Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Sunday, Jumada I 8, 1448 AH · Oct 18, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
مسند امام احمد بن حنبل

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble

by Musnad Imam Bin Hanble

28,221 Hadith18 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 11298

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَبِي عِيسَى الْأُسْوَارِيِّ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ زَجَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَشْرَبَ الرَّجُلُ قَائِمًا

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر پانی پینے سے سختی سے منع فرمایا ہے۔

زَجَرَ رَسُولُ اللَّهِ أَنْ يَشْرَبَ الرَّجُلُ قَائِمًا ← أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَبِي عِيسَى الْأُسْوَارِيِّ ← قَتَادَةَ ← هَمَّامٌ، ← وَكِيعٌ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 11298

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 11299

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ عَنْ أَيُّوبَ بْنِ حَبِيبٍ مَوْلَى بَنِي زُهْرَةَ عَنْ أَبِي الْمُثَنَّى الْجُهَنِيِّ قَالَ كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ مَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ فَدَخَلَ أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ فَقَالَ لَهُ مَرْوَانُ أَسَمِعْتَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَى عَنْ النَّفْخِ فِي الشَّرَابِ فَقَالَ نَعَمْ قَالَ فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ فَإِنِّي لَا أُرْوَى بِنَفَسٍ وَاحِدٍ قَالَ أَبِنْهُ عَنْ فِيكَ ثُمَّ تَنَفَّسْ قَالَ فَإِنْ رَأَيْتُ قَذَاءً قَالَ فَأَهْرِقْهُ

ابوالمثنیٰ رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں مروان کے پاس بیٹھا تھا کہ حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بھی تشریف لے آئے، مروان نے ان سے پوچھا کہ کیا آپ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مشروبات میں سانس لینے سے منع فرماتے ہوئے سنا ہے؟ انہوں نے فرمایا ہاں ! ایک آدمی کہنے لگا میں ایک ہی سانس میں سیراب نہیں ہوسکتا، میں کیا کروں ؟ انہوں نے فرمایا برتن کو اپنے منہ سے جدا کر کے پھر سانس لے لیا کرو، اس نے کہا کہ اگر مجھے اس میں کوئی تنکا وغیرہ نظر آئے تب بھی پھونک نہ ماروں ؟ فرمایا اسے بہا دیا کرو۔

فَأَهْرِقْهُ. ← فَإِنْ رَأَيْتُ قَذَاءً ← فِيكَ ثُمَّ تَنَفَّسْ ← ابنه ← لَهُ رَجُلٌ فَإِنِّي لَا أُرْوَى بِنَفَسٍ وَاحِدٍ ← نَعَمْ ← النَّفْخِ فِي الشَّرَابِ ← لَهُ مَرْوَانُ أَسَمِعْتَ النَّبِيَّ يَنْهَى ← كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ مَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ فَدَخَلَ أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ، ← أَبِي الْمُثَنَّى الْجُهَنِيِّ ← أَيُّوبَ بْنِ حَبِيبٍ مَوْلَى بَنِي زُهْرَةَ ← مالک بن أنس ← وَكِيعٌ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 11299

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 11300

حَدَّثَنَا الْمُطَّلِبُ بْنُ زِيَادٍ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي لَيْلَى عَنْ عَطِيَّةَ الْعَوْفِيِّ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ لَمْ يَشْكُرْ النَّاسَ لَمْ يَشْكُرْ اللَّهَ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص لوگوں کا شکریہ ادا نہیں کرتا، وہ اللہ کا شکر بھی ادا نہیں کرتا۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← عَطِّيَةَ الْعَوْفِيِّ ← ابْنِ أَبِي لَيْلَی ← الْمُطَّلِبُ بْنُ زِيَادٍ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 11300

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 11301

حَدَّثَنَا الْمُطَّلِبُ عَنْ ابْنِ أَبِي لَيْلَى عَنْ عَطِيَّةَ الْعَوْفِيِّ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ تَسَحَّرُوا فَإِنَّ فِي السُّحُورِ بَرَكَةً

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا سحری کھایا کرو ، کیوں کہ سحری میں برکت ہوتی ہے۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← عَطِّيَةَ الْعَوْفِيِّ ← ابْنِ أَبِي لَيْلَی ← الْمُطَّلِبِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 11301

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 11302

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ رَافِعٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى عَنْ عَمِّهِ وَاسِعِ بْنِ حَبَّانَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الرَّجُلُ أَحَقُّ بِصَدْرِ دَابَّتِهِ وَأَحَقُّ بِمَجْلِسِهِ إِذَا رَجَعَ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا آدمی اپنی سواری پر آگے بیٹھنے کا خود زیادہ حقدار ہوتا ہے، اور مجلس سے جا کر واپس آنے پر اپنی نشست کا بھی وہی زیادہ حقدار ہوتا ہے

الرَّجُلُ أَحَقُّ بِصَدْرِ دَابَّتِهِ وَأَحَقُّ بِمَجْلِسِهِ إِذَا رَجَعَ ← النَّبِيِّ ← أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← عَمِّهِ وَاسِعِ بْنِ حَبَّانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ← إسْمَاعِيلَ بْنِ رَافِعٍ ← وَكِيعٌ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 11302

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 11303

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُدْعَى نُوحٌ عَلَيْهِ السَّلَام يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَيُقَالُ لَهُ هَلْ بَلَّغْتَ فَيَقُولُ نَعَمْ فَيُدْعَى قَوْمُهُ فَيُقَالُ لَهُمْ هَلْ بَلَّغَكُمْ فَيَقُولُونَ مَا أَتَانَا مِنْ نَذِيرٍ أَوْ مَا أَتَانَا مِنْ أَحَدٍ قَالَ فَيُقَالُ لِنُوحٍ مَنْ يَشْهَدُ لَكَ فَيَقُولُ مُحَمَّدٌ وَأُمَّتُهُ قَالَ فَذَلِكَ قَوْلُهُ وَكَذَلِكَ جَعَلْنَاكُمْ أُمَّةً وَسَطًا قَالَ الْوَسَطُ الْعَدْلُ قَالَ فَيُدْعَوْنَ فَيَشْهَدُونَ لَهُ بِالْبَلَاغِ قَالَ ثُمَّ أَشْهَدُ عَلَيْكُمْ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت کے دن حضرت نوح علیہ السلام کو بلایا جائے گا اور ان سے پوچھا جائے گا کہ آپ نے پیغام توحید پہنچا دیا گیا تھا؟ وہ جواب دیں گے جی ہاں ! پھر ان کی قوم کو بلا کر ان سے پوچھا جائے گا کہ کیا انہوں نے تمہیں پیغام پہنچا دیا تھا ؟ وہ جواب دیں گے کہ ہمارے پاس کوئی ڈرانے والا نہیں آیا اور ہمارے پاس کوئی نہیں آیا، حضرت نوح علیہ السلام سے کہا جائے گا کہ آپ کے حق میں کون گواہی دے گا؟ وہ جواب دیں گے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کی امت، یہی مطلب ہے اس آیت کا " کذلک جعلناکم امۃ وسطاً " کہ اس میں وسط سے مراد معتدل ہے، چنانچہ اس امت کو بلایا جائے گا اور وہ حضرت نوح علیہ السلام کے حق میں پیغامِ تو حید پہنچانے کی گواہی دے گی، پھر تم پر میں گواہ بن کر گواہی دوں گا۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← الْاَعْمَشِ ← وَكِيعٌ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 11303

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 11304

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يَا آدَمُ قُمْ فَابْعَثْ بَعْثَ النَّارِ فَيَقُولُ لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ وَالْخَيْرُ فِي يَدَيْكَ يَا رَبِّ وَمَا بَعْثُ النَّارِ قَالَ مِنْ كُلِّ أَلْفٍ تِسْعَ مِائَةٍ وَتِسْعَةً وَتِسْعِينَ قَالَ فَحِينَئِذٍ يَشِيبُ الْمَوْلُودُ وَتَضَعُ كُلُّ ذَاتِ حَمْلٍ حَمْلَهَا وَتَرَى النَّاسَ سُكَارَى وَمَا هُمْ بِسُكَارَى وَلَكِنَّ عَذَابَ اللَّهِ شَدِيدٌ قَالَ فَيَقُولُونَ فَأَيُّنَا ذَلِكَ الْوَاحِدُ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تِسْعَ مِائَةٍ وَتِسْعَةً وَتِسْعِينَ مِنْ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ وَمِنْكُمْ وَاحِدٌ قَالَ فَقَالَ النَّاسُ اللَّهُ أَكْبَرُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَفَلَا تَرْضَوْنَ أَنْ تَكُونُوا رُبُعَ أَهْلِ الْجَنَّةِ وَاللَّهِ إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ تَكُونُوا رُبُعَ أَهْلِ الْجَنَّةِ وَاللَّهِ إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ تَكُونُوا ثُلُثَ أَهْلِ الْجَنَّةِ وَاللَّهِ إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ تَكُونُوا نِصْفَ أَهْلِ الْجَنَّةِ قَالَ فَكَبَّرَ النَّاسُ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا أَنْتُمْ يَوْمَئِذٍ فِي النَّاسِ إِلَّا كَالشَّعْرَةِ الْبَيْضَاءِ فِي الثَّوْرِ الْأَسْوَدِ أَوْ كَالشَّعْرَةِ السَّوْدَاءِ فِي الثَّوْرِ الْأَبْيَضِ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت کے دن اللہ تعالیٰ فرمائیں گے اے آدم! کھڑے ہوجاؤ اور جہنم کی فوج نکالو وہ لبیک کہہ کر عرض کریں گے کہ پروردگار! جہنم کی فوج سے کیا مراد ہے؟ ارشاد ہوگا کہ ہر ہزار میں سے نو سو نناوے جہنم کے لئے نکال لو، یہ وہ وقت ہوگا جب نو مولود بچے بوڑھے ہوجائیں گے اور ہر حاملہ عورت کا وضع حمل ہو جائے گا، اور تم دیکھو گے کہ لوگ مدہوش ہو رہے ہیں ، حالانکہ وہ مدہوش نہیں ہوں گے لیکن اللہ کا عذاب بہت سخت ہے۔ صحابہ کرام نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! وہ ایک خوش نصیب ہم میں سے کون ہوگا؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نو سونناوے آدمی یاجوج ماجوج میں سے ہوں گے اور ایک تم میں سے ہوگا، یہ سن کر صحابہ نے اللہ اکبر کا نعرہ لگایا، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم اس بات پر راضی نہیں ہو کہ تم تمام اہل جنت کا ایک چوتھائی حصہ ہوجاؤ، بخدا! مجھے امید ہے کہ تم اہل جنت کا ایک چوتھائی حصہ ہو، مجھے امید ہے کہ تم اہل جنت کا ایک تہائی حصہ ہوگے، بخدا! مجھے امید ہے کہ تم اہل جنت کا نصف حصہ ہوگے، اس پر صحابہ نے پھر اللہ اکبر کا نعرہ لگایا، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم لوگ اس دن کالے بیل میں سفید بال کی طرح یا سفید بیل میں کالے بال کی طرح ہو گے۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← الْاَعْمَشِ ← وَكِيعٌ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 11304

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 11305

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ عَنْ عَاصِمِ بْنِ شُمَيْخٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا حَلَفَ وَاجْتَهَدَ فِي الْيَمِينِ قَالَ لَا وَالَّذِي نَفْسُ أَبِي الْقَاسِمِ بِيَدِهِ لَيَخْرُجَنَّ قَوْمٌ مِنْ أُمَّتِي تُحَقِّرُونَ أَعْمَالَكُمْ مَعَ أَعْمَالِهِمْ يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لَا يُجَاوِزُ تَرَاقِيَهُمْ يَمْرُقُونَ مِنْ الْإِسْلَامِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنْ الرَّمِيَّةِ قَالُوا فَهَلْ مِنْ عَلَامَةٍ يُعْرَفُونَ بِهَا قَالَ فِيهِمْ رَجُلٌ ذُو يُدَيَّةٍ أَوْ ثُدَيَّةٍ مُحَلِّقِي رُءُوسِهِمْ قَالَ أَبُو سَعِيدٍ فَحَدَّثَنِي عِشْرُونَ أَوْ بِضْعٌ وَعِشْرُونَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ وَلِيَ قَتْلَهُمْ قَالَ فَرَأَيْتُ أَبَا سَعِيدٍ بَعْدَمَا كَبِرَ وَيَدَاهُ تَرْتَعِشُ يَقُولُ قِتَالُهُمْ أَحَلُّ عِنْدِي مِنْ قِتَالِ عِدَّتِهِمْ مِنْ التُّرْكِ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی بات پر بڑی پختہ قسم کھاتے تو یوں کہتے " لا والذی نفس ابی القاسم بیدہ" ایک مرتبہ یہی قسم کھا کر فرمایا میری امت میں ایک ایسی قوم ضرور ظاہر ہوگی جن کے اعمال کے سامنے تم اپنے اعمال کو حقیر سمجھو گے، وہ لوگ قرآن تو پڑھتے ہوں گے لیکن وہ ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا، وہ لوگ اسلام سے اس طرح نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے نکل جاتا ہے، صحابہ پوچھا کہ ان کی کوئی علامت بھی ہے جس سے انہیں پہچانا جاسکے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ان میں ایک آدمی ہوگا جس کے ہاتھ پر عورت کی چھاتی کا نشان ہوگا، اور ان لوگوں کے سر منڈے ہوئے ہوں گے۔ حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مجھے اس سے بھی زیادہ صحابہ نے بتایا ہے کہ ان لوگوں کو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے تہہ تیغ کیا تھا ، راوی کہتے ہیں کہ میں نے بڑھاپے میں حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کو اس وقت دیکھا تھا جب ان کے ہاتھوں پر بھی رعشہ طاری تھا، وہ فرما رہے تھے کہ میرے نزدیک اتنی تعداد میں ترکوں کو قتل کرنے سے ان لوگوں کو قتل کرنا زیادہ حلال تھا۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← عَاصِمِ بْنِ شُمَيْخٍ ← عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ← وَكِيعٌ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 11305

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 11306

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تُخَيِّرُوا بَيْنَ الْأَنْبِيَاءِ وَأَنَا أَوَّلُ مَنْ تَنْشَقُّ عَنْهُ الْأَرْضُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَأَفِيقُ فَأَجِدُ مُوسَى مُتَعَلِّقًا بِقَائِمَةٍ مِنْ قَوَائِمِ الْعَرْشِ فَلَا أَدْرِي أَجُزِيَ بِصَعْقَةِ الطُّورِ أَوْ أَفَاقَ قَبْلِي

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انبیاء کرام علیہم السلام کو ایک دوسرے پر ترجیح نہ دیا کرو ، قیامت کے دن سب سے پہلے میری قبر کھلے گی اور مجھے افاقہ ہوگا، تو میں دیکھوں گا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام عرشِ الہٰی کے پائے پکڑے کھڑے ہیں ، اب مجھے معلوم نہیں کہ طور پر پہاڑ کی بے ہوشی کو ان کا بدلہ قرار دیا دے دیا گیا یا انہیں مجھ سے پہلے ہوش آگیا ہوگا

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَبِيهِ ← عَمْرُو بْنُ يَحْيَى، ← سُفْيَانَ، ← وَكِيعٌ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 11306

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 11307

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ إِسْرَائِيلَ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنِ الْأَغَرِّ أَبِي مُسْلِمٍ قَالَ أَشْهَدُ عَلَى أَبِي سَعِيدٍ وَأَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُمَا شَهِدَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ وَأَنَا أَشْهَدُ عَلَيْهِمَا مَا قَعَدَ قَوْمٌ يَذْكُرُونَ اللَّهَ تَعَالَى إِلَّا حَفَّتْ بِهِمْ الْمَلَائِكَةُ وَتَنَزَّلَتْ عَلَيْهِمْ السَّكِينَةُ وَتَغَشَّتْهُمْ الرَّحْمَةُ وَذَكَرَهُمْ اللَّهُ فِيمَنْ عِنْدَهُ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے شہادۃً مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لوگوں کی جو جماعت بھی اللہ کا ذکر کرنے کے لئے بیٹھتی ہے، فرشتے اسے گھیر لیتے ہیں ، ان پر سکینہ نازل ہوتا ہے، رحمت انہیں ڈھانپ لیتی ہے اور اللہ ان کا تذکرہ ملاء الاعلی میں کرتا ہے۔

أَشْهَدُ عَلَى أَبِي سَعِيدٍ وَأَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُمَا شَهِدَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ أَنَّهُ ← الْاَغَرِّ اَبِیْ مُسْلِمٍ ← أَبِي إِسْحَاقَ ← اِسْرَائِیْلُ ← وَكِيعٌ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 11307

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 11308

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ قَالَ حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ عَنْ أَبِي مُطِيعِ بْنِ رِفَاعَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قَالَتْ الْيَهُودُ الْعَزْلُ الْمَوْءُودَةُ الصُّغْرَى قَالَ أَبِي وَكَانَ فِي كِتَابِنَا أَبُو رِفَاعَةَ بْنُ مُطِيعٍ فَغَيَّرَهُ وَكِيعٌ وَقَالَ عَنْ أَبِي مُطِيعِ بْنِ رِفَاعَةَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَذَبَتْ يَهُودُ إِنَّ اللَّهَ لَوْ أَرَادَ أَنْ يَخْلُقَ شَيْئًا لَمْ يَسْتَطِعْ أَحَدٌ أَنْ يَصْرِفَهُ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ یہودی کہا کرتے تھے عزل زندہ درگور کرنے کی ایک چھوٹی سی صورت ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہودی غلط کہتے ہیں ، اگر اللہ کسی چیز کو پیدا کرنے کا ارادہ کرلے تو کسی میں اتنی طاقت نہیں ہے کہ وہ اس میں رکاوٹ بن سکے۔

أَبِي مُطِيعِ بْنِ رِفَاعَةَ، ← أَبِي وَكَانَ فِي كِتَابِنَا أَبُو رِفَاعَةَ بْنُ مُطِيعٍ فَغَيَّرَهُ وَكِيعٌ ← الْيَهُودُ الْعَزْلُ الْمَوْءُودَةُ الصُّغْرَى ← أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَبِي مُطِيعِ بْنِ رِفَاعَةَ، ← مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ ← وَكِيعٌ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 11308

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 11309

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا فِطْرٌ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ رَجَاءٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ مِنْكُمْ مَنْ يُقَاتِلُ عَلَى تَأْوِيلِهِ كَمَا قَاتَلْتُ عَلَى تَنْزِيلِهِ قَالَ فَقَامَ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ فَقَالَ لَا وَلَكِنْ خَاصِفُ النَّعْلِ وَعَلِيٌّ يَخْصِفُ نَعْلَهُ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے بعض لوگ قرآن کی تفسیر و تاویل پر اس طرح قتال کریں گے جیسے میں اس کی تنزیل پر قتال کرتا ہوں ، اس پر حضراتِ ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کھڑے ہوئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں ، اس سے مراد جوتی گانٹھنے والا ہے اور اس وقت حضرت علی رضی اللہ عنہ اپنی جوتی گانٹھ رہے تھے۔

اَبِیْ سَعِیْدٍ ← أَبِيهِ ← اِسْمَاعِیْلَ بْنِ رَجَاءٍ، ← فِطْرٍ ← وَكِيعٌ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 11309

chevron_left Previous
1…828384…264
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    0. Chapter
2. Book
    0. Chapter
3. Book
    0. Chapter
4. Book
    0. Chapter
5. Book
    0. Chapter
6. Book
    0. Chapter
7. Book
    0. Chapter
8. Book
    0. Chapter
9. Book
    0. Chapter