Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Monday, Jumada I 9, 1448 AH · Oct 19, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند امام احمد بن حنبل

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble

by Musnad Imam Bin Hanble

28,221 Hadith18 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 15067

حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ حَدَّثَنَا جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ مَعْنَاهُ قَالَ فَسَمِعْتُ خَشْفًا أَمَامِي يَعْنِي صَوْتًا

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میں نے خواب میں اپنے آپ کو دیکھا کہ میں جنت میں داخل ہوا تو وہاں مجھے ابوطلحہ کی بیوی رمیصاء نظر آئی پھر میں نے اپنے آگے کسی کے جوتوں کی آہٹ سنی میں نے جبرائیل سے پوچھا کہ یہ کون ہے؟ تو انہوں نے بتایا کہ یہ بلال ہیں پھر میں نے ایک سفید رنگ کا محل دیکھا جس کے صحن میں ایک لونڈی پھر رہی تھی میں نے پوچھا کہ یہ محل کس کاہے ؟ انہوں نے بتایا کہ یہ محل عمربن خطاب کاہے پہلے میں نے سوچا کہ اس میں داخل ہو کر اسے دیکھوں لیکن پھر مجھے تمہاری غیرت یاد آ گئی حضرت عمر کہنے لگے یا رسول اللہ میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں کیا میں آپ پر غیرت کھاؤں گا۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، ← أَبُو سَعِيدٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 15067

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 15068

حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ حَدَّثَنَا أَبُو عَقِيلٍ يَعْنِي بَشِيرَ بْنَ عُقْبَةَ الدَّوْرَقِيَّ حَدَّثَنَا أَبُو الْمُتَوَكِّلِ النَّاجِيُّ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ سَافَرْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ وَأَحْسِبُهُ قَالَ غَازِيًا فَلَمَّا أَقْبَلْنَا قَافِلِينَ قَالَ مَنْ أَحَبَّ أَنْ يَتَعَجَّلَ فَلْيَتَعَجَّلْ وَأَنَا عَلَى جَمَلٍ أَرْمَكَ لَيْسَ فِي الْجُنْدِ مِثْلُهُ فَانْدَفَعْتُ عَلَيْهِ فَإِذَا النَّاسُ خَلْفِي فَبَيْنَا أَنَا كَذَلِكَ إِذْ قَامَ جَمَلِي فَجَعَلَ لَا يَتَحَرَّكُ فَإِذَا صَوْتُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَا شَأْنُ جَمَلِكَ يَا جَابِرُ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَا أَدْرِي مَا عَرَضَ لَهُ قَالَ اسْتَمْسِكْ وَأَعْطِنِي السَّوْطَ فَأَعْطَيْتُهُ السَّوْطَ فَضَرَبَهُ ضَرْبَةً فَذَهَبَ بِيَ الْبَعِيرُ كُلَّ مَذْهَبٍ فَقَالَ لِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ ذَلِكَ يَا جَابِرُ أَتَبِيعُنِي جَمَلَكَ قُلْتُ نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ أَقْدِمْ الْمَدِينَةَ فَقَدِمَ الْمَدِينَةَ فَدَخَلَ فِي طَوَائِفَ مِنْ أَصْحَابِهِ الْمَسْجِدَ فَعَقَلْتُ بَعِيرِي فَقُلْتُ هَذَا جَمَلُكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَخَرَجَ فَجَعَلَ يُطِيفُ بِهِ وَيَقُولُ نِعْمَ الْجَمَلُ جَمَلِي فَقَالَ يَا فُلَانُ انْطَلِقْ فَائْتِنِي بِأَوَاقٍ مِنْ ذَهَبٍ فَقَالَ أَعْطِهَا جَابِرًا فَقَبَضْتُهَا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَوْفَيْتَ الثَّمَنَ قُلْتُ نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ فَلَكَ الثَّمَنُ وَلَكَ الْجَمَلُ أَوْ لَكَ الْجَمَلُ وَلَكَ الثَّمَنُ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کسی سفر جہاد میں شریک تھا واپسی پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص جلدی جانا چاہتا ہے وہ چلاجائے میں ایک تیز رفتار اونٹ پر سوار تھا پورے لشکر میں اس جیسا اونٹ نہیں تھا میں نے اسے ڈورایا توسب لوگ مجھ سے پیچھے رہ گئے اچانک چلتے چلتے میر اونٹ ایک جگہ کھڑا ہوگیا اب وہ حرکت بھی نہیں کر رہا تھا مجھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز آئی کہ جابر رضی اللہ عنہ تمہارے اونٹ کو کیا ہوا میں نے عرض کیا یا رسول اللہ مجھے سمجھ نہیں آ رہا کہ اسے کیا ہوا ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے پکڑ کر رکھو اور مجھے کوڑا دو اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ایک ضرب لگائی وہ مجھے سب سے آگے لے گیا اس موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا جابر رضی اللہ عنہ کیا تم اپنا اونٹ مجھے بیچتے ہو؟ میں نے عرض کیا جی یا رسول اللہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مدینہ پہنچ کر۔ مدینہ پہنچ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کے ساتھ مسجد نبوی میں داخل ہوئے میں نے اپنے اونٹ کو باندھا اور عرض کیا یا رسول اللہ یہ رہا آپ کا اونٹ نبی صلی اللہ علیہ وسلم باہر نکل کر اس کے گرد چکر لگانے اور فرمانے لگے میر اونٹ کتناخوبصورت ہے پھر فرمایا اے فلاں جا کر چند اوقیہ سونا لے آؤ اور جابر رضی اللہ عنہ کودیدو جب میں نے قیمت وصول کرلی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہیں قیمت پوری پوری مل گئی۔ میں نے عرض کیا جی یا رسول اللہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دو مرتبہ یہ قیمت بھی تمہاری ہوئی اور اونٹ بھی تمہارا ہوا۔

مَنْ أَحَبَّ ← غَازِيًا فَلَمَّا أَقْبَلْنَا قَافِلِينَ ← سَافَرْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ وَأَحْسِبُهُ ← جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← أَبُو الْمُتَوَکِّلِ النَّاجِيُّ ← أَبُو عَقِيلٍ يَعْنِي بَشِيرَ بْنَ عُقْبَةَ الدَّوْرَقِيَّ ← أَبُو سَعِيدٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 15068

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 15069

حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ حَدَّثَنَا أَبُو عَقِيلٍ حَدَّثَنَا أَبُو الْمُتَوَكِّلِ قَالَ أَتَيْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ فَقُلْتُ حَدِّثْنِي بِحَدِيثٍ شَهِدْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ تُوُفِّيَ وَالِدِي وَتَرَكَ عَلَيْهِ عِشْرِينَ وَسْقًا تَمْرًا دَيْنًا وَلَنَا تُمْرَانٌ شَتَّى وَالْعَجْوَةُ لَا يَفِي بِمَا عَلَيْنَا مِنْ الدَّيْنِ فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ فَبَعَثَ إِلَى غَرِيمِي فَأَبَى إِلَّا أَنْ يَأْخُذَ الْعَجْوَةَ كُلَّهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ انْطَلِقْ فَأَعْطِهِ فَانْطَلَقْتُ إِلَى عَرِيشٍ لَنَا أَنَا وَصَاحِبَةٌ لِي فَصَرَمْنَا تَمْرَنَا وَلَنَا عَنْزٌ نُطْعِمُهَا مِنْ الْحَشَفِ قَدْ سَمُنَتْ إِذَا أَقْبَلَ رَجُلَانِ إِلَيْنَا إِذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعُمَرُ فَقُلْتُ مَرْحَبًا يَا رَسُولَ اللَّهِ مَرْحَبًا يَا عُمَرُ فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا جَابِرُ انْطَلِقْ بِنَا حَتَّى نَطُوفَ فِي نَخْلِكَ هَذَا فَقُلْتُ نَعَمْ فَطُفْنَا بِهَا وَأَمَرْتُ بِالْعَنْزِ فَذُبِحَتْ ثُمَّ جِئْنَا بِوِسَادَةٍ فَتَوَسَّدَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِوِسَادَةٍ مِنْ شَعْرٍ حَشْوُهَا لِيفٌ فَأَمَّا عُمَرُ فَمَا وَجَدْتُ لَهُ مِنْ وِسَادَةٍ ثُمَّ جِئْنَا بِمَائِدَةٍ لَنَا عَلَيْهَا رُطَبٌ وَتَمْرٌ وَلَحْمٌ فَقَدَّمْنَاهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعُمَرَ فَأَكَلَا وَكُنْتُ أَنَا رَجُلًا مِنْ نِشْوِيِّ الْحَيَاءُ فَلَمَّا ذَهَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَضُ قَالَتْ صَاحِبَتِي يَا رَسُولَ اللَّهِ دَعَوَاتٌ مِنْكَ قَالَ نَعَمْ فَبَارَكَ اللَّهُ لَكُمْ قَالَ نَعَمْ فَبَارَكَ اللَّهُ لَكُمْ ثُمَّ بَعَثْتُ بَعْدَ ذَلِكَ إِلَى غُرَمَائِي فَجَاءُوا بِأَحْمِرَةٍ وَجَوَالِيقَ وَقَدْ وَطَّنْتُ نَفْسِي أَنْ أَشْتَرِيَ لَهُمْ مِنْ الْعَجْوَةِ أُوفِيهِمُ الْعَجْوَةَ الَّذِي عَلَى أَبِي فَأَوْفَيْتُهُمْ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ عِشْرِينَ وَسْقًا مِنْ الْعَجْوَةِ وَفَضَلَ فَضْلٌ حَسَنٌ فَانْطَلَقْتُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُبَشِّرُهُ بِمَا سَاقَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَيَّ فَلَمَّا أَخْبَرْتُهُ قَالَ اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ فَقَالَ لِعُمَرَ إِنَّ جَابِرًا قَدْ أَوْفَى غَرِيمَهُ فَجَعَلَ عُمَرُ يَحْمَدُ اللَّهَ

ابومتوکل کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت جابر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان سے عرض کیا کہ مجھے کوئی ایسی حدیث سنائی جس کا آپ نے مشاہدہ کیا ہو انہوں نے فرمایا کہ میرے والد صاحب کا انتقال ہو گیا ان پر کچھ وسق کھجوروں کا قرض تھا ہمارے پاس مختلف قسم کی چند کھجوریں اور کچھ عجوہ تھی جس سے ہمارا قرض ادا نہیں ہوسکتا تھا چنانچہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر یہ بات ذکر کردی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے قرض خواہ کے پاس بھیجا لیکن اس نے سوائے عجوہ کے کوئی دوسری کھجور لینے سے انکار کردیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جا کر اسے عجوہ ہی دیدو چنانچہ میں اپنے خیمے میں پہنچا اور کھجوروں کو کاٹنا شروع کردیا ہمارے پاس ایک بکری بھی تھی جسے ہم گھاس پھوس کھلایا کرتے تھے اور وہ خوب صحت مند ہوگئی تھی ۔ اچانک ہم نے دیکھا کہ دو آدمی چلے آرہے ہیں قریب آئے تو دیکھا کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت عمر تھے میں نے ان دونوں کو خوش آمدید کہا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جابر رضی اللہ عنہ ہمارے ساتھ چلو ہم تمہارے باغ کا ایک چکر لگانا چاہتے ہیں میں نے عرض کیا بہت بہتر چنانچہ ہم نے باغ کا ایک چکر لگایا ادھر میں نے اپنی بیوی کو حکم دیا اور اس نے بکری کا بچہ ذبح کرلیا پھر ہم ایک تکیہ لائے جس سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ٹیک لگائی وہ بالوں کا بنا ہوا تھا اور اس میں کھجور کی چھال بھری ہوئی تھی لیکن حضرت عمر کے لئے دوسرا تکیہ نہ مل سکا۔ تھوڑی دیر بعد میں نے دسترخوان بچھایا اور اس پر دو طرح کھجوریں اور گوشت لا کر رکھا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت عمر کے سامنے پیش کیا ان دونوں نے کھانا تناول فرمایا مجھ پر فطری طور حیاء کا غلبہ تھا جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم اٹھ کر جانے لگے تو میری بیوی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے دعاکی درخواست کی چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے لئے برکت کی دعاکی اس کے بعد میں نے اپنے قرض خواہوں کو بلا بھیجا وہ درانتیاں اور قینچیاں لے کر آگئے لیکن اس ذات کی قسم جس کی دست قدرت میں میری جان ہے میں نے انہیں اس باغ میں بیس وسق عجوہ کھجور ادا کردی اور اس کے باوجود بھی وہ بڑی مقدار میں بچ گئی میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ خوش خبری سنانے چلا گیا کہ اللہ نے مجھ پر کتنی مہربانی فرمائی ہے جب میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ خوش خبری سنائی تو آپ نے دو مرتبہ فرمایا اللھم لک الحمد پھر حضرت عمر سے فرمایا کہ جابر رضی اللہ عنہ نے اپنے قرض خواہوں کا ساراقرض اتاردیا حضرت عمر بھی اللہ کا شکر کرنے لگے۔

بِحَدِيثٍ شَهِدْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ ← أَتَيْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ فَقُلْتُ ← أَبُو الْمُتَوَكِّلِ، ← أَبُو عَقِيلٍ ← أَبُو سَعِيدٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 15069

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 15070

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ كَانَتْ لَهُ أَرْضٌ فَلْيَزْرَعْهَا أَوْ لِيَمْنَحْهَا أَخَاهُ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جس شخص کے پاس کوئی زمین ہو اسے چاہئے کہ وہ خود اس میں کھیتی باڑی کرے یا اپنے بھائی کو ہدیہ کے طور پر دے دے۔

جَابِرٍ ← أَبِي سُفْيَانَ ← الْاَعْمَشِ ← سُفْيَانَ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْوَلِيدِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 15070

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 15071

حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ عَنْ مَالِكٍ عَنْ جَعْفَرٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَابِرٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَمَلَ مِنْ الْحَجَرِ إِلَى الْحَجَرِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حجر اسودوالے کونے سے حجراسود والے کونے تک رمل حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص ایک دن میں حالت احرام میں تلبیہ کہتا ہوا گزرے یہاں تک کہ سورج غروب ہوجائے تو وہ اس کے گناہوں کو لے کر غروب ہوگا اور وہ ایساصاف ہو جائے گا جیسے اس کی ماں نے اسے آج ہی جنم دیا ہو۔ کیا۔

جَابِرٍ ← أَبِيهِ ← جَعْفَرٌ، ← مَالِكٍ، ← حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 15071

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 15072

حَدَّثَنَا حَمَّادٌ الْخَيَّاطُ حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ عُمَرَ عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ أَضْحَى يَوْمًا مُحْرِمًا مُلَبِّيًا حَتَّى غَرَبَتْ الشَّمْسُ غَرَبَتْ بِذُنُوبِهِ كَمَا وَلَدَتْهُ أُمُّهُ

حضرت جابر سے مروی ہے کہ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا جو شخص ایک دن حالت احرام میں تلبیہ کہتا ہوا گزرے ، یہاں تک کہ سورج غروب ہو جائے تو وہ اس کے گناہوں کو لے کر غروب ہو گا اور وہ ایسا صاف ہو جائے گا جیسے اس کی ماں نے اسے آج ہی جنم دیا ہو۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ ← عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ ← عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ ← حَمَّادٌ الْخَيَّاطُ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 15072

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 15073

حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ يُوسُفَ عَنْ حَجَّاجٍ عَنْ عَطَاءٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابَهُ حِينَ قَدِمُوا لَمْ يَزِيدُوا عَلَى طَوَافٍ وَاحِدٍ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ جب مکہ مکرمہ آئے تو انہوں نے ایک سے زیادہ طواف نہیں کئے۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← عَطَاءٍ، ← حجاج، ← سَهْلُ بْنُ يُوسُفَ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 15073

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 15074

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ عَنْ جَابِرٍ أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَرَأَيْتَ إِنْ جَاهَدْتُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ بِنَفْسِي وَمَالِي حَتَّى أُقْتَلَ صَابِرًا مُحْتَسِبًا مُقْبِلًا غَيْرَ مُدْبِرٍ أَأَدْخُلُ الْجَنَّةَ قَالَ نَعَمْ إِلَّا أَنْ تَدَعَ دَيْنًا لَيْسَ عِنْدَكَ وَفَاءٌ لَهُ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا یہ بتائیے کہ اگر میں اپنی جان مال کے ساتھ اللہ کے راستے میں جہاد کروں اور ثابت قدم رہتے ہوئے ثواب کی نیت رکھتے ہوئے آگے بڑھتے ہوئے اور پشت پھیرے بغیر شہید ہوجاؤں تو کیا میں جنت میں داخل ہو جاؤں گا؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں ! جبکہ تم اس حال میں نہ مرو کہ تم پر کچھ قرض ہو اور اسے ادا کرنے کے لئے تمہارے پاس کچھ نہ ہو۔

جَابِرٍ، أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ← زُهَيْرٍ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 15074

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 15075

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ جَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُنِي لَيْسَ بِرَاكِبٍ بَغْلًا وَلَا بِرْذَوْنًا

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم میری عیادت کے لئے تشریف لائے اس وقت وہ خچر پر سوار تھے اور نہ ہی گھوڑے پر۔

جَاءَ النَّبِيُّ يَعُودُنِي لَيْسَ بِرَاكِبٍ بَغْلًا وَلَا بِرْذَوْنًا ← جَابِرٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 15075

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 15076

حَدَّثَنَا أَبُو الْقَاسِمِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ أَخْبَرَنِي إِسْحَاقُ بْنُ حَازِمٍ عَنْ ابْنِ مِقْسَمٍ قَالَ أَبِي يَعْنِي عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ مِقْسَمٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي الْبَحْرِ هُوَ الطَّهُورُ مَاؤُهُ الْحِلُّ مَيْتَتُهُ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سمندر کے متعلق فرمایا کہ اس کا پانی پاکیزہ اور اس کا مردار ( مچھلی ) حلال ہے۔

في البحر هو الطهور ماؤه الحل ميتته ← النَّبِيِّ ← جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← أَبِي يَعْنِي عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ مِقْسَمٍ ← ابْنِ مِقْسَمٍ، ← إِسْحَاقُ بن حازم ← أَبُو الْقَاسِمِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 15076

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 15077

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ سُلَيْمَانَ يَعْنِي التَّيْمِيَّ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ جَابِرٍ قَالَ كُنْتُ أَسِيرُ عَلَى نَاضِحٍ لِي فِي أُخْرَيَاتِ الرِّكَابِ فَضَرَبَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَرْبَةً أَوْ قَالَ فَنَخَسَهُ نَخْسَةً قَالَ فَكَانَ بَعْدَ ذَلِكَ يَكُونُ فِي أَوَّلِ الرِّكَابِ إِلَّا مَا كَفَفْتُهُ قَالَ فَأَتَانِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَتَبِيعُنِيهِ بِكَذَا وَكَذَا وَاللَّهُ يَغْفِرُ لَكَ قَالَ قُلْتُ هُوَ لَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ فَزَادَنِي قَالَ أَتَبِيعُنِيهِ بِكَذَا وَكَذَا وَاللَّهُ يَغْفِرُ لَكَ قَالَ قُلْتُ هُوَ لَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ سُلَيْمَانُ فَلَا أَدْرِي كَمْ مِنْ مَرَّةٍ قَالَ أَتَبِيعُنِيهِ بِكَذَا وَكَذَا ثُمَّ قَالَ هَلْ تَزَوَّجْتَ بَعْدَ أَبِيكَ قَالَ قُلْتُ نَعَمْ قَالَ أَبِكْرًا أَمْ ثَيِّبًا قَالَ قُلْتُ ثَيِّبًا قَالَ أَلَا تَزَوَّجْتَهَا بِكْرًا تُلَاعِبُكَ وَتُلَاعِبُهَا وَتُضَاحِكُكَ وَتُضَاحِكُهَا

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں ایک مرتبہ کسی سفر میں شریک تھا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اچانک چلتے چلتے میرا اونٹ ایک جگہ کھڑا ہو گیا اب وہ حرکت بھی نہیں کر رہا مجھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز سنائی دی کہ جابر رضی اللہ عنہ تمہارے اونٹ کو کیا ہوا ہے میں نے عرض کیا یا رسول اللہ مجھے سمجھ نہیں آرہا کہ اسے کیا ہوا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے پکڑ کر رکھو اور مجھے کوڑادو میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کوڑا دیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ایک ضرب لگائی اور وہ مجھے سب سے آگے لے گیااس موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا جابر رضی اللہ عنہ کیا تم اپنا اونٹ مجھے بیچتے ہو میں نے عرض کیا جی یا رسول اللہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مدینہ پہنچ کر۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم نے اپنے والد صاحب کی شہادت کے بعد شادی کر لی میں نے عرض کیا جی ہاں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کنواری سے یا شوہر دیدہ سے میں نے عرض کیا شوہر دیدہ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کنواری سے کیوں نہیں کی کہ وہ تم سے کھیلتی اور تم اس سے کھیلتے وہ تمہیں ہنساتی اور تم اسے ہنساتے۔

جَابِرٍ ← أَبِي نَضْرَةَ ← سُلَيْمَانَ يَعْنِي التَّيْمِيَّ ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 15077

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 15078

حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ هِشَامٍ عَنْ هِشَامٍ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَكْلِ الْبَصَلِ وَالْكُرَّاثِ فَغَلَبَتْنَا الْحَاجَةُ فَأَكَلْنَا مِنْهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ أَكَلَ مِنْ هَذِهِ الشَّجَرَةِ الْمُنْتِنَةِ فَلَا يَقْرَبَنَّ مَسْجِدَنَا فَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ تَتَأَذَّى مِمَّا يَتَأَذَّى مِنْهُ الْإِنْسُ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پیاز اور لہسن کھانے سے منع فرمایا تھا لیکن جب ہم اپنی ضرورت سے مغلوب ہو گئے تو ہم نے اسے کھالیا اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص اس بدبودار درخت سے کچھ کھائے وہ ہماری مساجد کے قریب نہ آئے کیونکہ جن چیزوں سے انسانوں کواذیت ہوتی ہے فرشتوں کو بھی ہوتی ہے۔

أَكْلِ الْبَصَلِ وَالْكُرَّاثِ فَغَلَبَتْنَا الْحَاجَةُ فَأَكَلْنَا مِنْهُ ← «نَهَى رَسُولُ اللَّهِ ← جَابِرٍ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← هِشَامٍ ← کَثِیْرُ بْنُ ھِشَامِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 15078

chevron_left Previous
1…113114115…232
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    0. Chapter
2. Book
    0. Chapter
3. Book
    0. Chapter
4. Book
    0. Chapter
5. Book
    0. Chapter
6. Book
    0. Chapter
7. Book
    0. Chapter
8. Book
    0. Chapter
9. Book
    0. Chapter