Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند امام احمد بن حنبل

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble

by Musnad Imam Bin Hanble

28,221 Hadith18 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 13570

حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ عَنْ أَنَسٍ قَالَ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَسْقِي فَبَسَطَ يَدَيْهِ ظَاهِرَهُمَا مِمَّا يَلِي السَّمَاءَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بارش کے لئے دعاء کرتے ہوئے دیکھا کہ وہ ہتھیلیوں کا اوپر والا حصہ آسمان کی جانب کر کے ہاتھ پھیلا کر دعاء کر رہے ہیں ۔

رَأَيْتُ النَّبِيَّ يَسْتَسْقِي فَبَسَطَ يَدَيْهِ ظَاهِرَهُمَا مِمَّا يَلِي السَّمَاءَ ← أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← حَمَّادٌ، ← مُؤَمَّلٍ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 13570

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 13571

حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَلْقَى رَجُلًا فَيَقُولُ يَا فُلَانُ كَيْفَ أَنْتَ فَيَقُولُ بِخَيْرٍ أَحْمَدُ اللَّهَ فَيَقُولُ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَعَلَكَ اللَّهُ بِخَيْرٍ فَلَقِيَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ فَقَالَ كَيْفَ أَنْتَ يَا فُلَانُ فَقَالَ بِخَيْرٍ إِنْ شَكَرْتُ قَالَ فَسَكَتَ عَنْهُ فَقَالَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ إِنَّكَ كُنْتَ تَسْأَلُنِي فَتَقُولُ جَعَلَكَ اللَّهُ بِخَيْرٍ وَإِنَّكَ الْيَوْمَ سَكَتَّ عَنِّي فَقَالَ لَهُ إِنِّي كُنْتُ أَسْأَلُكَ فَتَقُولُ بِخَيْرٍ أَحْمَدُ اللَّهَ فَأَقُولُ جَعَلَكَ اللَّهُ بِخَيْرٍ وَإِنَّكَ الْيَوْمَ قُلْتَ إِنْ شَكَرْتُ فَشَكَكْتَ فَسَكَتُّ عَنْكَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی جب بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ملتا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس سے دریافت فرماتے کہ تمہارا کیا حال ہے؟ اور وہ ہمیشہ یہی جواب دیتا کہ الحمدللہ! خیریت سے ہوں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسے جواباً فرما دیتے کہ اللہ تمہیں خیریت ہی سے رکھے، ایک دن جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اس سے ملاقات ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حسب معمول اس سے سوال پوچھا کہ تمہارا کیا حال ہے؟ اس نے جواب دیا کہ خیریت سے ہوں بشرطیکہ شکر کروں ، اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہوگئے۔ اس نے پوچھا کہ اے اللہ کے نبی! پہلے تو جب آپ مجھ سے میرا حال دریافت کرتے تھے تو مجھے دعاء دیتے تھے کہ اللہ تمہیں خیریت سے رکھے، آج آپ خاموش ہوگئے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پہلے میں تم سے سوال کرتا تھا تو تم یہ کہتے تھے کہ الحمدللہ! خیریت سے ہوں ، اس لئے میں جواباًکہہ دیتا تھا کہ اللہ تمہیں خیریت سے رکھے، لیکن آج تم نے کہا کہ " اگر میں شکر کروں " تو مجھے شک ہوگیا اس لئے میں خاموش ہوگیا۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللهِ، ← حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ← بَهْزٌ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 13571

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 13572

حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ أَنَسٍ قَالَ أَنَا أَعْلَمُ النَّاسِ أَوْ مِنْ أَعْلَمْ النَّاسِ بِآيَةِ الْحِجَابِ تَزَوَّجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَيْنَبَ ابْنَةَ جَحْشٍ فَذَبَحَ شَاةً فَدَعَا أَصْحَابَهُ فَأَكَلُوا وَقَعَدُوا يَتَحَدَّثُونَ وَجَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْرُجُ وَيَدْخُلُ وَهُمْ قُعُودٌ ثُمَّ يَخْرُجُ فَيَمْكُثُ مَا شَاءَ اللَّهُ وَيَرْجِعُ وَهُمْ قُعُودٌ وَزَيْنَبُ قَاعِدَةٌ فِي نَاحِيَةِ الْبَيْتِ وَجَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَحْيِي مِنْهُمْ أَنْ يَقُولَ لَهُمْ شَيْئًا فَنَزَلَتْ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَدْخُلُوا بُيُوتَ النَّبِيِّ إِلَّا أَنْ يُؤْذَنَ لَكُمْ إِلَى طَعَامٍ غَيْرَ نَاظِرِينَ إِنَاهُ وَلَكِنْ إِذَا دُعِيتُمْ فَادْخُلُوا الْآيَاتُ إِلَى قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ فَاسْأَلُوهُنَّ مِنْ وَرَاءِ حِجَابٍ قَالَ فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِحِجَابٍ مَكَانَهُ فَضُرِبَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ پردہ کا جب حکم نازل ہوا، اس وقت کی کیفیت تمام لوگوں میں سب سے زیادہ مجھے معلوم ہے۔ اس رات نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے ساتھ خلوت فرمائی تھی، اور صبح کے وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم دولہا تھے، اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو دعوت دی، انہوں نے آکر کھانا کھایا اور چلے گئے، لیکن کچھ لوگ وہیں بیٹھ رہے اور کافی دیر تک بیٹھے رہے حتیٰ کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم خود ہی اٹھ کر باہر چلے گئے، میں بھی باہر چلا گیا تاکہ وہ بھی چلے جائیں ، لیکن وہ بیٹھے رہے بار بار ایسا ہی ہوا، ادھر حضرت زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہا ایک کونے میں بیٹھی ہوئی تھیں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ان سے کچھ کہتے ہوئے حجاب محسوس ہوا، اس موقع پر یہ آیت نازل ہوئی کہ " اے اہل ایمان! پیغمبر کے گھر میں اس وقت تک داخل نہ ہوا کرو جب تک تمہیں کھانے کے لئے بلایا نہ جائے"، نیز اس کے پکنے کا انتظار نہ کیا کرو، البتہ جب تمہیں بلایا جائے تو چلے جاؤ، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر پردہ گرا دیا گیا۔

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 13572

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 13573

حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ حَدَّثَنَا عُمَارَةُ بْنُ زَاذَانَ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ مَلَكَ الْمَطَرِ اسْتَأْذَنَ رَبَّهُ أَنْ يَأْتِيَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَذِنَ لَهُ فَقَالَ لِأُمِّ سَلَمَةَ امْلِكِي عَلَيْنَا الْبَابَ لَا يَدْخُلْ عَلَيْنَا أَحَدٌ قَالَ وَجَاءَ الْحُسَيْنُ لِيَدْخُلَ فَمَنَعَتْهُ فَوَثَبَ فَدَخَلَ فَجَعَلَ يَقْعُدُ عَلَى ظَهَرِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَى مَنْكِبِهِ وَعَلَى عَاتِقِهِ قَالَ فَقَالَ الْمَلَكُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتُحِبُّهُ قَالَ نَعَمْ قَالَ أَمَا إِنَّ أُمَّتَكَ سَتَقْتُلُهُ وَإِنْ شِئْتَ أَرَيْتُكَ الْمَكَانَ الَّذِي يُقْتَلُ فِيهِ فَضَرَبَ بِيَدِهِ فَجَاءَ بِطِينَةٍ حَمْرَاءَ فَأَخَذَتْهَا أُمُّ سَلَمَةَ فَصَرَّتْهَا فِي خِمَارِهَا قَالَ قَالَ ثَابِتٌ بَلَغَنَا أَنَّهَا كَرْبَلَاءُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ بارش کے ذمے دار فرشتے نے اللہ تعالیٰ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہونے کی اجازت چاہی، اللہ تعالیٰ نے اسے اجازت دے دی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس موقع پر حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے فرمایا کہ دروازے کا خیال رکھو کہ ہمارے پاس کوئی اندر نہ آنے پائے، تھوڑی دیر میں حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ آئے اور گھر میں داخل ہونا چاہا، حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے انہیں روکا تو وہ کود کر اندر داخل ہوگئے اور جا کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی پشت پر، مونڈھوں اور کندھوں پر بیٹھنے لگے، اس فرشتے نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ کیا آپ کو اس سے محبت ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں ! تو فرشتے نے کہا کہ یاد رکھئے! آپ کی امت اسے قتل کر دے گی، اگر آپ چاہیں تو میں آپ کو وہ جگہ بھی دکھا سکتا ہوں جہاں یہ شہید ہوں گے، یہ کہہ کر فرشتے نے اپنا ہاتھ مارا تو اس کے ہاتھ میں سرخ رنگ کی مٹی آگئی، حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے وہ مٹی لے کر اپنے دوپٹے میں باندھ لی۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← ثَابِتٍ، ← عُمَارَةِ بْنِ زَاذَانَ ← مُؤَمَّلٍ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 13573

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 13574

حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ حُمَيْدٍ وَعَاصِمٌ الْأَحْوَلُ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْمَدِينَةُ حَرَامٌ مِنْ كَذَا إِلَى كَذَا مَنْ أَحْدَثَ فِيهَا حَدَثًا أَوْ آوَى مُحْدِثًا فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ لَا يَقْبَلُ اللَّهُ مِنْهُ صَرْفًا وَلَا عَدْلًا قَالَ حَمَّادٌ وَزَادَ فِيهَا حُمَيْدٌ لَا يُحْمَلُ فِيهَا سِلَاحٌ لِقِتَالٍ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ کو اس جگہ سے اس جگہ تک حرم قرار دیا تھا اور فرمایا تھا جو شخص یہاں کوئی بدعت ایجاد کرے یا کسی بدعتی کو ٹھکانہ دے، اس پر اللہ، فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہے یہاں کے درخت نہ کاٹے جائیں ۔

أَنَسٍ، ← حُمَيْدٍ، وَعَاصِمٍ الْأَحْوَلِ، ← حَمَّادٌ، ← مُؤَمَّلٍ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 13574

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 13575

حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَمُوتُ فَيَشْهَدُ لَهُ أَرْبَعَةٌ أَهْلُ أَبْيَاتٍ مِنْ جِيرَانِهِ الْأَدْنَيْنَ إِلَّا قَالَ قَدْ قَبِلْتُ فِيهِ عِلْمَكُمْ فِيهِ وَغَفَرْتُ لَهُ مَا لَا تَعْلَمُونَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص اسلام کی حالت میں فوت ہو جائے اور اس کے قریبی پڑوسیوں میں سے چار گھروں کے لوگ اس کے حق میں بہتری کی گواہی دے دیں ، تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں نے اس کے متعلق تمہارے علم کو قبول کر لیا اور جو تم نہیں جانتے، اسے معاف کر دیا۔

أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← حَمَّادٌ، ← مُؤَمَّلٍ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 13575

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 13576

حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بُدَيْلِ بْنِ مَيْسَرَةَ الْعُقَيْلِيُّ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ أَهْلِينَ مِنْ النَّاسِ وَإِنَّ أَهْلَ الْقُرْآنِ أَهْلُ اللَّهِ وَخَاصَّتُهُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا لوگوں میں سے کچھ اہل اللہ ہوتے ہیں ، قرآن والے، اللہ کے خاص لوگ اور اہل اللہ ہوتے ہیں ۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← أَبِي ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بُدَيْلِ بْنِ مَيْسَرَةَ الْعُقَيْلِيُّ ← مُؤَمَّلٍ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 13576

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 13577

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ عَنْ جَدِّهِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنْ رَجُلًا اطَّلَعَ فِي بَعْضِ حُجَرِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَامَ إِلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِشْقَصٍ أَوْ مَشَاقِصَ فَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهِ يَخْتِلُهُ لِيَطْعَنَهُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر میں بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک آدمی آکر کسی سوراخ سے اندر جھانکنے لگا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ میں پکڑی ہوئی کنگھی لے کر اس کی طرف قدم بڑھائے تو وہ پیچھے ہٹنے لگا، ایسا محسوس ہوتا تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم وہ کنگھی اسے دے ماریں گے۔

عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَکْرٍ ← حَمَّادٌ -يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ-، ← إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 13577

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 13578

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا ذَا الْأُذُنَيْنِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ مجھے " دو کانوں والے " کہہ کر مخاطب فرمایا تھا۔

لِي رَسُولُ اللَّهِ يَا ذَا الْأُذُنَيْنِ ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ ← شَرِيکٍ ← إِسْحَاقُ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 13578

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 13579

حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ ثَابِتٍ وَعَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ أَعْتَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَفِيَّةَ وَجَعَلَ عِتْقَهَا صَدَاقَهَا

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت صفیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بنت حیی کو آزاد کر دیا اور ان کی آزادی ہی کو ان کا مہر قرار دے دیا۔

أَعْتَقَ رَسُولُ اللهِ صَفِيَّةَ وَجَعَلَ عِتْقَهَا صَدَاقَهَا ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← ثَابِتٍ وَعَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 13579

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 13580

حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى بِهِ وَأُمُّ سُلَيْمٍ وَأُمُّ حَرَامٍ خَلْفَنَا عَلَى بِسَاطٍ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز پڑھائی، اس وقت ام سلیم اور ام حرام ہمارے پیچھے چٹائی پر تھیں ۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← ثَابِتٍ، ← حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ← سُرَيْجٌ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 13580

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 13581

حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا حَرْبُ بْنُ مَيْمُونٍ عَنِ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ قَالَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ اذْهَبْ إِلَى نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْ لَهُ إِنْ رَأَيْتَ أَنْ تَغَدَّى عِنْدَنَا فَافْعَلْ قَالَ فَجِئْتُهُ فَبَلَّغْتُهُ فَقَالَ وَمَنْ عِنْدِي قُلْتُ نَعَمْ فَقَالَ انْهَضُوا قَالَ فَجِئْتُ فَدَخَلْتُ عَلَى أُمِّ سُلَيْمٍ وَأَنَا لَدَهِشٌ لِمَنْ أَقْبَلَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ قَالَ فَقَالَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ مَا صَنَعْتَ يَا أَنَسُ فَدَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أَثَرِ ذَلِكَ قَالَ هَلْ عِنْدَكِ سَمْنٌ قَالَتْ نَعَمْ قَدْ كَانَ مِنْهُ عِنْدِي عُكَّةٌ فِيهَا شَيْءٌ مِنْ سَمْنٍ قَالَ فَأْتِ بِهَا قَالَتْ فَجِئْتُهُ بِهَا فَفَتَحَ رِبَاطَهَا ثُمَّ قَالَ بِسْمِ اللَّهِ اللَّهُمَّ أَعْظِمْ فِيهَا الْبَرَكَةَ قَالَ فَقَالَ اقْلِبِيهَا فَقَلَبْتُهَا فَعَصَرَهَا نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُسَمِّي قَالَ فَأَخَذْتُ نَقْعَ قِدْرٍ فَأَكَلَ مِنْهَا بِضْعٌ وَثَمَانُونَ رَجُلًا فَفَضَلَ فِيهَا فَضْلٌ فَدَفَعَهَا إِلَى أُمِّ سُلَيْمٍ فَقَالَ كُلِي وَأَطْعِمِي جِيرَانَكِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت ام سلیم رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے مجھ سے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جا کر کہو کہ اگر آپ ہمارے ساتھ کھانا کھانا چاہتے ہیں تو آجائیں ، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر پیغام دیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا آپ کے پاس بیٹھے ہوئے لوگوں کو بھی؟ میں نے کہہ دیا جی ہاں ! نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہم سے فرمایا اٹھو، ادھر میں جلدی سے گھر پہنچا اس وقت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بہت سے لوگ ہونے کی وجہ سے گھبرایا ہوا تھا، حضرت ام سلیم رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے پوچھا انس! تمہیں کیا ہوا؟ اسی وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی گھر میں تشریف لے آئے اور حضرت ام سلیم رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے پوچھا کہ تمہارے پاس گھی ہے؟ انہوں نے اثبات میں جواب دیا اور کہا کہ میرے پاس گھی کا ڈبہ ہے جس میں تھوڑا سا گھی موجود ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ میرے پاس لے آؤ۔ میں وہ ڈبہ لے کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا ڈھکن کھولا اور بسم اللہ پڑھ کر یہ دعاء کی کہ اے اللہ! اس میں خوب برکت پیدا فرما، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ام سلیم رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے فرمایا کہ اسے اٹھاؤ، انہوں نے اسے اٹھایا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس میں سے گھی نچوڑنے لگے اور اس دوران بسم اللہ پڑھتے رہے، اور ایک ہنڈیا کے برابر گھی نکل آیا، اس سے اَسی سے بھی زائد لوگوں نے کھانا کھا لیا لیکن وہ پھر بھی بچ گیا، جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ام سلیم رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے حوالے کر دیا اور فرمایا کہ خود بھی کھاؤ اور اپنے پڑوسیوں کو بھی کھلاؤ۔

أم سليم اذهب إلى نبي الله فقل له ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ، ← حَرْبُ بْنُ مَيْمُونٍ ← يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 13581

chevron_left Previous
1…8910…264
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    0. Chapter
2. Book
    0. Chapter
3. Book
    0. Chapter
4. Book
    0. Chapter
5. Book
    0. Chapter
6. Book
    0. Chapter
7. Book
    0. Chapter
8. Book
    0. Chapter
9. Book
    0. Chapter