Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Monday, Jumada I 9, 1448 AH · Oct 19, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند امام احمد بن حنبل

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble

by Musnad Imam Bin Hanble

28,221 Hadith18 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 15283

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا سَلِيمُ بْنُ حَيَّانَ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مِينَاءَ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَثَلِي وَمَثَلُكُمْ كَمَثَلِ رَجُلٍ أَوْقَدَ نَارًا فَجَعَلَ الْفَرَاشُ وَالْجَنَادِبُ يَقَعْنَ فِيهَا وَهُوَ يَذُبُّهُنَّ عَنْهَا وَأَنَا آخِذٌ بِحُجَزِكُمْ عَنْ النَّارِ وَأَنْتُمْ تَفَلَّتُونَ مِنْ يَدِي

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میری اور تمہاری مثال اس شخص کی سی ہے جو آگ جلائے اور پروانے اور پتنگے اس میں ادھرادھر گرنے لگیں اور وہ انہیں اس سے دور رکھے میں بھی اسی طرح تمہاری کمر سے پکڑ کر تمہیں جہنم سے بچا رہا ہوں لیکن تم میرے ہاتھوں سے پھسلے جاتے ہو۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← سعيد بن ميناء، ← سليم بن حيان، ← عَفَّانُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 15283

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 15284

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا أَبَانُ الْعَطَّارُ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ قَالَ سَأَلْتُ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَيُّ الْقُرْآنِ نَزَلَ أَوَّلَ قَالَ يَا أَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ قَالَ فَإِنِّي أُنْبِئْتُ أَنَّ أَوَّلَ سُورَةٍ نَزَلَتْ اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ قَالَ جَابِرٌ لَا أُحَدِّثُكَ إِلَّا كَمَا حَدَّثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ جَاوَرْتُ فِي حِرَاءٍ فَلَمَّا قَضَيْتُ جِوَارِي نَزَلْتُ فَاسْتَبْطَنْتُ الْوَادِيَ فَنُودِيتُ فَنَظَرْتُ بَيْنَ يَدَيَّ وَخَلْفِي وَعَنْ يَمِينِي وَعَنْ شِمَالِي فَلَمْ أَرَ شَيْئًا فَنُودِيتُ أَيْضًا فَنَظَرْتُ بَيْنَ يَدَيَّ وَخَلْفِي وَعَنْ يَمِينِي وَعَنْ شِمَالِي فَلَمْ أَرَ شَيْئًا فَنَظَرْتُ فَوْقِي فَإِذَا أَنَا بِهِ قَاعِدٌ عَلَى عَرْشٍ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ فَجُئِثْتُ مِنْهُ فَأَتَيْتُ مَنْزِلَ خَدِيجَةَ فَقُلْتُ دَثِّرُونِي وَصُبُّوا عَلَيَّ مَاءً بَارِدًا قَالَ فَنَزَلَتْ عَلَيَّ يَا أَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ قُمْ فَأَنْذِرْ وَرَبَّكَ فَكَبِّرْ

یحیی بن ابی کثیر کہتے ہیں کہ میں نے ابوسلمہ سے پوچھا کہ سب سے پہلے قرآن کا کون سا حصہ نازل ہوا تھا انہوں نے سورت مدثر کا نام لیا میں نے عرض کیا کہ سب سے پہلے سورت اقراء نازل نہیں ہوئی تھی ؟ انہوں نے کہا کہ میں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے یہی سوال کیا تھا تو انہوں نے یہ جواب دیا تھا اور میں نے بھی یہی سوال پوچھا تھا تو انہوں نے فرمایا تھا کہ میں تم سے وہ بات بیان کر رہا ہوں جو خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بتائی تھی۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ میں ایک مہینے تک غار حرا کا پڑوس رہا جب میں ایک ماہ کی مدت پوری کر کے پہاڑ سے نیچے اترا اور بطن وادی میں پہنچا تو مجھے کسی نے آواز دی میں نے اپنے آگے پیچھے اور دائیں بائیں دیکھا لیکن مجھے کوئی نظر نہ آیا تھوڑی دیر بعد پھر وہ آواز آئی میں نے دوبارہ چاروں طرف دیکھا لیکن کوئی نظر نہ آیا تیسری مرتبہ وہ آواز آئی تو میں نے سر اٹھا کر دیکھا وہاں حضرت جبرائیل فضاء میں اپنے تخت پر نظر آئے یہ دیکھ کر مجھ پر شدید کپکپی طاری ہوگئی اور میں نے خدیجہ کے پاس آکر کہا کہ مجھے کوئی موٹاکمبل اوڑھادو چنانچہ انہوں نے مجھے کمبل اوڑھادیا اور مجھ پر پانی بہایا اس موقع پر اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی یا ایھا المدثر قم فانذر الی آخرہ۔

فَإِنِّي أُنْبِئْتُ ← يَا أَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ ← سَأَلْتُ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَيُّ الْقُرْآنِ نَزَلَ أَوَّلَ ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← أَبَانُ الْعَطَّارُ ← عَفَّانُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 15284

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 15285

حَدَّثَنَا أَبُو سَعْدٍ الصَّاغَانِيُّ مُحَمَّدُ بْنُ مُيَسَّرٍ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْمُحَاقَلَةِ وَالْمُزَابَنَةِ وَالْمُخَابَرَةِ وَأَنْ يُبَاعَ الثَّمَرُ حَتَّى يُطْعَمَ إِلَّا بِدَنَانِيرَ أَوْ دَرَاهِمَ إِلَّا الْعَرَايَا

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بیع محاقلہ مزابنہ بٹائی اور پھل پکنے سے پہلے بیچ سے منع فرمایا ہے جبکہ وہ دینار اور درہم کے بدلے میں نہ ہو اور البتہ اس بات کی اجازت دی ہے کہ کوئی شخص اپنے باغ کو عاریۃ کسی غریب کے حوالے کردے۔

«نَهَى رَسُولُ اللَّهِ ← جَابِرٍ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← أَبُو سَعْدٍ الصَّاغَانِيُّ مُحَمَّدُ بْنُ مُيَسَّرٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 15285

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 15286

حَدَّثَنَا أَبُو سَعْدٍ الصَّنْعَانِيُّ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ ابْتَاعَ طَعَامًا فَلَا يَبِيعُهُ حَتَّى يَسْتَوْفِيَهُ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب تم غلہ خریدو تو کسی دوسرے کو اس وقت تک نہ بیچو جب تک اس پر قبضہ نہ کر لے۔

جَابِرٍ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← أَبُو سَعْدٍ الصَّنْعَانِيُّ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 15286

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 15287

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنِ ابْنِ الْمُنْكَدِرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَايَعَهُ عَلَى الْإِسْلَامِ فَجَاءَ مِنْ الْغَدِ مَحْمُومًا فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَقِلْنِي فَأَبَى فَجَاءَهُ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ مُتَوَالِيَةٍ كُلُّ ذَلِكَ يَقُولُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَقِلْنِي فَيَأْبَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا وَلَّى قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الْمَدِينَةَ كَالْكِيرِ تَنْفِي خَبَثَهَا وَتَنْصَعُ طَيِّبَهَا

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دیہاتی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر آپ کے دست حق پرست پر بیعت کرلی کچھ ہی عرصے میں اسے بہت تیز بخار ہو گیا وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ میری بیعت فسخ کر دیجئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انکار کر دیا تین مرتبہ ایسا ہی ہوا چوتھی مرتبہ وہ نہ آیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے معلوم کیا تو صحابہ نے بتایا کہ وہ مدینہ منورہ سے چلا گیا ہے اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مدینہ منورہ بھٹی کی طرح ہے جو اپنے میل کچیل کو دور کر دیتی ہے اور عمدہ چیز کو چمکدار اور صاف ستھرا کردیتی ہے۔

جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ فَبَايَعَهُ عَلَى الْإِسْلَامِ فَجَاءَ مِنْ الْغَدِ مَحْمُومًا فَقَالَ ← جَابِرٍ ← ابْنَ الْمُنْكَدِرِ، ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 15287

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 15288

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْكَافِرُ يَأْكُلُ فِي سَبْعَةِ أَمْعَاءٍ وَالْمُؤْمِنُ يَأْكُلُ فِي مِعًى وَاحِدٍ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کافرسات آنتوں میں کھاتا ہے اور مؤمن ایک آنت میں کھاتاہے۔

جَابِرٍ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 15288

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 15289

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا دُعِيَ أَحَدُكُمْ فَلْيُجِبْ فَإِنْ شَاءَ طَعِمَ وَإِنْ شَاءَ تَرَكَ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب تم میں سے کسی کو دعوت دی جائے تو اسے وہ دعوت قبول کرلینی چاہیے۔ پھر اگر وہاں خواہش ہو تو کھانا کھا لے ورنہ چھوڑ دے۔

جَابِرٍ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 15289

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 15290

حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ يَعْنِي ابْنَ صَالِحٍ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَبِيعَنَّ حَاضِرٌ لِبَادٍ دَعُوا النَّاسَ يَرْزُقُ اللَّهُ بَعْضَهُمْ مِنْ بَعْضٍ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کوئی شہری کسی دیہاتی کے لئے بیع نہ کرے لوگوں کو چھوڑ دو تاکہ اللہ انہیں ایک دوسرے سے رزق عطاء فرمائے۔

جَابِرٍ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← الْحَسَنُ يَعْنِي ابْنَ صَالِحٍ، ← أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 15290

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 15291

حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنِ الْأَشْعَثِ يَعْنِي ابْنَ سَوَّارٍ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَدْخُلُ مَسْجِدَنَا هَذَا بَعْدَ عَامِنَا هَذَا مُشْرِكٌ إِلَّا أَهْلُ الْعَهْدِ وَخَدَمُهُمْ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اس سال کے بعد کوئی مشرک ہماری مسجدوں میں داخل نہ ہو سوائے اہل کتاب اور ان کے خادموں کے۔

جَابِرٍ ← الْحَسَنِ، ← الْأَشْعَثِ يَعْنِي ابْنَ سَوَّارٍ ← شَرِيکٍ ← حُسَيْنٌ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 15291

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 15292

حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنِ الْمُغِيرَةِ عَنْ عَامِرٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ اشْتَرَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنِّي بَعِيرًا عَلَى أَنْ يُفْقِرَنِي ظَهْرَهُ سَفَرَهُ أَوْ سَفَرِي ذَلِكَ ثُمَّ أَعْطَانِي الْبَعِيرَ وَالثَّمَنَ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے میر اونٹ خرید لیا اور یہ شرط کرلی کہ میں اپنے گھر تک اسی پر سوار ہو کر جاؤں پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ اونٹ اور اس کی قیمت دونوں چیزیں مجھے دے دیں ۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← عَامِرٍ، ← الْمُغِيرَةِ، ← شَرِيکٍ ← حُسَيْنٌ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 15292

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 15293

حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ يَعْنِي ابْنَ عُيَيْنَةَ عَنْ عَمْرٍو قَالَ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةٍ قَالَ يَرَوْنَ أَنَّهَا غَزْوَةُ بَنِي الْمُصْطَلِقِ فَكَسَعَ رَجُلٌ مِنْ الْمُهَاجِرِينَ رَجُلًا مِنْ الْأَنْصَارِ فَقَالَ الْأَنْصَارِيُّ يَا لَلْأَنْصَارِ وَقَالَ الْمُهَاجِرِيُّ يَا لَلْمُهَاجِرِينَ فَسَمِعَ ذَلِكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَا بَالُ دَعْوَى الْجَاهِلِيَّةِ فَقِيلَ رَجُلٌ مِنْ الْمُهَاجِرِينَ كَسَعَ رَجُلًا مِنْ الْأَنْصَارِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعُوهَا فَإِنَّهَا مُنْتِنَةٌ قَالَ جَابِرٌ وَكَانَ الْمُهَاجِرُونَ حِينَ قَدِمُوا الْمَدِينَةَ أَقَلَّ مِنْ الْأَنْصَارِ ثُمَّ إِنَّ الْمُهَاجِرِينَ كَثُرُوا فَبَلَغَ ذَلِكَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أُبَيٍّ فَقَالَ فَعَلُوهَا وَاللَّهِ لَئِنْ رَجَعْنَا إِلَى الْمَدِينَةِ لَيُخْرِجَنَّ الْأَعَزُّ مِنْهَا الْأَذَلَّ فَسَمِعَ ذَلِكَ عُمَرُ فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ دَعْنِي أَضْرِبُ عُنُقَ هَذَا الْمُنَافِقِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا عُمَرُ دَعْهُ لَا يَتَحَدَّثُ النَّاسُ أَنَّ مُحَمَّدًا يَقْتُلُ أَصْحَابَهُ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کسی غزوے میں غالباً بنو مصطلق میں تھے کہ دو غلام آپس میں لڑ پڑے جن میں سے ایک مہاجر کا دوسرا کسی انصاری کا تھا مہاجر نے مہاجرین کو اور انصاری نے انصار کو آوازیں دے کربلانا شروع کردیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم یہ آواز سن کر باہر تشریف لائے اور فرمایا ان بدبودار نعروں کو چھوڑ دو پھر فرمایا یہ جاہلیت کی کیسی آوازیں ہیں یہ زمانہ جاہلیت کی کیسی آوازیں ہیں ۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہ مزید فرماتے ہیں کہ مہاجرین جب مدینہ منورہ آئے تھے تو ان کی تعداد انصار سے کم تھی لیکن بعد میں ان کی تعداد بڑھ گئی۔ عبداللہ بن ابی کو یہ بات معلوم ہوئی تو وہ کہنے لگا کہ ایسا ہوگیا ہے واللہ ہم جب مدینہ منورہ پہنچیں گے جو زیادہ معزز ہوگا وہ زیادہ ذلیل کو وہاں سے نکال دے گا حضرت عمر نے یہ بات سن لی وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آکر کہنے لگے کہ یا رسول اللہ مجھے اجازت دیجیے کہ اس منافق کی گردن اڑادوں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عمر رہنے دو کہیں لوگ یہ باتیں نہ کرنے لگیں کہ محمد اپنے ساتھیوں کو قتل کروا دیتے ہیں۔

يَرَوْنَ ← کُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ فِي غَزْوَةٍ ← جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← عَمْرٍو، ← سفيان -يعني ابن عيينة- ← حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 15293

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 15294

حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِلَعْقِ الْأَصَابِعِ وَالصَّحْفَةِ وَقَالَ لَا يَدْرِي أَحَدُكُمْ فِي أَيِّ ذَلِكَ الْبَرَكَةَ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انگلیاں اور پیالہ چاٹ لینے کا حکم دیا ہے اور فرمایا ہے کہ تم میں سے کسی کو معلوم نہیں ہے کہ اس کے کھانے کے کس حصے میں برکت ہے۔

جَابِرٍ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← سُفْيَانَ، ← حُسَيْنٌ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 15294

chevron_left Previous
1…131132133…232
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    0. Chapter
2. Book
    0. Chapter
3. Book
    0. Chapter
4. Book
    0. Chapter
5. Book
    0. Chapter
6. Book
    0. Chapter
7. Book
    0. Chapter
8. Book
    0. Chapter
9. Book
    0. Chapter