Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Sunday, Jumada I 8, 1448 AH · Oct 18, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند امام احمد بن حنبل

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble

by Musnad Imam Bin Hanble

28,221 Hadith18 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 15523

حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ أَنَّ أَبَا الْمِنْهَالِ أَخْبَرَهُ أَنَّ إِيَاسَ بْنَ عَبْدٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تَبِيعُوا فَضْلَ الْمَاءِ فَإِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ بَيْعِ الْمَاءِ قَالَ وَالنَّاسُ يَبِيعُونَ مَاءَ الْفُرَاتِ فَنَهَاهُمْ

حضرت ایاس بن عبد سے مروی ہے کہ ضرورت سے زائد پانی مت بیچا کرو کہ جناب رسول اللہ نے پانی کو بیچنے سے منع فرمایا ہے دراصل زمانے میں لوگ دریائے فرات کا پانی بیچنے لگے تھے اس لئے انہوں نے اس سے منع فرمایا۔

وَالنَّاسُ يَبِيعُونَ مَاءَ الْفُرَاتِ فَنَهَاهُمْ ← بَيْعِ الْمَاءِ. ← لَا تَبِيعُوا فَضْلَ الْمَاءِ؛ فَإِنَّ النَّبِيَّ نَهَى ← أَنَّ إِيَاسَ بْنَ عَبْدٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ أَنَّ أَبَا الْمِنْهَالِ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← رَوْحٌ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 15523

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 15524

حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ كَثِيرٍ الْمَكِّيُّ قَالَ سَأَلْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ كَيْسَانَ مَوْلَى خَالِدِ بْنِ أُسَيْدٍ قُلْتُ أَلَا تُحَدِّثُنِي عَنْ أَبِيكَ فَقَالَ مَا سَأَلْتَنِي فَقَالَ حَدَّثَنِي أَبِي أَنَّهُ رَأَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ مِنْ الْمَطَابِخِ حَتَّى أَتَى الْبِئْرَ وَهُوَ مُتَّزِرٌ بِإِزَارٍ لَيْسَ عَلَيْهِ رِدَاءٌ فَرَأَى عِنْدَ الْبِئْرِ عَبِيدًا يُصَلُّونَ فَحَلَّ الْإِزَارَ وَتَوَشَّحَ بِهِ وَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ لَا أَدْرِي الظُّهْرَ أَوْ الْعَصْرَ

عمرو بن کثیر کہتے ہیں میں نے عبدالرحمن بن کیسان سے کہا کہ آپ مجھے اپنے والد کے حوالے سے کوئی حدیث کیوں نہیں سناتے انہوں نے کہا تم نے مجھ سے اس کی درخواست کی ہی کب ہے پھر کہنے لگے کہ میرے والد صاحب نے مجھے بتایا کہ انہوں نے ایک مرتبہ دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مطبح سے نکلے کنویں پر پہنچے اس وقت آپ نے صرف تہبند باندھ رکھا تھا اوپر کی چادر آپ کے جسم مبارک پر نہ تھی کنویں کے پاس آپ نے چند غلاموں کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھا آپ نے تہبند کی گرہ کھول دی اور پانی کے چھینٹے مارے اور دو رکعتیں پڑھیں البتہ مجھے یہ یاد نہیں کہ وہ ظہر کی نماز تھی یا عصر کی۔

مَا سَأَلْتَنِي ← أَبِيكَ، ← سَأَلْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ كَيْسَانَ مَوْلَى خَالِدِ بْنِ أُسَيْدٍ قُلْتُ أَلَا تُحَدِّثُنِي ← عَمْرُو بْنُ كَثِيرٍ الْمَكِّيُّ، ← يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 15524

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 15525

حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ الْخَيَّاطُ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ كَثِيرِ بْنِ أَفْلَحَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَيْسَانَ قَالَ سَأَلْتُ أَبِي كَيْسَانَ مَا أَدْرَكْتَ مِنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ رَأَيْتُهُ يُصَلِّي عِنْدَ الْبِئْرِ الْعُلْيَا بِبِئْرِ بَنِي مُطِيعٍ مُلَبَّبًا فِي ثَوْبٍ الظُّهْرَ أَوْ الْعَصْرَ فَصَلَّاهَا رَكْعَتَيْنِ

عبدالرحمن بن کیسان کہتے ہیں کہ میں نے اپنے والد کیسان سے پوچھا کہ آپ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کس طرح پایا تھا انہوں نے جواب دیا میں نے ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بئر بن مطیع نامی اونچے کنویں پر ایک کپڑے میں لپٹ کر ظہر یا عصر کی نماز پڑھتے ہوئے دیکھا تھا آپ نے اس وقت دو رکعتیں پڑھی تھیں۔

سَأَلْتُ أَبِي كَيْسَانَ مَا أَدْرَكْتَ مِنْ النَّبِيِّ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ کَيْسَانَ ← عمرو بن كثير بن أفلح ← حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ الْخَيَّاطُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 15525

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 15526

حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ الْمُهَلَّبِيُّ عَنْ هِشَامِ بْنِ زِيَادٍ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ الْأَرْقَمِ بْنِ أَبِي الْأَرْقَمِ الْمَخْزُومِيِّ عَنْ أَبِيهِ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ الَّذِي يَتَخَطَّى رِقَابَ النَّاسِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَيُفَرِّقُ بَيْنَ الِاثْنَيْنِ بَعْدَ خُرُوجِ الْإِمَامِ كَالْجَارِّ قُصْبَهُ فِي النَّارِ

حضرت ارقم بن ارقم جو صحابی رسول ہیں سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص جمعہ کے دن لوگوں کی گردنیں پھلانگتا ہوا آئے اور امام کے نکل آنے کے بعد دو آدمیوں کے درمیان گھس کربیٹھے وہ اس شخص کی طرح ہے جو جہنم میں اپنی انتریاں کھینچ رہا ہو۔

أَبِيهِ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ ← عُثْمَانَ بْنِ الْأَرْقَمِ بْنِ أَبِي الْأَرْقَمِ الْمَخْزُومِيِّ، ← هشام بن زياد ← عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ الْمُهَلَّبِيُّ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 15526

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 15527

حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ يَعْنِي شَيْبَانَ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ أَنَّ ابْنَ عَابِسٍ الْجُهَنِيَّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا ابْنَ عَابِسٍ أَلَا أُخْبِرُكَ بِأَفْضَلِ مَا تَعَوَّذَ بِهِ الْمُتَعَوِّذُونَ قُلْتُ بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ وَقُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ

حضرت ابن عابس سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا اے ابن عابس کیا میں تمہیں تعوذ کے سب سے افضل کلمات کے بارے میں نہ بتاؤں جن سے تعوذ کرنے والے تعوذ کرتے ہیں میں نے عرض کیا یا رسول اللہ کیوں نہیں فرمایا دو سورتیں ہیں سورت فلق اور سورت ناس۔

مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ أَنَّ ابْنَ عَابِسٍ الْجُهَنِيَّ ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← أبو معاوية يعني شيبان ← هاشم بن القاسم

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 15527

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 15528

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ مُبَارَكٍ قَالَ أَخْبَرَنَا الْأَوْزَاعِيُّ قَالَ حَدَّثَنِي الْمُطَّلِبُ بْنُ حَنْطَبٍ الْمَخْزُومِيُّ قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي عَمْرَةَ الْأَنْصَارِيُّ حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزَاةٍ فَأَصَابَ النَّاسَ مَخْمَصَةٌ فَاسْتَأْذَنَ النَّاسُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نَحْرِ بَعْضِ ظُهُورِهِمْ وَقَالُوا يُبَلِّغُنَا اللَّهُ بِهِ فَلَمَّا رَأَى عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ هَمَّ أَنْ يَأْذَنَ لَهُمْ فِي نَحْرِ بَعْضِ ظَهْرِهِمْ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ بِنَا إِذَا نَحْنُ لَقِينَا الْقَوْمَ غَدًا جِيَاعًا أَرْجَالًا وَلَكِنْ إِنْ رَأَيْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنْ تَدْعُوَ لَنَا بِبَقَايَا أَزْوَادِهِمْ فَتَجْمَعَهَا ثُمَّ تَدْعُوَ اللَّهَ فِيهَا بِالْبَرَكَةِ فَإِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى سَيُبَلِّغُنَا بِدَعْوَتِكَ أَوْ قَالَ سَيُبَارِكُ لَنَا فِي دَعْوَتِكَ فَدَعَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِبَقَايَا أَزْوَادِهِمْ فَجَعَلَ النَّاسُ يُجِيئُونَ بِالْحَثْيَةِ مِنْ الطَّعَامِ وَفَوْقَ ذَلِكَ وَكَانَ أَعْلَاهُمْ مَنْ جَاءَ بِصَاعٍ مِنْ تَمْرٍ فَجَمَعَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَامَ فَدَعَا مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَدْعُوَ ثُمَّ دَعَا الْجَيْشَ بِأَوْعِيَتِهِمْ فَأَمَرَهُمْ أَنْ يَحْتَثُوا فَمَا بَقِيَ فِي الْجَيْشِ وِعَاءٌ إِلَّا مَلَئُوهُ وَبَقِيَ مِثْلُهُ فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى بَدَتْ نَوَاجِذُهُ فَقَالَ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ لَا يَلْقَى اللَّهَ عَبْدٌ مُؤْمِنٌ بِهِمَا إِلَّا حُجِبَتْ عَنْهُ النَّارُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ

حضرت ابوعمرہ انصاری سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کسی غزوے میں تھے اور اس دوران لوگوں کوشدت کی بھوک نے ستایا انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی سواری کا جانور ذبح کرنے کی اجازت چاہی اور کہنے لگے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں اس کے ذریعے منزل مقصود تک پہنچادیں گے حضرت عمر نے محسوس کیا کہ شاید نبی صلی اللہ علیہ وسلم انہیں کسی سواری کو ذبح کرنے کی اجازت دیدیں گے تو وہ کہنے لگے کہ یا رسول اللہ کل کودشمن سے ہمارا آمنا سامنا ہوگا اور ہم بھوکے ہونے کے ساتھ ساتھ پیدل بھی ہوں گے تو کیا بنے گا یا رسول اللہ اگر آپ مناسب خیال کریں تو ان سے کہیں کہ یہ بچا کچھا زاد راہ لے آئیں آپ اسے اکٹھا کر کے اس میں برکت کی دعا فرمائیں اللہ آپ کی دعا کی برکت سے اسے ہمارے لئے کافی فرمادیں گے چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایساہی کیا اور لوگوں سے بچاکچھا زاد راہ منگوا لیا۔ لوگ ایک ایک مٹھی گندم یا اس سے زیادہ کچھ لانے لگے ان میں سب سے برتر وہ شخص تھا جو ایک صاع لے کر آیا تھا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان تمام چیزوں کو اکٹھا کیا اور اللہ سے دعاکی جب تک اللہ کو منظور ہوا پھر سارے لشکر کو ان کے برتنوں سمیت بلایا اور انہیں حکم دیا کہ مٹھیاں بھر بھر کر اٹھائیں چنانچہ پورے لشکر میں ایک برتن بھی ایسا نہ بچا جسے لوگوں نے بھر نہ لیاہو لیکن وہ پھر بھی اتنے کا اتناہی رہا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم مسکرانے لگے یہاں تک کہ آپ کے دندان مبارک ظاہر ہوگئے اور فرمایا کہ میں گواہی دیتاہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور یہ کہ میں اللہ کا رسول ہوں جو بندہ مومن ان دو گواہیوں کے ساتھ قیامت کے دن اللہ سے ملے گا اسے جہنم کی آگ سے محفوظ رکھاجائے گا۔

أَبِي ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَمْرَةَ الْأَنْصَارِيِّ ← الْمطلب بن حنْطَب المَخْزُومِي ← الْاَوْزَاعِیُّ ← عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ مُبَارَكٍ ← عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 15528

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 15529

حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ قَالَ أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ قَالَ أَخْبَرَنِي عِيسَى بْنُ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ عُمَيْرِ بْنِ سَلَمَةَ الضَّمْرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِالْعَرْجِ فَإِذَا هُوَ بِحِمَارٍ عَقِيرٍ فَلَمْ يَلْبَثْ أَنْ جَاءَ رَجُلٌ مِنْ بَهْزٍ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذِهِ رَمْيَتِي فَشَأْنُكُمْ بِهَا فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَسَمَهُ بَيْنَ الرِّفَاقِ ثُمَّ سَارَ حَتَّى أَتَى عَقَبَةَ أُثَايَةَ فَإِذَا هُوَ بِظَبْيٍ فِيهِ سَهْمٌ وَهُوَ حَاقِفٌ فِي ظِلِّ صَخْرَةٍ فَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِهِ فَقَالَ قِفْ هَاهُنَا حَتَّى يَمُرَّ الرِّفَاقُ لَا يَرْمِيهِ أَحَدٌ بِشَيْءٍ

حضرت عمیر بن سلمہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا گذر مقام عرج سے ہوا وہاں ایک گدھا پڑا ہوا تھا جو زخمی تھا ابھی کچھ دیر ہی گذری تھی کہ قبیلہ بہز کا ایک آدمی آیا اور کہنے لگا کہ یا رسول اللہ یہ میرا شکار کیا ہوا ہے آپ اس کے ساتھ جو چاہیں کریں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت صدیق اکبر کو حکم دیا کہ اور انہوں نے اسے ساتھیوں میں تقسیم کردیا پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے روانہ ہوئے اور عقبہ اثایہ پر پہنچے تو وہاں ایک ہرن نظر آیا جس کے جسم میں ایک تیر پیوست تھا اور وہ ایک چٹان کے سائے میں ٹیڑھا ہو کر پڑا تھا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ایک ساتھی کو حکم دیا کہ تم یہیں ٹھہرو یہاں تک کہ سارے ساتھی آجایئں تاکہ اس پر کوئی شخص کوئی چیز نہ پھینک سکے۔

عُمَيْرِ بْنِ سَلَمَةَ الضَّمْرِيِّ، ← عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← هُشَيْمٌ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 15529

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 15530

حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ أَخْبَرَنَا أَبُو بَلْجٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ حَاطِبٍ الْجُمَحِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصْلٌ بَيْنَ الْحَلَالِ وَالْحَرَامِ الدُّفُّ وَالصَّوْتُ فِي النِّكَاحِ

حضرت محمد بن حاطب سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ حلال حرام کے درمیان فرق دف بجانے اور نکاح کی تشہیر کرنے سے ہوتا ہے۔

مُحَمَّدِ بْنِ حَاطِبٍ الْجُمَحِيِّ ← أبو بلج، ← هُشَيْمٌ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 15530

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 15531

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ سِمَاكٍ قَالَ قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ حَاطِبٍ انْصَبَّتْ عَلَى يَدِي مِنْ قِدْرٍ فَذَهَبَتْ بِي أُمِّي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي مَكَانٍ قَالَ فَقَالَ كَلَامًا فِيهِ أَذْهِبْ الْبَاسْ رَبَّ النَّاسْ وَأَحْسِبُهُ قَالَ اشْفِ أَنْتَ الشَّافِي قَالَ وَكَانَ يَتْفُلُ

حضرت محمد بن حاطب سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میرے ہاتھ پر ایک ہانڈی گرگئی میری والدہ مجھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لے گئی اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کسی خاص جگہ پر تھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے لئے دعا فرمائی کہ اے لوگوں کے رب اس تکلیف کو دور فرما اور شاید یہ بھی فرمایا کہ تو اسے شفا عطا فرما کیونکہ شفا دینے والا تو ہی ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بعد مجھ پر اپنا لعاب دہن لگایا۔

سِمَاكٍ، ← شُعْبَةُ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 15531

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 15532

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي الْعَبَّاسِ وَيُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُثْمَانَ قَالَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْعَبَّاسِ فِي حَدِيثِهِ ابْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَاطِبٍ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ جَدِّهِ مُحَمَّدِ بْنِ حَاطِبٍ عَنْ أُمِّهِ أُمِّ جَمِيلٍ بِنْتِ الْمُجَلِّلِ قَالَتْ أَقْبَلْتُ بِكَ مِنْ أَرْضِ الْحَبَشَةِ حَتَّى إِذَا كُنْتُ مِنْ الْمَدِينَةِ عَلَى لَيْلَةٍ أَوْ لَيْلَتَيْنِ طَبَخْتُ لَكَ طَبِيخًا فَفَنِيَ الْحَطَبُ فَخَرَجْتُ أَطْلُبُهُ فَتَنَاوَلْتَ الْقِدْرَ فَانْكَفَأَتْ عَلَى ذِرَاعِكَ فَأَتَيْتُ بِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ بِأَبِي وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاطِبٍ فَتَفَلَ فِي فِيكَ وَمَسَحَ عَلَى رَأْسِكَ وَدَعَا لَكَ وَجَعَلَ يَتْفُلُ عَلَى يَدَيْكَ وَيَقُولُ أَذْهِبْ الْبَاسْ رَبَّ النَّاسْ وَاشْفِ أَنْتَ الشَّافِي لَا شِفَاءَ إِلَّا شِفَاؤُكَ شِفَاءً لَا يُغَادِرُ سَقَمًا فَقَالَتْ فَمَا قُمْتُ بِكَ مِنْ عِنْدِهِ حَتَّى بَرَأَتْ يَدُكَ

حضرت محمد بن حاطب کی والدہ ام جمیل کہتی ہیں کہ ایک مرتبہ میں تمہیں سر زمین حبشہ سے لے کر آرہی تھی کہ جب میں مدینہ منورہ سے ایک یا دو راتوں کے فاصلے پر رہ گئی تو میں نے تمہارے لئے کھانا پکانا شروع کیا اسی اثناء میں لکڑیاں ختم ہوگئیں میں لکڑیوں کی تلاش میں نکلی تو تم نے ہانڈی اپنے ہاتھ پر گرا لی وہ الٹ کرتمہارے بازو پر گرگئی میں تمہیں لے کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اوعرض کیا یا رسول اللہ میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں یہ محمد بن حاطب ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہارے منہ میں اپنا لعاب دہن ڈالا اور تمہارے سر پر ہاتھ پھیرا اور تمہارے لئے برکت کی دعا فرمائی نبی صلی اللہ علیہ وسلم تمہارے ہاتھ پر اپنا لعاب دہن ڈالتے جاتے تھے اور کہتے جاتے تھے اے لوگوں کے رب اس تکلیف کو دور فرما اور شفا عطا فرما کیونکہ توہی شفا ہی دینے والا ہے تیرے علاوہ کسی کوشفا نہیں ہے ایسی شفاعطا فرما جو بیماری کا نام ونشان بھی نہ چھوڑے میں تمہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے لے کر اٹھنے بھی نہیں پائی تھی کہ تمہارا ہاتھ ٹھیک ہوگیا۔

أُمِّهِ أُمِّ جَمِيلٍ2 بِنْتِ الْمُجَلِّلِ ← جَدِّهِ مُحَمَّدِ بْنِ حَاطِبٍ، ← أَبِي ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْعَبَّاسِ فِي حَدِيثِهِ ابْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَاطِبٍ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُثْمَانَ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي الْعَبَّاسِ وَيُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 15532

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 15533

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي الْعَبَّاسِ قَالَ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ حَاطِبٍ قَالَ دَبَبْتُ إِلَى قِدْرٍ وَهِيَ تَغْلِي فَأَدْخَلْتُ يَدِي فِيهَا فَاحْتَرَقَتْ أَوْ قَالَ فَوَرِمَتْ يَدِي فَذَهَبَتْ بِي أُمِّي إِلَى رَجُلٍ كَانَ بِالْبَطْحَاءِ فَقَالَ شَيْئًا وَنَفَثَ فَلَمَّا كَانَ فِي إِمْرَةِ عُثْمَانَ قُلْتُ لِأُمِّي مَنْ كَانَ ذَلِكَ الرَّجُلُ قَالَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

محمد بن حاطب کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں پاؤں کے بل چلتا ہوا ہانڈی کے پاس پہنچا وہ ابل رہی تھی میں نے اس میں ہاتھ ڈالا تو وہ سوج گیا یاجل گیامیری والدہ مجھے ایک شخص کے پاس لے گئی جو مقام بطحاء میں تھا اس نے کچھ پڑھا اور میرا ہاتھ پر تھنکا دیا حضرت عثمان کے دور خلافت میں میں نے اپنی والدہ سے پوچھا کہ وہ آدمی کون تھا انہوں نے بتایا کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تھے۔

مُحَمَّدِ بْنِ حَاطِبٍ ← سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ← شَرِيکٍ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي الْعَبَّاسِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 15533

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 15534

حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ قَالَ حَدَّثَنِي حَكِيمُ بْنُ أَبِي يَزِيدٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ دَعُوا النَّاسَ يُصِيبُ بَعْضُهُمْ مِنْ بَعْضٍ فَإِذَا اسْتَنْصَحَ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ فَلْيَنْصَحْهُ

حضرت ابویزید سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا لوگوں کو چھوڑ دو کہ انہیں ایک دوسرے سے رزق حاصل ہوالبتہ اگر تم میں سے کوئی شخص اپنے بھائی کے ساتھ ہمدردی کرنا چاہے تو اسے نصیحت کردے۔

أَبِي ← أَبِيهِ ← حكيم بن أبي يزيد، ← عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، ← أَبِي ← عَبْدُ الصَّمَدِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 15534

chevron_left Previous
1…151152153…232
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    0. Chapter
2. Book
    0. Chapter
3. Book
    0. Chapter
4. Book
    0. Chapter
5. Book
    0. Chapter
6. Book
    0. Chapter
7. Book
    0. Chapter
8. Book
    0. Chapter
9. Book
    0. Chapter