Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Sunday, Jumada I 8, 1448 AH · Oct 18, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند امام احمد بن حنبل

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble

by Musnad Imam Bin Hanble

28,221 Hadith18 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 15451

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِي عُثْمَانُ بْنُ السَّائِبِ عَنْ أُمِّ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي مَحْذُورَةَ عَنْ أَبِي مَحْذُورَةَ قَالَ لَمَّا رَجَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى حُنَيْنٍ خَرَجْتُ عَاشِرَ عَشَرَةٍ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ مَرَّتَيْنِ فَقَطْ و قَالَ رَوْحٌ أَيْضًا مَرَّتَيْنِ

حضرت ابومحذورہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں دس نوجوانوں کے ساتھ نکلا اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی ساتھ تھے لیکن وہ تمام لوگوں میں ہمیں سب سے زیادہ مبغوض تھے کیونکہ ہم نے اس وقت اسلام قبول نہیں کیا تھا مسلمانوں نے اذان دی تو ہم لوگ بھی کھڑے ہو کر ان کی نقل اتار کر ان کامذاق اڑانے لگے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ان نوجوانوں کو پکڑ کر میرے پاس لاؤ اور ہم سے فرمایا کہ کہ اب اذان دو چنانچہ سب نے اذان دی ان میں میں بھی شامل تھا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے میری آواز سن کر فرمایا کہ اس کی آواز کتنی اچھی ہے تم جاؤ اور اہل مکہ کے لئے اذان دو پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی پیشانی پر اپنا دست مبارک پھیرا اور فرمایا کہ چار مرتبہ اللہ اکبر کہو دو مرتبہ اشہد ان لا الہ الا اللہ کہنادومرتبہ اشہد ان محمد رسول اللہ کہنا دو دو مرتبہ حی علی الصلوۃ اور حی علی الفلاح کہنا پھر دو مرتبہ اللہ اکبر کہنا اور پھر لا الہ الا اللہ کہنا اور جب صبح کی اذان دینا تو دو مرتبہ الصلوۃ خیرالنوم کہنا اور جب اقامت کہو تو دومرتبہ قدقامت الصلوۃ کہناسنایا نہیں مروی ہے کہ اس واقعے کے بعد سے حضرت ابومحذورہ نے کبھی اپنی پیشانی کے بال نہیں کاٹے اور نہ ہی مانگ نکالی کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس جگہ پر ہاتھ پھیرا تھا۔

رَوْحٌ أَيْضًا مَرَّتَيْنِ ← اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ مَرَّتَيْنِ فَقَطْ و ← لَمَّا رَجَعَ النَّبِيُّ إِلَى حُنَيْنٍ خَرَجْتُ عَاشِرَ عَشَرَةٍ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ إِلَّا أَنَّهُ ← أَبِي مَحْذُورَةَ: ← أُمِّ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي مَحْذُورَةَ ← عُثْمَانَ بْنِ السَّائِبِ، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 15451

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 15452

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ لَيْسَ هُوَ الْفَرَّاءَ عَنْ أَبِي سَلْمَانَ عَنْ أَبِي مَحْذُورَةَ قَالَ كُنْتُ أُؤَذِّنُ فِي زَمَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صَلَاةِ الصُّبْحِ فَإِذَا قُلْتُ حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ قُلْتُ الصَّلَاةُ خَيْرٌ مِنْ النَّوْمِ الصَّلَاةُ خَيْرٌ مِنْ النَّوْمِ الْأَذَانُ الْأَوَّلُ

حضرت ابومحذورہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور باسعادت میں فجر کی اذان دیا کرتا تھاجب حی الفلاح کہہ چکتا تو دو مرتبہ اذان میں الصلوۃ خیرمن النوم کہتا تھا۔

أَبِي مَحْذُورَةَ: ← أَبِي سَلْمَانَ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ لَيْسَ هُوَ الْفَرَّاءَ ← أَبِي جَعْفَرٍ، ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 15452

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 15453

حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ عُبَيْدٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي مَحْذُورَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ عَلِّمْنِي سُنَّةَ الْأَذَانِ فَمَسَحَ بِمُقَدَّمِ رَأْسِي وَقَالَ قُلْ اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ تَرْفَعُ بِهَا صَوْتَكَ ثُمَّ تَقُولُ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ مَرَّتَيْنِ تَخْفِضُ بِهَا صَوْتَكَ ثُمَّ تَرْفَعُ صَوْتَكَ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ مَرَّتَيْنِ أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ مَرَّتَيْنِ حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ مَرَّتَيْنِ فَإِنْ كَانَ صَلَاةُ الصُّبْحِ قُلْتَ الصَّلَاةُ خَيْرٌ مِنْ النَّوْمِ الصَّلَاةُ خَيْرٌ مِنْ النَّوْمِ مَرَّتَيْنِ اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ

حضرت ابومحذورہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ مجھے اذان سکھا دیجیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے میری پیشانی پر اپنا دست مبارک پھیرا اور فرمایا بلند آواز سے اللہ اکبر کہنا دو مرتبہ اشہد ان لا الہ اللہ کہنا دو دو مرتبہ اشہد ان محمد رسول اللہ آہستہ آواز سے کہنا پھر دو دو مرتبہ بلند آواز سے کہنا پھر دو دو مرتبہ حی علی الصلوۃ اور حی علی الفلاح کہنا اور جب صبح کی اذان دینا تو دو مرتبہ الصلاۃ خیرالنوم کہنا اور آخر میں اللہ اللہ اکبر کہنا اور لا الہ الا اللہ کہنا۔

قُلْتُ ← جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي مَحْذُورَةَ، ← الْحَارِثُ بْنُ عُبَيْدٍ، ← سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 15453

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 15454

حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِي عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي مَحْذُورَةَ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مُحَيْرِيزٍ أَخْبَرَهُ وَكَانَ يَتِيمًا فِي حَجْرِ أَبِي مَحْذُورَةَ قَالَ رَوْحٌ ابْنُ مِعْيَرٍ وَلَمْ يَقُلْهُ ابْنُ بَكْرٍ حِينَ جَهَّزَهُ إِلَى الشَّامِ قَالَ فَقُلْتُ لِأَبِي مَحْذُورَةَ يَا عَمِّ إِنِّي خَارِجٌ إِلَى الشَّامِ وَأَخْشَى أَنْ أُسْأَلَ عَنْ تَأْذِينِكَ فَأَخْبَرَنِي أَنَّ أَبَا مَحْذُورَةَ قَالَ لَهُ نَعَمْ خَرَجْتُ فِي نَفَرٍ فَكُنَّا بِبَعْضِ طَرِيقِ حُنَيْنٍ فَقَفَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ حُنَيْنٍ فَلَقِيَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِبَعْضِ الطَّرِيقِ فَأَذَّنَ مُؤَذِّنُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالصَّلَاةِ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَمِعْنَا صَوْتَ الْمُؤَذِّنِ وَنَحْنُ مُتَنَكِّبُونَ فَصَرَخْنَا نَحْكِيهِ وَنَسْتَهْزِئُ بِهِ فَسَمِعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّوْتَ فَأَرْسَلَ إِلَيْنَا إِلَى أَنْ وَقَفْنَا بَيْنَ يَدَيْهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّكُمْ الَّذِي سَمِعْتُ صَوْتَهُ قَدْ ارْتَفَعَ فَأَشَارَ الْقَوْمُ كُلُّهُمْ إِلَيَّ وَصَدَقُوا فَأَرْسَلَ كُلَّهُمْ وَحَبَسَنِي فَقَالَ قُمْ فَأَذِّنْ بِالصَّلَاةِ فَقُمْتُ وَلَا شَيْءَ أَكْرَهُ إِلَيَّ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا مِمَّا يَأْمُرُنِي بِهِ فَقُمْتُ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَلْقَى إِلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ التَّأْذِينَ هُوَ نَفْسُهُ فَقَالَ قُلْ اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ ثُمَّ قَالَ لِي ارْجِعْ فَامْدُدْ مِنْ صَوْتِكَ ثُمَّ قَالَ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ثُمَّ دَعَانِي حِينَ قَضَيْتُ التَّأْذِينَ فَأَعْطَانِي صُرَّةً فِيهَا شَيْءٌ مِنْ فِضَّةٍ ثُمَّ وَضَعَ يَدَهُ عَلَى نَاصِيَةِ أَبِي مَحْذُورَةَ ثُمَّ أَمَارَّهَا عَلَى وَجْهِهِ مَرَّتَيْنِ ثُمَّ مَرَّتَيْنِ عَلَى يَدَيْهِ ثُمَّ عَلَى كَبِدِهِ ثُمَّ بَلَغَتْ يَدُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُرَّةَ أَبِي مَحْذُورَةَ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَارَكَ اللَّهُ فِيكَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مُرْنِي بِالتَّأْذِينِ بِمَكَّةَ فَقَالَ قَدْ أَمَرْتُكَ بِهِ وَذَهَبَ كُلُّ شَيْءٍ كَانَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ كَرَاهِيَةٍ وَعَادَ ذَلِكَ مَحَبَّةً لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَدِمْتُ عَلَى عَتَّابِ بْنِ أُسَيْدٍ عَامِلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَكَّةَ فَأَذَّنْتُ مَعَهُ بِالصَّلَاةِ عَنْ أَمْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

عبداللہ بن محریز جو کہ جو حضرت ابومحذورہ کی پرورش میں تھے شام روانہ ہوتے وقت کہنے لگے کہ چچاجان مجے اندیشہ ہے کہ لوگ مجھ سے آپ کی اذان کا واقعہ ضرور پوچھیں گے چنانچہ انہوں نے بتایا کہ ایک مرتبہ میں چند نوجوانوں کے ساتھ نکلا ہم لوگ حنین کے راستے میں تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم واپس آتے نظر آئے راستے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے آمنا سامنا ہوگیا نماز کا وقت ہوا تو مؤذن نے اذان دی تو ہم لوگ بھی کھڑے ہو کر ان کی نقل اتار کر ان کامذاق اڑانے لگے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ان نوجوانوں کو پکڑ کر میرے پاس لاؤ اور ہم سے فرمایا کہ تم میں سے کون اونچی آواز نکال رہا تھا سب نے میری طرف اشارہ کردیا اور اس میں سچے بھی تھے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سب کو چھوڑ دیا اور مجھے روک لیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اب اذان دو چنانچہ میں کھڑ ہوا لیکن اس وقت میری نظروں میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کا دیا ہوا حکم سب سے زیادہ پسندیدہ تھا میں کھڑا ہوا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خود مجھے اذان کے کلمات سکھائے اور فرمایا دو مرتبہ اللہ اکبر کہنا، دو مرتبہ اشہد ان لا الہ الا اللہ کہنا دو مرتبہ اشہد ان محمد رسول اللہ کہنا پھر دوبارہ یہی کلمات بلند آواز سے کہنا دو مرتبہ حی علی الصلاۃ اور حی علی الفلاح کہنا پھر دو مرتبہ اللہ اکبر کہنا اور پھر لا الہ الا اللہ کہنا جب میں اذان دے کر فارغ ہوا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ایک تھیلی عطا فرمائی جس میں کچھ چاندی تھی پھر میری پیشانی پر اپنا دست مبارک رکھ کردومرتبہ چہرے پر پھیرا پھر سامنے پھر جگر پر حتی کہ ناف تک ہاتھ پہنچا پھر فرمایا اللہ تمہیں برکت دے میں نے عرض کیا یا رسول اللہ مجھے مکہ مکرمہ میں اذان کے لئے مقرر کردیجیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں اس کا حکم جاری کر دیتاہوں اسی وقت ان کے دل سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نفرت دور ہوگئ اور اس کی جگہ محبت پیداہو گئی پھر میں گورنر مکہ حضرت عتاب بن اسید کے پاس پہنچا اور انہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے مطلع کیا۔

عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي مَحْذُورَةَ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← ابْنُ جُرَيْجٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ← رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 15454

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 15455

وَأَخْبَرَنِي ذَلِكَ مَنْ أَدْرَكْتُ مِنْ أَهْلِي مِمَّنْ أَدْرَكَ أَبَا مَحْذُورَةَ عَلَى نَحْوِ مَا أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَيْرِيزٍ

عبداللہ بن محریز جو کہ جو حضرت ابومحذورہ کی پرورش میں تھے شام روانہ ہوتے وقت کہنے لگے کہ چچاجان مجے اندیشہ ہے کہ لوگ مجھ سے آپ کی اذان کا واقعہ ضرور پوچھیں گے چنانچہ انہوں نے بتایا کہ ایک مرتبہ میں چند نوجوانوں کے ساتھ نکلا ہم لوگ حنین کے راستے میں تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم واپس آتے نظر آئے راستے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے آمنا سامنا ہوگیا نماز کا وقت ہوا تو مؤذن نے اذان دی تو ہم لوگ بھی کھڑے ہو کر ان کی نقل اتار کر ان کامذاق اڑانے لگے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ان نوجوانوں کو پکڑ کر میرے پاس لاؤ اور ہم سے فرمایا کہ تم میں سے کون اونچی آواز نکال رہا تھا سب نے میری طرف اشارہ کردیا اور اس میں سچے بھی تھے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سب کو چھوڑ دیا اور مجھے روک لیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اب اذان دو چنانچہ میں کھڑ ہوا لیکن اس وقت میری نظروں میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کا دیا ہوا حکم سب سے زیادہ پسندیدہ تھا میں کھڑا ہوا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خود مجھے اذان کے کلمات سکھائے اور فرمایا دو مرتبہ اللہ اکبر کہنا، دو مرتبہ اشہد ان لا الہ الا اللہ کہنا دو مرتبہ اشہد ان محمد رسول اللہ کہنا پھر دوبارہ یہی کلمات بلند آواز سے کہنا دو مرتبہ حی علی الصلاۃ اور حی علی الفلاح کہنا پھر دو مرتبہ اللہ اکبر کہنا اور پھر لا الہ الا اللہ کہنا جب میں اذان دے کر فارغ ہوا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ایک تھیلی عطا فرمائی جس میں کچھ چاندی تھی پھر میری پیشانی پر اپنا دست مبارک رکھ کردومرتبہ چہرے پر پھیرا پھر سامنے پھر جگر پر حتی کہ ناف تک ہاتھ پہنچا پھر فرمایا اللہ تمہیں برکت دے میں نے عرض کیا یا رسول اللہ مجھے مکہ مکرمہ میں اذان کے لئے مقرر کردیجیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں اس کا حکم جاری کر دیتاہوں اسی وقت ان کے دل سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نفرت دور ہوگئ اور اس کی جگہ محبت پیداہو گئی پھر میں گورنر مکہ حضرت عتاب بن اسید کے پاس پہنچا اور انہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے مطلع کیا۔

عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَيْرِيزٍ ← ذَلِكَ مَنْ أَدْرَكْتُ مِنْ أَهْلِي مِمَّنْ أَدْرَكَ أَبَا مَحْذُورَةَ عَلَى نَحْوِ مَا

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 15455

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 15456

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ حَدَّثَنَا عَامِرٌ الْأَحْوَلُ حَدَّثَنِي مَكْحُولٌ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مُحَيْرِيزٍ حَدَّثَهُ أَنَّ أَبَا مَحْذُورَةَ حَدَّثَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَّمَهُ الْأَذَانَ تِسْعَ عَشْرَةَ كَلِمَةً وَالْإِقَامَةَ سَبْعَ عَشْرَةَ كَلِمَةً الْأَذَانُ اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَالْإِقَامَةُ مَثْنَى مَثْنَى اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ قَدْ قَامَتْ الصَّلَاةُ قَدْ قَامَتْ الصَّلَاةُ اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ

حضرت ابومحذورہ کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اذان کے انیس اور اقامت کے سترہ کلمات سکھائے تھے اذان کے کلمات یہ تھے اور دو مرتبہ اللہ اکبر دو مرتبہ اشہد ان لا الہ اللہ اور دو مرتبہ اشہد ان محمد رسول اللہ پھر دو مرتبہ کلمات دو دو مرتبہ حی علی الصلوۃ اور حی علی الفلاح پھر دو مرتبہ اللہ اکبر کہنا اور لا الہ الا اللہ کہنا اور اقامت کے کلمات اس طرح ہیں ۔ اللہ اکبر اللہ اکبر، اشہدان لا الہ الا اللہ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ الخ۔ ۔ یعنی دو دو کلمات ادا کئے ۔

أَنَّ أَبَا مَحْذُورَةَ ← مَكْحُولٌ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مُحَيْرِيزٍ ← عَامِرٌ الْأَحْوَلُ، ← هَمَّامٌ، ← عَفَّانُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 15456

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 15457

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ وَاصِلٍ الْأَحْدَبِ عَنْ أَبِي وَائِلٍ قَالَ جَلَسْتُ إِلَى شَيْبَةَ بْنِ عُثْمَانَ فَقَالَ جَلَسَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فِي مَجْلِسَكَ هَذَا فَقَالَ لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ لَا أَدَعَ فِي الْكَعْبَةِ صَفْرَاءَ وَلَا بَيْضَاءَ إِلَّا قَسَمْتُهَا بَيْنَ النَّاسِ قَالَ قُلْتُ لَيْسَ ذَلِكَ لَكَ قَدْ سَبَقَكَ صَاحِبَاكَ لَمْ يَفْعَلَا ذَلِكَ فَقَالَ هُمَا الْمَرْءَانِ يُقْتَدَى بِهِمَا

ابووائل کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت شیبہ بن عثمان کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ وہ کہنے لگے کہ تمہاری اس جگہ پر ایک مرتبہ حضرت عمر بیٹھے تھے اور انہوں نے فرمایا تھا کہ میراجی چاہتا ہے کہ خانہ کعبہ میں کوئی سوناچاندی نہ چھوڑوں سب کچھ لوگوں میں تقسیم کردوں میں نے ان سے عرض کیا کہ آپ یہ کام نہیں کرسکتے کیونکہ آپ سے پہلے آپ کے دو ساتھی گذر چکے ہیں انہوں نے یہ کام نہیں کیا حضرت عمر نے فرمایا وہی تو دو آدمی تھے جن کی اقتداء کی جاسکتی ہے۔

لَقَدْ هَمَمْتُ ← جلس عمر بن الخطاب في مجلسك هذا ← جَلَسْتُ إِلَى شَيْبَةَ بْنِ عُثْمَانَ ← أَبِي وَائِلٍ ← وَاصِلٌ الْأَحْدَبُ ← سُفْيَانَ، ← وَكِيعٌ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 15457

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 15458

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ وَاصِلٍ عَنْ أَبِي وَائِلٍ قَالَ جَلَسْتُ إِلَى شَيْبَةَ بْنِ عُثْمَانَ فِي هَذَا الْمَسْجِدِ فَقَالَ جَلَسَ إِلَيَّ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ مَجْلِسَكَ هَذَا فَقَالَ لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ لَا أَدَعَ فِيهَا صَفْرَاءَ وَلَا بَيْضَاءَ إِلَّا قَسَمْتُهَا بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ قَالَ قُلْتُ مَا أَنْتَ بِفَاعِلٍ قَالَ لِمَ قُلْتُ لَمْ يَفْعَلْهُ صَاحِبَاكَ قَالَ هُمَا الْمَرْءَانِ يُقْتَدَى بِهِمَا

ابووائل کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت شیبہ بن عثمان کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ وہ کہنے لگے کہ تمہاری اس جگہ پر ایک مرتبہ حضرت عمر بیٹھے تھے اور انہوں نے فرمایا تھا کہ میراجی چاہتا ہے کہ خانہ کعبہ میں کوئی سوناچاندی نہ چھوڑوں سب کچھ لوگوں میں تقسیم کردوں میں نے ان سے عرض کیا کہ آپ یہ کام نہیں کرسکتے کیونکہ آپ سے پہلے آپ کے دوساتھی گذر چکے ہیں انہوں نے یہ کام نہیں کیا حضرت عمر نے فرمایا وہی تو دو آدمی تھے جن کی اقتداء کی جاسکتی ہے۔

لَقَدْ هَمَمْتُ ← جَلَسَ إِلَيَّ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ مَجْلِسِكَ هَذَا، ← جَلَسْتُ إِلَى شَيْبَةَ بْنِ عُثْمَانَ فِي هَذَا الْمَسْجِدِ ← أَبِي وَائِلٍ ← وَاصِلٍ، ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 15458

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 15459

حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ أَبِي الْحَكَمِ أَوْ الْحَكَمِ بْنِ سُفْيَانَ الثَّقَفِيِّ قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَالَ ثُمَّ تَوَضَّأَ وَنَضَحَ فَرْجَهُ

حضرت ابوالحکم یا حکم سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے پیشاب کیا پھر وضو کرکے اپنی شرمگاہ پر پانی کے چھینٹے مارلئے۔

رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ بَالَ ثُمَّ تَوَضَّأَ وَنَضَحَ فَرْجَهُ ← أَبِي الْحَكَمِ أَوْ الْحَكَمِ بْنِ سُفْيَانَ الثَّقَفِيِّ ← مُجَاهِدٍ ← مَنْصُورٌ، ← جَرِيرٌ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 15459

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 15460

حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ قَالَ قَالَ شَرِيكٌ سَأَلْتُ أَهْلَ الْحَكَمِ بْنِ سُفْيَانَ فَذَكَرُوا أَنَّهُ لَمْ يُدْرِكْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

شریک کہتے ہیں کہ میں نے حکم بن سفیان کے اہل خانہ سے پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں پایا تھا

شَرِيكٌ سَأَلْتُ أَهْلَ الْحَكَمِ بْنِ سُفْيَانَ فَذَكَرُوا أَنَّهُ لَمْ يُدْرِكْ النَّبِيَّ ← أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 15460

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 15461

حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ قَالَ وَجَدْتُ فِي كِتَابِ أَبِي بِخَطِّ يَدِهِ حَدَّثَنَا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ رَجُلٍ مِنْ ثَقِيفٍ هُوَ الْحَكَمُ بْنُ سُفْيَانَ أَوْ سُفْيَانُ بْنُ الْحَكَمِ قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَالَ ثُمَّ يَعْنِي نَضَحَ فَرْجَهُ

حضرت ابوالحکم یا حکم سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے پیشاب کیا پھر وضو کر کے اپنی شرمگاہ پر پانی کے چھینٹے مارلئے۔

رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ بَالَ ثُمَّ يَعْنِي نَضَحَ فَرْجَهُ ← رَجُلٍ مِنْ ثَقِيفٍ هُوَ الْحَكَمُ بْنُ سُفْيَانَ أَوْ سُفْيَانُ بْنُ الْحَكَمِ ← مُجَاهِدٍ ← مَنْصُورٌ، ← سُفْيَانَ، ← يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ ← وَجَدْتُ فِي كِتَابِ أَبِي بِخَطِّ يَدِهِ: ← عَبْدُ اللَّهِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 15461

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 15462

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ وَحَسْنُ بْنُ مُوسَى قَالَا حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ طَلْحَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ الْبَيْتَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ وِجَاهَكَ حِينَ تَدْخُلُ بَيْنَ السَّارِيَتَيْنِ

حضرت عثمان بن طلحہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت اللہ کے اندر دو رکعتیں پڑھیں تھیں دوسری سند کے مطابق داخل ہوتے وقت بالکل سامنے دو ستونوں کے درمیان پڑھی تھیں حضرت عثمان بن طلحہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت اللہ کے اندر داخل ہوتے وقت بالکل سامنے دوستونوں کے درمیان دو رکعتیں پڑھی تھیں۔

عُثْمَانَ بْنِ طَلْحَةَ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ وَحَسْنُ بْنُ مُوسَى

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 15462

chevron_left Previous
1…145146147…232
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    0. Chapter
2. Book
    0. Chapter
3. Book
    0. Chapter
4. Book
    0. Chapter
5. Book
    0. Chapter
6. Book
    0. Chapter
7. Book
    0. Chapter
8. Book
    0. Chapter
9. Book
    0. Chapter