Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Monday, Jumada I 9, 1448 AH · Oct 19, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند امام احمد بن حنبل

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble

by Musnad Imam Bin Hanble

28,221 Hadith18 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 15163

حَدَّثَنَا أَبُو قَطَنٍ وَكَثِيرُ بنُ هِشَامٍ قَالَا حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ احْتَجَمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ مِنْ وَثْيٍ كَانَ بِوَرِكِهِ أَوْ ظَهْرِهِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حالت احرام میں اپنے کولہے کی ہڈی یا کمر میں موچ آنے کی وجہ سے سینگی لگوائی تھی۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← هِشَامٍ ← أَبُو قَطَنٍ وَكَثِيرُ بنُ هِشَامٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 15163

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 15164

حَدَّثَنَا أَبُو قَطَنٍ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ خَسَفَتْ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي يَوْمٍ شَدِيدِ الْحَرِّ فَصَلَّى بِأَصْحَابِهِ فَأَطَالَ الْقَيَّامَ حَتَّى جَعَلُوا يَخِرُّونَ ثُمَّ رَكَعَ فَأَطَالَ ثُمَّ رَفَعَ فَأَطَالَ ثُمَّ رَكَعَ فَأَطَالَ ثُمَّ رَفَعَ فَأَطَالَ ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ ثُمَّ قَامَ فَصَنَعَ نَحْوًا مِنْ ذَلِكَ فَكَانَتْ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ وَأَرْبَعَ سَجَدَاتٍ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور باسعادت میں شدید گرمی میں سورج گرہن لگا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کو طویل نماز پڑھائی یہاں تک کہ لوگ گرنے لگے پھر طویل رکوع کیا پھر سر اٹھا کر دیر تک کھڑے رہے پھر طویل رکوع کیا اور پھر دیر تک سر اٹھا کر کھڑے رہے پھر دو سجدے کئے دوسری رکعت میں بھی اسی طرح کیا یوں اس نماز میں چار رکوع اور چار سجدے ہوئے۔

جَابِرٍ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← هِشَامٍ ← أَبُو قَطَنٍ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 15164

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 15165

حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ حَدَّثَنَا عَاصِمٌ يَعْنِي الْأَحْوَلَ عَنْ عَامِرٍ عَنْ جَابِرٍ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تُزَوَّجَ الْمَرْأَةُ عَلَى عَمَّتِهَا أَوْ عَلَى خَالَتِهَا

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پھوپھی یاخالہ کی موجودگی میں کسی عورت سے نکاح کرنے سے منع فرمایا ہے۔

نَهَى رَسُولُ اللَّهِ أَنْ تُزَوَّجَ الْمَرْأَةُ عَلَى عَمَّتِهَا أَوْ عَلَى خَالَتِهَا ← جَابِرٍ ← عَامِرٍ، ← عَاصِمٌ يَعْنِي: الْأَحْوَلَ ← عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 15165

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 15166

حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ أَرْخَصَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رُقْيَةِ الْحُمَةِ لِبَنِي عَمْرٍو

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو عمر کے لئے ڈنک سے جھاڑ پھونک کرنے کی رخصت دی تھی۔

أَرْخَصَ النَّبِيُّ فِي رُقْيَةِ الْحُمَةِ لِبَنِي عَمْرٍو ← جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← رَوْحٌ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 15166

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 15167

حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ عَنْ عَطَاءٍ عَنْ جَابِرٍ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي يَوْمِ عِيدٍ بَدَأَ بِالصَّلَاةِ قَبْلَ الْخُطْبَةِ بِغَيْرِ أَذَانٍ وَلَا إِقَامَةٍ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ عیدالفطر کے دن میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھا انہوں نے بغیر اذان واقامت کے خطبے سے پہلے نماز پڑھائی۔

جَابِرٍ ← عَطَاءٍ، ← عَبْد الْمَلِكِ؛ ← عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 15167

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 15168

حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ لَدَغَتْ رَجُلًا مِنَّا عَقْرَبٌ وَنَحْنُ جُلُوسٌ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرْقِيهِ فَقَالَ مَنْ اسْتَطَاعَ مِنْكُمْ أَنْ يَنْفَعَ أَخَاهُ فَلْيَنْفَعْهُ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک آدمی کو بچھو نے ڈس لیا دوسرے نے کہا یا رسول اللہ کیا میں اسے جھاڑ سکتا ہوں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص اپنے بھائی کو نفع پہنچاسکتا ہو اسے ایسا ہی کرنا چاہیے۔

لَدَغَتْ رَجُلًا مِنَّا عَقْرَبٌ وَنَحْنُ جُلُوسٌ مَعَ النَّبِيِّ فَقَالَ رَجُلٌ ← جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← رَوْحٌ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 15168

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 15169

حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا عَدْوَى وَلَا صَفَرَ وَلَا غُولَ و سَمِعْت أَبَا الزُّبَيْرِ يَذْكُرُ أَنَّ جَابِرًا فَسَّرَ لَهُمْ قَوْلَهُ لَا صَفَرَ فَقَالَ أَبُو الزُّبَيْرِ الصَّفَرُ الْبَطْنُ قِيلَ لِجَابِرٍ كَيْفَ هَذَا الْقَوْلُ فَقَالَ دَوَابُّ الْبَطْنِ قَالَ وَلَمْ يُفَسِّرْ الْغُولَ قَالَ أَبُو الزُّبَيْرِ مِنْ قِبَلِهِ هَذَا الْغُولُ الشَّيْطَانَةُ الَّتِي يَقُولُونَ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ بیماری متعدد ہونے صفر کا مہینہ منحوس ہونے اور بھوت پریت کی کوئی حقیقت نہیں۔

وَلَمْ يُفَسِّرْ الْغُولَ ← دَوَابُّ الْبَطْنِ ← أَبُو الزُّبَيْرِ الصَّفَرُ الْبَطْنُ قِيلَ لِجَابِرٍ كَيْفَ هَذَا الْقَوْلُ ← أَبَا الزُّبَيْرِ يَذْكُرُ أَنَّ جَابِرًا فَسَّرَ لَهُمْ قَوْلَهُ لَا صَفَرَ ← لَا عَدْوَى وَلَا صَفَرَ وَلَا غُولَ و ← رَسُولِ اللَّهِ ← جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 15169

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 15170

حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ طَعَامُ الْوَاحِدِ يَكْفِي الِاثْنَيْنِ وَطَعَامُ الِاثْنَيْنِ يَكْفِي الْأَرْبَعَةَ وَطَعَامُ الْأَرْبَعَةِ يَكْفِي الثَّمَانِيَةَ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ایک آدمی کا کھانا دو آدمیوں کو اور دو کا چار کو چار کا کھانا آٹھ آدمیوں کو کافی ہوجاتا ہے۔

«طَعَامُ الْوَاحِدِ يَكْفِي الِاثْنَيْنِ، وَطَعَامُ الِاثْنَيْنِ يَكْفِي الْأَرْبَعَةَ، وَطَعَامُ الْأَرْبَعَةِ يَكْفِي الثَّمَانِيَةَ» ← رَسُولِ اللَّهِ ← جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← رَوْحٌ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 15170

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 15171

حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ رَجُلٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ رَجُلًا شَابًّا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَأْذِنُهُ فِي الْخِصَاءِ فَقَالَ صُمْ وَسَلْ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ فَضْلِهِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نوجوان نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضرہوا اور کہنے لگا کہ کیا آپ مجھے خصی ہونے کی اجازت دیتے ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا روزہ رکھا کرو اور اللہ سے اس کے فضل کا سوال کیا کرو۔

صُمْ وَسَلْ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ فَضْلِهِ ← جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ رَجُلًا شَابًّا أَتَى النَّبِيَّ يَسْتَأْذِنُهُ فِي الْخِصَاءِ ← رَجُلٌ: ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ، ← رَوْحٌ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 15171

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 15172

حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ سَلَّمَ نَاسٌ مِنْ الْيَهُودِ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا السَّامُ عَلَيْكَ يَا أَبَا الْقَاسِمِ فَقَالَ وَعَلَيْكُمْ فَقَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا وَغَضِبَتْ أَلَمْ تَسْمَعْ مَا قَالُوا قَالَ بَلَى قَدْ سَمِعْتُ فَرَدَدْتُهَا عَلَيْهِمْ إِنَّا نُجَابُ عَلَيْهِمْ وَلَا يُجَابُونَ عَلَيْنَا

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ یہودیوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کرتے ہوئے کہا السام علیک یا ابا قاسم نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب میں صرف وعلیکم کہا حضرت عائشہ نے پردے کے پیچھے سے غصے میں کہا کہ آپ سن نہیں رہے کہ یہ لوگ کیا کہہ رہے ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیوں نہیں میں نے سنابھی ہے اور انہیں جواب بھی دیا ہے ان کے خلاف ہماری بددعا قبول ہوجائے گی لیکن ہمارے خلاف ان کی بددعا قبول نہیں ہوگی۔

نُجَابُ عَلَيْهِمْ وَلَا يُجَابُونَ عَلَيْنَا ← فَرَدَدْتُهَا عَلَيْهِمْ ← بَلَى قَدْ ← عَائِشَةُ وَغَضِبَتْ أَلَمْ تَسْمَعْ مَا ← وَعَلَيْكُمْ. ← السَّامُ عَلَيْکَ يَا أَبَا الْقَاسِمِ ← سَلَّمَ نَاسٌ مِنْ الْيَهُودِ عَلَى النَّبِيِّ ← جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← رَوْحٌ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 15172

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 15173

حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ لَبِسَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبَاءً مِنْ دِيبَاجٍ أُهْدِيَ لَهُ ثُمَّ أَوْشَكَ أَنْ يَنْزِعَهُ وَأَرْسَلَ بِهِ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَقِيلَ قَدْ أَوْشَكْتَ مَا نَزَعْتَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ نَهَانِي عَنْهُ جِبْرِيلُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَاءَهُ عُمَرُ يَبْكِي فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ كَرِهْتَ أَمْرًا وَأَعْطَيْتَنِيهِ فَمَا لِي فَقَالَ لَمْ أُعْطِكَهُ لِتَلْبَسَهُ إِنَّمَا أَعْطَيْتُكَهُ تَبِيعُهُ فَبَاعَهُ بِأَلْفَيْ دِرْهَمٍ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ریشمی لباس زیب تن فرمایا جو آپ کو کہیں سے ہدیہ میں آیا تھا پھر اسے تار حضرت عمر کے پاس بھجوا دیا کسی نے پوچھا کہ یا رسول اللہ آپ نے اسے کیوں اتار دیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے جبرائیل نے اسے منع کیا ہے اسی اثناء میں حضرت عمر بھی روتے ہوئے آگئے اور کہنے لگے کہ یا رسول اللہ ایک چیز کو آپ ناپسند کرتے ہیں اور مجھے دیدیتے ہیں میرا کیا گناہ ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے تمہیں یہ پہننے کے لئے نہیں دیا میں نے تمہیں یہ اس لئے دیا ہے کہ تم اسے بیچ کر اس کی قیمت اپنے استعمال میں لے آؤ چنانچہ انہوں نے اسے دوہزار درہم میں فروخت کردیا۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← رَوْحٌ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 15173

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 15174

حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ إِنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِذَا دَخَلَ الرَّجُلُ بَيْتَهُ فَذَكَرَ عِنْدَ دُخُولِهِ وَعِنْدَ طَعَامِهِ قَالَ الشَّيْطَانُ مَا مِنْ مَبِيتٍ وَلَا عَشَاءٍ هَاهُنَا وَإِذَا دَخَلَ وَلَمْ يَذْكُرْ اللَّهَ عِنْدَ دُخُولِهِ قَالَ الشَّيْطَانُ أَدْرَكْتُمْ الْمَبِيتَ وَالْعَشَاءَ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے جب کوئی شخص اپنے گھر میں داخل ہوا اور داخل ہوتے وقت اور کھانا کھاتے وقت اللہ کا نام لے توشیطان کہتا ہے کہ یہاں تمہارے رات گذارنے کی کوئی جگہ ہے اور نہ کھانا اور اگر وہ گھر میں داخل ہوتے وقت اللہ کا نام نہ لے تو وہ کہتا ہے کہ تمہیں رات گذارنے کی جگہ تو مل گئی اور اگر کھانا کھاتے وقت بھی اللہ کا نام نہ لے تو وہ کہتا ہے کہ تمہیں ٹھکانہ اور کھانا دونوں مل گئے۔

أَبُو الزُّبَيْرِ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← رَوْحٌ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 15174

chevron_left Previous
1…121122123…232
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    0. Chapter
2. Book
    0. Chapter
3. Book
    0. Chapter
4. Book
    0. Chapter
5. Book
    0. Chapter
6. Book
    0. Chapter
7. Book
    0. Chapter
8. Book
    0. Chapter
9. Book
    0. Chapter