Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Monday, Jumada I 9, 1448 AH · Oct 19, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند امام احمد بن حنبل

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble

by Musnad Imam Bin Hanble

28,221 Hadith18 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 14923

حَدَّثَنَا عَبِيدَةُ حَدَّثَنَا الْأَسْوَدُ بْنُ قَيْسٍ عَنْ نُبَيْحٍ الْعَنَزِيِّ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَى أَحَدَنَا إِذَا جَاءَ مِنْ سَفَرٍ أَنْ يَطْرُقَ أَهْلَهُ قَالَ فَطَرَقْنَاهُنَّ بَعْدُ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں رات کے وقت شہر میں داخل ہو کر بلا اطلاع اپنے گھر جانے منع فرمایا ہے لیکن ان کے بعد ہم اس طرح کرنے لگے۔

فَطَرَقْنَاهُنَّ بَعْدُ ← كَانَ رَسُولُ اللَّهِ يَنْهَى أَحَدَنَا إِذَا جَاءَ مِنْ سَفَرٍ أَنْ يَطْرُقَ أَهْلَهُ ← جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← نُبَيْحٍ الْعَنَزِيِّ ← الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ، ← عُبَيْدَةُ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 14923

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 14924

حَدَّثَنَا عَبِيدَةُ حَدَّثَنَا الْأَسْوَدُ بْنُ قَيْسٍ عَنْ نُبَيْحٍ الْعَنَزِيِّ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ حَدَّثَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ أَرَادَ الْغَزْوَ فَقَالَ يَا مَعْشَرَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ إِنَّ مِنْ إِخْوَانِكُمْ قَوْمًا لَيْسَ لَهُمْ مَالٌ وَلَا عَشِيرَةٌ فَلْيَضُمَّ أَحَدُكُمْ إِلَيْهِ الرَّجُلَيْنِ أَوْ الثَّلَاثَةَ فَمَا لِأَحَدِنَا مِنْ ظَهْرِ جَمَلِهِ إِلَّا عُقْبَةٌ كَعُقْبَةِ أَحَدِهِمْ قَالَ فَضَمَمْتُ اثْنَيْنِ أَوْ ثَلَاثَةً إِلَيَّ وَمَا لِي إِلَّا عُقْبَةٌ كَعُقْبَةِ أَحَدِهِمْ مِنْ جَمَلِي

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی غزوے کا ارادہ کیا تو فرمایا اے گروہ مہاجرین وانصار تمہارے بھائی ایسے لوگ ہیں جن کے پاس کوئی مال ودولت اور قبیلہ نہیں ہے اس لئے تمہیں اپنے ساتھ دو تین آدمیوں کو ملا لینا چاہیے چنانچہ اس موقع پر ہمیں اپنے اونٹ کی پیٹھ پر صرف اتنی دیر ملتی جتنی دیر اس کی باری رہتی میں نے بھی اپنے ساتھ دو یا تین آدمی ملا لئے اور میرا بھی اپنے اونٹ میں باری کا وہی حق تھا جو ان میں سے کسی کا تھا۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ حَدَّثَ ← نُبَيْحٍ الْعَنَزِيِّ ← الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ، ← عُبَيْدَةُ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 14924

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 14925

حَدَّثَنَا عَبِيدَةُ حَدَّثَنَا الْأَسْوَدُ بْنُ قَيْسٍ عَنْ نُبَيْحٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ فَقَدْتُ جَمَلِي لَيْلَةً فَمَرَرْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَشُدُّ لِعَائِشَةَ قَالَ فَقَالَ لِي مَا لَكَ يَا جَابِرُ قَالَ قُلْتُ فَقَدْتُ جَمَلِي أَوْ ذَهَبَ جَمَلِي فِي لَيْلَةٍ ظَلْمَاءَ قَالَ فَقَالَ لِي هَذَا جَمَلُكَ اذْهَبْ فَخُذْهُ قَالَ فَذَهَبْتُ نَحْوًا مِمَّا قَالَ لِي فَلَمْ أَجِدْهُ قَالَ فَرَجَعْتُ إِلَيْهِ فَقُلْتُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ مَا وَجَدْتُهُ قَالَ فَقَالَ لِي هَذَا جَمَلُكَ اذْهَبْ فَخُذْهُ قَالَ فَذَهَبْتُ نَحْوًا مِمَّا قَالَ لِي فَلَمْ أَجِدْهُ قَالَ فَرَجَعْتُ إِلَيْهِ فَقُلْتُ بِأَبِي وَأُمِّي يَا نَبِيَّ اللَّهِ لَا وَاللَّهِ مَا وَجَدْتُهُ قَالَ فَقَالَ لِي عَلَى رِسْلِكَ حَتَّى إِذَا فَرَغَ أَخَذَ بِيَدِي فَانْطَلَقَ بِي حَتَّى أَتَيْنَا الْجَمَلَ فَدَفَعَهُ إِلَيَّ قَالَ هَذَا جَمَلُكَ قَالَ وَقَدْ سَارَ النَّاسُ قَالَ فَبَيْنَمَا أَنَا أَسِيرُ عَلَى جَمَلِي فِي عُقْبَتِي قَالَ وَكَانَ جَمَلًا فِيهِ قِطَافٌ قَالَ قُلْتُ يَا لَهْفَ أُمِّي أَنْ يَكُونَ لِي إِلَّا جَمَلٌ قَطُوفٌ قَالَ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدِي يَسِيرُ قَالَ فَسَمِعَ مَا قُلْتُ قَالَ فَلَحِقَ بِي فَقَالَ مَا قُلْتَ يَا جَابِرُ قَبْلُ قَالَ فَنَسِيتُ مَا قُلْتُ قَالَ قُلْتُ مَا قُلْتُ شَيْئًا يَا نَبِيَّ اللَّهِ قَالَ فَذَكَرْتُ مَا قُلْتُ قَالَ قُلْتُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ يَا لَهْفَاهُ أَنْ يَكُونَ لِي إِلَّا جَمَلٌ قَطُوفٌ قَالَ فَضَرَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَجُزَ الْجَمَلِ بِسَوْطٍ أَوْ بِسَوْطِي قَالَ فَانْطَلَقَ أَوْضَعَ أَوْ أَسْرَعَ جَمَلٍ رَكِبْتُهُ قَطُّ وَهُوَ يُنَازِعُنِي خِطَامَهُ قَالَ فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْتَ بَائِعِي جَمَلَكَ هَذَا قَالَ قُلْتُ نَعَمْ قَالَ بِكَمْ قَالَ قُلْتُ بِوُقِيَّةٍ قَالَ قَالَ لِي بَخٍ بَخٍ كَمْ فِي أُوقِيَّةٍ مِنْ نَاضِحٍ وَنَاضِحٍ قَالَ قُلْتُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ مَا بِالْمَدِينَةِ نَاضِحٌ أُحِبُّ أَنَّهُ لَنَا مَكَانَهُ قَالَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَخَذْتُهُ بِوُقِيَّةٍ قَالَ فَنَزَلْتُ عَنْ الرَّحْلِ إِلَى الْأَرْضِ قَالَ مَا شَأْنُكَ قَالَ قُلْتُ جَمَلُكَ قَالَ قَالَ لِي ارْكَبْ جَمَلَكَ قَالَ قُلْتُ مَا هُوَ بِجَمَلِي وَلَكِنَّهُ جَمَلُكَ قَالَ كُنَّا نُرَاجِعُهُ مَرَّتَيْنِ فِي الْأَمْرِ إِذَا أَمَرَنَا بِهِ فَإِذَا أَمَرَنَا الثَّالِثَةَ لَمْ نُرَاجِعْهُ قَالَ فَرَكِبْتُ الْجَمَلَ حَتَّى أَتَيْتُ عَمَّتِي بِالْمَدِينَةِ قَالَ وَقُلْتُ لَهَا أَلَمْ تَرَيْ أَنِّي بِعْتُ نَاضِحَنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأُوقِيَّةٍ قَالَ فَمَا رَأَيْتُهَا أَعْجَبَهَا ذَلِكَ قَالَ وَكَانَ نَاضِحًا فَارِهًا قَالَ ثُمَّ أَخَذْتُ شَيْئًا مِنْ خَبَطٍ أَوْجَرْتُهُ إِيَّاهُ ثُمَّ أَخَذْتُ بِخِطَامِهِ فَقُدْتُهُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَجَدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُقَاوِمًا رَجُلًا يُكَلِّمُهُ قَالَ قُلْتُ دُونَكَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ جَمَلَكَ قَالَ فَأَخَذَ بِخِطَامِهِ ثُمَّ نَادَى بِلَالًا فَقَالَ زِنْ لِجَابِرٍ أُوقِيَّةً وَأَوْفِهِ فَانْطَلَقْتُ مَعَ بِلَالٍ فَوَزَنَ لِي أُوقِيَّةً وَأَوْفَى مِنْ الْوَزْنِ قَالَ فَرَجَعْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ قَائِمٌ يُحَدِّثُ ذَلِكَ الرَّجُلَ قَالَ قُلْتُ لَهُ قَدْ وَزَنَ لِي أُوقِيَّةً وَأَوْفَانِي قَالَ فَبَيْنَمَا هُوَ كَذَلِكَ إِذْ ذَهَبْتُ إِلَى بَيْتِي وَلَا أَشْعُرُ قَالَ فَنَادَى أَيْنَ جَابِرٌ قَالُوا ذَهَبَ إِلَى أَهْلِهِ قَالَ أَدْرِكْ ائْتِنِي بِهِ قَالَ فَأَتَانِي رَسُولُهُ يَسْعَى قَالَ يَا جَابِرُ يَدْعُوكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَأَتَيْتُهُ فَقَالَ فَخُذْ جَمَلَكَ قُلْتُ مَا هُوَ جَمَلِي وَإِنَّمَا هُوَ جَمَلُكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ خُذْ جَمَلَكَ قُلْتُ مَا هُوَ جَمَلِي إِنَّمَا هُوَ جَمَلُكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ خُذْ جَمَلَكَ قَالَ فَأَخَذْتُهُ قَالَ فَقَالَ لَعَمْرِي مَا نَفَعْنَاكَ لِنُنْزِلَكَ عَنْهُ قَالَ فَجِئْتُ إِلَى عَمَّتِي بِالنَّاضِحِ مَعِي وَبِالْوَقِيَّةِ قَالَ فَقُلْتُ لَهَا مَا تَرَيْنَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْطَانِي أُوقِيَّةً وَرَدَّ عَلَيَّ جَمَلِي

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک رات میرا اونٹ گم ہوگیا میں اسے تلاش کرتے ہوئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے گذرا اس وقت وہ حضرت عائشہ کے لئے سواری تیار کر رہے تھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے پوچھا جابر رضی اللہ عنہ کیا ہوا میں نے عرض کیا اس اندھیری رات میں میرا اونٹ گم ہو گیا ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہارا اونٹ یہ رہا جاؤ اسے لے جاؤ میں اس طرف چلا گیا جہاں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اشارہ کیا تھا لیکن مجھے وہاں وہ نہ ملا میں نے واپس آ کر عرض کیا کہ مجھے تو اونٹ نہیں ملا دوسری مرتبہ پھر ایسا ہی ہوا تیسری مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ٹھہرنے کے لئے فرمایا اور فارغ ہو کر میرا ہاتھ پکڑا اور چل پڑے یہاں تک کہ ہم اونٹ کے پاس گئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ میرے حوالے کر کے فرمایا یہ رہا تمہارا اونٹ۔ لوگ چل رہے تھے میں بھی اپنی باری پر اپنے اونٹ پر سوار ہو چل رہا تھا میرا اونٹ سست رفتار تھا میری زبان سے نکل گیا افسوس مجھے اونٹ بھی ملا تو ایسا سست نبی صلی اللہ علیہ وسلم اتفاقا مجھ سے کچھ ہی پیچھے تھے انہوں نے بات سن لی وہ میرے پاس آئے اور کہنے لگے کہ جابر رضی اللہ عنہ کیا کہہ رہے ہو اس وقت تک میں اپنی بات بھول چکا تھا اس لئے کہہ دیا کہ میں نے تو کچھ نہیں کہا تھوڑی دیر بعد مجھے یاد آیا تو عرض کیا اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم میں نے یہ کہا تھا کہ افسوس مجھے اونٹ بھی ملا تو وہ بھی سست اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کوڑے سے اونٹ کی دم پر ضرب لگائی وہ اسی وقت ایسا تیز رفتار ہو گیا کہ اس سے پہلے میں اس سے زیادہ کسی تیز رفتار اونٹ پر سوار نہیں ہوا کہ وہ میرے ہاتھوں سے نکلاجا رہا تھا۔پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم اونٹ میرے ہاتھوں بیچتے ہو میں نے اثبات میں سرہلایا تو آپ نے قیمت پوچھی میں نے ایک اوقیہ چاندی بتائی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا واہ واہ ایک اوقیہ میں تو اتنے اتنے اونٹ آجاتے ہیں میں نے عرض کیا اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ میں ہمارے نزدیک اس سے زیادہ اچھا اونٹ نہیں ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے اسے ایک اوقیہ کے بدلے خرید لیا اس پر میں اپنی سواری سے زمین پر اتر گیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا ہوا میں نے عرض کیا کہ اونٹ تو آپ کا ہو چکا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنے اونٹ پر سوار ہو جا میں نے عرض کیا کہ اب یہ میرا اونٹ نہیں ہے آپ کا اونٹ ہے ہم نے دو مرتبہ اسی طرح تکرار کیا تیسری مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جب حکم دیا تو میں نے تکرار نہیں کیا اور اپنے اونٹ پر سوار ہو گیا۔ یہاں تک کہ میں مدینہ منورہ میں اپنی پھوپھی کے پاس پہنچ گیا اور انہیں بتایا کہ دیکھیں تو سہی میں نے اپنا اونٹ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک اوقیہ میں فروخت کر دیا ہے انہوں نے کہا میں نے اس سے زیادہ تعجب خیز بات کبھی نہیں دیکھی کیونکہ ہمارا اونٹ بہت تھکا ہوا تھا۔ پھر میں نے رسی لے کر اس کے منہ میں لگام ڈالی اور لے کر کھینچتا ہوا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا میں نے دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے کسی سے باتیں کر رہے ہیں میں نے عرض کیا اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم یہ اپنا اونٹ لے لیجیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی لگام پکڑ کر حضرت بلال کو آوازی دی اور فرمایا کہ جابر رضی اللہ عنہ کو وزن کرکے ایک اوقیہ چاندی دید دو اور پورا تولنا چنانچہ میں حضرت بلال کے ساتھ چلا گیا اور انہوں نے مجھے ایک اوقیہ چاندی پوری پوری تول کر دی میں واپس آیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسی آدمی کے ساتھ کھڑے ہوئے باتیں کر رہے تھے میں نے عرض کیا کہ انہوں نے مجھے ایک اوقیہ چاندی پوری پوری تول دی ہے یہ کہہ کر میں بے خودی کے عالم میں اپنے گھر کی طرف چل پڑا۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پکار کر کہا اے جابر رضی اللہ عنہ کہاں گیا؟ لوگوں نے بتایا کہ وہ اپنے گھرچلا گیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جاؤ اسے بلا کر لاؤ چنانچہ قاصد میرے پاس دوڑتا ہوا آیا اور کہنے لگا جابر رضی اللہ عنہ تمہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم بلا رہے ہیں میں حاضر ہوا تو فرمایا کہ اپنا اونٹ تو لے لو میں نے عرض کیا یا رسول اللہ وہ میرا اونٹ نہیں ہے وہ تو آپ کا ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اپنا اونٹ لے لو۔ چنانچہ میں نے اسے لے لیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میری زندگی کی قسم ہم نے تمہیں فائدہ اس لئے نہیں پہنچایا تھا کہ تمہیں سواری سے اتاریں چنانچہ میں وہ اونٹ اور ایک اوقیہ چاندی لے کر اپنی پھوپھی کے پاس آیا اور انہیں بتایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ایک اوقیہ چاندی بھی دی ہے اور میرا اونٹ بھی مجھے واپس کر دیا ہے۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← نُبَيْحٍ، ← الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ، ← عُبَيْدَةُ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 14925

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 14926

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنِي صَدَقَةُ بْنُ يَسَارٍ عَنْ عَقِيلِ بْنِ جَابِرٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ فِيمَا يَذْكُرُ مِنْ اجْتِهَادِ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْعِبَادَةِ قَالَ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفِي مَوْضِعٍ آخَرَ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةٍ مِنْ نَجْدٍ فَأَصَابَ امْرَأَةَ رَجُلٍ مِنْ الْمُشْرِكِينَ إِلَى نَجْدٍ فَغَشِينَا دَارًا مِنْ دُورِ الْمُشْرِكِينَ قَالَ فَأَصَبْنَا امْرَأَةَ رَجُلٍ مِنْهُمْ قَالَ ثُمَّ انْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَاجِعًا وَجَاءَ صَاحِبُهَا وَكَانَ غَائِبًا فَذُكِرَ لَهُ مُصَابُهَا فَحَلَفَ لَا يَرْجِعُ حَتَّى يُهْرِيقَ فِي أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَمًا قَالَ فَلَمَّا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِبَعْضِ الطَّرِيقِ نَزَلَ فِي شِعْبٍ مِنْ الشِّعَابِ وَقَالَ مَنْ رَجُلَانِ يَكْلَآَنَا فِي لَيْلَتِنَا هَذِهِ مِنْ عَدُوِّنَا قَالَ فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ الْمُهَاجِرِينَ وَرَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ نَحْنُ نَكْلَؤُكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ فَخَرَجَا إِلَى فَمِ الشِّعْبِ دُونَ الْعَسْكَرِ ثُمَّ قَالَ الْأَنْصَارِيُّ لِلْمُهَاجِرِيِّ أَتَكْفِينِي أَوَّلَ اللَّيْلِ وَأَكْفِيكَ آخِرَهُ أَمْ تَكْفِينِي آخِرَهُ وَأَكْفِيكَ أَوَّلَهُ قَالَ فَقَالَ الْمُهَاجِرِيُّ بَلْ اكْفِنِي أَوَّلَهُ وَأَكْفِيكَ آخِرَهُ فَنَامَ الْمُهَاجِرِيُّ وَقَامَ الْأَنْصَارِيُّ يُصَلِّي قَالَ فَافْتَتَحَ سُورَةً مِنْ الْقُرْآنِ فَبَيْنَا هُوَ فِيهَا يَقْرَأُ إِذْ جَاءَ زَوْجُ الْمَرْأَةِ قَالَ فَلَمَّا رَأَى الرَّجُلَ قَائِمًا عَرَفَ أَنَّهُ رَبِيئَةُ الْقَوْمِ فَيَنْتَزِعُ لَهُ بِسَهْمٍ فَيَضَعُهُ فِيهِ قَالَ فَيَنْزِعُهُ فَيَضَعُهُ وَهُوَ قَائِمٌ يَقْرَأُ فِي السُّورَةِ الَّتِي هُوَ فِيهَا وَلَمْ يَتَحَرَّكْ كَرَاهِيَةَ أَنْ يَقْطَعَهَا قَالَ ثُمَّ عَادَ لَهُ زَوْجُ الْمَرْأَةِ بِسَهْمٍ آخَرَ فَوَضَعَهُ فِيهِ فَانْتَزَعَهُ فَوَضَعَهُ وَهُوَ قَائِمٌ يُصَلِّي وَلَمْ يَتَحَرَّكْ كَرَاهِيَةَ أَنْ يَقْطَعَهَا قَالَ ثُمَّ عَادَ لَهُ زَوْجُ الْمَرْأَةِ الثَّالِثَةَ بِسَهْمٍ فَوَضَعَهُ فِيهِ فَانْتَزَعَهُ فَوَضَعَهُ ثُمَّ رَكَعَ فَسَجَدَ ثُمَّ قَالَ لِصَاحِبِهِ اقْعُدْ فَقَدْ أُوتِيتُ قَالَ فَجَلَسَ الْمُهَاجِرِيُّ فَلَمَّا رَآهُمَا صَاحِبُ الْمَرْأَةِ هَرَبَ وَعَرَفَ أَنَّهُ قَدْ نُذِرَ بِهِ قَالَ وَإِذَا الْأَنْصَارِيُّ يَمُوجُ دَمًا مِنْ رَمْيَاتِ صَاحِبِ الْمَرْأَةِ قَالَ فَقَالَ لَهُ أَخُوهُ الْمُهَاجِرِيُّ يَغْفِرُ اللَّهُ لَكَ أَلَا كُنْتَ آذَنْتَنِي أَوَّلَ مَا رَمَاكَ قَالَ فَقَالَ كُنْتُ فِي سُورَةٍ مِنْ الْقُرْآنِ قَدْ افْتَتَحْتُهَا أُصَلِّي بِهَا فَكَرِهْتُ أَنْ أَقْطَعَهَا وَايْمُ اللَّهِ لَوْلَا أَنْ أُضَيِّعَ ثَغْرًا أَمَرَنِي بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِحِفْظِهِ لَقَطَعَ نَفْسِي قَبْلَ أَنْ أَقْطَعَهَا

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ ذات الرقاع کے سلسلے میں نکلے اس غزوے میں مشرکین کی ایک عورت بھی ماری گئی جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم واپس روانہ ہوئے تو اس عورت کا خاوند واپس آیا اس نے اپنی بیوی کو مرا ہوا دیکھ کر قسم کھائی کہ اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھیں گے جب تک اصحاب محمد میں خون نہ بہادے یہ قسم کھا کر وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نشانات قدم پر چلتا ہوا نکل آیا۔ ادھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک منزل پر پہنچ کر پڑاؤ کیا اور فرمایا کہ آج رات کو کون پہرہ دے گا اس پر ایک مہاجر اور ایک انصاری نے اپنے آپ کو پیش کیا اور کہنے لگے کہ یا رسول اللہ ہم کریں گے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر ایسا کرو کہ اس گھاٹی کے دہانے پر جا کر پہرہ داری کرو کیونکہ وہ لوگ ایک گھاٹی میں پڑاؤ کئے ہوئے تھے جب وہ دونوں وہاں پہنچے تو انصاری نے مہاجر سے پوچھا کہ تمہیں رات کا کون ساحصہ پسند ہے جس میں میں تمہاری طرف سے کفایت کروں ۔ پہلا یا آخری ؟ اس نے کہا پہلے حصے میں تم باری کر لو دوسرے حصے میں میں کر لوں گا۔ چنانچہ مہاجر لیٹ کرسو گیا اور انصاری کھڑا ہو کر نماز پڑھنے لگا ادھر وہ مشرک آ پہنچا جب اس نے دور سے ایک آدمی کا ہیولا دیکھا تو سمجھ گیا کہ یہ لوگوں کا پہرہ دار ہے چنانچہ اس نے دور ہی سے تاک کر اسے تیر مارا اور اس کے جسم میں اتار دیا انصاری نے کھینچ کر اسے نکالا اور اسے پھینک دیا خود ثابت قدمی کے ساتھ نماز پڑھتا رہا مشرک نے دوسرا تیر مارا اور وہ بھی اس کے جسم میں اتار دیا انصاری نے کھینچ کر اسے نکالا اور اسے پھینک کر خود رکوع سجدہ میں گیا اور اپنے ساتھی کو بیدار کیا اس نے اسے بیٹھنے کے لئے کہا اور خود چھلانگ لگائی جب اس مشرک نے ان دونوں کو دیکھا تو سمجھ گیا کہ لوگوں کو اس کا پتہ چل گیا ہے اس لئے وہ بھاگ کھڑا ہوا ۔ پھر مہاجر نے انصاری کے بہتے ہوئے خون کو دیکھ کر تعجب سے سبحان اللہ کہا اور کہا کہ مجھے جگایا کیوں نہیں انصاری نے جواب دیا میں ایک سورت پڑھ رہا تھا میں نے اسے پورا کئے بغیر نماز ختم کرنا اچھا نہیں سمجھا لیکن جب میں نے دیکھا کہ اس نے مجھ پر تیروں کی بوچھاڑ کردی تب میں نے رکوع کیا اور تمہیں جگا دیا واللہ اگر پہرہ داری ضائع ہونے کا اندیشہ نہ ہوتا تو جس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے مامور کیا تھا تو اس سورت کو ختم کرنے سے پہلے میری جان ختم ہوتی۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ فِيمَا يَذْكُرُ مِنْ اجْتِهَادِ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ فِي الْعِبَادَةِ ← عَقِيلِ بْنِ جَابِرٍ، ← صَدَقَةُ بْنُ يَسَارٍ، ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبِي ← يَعْقُوبُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 14926

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 14927

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ ابْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ عَنْ عَمِّهِ وَاسِعِ بْنِ حَبَّانَ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِذَلِكَ مِنْ كُلِّ جَادٍّ عَشَرَةُ أَوْسُقٍ مِنْ التَّمْرِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ حکم دیا ہے کہ ہر دس وسق کھجور کاٹنے والے کے ذمے ہے کہ ایک خوشہ مسجد میں لا کر غربا کے لئے لٹکائے۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الأَنْصَارِيِّ ← عَمِّهِ وَاسِعِ بْنِ حَبَّانَ، ← مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، ← ابْنِ إِسْحَاقَ، ← أَبِي ← يَعْقُوبُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 14927

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 14928

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ عَنْ عَمِّهِ وَاسِعِ بْنِ حَبَّانَ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ أَمْرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ كُلِّ جَادٍّ بِعَشَرَةِ أَوْسُقٍ مِنْ تَمْرٍ بِقِنْوٍ يُعَلَّقُ فِي الْمَسْجِدِ لِلْمَسَاكِينِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ حکم دیا ہے کہ ہر دس وسق کھجور کاٹنے والے کے ذمے ہے کہ ایک خوشہ مسجد میں لا کر غربا کے لئے لٹکائے۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← عَمِّهِ وَاسِعِ بْنِ حَبَّانَ، ← مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ1، ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 14928

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 14929

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ ابْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ عَنْ عَمِّهِ وَاسِعِ بْنِ حَبَّانَ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ أَذِنَ لِأَصْحَابِ الْعَرَايَا أَنْ يَبِيعُوهَا بِخَرْصِهَا يَقُولُ الْوَسْقَ وَالْوَسْقَيْنِ وَالثَّلَاثَةَ وَالْأَرْبَعَةَ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جب عرایا والوں کو اندازے سے بیچنے کی اجازت دی تو میں نے آپ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ ایک وسق ہو یا دو تین اور چار سب کا یہی حکم ہے۔

«الْوَسْقُ، وَالْوَسْقَيْنِ، وَالثَّلَاثَةُ، وَالْأَرْبَعَةُ» ← رَسُولَ اللَّهِ حِينَ أَذِنَ لِأَصْحَابِ الْعَرَايَا أَنْ يَبِيعُوهَا بِخَرْصِهَا ← جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الأَنْصَارِيِّ ← عَمِّهِ وَاسِعِ بْنِ حَبَّانَ، ← مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، ← ابْنِ إِسْحَاقَ، ← أَبِي ← يَعْقُوبُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 14929

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 14930

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ ابْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنِي دَاوُدُ بْنُ الْحُصَيْنِ مَوْلَى عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ عَنْ وَاقِدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِذَا خَطَبَ أَحَدُكُمْ الْمَرْأَةَ فَقَدِرَ أَنْ يَرَى مِنْهَا بَعْضَ مَا يَدْعُوهُ إِلَيْهَا فَلْيَفْعَلْ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جب تم میں سے کوئی شخص کسی عورت کے پاس پیغام نکاح بھیجے اور یہ ممکن ہو کہ وہ اس عورت کی اس خوبی کو دیکھ سکے جس کی بناء پر وہ اس سے نکاح کرنا چاہتا ہے تو اسے ایسا کرلینا چاہیے۔

رَسُولِ اللَّهِ ← جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الأَنْصَارِيِّ ← وَاقِدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ ← دَاوُدُ بْنُ الْحُصَيْنِ مَوْلَى عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ ← ابْنِ إِسْحَاقَ، ← أَبِي ← يَعْقُوبُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 14930

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 14931

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ بَعْضِ أَهْلِهِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ طَلْقِ بْنِ حَبِيبٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اتَّقُوا فَوْرَةَ الْعِشَاءِ كَأَنَّهُ لِمَا يُخَافُ مِنْ الِاحْتِضَارِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا نماز عشاء کے وقت سے احتیاط کیا کرو غالباً نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت آنے والے جنایات اور بلاؤں سے خطرہ محسوس کرتے تھے۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← طَلْقِ بْنِ حَبِيبٍ، ← أَبِيهِ ← بعض أَهله ← أَبِي ← يَعْقُوبُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 14931

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 14932

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا ابْنُ أَخِي بْنِ شِهَابٍ عَنْ عَمِّهِ وَقَدْ حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ أخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى أَنَّهُ مَنْ أَعْمَرَ رَجُلًا عُمْرَى لَهُ وَلِعَقِبِهِ فَإِنَّهَا لِلَّذِي يُعْمَرُهَا قَدْ بَتَّهَا مِنْ صَاحِبِهَا الَّذِي أَعْمَرَهَا مَا وَقَعَ مِنْ مَوَارِيثِ اللَّهِ وَحَقِّهِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فیصلہ فرمایا ہے کہ جس شخص کو عمربھر کے لئے کوئی چیز دے دی گئی ہو وہ اس کی اور اس کی اولاد کی ہوگی اور جس نے دی وہ اس کی اس بات کی وجہ سے جداہو گئی۔

أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ← عَمِّهِ وَقَدْ ← ابْنُ أَخِي بْنِ شِهَابٍ ← يَعْقُوبُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 14932

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 14933

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ ابْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنِي أَبَانُ بْنُ صَالِحٍ عَنْ مُجَاهِدِ بْنِ جَبْرٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ نَهَانَا عَنْ أَنْ نَسْتَدْبِرَ الْقِبْلَةَ أَوْ نَسْتَقْبِلَهَا بِفُرُوجِنَا إِذَا أَهْرَقْنَا الْمَاءَ قَالَ ثُمَّ رَأَيْتُهُ قَبْلَ مَوْتِهِ بِعَامٍ يَبُولُ مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس بات سے منع فرمایا تھا کہ جب ہم پانی بہانے کے لئے جائیں تو خانہ کعبہ کی جانب شرمگاہ کا رخ یا پشت کریں لیکن اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے وصال سے ایک سال قبل میں نے خود قبلہ کی جانب رخ کر کے پیشاب کرتے ہوئے دیکھا ہے۔

ثُمَّ رَأَيْتُهُ قَبْلَ مَوْتِهِ بِعَامٍ يَبُولُ مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةِ ← أَنْ نَسْتَدْبِرَ الْقِبْلَةَ أَوْ نَسْتَقْبِلَهَا بِفُرُوجِنَا إِذَا أَهْرَقْنَا الْمَاءَ ← كَانَ رَسُولُ اللَّهِ قَدْ نَهَانَا ← جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الأَنْصَارِيِّ ← مُجَاهِدُ بْنُ جَبْرٍ، ← أَبَانُ بْنُ صَالِحٍ ← ابْنِ إِسْحَاقَ، ← أَبِي ← يَعْقُوبُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 14933

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 14934

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ ابْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنِي مُعَاذُ بْنُ رِفَاعَةَ الْأَنْصَارِيُّ ثُمَّ الزُّرَقِيُّ عَنْ مَحْمُودِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْجَمُوحِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا إِلَى سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ حِينَ تُوُفِّيَ قَالَ فَلَمَّا صَلَّى عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَوُضِعَ فِي قَبْرِهِ وَسُوِّيَ عَلَيْهِ سَبَّحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَبَّحْنَا طَوِيلًا ثُمَّ كَبَّرَ فَكَبَّرْنَا فَقِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ لِمَ سَبَّحْتَ ثُمَّ كَبَّرْتَ قَالَ لَقَدْ تَضَايَقَ عَلَى هَذَا الْعَبْدِ الصَّالِحِ قَبْرُهُ حَتَّى فَرَّجَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَنْهُ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب حضرت سعد بن معاذ فوت ہو گئے تو ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کی نماز جنازہ سے فارغ ہوئے انہیں قبر میں رکھ کر اینٹیں برابر کر دی گئیں تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دیر تک تسبیح کی ہم بھی تسبیح کرتے رہے پھر تکبیر کہی ہم بھی تکبیر کہتے رہے کسی نے پوچھا یا رسول اللہ آپ نے یہ تسبیح اور تکبیر کیوں کہی فرمایا کہ اس بندہ صالح پر قبر تنگ ہوگئی تھی بعد میں اللہ نے کشادہ کردی۔

خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ يَوْمًا إِلَى سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ حِينَ تُوُفِّيَ ← جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الأَنْصَارِيِّ ← مَحْمُودُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْجَمُوحِ، ← معاذُ بنُ رفاعةَ الأنصاريُّ ثم الزُّرَقيُّ، ← ابْنِ إِسْحَاقَ، ← أَبِي ← يَعْقُوبُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 14934

chevron_left Previous
1…101102103…232
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    0. Chapter
2. Book
    0. Chapter
3. Book
    0. Chapter
4. Book
    0. Chapter
5. Book
    0. Chapter
6. Book
    0. Chapter
7. Book
    0. Chapter
8. Book
    0. Chapter
9. Book
    0. Chapter