Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Monday, Jumada I 9, 1448 AH · Oct 19, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند امام احمد بن حنبل

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble

by Musnad Imam Bin Hanble

28,221 Hadith18 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 11490

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنِ ابْنِ الْهَادِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خَبَّابٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذُكِرَ عِنْدَهُ عَمُّهُ أَبُو طَالِبٍ فَقَالَ لَعَلَّهُ تَنْفَعُهُ شَفَاعَتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَيُجْعَلَ فِي ضَحْضَاحٍ مِنْ النَّارِ يَبْلُغُ كَعْبَيْهِ يَغْلِي مِنْهُ دِمَاغُهُ

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ان کے چچا خواجہ ابوطالب کا تذکرہ ہوا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا شاید قیامت کے دن میری سفارش انہیں فائدہ دے گی اور انہیں جہنم کے ایک کونے میں ڈال دیا جائے گا اور آگ ان کے ٹخنوں تک پہنچے گی جس سے ان کا دماغ ہنڈیا کی طرح کھولتا ہوگا۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خَبَّابٍ، ← ابْنِ الْھَادِ ← لَيْثٌ، ← قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 11490

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 11491

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ إِيَاسٍ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ كُنَّا نُسَافِرُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَمَضَانَ فَمِنَّا الصَّائِمُ وَمِنَّا الْمُفْطِرُ فَلَا يَعِيبُ الصَّائِمُ عَلَى الْمُفْطِرِ وَلَا الْمُفْطِرُ عَلَى الصَّائِمِ

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ماہِ رمضان میں سفر پر جاتے تھے تو ہم میں سے کچھ لوگ روزہ رکھ لیتے اور کچھ نہ رکھتے، لیکن روزہ رکھنے والا چھوڑنے والے پر یا چھوڑنے والا رکھنے والے پر کوئی عیب نہیں لگاتا تھا (مطلب یہ ہے کہ جب آدمی میں روزہ رکھنے کی ہمت ہوتی وہ رکھ لیتا اور جس میں ہمت نہ ہوتی وہ چھوڑ دیتا، بعد میں قضاء کر لیتا)

اَبِیْ سَعِیْدٍ ← أَبِي نَضْرَةَ ← سَعِيدُ بْنُ إِيَاسٍ ← عَلِي بْنُ عَاصِمٍ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 11491

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 11492

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ أَبُو أَحْمَدَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ النُّعْمَانِ أَبُو النُّعْمَانِ الْأَنْصَارِيُّ بِالْكُوفَةِ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ قَنَّةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْثًا فَكُنْتُ فِيهِمْ فَأَتَيْنَا عَلَى قَرْيَةٍ فَاسْتَطْعَمْنَا أَهْلَهَا فَأَبَوْا أَنْ يُطْعِمُونَا شَيْئًا فَجَاءَنَا رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْقَرْيَةِ فَقَالَ يَا مَعْشَرَ الْعَرَبِ فِيكُمْ رَجُلٌ يَرْقِي فَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ قُلْتُ وَمَا ذَاكَ قَالَ مَلِكُ الْقَرْيَةِ يَمُوتُ قَالَ فَانْطَلَقْنَا مَعَهُ فَرَقَيْتُهُ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ فَرَدَّدْتُهَا عَلَيْهِ مِرَارًا فَعُوفِيَ فَبَعَثَ إِلَيْنَا بِطَعَامٍ وَبِغَنَمٍ تُسَاقُ فَقَالَ أَصْحَابِي لَمْ يَعْهَدْ إِلَيْنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَا بِشَيْءٍ لَا نَأْخُذُ مِنْهُ شَيْئًا حَتَّى نَأْتِيَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسُقْنَا الْغَنَمَ حَتَّى أَتَيْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَحَدَّثْنَاهُ فَقَالَ كُلْ وَأَطْعِمْنَا مَعَكَ وَمَا يُدْرِيكَ أَنَّهَا رُقْيَةٌ قَالَ قُلْتُ أُلْقِيَ فِي رَوْعِي

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دستہ روانہ فرمایا: میں بھی جس میں شامل تھا، ہم ایک بستی میں پہنچے اور اہل قبیلہ سے مہمان نوازی کی درخواست کی لیکن انہوں نے مہمان نوازی کرنے سے انکار کر دیا، تھوڑی دیر بعد ان میں سے ایک آدمی آیا اور کہنے لگا کہ اے گروہِ عرب! کیا تم میں سے کوئی جھاڑ پھونک کرنا جانتا ہے؟ میں نے اس سے پوچھا کیا ہوا؟ اس نے کہا کہ ہماری بستی کا سردار مر جائے گا، ہم اس کے ساتھ چلے گئے اور میں نے کئی مرتبہ سورت فاتحہ پڑھ کر اسے دم کیا تو وہ ٹھیک ہوگیا، انہوں نے ہمارے پاس کھانا اور اپنے ساتھ لے جانے کے لئے بکریاں بھیجیں ، میرے ساتھیوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے متعلق ہمیں کوئی وصیت نہیں فرمائی تھی، لہٰذا ہم اسے اس وقت تک نہیں لیں گے جب تک نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس نہ پہنچ جائیں ، چنانچہ ہم نے بکریاں ہانکتے ہوئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر سارا واقعہ ذکر کیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مسکرا کر فرمایا تمہیں کیسے پتہ چلا کہ وہ منتر ہے، پھر فرمایا کہ بکریوں کا وہ ریوڑ لے لو اور اپنے ساتھ اس میں میرا حصہ بھی شامل کرو، میں نے عرض کر دیا کہ میرے دل میں یوں ہی آگیا تھا۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← سُلَيْمَانَ بْنَ قَنَّةَ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ النُّعْمَانِ أَبُو النُّعْمَانِ الْأَنْصَارِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ أَبُو أَحْمَدَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 11492

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 11493

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ أَتْشٍ حَدَّثَنَا جَعْفَرٌ يَعْنِي ابْنَ سُلَيْمَانَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ عَلِيٍّ الْيَشْكُرِيِّ عَنْ أَبِي الْمُتَوَكِّلِ النَّاجِيِّ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَامَ مِنْ اللَّيْلِ وَاسْتَفْتَحَ صَلَاتَهُ وَكَبَّرَ قَالَ سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ تَبَارَكَ اسْمُكَ وَتَعَالَى جَدُّكَ وَلَا إِلَهَ غَيْرُكَ ثُمَّ يَقُولُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ثَلَاثًا ثُمَّ يَقُولُ أَعُوذُ بِاللَّهِ السَّمِيعِ الْعَلِيمِ مِنْ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ مِنْ هَمْزِهِ وَنَفْخِهِ ثُمَّ يَقُولُ اللَّهُ أَكْبَرُ ثَلَاثًا ثُمَّ يَقُولُ أَعُوذُ بِاللَّهِ السَّمِيعِ الْعَلِيمِ مِنْ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ مِنْ هَمْزِهِ وَنَفْخِهِ وَنَفْثِهِ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب رات کو بیدار ہوتے اور اللہ اکبر کہہ کر نماز شروع کرتے تو سبحانک اللھم وبحمدک وتبارک ا سمک وتعالیٰ جدک ولا الہ غیرک کہہ کر تین مرتبہ لا الہ الا اللہ کہتے، پھر یوں کہتے اعوذبا اللہ السمیع العلیم من الشیطان الرجیم من ھمزہ ونفخہ پھر تین مرتبہ اللہ اکبر کہتے، پھر دوبارہ یوں کہتے اعوذبا اللہ السمیع العلیم من الشیطان الرجیم من ھمزہ ونفخہ ونفثہ

أَعُوذُ بِاللَّهِ السَّمِيعِ الْعَلِيمِ مِنْ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ مِنْ هَمْزِهِ وَنَفْخِهِ وَنَفْثِهِ ← اللَّهُ أَكْبَرُ ثَلَاثًا ثُمَّ ← أَعُوذُ بِاللَّهِ السَّمِيعِ الْعَلِيمِ مِنْ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ مِنْ هَمْزِهِ وَنَفْخِهِ ثُمَّ ← لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ثَلَاثًا ثُمَّ ← سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ تَبَارَكَ اسْمُكَ وَتَعَالَى جَدُّكَ وَلَا إِلَهَ غَيْرُكَ ثُمَّ ← كَانَ رَسُولُ اللَّهِ إِذَا قَامَ مِنْ اللَّيْلِ وَاسْتَفْتَحَ صَلَاتَهُ وَكَبَّرَ ← أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَبِي الْمُتَوَكِّلِ النَّاجِيِّ، ← عَلِيِّ بْنِ عَلِيٍّ الْيَشْكُرِيِّ ← جَعْفَرٌ يَعْنِي ابْنَ سُلَيْمَانَ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ آتِشٍ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 11493

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 11494

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ حَدَّثَنَا جَعْفَرٌ عَنِ الْمُعَلَّى الْقُرْدُوسِيِّ عَنْ الْحَسَنِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَلَا لَا يَمْنَعَنَّ أَحَدَكُمْ رَهْبَةُ النَّاسِ أَنْ يَقُولَ بِحَقٍّ إِذَا رَآهُ أَوْ شَهِدَهُ فَإِنَّهُ لَا يُقَرِّبُ مِنْ أَجَلٍ وَلَا يُبَاعِدُ مِنْ رِزْقٍ أَنْ يَقُولَ بِحَقٍّ أَوْ يُذَكِّرَ بِعَظِيمٍ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لوگوں کی ہیبت اور رعب و دبدبہ تم میں سے کسی کو حق بات کہنے سے نہ روکے، جب کہ وہ خود اسے دیکھ لے، یا مشاہدہ کرلے یا سن لے، کیوں کہ حق بات کہنے سے یا اہم بات ذکر کرنے سے موت قریب نہیں آجاتی اور رزق دور نہیں ہو جاتا۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← الْحَسَنِ، ← الْمُعَلَّى الْقُرْدُوسِيِّ ← جَعْفَرٌ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 11494

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 11495

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ حَدَّثَنَا هِشَامٌ وَيَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا هِشَامٌ عَنْ يَحْيَى عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ كُنَّا نُرْزَقُ تَمْرَ الْجَمْعِ وَقَالَ يَزِيدُ تَمْرٌ مِنْ تَمْرِ الْجَمْعِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَبِيعُ الصَّاعَيْنِ بِالصَّاعِ فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَا صَاعَيْ تَمْرٍ بِصَاعٍ وَلَا صَاعَيْ حِنْطَةٍ بِصَاعٍ وَلَا دِرْهَمَيْنِ بِدِرْهَمٍ

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دورِ باسعادت میں ہمیں ملی جلی کھجوریں کھانے کے لئے ملتی تھیں ، ہم اس میں سے دو صاع کھجوریں مثلاً ایک صاع کے بدلے میں دے دیتے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات معلوم ہوئی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دو صاع ایک صاع کے بدلے دینا صحیح نہیں ، اسی طرح دو صاع گندم ایک صاع کے بدلے میں اور دو درہم ایک درہم کے بدلے میں دینا بھی صحیح نہیں۔

كنا نرزق تمر الجمع ← أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← يَحْيَى ← هِشَامٍ ← هشام ويزيد بن هارون ← عَبْد الْمَلِكِ؛

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 11495

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 11496

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ يَحْيَى عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا رَأَيْتُمْ الْجَنَازَةَ فَقُومُوا فَمَنْ تَبِعَهَا فَلَا يَقْعُدْ حَتَّى تُوضَعَ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم جنازہ دیکھا کرو تو کھڑے ہوجایا کرو اور جو شخص جنازے کے ساتھ جائے، وہ جنازہ زمین پر رکھے جانے سے پہلے خود نہ بیٹھے۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← يَحْيَى ← هِشَامٍ ← عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 11496

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 11497

حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا هِشَامٌ عَنْ يَحْيَى بنِ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو رِفَاعَةَ أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ لِي وَلِيدَةً وَأَنَا أَعْزِلُ عَنْهَا وَأَنَا أُرِيدُ مَا يُرِيدُ الرَّجُلُ وَأَكْرَهُ أَنْ تَحْمِلَ وَإِنَّ الْيَهُودَ تَزْعُمُ أَنَّ الْمَوْءُودَةَ الصُّغْرَى الْعَزْلُ فَقَالَ كَذَبَتْ يَهُودُ إِنَّ اللَّهَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَخْلُقَهُ لَمْ يَسْتَطِعْ أَحَدٌ أَنْ يَصْرِفَهُ

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر کہنے لگا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میری ایک باندی ہے میں اس سے عزل کرتا ہوں ، میں وہی چاہتا ہوں جو ایک مرد چاہتا ہے اور میں اس کے حاملہ ہونے کو اچھا نہیں سمجھتا اور یہودی کہا کرتے ہیں کہ عزل زندہ درگور کرنے کی ایک چھوٹی سی صورت ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہودی غلط کہتے ہیں ، اگر اللہ کسی چیز کو پیدا کرنے کا ارادہ کر لے تو کسی میں اتنی طاقت نہیں ہے کہ وہ اس کی راہ میں رکاوٹ بن سکے۔

جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ فَقَالَ ← أَبُو رِفَاعَةَ أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← هِشَامٍ ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 11497

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 11498

حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا هِشَامٌ عَنْ يَحْيَى حَدَّثَنَا عِيَاضٌ أَنَّهُ سَأَلَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ فَقَالَ إِنَّ أَحَدَنَا يُصَلِّي فَلَا يَدْرِي كَمْ صَلَّى فَقَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ فَلَمْ يَدْرِ كَمْ صَلَّى فَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ فَإِذَا جَاءَ أَحَدَكُمْ الشَّيْطَانُ فَقَالَ إِنَّكَ قَدْ أَحْدَثْتَ فِي صَلَاتِكَ فَلْيَقُلْ كَذَبْتَ إِلَّا مَا وَجَدَ رِيحًا بِأَنْفِهِ أَوْ سَمِعَ صَوْتًا بِأُذُنِهِ

عیاض رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے عرض کیا کہ بعض اوقات ہم میں سے ایک آدمی نماز پڑھ رہا ہوتا ہے اور اسے یاد نہیں رہتا کہ اس نے کتنی رکعتیں پڑھی ہیں ؟ انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھ رہا ہو اور اسے یاد نہ رہے کہ اس نے کتنی رکعتیں پڑھی ہیں تو اسے چاہئے کہ بیٹھے بیٹھے سہو کے دو سجدے کرلے، اور جب تم میں سے کسی کے پاس شیطان آکر یوں کہے کہ تمہارا وضو ٹوٹ گیا ہے تو اسے کہہ دو کہ تو جھوٹ بولتا ہے، الاّ یہ کہ اس کی ناک میں بدبو آجائے یا اس کے کان اس کی آواز سن لیں۔

إِنَّ أَحَدَنَا يُصَلِّي فَلَا يَدْرِي كَمْ صَلَّى ← عِيَاضٍ أَنَّهُ سَأَلَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ ← يَحْيَى ← هِشَامٍ ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 11498

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 11499

حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ عَلِيٍّ الرَّبْعِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو الْجَوْزَاءِ غَيْرَ مَرَّةٍ قَالَ سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ عَنْ الصَّرْفِ يَدًا بِيَدٍ فَقَالَ لَا بَأْسَ بِذَلِكَ اثْنَيْنِ بِوَاحِدٍ أَكْثَرُ مِنْ ذَلِكَ وَأَقَلُّ قَالَ ثُمَّ حَجَجْتُ مَرَّةً أُخْرَى وَالشَّيْخُ حَيٌّ فَأَتَيْتُهُ فَسَأَلْتُهُ عَنْ الصَّرْفِ فَقَالَ وَزْنًا بِوَزْنٍ قَالَ فَقُلْتُ إِنَّكَ قَدْ أَفْتَيْتَنِي اثْنَيْنِ بِوَاحِدٍ فَلَمْ أَزَلْ أُفْتِي بِهِ مُنْذُ أَفْتَيْتَنِي فَقَالَ إِنَّ ذَلِكَ كَانَ عَنْ رَأْيِي وَهَذَا أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ يُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَرَكْتُ رَأْيِي إِلَى حَدِيثِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

ابو الجوزاء کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے کمی بیشی کے ساتھ لیکن نقد سونے چاندی کی بیع کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ دو کے بدلے میں ایک یا کمی بیشی کے ساتھ نقد ہو تو کوئی حرج نہیں ، کچھ عرصے کے بعد مجھے دوبارہ حج کی سعادت نصیب ہوئی، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ اس وقت تک حیات تھے، میں نے ان سے دوبارہ وہی مسئلہ پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ نقد کے ساتھ دونوں کا وزن بھی برابر ہو، میں نے ان سے عرض کیا کہ پہلے تو آپ نے مجھے یہ فتویٰ دیا تھا کہ ایک کے بدلے دو بھی جائز ہے اور میں تو اس وقت سے لوگوں کو بھی یہی مسئلہ بتارہا ہوں ، انہوں نے فرمایا کہ یہ میری رائے تھی، بعد میں حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے مجھے یہ حدیث سنائی تو میں نے حدیث کے سامنے اپنی رائے کو ترک کر دیا۔

رَسُولِ اللَّهِ فَتَرَكْتُ رَأْيِي إِلَى حَدِيثِ رَسُولِ اللَّهِ ← رَأْيِي وَهَذَا أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ ← إِنَّ ذَلِكَ كَانَ ← فَقُلْتُ إِنَّكَ قَدْ أَفْتَيْتَنِي اثْنَيْنِ بِوَاحِدٍ فَلَمْ أَزَلْ أُفْتِي بِهِ مُنْذُ أَفْتَيْتَنِي ← وَزْنًا بِوَزْنٍ ← الصَّرْفِ. ← ثُمَّ حَجَجْتُ مَرَّةً أُخْرَى وَالشَّيْخُ حَيٌّ فَأَتَيْتُهُ فَسَأَلْتُهُ ← لَا بَأْسَ بِذَلِكَ اثْنَيْنِ بِوَاحِدٍ أَكْثَرُ مِنْ ذَلِكَ وَأَقَلُّ ← الصَّرْفِ يَدًا بِيَدٍ ← سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ← أَبُو الْجَوْزَاءِ غَيْرَ مَرَّةٍ ← سُلَيْمَانُ بْنُ عَلِيٍّ الرَّبْعِيُّ ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 11499

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 11500

حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا ابْنُ عَوْنٍ عَنْ نَافِعٍ قَالَ كَانَ رَجُلٌ يُحَدِّثُ ابْنَ عُمَرَ بِحَدِيثٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ فِي الصَّرْفِ قَالَ فَقَدِمَ أَبُو سَعِيدٍ فَنَزَلَ هَذِهِ الدَّارَ فَأَخَذَ ابْنُ عُمَرَ بِيَدِي وَيَدِ الرَّجُلِ حَتَّى أَتَيْنَا أَبَا سَعِيدٍ فَقَامَ عَلَيْهِ فَقَالَ مَا يُحَدِّثُنِي هَذَا عَنْكَ فَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ نَعَمْ بَصُرَ عَيْنِي وَسَمِعَ أُذُنِي وَأَشَارَ بِإِصْبَعِهِ إِلَى عَيْنَيْهِ وَأُذُنَيْهِ فَمَا نَسِيتُ قَوْلَهُ بِإِصْبَعَيْهِ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ نَهَى عَنْ الذَّهَبِ بِالذَّهَبِ وَالْوَرِقِ بِالْوَرِقِ إِلَّا سَوَاءً بِسَوَاءٍ مِثْلًا بِمِثْلٍ أَلَا لَا تَبِيعُوا غَائِبًا بِنَاجِزٍ وَلَا تُشِفُّوا أَحَدَهُمَا عَلَى الْآخَرِ

نافع رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ایک شخص حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کو حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کے حوالے سے سونے چاندی کی خرید و فروخت کے متعلق حدیث سنا رہا تھا، ابھی اس کی بات پوری نہ ہوئی تھی کہ حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بھی اس گھر میں آگئے، حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے میرا اور اس آدمی کا ہاتھ پکڑا اور ہم حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچ گئے، انہوں نے کھڑے ہو کر حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کا استقبال کیا، حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا کہ انہوں نے مجھے ایک حدیث سنائی ہے اور ان کے خیال کے مطابق وہ حدیث آپ نے انہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے سنائی ہے، کیا واقعی آپ نے یہ حدیث نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا اور اپنے کانوں سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ سونا سونے کے بدلے اور چاندی چاندی کے بدلے برابر سرابر ہی بیچو، ایک دوسرے میں کمی بیشی نہ کرو، اور ان میں سے کسی غائب کو حاضر کے بدلے میں مت بیچو۔

نَافِعٍ ← ابْنِ عَوْنٍ ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 11500

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 11501

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ عَنْ قَتَادَةَ قَالَ أَبِي و حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا اجْتَمَعَ ثَلَاثَةٌ فَلْيَؤُمَّهُمْ أَحَدُهُمْ وَأَحَقُّهُمْ بِالْإِمَامَةِ أَقْرَؤُهُمْ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جہاں تین آدمی ہوں تو نماز کے وقت ایک امام بن جائے اور ان میں امامت کا زیادہ حقدار وہ ہے جو ان میں زیادہ قرآن جاننے والا ہو۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَبِي نَضْرَةَ ← قَتَادَةَ ← هَمَّامٌ، ← عَفَّانُ، ← أَبِي و ← قَتَادَةَ ← سَعِيدٌ، ← مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 11501

chevron_left Previous
1…9899100…264
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    0. Chapter
2. Book
    0. Chapter
3. Book
    0. Chapter
4. Book
    0. Chapter
5. Book
    0. Chapter
6. Book
    0. Chapter
7. Book
    0. Chapter
8. Book
    0. Chapter
9. Book
    0. Chapter