Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Jumada I 7, 1448 AH · Oct 17, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند امام احمد بن حنبل

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble

by Musnad Imam Bin Hanble

28,221 Hadith18 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 15619

حَدَّثَنَا هَاشِمٌ قَالَ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ الْحَكَمِ عَنْ تَمِيمِ بْنِ مَحْمُودٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شِبْلٍ صَاحِبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ثَلَاثَةٍ فَذَكَرَهُ

حضرت عبدالرحمن بن شبل سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو تین چیزوں سے منع کرتے ہوئے دسنا ہے کوے کی طرح سجدے میں ٹھونگیں مارنے سے درندے کی طرح سجدے میں بازو بچھانے سے اور ایک جگہ نماز کے لئے متعین کرنے سے جیسے اونٹ اپنی جگہ متعین کرلیتا ہے ۔

ثَلَاثَةٍ فَذَكَرَهُ ← نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شِبْلٍ صَاحِبِ رَسُولِ اللَّهِ أَنَّهُ ← تَمِيمِ بْنِ مَحْمُودٍ، ← جَعْفَرِ بْنِ الْحَكَمِ ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ← لَيْثٌ، ← هَاشِمٌ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 15619

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 15620

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنِ الدَّسْتُوَائِيِّ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ أَبِي رَاشِدٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شِبْلٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اقْرَءُوا الْقُرْآنَ وَلَا تَأْكُلُوا بِهِ وَلَا تَسْتَكْثِرُوا بِهِ وَلَا تَجْفُوا عَنْهُ وَلَا تَغْلُوا فِيهِ

حضرت عبدالرحمن بن شبل سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سناہے کہ قرآن پڑھا کرو اس میں حد سے زیادہ غلونہ کرو اس سے جفاء نہ کرو اسے کھانے کا ذریعہ نہ بناؤ اور اس سے اپنے مال ودولت کی کثرت حاصل نہ کرو۔

عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شِبْلٍ ← أَبِي رَاشِدٍ ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← الدَّسْتُوَائِيُّ؛ ← وَكِيعٌ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 15620

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 15621

حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ يَعْنِي الْمُؤَدِّبَ مُحَمَّدَ بْنَ مُسْلِمِ بْنِ أَبِي الْوَضَّاحِ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ وَالْمُجَالِدُ بْنُ سَعِيدٍ عَنْ عَامِرٍ الشَّعْبِيِّ عَنْ عَامِرِ بْنِ شَهْرٍ قَالَ سَمِعْتُ كَلِمَتَيْنِ مِنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَلِمَةٌ وَمِنْ النَّجَاشِيِّ أُخْرَى سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ انْظُرُوا قُرَيْشًا فَخُذُوا مِنْ قَوْلِهِمْ وَذَرُوا فِعْلَهُمْ وَكُنْتُ عِنْدَ النَّجَاشِيِّ جَالِسًا فَجَاءَ ابْنُهُ مِنْ الْكُتَّابِ فَقَرَأَ آيَةً مِنْ الْإِنْجِيلِ فَعَرَفْتُهَا أَوْ فَهِمْتُهَا فَضَحِكْتُ فَقَالَ مِمَّ تَضْحَكُ أَمِنْ كِتَابِ اللَّهِ تَعَالَى فَوَاللَّهِ إِنَّ مِمَّا أَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى عَلَى عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ أَنَّ اللَّعْنَةَ تَكُونُ فِي الْأَرْضِ إِذَا كَانَ أُمَرَاؤُهَا الصِّبْيَانَ

حضرت عامر بن شہر سے مروی ہے کہ میں نے دوباتیں سنی ہیں ایک تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اور ایک نجاشی سے میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو تو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ قریش کو دیکھا کروان کی باتوں کو لیا کرو اور ان کے افعال کو چھوڑ دیا کرو اور ایک مرتبہ میں نجاشی کے پاس بیٹھا ہوا تھا اس کا بیٹا ایک کتاب لایا اور انجیل کی ایک آیت پڑھی میں اس کا مطلب سمجھ کرہنسنے لگا نجاشی نے یہ دیکھ کر کہا تم کس بات پرہنس رہے ہو اللہ کی کتاب پر واللہ حضرت عیسی پر اللہ نے یہ وحی نازل فرمائی ہے کہ زمین پر اس وقت لعنت بر سے گی جب اس میں بچوں کی حکمرانی ہوگی۔

كَلِمَتَيْنِ مِنْ النَّبِيِّ كَلِمَةٌ وَمِنْ النَّجَاشِيِّ أُخْرَى ← عَامِرِ بْنِ شَهْرٍ ← عَامِرٌ الشَّعْبِيُّ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ وَالْمُجَالِدُ بْنُ سَعِيدٍ ← أَبُو سَعِيدٍ يَعْنِي الْمُؤَدِّبَ مُحَمَّدَ بْنَ مُسْلِمِ بْنِ أَبِي الْوَضَّاحِ ← أَبُو النَّضْرِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 15621

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 15622

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ حَدَّثَنَا عِمْرَانُ يَعْنِي الْقَطَّانَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ نَصْرِ بْنِ عَاصِمٍ اللَّيْثِيِّ عَنْ مُعَاوِيَةَ اللَّيْثِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَكُونُ النَّاسُ مُجْدِبِينَ فَيُنْزِلُ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى عَلَيْهِمْ رِزْقًا مِنْ رِزْقِهِ فَيُصْبِحُونَ مُشْرِكِينَ فَقِيلَ لَهُ وَكَيْفَ ذَاكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ يَقُولُونَ مُطِرْنَا بِنَوْءِ كَذَا وَكَذَا

حضرت معاویہ لیثی سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا لوگ قحط سالی کا شکار ہوتے ہیں اللہ ان پر اپنا رزق اتارتا ہے لیکن اگلے دن ہی لوگ اس کے ساتھ کسی کو شریک کرلیتے ہیں کسی نے پوچھا کہ یا رسول اللہ وہ کیسے فرمایا لوگ کہتے ہیں کہ ہم پر فلاں ستارے کی وجہ سے بارش ہوئی ہے۔

مُعَاوِيَةَ اللَّيْثِيِّ، ← نَصْرُ بْنُ عَاصِمٍ اللَّيْثِيُّ ← قَتَادَةَ ← عِمْرَانُ يَعْنِي الْقَطَّانَ، ← سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 15622

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 15623

حَدَّثَنَا رَوْحٌ قَالَ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِيهِ طَلْحَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ جَاهِمَةَ جَاءَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَدْتُ الْغَزْوَ وَجِئْتُكَ أَسْتَشِيرُكَ فَقَالَ هَلْ لَكَ مِنْ أُمٍّ قَالَ نَعَمْ فَقَالَ الْزَمْهَا فَإِنَّ الْجَنَّةَ عِنْدَ رِجْلِهَا ثُمَّ الثَّانِيَةَ ثُمَّ الثَّالِثَةَ فِي مَقَاعِدَ شَتَّى كَمِثْلِ هَذَا الْقَوْلِ

حضرت معاویہ بن جاہمہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ جاہمہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہنے لگا یا رسول اللہ میں جہاد میں شرکت کرنا چاہتا ہوں آپ کے پاس مشورے کے لئے آیاہوں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تمہاری والدہ حیات ہیں انہوں نے کہا جی ہاں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر ان کی خدمت کو اپنے اوپر لازم کرلو کیونکہ جنت ان کے قدموں کے تلے ہیں دوسری مرتبہ اور تیسری مرتبہ بلکہ کئی مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی۔

مُعَاوِيَةَ بْنِ جَاهِمَةَ جَاءَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ فَقَالَ ← أَبِيهِ طَلْحَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ← مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← رَوْحٌ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 15623

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 15624

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ قَالَ أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ بْنِ أُسَامَةَ عَنْ أَبِي عَزَّةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى إِذَا أَرَادَ قَبْضَ رُوحِ عَبْدٍ بِأَرْضٍ جَعَلَ لَهُ فِيهَا أَوْ قَالَ بِهَا حَاجَةً

حضرت حارث بن زیاد سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ وہ غزوہ خندق کے موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں سے ہجرت پر بیعت لے رہے تھے عرض کیا یا رسول اللہ اس شخص کو بھی بیعت میں شامل کرلیجیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ کون ہے عرض کیا یہ میراچچازاد بھائی حوط بن یزید ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں تم سے بیعت نہیں لوں گا لوگ تمہارے پاس ہجرت کرکے آتے ہیں تم ان کے پاس ہجرت کرکے نہیں جاتے اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے جو شخص بھی انصار سے محبت کرتا ہو اللہ سے ملاقات کرے گا اللہ اسے اس طرح ملے گا کہ اللہ خود اس سے محبت کرتا ہوگا جو شخص بھی انصار سے نفرت کرتا ہو اللہ سے ملاقات کرتے وہ اللہ سے اس طرح ملے گا کہ اللہ خود اس سے نفرت کرتا ہوگا ۔

أَبِي عَزَّةَ، ← أَبِي الْمَلِيحِ بْنِ أُسَامَةَ، ← أَيُّوبَ، ← إِسْمَاعِيلُ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 15624

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 15625

حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْغَسِيلِ قَالَ أَخْبَرَنَا حَمْزَةُ بْنُ أَبِي أُسَيْدٍ وَكَانَ أَبُوهُ بَدْرِيًّا عَنِ الْحَارِثِ بْنِ زِيَادٍ السَّاعِدِيِّ الْأَنْصَارِيِّ أَنَّهُ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْخَنْدَقِ وَهُوَ يُبَايِعُ النَّاسَ عَلَى الْهِجْرَةِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ بَايِعْ هَذَا قَالَ وَمَنْ هَذَا قَالَ ابْنُ عَمِّي حَوْطُ بْنُ يَزِيدَ أَوْ يَزِيدُ بْنُ حَوْطٍ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا أُبَايِعُكَ إِنَّ النَّاسَ يُهَاجِرُونَ إِلَيْكُمْ وَلَا تُهَاجِرُونَ إِلَيْهِمْ وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ لَا يُحِبُّ رَجُلٌ الْأَنْصَارَ حَتَّى يَلْقَى اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى إِلَّا لَقِيَ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى وَهُوَ يُحِبُّهُ وَلَا يَبْغُضُ رَجُلٌ الْأَنْصَارَ حَتَّى يَلْقَى اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى إِلَّا لَقِيَ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى وَهُوَ يَبْغُضُهُ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ قَالَ حَدَّثَنِي سَعْدُ بْنُ أَوْسٍ عَنْ بِلَالِ بْنِ يَحْيَى شَيْخٌ لَهُمْ عَنْ شُتَيْرِ بْنِ شَكَلٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ عَلِّمْنِي دُعَاءً أَنْتَفِعُ بِهِ قَالَ قُلْ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ سَمْعِي وَبَصَرِي وَقَلْبِي وَمَنِيِّي

حضرت حارث بن زیاد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ وہ غزوہ خندق کے موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں سے ہجرت پر بیعت لے رہے تھے، عرض کیا یا رسول اللہ! اس شخص کو بھی بیعت کر لیجیے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ کون ہے؟ عرض کیا کہ یہ میرا چچا زاد بھائی حوط بن یزید (یا یزید بن حوط) ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں تم سے بیعت نہیں لوں گا، لوگ تمہارے پاس ہجرت کر کے آتے ہیں، تم ان کے پاس ہجرت کر کے نہیں جاتے، اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے، جو شخص بھی انصار سے محبت کرتا ہوا اللہ سے ملاقات کرے گا، اللہ سے اس طرح ملے گا کہ اللہ خود اس سے محبت کرتا ہوگا اور جو شخص بھی انصار سے محبت کرتا ہوا اللہ سے ملاقات کرے گا، اللہ سے اس طرح ملے گا کہ اللہ خود اس سے محبت کرتا ہوگا اور جو شخص بھی انصار سے نفرت کرتا ہوا اللہ سے ملاقات کرے گا، وہ اللہ سے اس طرح ملے گا کہ اللہ خود اس سے نفرت کرتا ہوگا۔

حَمْزَةُ بْنُ أَبِي أُسَيْدٍ وَكَانَ أَبُوهُ بَدْرِيًّا ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْغَسِيلِ ← يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 15625

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 15626

حَدَّثَنَا وَکِیعٌ قَالَ حَدَّثَنِی سَعْدُ بْنُ أَوْسٍ عَنْ بِلَالِ بْنِ یَحْیَی شَیْخٌ لَھُمْ عَنْ شُتَیْرِ بْنِ شَکَلٍ عَنْ أَبِیہِ قَالَ قُلْتُ یَا رَسُوْلَ اللہِ عَلَّمْنِی دُعَاءٌ أَنْتَفِعُ بِہِ قَالَ قُلْ اللَّھُمَّ إِنَّی اَعُوذُبِکَ مِنْ شَرَّ سَمْعِی وَبَصَرِی وَقَلْبِی وَمَنِیَّی

حضرت شکل بن حمید سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ مجھے کوئی ایسی دعاء سکھادیجئے جس سے نفع اٹھاؤں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ دعاء کیا کرو کہ اے اللہ میں اپنی سماعت 'بصارت 'قلب اور خواہشات کے شر سے آپ کی پناہ میں آتاہوں ۔

قُلْتُ ← أَبِيهِ ← شُتَيْرِ بْنِ شَكَلٍ ← بِلَالِ بْنِ یَحْیَی شَیْخٌ لَھُمْ ← سَعْدُ بْنُ أَوْسٍ، ← وَكِيعٌ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 15626

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 15627

حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ حَدَّثَنَا سَعْدُ بْنُ أَوْسٍ عَنْ بِلَالٍ الْعَبْسِيِّ عَنْ شُتَيْرِ بْنِ شَكَلٍ عَنْ أَبِيهِ شَكَلِ بْنِ حُمَيْدٍ قَالَ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ

حضرت شکل بن حمید سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ مجھے کوئی ایسی دعاء سکھادیجئے جس سے نفع اٹھاؤں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ دعاء کیا کرو کہ اے اللہ میں اپنی سماعت 'بصارت 'قلب اور خواہشات کے شر سے آپ کی پناہ میں آتاہوں ۔

أَتَيْتُ النَّبِيَّ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ ← أبيه شكل بن حميد ← شُتَيْرِ بْنِ شَكَلٍ ← بِلَالٍ الْعَبْسِيِّ ← سَعْدُ بْنُ أَوْسٍ، ← أَبُو أَحْمَدَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 15627

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 15628

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ هِشَامٍ الدَّسْتُوَائِيِّ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ يَعِيشَ بْنِ طِخْفَةَ بْنِ قَيْسٍ الْغِفَارِيِّ قَالَ كَانَ أَبِي مِنْ أَصْحَابِ الصُّفَّةِ فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهِمْ فَجَعَلَ الرَّجُلُ يَنْقَلِبُ بِالرَّجُلِ وَالرَّجُلُ بِالرَّجُلَيْنِ حَتَّى بَقِيتُ خَامِسَ خَمْسَةٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ انْطَلِقُوا فَانْطَلَقْنَا مَعَهُ إِلَى بَيْتِ عَائِشَةَ فَقَالَ يَا عَائِشَةُ أَطْعِمِينَا فَجَاءَتْ بِحَشِيشَةٍ فَأَكَلْنَا ثُمَّ جَاءَتْ بِحَيْسَةٍ مِثْلَ الْقَطَاةِ فَأَكَلْنَا ثُمَّ قَالَ يَا عَائِشَةُ اسْقِينَا فَجَاءَتْ بِعُسٍّ فَشَرِبْنَا ثُمَّ جَاءَتْ بِقَدَحٍ صَغِيرٍ فِيهِ لَبَنٌ فَشَرِبْنَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنْ شِئْتُمْ بِتُّمْ وَإِنْ شِئْتُمْ انْطَلَقْتُمْ إِلَى الْمَسْجِدِ فَقُلْتُ لَا بَلْ نَنْطَلِقُ إِلَى الْمَسْجِدِ قَالَ فَبَيْنَا أَنَا مِنْ السَّحَرِ مُضْطَجِعٌ عَلَى بَطْنِي إِذَا رَجُلٌ يُحَرِّكُنِي بِرِجْلِهِ فَقَالَ إِنَّ هَذِهِ ضِجْعَةٌ يَبْغُضُهَا اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى فَنَظَرْتُ فَإِذَا هُوَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

یعیش بن طخفہ کہتے ہیں کہ میرے والد صاحب اصحاب صفہ میں سے تھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے حوالے سے لوگوں کو حکم دیا تو لوگ ایک ایک دو دو کرکے انہیں اپنے ساتھ لے جانے لگے وہ کہتے ہیں کہ صرف پانچ آدمی رہ گئے جن میں سے ایک میں بھی تھا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم لوگ میرے ساتھ چلو چنانچہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حضرت عائشہ کے گھر چلے گئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وہاں پہنچ کر فرمایا عائشہ ہمیں کھانا کھلاؤ وہ کچھ کھجوریں لے کر آئیں جو ہم نے کھالیں پھر وہ کھجور کا تھوڑ اسا حلوہ لے کر آئیں ہم نے وہ بھی کھالیا پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عائشہ پانی پلاؤ چنانچہ وہ ایک بڑے پیالے میں پانی لے کر آئیں جو ہم سب نے پیا پھر ایک چھوٹا ساپیالہ لے کر آئیں جس میں دودھ تھا ہم نے وہ بھی پیا پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم لوگ اگر چاہو تورات یہیں پر گذار لو اور چاہو تو مسجد میں چلے جاؤ میں نے عرض کیا کہ نہیں ہم مسجد میں ہی جائیں گے ابھی میں سحری کے وقت اپنے پیٹ کے بل لیٹا ہواسوہی رہا تھا اچانک ایک آدمی آیا اور مجھے اپنے پاؤں سے ہلانے لگا اور کہنے لگا کہ لیٹنے کا طریقہ اللہ کو ناپسند ہے میں نے دیکھا تو وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تھے۔

يَعِيشَ بْنِ طَخْفَةَ بْنِ قَيْسٍ الْغِفَارِيِّ ← أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 15628

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 15629

حَدَّثَنَا هَاشِمٌ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ يَعْنِي شَيْبَانَ حَدَّثَنَا يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ قَالَ أَخْبَرَنِي يَعِيشُ بْنُ طِخْفَةَ بْنِ قَيْسٍ عَنْ أَبِيهِ وَكَانَ أَبُوهُ مِنْ أَهْلِ الصُّفَّةِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا فُلَانُ انْطَلِقْ بِهَذَا مَعَكَ فَذَكَرَ مَعْنَاهُ

یعیش بن طخفہ کہتے ہیں کہ میرے والد صاحب اصحاب صفہ میں سے تھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے حوالے سے لوگوں کو حکم دیا تو لوگ ایک ایک دو دو کرکے انہیں اپنے ساتھ لے جانے لگے وہ کہتے ہیں کہ صرف پانچ آدمی رہ گئے جن میں سے ایک میں بھی تھا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم لوگ میرے ساتھ چلو چنانچہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حضرت عائشہ کے گھر چلے گئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وہاں پہنچ کر فرمایا عائشہ ہمیں کھانا کھلاؤ وہ کچھ کھجوریں لے کر آئیں جو ہم نے کھالیں پھر وہ کھجور کا تھوڑ اسا حلوہ لے کر آئیں ہم نے وہ بھی کھالیا پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عائشہ پانی پلاؤ چنانچہ وہ ایک بڑے پیالے میں پانی لے کر آئیں جو ہم سب نے پیا پھر ایک چھوٹا ساپیالہ لے کر آئیں جس میں دودھ تھا ہم نے وہ بھی پیا پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم لوگ اگر چاہو تورات یہیں پر گذار لو اور چاہو تو مسجد میں چلے جاؤ میں نے عرض کیا کہ نہیں ہم مسجد میں ہی جائیں گے ابھی میں سحری کے وقت اپنے پیٹ کے بل لیٹا ہواسوہی رہا تھا اچانک ایک آدمی آیا اور مجھے اپنے پاؤں سے ہلانے لگا اور کہنے لگا کہ لیٹنے کا طریقہ اللہ کو ناپسند ہے میں نے دیکھا تو وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تھے۔

أَبِيهِ وَكَانَ أَبُوهُ مِنْ أَهْلِ الصُّفَّةِ ← يَعِيشُ بْنُ طِخْفَةَ بْنِ قَيْسٍ ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← يَحْيَى، يَعْنِي ابْنَ أَبِي كَثِيرٍ ← أبو معاوية يعني شيبان ← هَاشِمٌ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 15629

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 15630

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَلْحَلَةَ عَنْ نُعَيْمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ ابْنِ طِخْفَةَ الْغِفَارِيِّ قَالَ أَخْبَرَنِي أَبِي أَنَّهُ ضَافَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَ نَفَرٍ قَالَ فَبِتْنَا عِنْدَهُ فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ اللَّيْلِ يَطَّلِعُ فَرَآهُ مُنْبَطِحًا عَلَى وَجْهِهِ فَرَكَضَهُ بِرِجْلِهِ فَأَيْقَظَهُ فَقَالَ هَذِهِ ضِجْعَةُ أَهْلِ النَّارِ

حضرت طحفہ کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے چند لوگوں کےساتھ ان کی ضیافت فرمائی چنانچہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ان کے گھر چلے گئے ابھی رات کے وقت میں اپنے پیٹ کے بل لیٹا ہوا سورہی رہا تھا کہ اچانک نبی صلی اللہ علیہ وسلم آئے اور مجھے اپنے پاؤں سے ہلانے لگے کہ اور کہنے لگے اور کہنے لگے کہ لیٹنے کا یہ طریقہ اہل جہنم کا طریقہ ہے۔

أَبِي ← ابن طخفة الغفاري ← نُعَيْمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَلْحَلَةَ ← زُهَيْرٍ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 15630

chevron_left Previous
1…159160161…232
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    0. Chapter
2. Book
    0. Chapter
3. Book
    0. Chapter
4. Book
    0. Chapter
5. Book
    0. Chapter
6. Book
    0. Chapter
7. Book
    0. Chapter
8. Book
    0. Chapter
9. Book
    0. Chapter