Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Monday, Jumada I 9, 1448 AH · Oct 19, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند امام احمد بن حنبل

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble

by Musnad Imam Bin Hanble

28,221 Hadith18 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 15223

حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ قَالَ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ أَخْبَرَنَا مُجَالِدٌ عَنِ الشَّعْبِيِّ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِكِتَابٍ أَصَابَهُ مِنْ بَعْضِ أَهْلِ الْكُتُبِ فَقَرَأَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَغَضِبَ فَقَالَ أَمُتَهَوِّكُونَ فِيهَا يَا ابْنَ الْخَطَّابِ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَقَدْ جِئْتُكُمْ بِهَا بَيْضَاءَ نَقِيَّةً لَا تَسْأَلُوهُمْ عَنْ شَيْءٍ فَيُخْبِرُوكُمْ بِحَقٍّ فَتُكَذِّبُوا بِهِ أَوْ بِبَاطِلٍ فَتُصَدِّقُوا بِهِ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْ أَنَّ مُوسَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ حَيًّا مَا وَسِعَهُ إِلَّا أَنْ يَتَّبِعَنِي

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت عمر فاروق نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک کتاب لے کر حاضر ہوئے جو انہیں کسی کتابی سے ہاتھ لگی تھی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اسے پڑھنا شروع کردیا اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو غصہ آگیا اور فرمایا کہ اے ابن خطاب کیا تم اس میں گھسنا چاہتے ہو اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے میں تمہارے پاس ایک ایسی شریعت لے کر آیا ہوں جو روشن اور صاف ستھری ہے تم ان اہل کتاب سے کس چیز کے متعلق سوال نہ کیا کرو اور کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ تمہیں صحیح بات بتائیں اور تم اس کی تکذیب کرو اور غلط بتائیں تو تم اس کی تصدیق کرو اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے اگر موسی بھی زندہ ہوتے تو انہیں بھی میری پیروی کے علاوہ کوئی چارہ کار نہ ہوتا۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← الشَّعْبِيِّ، ← مجالد ← هُشَيْمٌ ← سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 15223

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 15224

حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ الْخُزَاعِيُّ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ عَمَّارٍ الدُّهْنِيِّ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ يَوْمَ الْفَتْحِ مَكَّةَ وَعَلَيْهِ عِمَامَةٌ سَوْدَاءُ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ کے دن مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے تو آپ نے سیاہ عمامہ باندھ رکھا تھا۔

جَابِرٍ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← عَمَّارِ الدُّهْنِيِّ، ← شَرِيکٍ ← أَبُو سَلَمَةَ الْخُزَاعِيُّ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 15224

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 15225

حَدَّثَنَا الْخُزَاعِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو عَنْ رَجُلٍ مِنْ الْأَنْصَارِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُلُوا لَحْمَ الصَّيْدِ وَأَنْتُمْ حُرُمٌ مَا لَمْ تَصِيدُوهُ أَوْ يُصَدْ لَكُمْ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا حالت احرام میں تمہارے لئے خشکی کا شکار حلال ہے بشرطیکہ کہ تم خود شکار نہ کرو یا اسے تمہاری خاطر شکار نہ کیا گیا ہو۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← رَجُلٍ مِنْ الْأَنْصَارِ ← عَمْرُو بْنُ اَبِیْ عَمْرِو ← عَبْدُ الْعَزِيزِ، ← الْخُزَاعِيُّ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 15225

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 15226

حَدَّثَنَا الْخُزَاعِيُّ أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ أَخْبَرَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى زَمَنَ خَيْبَرَ عَنْ الْبَصَلِ وَالْكُرَّاثِ فَأَكَلَهُمَا قَوْمٌ ثُمَّ جَاءُوا إِلَى الْمَسْجِدِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَلَمْ أَنْهَ عَنْ هَاتَيْنِ الشَّجَرَتَيْنِ الْمُنْتِنَتَيْنِ قَالُوا بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ وَلَكِنْ أَجْهَدَنَا الْجُوعُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ أَكَلَهُمَا فَلَا يَحْضُرْ مَسْجِدَنَا فَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ تَتَأَذَّى مِمَّا يَتَأَذَّى مِنْهُ بَنُو آدَمَ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کے زمانے میں پیاز اور لہسن سے منع فرمایا تھا لیکن کچھ لوگوں نے اسے کھالیا پھر وہ مسجد میں آئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ کیا میں تمہیں ان دو بدبو دار درختوں سے کھانے سے منع نہیں کیا تھا لوگوں نے کہا کیوں نہیں یا رسول اللہ ۔ لیکن ہم بھوک سے مغلوب ہو گئے تھے اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص اس بدبودار درخت سے کچھ کھائے وہ ہماری مسجد کے قریب نہ آئے کیونکہ جن چیزوں سے انسانوں کواذیت ہوتی ہے فرشتوں کو بھی ہوتی ہے۔

جَابِرٍ ← أَبُو الزُّبَيْرِ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← الْخُزَاعِيُّ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 15226

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 15227

حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الْمَوَالِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ قَالَ دَخَلْتُ عَلَى جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ وَهُوَ يُصَلِّي مُلْتَحِفًا فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ وَرِدَاؤُهُ مَوْضُوعٌ فَقُلْنَا لَهُ تُصَلِّي فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ وَرِدَاؤُكَ مَوْضُوعٌ قَالَ لِيَدْخُلَ عَلَيَّ مِثْلُكَ فَيَرَانِي أُصَلِّي فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ إِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي هَكَذَا

محمد بن منکدر کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت جابر رضی اللہ عنہ کے یہاں گیا وہ ایک کپڑے میں لپٹ کر نماز پڑھ رہے تھے حالانکہ دوسری چادر ان کے قریب پڑی ہوئی تھی جب انہوں نے سلام پھیرا تو ہم نے ان سے مسئلہ پوچھا انہوں نے فرمایا کہ میں نے یہ اس لئے کیا ہے کہ تم جیسے احمق بھی دیکھ لیں کہ میں ایک کپڑے میں نماز پڑھ رہاہوں میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس طرح نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے۔

مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الْمَوَالِ، ← أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَی بَنِي هَاشِمٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 15227

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 15228

حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ حَدَّثَنَا زَائِدَةُ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْرُ صُفُوفِ الرِّجَالِ الْمُقَدَّمُ وَشَرُّهَا الْمُؤَخَّرُ وَخَيْرُ صُفُوفِ النِّسَاءِ الْمُؤَخَّرُ وَشَرُّهَا الْمُقَدَّمُ يَا مَعْشَرَ النِّسَاءِ إِذَا سَجَدَ الرِّجَالُ فَاغْضُضْنَ أَبْصَارَكُنَّ لَا تَرَيْنَ عَوْرَاتِ الرِّجَالِ مِنْ ضِيقِ الْأُزُرِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا مردوں کی صفوں میں سے سب سے بہترین صف پہلی ہوتی ہے اور سب سے کم ترین صف آخری صف ہوتی ہے جب کہ خواتین کی صفوں میں سب سے کم ترین صف پہلی ہوتی ہے اور سب سے بہترین صف آخری صف ہوتی ہے پھر فرمایا اے گروہ خواتین جب مرد سجدے میں جائیں تو اپنی نگاہیں پست رکھا کرو اور تہنبدوں کے سوراخوں سے مردوں کی شرمگاہیں نہ دیکھا کرو۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ← زَائِدَۃَ، ← أَبُو سَعِيدٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 15228

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 15229

حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ حَدَّثَنَا زَائِدَةُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ مَشَيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى امْرَأَةٍ مِنْ الْأَنْصَارِ فَذَبَحَتْ لَنَا شَاةً فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيَدْخُلَنَّ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَدَخَلَ أَبُو بَكْرٍ فَقَالَ لَيَدْخُلَنَّ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَدَخَلَ عُمَرُ فَقَالَ لَيَدْخُلَنَّ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَقَالَ اللَّهُمَّ إِنْ شِئْتَ فَاجْعَلْهُ عَلِيًّا فَدَخَلَ عَلِيٌّ ثُمَّ أُتِينَا بِطَعَامٍ فَأَكَلْنَا فَقُمْنَا إِلَى صَلَاةِ الظُّهْرِ وَلَمْ يَتَوَضَّأْ أَحَدٌ مِنَّا ثُمَّ أُتِينَا بِبَقِيَّةِ الطَّعَامِ ثُمَّ قُمْنَا إِلَى الْعَصْرِ وَمَا مَسَّ أَحَدٌ مِنَّا مَاءً

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک انصاری خاتون کے یہاں دعوت کھانے میں شریک تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ابھی تمہارے پاس ایک جنتی آدمی آئے گا تھوڑی دیر بعد حضرت صدیق اکبر تشریف لائے پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ابھی تمہارے پاس ایک اور جنتی آدمی آئے گا تھوڑ دیر بعد حضرت عمر فاروق تشریف لائے پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا کہ ابھی تمہارے تمہارے پاس ایک اور جنتی آدمی آئے گا اور فرمانے لگے کہ اے اللہ اگر تو چاہتا تو آنے والا علی ہوتا چنانچہ حضرت علی ہی آئے پھر کھانالایا گیا جو ہم نے کھا لیا پھر ہم نماز ظہر کے لئے اٹھے اور ہم میں سے کسی نے بھی وضو نہیں کیا نماز کے بعد باقی ماندہ کھانا لایا گیا پھر نماز عصر کے لئے اٹھے تو ہم میں سے کسی نے پانی کو ہاتھ تک نہیں لگایا۔

لَيَدْخُلَنَّ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ ← لَيَدْخُلَنَّ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَدَخَلَ عُمَرُ ← رَسُولُ اللَّهِ لَيَدْخُلَنَّ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَدَخَلَ أَبُو بَكْرٍ ← مَشَيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ إِلَى امْرَأَةٍ مِنْ الْأَنْصَارِ فَذَبَحَتْ لَنَا شَاةً ← جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ← زَائِدَۃَ، ← أَبُو سَعِيدٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 15229

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 15230

حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ خَرَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُهِلِّينَ بِالْحَجِّ فَقَدِمْنَا مَكَّةَ فَطُفْنَا بِالْبَيْتِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحِلُّوا وَاجْعَلُوهَا عُمْرَةً إِلَّا مَنْ سَاقَ الْهَدْيَ قَالَ فَسَطَعَتْ الْمَجَامِرُ وَوَقَعَتْ النِّسَاءُ فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ التَّرْوِيَةِ أَهْلَلْنَا بِالْحَجِّ قَالَ سُرَاقَةُ بْنُ مَالِكِ بْنِ جُعْشُمٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ عُمْرَتُنَا هَذِهِ أَلِعَامِنَا أَمْ لِلْأَبَدِ قَالَ لَا بَلْ لِلْأَبَدِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کاتلبیہ پڑھتے ہوئے روانہ ہوئے جب ہم مکہ مکرمہ پہنچے تو ہم نے خانہ کعبہ کا طواف کیا صفامروہ کی سعی کی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس شخص کے پاس قربانی کا جانور نہ ہو وہ اپنا احرام کھول لے چنانچہ اس کے بعد ہم اپنی بیویوں کے پاس بھی گئے سلے ہوئے کپڑے بھی پہنے اور خوشبو بھی لگائی۔آٹھ ذی الحجہ کو ہم نے حج کا احرام باندھا اسی دوران حضرت سراقہ بن مالک بھی آگئے اور کہنے لگے یارسول اللہ کیاعمرہ کاصرف حکم اس سال کے لئے ہے یاہمیشہ کے لئے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہمیشہ کے لئے۔

سُرَاقَةَ بْنِ مَالِكِ بْنِ جُعْشُمٍ ← فَسَطَعَتْ الْمَجَامِرُ وَوَقَعَتْ النِّسَاءُ فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ التَّرْوِيَةِ أَهْلَلْنَا بِالْحَجِّ ← رَسُولُ اللَّهِ أَحِلُّوا وَاجْعَلُوهَا عُمْرَةً إِلَّا مَنْ سَاقَ الْهَدْيَ ← خَرَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ مُهِلِّينَ بِالْحَجِّ فَقَدِمْنَا مَكَّةَ فَطُفْنَا بِالْبَيْتِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ← جَابِرٍ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← سُفْيَانَ، ← مُؤَمَّلٍ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 15230

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 15231

حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنْ عِشْتُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ نَهَيْتُ أَنْ يُسَمَّى بَرَكَةُ وَيَسَارٌ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اگر میں زندہ رہا تو ان شاء اللہ سختی سے لوگوں کو برکت اور یسار اور نافع جیسے نام رکھنے سے منع کردوں گا۔

جَابِرٍ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← سُفْيَانَ، ← مُؤَمَّلٍ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 15231

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 15232

حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ حَدَّثَنَا عَلِيٌّ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِابْنِ صَائِدٍ مَا تَرَى قَالَ أَرَى عَرْشًا عَلَى الْمَاءِ أَوْ قَالَ عَلَى الْبَحْرِ حَوْلَهُ حَيَّاتٌ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاكَ عَرْشُ إِبْلِيسَ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ابن صائد سے پوچھا کہ اے ابن صائد تو کیا دیکھتا ہے اس نے کہا کہ میں پانی پر ایک تخت دیکھتا ہوں جس کے اردگرد سانپ ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ ابلیس کاتخت ہے۔

جَابِرٍ ← أَبِي نَضْرَةَ ← عَلِيٌّ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ← حَمَّادٌ، ← مُؤَمَّلٍ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 15232

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 15233

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ عَنْ كَثِيرِ بْنِ شِنْظِيرٍ عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ بَعَثَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَاجَةٍ فَلَمَّا رَجَعْتُ سَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ فَلَمَّا فَرَغَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ سَلَّمْتُ عَلَيْكَ فَلَمْ تَرُدَّ عَلَيَّ قَالَ إِنِّي كُنْتُ أُصَلِّي وَهُوَ عَلَى رَاحِلَتِهِ مُتَوَجِّهًا لِغَيْرِ الْقِبْلَةِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اپنے کسی کام سے بھیجا میں چلا گیا جب وہ کام کر کے واپس آیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کوسلام کیا لیکن انہوں نے جواب نہ دیا جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو میں نے عرض کیا یا رسول اللہ میں نے آپ کوسلام کیا تھا لیکن آپ نے جواب نہیں دیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں اس وقت نماز پڑھ رہا تھا اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری پر تھے اور جانب قبلہ رخ نہ تھا۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← عَطَاءُ بْنُ اَبِیْ رَبَاحٍ ← کَثِيرُ بْنُ شِنْظِيرٍ ← حَمَّادٌ -يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ-، ← إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 15233

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 15234

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ كَثِيرِ بْنِ شِنْظِيرٍ عَنْ عَطَاءٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَمِّرُوا الْآنِيَةَ وَأَوْكِئُوا الْأَسْقِيَةَ وَأَجِيفُوا الْبَابَ وَأَطْفِئُوا الْمَصَابِيحَ عِنْدَ الرُّقَادِ فَإِنَّ الْفُوَيْسِقَةَ رُبَّمَا اجْتَرَّتْ الْفَتِيلَةَ فَأَحْرَقَتْ الْبَيْتَ وَأَكْفِتُوا صِبْيَانَكُمْ عِنْدَ الْمَسَاءِ فَإِنَّ لِلْجِنِّ انْتِشَارًا وَخَطْفَةً

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ رات کو سوتے وقت دروازے بند کر لیا کرو اور برتنوں کو ڈھانپ دیا کرو اور چراغ بجھادیا کرو اور مشکیزوں کامنہ باندھ دیا کرو کیونکہ شیطان بند دروازہ کو نہیں کھول سکتا کوئی پردہ نہیں ہٹاسکتا کوئی بندھن نہیں کھول سکتا اور بعض اوقات ایک چوہا پورے گھر کو جلانے کا سبب بن جاتا ہے۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← عَطَاءٍ، ← کَثِيرُ بْنُ شِنْظِيرٍ ← حَمَّادٌ، ← إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 15234

chevron_left Previous
1…126127128…232
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    0. Chapter
2. Book
    0. Chapter
3. Book
    0. Chapter
4. Book
    0. Chapter
5. Book
    0. Chapter
6. Book
    0. Chapter
7. Book
    0. Chapter
8. Book
    0. Chapter
9. Book
    0. Chapter