Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Monday, Jumada I 9, 1448 AH · Oct 19, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند امام احمد بن حنبل

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble

by Musnad Imam Bin Hanble

28,221 Hadith18 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 15091

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا أَبِي عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جَابِرٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ لَمَّا اسْتَقْبَلْنَا وَادِيَ حُنَيْنٍ قَالَ انْحَدَرْنَا فِي وَادٍ مِنْ أَوْدِيَةِ تِهَامَةَ أَجْوَفَ حَطُوطٍ إِنَّمَا نَنْحَدِرُ فِيهِ انْحِدَارًا قَالَ وَفِي عَمَايَةِ الصُّبْحِ وَقَدْ كَانَ الْقَوْمُ كَمَنُوا لَنَا فِي شِعَابِهِ وَفِي أَجْنَابِهِ وَمَضَايِقِهِ قَدْ أَجْمَعُوا وَتَهَيَّئُوا وَأَعَدُّوا قَالَ فَوَاللَّهِ مَا رَاعَنَا وَنَحْنُ مُنْحَطُّونَ إِلَّا الْكَتَائِبُ قَدْ شَدَّتْ عَلَيْنَا شَدَّةَ رَجُلٍ وَاحِدٍ وَانْهَزَمَ النَّاسُ رَاجِعِينَ فَاسْتَمَرُّوا لَا يَلْوِي أَحَدٌ مِنْهُمْ عَلَى أَحَدٍ وَانْحَازَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ الْيَمِينِ ثُمَّ قَالَ إِلَيَّ أَيُّهَا النَّاسُ هَلُمَّ إِلَيَّ أَنَا رَسُولُ اللَّهِ أَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ فَلَا شَيْءَ احْتَمَلَتْ الْإِبِلُ بَعْضُهَا بَعْضًا فَانْطَلَقَ النَّاسُ إِلَّا أَنَّ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَهْطًا مِنْ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ وَأَهْلِ بَيْتِهِ غَيْرَ كَثِيرٍ وَفِيمَنْ ثَبَتَ مَعَهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَمِنْ أَهْلِ بَيْتِهِ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ وَالْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ وَابْنُهُ الْفَضْلُ بْنُ عَبَّاسٍ وَأَبُو سُفْيَانَ بْنُ الْحَارِثِ وَرَبِيعَةُ بْنُ الْحَارِثِ وأَيْمَنُ بْنُ عُبَيْدٍ وَهُوَ ابْنُ أُمِّ أَيْمَنَ وَأُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ قَالَ وَرَجُلٌ مِنْ هَوَازِنَ عَلَى جَمَلٍ لَهُ أَحْمَرَ فِي يَدِهِ رَايَةٌ لَهُ سَوْدَاءُ فِي رَأْسِ رُمْحٍ طَوِيلٍ لَهُ أَمَامَ النَّاسِ وَهَوَازِنُ خَلْفَهُ فَإِذَا أَدْرَكَ طَعَنَ بِرُمْحِهِ وَإِذَا فَاتَهُ النَّاسُ رَفَعَهُ لِمَنْ وَرَاءَهُ فَاتَّبَعُوهُ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب ہم وادی حنین کے سامنے پہنچے تو تہامہ کی ایک جوف دار وادی میں اترے ہم اس میں لڑھکتے ہوئے اترتے جارہے تھے صبح کا وقت تھا دشمن کے لوگ ہماری تاک میں گھاٹیوں، کناروں اور تنگ جگہوں میں گھات لگائے بیٹھے ہوئے تھے وہ لوگ متفق اور خوب تیاری کے ساتھ آئے ہوئے تھے واللہ ابھی ہم لوگ اتر ہی رہے تھے کہ انہوں نے ہمیں سنبھلنے کاموقع نہ دیا اور یکجان ہو کر تمام لشکروں نے ہم پر حملہ کر دیا لوگ شکست کھا کر پیچھے کو پلٹنے لگے اور کسی کو کسی کی ہوش نہ تھی۔ ادھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم دائیں جانب سمٹ گئے اور لوگوں کو آوازیں دینے لگے کہ اے لوگو میرے پاس آؤ میں اللہ کا رسول ہوں میں محمد بن عبداللہ ہوں اس وقت اونٹ بھی ادھر ادھر بھاگے پھر رہے تھے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مہاجرین وانصار اور اہل بیت کے افراد بہت کم رہ گئے تھے ان ثابت قدم رہنے والوں میں حضرت ابوبکر، عمر بھی تھے اور اہل بیت میں حضرت علی اور حضرت عباس ان کے صاحبزادے فضل ابوسفیان بن حارث ، ربیعہ بن حارث، ایمن بن عبید جو ام ایمن کے صاحبزادے تھے اور حضرت اسامہ بن زید تھے جبکہ بنو ہوازن کا یک آدمی سرخ اونٹ پر سوار تھا اس کے ہاتھ میں ایک سیاہ رنگ کا جھنڈا تھا جو ایک لمبے نیزے کے سر پر بندھا ہوا تھا وہ لوگوں سے آگے تھے اور بقیہ ہوازن اس کے پیچھے پیچھے تھے جب وہ کسی کو پاتا تو اپنے نیزے سے اسے مار دیتا جب کوئی نظر نہ آتا تو وہ اسے اپنے پیچھے والوں کے لئے بلند کردیتا اور وہ اس کے پیچھے چلنے لگتے۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جَابِرٍ، ← عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ ← ابْنِ إِسْحَاقَ، ← أَبِي ← يَعْقُوبُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 15091

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 15092

قَالَ ابْنُ إِسْحَاقَ وَحَدَّثَنِي عَاصِمُ بْنُ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جَابِرٍ عَنْ أَبِيهِ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ بَيْنَا ذَلِكَ الرَّجُلُ مِنْ هَوَازِنَ صَاحِبُ الرَّايَةِ عَلَى جَمَلِهِ ذَلِكَ يَصْنَعُ مَا يَصْنَعُ إِذْ هَوَى لَهُ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ وَرَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ يُرِيدَانِهِ قَالَ فَيَأْتِيهِ عَلِيٌّ مِنْ خَلْفِهِ فَضَرَبَ عُرْقُوبَيْ الْجَمَلِ فَوَقَعَ عَلَى عَجُزِهِ وَوَثَبَ الْأَنْصَارِيُّ عَلَى الرَّجُلِ فَضَرَبَهُ ضَرْبَةً أَطَنَّ قَدَمَهُ بِنِصْفِ سَاقِهِ فَانْعَجَفَ عَنْ رَحْلِهِ وَاجْتَلَدَ النَّاسُ فَوَاللَّهِ مَا رَجَعَتْ رَاجِعَةُ النَّاسِ مِنْ هَزِيمَتِهِمْ حَتَّى وَجَدُوا الْأَسْرَى مُكَتَّفِينَ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ابھی بنوہوازن کا وہ آدمی جو علمبردار تھا اپنے اونٹ پر ہی سوار تھا اور وہ سب کچھ کرتاجارہا تھا جو کر رہا تھا کہ اچانک اس کا سامنا حضرت علی اور ایک انصاری سے ہو گیا وہ دونوں اس کے پیچھے لگ گئے چنانچہ حضرت علی نے پیچھے سے آکر اس کے اونٹ کی ایڑیوں پر ایسی ضرب لگائی کہ وہ اس کی دم کے بل گر پڑا ادھر سے انصاری نے اس پر چھلانگ لگائی اور اس پر ایسا وار کیا کہ اس کا پاؤں نصف پنڈلی تک چر گیا وہ اپنی سواری سے گر گیا اور لوگ بھاگ کھڑے ہوئے واللہ لوگ اپنی شکست سے جان بچا کر جہاں بھی بھاگے بالا آخر وہ قیدی بنا کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لائے گئے۔

أبيه جابر بن عبد الله ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جَابِرٍ، ← عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ ← ابْنِ إِسْحَاقَ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 15092

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 15093

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا أَبِي عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ مِينَاءَ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ عَمِلْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْخَنْدَقِ قَالَ فَكَانَتْ عِنْدِي شُوَيْهَةُ عَنْزٍ جَذَعٌ سَمِينَةٌ قَالَ فَقُلْتُ وَاللَّهِ لَوْ صَنَعْنَاهَا لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَأَمَرْتُ امْرَأَتِي فَطَحَنَتْ لَنَا شَيْئًا مِنْ شَعِيرٍ وَصَنَعَتْ لَنَا مِنْهُ خُبْزًا وَذَبَحَتْ تِلْكَ الشَّاةَ فَشَوَيْنَاهَا لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَلَمَّا أَمْسَيْنَا وَأَرَادَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الِانْصِرَافَ عَنْ الْخَنْدَقِ قَالَ وَكُنَّا نَعْمَلُ فِيهِ نَهَارًا فَإِذَا أَمْسَيْنَا رَجَعْنَا إِلَى أَهْلِنَا قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَدْ صَنَعْتُ لَكَ شُوَيْهَةً كَانَتْ عِنْدَنَا وَصَنَعْنَا مَعَهَا شَيْئًا مِنْ خُبْزِ هَذَا الشَّعِيرِ فَأُحِبُّ أَنْ تَنْصَرِفَ مَعِي إِلَى مَنْزِلِي وَإِنَّمَا أُرِيدُ أَنْ يَنْصَرِفَ مَعِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَحْدَهُ قَالَ فَلَمَّا قُلْتُ لَهُ ذَلِكَ قَالَ نَعَمْ ثُمَّ أَمَرَ صَارِخًا فَصَرَخَ أَنْ انْصَرِفُوا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى بَيْتِ جَابِرٍ قَالَ قُلْتُ إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ فَأَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَقْبَلَ النَّاسُ مَعَهُ قَالَ فَجَلَسَ وَأَخْرَجْنَاهَا إِلَيْهِ قَالَ فَبَرَكَ وَسَمَّى ثُمَّ أَكَلَ وَتَوَارَدَهَا النَّاسُ كُلَّمَا فَرَغَ قَوْمٌ قَامُوا وَجَاءَ نَاسٌ حَتَّى صَدَرَ أَهْلُ الْخَنْدَقِ عَنْهَا

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ خندق کی کھدائی کر رہے تھے میرے پاس بکری کا ایک چھ ماہ کا بچہ تھا میں نے دل میں سوچا کہ کیوں نہ اسے بھون کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے کھانے کا انتظام کر لیں چنانچہ میں نے اپنی بیوی سے کہا اس نے کچھ جو پیسے اور اس سے روٹیاں پکائیں اور بکری ذبح کی جسے ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے بھون لیا۔ جب شام ہوئی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم خندق سے واپسی کا ارادہ کرنے لگے کہ ہم لوگ دن بھر کام کرتے تھے اور شام کو گھر واپس آ جاتے تھے میں نے عرض کیا یا رسول اللہ میں نے تھوڑا ساگوشت بھونا ہے جو ہمارے پاس تھا اور اس کے ساتھ جو کی کچھ روٹیاں پکائی ہیں میری خواہش ہے کہ آپ میرے ساتھ میرے گھر چلیں میرا ارادہ یہ تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تنہا میرے ساتھ چلیں گے لیکن جب میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے چلنے کے لئے کہا تو آپ نے فرمایا اچھا اور ایک منادی کو حکم دیا کہ جس نے پورے لشکر میں اعلان کروا دیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جابر رضی اللہ عنہ کے گھر چلو میں نے اپنے دل میں انا للہ وانا الیہ راجعون پڑھا اتنے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور سارے لوگ آ گئے اور آکر بیٹھ گئے ہم نے جو کچھ پکایا تھا وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے لا کر رکھ دیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں برکت کی دعا فرمائی اور بسم اللہ پڑھ کر اسے تناول فرمایا لوگ آتے جاتے تھے اور کھاتے تھے حتی کہ تمام اہل خندق نے سیر ہو کر وہ کھانا کھالیا۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← سعيد بن ميناء، ← ابْنِ إِسْحَاقَ، ← أَبِي ← يَعْقُوبُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 15093

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 15094

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا أَبِي عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنِي مُعَاذُ بْنُ رِفَاعَةَ عَنْ مَحْمُودِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْجَمُوحِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ لَمَّا دُفِنَ سَعْدٌ وَنَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبَّحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَبَّحَ النَّاسُ مَعَهُ طَوِيلًا ثُمَّ كَبَّرَ فَكَبَّرَ النَّاسُ ثُمَّ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ مِمَّ سَبَّحْتَ قَالَ لَقَدْ تَضَايَقَ عَلَى هَذَا الرَّجُلِ الصَّالِحِ قَبْرُهُ حَتَّى فَرَّجَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَنْهُ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب حضرت سعد بن معاذ کی تدفین ہوچکی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دیر تک تسبیح کی ہم بھی تسبیح کرتے رہے پھر تکبیر کہتے رہے کسی نے پوچھا یا رسول اللہ آپ نے تسبیح اور تکبیر کیوں کہی فرمایا کہ اس بندہ صالح پر قبر تنگ ہورہی تھی بعد میں اللہ نے اسے کشادہ کر دی۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← مَحْمُودُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْجَمُوحِ، ← مُعَاذِ بْنِ رِفَاعَةَ ← ابْنِ إِسْحَاقَ، ← أَبِي ← يَعْقُوبُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 15094

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 15095

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْأُمَوِيُّ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ قَالَ بَلَغَنِي عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا طَبَخْتُمْ اللَّحْمَ فَأَكْثِرُوا الْمَرَقَ أَوْ الْمَاءَ فَإِنَّهُ أَوْسَعُ أَوْ أَبْلَغُ لِلْجِيرَانِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب تم گوشت پکایا کرو تو اس میں شوربہ بڑھا لیا کرو کہ اس سے پڑوسیوں کے لئے کشادگی پیدا ہوجاتی ہے۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← بلغني ← الْاَعْمَشِ ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ الأُمَوِيُّ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 15095

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 15096

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْأُمَوِيُّ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّمَا عَبْدٍ تَزَوَّجَ بِغَيْرِ إِذْنِ سَيِّدِهِ فَهُوَ عَاهِرٌ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو غلام اپنے آقاکی اجازت کے بغیر نکاح کرتا ہے وہ بدکاری کرتا ہے۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ الأُمَوِيُّ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 15096

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 15097

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْأُمَوِيُّ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ عَنْ عَطَاءٍ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرًا وَسُئِلَ عَنْ الْعَزْلِ قَالَ فَقَالَ قَدْ كُنَّا نَصْنَعُهُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے کسی نے عزل کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور باسعادت میں ہم عزل کرتے تھے (آب حیات کا باہر خارج کردینا) ۔

فَقَالَ قَدْ كُنَّا نَصْنَعُهُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ ← الْعَزْل ← جَابِرًا وَسُئِلَ ← عَطَاءٌ، اَنَّہٗ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ الأُمَوِيُّ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 15097

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 15098

حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حَفْصَةَ حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ حُبِسَ الْوَحْيُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَوَّلِ أَمْرِهِ وَحُبِّبَ إِلَيْهِ الْخَلَاءُ فَجَعَلَ يَخْلُو فِي حِرَاءٍ فَبَيْنَمَا هُوَ مُقْبِلٌ مِنْ حِرَاءٍ إِذَا أَنَا بِحِسٍّ مِنْ فَوْقِي فَرَفَعْتُ رَأْسِي فَإِذَا الَّذِي أَتَانِي بِحِرَاءٍ فَوْقَ رَأْسِي عَلَى كُرْسِيٍّ قَالَ فَلَمَّا رَأَيْتُهُ جُئِثْتُ عَلَى الْأَرْضِ فَلَمَّا أَفَقْتُ أَتَيْتُ أَهْلِي مُسْرِعًا فَقُلْتُ دَثِّرُونِي دَثِّرُونِي فَأَتَانِي جِبْرِيلُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا أَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ قُمْ فَأَنْذِرْ وَرَبَّكَ فَكَبِّرْ وَثِيَابَكَ فَطَهِّرْ وَالرُّجْزَ فَاهْجُرْ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ انقطاع وحی کا زمانہ گذرنے کے بعد ایک دن میں جا رہا تھا تو آسمان سے ایک آواز سنی میں نے سر اٹھا کر دیکھا تو وہی فرشتہ جو غار حراء میں میرے پاس آیا تھا آسمان و زمین کے درمیان فضاء میں اپنے تخت پر نظر آیا یہ دیکھ کر مجھ پر کپکپی طاری ہوئی اور میں نے خدیجہ کے پاس آکر کہا کہ مجھے کوئی موٹا کمبل اوڑھادو چنانچہ انہوں نے مجھے کمبل اوڑھا دیا اس موقع پر اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی یا ایھا المدثر اس کے بعد وحی کا سلسلہ تسلسل کے ساتھ شروع ہو گیا۔

حبس الوحي ← جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← ابْنِ شِهَابٍ، ← مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي حَفْصَةَ، ← رَوْحٌ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 15098

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 15099

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ صَالِحٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ أَبُو سَلَمَةَ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يُحَدِّثُ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَمَّا كَذَّبَتْنِي قُرَيْشٌ حِينَ أُسْرِيَ بِي إِلَى بَيْتِ الْمَقْدِسِ قُمْتُ فِي الْحِجْرِ فَجَلَا اللَّهُ لِي بَيْتَ الْمَقْدِسِ فَطَفِقْتُ أُخْبِرُهُمْ عَنْ آيَاتِهِ وَأَنَا أَنْظُرُ إِلَيْهِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جب قریش نے میرے بیت المقدس کی سیر کرنے کی تکذیب کی تو میں حطیم میں کھڑا ہوگیا اور اللہ نے بیت المقدس کو میرے سامنے کردیا اور میں اسے دیکھ دیکھ کر انہیں اس کی علامات بتانے لگا۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← أَبُو سَلَمَةَ ← ابْنِ شِهَابٍ، ← صَالِحٍ، ← أَبِي ← يَعْقُوبُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 15099

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 15100

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ مَعْمَرٍ قَالَ الزُّهْرِيُّ أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُحَدِّثُ عَنْ فَتْرَةِ الْوَحْيِ فَقَالَ فِي حَدِيثِهِ فَبَيْنَا أَنَا أَمْشِي سَمِعْتُ صَوْتًا مِنْ السَّمَاءِ فَرَفَعْتُ رَأْسِي فَإِذَا الْمَلَكُ الَّذِي جَاءَنِي بِحِرَاءٍ جَالِسٌ عَلَى كُرْسِيٍّ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ فَجُئِثْتُ مِنْهُ رُعْبًا فَرَجَعْتُ فَقُلْتُ زَمِّلُونِي زَمِّلُونِي فَدَثَّرُونِي فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ يَا أَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ قُمْ فَأَنْذِرْ وَرَبَّكَ فَكَبِّرْ إِلَى قَوْلِهِ وَالرُّجْزَ فَاهْجُرْ قَبْلَ أَنْ تُفْرَضَ الصَّلَاةُ وَهِيَ الْأَوْثَانُ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ انقطاع وحی کا زمانہ گذرنے کے بعد ایک دن میں جا رہا تھا تو آسمان سے ایک آواز سنی میں نے سر اٹھا کر دیکھا تو وہی فرشتہ جو غار حراء میں میرے پاس آیا تھا آسمان وزمین کے درمیان فضاء میں اپنے تخت پر نظر آیا یہ دیکھ کر مجھ پر کپکپی طاری ہوئی اور میں نے خدیجہ کے پاس آکر کہا کہ مجھے کوئی موٹا کمبل اوڑھا دو چنانچہ انہوں نے مجھے کمبل اوڑھادیا اس موقع پر اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی یا ایھا المدثر اس کے بعد وحی کا سلسلہ تسلسل کے ساتھ شروع ہو گیا۔

أَمْشِي ← فِي حَدِيثِهِ فَبَيْنَا ← فَتْرَةِ الْوَحْيِ ← رَسُولَ اللهِ وَهُوَ ← جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 15100

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 15101

قَالَ الزُّهْرِيُّ وَأَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُمْتُ فِي الْحِجْرِ حِينَ كَذَّبَنِي قَوْمِي فَرُفِعَ لِي بَيْتُ الْمَقْدِسِ حَتَّى جَعَلْتُ أَنْعَتُ لَهُمْ آيَاتِهِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب قریش نے میرے بیت المقدس کے سیر کرنے کی تکذیب کی تو میں حطیم میں کھڑا ہو گیا اور اللہ نے بیت المقدس کو میرے سامنے کر دیا اور میں اسے دیکھ دیکھ کر انہیں اس کی علامات بتانے لگا۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← الزُّهْرِيُّ وَأَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 15101

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 15102

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ يَعْنِي ابْنَ خَالِدٍ حَدَّثَنَا رَبَاحٌ عَنْ مَعْمَرٍ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ قَالَ حَدَّثَنِي رَجُلٌ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ جَاءَ شَابٌّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَتَأْذَنُ لِي فِي الْخِصَاءِ فَقَالَ صُمْ وَسَلْ اللَّهَ مِنْ فَضْلِهِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک نوجوان نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا کہ کیا آپ مجھے خصی ہونے کی اجازت دیتے ہیں ؟ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا روزہ رکھا کرو اور اللہ سے اس کے فضل کا سوال کیا کرو۔

صُمْ وَسَلْ اللَّهَ مِنْ فَضْلِهِ ← أَتَأْذَنُ لِي فِي الْخِصَاءِ ← جَاءَ شَابٌّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ ← جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← رَجُلٌ: ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← مَعْمَرٌ، ← رَبَاحٍ، ← إِبْرَاهِيمُ يَعْنِي ابْنَ خَالِدٍ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 15102

chevron_left Previous
1…115116117…232
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    0. Chapter
2. Book
    0. Chapter
3. Book
    0. Chapter
4. Book
    0. Chapter
5. Book
    0. Chapter
6. Book
    0. Chapter
7. Book
    0. Chapter
8. Book
    0. Chapter
9. Book
    0. Chapter