Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Sunday, Jumada I 8, 1448 AH · Oct 18, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند امام احمد بن حنبل

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble

by Musnad Imam Bin Hanble

28,221 Hadith18 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 15547

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ قَالَ حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ ثَعْلَبَةَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ عَمِّهِ مُجَمِّعٍ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ يَقْتُلُ ابْنُ مَرْيَمَ الْمَسِيحَ الدَّجَّالَ بِبَابِ لُدٍّ

حضرت مجمع بن جاریہ سے مروی ہے کہایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دجال کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا کہ اسے حضرت عیسی باب لد نامی جگہ پر قتل کریں گے۔

يَقْتُلُ ابْنُ مَرْيَمَ الْمَسِيحَ الدَّجَّالَ بِبَابِ لُدٍّ ← النَّبِيِّ ← عَمِّهِ مُجَمِّعٍ ← عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ يَزِيدَ ← عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ ثَعْلَبَةَ ← الزُّهْرِيِّ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 15547

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 15548

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ ثَعْلَبَةَ الْأَنْصَارِيِّ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ مُجَمِّعِ ابْنِ جَارِيَةَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ يَقْتُلُ ابْنُ مَرْيَمَ الدَّجَّالَ بِبَابِ لُدٍّ أَوْ إِلَى جَانِبِ لُدٍّ

حضرت مجمع بن جاریہ سے مروی ہے کہایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دجال کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا کہ اسے حضرت عیسی باب لد نامی جگہ پر قتل کریں گے۔

«يَقْتُلُ ابْنُ مَرْيَمَ الدَّجَّالَ بِبَابِ لُدٍّ، أَوْ إِلَى جَانِبِ لُدٍّ» ← رَسُولِ اللَّهِ ← مجمع ابن جارية ← عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ يَزِيدَ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ ثَعْلَبَةَ الْأَنْصَارِيِّ، ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 15548

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 15549

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى قَالَ حَدَّثَنَا مُجَمِّعُ بْنُ يَعْقُوبَ قَالَ سَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ عَنْ عَمِّهِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ عَمِّهِ مُجَمِّعِ ابْنِ جَارِيَةَ الْأَنْصَارِيِّ وَكَانَ أَحَدَ الْقُرَّاءِ الَّذِينَ قَرَءُوا الْقُرْآنَ قَالَ شَهِدْنَا الْحُدَيْبِيَةَ فَلَمَّا انْصَرَفْنَا عَنْهَا إِذَا النَّاسُ يُنْفِرُونَ الْأَبَاعِرَ فَقَالَ النَّاسُ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ مَا لِلنَّاسِ قَالُوا أُوحِيَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخَرَجْنَا مَعَ النَّاسِ نُوجِفُ حَتَّى وَجَدْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى رَاحِلَتِهِ عِنْدَ كُرَاعِ الْغَمِيمِ وَاجْتَمَعَ النَّاسُ إِلَيْهِ فَقَرَأَ عَلَيْهِمْ إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُبِينًا فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيْ رَسُولَ اللَّهِ وَفَتْحٌ هُوَ قَالَ أَيْ وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ إِنَّهُ لَفَتْحٌ فَقُسِمَتْ خَيْبَرُ عَلَى أَهْلِ الْحُدَيْبِيَةِ لَمْ يُدْخِلْ مَعَهُمْ فِيهَا أَحَدًا إِلَّا مَنْ شَهِدَ الْحُدَيْبِيَةَ فَقَسَمَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى ثَمَانِيَةَ عَشَرَ سَهْمًا وَكَانَ الْجَيْشُ أَلْفًا وَخَمْسَ مِائَةٍ فِيهِمْ ثَلَاثُ مِائَةِ فَارِسٍ فَأَعْطَى الْفَارِسَ سَهْمَيْنِ وَأَعْطَى الرَّاجِلَ سَهْمًا

حضرت مجمع بن جاریہ قرآن پڑھے ہوئے لوگوں میں سے ایک تھے کہتے ہیں کہ ہم لوگ صلح حدیبیہ میں شریک تھے واپسی پر راستے پر ہم نے دیکھا کہ لوگ اپنے اونٹوں کو بھگائے چلے جارہے ہیں لوگوں نے ایک دوسرے سے پوچھا کیا ماجراہے انہوں نے بتایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر کوئی خاص وحی نازل ہوئی ہے ہم بھی ترسیدہ لوگوں کے ساتھ نکلے حتی کہ کراع غمیم نامی جگہ پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی سواری پر پایا لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اردگرد جمع تھے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم انہیں سورت فتح پڑھ کر سنا رہے تھے اس موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی صحابی نے عرض کیا یا رسول اللہ کیا یہ فتح ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں مری جان ہے یہ فتح ہے اس کے بعد خیبر کا سارا علاقہ اہل حدیبیہ میں تقسیم کردیا گیا اور اس تقسیم میں ان کے علاوہ کسی کوشامل نہیں کیا گیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اٹھارہ حصوں پر تقسیم کردیا جبکہ لشکر پندرہ سو افراد پر مشتمل تھا جن میں تین افراد گھڑ سوار بھی تھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے گھڑ سوار کو دوحصے دیئے اور پیدل کو ایک حصہ دیا۔

عَمِّهِ مُجَمِّعِ ابْنِ جَارِيَةَ الْأَنْصَارِيِّ وَكَانَ أَحَدَ الْقُرَّاءِ الَّذِينَ قَرَءُوا الْقُرْآنَ ← عَمِّهِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، ← أَبِي ← مُجَمِّعُ بْنُ يَعْقُوبَ ← إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 15549

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 15550

حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا أَبُو أُوَيْسٍ حَدَّثَنَا شُرَحْبِيلٌ عَنْ جَبَّارِ بْنِ صَخْرٍ الْأَنْصَارِيِّ أَحَدِ بَنِي سَلِمَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ بِطَرِيقِ مَكَّةَ مَنْ يَسْبِقُنَا إِلَى الْأُثَايَةِ قَالَ أَبُو أُوَيْسٍ هُوَ حَيْثُ نَفَّرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَمْدُرَ حَوْضَهَا وَيَفْرِطَ فِيهِ فَيَمْلَأَهُ حَتَّى نَأْتِيَهُ قَالَ قَالَ جَبَّارٌ فَقُمْتُ فَقُلْتُ أَنَا قَالَ اذْهَبْ فَذَهَبْتُ فَأَتَيْتُ الْأُثَايَةَ فَمَدَرْتُ حَوْضَهَا وَفَرَطْتُ فِيهِ وَمَلَأْتُهُ ثُمَّ غَلَبَتْنِي عَيْنَايَ فَنِمْتُ فَمَا انْتَبَهْتُ إِلَّا بِرَجُلٍ تُنَازِعُهُ رَاحِلَتُهُ إِلَى الْمَاءِ وَيَكُفُّهَا عَنْهُ فَقَالَ يَا صَاحِبَ الْحَوْضِ فَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ نَعَمْ قَالَ فَأَوْرَدَ رَاحِلَتَهُ ثُمَّ انْصَرَفَ فَأَنَاخَ ثُمَّ قَالَ اتْبَعْنِي بِالْإِدَاوَةِ فَتَبِعْتُهُ بِهَا فَتَوَضَّأَ وَأَحْسَنَ وُضُوءَهُ وَتَوَضَّأْتُ مَعَهُ ثُمَّ قَامَ يُصَلِّي فَقُمْتُ عَنْ يَسَارِهِ فَأَخَذَ بِيَدِي فَحَوَّلَنِي عَنْ يَمِينِهِ فَصَلَّيْنَا فَلَمْ يَلْبَثْ يَسِيرًا أَنْ جَاءَ النَّاسُ

حضرت جبار بن صخر سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ مکہ مکرمہ سے واپسی پر راستے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اثایہ نامی جگہ میں ہم سے پہلے کون پہنچے گا یہ وہ جگہ تھی جہاں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بھیجا تھا کہ حوض پر قبضہ کرے اور ہمارے وہاں پہنچنے تک اسے بھر کر رکھے میں نے اپنے آپ کو پیش کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم جاؤ چنانچہ میں روانہ ہوا مقام اثایہ پر پہنچ کر میں نے حوض پر قبضہ کیا اور پانی بھرا پھر میری آنکھ لگ گئی اور میں سوگیا اور اس آدمی کی وجہ سے ہی آنکھ کھلی جس کی سواری اس کے ہاتھ سے نکلی جارہی تھی وہ اسے حوض سے روک رہا تھا وہ کہنے لگا کہ اے حوض والے اپنے حوض پر پہنچو میں نے دیکھا تو وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تھے میں نے کہا بہت اچھا پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم گھاٹ پر پہنچے تو میں نے اونٹنی کی لگام پکڑ لی اور اسے بٹھادیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے برتن منگوا کر خوب اچھی طرح وضو کیا میں نے بھی وضو کیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو کر نماز عشا پڑھنے لگے حضرت جبار اپنے بیان کے مطابق وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بائیں پہلو میں کھڑے ہوئے تھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ہاتھ سے پکڑ کردائیں جانب کرلیا اور لوگوں کے آنے تک ہم نماز پڑھتے رہے۔

جَبَّارِ بْنِ صَخْرٍ الْأَنْصَارِيِّ أَحَدِ بَنِي سَلِمَةَ ← شُرَحْبِيلَ ← أَبُو أُوَيْسٍ ← حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 15550

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 15551

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنِ ابْنِ أَبِي خُزَامَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَقَالَ سُفْيَانُ مَرَّةً سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرَأَيْتَ دَوَاءً نَتَدَاوَى بِهِ وَرُقًى نَسْتَرْقِي بِهَا وَتُقًى نَتَّقِيهَا أَتَرُدُّ مِنْ قَدَرِ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى شَيْئًا قَالَ إِنَّهَا مِنْ قَدَرِ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى

حضرت ابوخزامہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ یہ بتائیے کہ یہ جو ہم علاج کرتے ہیں یاجھاڑ پھونک کرتے ہیں یاپرہیز کرتے ہیں کیا یہ چیزیں اللہ کی تقدیر کا کچھ حصہ بھی ٹال سکتی ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ چیزیں بھی تقدیر الٰہی کا حصہ ہیں ۔

قُلْتُ ← أَبِيهِ ← ابْنِ أَبِي خُزَامَةَ، ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 15551

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 15552

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَيَّاشٍ حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ عَنِ الزُّبَيْدِيِّ مُحَمَّدِ بْنِ الْوَلِيدِ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ ابْنِ أَبِي خِزَامَةَ أَحَدِ بَنِي الْحَارِثِ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ دَوَاءً نَتَدَاوَى بِهِ وَرُقًى نَسْتَرْقِي بِهَا وَتُقًى نَتَّقِيهَا هَلْ تَرُدُّ ذَلِكَ مِنْ قَدَرِ اللَّهِ شَيْئًا قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَلِكَ مِنْ قَدَرِ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى

حضرت ابوخزامہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ یہ بتائیے کہ یہ جو ہم علاج کرتے ہیں یاجھاڑ پھونک کرتے ہیں یاپرہیز کرتے ہیں کیا یہ چیزیں اللہ کی تقدیر کا کچھ حصہ بھی ٹال سکتی ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ چیزیں بھی تقدیر الٰہی کا حصہ ہیں ۔

أَبِيهِ أَنَّهُ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ ← ابْنِ أَبِي خِزَامَةَ أَحَدِ بَنِي الْحَارِثِ ← الزُّهْرِيِّ، ← الزُّبَيْدِيِّ مُحَمَّدِ بْنِ الْوَلِيدِ، ← بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ ← عَلِيُّ بْنُ عَيَّاشٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 15552

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 15553

حَدَّثَنَا هَارُونُ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ قَالَ أَخْبَرَنِي عَمْرٌو عَنِ ابْنِ شِهَابٍ أَنَّ ابْنَ أَبِي خُزَامَةَ أَحَدَ بَنِي الْحَارِثِ بْنِ سَعْدِ بْنِ هُذَيْمٍ حَدَّثَهُ أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ أَنَّهُ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ دَوَاءً نَتَدَاوَى بِهِ وَرُقًى نَسْتَرْقِيهَا وَتُقًى نَتَّقِيهِ هَلْ تَرُدُّ ذَلِكَ مِنْ قَدَرِ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى مِنْ شَيْءٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّهُ مِنْ قَدَرِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ

حضرت ابوخزامہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ یہ بتائیے کہ یہ جو ہم علاج کرتے ہیں یاجھاڑ پھونک کرتے ہیں یاپرہیز کرتے ہیں کیا یہ چیزیں اللہ کی تقدیر کا کچھ حصہ بھی ٹال سکتی ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ چیزیں بھی تقدیر الٰہی کا حصہ ہیں ۔

ابْنِ شِهَابٍ، ← عَمْرٍو، ← ابْنُ وَهْبٍ، ← هَارُونُ:

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 15553

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 15554

حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ وَيَحْيَى بْنِ أَبِي بُكَيْرٍ عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ ابْنِ أَبِي خُزَامَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ أَبِي وَهُوَ الصَّوَابُ كَذَا قَالَ الزُّبَيْدِيُّ

حضرت ابوخزامہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ یہ بتائیے کہ یہ جو ہم علاج کرتے ہیں یاجھاڑ پھونک کرتے ہیں یاپرہیز کرتے ہیں کیا یہ چیزیں اللہ کی تقدیر کا کچھ حصہ بھی ٹال سکتی ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ چیزیں بھی تقدیر الٰہی کا حصہ ہیں ۔

الزُّبَيْدِيِّ، ← أَبِي وَهُوَ الصَّوَابُ كَذَا ← أَبِيهِ ← ابْنِ أَبِي خُزَامَةَ، ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ← حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ وَيَحْيَى بْنِ أَبِي بُكَيْرٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 15554

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 15555

حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ قَالَ سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ أَبِي كَثِيرٍ يَقُولُ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَسْعَدَ بْنِ زُرَارَةَ عَنْ قَيْسِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ زَارَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَنْزِلِنَا فَقَالَ السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ قَالَ فَرَدَّ سَعْدٌ رَدًّا خَفِيًّا فَرَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاتَّبَعَهُ سَعْدٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَدْ كُنْتُ أَسْمَعُ تَسْلِيمَكَ وَأَرُدُّ عَلَيْكَ رَدًّا خَفِيًّا لِتُكْثِرَ عَلَيْنَا مِنْ السَّلَامِ قَالَ فَانْصَرَفَ مَعَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَ لَهُ سَعْدٌ بِغُسْلٍ فَوُضِعَ فَاغْتَسَلَ ثُمَّ نَاوَلَهُ أَوْ قَالَ نَاوَلُوهُ مِلْحَفَةً مَصْبُوغَةً بِزَعْفَرَانٍ وَوَرْسٍ فَاشْتَمَلَ بِهَا ثُمَّ رَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَيْهِ وَهُوَ يَقُولُ اللَّهُمَّ اجْعَلْ صَلَوَاتِكَ وَرَحْمَتَكَ عَلَى آلِ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ قَالَ ثُمَّ أَصَابَ مِنْ الطَّعَامِ فَلَمَّا أَرَادَ الِانْصِرَافَ قَرَّبَ إِلَيْهِ سَعْدٌ حِمَارًا قَدْ وَطَّأَ عَلَيْهِ بِقَطِيفَةٍ فَرَكِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ سَعْدٌ يَا قَيْسُ اصْحَبْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ قَيْسٌ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ارْكَبْ فَأَبَيْتُ ثُمَّ قَالَ إِمَّا أَنْ تَرْكَبَ وَإِمَّا أَنْ تَنْصَرِفَ قَالَ فَانْصَرَفْتُ

حضرت قیس بن سعد سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے گھر تشریف لائے اور باہر سے سلام کیا حضرت سعد میرے والد نے آہستہ سے جواب دیا اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم واپس جانے لگے تو حضرت سعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے بھاگے اور کہنے لگے کہ یا رسول اللہ میں نے آپ کا سلام سنلیا تھا اور جواب بھی دیا تھا لیکن آہستہ آواز سے تاکہ آپ زیادہ سے زیادہ ہمارے لئے سلامتی کی دعاکریں ۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم حضرت سعد کے ساتھ واپس آگئے حضرت سعد نے غسل کا پانی رکھنے کا حکم دیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے غسل کیا پھر فرمایا لحاف لاؤ اس لحاف کوزعفران اور ورس سے رنگا گیا تھا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ اوڑھ لیا اور ہاتھ اٹھا کر دعا فرمائی کے اے اللہ آل سعد بن عبادہ پر اپنی رحمتوں اور برکتوں کا نزول فرما اس کے بعد کچھ کھانا تناول فرمایا واپسی کا ارادہ کیا تو حضرت سعد ایک گدھا لے کر آئے جس پرانہو نے چادر ڈال رکھی تھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس پر سوار ہوئے تو والد صاحب نے مجھ سے کہا قیس تم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جاؤ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اپنے ساتھ سوار ہونے کے لئے کہا لیکن میں نے ادبا انکار کردیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم یا تو سوار ہوجاؤ یاواپس چلے جاؤ چنانچہ میں واپس آگیا۔

فَرَدَّ سَعْدٌ رَدًّا خَفِيًّا فَرَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ وَاتَّبَعَهُ سَعْدٌ فَقَالَ ← زَارَنَا رَسُولُ اللَّهِ فِي مَنْزِلِنَا فَقَالَ السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ ← قَیْسِ بْنِ سَعْدٍ، ← مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَسْعَدِ بْنِ زُرَارَةَ ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 15555

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 15556

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُخَيْمِرَةَ عَنْ أَبِي عَمَّارٍ عَنْ قَيْسِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ أَمَرَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَصُومَ عَاشُورَاءَ قَبْلَ أَنْ يَنْزِلَ صِيَامُ رَمَضَانَ فَلَمَّا نَزَلَ صِيَامُ رَمَضَانَ لَمْ يَأْمُرْنَا وَلَمْ يَنْهَنَا وَنَحْنُ نَفْعَلُهُ

حضرت قیس بن سعد سے مروی ہے کہ ماہ رمضان کے روزوں کا حکم نازل ہونے سے پہلے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں یوم عاشورہ کا روزہ رکھنے کا حکم دیا تھا جب ماہ رمضان کے روزے رکھنے کا حکم نازل ہوا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں عاشورہ کا روزہ رکھنے کا حکم دیا اور نہ ہی روکا البتہ ہم خود ہی رکھتے رہے۔

قَیْسِ بْنِ سَعْدٍ، ← أَبِي عَمَّارٍ ← الْقَاسِمِ بْنِ مُخَيْمِرَةَ ← سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، ← سُفْيَانَ، ← وَكِيعٌ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 15556

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 15557

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا حَيْوَةُ قَالَ أَخْبَرَنِي عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مُلَيْلٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي أُمَيَّةَ أَنَّ حَبِيبَ بْنَ مَسْلَمَةَ أَتَى قَيْسَ بْنَ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ فِي الْفِتْنَةِ الْأُولَى وَهُوَ عَلَى فَرَسٍ فَأَخَّرَ عَنْ السَّرْجِ وَقَالَ ارْكَبْ فَأَبَى وَقَالَ لَهُ قَيْسُ بْنُ سَعْدٍ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ صَاحِبُ الدَّابَّةِ أَوْلَى بِصَدْرِهَا فَقَالَ لَهُ حَبِيبٌ إِنِّي لَسْتُ أَجْهَلُ مَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَكِنِّي أَخْشَى عَلَيْكَ

حبیب بن سلمہ فتنہ اولی کے زمان میں حضرت قیس بن سعد کے پاس اپنے گھوڑے پر سوار آئے اور زین سے پیچھے ہٹ کر کہا اس پر سوار ہوجا انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے سواری کا مالک آگے بیٹھنے کا زیادہ حق دار ہے حبیب کہنے لگے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد سے میں ناواقف نہیں ہوں البتہ مجھے آپ کے متعلق خطرہ محسوس ہورہا تھا۔

عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي أُمَيَّةَ، ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مُلَيْلٍ، ← حَيْوَةُ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 15557

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 15558

حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ جَابِرٍ عَنْ عَامِرٍ عَنْ قَيْسِ بْنِ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ قَالَ مَا مِنْ شَيْءٍ كَانَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا وَقَدْ رَأَيْتُهُ إِلَّا شَيْئًا وَاحِدًا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُقَلَّسُ لَهُ يَوْمَ الْفِطْرِ قَالَ جَابِرٌ هُوَ اللَّعِبُ

حضرت قیس بن سعد سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور باسعادت میں جو چیز بھی پائی جاتی تھی وہ میں اب بھی دیکھتاہوں سوائے ایک چیز کے اور وہ یہ کہ عیدالفطر کے دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے تفریح مہیاکی جاتی ہے۔

قَيْسِ بْنِ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ ← عَامِرٍ، ← جَابِرٍ ← اِسْرَائِیْلُ ← أَبُو النَّضْرِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 15558

chevron_left Previous
1…153154155…232
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    0. Chapter
2. Book
    0. Chapter
3. Book
    0. Chapter
4. Book
    0. Chapter
5. Book
    0. Chapter
6. Book
    0. Chapter
7. Book
    0. Chapter
8. Book
    0. Chapter
9. Book
    0. Chapter