Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Jumada I 7, 1448 AH · Oct 17, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند امام احمد بن حنبل

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble

by Musnad Imam Bin Hanble

28,221 Hadith18 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 15631

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ عُمَرَ قَالَ أَخْبَرَنِي نَافِعٌ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا لُبَابَةَ يُخْبِرُ ابْنَ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ قَتْلِ الْحَيَّاتِ

حضرت ابولبابہ نے ایک مرتبہ حضرت ابن عمرکوبتایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سانپوں کو مارنے سے منع فرمایا ہے۔

أَبَا لُبَابَةَ يُخْبِرُ ابْنَ عُمَرَ ← نَافِعٌ أَنَّهُ ← عُبَيْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ عُمَرَ ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 15631

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 15632

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ يَعْنِي ابْنَ حَازِمٍ قَالَ سَمِعْتُ نَافِعًا قَالَ كَانَ ابْنُ عُمَرَ يَأْمُرُ بِقَتْلِ الْحَيَّاتِ كُلِّهِنَّ لَا يَدَعُ مِنْهُنَّ شَيْئًا حَتَّى حَدَّثَهُ أَبُو لُبَابَةَ الْبَدْرِيُّ بْنُ عَبْدِ الْمُنْذِرِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ قَتْلِ جِنَّانِ الْبُيُوتِ

نافع کہتے ہیں کہ حضرت ابن عمر پہلے تو ہرقسم کے سانپوں کو مارنے کا حکم دیتے تھے کسی کو نہیں چھوڑتے تھے حتی کہ حضرت ابولبابہ نے یہ حدیث بیانکی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے گھروں میں رہنے والوں سانپوں کو مارنے سے منع فرمایا ہے۔

أَبُو لُبَابَةَ الْبَدْرِيُّ بْنُ عَبْدِ الْمُنْذِرِ ← كَانَ ابْنُ عُمَرَ يَأْمُرُ بِقَتْلِ الْحَيَّاتِ كُلِّهِنَّ لَا يَدَعُ مِنْهُنَّ شَيْئًا حَتَّى ← نَافِعًا ← جَرِيرٌ يَعْنِي ابْنَ حَازِمٍ ← عَفَّانُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 15632

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 15633

حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو قَالَ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ الْأَنْصَارِيِّ عَنْ أَبِي لُبَابَةَ الْبَدْرِيِّ ابْنِ عَبْدِ الْمُنْذِرِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ سَيِّدُ الْأَيَّامِ يَوْمُ الْجُمُعَةِ وَأَعْظَمُهَا عِنْدَهُ وَأَعْظَمُ عِنْدَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ يَوْمِ الْفِطْرِ وَيَوْمِ الْأَضْحَى وَفِيهِ خَمْسُ خِلَالٍ خَلَقَ اللَّهُ فِيهِ آدَمَ وَأَهْبَطَ اللَّهُ فِيهِ آدَمَ إِلَى الْأَرْضِ وَفِيهِ تَوَفَّى اللَّهُ آدَمَ وَفِيهِ سَاعَةٌ لَا يَسْأَلُ الْعَبْدُ فِيهَا شَيْئًا إِلَّا آتَاهُ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى إِيَّاهُ مَا لَمْ يَسْأَلْ حَرَامًا وَفِيهِ تَقُومُ السَّاعَةُ مَا مِنْ مَلَكٍ مُقَرَّبٍ وَلَا سَمَاءٍ وَلَا أَرْضٍ وَلَا رِيَاحٍ وَلَا جِبَالٍ وَلَا بَحْرٍ إِلَّا هُنَّ يُشْفِقْنَ مِنْ يَوْمِ الْجُمُعَةِ

حضرت ابولبابہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تمام دنوں کا سردار اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ معظم حتی کہ عیدالفطر اور عیدالاضحی کے دن سے بھی زیادہ معظم دن جمعہ کا دن ہے اس کی پانچ خصوصیات ہیں اللہ نے اسی دن حضرت آدم کو پیدا کیا اسی دن انہیں زمین پر اپنا نائب بنا کر بھیجا اسی دن ان کی وفات ہوئی اس دن میں ایک گھڑی ایسی بھی آتی ہے کہ بندہ اس میں جو بھی دعا مانگے اللہ تعالیٰ اسے وہ چیز ضرور عطا فرماتا ہے تاقتیکہ وہ کسی حرام چیز کی دعا نہ کرے اور اسی دن قیامت قائم ہوگی کوئی مقرب فرشتہ آسمان وزمین ، ہوائیں پہاڑ اور سمندرایسا نہیں جوجمعہ کے دن سے ڈرتانہ ہو۔

أَبِي لُبَابَةَ الْبَدْرِيِّ ابْنِ عَبْدِ الْمُنْذِرِ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ الأَنْصَارِيُّ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ← زُهَيْرٍ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ ← أَبُو عَامِرٍ عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ عَمْرٍو

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 15633

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 15634

حَدَّثَنَا الْهَيْثَمُ بْنُ خَارِجَةَ قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْ الْهَيْثَمِ حَدَّثَنَا رِشْدِينُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْوَلِيدِ عَنْ أَبِي مَنْصُورٍ مَوْلَى الْأَنْصَارِ عَنْ عَمْرِو بْنِ الْجَمُوحِ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا يَحِقُّ الْعَبْدُ حَقَّ صَرِيحِ الْإِيمَانِ حَتَّى يُحِبَّ لِلَّهِ تَعَالَى وَيُبْغِضَ لِلَّهِ فَإِذَا أَحَبَّ لِلَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى وَأَبْغَضَ لِلَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى فَقَدْ اسْتَحَقَّ الْوَلَاءَ مِنْ اللَّهِ وَإِنَّ أَوْلِيَائِي مِنْ عِبَادِي وَأَحِبَّائِي مِنْ خَلْقِي الَّذِينَ يُذْكَرُونَ بِذِكْرِي وَأُذْكَرُ بِذِكْرِهِمْ

حضرت عمر و بن جموح سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اس وقت کوئی شخص صریح ایمان دار نہیں ہوسکتا جب تک صرف اللہ کی رضاء کے لئے محبت اور نفرت نہ کرنے لگے جب کوئی شخص صرف اللہ کی رضا کے لئے محبت اور نفرت کرنے لگے تو وہ اللہ کی دوستی کامستحق ہوجاتا ہے اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میرے بندوں میں سے میرے دوست اور میری مخلوق میں سے میرے محبوب لوگ وہ ہیں جو مجھے یاد کرتے ہیں اور میں انہیں یاد کرتا ہوں ۔

النَّبِيِّ ← عمرو بن الجموح: أنه ← أَبِي مَنْصُورٍ، مَوْلَى الْأَنْصَارِ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْوَلِيدِ، ← رشدين بن سعد ← مِنْ الْهَيْثَمِ ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← الْهَيْثَمُ بْنُ خَارِجَةَ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 15634

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 15635

حَدَّثَنَا عَبِيدَةُ بْنُ حُمَيْدٍ قَالَ حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ صَفْوَانَ قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ الْحَجَرِ وَالْبَابِ وَاضِعًا وَجْهَهُ عَلَى الْبَيْتِ

حضرت عبدالرحمن بن صفوان سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حجر اسود اور باب کعبہ کے درمیان چمٹے ہوئے دیکھا آپ نے اپناچہرہ مبارک بیت اللہ پر رکھا ہوا تھا۔

رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ بَيْنَ الْحَجَرِ وَالْبَابِ وَاضِعًا وَجْهَهُ عَلَى الْبَيْتِ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ صَفْوَانَ ← مُجَاهِدٍ ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، ← عبيدة بن حميد

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 15635

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 15636

حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ عَنْ مُجَاهِدٍ قَالَ كَانَ رَجُلٌ مِنْ الْمُهَاجِرِينَ يُقَالُ لَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ صَفْوَانَ وَكَانَ لَهُ بَلَاءٌ فِي الْإِسْلَامِ حَسَنٌ وَكَانَ صَدِيقًا لِلْعَبَّاسِ فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ فَتْحِ مَكَّةَ جَاءَ بِأَبِيهِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ بَايِعْهُ عَلَى الْهِجْرَةِ فَأَبَى وَقَالَ إِنَّهَا لَا هِجْرَةَ فَانْطَلَقَ إِلَى الْعَبَّاسِ وَهُوَ فِي السِّقَايَةِ فَقَالَ يَا أَبَا الْفَضْلِ أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَبِي يُبَايِعُهُ عَلَى الْهِجْرَةِ فَأَبَى قَالَ فَقَامَ الْعَبَّاسُ مَعَهُ وَمَا عَلَيْهِ رِدَاءٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَدْ عَرَفْتَ مَا بَيْنِي وَبَيْنَ فُلَانٍ وَأَتَاكَ بِأَبِيهِ لِتُبَايِعَهُ عَلَى الْهِجْرَةِ فَأَبَيْتَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّهَا لَا هِجْرَةَ فَقَالَ الْعَبَّاسُ أَقْسَمْتُ عَلَيْكَ لَتُبَايِعَنَّهُ قَالَ فَبَسَطَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ قَالَ فَقَالَ هَاتِ أَبْرَرْتُ قَسَمَ عَمِّي وَلَا هِجْرَةَ

حضرت عبدالرحمن بن صفوان جنہیں اسلام میں خوب ابتلاء پیش آیا تھا اور وہ حضرت عباس کے دوست تھے فتح مکہ کے دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اپنے والد صاحب کو لے کر حاضر ہوئے اور کہنے لگے یا رسول اللہ ان سے ہجرت پر بیعت لے لیجیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انکار کرتے ہوئے فرمایا کہ اب ہجرتکا حکم باقی ہیں رہا اس پر وہ حضرت عباس کے پاس چلے گئے جو لوگوں کو پانی پلانے کی خدمت سرانجام دے رہے تھے اور ان سے کہا کہ اے ابوفضل میں اپنے والد صاحب کو لے کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوا تھا کہ وہ ان سے ہجرت پر بیعت لے لیتے لیکن انہوں نے انکار کردیا حضڑت عباس ان کے ساتھ اٹھ کرچل پڑے اور چادر بھی نہیں لی اور کہنے لگے کہ یا رسول اللہ آپ جانتے ہیں کہ فلاں شخص کے ساتھ میرے کیسے تعلقات ہیں وہ آپ کے پاس اپنے والد کو لے کر آیا تھا آپ اس سے ہجرت پر بیعت لے لیں لیکن آپ نے انکار کردیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اب ہجرتکا حکم باقی نہیں رہا انہوں نے کہا میں آپ کو قسم دیتا ہوں آپ اسے بیعت کرلیجیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر اپنا دست مبارک بڑھادیا اور فرمایا آؤ میں اپنے چچا کی قسم پوری کردوں البتہ بات پھر بھی ہی ہے کہ اب ہجرتکا حکم باقی نہیں رہا۔

مُجَاهِدٍ ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، ← جَرِيرٌ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 15636

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 15637

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَجَّاجِ حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ صَفْوَانَ قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُلْتَزِمًا الْبَابَ مَا بَيْنَ الْحَجَرِ وَالْبَابِ وَرَأَيْتُ النَّاسَ مُلْتَزِمِينَ الْبَيْتَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

حضرت عبدالرحمن بن صفوان سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حجر اسود اور باب کعبہ کے درمیان چمٹے ہوئے دیکھا آپ نے اپناچہرہ مبارک بیت اللہ پر رکھا ہوا تھا۔ اور میں نے لوگوں کو بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ بیت اللہ سے چمٹے ہوئے دیکھا تھا ۔

عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ صَفْوَانَ ← مُجَاهِدٍ ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، ← جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، ← أَحْمَدُ بْنُ الْحَجَّاجِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 15637

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 15638

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَجَّاجِ أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ صَفْوَانَ قَالَ لَمَّا افْتَتَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ قُلْتُ لَأَلْبَسَنَّ ثِيَابِي وَكَانَ دَارِي عَلَى الطَّرِيقِ فَلَأَنْظُرَنَّ مَا يَصْنَعُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَانْطَلَقْتُ فَوَافَقْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ خَرَجَ مِنْ الْكَعْبَةِ وَأَصْحَابُهُ قَدْ اسْتَلَمُوا الْبَيْتَ مِنْ الْبَابِ إِلَى الْحَطِيمِ وَقَدْ وَضَعُوا خُدُودَهُمْ عَلَى الْبَيْتِ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَسْطَهُمْ فَقُلْتُ لِعُمَرَ كَيْفَ صَنَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ دَخَلَ الْكَعْبَةَ قَالَ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ

حضرت عبدالرحمن بن صفوان سے مروی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ مکرمہ فتح کرلیا تو میں نے اپنے دل میں سوچا کہ گھر جاکرجوراستے میں ہی تھا کہ کپڑے پہنتاہوں اور دیکھتاہوں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کیا کرتے ہیں چنانچہ میں چلا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس وقت پہنچا جب آپ خانہ کعبہ سے باہر آچکے تھے صحابہ کرام استلام کررہے تھے انہوں نے اپنے رخسار بیت اللہ پر رکھے ہوئے تھے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان سب کے درمیان میں تھے میں نے حضرت عمر سے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خانہ کعبہ میں داخل ہو کر کیا کیا تو انہوں نے بتایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعتیں پڑھی تھیں ۔

عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ صَفْوَانَ ← مُجَاهِدٍ ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، ← جَرِيرٌ ← أَحْمَدُ بْنُ الْحَجَّاجِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 15638

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 15639

حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْعُمَرِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو سَهْلٍ عَوْفُ بْنُ أَبِي جَمِيلَةَ عَنْ زَيْدٍ أَبِي الْقَمُوصِ عَنْ وَفْدِ عَبْدِ الْقَيْسِ أَنَّهُمْ سَمِعُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ اللَّهُمَّ اجْعَلْنَا مِنْ عِبَادِكَ الْمُنْتَخَبِينَ الْغُرِّ الْمُحَجَّلِينَ الْوَفْدِ الْمُتَقَبَّلِينَ قَالَ فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا عِبَادُ اللَّهِ الْمُنْتَخَبُونَ قَالَ عِبَادُ اللَّهِ الصَّالِحُونَ قَالُوا فَمَا الْغُرُّ الْمُحَجَّلُونَ قَالَ الَّذِينَ يَبْيَضُّ مِنْهُمْ مَوَاضِعُ الطُّهُورِ قَالُوا فَمَا الْوَفْدُ الْمُتَقَبَّلُونَ قَالَ وَفْدٌ يَفِدُونَ مِنْ هَذِهِ الْأُمَّةِ مَعَ نَبِيِّهِمْ إِلَى رَبِّهِمْ تَبَارَكَ وَتَعَالَى

وفد عبدالقیس کے لوگ کہتے ہیں کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اے اللہ ہمیں اپنے منتخب ومجمل اور وفد متقبل میں شمار فرما لوگوں نے پوچھا یا رسول اللہ اللہ کے منتخب بندے سے کیا مراد ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ کے نیک بندے مراد ہیں لوگوں نے پوچھا کہ یا رسول اللہ گرمجل بندوں سے کیا مراد ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جن کے اعضاء وضو چمک رہے ہوں گے لوگوں نے پوچھا یا رسول اللہ وفد متقبل سے کیا مراد ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس امت کے وہ لوگ جو اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اللہ کی بارگاہ میں وفد کی صوت میں حاضر ہوں گے۔

فَقَالُوا ← اللَّهُمَّ اجْعَلْنَا مِنْ عِبَادِكَ الْمُنْتَخَبِينَ الْغُرِّ الْمُحَجَّلِينَ الْوَفْدِ الْمُتَقَبَّلِينَ ← وَفْدِ عَبْدِ الْقَيْسِ أَنَّهُمْ سَمِعُوا رَسُولَ اللَّهِ ← زَيْدٍ أَبِي الْقَمُوصِ ← أَبُو سَهْلٍ عَوْفُ بْنُ أَبِي جَمِيلَةَ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْعُمَرِيُّ، ← أَبُو النَّضْرِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 15639

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 15640

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا أَبِي عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ التَّيْمِيِّ عَنْ أَبِي الْهَيْثَمِ بْنِ نَصْرِ بْنِ دَهْرٍ الْأَسْلَمِيِّ عَنْ أَبِيهِ قَالَ أَتَى مَاعِزُ بْنُ خَالِدِ بْنِ مَالِكٍ رَجُلٌ مِنَّا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَوْدَى عَلَى نَفْسِهِ بِالزِّنَا فَأَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِرَجْمِهِ فَخَرَجْنَا إِلَى حَرَّةِ بَنِي نِيَارٍ فَرَجَمْنَاهُ فَلَمَّا وَجَدَ مَسَّ الْحِجَارَةِ جَزِعَ جَزَعًا شَدِيدًا فَلَمَّا فَرَغْنَا مِنْهُ وَرَجَعْنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَكَرْنَا لَهُ جَزَعَهُ فَقَالَ هَلَّا تَرَكْتُمُوهُ

حضرت نصر بن دہر سے مروی ہے کہ ہمارے ایک ساتھی ماعز بن مالک بارگاہ نبوت میں حاضر ہوئے اور اپنے متعلق بدکاری کا اعتراف کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ انہیں سنگسار کردو چنانچہ ہم انہیں لے کر حرہ بنونیا کی طرف لے گئے اور انہیں پتھر مارنے لگے جب ہم انہیں پتھر مارنے لگے تو انہیں اس کی تکلیف محسوس ہوئی جب ہم لوگ ان سے فارغ ہو کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس واپس آئے تو ہم نے ان کی گھبراہٹ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم لوگوں نے اسے چھوڑ کیوں نہ دیا۔

أَبِيهِ ← أبي الهيثم بن نصر بن دهر الأسلمي ← مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ التَّيْمِيِّ، ← ابْنِ إِسْحَاقَ، ← أَبِي ← يَعْقُوبُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 15640

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 15641

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا أَبِي عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ التَّيْمِيِّ عَنْ أَبِي الْهَيْثَمِ بْنِ نَصْرِ بْنِ دَهْرٍ الْأَسْلَمِيِّ أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي مَسِيرِهِ إِلَى خَيْبَرَ لِعَامِرِ بْنِ الْأَكْوَعِ وَهُوَ عَمُّ سَلَمَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْأَكْوَعِ وَكَانَ اسْمُ الْأَكْوَعِ سِنَانًا انْزِلْ يَا ابْنَ الْأَكْوَعِ فَاحْدُ لَنَا مِنْ هُنَيَّاتِكَ قَالَ فَنَزَلَ يَرْتَجِزُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ وَاللَّهِ لَوْلَا اللَّهُ مَا اهْتَدَيْنَا وَلَا تَصَدَّقْنَا وَلَا صَلَّيْنَا إِنَّا إِذَا قَوْمٌ بَغَوْا عَلَيْنَا وَإِنْ أَرَادُوا فِتْنَةً أَبَيْنَا فَأَنْزِلَنْ سَكِينَةً عَلَيْنَا وَثَبِّتْ الْأَقْدَامَ إِنْ لَاقَيْنَا

حضرت نصر بن دہر سے مروی ہے کہ انہوں نے خیبر کی طرف جاتے ہوئے عامر بن اکوع رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے جو سلمہ بن عمرہ کے چچا تھے اور اکوع کا اصل نام سنان تھا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سناکہ عامر سواری سے اترو اور ہمیں اپنے حدی کے اشعار سے سناؤ چنانچہ وہ اتر کریہ اشعار پڑھنے لگے کہ واللہ اگر اللہ نہ ہو تو ہم ہدایت پاسکتے اور نہ ہی صدقہ و نماز کرتے ہم تو وہ لوگ ہیں کہ جب قوم ہمارے خلاف بغاوت کرتی ہے اور کسی فتنہ وفساد کا ارادہ کرتی ہے تو ہم اس سے انکار کرتے ہیں اسے اللہ تو ہم پر سکینہ نازل فرمایا اور اگر دشمن سے آمنا سامنا ہوجائے تو ہمیں ثابت قدمی عطا فرما۔

أبي الهيثم بن نصر بن دهر الأسلمي ← مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ التَّيْمِيِّ، ← ابْنِ إِسْحَاقَ، ← أَبِي ← يَعْقُوبُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 15641

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 15642

حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ قَالَ أَنْبَأَنَا يَعْلَى بْنُ عَطَاءٍ عَنْ عُمَارَةَ بْنِ حَدِيدٍ عَنْ صَخْرٍ الْغَامِدِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللَّهُمَّ بَارِكْ لِأُمَّتِي فِي بُكُورِهَا قَالَ وَكَانَ إِذَا بَعَثَ سَرِيَّةً أَوْ جَيْشًا بَعَثَهُمْ مِنْ أَوَّلِ النَّهَارِ قَالَ وَكَانَ صَخْرٌ رَجُلًا تَاجِرًا وَكَانَ يَبْعَثُ تِجَارَتَهُ مِنْ أَوَّلِ النَّهَارِ فَأَثْرَى وَكَثُرَ مَالُهُ

حضرت صخر غامدی سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا فرماتے تھے کہ اے اللہ میری امت کے پہلے اوقات میں برکت عطا فرما خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب کوئی لشکر روانہ کرتے تو اس لشکر کو دن کے ابتدائی حصے میں بھیجتے تھے اور راوی حدیث حضرت صخر تاجر آدمی تھے یہ بھی اپنے نوکروں کو صبح سویرے ہی بھیجتے تھے نتیجہ یہ ہوا کہ ان کے پاس مال دولت کی اتنی کثرت ہوگئی تھی کہ انہیں یہ سمجھ میں نہیں آتی تھی کہ اپنا مال دولت کہاں رکھیں ۔

صَخْرٍ الْغَامِدِيِّ، ← عُمَارَةَ بْنِ حَدِيدٍ، ← يَعْلَى بْنُ عَطَاءٍ ← هُشَيْمٌ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 15642

chevron_left Previous
1…160161162…232
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    0. Chapter
2. Book
    0. Chapter
3. Book
    0. Chapter
4. Book
    0. Chapter
5. Book
    0. Chapter
6. Book
    0. Chapter
7. Book
    0. Chapter
8. Book
    0. Chapter
9. Book
    0. Chapter