Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Sunday, Jumada I 8, 1448 AH · Oct 18, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند امام احمد بن حنبل

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble

by Musnad Imam Bin Hanble

28,221 Hadith18 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 15415

حَدَّثَنَا زَيْدٌ أَخْبَرَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ الرَّبِيعِ بْنِ سَبْرَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ فَلْيَسْتَتِرْ لِصَلَاتِهِ وَلَوْ بِسَهْمٍ

حضرت سبرہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھنے لگے توسترہ گاڑ لیا کرے خواہ ایک تیر ہی ہو۔

جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ الرَّبِيعِ بْنِ سَبْرَةَ ← زيد1

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 15415

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 15416

حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ حَدَّثَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ الرَّبِيعِ بْنِ سَبْرَةَ الْجُهَنِيُّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْ يُصَلَّى فِي أَعْطَانِ الْإِبِلِ وَرَخَّصَ أَنْ يُصَلَّى فِي مُرَاحِ الْغَنَمِ

حضرت سبرہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اونٹوں کے باڑے میں نماز پڑھنے سے منع فرمایا ہے اور بکریوں کے ریوڑ میں نماز پڑھنے کی اجازت دی ہے اور عورتوں سے متعہ کرنے کی ممانعت فرمائی ہے۔

جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ الرَّبِيعِ بْنِ سَبْرَةَ الْجُهَنِيُّ ← زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 15416

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 15417

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ الرَّبِيعِ بْنِ سَبْرَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُتْرَةُ الرَّجُلِ فِي الصَّلَاةِ السَّهْمُ وَإِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ فَلْيَسْتَتِرْ بِسَهْمٍ قَالَ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ الرَّبِيعِ بْنِ سَبْرَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ أَنَّهُ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نُصَلِّيَ فِي أَعْطَانِ الْإِبِلِ وَرَخَّصَ أَنْ نُصَلِّيَ فِي مُرَاحِ الْغَنَمِ وَنَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْمُتْعَةِ

حضرت سبرہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا نماز میں انسان کا سترہ تیر بھی بن سکتا ہے اس لئے جب تم میں سے کوئی نماز پڑھے تو تیر ہی کا سترہ بنالے۔ حضرت سبرہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اونٹوں کے باڑے میں نماز پڑھنے سے منع فرمایا ہے اور بکریوں کے ریوڑ میں نماز پڑھنے کی اجازت دی ہے اور عورتوں سے متعہ کرنے کی ممانعت فرمائی ہے۔

جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ الرَّبِيعِ بْنِ سَبْرَةَ ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 15417

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 15418

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنِ الرَّبِيعِ بْنِ سَبْرَةَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَرَّمَ مُتْعَةَ النِّسَاءِ

حضرت سبرہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے متعہ کو حرام قرار دے دیا۔

أَبِيهِ ← الرَّبِيعِ بْنِ سَبْرَةَ، ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 15418

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 15419

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ أَخْبَرَنِي عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عُمَرَ عَنِ الرَّبِيعِ بْنِ سَبْرَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ الْمَدِينَةِ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ حَتَّى إِذَا كُنَّا بِعُسْفَانَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الْعُمْرَةَ قَدْ دَخَلَتْ فِي الْحَجِّ فَقَالَ لَهُ سُرَاقَةُ بْنُ مَالِكٍ أَوْ مَالِكُ بْنُ سُرَاقَةَ شَكَّ عَبْدُ الْعَزِيزِ أَيْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلِّمْنَا تَعْلِيمَ قَوْمٍ كَأَنَّمَا وُلِدُوا الْيَوْمَ عُمْرَتُنَا هَذِهِ لِعَامِنَا هَذَا أَمْ لِلْأَبَدِ قَالَ لَا بَلْ لِلْأَبَدِ فَلَمَّا قَدِمْنَا مَكَّةَ طُفْنَا بِالْبَيْتِ وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ثُمَّ أَمَرَنَا بِمُتْعَةِ النِّسَاءِ فَرَجَعْنَا إِلَيْهِ فَقُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهُنَّ قَدْ أَبَيْنَ إِلَّا إِلَى أَجَلٍ مُسَمًّى قَالَ فَافْعَلُوا قَالَ فَخَرَجْتُ أَنَا وَصَاحِبٌ لِي عَلَيَّ بُرْدٌ وَعَلَيْهِ بُرْدٌ فَدَخَلْنَا عَلَى امْرَأَةٍ فَعَرَضْنَا عَلَيْهَا أَنْفُسَنَا فَجَعَلَتْ تَنْظُرُ إِلَى بُرْدِ صَاحِبِي فَتَرَاهُ أَجْوَدَ مِنْ بُرْدِي وَتَنْظُرُ إِلَيَّ فَتَرَانِي أَشَبَّ مِنْهُ فَقَالَتْ بُرْدٌ مَكَانَ بُرْدٍ وَاخْتَارَتْنِي فَتَزَوَّجْتُهَا عَشْرًا بِبُرْدِي فَبِتُّ مَعَهَا تِلْكَ اللَّيْلَةَ فَلَمَّا أَصْبَحْتُ غَدَوْتُ إِلَى الْمَسْجِدِ فَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ يَخْطُبُ يَقُولُ مَنْ كَانَ مِنْكُمْ تَزَوَّجَ امْرَأَةً إِلَى أَجَلٍ فَلْيُعْطِهَا مَا سَمَّى لَهَا وَلَا يَسْتَرْجِعْ مِمَّا أَعْطَاهَا شَيْئًا وَلْيُفَارِقْهَا فَإِنَّ اللَّهَ تَعَالَى قَدْ حَرَّمَهَا عَلَيْكُمْ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ

حضرت سبرہ سے مروی ہے کہ ہم لوگ حجتہ الوداع کے موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدینہ منورہ سے نکلے جب ہم لوگ مقام غسان میں پہنچے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عمرہ حج میں داخل ہو گیا ہے اس پر حضرت سراقہ بن مالک نے عرض کیا یا رسول اللہ ہمیں ان لوگوں کی طرح تعلیم دیجیے جو گویا آج ہی پیدا ہوئے ہوں یہ ہمارے اس عمرے کا حکم ہے یاہمیشہ کے لئے یہی حکم ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں بلکہ ہمیشہ کا یہی حکم ہے۔ پھر جب ہم مکہ مکرمہ پہنچے تو ہم نے بیت اللہ کا طواف کیا اور صفا مروہ کے درمیان سعی کی پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں عورتوں کے پاس جانے کی اجازت دیدی ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس واپس آئے اور عرض کیا یا رسول اللہ عورتیں ایک وقت مقررہ کے علاوہ کسی اور صورت میں راضی ہی نہیں ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم ایسا ہی کرلو چنانچہ میں اور میرا ساتھی نکلے میرے پاس بھی ایک چادر تھی اور اس کے پاس بھی ایک چادر تھی ہم ایک عورت کے پاس پہنچے اور اس کے سامنے اپنے آپ کو پیش کیا جب وہ میرے ساتھی کی چادر کو دیکھتی تو وہ اسے میری چادر سے اچھی معلوم ہوتی اور جب مجھے دیکھتی تو مجھے میرے ساتھی سے زیادہ جوان محسوس کرتی بالآخر کہنے لگی کہ چادر چادر کے بدلے میں ہوگی اور یہ کہہ کر اس نے مجھے پسند کرلیا اور میں نے اس سے اپنی چادر کے عوض دس دن کے لئے نکاح کرلیا۔ وہ رات میں نے اسی کے ساتھ گذاری جب صبح ہوئی تو مسجد کی طرف میں روانہ ہوا وہاں پہنچ کر میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ خطبہ دیتے ہوئے سنا کہ آپ فرما رہے تھے تم میں جس شخص نے کسی عورت کے ساتھ ایک متعین وقت کے لئے نکاح کیا ہے اسے چاہیے کہ اس نے جو چیز مقرر کی ہے وہ اسے دیدے اور اپنی دی ہوئی چیز کو اس سے واپس نہ مانگے اور خود اس سے علیحدگی اختیار کرلے کیونکہ اللہ نے اب اس کام کو قیامت تک کے لئے تم پر حرام قرار دیدیا ہے۔

أَبِيهِ ← الرَّبِيعِ بْنِ سَبْرَةَ، ← عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 15419

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 15420

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ قَالَ حَدَّثَنَا عُمَارَةُ بْنُ غَزِيَّةَ الْأَنْصَارِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سَبْرَةَ الْجُهَنِيُّ عَنْ أَبِيهِ قَالَ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْفَتْحِ فَأَقَمْنَا خَمْسَ عَشْرَةَ مِنْ بَيْنِ لَيْلَةٍ وَيَوْمٍ قَالَ قَالَ فَأَذِنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمُتْعَةِ قَالَ وَخَرَجْتُ أَنَا وَابْنُ عَمٍّ لِي فِي أَسْفَلِ مَكَّةَ أَوْ قَالَ فِي أَعْلَى مَكَّةَ فَلَقِينَا فَتَاةً مِنْ بَنِي عَامِرِ بْنِ صَعْصَعَةَ كَأَنَّهَا الْبَكْرَةُ الْعَنَطْنَطَةُ قَالَ وَأَنَا قَرِيبٌ مِنْ الدَّمَامَةِ وَعَلَيَّ بُرْدٌ جَدِيدٌ غَضٌّ وَعَلَى ابْنِ عَمِّي بُرْدٌ خَلَقٌ قَالَ فَقُلْنَا لَهَا هَلْ لَكِ أَنْ يَسْتَمْتِعَ مِنْكِ أَحَدُنَا قَالَتْ وَهَلْ يَصْلُحُ ذَلِكَ قَالَ قُلْنَا نَعَمْ قَالَ فَجَعَلَتْ تَنْظُرُ إِلَى ابْنِ عَمِّي فَقُلْتُ لَهَا إِنَّ بُرْدِي هَذَا جَدِيدٌ غَضٌّ وَبُرْدَ ابْنِ عَمِّي هَذَا خَلَقٌ مَحٌّ قَالَتْ بُرْدُ ابْنِ عَمِّكَ هَذَا لَا بَأْسَ بِهِ قَالَ فَاسْتَمْتَعَ مِنْهَا فَلَمْ نَخْرُجْ مِنْ مَكَّةَ حَتَّى حَرَّمَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

حضرت سبرہ سے مروی ہے کہ ہم لوگ فتح مکہ کے موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدینے منورہ سے نکلے ہم پندرہ دن وہاں رکے پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں عورتوں سے فائدہ اٹھانے کی اجازت دیدی چنانچہ میں اور میرا ایک چچا زاد نکلے ہم ایک عورت کے پاس پہنچے اس کا تعلق بنوبکر سے تھا اور وہ نہایت جوان تھی جب وہ میرے چچازاد کی چادر کو دیکھتی تو وہ اسے میری چادر سے پرانی معلوم ہوتی اور جب مجھے دیکھتی تو مجھے میرے ساتھی سے زیادہ جوان محسوس کرتی اور میرے پاس چادر بھی نئی تھی ہم نے اس سے کہا کیا ہم میں سے کوئی ایک تم سے فائدہ اٹھاسکتا ہے اس نے کہا کیا جائز ہے ہم نے کہا ہاں وہ میرے چچا زاد کو دیکھنے لگی تو میں نے اسے بتایا کہ میری چادر نئی اور عمدہ ہے جبکہ اس کی چادر پرانی اور میلی ہے اس نے کہا اس میں کوئی حرج نہیں چنانچہ میرے چچازاد نے اس سے فائدہ اٹھایا ابھی ہم مکہ مکرمہ سے نکلنے نہ پائے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے حرام کر دیا۔

أَبِيهِ ← الرَّبِيعُ بْنُ سَبْرَةَ الْجُهَنِيُّ، ← عُمَارَةُ بْنُ غَزِيَّةَ الْأَنْصَارِيُّ، ← وُهَيْبٌ، ← عَفَّانُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 15420

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 15421

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ رَبِّهِ بْنَ سَعِيدٍ يُحَدِّثُ عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ عَنِ الرَّبِيعِ بْنِ سَبْرَةَ عَنْ أَبِيهِ يُقَالُ لَهُ السَّبْرِيُّ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ أَمَرَهُمْ بِالْمُتْعَةِ قَالَ فَخَطَبْتُ أَنَا وَرَجُلٌ امْرَأَةً قَالَ فَلَقِيتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ ثَلَاثٍ فَإِذَا هُوَ يُحَرِّمُهَا أَشَدَّ التَّحْرِيمِ وَيَقُولُ فِيهَا أَشَدَّ الْقَوْلِ وَيَنْهَى عَنْهَا أَشَدَّ النَّهْيِ

حضرت سبرہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں عورتوں سے فائدہ اٹھانے کی اجازت دے دی چنانچہ میں اور میرا ایک ساتھی نکلے اور ایک عورت کے سامنے اپنے آپ کو پیش کیا تین دن کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات ہوئی تو وہ شدت سے اس کی حرمت بیان کرتے ہوئے سختی کے ساتھ اس کی ممانعت فرما رہے تھے۔

فِيهَا أَشَدَّ الْقَوْلِ وَيَنْهَى عَنْهَا أَشَدَّ النَّهْيِ ← فَلَقِيتُ النَّبِيَّ بَعْدَ ثَلَاثٍ فَإِذَا هُوَ يُحَرِّمُهَا أَشَدَّ التَّحْرِيمِ ← وَرَجُلٌ امْرَأَةً ← فَخَطَبْتُ ← النَّبِيِّ أَنَّهُ أَمَرَهُمْ بِالْمُتْعَةِ ← أَبِيهِ، يُقَالُ لَهُ: السَّبْرِيُّ ← الرَّبِيعِ بْنِ سَبْرَةَ، ← عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ← عَبْدِ رَبِّهِ بْنِ سَعِيدٍ ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 15421

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 15422

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ الرَّبِيعِ بْنِ سَبْرَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْ يُصَلَّى فِي أَعْطَانِ الْإِبِلِ وَرَخَّصَ أَنْ يُصَلَّى فِي مُرَاحِ الْغَنَمِ

حضرت سبرہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اونٹوں کے باڑے میں نماز پڑھنے سے منع فرمایا ہے اور بکریوں کے ریوڑ میں نماز پڑھنے کی اجازت دی ہے اور عورتوں سے متعہ کرنے کی ممانعت فرمائی ہے۔

جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ الرَّبِيعِ بْنِ سَبْرَةَ ← يَعْقُوبُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 15422

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 15423

حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا لَيْثٌ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ قَالَ حَدَّثَنِي الرَّبِيعُ بْنُ سَبْرَةَ عَنْ أَبِيهِ سَبْرَةَ الْجُهَنِيِّ أَنَّهُ قَالَ أَذِنَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمُتْعَةِ قَالَ فَانْطَلَقْتُ أَنَا وَرَجُلٌ هُوَ أَكْبَرُ مِنِّي سِنًّا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَقِينَا فَتَاةً مِنْ بَنِي عَامِرٍ كَأَنَّهَا بَكْرَةٌ عَيْطَاءُ فَعَرَضْنَا عَلَيْهَا أَنْفُسَنَا فَقَالَتْ مَا تَبْذُلَانِ قَالَ كُلُّ وَاحِدٍ مِنَّا رِدَائِي قَالَ وَكَانَ رِدَاءُ صَاحِبِي أَجْوَدَ مِنْ رِدَائِي وَكُنْتُ أَشَبَّ مِنْهُ قَالَتْ فَجَعَلَتْ تَنْظُرُ إِلَى رِدَاءِ صَاحِبِي ثُمَّ قَالَتْ أَنْتَ وَرِدَاؤُكَ تَكْفِينِي قَالَ فَأَقَمْتُ مَعَهَا ثَلَاثًا قَالَ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ كَانَ عِنْدَهُ مِنْ النِّسَاءِ الَّتِي تَمَتَّعَ بِهِنَّ شَيْءٌ فَلْيُخَلِّ سَبِيلَهَا قَالَ فَفَارَقْتُهَا

حضرت سبرہ سے مروی ہے کہ ہم لوگ فتح مکہ کے موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدینے منورہ سے نکلے ہم پندرہ دن وہاں رکے پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں عورتوں سے فائدہ اٹھانے کی اجازت دیدی چنانچہ میں اور میرا ایک چچا زاد نکلے ہم ایک عورت کے پاس پہنچے اس کا تعلق بنوبکر سے تھا اور وہ نہایت جوان تھی جب وہ میرے چچازاد کی چادر کو دیکھتی تو وہ اسے میری چادر سے پرانی معلوم ہوتی اور جب مجھے دیکھتی تو مجھے میرے ساتھی سے زیادہ جوان محسوس کرتی اور میرے پاس چادر بھی نئی تھی ہم نے اس سے کہا کیا ہم میں سے کوئی ایک تم سے فائدہ اٹھاسکتا ہے اس نے کہا کیا جائز ہے ہم نے کہا ہاں وہ میرے چچا زاد کو دیکھنے لگی تو میں نے اسے بتایا کہ میری چادر نئی اور عمدہ ہے جبکہ اس کی چادر پرانی اور میلی ہے اس نے کہا اس میں کوئی حرج نہیں چنانچہ میرے چچازاد نے اس سے فائدہ اٹھایا ابھی ہم مکہ مکرمہ سے نکلنے نہ پائے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے حرام کردیا۔

أَبِيهِ سَبْرَةَ الْجُهَنِيِّ ← الرَّبِيعِ بْنِ سَبْرَةَ، ← ليث يعني ابن سعد ← يُونُسَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 15423

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 15424

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنِ الرَّبِيعِ بْنِ سَبْرَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ نِكَاحِ الْمُتْعَةِ

حضرت سبرہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے دن عورتوں سے متعہ کرنے کی ممانعت فرمائی تھی۔

نِكَاحِ الْمُتْعَةِ ← «نَهَى رَسُولُ اللَّهِ ← أَبِيهِ ← الرَّبِيعِ بْنِ سَبْرَةَ، ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 15424

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 15425

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ قَالَ أَخْبَرَنِي الرَّبِيعُ بْنُ سَبْرَةَ الْجُهَنِيُّ عَنْ أَبِيهِ قَالَ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا قَضَيْنَا عُمْرَتَنَا قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَمْتِعُوا مِنْ هَذِهِ النِّسَاءِ قَالَ وَالِاسْتِمْتَاعُ عِنْدَنَا يَوْمُ التَّزْوِيجِ قَالَ فَعَرَضْنَا ذَلِكَ عَلَى النِّسَاءِ فَأَبَيْنَ إِلَّا أَنْ يُضْرَبَ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُنَّ أَجَلًا قَالَ فَذَكَرْنَا ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ افْعَلُوا فَانْطَلَقْتُ أَنَا وَابْنُ عَمٍّ لِي وَمَعَهُ بُرْدَةٌ وَمَعِي بُرْدَةٌ وَبُرْدَتُهُ أَجْوَدُ مِنْ بُرْدَتِي وَأَنَا أَشَبُّ مِنْهُ فَأَتَيْنَا امْرَأَةً فَعَرَضْنَا ذَلِكَ عَلَيْهَا فَأَعْجَبَهَا شَبَابِي وَأَعْجَبَهَا بُرْدُ ابْنِ عَمِّي فَقَالَتْ بُرْدٌ كَبُرْدٍ قَالَ فَتَزَوَّجْتُهَا فَكَانَ الْأَجَلُ بَيْنِي وَبَيْنَهَا عَشْرًا قَالَ فَبِتُّ عِنْدَهَا تِلْكَ اللَّيْلَةَ ثُمَّ أَصْبَحْتُ غَادِيًا إِلَى الْمَسْجِدِ فَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ الْبَابِ وَالْحَجَرِ يَخْطُبُ النَّاسَ يَقُولُ أَلَا أَيُّهَا النَّاسُ قَدْ كُنْتُ أَذِنْتُ لَكُمْ فِي الِاسْتِمْتَاعِ مِنْ هَذِهِ النِّسَاءِ أَلَا وَإِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى قَدْ حَرَّمَ ذَلِكَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ فَمَنْ كَانَ عِنْدَهُ مِنْهُنَّ شَيْءٌ فَلْيُخَلِّ سَبِيلَهَا وَلَا تَأْخُذُوا مِمَّا آتَيْتُمُوهُنَّ شَيْئًا

حضرت سبرہ سے مروی ہے کہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدینہ منورہ سے نکلے جب ہم عمرہ کرکے فارغ ہوئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں عورتوں کے پاس جانے کی اجازت دیدی ہمارے نزدیک اس سے مراد شادی کرنا تھا ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس واپس آئے اور عرض کیا یا رسول اللہ عورتیں ایک وقت مقررہ کے علاوہ کسی اور صورت میں راضی ہی نہیں ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم ایساہی کرلو چنانچہ میں اور میراچچا زاد نکلے میرے پاس بھی ایک چادر تھی اور اس کے پاس بھی ایک چادر تھی اس کی چادر میری چادر سے عمدہ تھی اور جسمانی طور پر میں اس سے زیادہ جوان تھا۔ ہم ایک عورت کے پاس پہنچے اور اس کے سامنے اپنے آپ کو پیش کیا جب وہ میرے ساتھی کی چادر کو دیکھتی تو وہ اسے میری چادر سے اچھی معلوم ہوتی اور جب مجھے دیکھتی تو مجھے میرے ساتھی سے زیادہ جوان محسوس کرتی بالآخر کہنے لگی کہ چادر چادر کے بدلے میں ہوگی اور یہ کہہ کر اس نے مجھے پسند کرلیا اور میں نے اس سے اپنی چادر کے عوض دس دن کے لئے نکاح کرلیا۔ وہ رات میں نے اسی کے ساتھ گذاری جب صبح ہوئی تو مسجد کی طرف میں روانہ ہوا وہاں پہنچ کر میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ خطبہ دیتے ہوئے سنا کہ آپ فرما رہے تھے لوگو میں نے تمہیں عورتوں سے استمتاع کی اجازت دی تھی سو جس نے جو چیز مقرر کی ہے وہ اسے دیدے اور اپنی دی ہوئی چیز کو اس سے واپس نہ مانگے اور خود اس سے علیحدگی اختیار کرلے کیونکہ اللہ نے اب اس کام کو قیامت تک کے لئے تم پر حرام قرار دیدیا ہے۔

وَالِاسْتِمْتَاعُ عِنْدَنَا يَوْمُ التَّزْوِيجِ ← لَنَا رَسُولُ اللَّهِ اسْتَمْتِعُوا مِنْ هَذِهِ النِّسَاءِ ← خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ فَلَمَّا قَضَيْنَا عُمْرَتَنَا ← أَبِيهِ ← الرَّبِيعُ بْنُ سَبْرَةَ الْجُهَنِيُّ، ← عَبْدُ الْعَزِيزِ، ← وَكِيعٌ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 15425

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 15426

حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عُمْرَانَ رَجُلٌ كَانَ بِوَاسِطٍ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ صَلَّى مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَانَ لَا يُتِمُّ التَّكْبِيرَ يَعْنِي إِذَا خَفَضَ وَإِذَا رَفَعَ

حضرت عبدالرحمن بن ابزی سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کےساتھ نماز پڑھنے کی سعادت حاصل کی ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم رکوع کے لئے جھکتے ہوئے اور سر اٹھاتے ہوئے مکمل تکبیر نہیں کہتے تھے۔

عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَی ← الْحَسَنُ بْنُ عُمْرَانَ رَجُلٌ كَانَ بِوَاسِطٍ ← شُعْبَةُ، ← رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 15426

chevron_left Previous
1…142143144…232
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    0. Chapter
2. Book
    0. Chapter
3. Book
    0. Chapter
4. Book
    0. Chapter
5. Book
    0. Chapter
6. Book
    0. Chapter
7. Book
    0. Chapter
8. Book
    0. Chapter
9. Book
    0. Chapter