَاَوْمَاَ بِکَفَّیہِ فَقَالَ یَا اَشَجُّ إِلَّی إِنْ رَخَّصْتُ لَکَ فِی مِثْلِ ھَذِہِ وَقَالَ بِکَفَّیْہِ ھَکَذَا شَرِبْتَہُ فِی مِثْلِ ھَذِہِ وَفَرَّجَ یَدَیْہِ وَبَسَطَھَا یَعْنِی اَعْظَمَ مِنْھَا حَتَّی إِذَا ثَمِلَ اَحَدُکُمْ مِنْ شَرَابِہِ قَامَ إِلَی ابْنِ عَمَّہِ فَھَزَرَ سَاقَہُ بِالسَّیْفِ وَکَانَ فِی الْوَفْذِ رَجُلٌ مِنْ بَنِی عَضَلِ یُقَالُ لَہُ الْحَارِثُ قَدْ ھُزِرَتْ سَافُہُ فِی شَرَابٍ لَھُمْ فِی بَیْتٍ تَمَثَّلَہُ مِنْ الشَّعْرِفِی امْرَاَۃٍ مِنْھُمْ فَقَامَ بَعْضُ اَھْلِ ذَلِکَ الْبَیْتِ فَھَزَرَ سَاقَہُ بِالسَّیْفِ فَقَالَ الْحَارِثُ لَمَّا سَمِعْتُھَا مِنْ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ جَعَلْتُ اَسْدُلُ ثَوْبِی فَاُغَطَّی الضَّرْبَۃَ بِسَاقِی وَقَدْ اَبْدَاھَا اللہُ تَبَارَکَ وَتَعَالَی

وفد عبد القیس کے کچھ لوگ بیان کرتے ہیں کہ ہم لوگ جب نبیﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو لوگوں کی خوشی کا کوئی ٹکھانہ ہی نہیں رہا ، جب ہم لوگوں کےک پاس گئے تو انہوں نے ہمارے لئے جگہ کشادہ کر دی ، ہم لوگ وہاں جا کر بیٹھ گئے ، نبیﷺ نے ہمیں خوش آمدید کہا ، ہمیں دعائیں دیں اور ہماری طرف دیکھ کر فرمایا کہ تمہارا سردار کون ہے ؟ ہم سب نے منذربن عائذ کی طرف اشارہ کر دیا ، نبیﷺ نے فرمایا کیا یہی اشج ہیں ؟ اصل میں ان کے چہرے پر گدھے کے کھر کی چوٹ کا نشان تھا ، یہ پہلا دن تھا جب ان کا یہ نام پڑا ، ہم نے عرض کیا جی یا رسول اللہ !اس کے بعد کچھ لوگ جو پیچھے رہ گئے تھے ، انہوں نے اپنی سواریوں کو باندھا ، سامان سمیٹا ، پرا گندگی کو دور کیا ، سفر کے کپڑے اتارے ، عمدہ کپڑے زیب تن کیے ، پھر نبیﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے ، نبیﷺ نے اپنے مبارک پاؤں پھیلا کر پیچھے سے ٹیک لگائی ہوئی تھی ، جب ’’ اشج ‘‘ قریب پہنچے تو لوگوں نے ان کے لئے جگہ کشادہ کی اور کہا کہ اے اشج ! یہاں تشریف لائیے، نبیﷺ بھی سیدھے ہو کر بیٹھ گئے اور پاؤں سمیٹ لئے اور فرمایا اشج ! یہاں آؤں ، چنانچہ وہ نبیﷺ کی دائیں جانب جا کر بیٹھ گئے ، نبیﷺ نے انہیں خوش آمدید کہا اور ان کے ساتھ لطف و کرم سے پیش آئے ، اور ان کےشہروں کے متعلق دریافت فرمایا اور ایک ایک بستی مثلاً صفا ، مثقر وغیرہ دیگر بستیوں کے نام لئے ، انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ, میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ، آپ کو تو ہماری بستیوں کے نام ہم سے بھی زیادہ اچھی طرح معلوم ہیں ، نبیﷺ نے فرمایا کہ میں تمہارے علاقوں میں گیا ہوا ہوں اور وہا ں میرے ساتھ کشادگی کا معاملہ رہا ہے۔ پھر نبیﷺ نے انصار کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا اے گروہ انصار ! اپنے بھائیوں کا اکرام کرو ، کہ یہ اسلام میں تمہارے مشابیہ ہیں ، ملاقات اور خوشخبریوں میں تمہارے سب سے زیادہ مشابہہ ہیں ، یہ لوگ اپنی رغبت سے بلا کسی جبرواکراہ یا ظلم کے اس وقت اسلام لائے ہیں جبکہ دوسرے لوگوں نے اسلام لانے سے انکار کر دیا اور قتل ہو گئے ۔اگلے دن نبیﷺ نے ان سے پوچھا کہ تم نے اپنے بھائیوں کا اکرام اور میزبانی کا طریقہ کیسا پایا ؟ انہوں نے جواب دیا یہ لوگ بہترین بھائی ثابت ہوئے ہیں ، انہوں نے ہمیں نرم گرم بستر مہیا کیے ، بہترین کھانا کھلایا اور صبح و شام ہمیں اپنے رب کی کتاب اپنے اور نبی کی سنت سکھاتے رہے ، نبیﷺ یہ سن کر بہت خوش ہوئے ، پھر ہم سب کی طرف فرداً فرداً متوجہ ہوئے اور ہم نے نبیﷺ کے سامنے وہ چیزیں پیش کیں جو ہم نے سیکھی تھیں ، اور نبیﷺ نے بھی ہمیں کچھ باتیں سکھائیں ، ہم میں سے بعض لوگ وہ بھی تھے جنہوں نے التحیات ، سورۂ فاتحہ ، ایک دو سورتیں اور کچھ سنتیں سیکھی تھیں ۔اس کےبعد نبیﷺ نے ہماری طرف متوجہ ہو کر فرمایا کہ کیا تم لوگوں کے پاس زادِراہ ہے ؟ لوگ خوشی سے اپنے اپنے خیموں کی طرف دوڑے اور ہر آدمی اپنے ساتھی کھجوروں کی تھیلی لے آیا ، اور لا کر نبیﷺ کےسامنے ایک دستر خوان پر رکھ دیا نبیﷺ نے اپنے دست مبارک سے جو تپھڑی پکڑی ہوئی تھی ’’ اور کبھی کبھی آپﷺ سے اپنی کوکھ میں چبھاتے تھے ، جو ایک گز سے لمبی اور دو گز سے چھوٹی تھی ‘‘ سے اشارہ کر کے فرمایا کیا تم اسے ’’ تعضوض‘‘ کہتے ہو ؟ ہم نے عرض کیا جی ہاں ! پھر دوسری تھیلی کی طرف اشارہ کر کے فرمایا کیا تم اسے ’’برفی ‘‘ کہتے ہو ؟ ہم نے عرض کیا جی ہاں ! نبی ﷺ نے فرمایا یہ سب سے زیادہ بہترین اور فائدہ مند کھجور ہے۔ہم اپنا وہ کھانا لے کر واپس آئے تو ہم نے سوچاکہ اب سب سے زیادہ اسے اگائیں گے اور اس سلسلے میں ہماری رغبت میں اضافہ ہو گیا ، حتٰی کہ ہمارے اکثر باغات میں برفی کھجور لگنے لگی ، اسی دوران اشج کہنے لگے یا رسول اللہ ! ہمارا علاقہ بنجر اور شور علاقہ ہے ،اگر ہم یہ مشروبات نہ پئیں تو ہمارے رنگ بدل جائیں اور پیٹ بڑھ جائیں ؟ نبیﷺ نے فرمایا دباء حنتم اور نقیر میں کچھ نہ پیا کرو ، بلکہ تمہیں اپنے مشکیزے سے پینا چاہئے ۔اشج کہنے لگے یا رسول اللہ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ، ہمیں اتنی مقدار کی ( دونوں ہاتھوں کی ہتھیلیوں سے اشارہ کر کے کہا ) اجازت دے دیں ؟ نبیﷺ نے بھی اپنے اپنے ہاتھو کو ہتھیللیوں سے اشارہ کر کے فرمایا اگر میں تمہیں اتنی مقدار کی اجازت دے دوں تو تم اتنی مقدار پینے لگے گے ، یہ کہہ کر آپﷺ نے ہاتھوں کو کشادہ کیا ، مطلب یہ تھا کہ اس مقدار سے آگے نکل جاؤ گے ، حتیٰ کہ جب تم میں سے کوئی شخص نشے سے مدہوش ہو جائے گا تو اپنے ہی چچا زاد کی طرف بڑھ کر تلوار سے اس کی پنڈلی کاٹ دے گا۔دراصل اس فد میں ایک آدمی بھی تھا ’’ جس کا تعلق بنو عصر سے تھا اور اس کا نام حارث تھا ‘‘ اس کی پنڈلی ایسے ہی ایک موقع پر کٹ گئی تھی جبکہ انہوں نے ایک گھر میں اپنے ہی قبیلے کی ایک عورت کے متعلق اشعار کہتے ہوئے شراب پی تھی ، اور اسی دوران اہل خانہ میں سے ایک شخص نے نشے سے مدہوش ہو کر اس ی پنڈلی کاٹ ڈالی تھی ، حارث کا کہنا ہے کہ جب میں نے نبیﷺ کے منہ سے یہ جملہ سنا تو میں اپنی پنڈلی پر کپڑا ڈال کر اسے چھپانے کی کوشش کرنے لگا جسے اللہ نے ظاہر کر دیا تھا ۔

شِهَابُ بْنُ عَبَّادٍ ← يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْعَصَرِيُّ، ← يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 15644

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 15645

حَدَّثَنَا وَكِيعُ بْنُ الْجَرَّاحِ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ أَبِي حَازِمٍ عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَدْوَةٌ أَوْ رَوْحَةٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ خَيْرٌ مِنْ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا

حضرت سہل بن سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ کے راستے میں ایک صبح اور ایک شام کے لئے نکلنادنیاومافیھاسے بہترہے۔

سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ، ← أَبِي حَازِمٍ ← سُفْيَانَ، ← وَكِيعُ بْنُ الْجَرَّاحِ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 15645

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 15646

قَالَ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو حَازِمٍ عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ رَأَيْتُ الرِّجَالَ تَقِيلُ وَتَتَغَدَّى يَوْمَ الْجُمُعَةِ

حضرت سہل بن سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے ان لوگوں کو دیکھاہے جوجمعہ کے دن قیلولہ کرتے اور کھانا کھاتے ہیں ۔

رَأَيْتُ الرِّجَالَ تَقِيلُ وَتَتَغَدَّى يَوْمَ الْجُمُعَةِ ← سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ← أَبُو حَازِمٍ ← بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 15646

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 15647

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ أَبِي حَازِمٍ عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ رَأَيْتُ الرِّجَالَ عَاقِدِي أُزُرِهِمْ فِي أَعْنَاقِهِمْ أَمْثَالَ الصِّبْيَانِ مِنْ ضِيقِ الْأُزُرِ خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الصَّلَاةِ فَقَالَ قَائِلٌ يَا مَعْشَرَ النِّسَاءِ لَا تَرْفَعْنَ رُءُوسَكُنَّ حَتَّى يَرْفَعَ الرِّجَالُ

حضرت سہل بن سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے ان لوگوں کو دیکھا ہے جو اپنے تہبند کی تنگی کی وجہ سے بچوں کی طرح اپنے تہنبد کی گرہیں اپنی گردن میں لگایا کرتے تھے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے اسی حال میں نماز پڑھا کرتے تھے ایک دن کسی شخص نے کہہ دیا کہ اے گروہ خواتین سجدے سے اس وقت تک سر نہ اٹھایا کرو جب تک مرد اپنا سر نہ اٹھالیں ۔

سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ← أَبِي حَازِمٍ ← سُفْيَانَ، ← وَكِيعٌ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 15647

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 15648

حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ فُضَيْلُ بْنُ حُسَيْنٍ أَمْلَاهُ عَلَيَّ مِنْ كِتَابِهِ الْأَصْلِ قَالَ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَلِيٍّ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو حَازِمٍ قَالَ سَمِعْتُ سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ السَّاعِدِيَّ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَغَدْوَةٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَوْ رَوْحَةٌ خَيْرٌ مِنْ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا وَلَمَوْضِعُ سَوْطِ أَحَدِكُمْ فِي الْجَنَّةِ خَيْرٌ مِنْ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا

حضرت سہل بن سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ نے ارشاد فرمایا اللہ کے راستے میں ایک صبح یا ایک شام کے لئے نکلنادنیاومافیھاسے بہترہے اور جنت میں کسی شخص کے کوڑے کی جگہ دنیاومافیھاسے بہترہے۔

سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ، ← أَبُو حَازِمٍ ← عُمَرُ بْنُ عَلِيٍّ، ← أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ فُضَيْلُ بْنُ حُسَيْنٍ أَمْلَاهُ عَلَيَّ مِنْ كِتَابِهِ الْأَصْلِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 15648

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 15649

قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ أَبِي حَازِمٍ عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَوْضِعُ سَوْطٍ فِي الْجَنَّةِ خَيْرٌ مِنْ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا

حضرت سہل بن سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ نے فرمایا جنت میں کسی شخص کے کوڑے کی جگہ دنیاومافیھاسے بہترہے۔

سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ← أَبِي حَازِمٍ ← سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 15649

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 15650

حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ قَالَ حَدَّثَنِي اللَّيْثُ بْنُ خَالِدٍ الْبَلْخِيُّ أَبُو بَكْرٍ قَالَ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَلِيٍّ عَنْ أَبِي حَازِمٍ عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَغَدْوَةٌ أَوْ رَوْحَةٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ خَيْرٌ مِنْ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا

حضرت سہل بن سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ کے راستے میں ایک صبح اور ایک شام کے لئے نکلنادنیاومافیھاسے بہترہے۔

سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ← أَبِي حَازِمٍ ← عُمَرُ بْنُ عَلِيٍّ، ← اللَّيْثُ بْنُ خَالِدٍ الْبَلْخِيُّ أَبُو بَكْرٍ ← عَبْدُ اللَّهِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 15650

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 15651

حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ عَاصِمُ بْنُ عُمَرَ بْنِ عَلِيٍّ الْمُقَدَّمِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ أَبِي حَازِمٍ الْمَدَنِيِّ عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَدْوَةٌ أَوْ رَوْحَةٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ خَيْرٌ مِنْ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا وَمَوْضِعُ سَوْطِ أَحَدِكُمْ مِنْ الْجَنَّةِ خَيْرٌ مِنْ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا

حضرت سہل بن سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ نے ارشاد فرمایا اللہ کے راستے میں ایک صبح یا ایک شام کے لئے نکلنادنیاومافیھاسے بہترہے اور جنت میں کسی شخص کے کوڑے کی جگہ دنیاومافیھاسے بہترہے۔

سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ، ← أَبِي حَازِمٍ الْمَدَنِيِّ، ← أَبِي ← أَبُو بِشْرٍ عَاصِمُ بْنُ عُمَرَ بْنِ عَلِيٍّ الْمُقَدَّمِيُّ ← عَبْدُ اللَّهِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 15651

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 15652

حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ قَالَ حَدَّثَنِي سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ وَأَبُو إِبْرَاهِيمَ التَّرْجُمَانِيُّ قَالَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَوْضِعُ سَوْطٍ فِي الْجَنَّةِ خَيْرٌ مِنْ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا وَلَغَدْوَةٌ يَغْدُوهَا الْعَبْدُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ خَيْرٌ مِنْ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا

حضرت سہل بن سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ نے ارشاد فرمایا اللہ کے راستے میں ایک صبح یا ایک شام کے لئے نکلنادنیاومافیھاسے بہترہے اور جنت میں کسی شخص کے کوڑے کی جگہ دنیاومافیھاسے بہترہے۔

النَّبِيِّ ← سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ← أَبِيهِ ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ ← سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ وَأَبُو إِبْرَاهِيمَ التَّرْجُمَانِيُّ ← عَبْدُ اللَّهِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 15652

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 15653

عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا فُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ النُّمَيْرِيُّ عَنْ أَبِي حَازِمٍ عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ غَدْوَةٌ أَوْ رَوْحَةٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ خَيْرٌ مِنْ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا

حضرت سہل بن سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ کے راستے میں ایک صبح اور ایک شام کے لئے نکلنادنیاومافیھاسے بہترہے۔

غَدْوَةٌ أَوْ رَوْحَةٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ خَيْرٌ مِنْ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا ← النَّبِيِّ ← سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ← أَبِي حَازِمٍ ← فضيل بن سليمان النميري ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 15653

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 15654

حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ حَدَّثَنَا الْعَطَّافُ بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنَا أَبُو حَازِمٍ قَالَ سَمِعْتُ سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَقُولُ غَدْوَةٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ خَيْرٌ مِنْ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا وَرَوْحَةٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ خَيْرٌ مِنْ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا وَمَوْضِعُ سَوْطٍ فِي الْجَنَّةِ خَيْرٌ مِنْ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا

حضرت سہل بن سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ نے ارشاد فرمایا اللہ کے راستے میں ایک صبح یا ایک شام کے لئے نکلنادنیاومافیھاسے بہترہے اور جنت میں کسی شخص کے کوڑے کی جگہ دنیاومافیھاسے بہترہے۔

رَسُولَ اللهِ وَهُوَ ← سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ← أَبُو حَازِمٍ ← الْعَطَّافُ بْنُ خَالِدٍ، ← يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 15654

chevron_left Previous
1…161162163…232
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    0. Chapter
2. Book
    0. Chapter
3. Book
    0. Chapter
4. Book
    0. Chapter
5. Book
    0. Chapter
6. Book
    0. Chapter
7. Book
    0. Chapter
8. Book
    0. Chapter
9. Book
    0. Chapter