Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Monday, Jumada I 9, 1448 AH · Oct 19, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند امام احمد بن حنبل

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble

by Musnad Imam Bin Hanble

28,221 Hadith18 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 15079

حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ هِشَامٍ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَغْلِقُوا الْأَبْوَابَ بِاللَّيْلِ وَأَطْفِئُوا السُّرُجَ وَأَوْكُوا الْأَسْقِيَةَ وَخَمِّرُوا الطَّعَامَ وَالشَّرَابَ وَلَوْ أَنْ تَعْرُضُوا عَلَيْهِ بِعُودٍ

حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ هِشَامٍ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَغْلِقُوا الْأَبْوَابَ بِاللَّيْلِ وَأَطْفِئُوا السُّرُجَ وَأَوْكُوا الْأَسْقِيَةَ وَخَمِّرُوا الطَّعَامَ وَالشَّرَابَ وَلَوْ أَنْ تَعْرُضُوا عَلَيْهِ بِعُودٍ

جَابِرٍ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← هِشَامٍ ← کَثِیْرُ بْنُ ھِشَامِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 15079

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 15080

حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ هِشَامٍ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ لَقِيَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَا يُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا دَخَلَ الْجَنَّةَ وَمَنْ لَقِيَ اللَّهَ يُشْرِكُ بِهِ دَخَلَ النَّارَ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص اللہ سے اس حال میں ملے کہ اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتاہو وہ جنت میں داخل ہوگا اور جو اللہ سے اس حال میں ملاقات کرے کہ اس کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہراتاہو تو وہ جہنم میں داخل ہوگا۔

جَابِرٍ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← هِشَامٍ ← کَثِیْرُ بْنُ ھِشَامِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 15080

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 15081

حَدَّثَنَا كَثِيرٌ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَمْسِكُوا عَلَيْكُمْ أَمْوَالَكُمْ وَلَا تُعْمِرُوهَا فَإِنَّ مَنْ أَعْمَرَ شَيْئًا حَيَاتَهُ فَهُوَ لَهُ حَيَاتَهُ وَبَعْدَ مَوْتِهِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشا فرمایا اپنے مال کو اپنے پاس سنبھال کر رکھو کسی کو مت دو اور جو شخص زندگی بھر کے لئے کسی کو کوئی چیز دے دیتا ہے تو وہ اسی کی ہوجاتی ہے زندگی میں بھی اور مرنے کے بعد بھی۔

جَابِرٍ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← هِشَامٍ ← کَثِيرٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 15081

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 15082

حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ هِشَامٍ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ صَاحِبُ الدَّسْتُوَائِيِّ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ خَسَفَتْ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي يَوْمٍ شَدِيدِ الْحَرِّ فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَصْحَابِهِ فَأَطَالَ الْقِيَامَ حَتَّى جَعَلُوا يَخِرُّونَ ثُمَّ رَكَعَ فَأَطَالَ الرُّكُوعَ ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَأَطَالَ ثُمَّ رَكَعَ فَأَطَالَ الرُّكُوعَ ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَأَطَالَ ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ ثُمَّ قَامَ فَصَنَعَ مِثْلَ ذَلِكَ ثُمَّ جَعَلَ يَتَقَدَّمُ ثُمَّ جَعَلَ يَتَأَخَّرُ فَكَانَتْ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ وَأَرْبَعَ سَجَدَاتٍ ثُمَّ قَالَ إِنَّهُ عُرِضَ عَلَيَّ كُلُّ شَيْءٍ تُوعَدُونَهُ فَعُرِضَتْ عَلَيَّ الْجَنَّةُ حَتَّى لَوْ تَنَاوَلْتُ مِنْهَا قِطْفًا أَخَذْتُهُ أَوْ قَالَ تَنَاوَلْتُ مِنْهَا قِطْفًا فَقَصُرَتْ يَدِي عَنْهُ شَكَّ هِشَامٌ وَعُرِضَتْ عَلَيَّ النَّارُ فَجَعَلْتُ أَتَأَخَّرُ رَهْبَةَ أَنْ تَغْشَاكُمْ فَرَأَيْتُ فِيهَا امْرَأَةً حِمْيَرِيَّةً سَوْدَاءَ طَوِيلَةً تُعَذَّبُ فِي هِرَّةٍ لَهَا رَبَطَتْهَا فَلَمْ تُطْعِمْهَا وَلَمْ تَسْقِهَا وَلَمْ تَدَعْهَا تَأْكُلُ مِنْ خَشَاشِ الْأَرْضِ وَرَأَيْتُ أَبَا ثُمَامَةَ عَمْرَو بْنَ مَالِكٍ يَجُرُّ قُصْبَهُ فِي النَّارِ وَإِنَّهُمَا آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ يُرِيكُمُوهَا فَإِذَا خَسَفَتْ فَصَلُّوا حَتَّى تَنْجَلِيَ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور باسعادت میں شدید گرمی میں سورج گرہن ہو گیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو نماز پڑھائی اور طویل قیام کیا حتی کہ لوگ مرنے لگے پھر اتنا ہی طویل رکوع کیا پھر سر اٹھا کر طویل قیام کیا دوبارہ اسی طرح کیا دو سجدے کئے اور پھر کھڑے ہوئے اور دوسری رکعت بھی اسی طرح پڑھائی پھر دوران نماز ہی آپ پیچھے ہٹنے لگے کچھ دیر بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم آگے بڑھ کر اپنی جگہ پر کھڑے ہوگئے۔ اس موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم سے جس جس چیز کا وعدہ کیا گیا ہے وہ سب چیزیں میں نے اپنی اس نماز کے دوران دیکھی ہیں چنانچہ میرے سامنے جنت کو پیش کیا گیا میں اگر اس کے پھلوں کا کوئی گچھا توڑنا چاہتا تو توڑ سکتا تھا پھر میرے سامنے جہنم کو بھی لایا گیا یہ وہی وقت تھا جب تم نے مجھے پیچھے ہٹتے ہوئے دیکھا تھا کیونکہ اندیشہ تھا کہ کہیں اس کی لپٹ تمہیں نہ لگ جائے۔ میں نے جہنم میں اس بلی والی عورت کو بھی دیکھا جس نے اسے باندھ دیا تھا خود اسے کچھ کھلایا اور نہ ہی اس کو چھوڑا کہ وہ خود ہی زمین کے کیڑے مکوڑے کھا کر اپنا پیٹ بھر لیتی حتی کہ اس حال میں وہ مر گئی اسی طرح میں نے ابو ثمامہ عمرو بن مالک کو بھی جہنم میں اپنی انتڑیاں کھینچتے ہوئے دیکھا اور چاند سورج اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں جو اللہ تمہیں دکھاتا ہے لہذاجب انہیں گہن لگ جائے تو نماز پڑھا کرو یہاں تک کہ یہ روشن ہوجائیں۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الأَنْصَارِيِّ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← هشام بن أبي عبد الله صاحب الدستوائي ← کَثِیْرُ بْنُ ھِشَامِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 15082

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 15083

حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ هِشَامٍ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نَخْلٍ فَصَلَّى بِأَصْحَابِهِ صَلَاةَ الظُّهْرِ قَالَ فَهَمَّ بِهِمْ الْمُشْرِكُونَ قَالَ فَقَالَ دَعُوهُمْ فَإِنَّ لَهُمْ صَلَاةً بَعْدَ هَذِهِ هِيَ أَحَبُّ إِلَيْهِمْ مِنْ أَبْنَائِهِمْ قَالَ فَنَزَلَ جِبْرِيلُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَصْحَابِهِ فَصَفَّهُمْ صَفَّيْنِ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَيْدِيهِمْ فَكَبَّرُوا جَمِيعًا ثُمَّ سَجَدَ الَّذِينَ يَلُونَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْآخَرُونَ قِيَامٌ فَلَمَّا رَفَعَ الَّذِينَ سَجَدُوا رُءُوسَهُمْ سَجَدَ الْآخَرُونَ فَلَمَّا قَامُوا فِي الرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ تَأَخَّرَ الَّذِينَ يَلُونَ الصَّفَّ الْأَوَّلَ فَقَامَ أَهْلُ الصَّفِّ الثَّانِي وَتَقَدَّمَ الْآخَرُونَ إِلَى الصَّفِّ الْأَوَّلِ فَرَكَعُوا جَمِيعًا فَلَمَّا رَفَعُوا رُءُوسَهُمْ مِنْ الرُّكُوعِ سَجَدَ الَّذِينَ يَلُونَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْآخَرُونَ قِيَامٌ فَلَمَّا رَفَعُوا رُءُوسَهُمْ سَجَدَ الْآخَرُونَ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ وادی نخلہ میں تھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو نماز ظہر پڑھائی مشرکین نے مسلمانوں پر حملہ کرنے کا ارادہ کیا اور کہنے لگے کہ انہیں چھوڑ دو اس نماز کے بعد یہ ایک اور نماز پڑھیں جوان کے نزدیک ان کی اولاد سے بھی زیادہ عزیز ہے حضرت جبرائیل نے نازل ہو کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس سے مطلع کیا چنانچہ اس مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں دو صفوں میں تقسیم کردیا اور خود سب سے آگے کھڑے ہو گئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تکبیر کہی ہم نے بھی آپ کے ساتھ تکبیر کہی پھر رکوع کیا اور ہم سب نے بھی آپ کے ساتھ رکوع کیا پھر جب رکوع سے سر اٹھا کر سجدے میں گئے تو آپ کےساتھ صرف پہلی صف والوں نے سجدہ کیا جبکہ دوسری صف دشمن کے سامنے کھڑی رہی جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور پہلی صف کے لوگ کھڑے ہوئے تو پچھلی صف والوں نے سجدہ کیا اس کے بعد پچھلی صف کے لوگ آگئے اور اگلی صف کے لوگ پیچھے آگئے پھر ہم سب نے اکٹھے ہی رکوع کیا اور جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ کیا تو اب پہلی صف والوں نے بھی سجدہ کیا اور جب وہ لوگ بیٹھ گئے تو پچھلی صف والوں نے بھی سجدہ کیا۔

فَنَزَلَ جِبْرِيلُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ ← دَعُوهُمْ فَإِنَّ لَهُمْ صَلَاةً بَعْدَ هَذِهِ هِيَ أَحَبُّ إِلَيْهِمْ مِنْ أَبْنَائِهِمْ ← فَهَمَّ بِهِمْ الْمُشْرِكُونَ ← كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ فِي نَخْلٍ فَصَلَّى بِأَصْحَابِهِ صَلَاةَ الظُّهْرِ ← جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← هِشَامٍ ← کَثِیْرُ بْنُ ھِشَامِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 15083

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 15084

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا أَبِي عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ قَالَ دَخَلْتُ عَلَى جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ أَخِي بَنِي سَلِمَةَ وَمَعِي مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ حَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ وَأَبُو الْأَسْبَاطِ مَوْلًى لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ كَانَ يَتْبَعُ الْعِلْمَ قَالَ فَسَأَلْنَاهُ عَنْ الْوُضُوءِ مِمَّا مَسَّتْ النَّارُ مِنْ الطَّعَامِ فَقَالَ خَرَجْتُ أُرِيدُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَسْجِدِهِ فَلَمْ أَجِدْهُ فَسَأَلْتُ عَنْهُ فَقِيلَ لِي هُوَ بِالْأَسْوَافِ عِنْدَ بَنَاتِ سَعْدِ بْنِ الرَّبِيعِ أَخِي بَلْحَارِثِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ يَقْسِمُ بَيْنَهُنَّ مِيرَاثَهُنَّ مِنْ أَبِيهِنَّ قَالَ وَكُنَّ أَوَّلَ نِسْوَةٍ وَرِثْنَ مِنْ أَبِيهِنَّ فِي الْإِسْلَامِ قَالَ فَخَرَجْتُ حَتَّى جِئْتُ الْأَسْوَافَ وَهُوَ مَالُ سَعْدِ بْنِ الرَّبِيعِ فَوَجَدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صُورٍ مِنْ نَخْلٍ قَدْ رُشَّ لَهُ فَهُوَ فِيهِ قَالَ فَأُتِيَ بِغَدَاءٍ مِنْ خُبْزٍ وَلَحْمٍ قَدْ صُنِعَ لَهُ فَأَكَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَكَلَ الْقَوْمُ مَعَهُ قَالَ ثُمَّ بَالَ ثُمَّ تَوَضَّأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلظُّهْرِ وَتَوَضَّأَ الْقَوْمُ مَعَهُ قَالَ ثُمَّ صَلَّى بِهِمْ الظُّهْرَ قَالَ ثُمَّ قَعَدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ مَا بَقِيَ مِنْ قِسْمَتِهِ لَهُنَّ حَتَّى حَضَرَتْ الصَّلَاةُ وَفَرَغَ مِنْ أَمْرِهِ مِنْهُنَّ قَالَ فَرَدُّوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَضْلَ غَدَائِهِ مِنْ الْخُبْزِ وَاللَّحْمِ فَأَكَلَ وَأَكَلَ الْقَوْمُ مَعَهُ ثُمَّ نَهَضَ فَصَلَّى بِنَا الْعَصْرَ وَمَا مَسَّ مَاءً وَلَا أَحَدٌ مِنْ الْقَوْمِ

عبداللہ بن محمد کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت جابر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور میرے ساتھ محمد بن عمرو اور اسباط ھی تھے جو حصول علم کے لئے نکلے تھے ہم نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے آگ پر پکی ہوئی چیز کھانے کے بعد وضو کا مسئلہ پوچھا انہوں نے فرمایا کہ ایک مرتبہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہونے کے لئے مسجد نبوی پہنچا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم وہاں نہ ملے میں نے دریافت کیا تو بتایا گیا کہ وہ مقام اسوف میں سعد بن ربیع کی بچیوں کے پاس گئے ہیں تاکہ ان کے درمیان ان کے والد کی وراثت تقسیم کریں یہ پہلی خواتین تھیں جنہیں زمانہ اسلام میں اپنے والد کی میراث ملی۔ میں وہاں سے نکل کر مقام اسوف میں پہنچا جہاں سعد بن ربیع کا مال تھا میں نے دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے کھجور کا ایک بستر پر پانی چھڑک کر اسے نرم کر دیا گیا اور آپ اس پر تشریف فرما ہیں اتنی دیر میں کھانا لایا گیا جس میں روٹی اور گوشت تھا جو خاص طور پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے تیار کیا گیا تھا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے تناول فرمایا اور دوسرے لوگوں نے بھی کھایا پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پیشاب کر کے نماز ظہر کے لئے وضو کیا لوگوں نے بھی وضو کیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں نماز ظہر ادا کروائی نماز سے فراغت ہونے کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم دوبارہ بیٹھ گئے اور تقسیم وراثت کا جو کام بچ گیا تھا اسے مکمل کرلیا یہاں تک کہ نماز کا وقت آگیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان کے معاملے سے فارغ ہو گئے پھر ان لوگوں نے بھی کھایا پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اٹھ کر ہمیں نماز پڑھائی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی کو ہاتھ لگایا اور نہ ہی لوگوں میں سے کسی نے اسے ہاتھ لگایا۔

عبد الله بن محمد بن عقيل بن أبي طالب ← ابْنِ إِسْحَاقَ، ← أَبِي ← يَعْقُوبُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 15084

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 15085

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا أَبِي عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنِي بَشِيرُ بْنُ أَبِي بَشِيرٍ مَوْلَى آلِ الزُّبَيْرِ قَالَ سَمِعْتُ الْحَسَنَ بْنَ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ يَسْأَلُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِىَّ أَخَا بَنِي سَلِمَةَ عَنْ الْغُسْلِ مِنْ الْجَنَابَةِ فَقَالَ جَابِرٌ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَغْرِفُ عَلَى رَأْسِهِ ثَلَاثَ غَرَفَاتٍ بِيَدَيْهِ ثُمَّ يُفِيضُ الْمَاءَ عَلَى جِلْدِهِ قَالَ فَقَالَ لَهُ الْحَسَنُ إِنَّ شَعْرَ رَأْسِي كَثِيرٌ وَأَخْشَى أَنْ لَا تَغْسِلَهُ ثَلَاثُ غَرَفَاتٍ بِيَدَيَّ فَقَالَ لَهُ جَابِرٌ رَأْسُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ أَكْثَرَ وَأَطْيَبَ مِنْ رَأْسِكَ

ایک مرتبہ حسن بن محمد نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے غسل جنابت کے متعلق پوچھا انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تین مرتبہ اپنے ہاتھوں سے اپنے سر پر پانی بہاتے تھے پھر باقی جسم پر پانی ڈالتے تھے وہ کہنے لگے کہ میرے تو بال بہت لمبے ہیں؟ حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سر مبارک میں تعداد کے اعتبار سے بھی تم سے زیادہ بال تھے اور مہک کے اعتبار سے بھی سب سے زیادہ تھے۔

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 15085

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 15086

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا أَبِي عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ الْمِصْرِيُّ عَنْ خَالِدِ بْنِ أَبِي عِمْرَانَ عَنْ أَبِي عَيَّاشٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَبَحَ يَوْمَ الْعِيدِ كَبْشَيْنِ ثُمَّ قَالَ حِينَ وَجَّهَهُمَا إِنِّي وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضَ حَنِيفًا مُسْلِمًا وَمَا أَنَا مِنْ الْمُشْرِكِينَ إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ لَا شَرِيكَ لَهُ وَبِذَلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِينَ بِسْمِ اللَّهِ اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُمَّ مِنْكَ وَلَكَ عَنْ مُحَمَّدٍ وَأُمَّتِهِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بقر عید کے دن دو مینڈھے ذبح کئے جب انہیں قبلہ رخ کرنے لگے تو فرمایا میں نے اپنا چہرہ اس ذات کی طرف متوجہ کردیا جس نے آسمان و زمین کو پیدا کیا سب سے کٹ کر اور مسلمانوں ہو کر میں مشرکین میں سے نہیں ہوں میری نماز قربانی زندگی اور موت سب اللہ رب العالمین کے لئے جس کا کوئی شریک نہیں اور مجھے اسی کا حکم دیا گیا ہے اور میں سب سے پہلا مسلمان ، بسم اللہ ، اللہ اکبر اے اللہ یہ تیری جانب سے ہے اور تیرے لئے اسے محمد اور ان کی امت کی طرف سے قبول فرما۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الأَنْصَارِيِّ ← أَبِي عَيَّاشٍ، ← خَالِدِ بْنِ أَبِي عِمْرَانَ، ← يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ الْمِصْرِيُّ، ← ابْنِ إِسْحَاقَ، ← أَبِي ← يَعْقُوبُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 15086

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 15087

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ قَالَ وَسَمِعْتُهُ يَذْكُرُ يَعْنِي أَبَاهُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عِكْرِمَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عِكْرِمَةَ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ وَعَنْ حَسَنِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ أَنَّهُمَا دَخَلَا عَلَى جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ السَّلَمِيِّ وَهُوَ يُصَلِّي مُلْتَحِفًا وَرِدَاؤُهُ عَلَى جَدْرِ مَسْجِدِهِ فَصَلَّى ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَيْنَا فَقَالَ لَنَا إِنَّمَا صَلَّيْتُ لِتَرَيَانِي إِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي هَكَذَا

ابراہیم بن عبدالرحمن اور حسن بن محمد کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم لوگ حضرت جابر رضی اللہ عنہ کے یہاں گئے وہ ایک کپڑے میں لپٹ کر نماز پڑھ رہے تھے حالانکہ دوسری چادر بھی مسجد کے قریب دیوار پر تھی جب انہوں نے سلام پھیرا تو انہوں نے فرمایا کہ میں نے یہ اس لئے کہا ہے کہ تم دونوں دیکھ لو میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس طرح کرتے ہوئے دیکھا ہے۔

إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عِكْرِمَةَ ← محمد بن عكرمة ← يذكر يعني أباه ← يَعْقُوبُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 15087

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 15088

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ قَالَ سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عِكْرِمَةَ حَدَّثَنِي رَجُلٌ مِنْ جُهَيْنَةَ وَنَحْنُ مَعَ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جَابِرٍ عَنْ أَبِيهِ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَيُّمَا امْرِئٍ مِنْ النَّاسِ حَلَفَ عِنْدَ مِنْبَرِي هَذَا عَلَى يَمِينٍ كَاذِبَةٍ يَسْتَحِقُّ بِهَا حَقَّ مُسْلِمٍ أَدْخَلَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ النَّارَ وَإِنْ عَلَى سِوَاكٍ أَخْضَرَ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص میرے اس منبر کے پاس جھوٹی قسم کھا کر کسی مسلمان کا حق مارے اللہ اسے جہنم میں ضرور داخل کرے گا اگرچہ ایک تازہ مسواک ہی کی وجہ سے ہو۔

أبيه جابر بن عبد الله ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جَابِرٍ، ← رَجُلٌ مِنْ جُهَيْنَةَ وَنَحْنُ مَعَ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← محمد بن عكرمة ← أَبِي ← يَعْقُوبُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 15088

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 15089

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا أَبِي عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنِي عَاصِمُ بْنُ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِذَا ذُكِرَ أَصْحَابُ أُحُدٍ أَمَا وَاللَّهِ لَوَدِدْتُ أَنِّي غُودِرْتُ مَعَ أَصْحَابِ نُحْصِ الْجَبَلِ يَعْنِي سَفْحَ الْجَبَلِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب بھی اصحاب احد کا ذکر فرماتے تو میں انہیں یہ فرماتے ہوئے سنتا کہ کاش پہاڑ کی چوٹی والوں کے ساتھ دھوکے کے حملے میں شہید ہونے والوں میں میں بھی شامل ہوتا۔

«إِذَا ← رَسُولِ اللَّهِ ← جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ← عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ ← ابْنِ إِسْحَاقَ، ← أَبِي ← يَعْقُوبُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 15089

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 15090

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنِي وَهْبُ بْنُ كَيْسَانَ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ خَرَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ ذَاتِ الرِّقَاعِ مُرْتَحِلًا عَلَى جَمَلٍ لِي ضَعِيفٍ فَلَمَّا قَفَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَعَلَتْ الرِّفَاقُ تَمْضِي وَجَعَلْتُ أَتَخَلَّفُ حَتَّى أَدْرَكَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَا لَكَ يَا جَابِرُ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَبْطَأَ بِي جَمَلِي هَذَا قَالَ فَأَنِخْهُ وَأَنَاخَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ أَعْطِنِي هَذِهِ الْعَصَا مِنْ يَدِكَ أَوْ قَالَ اقْطَعْ لِي عَصًا مِنْ شَجَرَةٍ قَالَ فَفَعَلْتُ قَالَ فَأَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَخَسَهُ بِهَا نَخَسَاتٍ ثُمَّ قَالَ ارْكَبْ فَرَكِبْتُ فَخَرَجَ وَالَّذِي بَعَثَهُ بِالْحَقِّ يُوَاهِقُ نَاقَتَهُ مُوَاهَقَةً قَالَ وَتَحَدَّثَ مَعِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَتَبِيعُنِي جَمَلَكَ هَذَا يَا جَابِرُ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ بَلْ أَهَبُهُ لَكَ قَالَ لَا وَلَكِنْ بِعْنِيهِ قَالَ قُلْتُ فَسُمْنِي بِهِ قَالَ قَدْ قُلْتُ أَخَذْتُهُ بِدِرْهَمٍ قَالَ قُلْتُ لَا إِذًا يَغْبِنُنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَبِدِرْهَمَيْنِ قَالَ قُلْتُ لَا قَالَ فَلَمْ يَزَلْ يَرْفَعُ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى بَلَغَ الْأُوقِيَّةَ قَالَ قُلْتُ فَقَدْ رَضِيتُ قَالَ قَدْ رَضِيتَ قُلْتُ نَعَمْ قُلْتُ هُوَ لَكَ قَالَ قَدْ أَخَذْتُهُ قَالَ ثُمَّ قَالَ لِي يَا جَابِرُ هَلْ تَزَوَّجْتَ بَعْدُ قَالَ قُلْتُ نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ أَثَيِّبًا أَمْ بِكْرًا قَالَ قُلْتُ بَلْ ثَيِّبًا قَالَ أَفَلَا جَارِيَةً تُلَاعِبُهَا وَتُلَاعِبُكَ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنْ أَبِي أُصِيبَ يَوْمَ أُحُدٍ وَتَرَكَ بَنَاتٍ لَهُ سَبْعًا فَنَكَحْتُ امْرَأَةً جَامِعَةً تَجْمَعُ رُءُوسَهُنَّ وَتَقُومُ عَلَيْهِنَّ قَالَ أَصَبْتَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ قَالَ أَمَا إِنَّا لَوْ قَدْ جِئْنَا صِرَارًا أَمَرْنَا بِجَزُورٍ فَنُحِرَتْ وَأَقَمْنَا عَلَيْهَا يَوْمَنَا ذَلِكَ وَسَمِعَتْ بِنَا فَنَفَضَتْ نَمَارِقَهَا قَالَ قُلْتُ وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا لَنَا مِنْ نَمَارِقَ قَالَ إِنَّهَا سَتَكُونُ فَإِذَا أَنْتَ قَدِمْتَ فَاعْمَلْ عَمَلًا كَيِّسًا قَالَ فَلَمَّا جِئْنَا صِرَارًا أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِجَزُورٍ فَنُحِرَتْ فَأَقَمْنَا عَلَيْهَا ذَلِكَ الْيَوْمَ فَلَمَّا أَمْسَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ وَدَخَلْنَا قَالَ فَأَخْبَرْتُ الْمَرْأَةَ الْحَدِيثَ وَمَا قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ فَدُونَكَ فَسَمْعًا وَطَاعَةً قَالَ فَلَمَّا أَصْبَحْتُ أَخَذْتُ بِرَأْسِ الْجَمَلِ فَأَقْبَلْتُ بِهِ حَتَّى أَنَخْتُهُ عَلَى بَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ جَلَسْتُ فِي الْمَسْجِدِ قَرِيبًا مِنْهُ قَالَ وَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَأَى الْجَمَلَ فَقَالَ مَا هَذَا قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا جَمَلٌ جَاءَ بِهِ جَابِرٌ قَالَ فَأَيْنَ جَابِرٌ فَدُعِيتُ لَهُ قَالَ تَعَالَ أَيْ يَا ابْنَ أَخِي خُذْ بِرَأْسِ جَمَلِكَ فَهُوَ لَكَ قَالَ فَدَعَا بِلَالًا فَقَالَ اذْهَبْ بِجَابِرٍ فَأَعْطِهِ أُوقِيَّةً فَذَهَبْتُ مَعَهُ فَأَعْطَانِي أُوقِيَّةً وَزَادَنِي شَيْئًا يَسِيرًا قَالَ فَوَاللَّهِ مَازَالَ يَنْمِي عِنْدَنَا وَنَرَى مَكَانَهُ مِنْ بَيْتِنَا حَتَّى أُصِيبَ أَمْسِ فِيمَا أُصِيبَ النَّاسُ يَعْنِي يَوْمَ الْحَرَّةِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ غزوہ ذات الرقاع میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ اپنے ایک کمزور اونٹ پر سوار ہو کر نکلا واپسی پر سواریاں چلتی گئی اور میں پیچھے رہ گیا یہاں تک کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس آئے اور فرمایا جابر رضی اللہ عنہ تمہیں کیا ہوا میں نے عرض کیا یا رسول اللہ میر اونٹ سست ہوگیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے بٹھادو پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خود ہی اسے بٹھایا اور فرمایا اپنے ہاتھ کی لاٹھی مجھے دیدو اس درخت سے توڑ کر دیدو میں نے ایسا ہی کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے چند مرتبہ وہ چبھو کر فرمایا اب اس پر سوار ہو جا چنانچہ میں سوار ہو گیا اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے وہ اب دوسری اونٹنیوں سے مقابلہ کر رہا تھا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے باتیں کرتے ہوئے فرمایا جابر رضی اللہ عنہ کیا تم اپنا اونٹ مجھے بیچتے ہو؟ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ میں آپ کو ہبہ کرتا ہوں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں تم بیچ دو میں نے عرض کیا پھر مجھے اس کی قیمت بتا دیجیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں اسے ایک درہم میں لیتا ہوں میں نے کہا پھر نہیں یہ تو نقصان کا سودا ہوگا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دو درہم کہا لیکن میں نے پھر بھی انکار کر دیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس طرح بڑھاتے ہوئے ایک اوقیہ تک پہنچ گئے تب میں نے کہا میں راضی ہوں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا راضی ہو میں نے کہا جی ہاں یہ اونٹ آپ کا ہوا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے لے لیا۔ تھوڑی دیر بعد مجھ سے پوچھا کہ جابر رضی اللہ عنہ کیا تم نے شادی کر لی میں نے عرض کیا جی ہاں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کنواری سے یا شوہردیدہ سے میں نے کہا شوہر دیدہ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کنواری سے کیوں نہیں کہ تم اس کے ساتھ کھیلتے وہ تمہارے ساتھ کھیلتی میں نے عرض کیا یا رسول اللہ غزوہ احد میں میرے والد صاحب شہید ہو گئے اور سات بیٹیاں چھوڑ گئے تھے میں نے ایسی عورت سے نکاح کیا جو ان کی دیکھ بھال کر سکے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم نے اچھا کیا پھر فرمایا کہ اگر ہم کسی بلند ٹیلے پر پہنچ گئے تو اونٹ ذبح کریں گے اور ایک دن یہیں قیام کریں گے خواتین کو ہماری آمد کا علم ہو جائے تو وہ بستر جھاڑ لیں گے میں نے عرض کیا یا رسول اللہ واللہ ہمارے پاس تو ایسی چادریں نہیں ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عنقریب ہوں گی اور جب تم گھر پہنچ جاؤ تو اپنی بیوی کے قریب جا سکتے ہو چنانچہ ایک بلند ٹیلے پر پہنچ کر ایسا ہی ہوا اور شام کو ہم مدینہ منورہ میں داخل ہو گئے۔ میں نے اپنی بیوی کو یہ سارا واقعہ بتایا اور یہ کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے کیا فرمایا ہے اس نے کہا بہت اچھا سر آنکھوں پر چنانچہ صبح ہوئی تو میں نے اونٹ کا سرا پکڑا اور اسے لا کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دروازے پر بٹھادیا اور خود قریب جا کر مسجد میں بیٹھ گیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے باہر نکلے تو دیکھا تو لوگوں سے پوچھا کہ یہ اونٹ کیسا ہے ان لوگوں نے بتایا یا رسول اللہ جابر رضی اللہ عنہ لے کر آیا ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جابر رضی اللہ عنہ خود کہاں ہے مجھے بلایا گیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بھتیجے یہ اونٹ تمہارا ہے تم لے جاؤ اور حضرت بلال کو بلا کر حکم دیا کہ جابر رضی اللہ عنہ کو ساتھ لے جاؤ اور ایک اوقیہ چاندی دیدد چنانچہ میں ان کے ساتھ چلا گیا انہوں نے مجھے ایک اوقیہ اور اس میں بھی کچھ جھکتا ہوا دیدیا واللہ وہ ہمیشہ ہمارے پاس رہا حتی کہ حرہ کے دن لوگ اسے لے گئے۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ، ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبِي ← يَعْقُوبُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 15090

chevron_left Previous
1…114115116…232
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    0. Chapter
2. Book
    0. Chapter
3. Book
    0. Chapter
4. Book
    0. Chapter
5. Book
    0. Chapter
6. Book
    0. Chapter
7. Book
    0. Chapter
8. Book
    0. Chapter
9. Book
    0. Chapter