Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Sunday, Jumada I 8, 1448 AH · Oct 18, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند امام احمد بن حنبل

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble

by Musnad Imam Bin Hanble

28,221 Hadith18 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 11262

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا ابْنُ مُبَارَكٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ عَنْ عَطِيَّةَ بْنِ قَيْسٍ عَنْ قَزَعَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ لَمَّا بَلَغَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْفَتْحِ مَرَّ الظَّهْرَانِ آذَنَنَا بِلِقَاءِ الْعَدُوِّ فَأَمَرَنَا بِالْفِطْرِ فَأَفْطَرْنَا أَجْمَعُونَ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے سال مرالظہران پہنچ کر دشمن سے آمنا سامنا ہونے کی ہمیں اطلاع دی اور ہمیں روزہ ختم کرنے کا حکم دیا، چنانچہ ہم سب نے روزہ ختم کرلیا

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← قَزَعَةَ ← عَطِیَّۃَ بْنِ قَیْسٍ، ← سَعِیْدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیْزِ ← ابْنُ مُبَارَكٍ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 11262

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 11263

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ غَيْلَانَ حَدَّثَنَا رِشْدِينُ قَالَ حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَدَّثَهُ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ الْمَاءُ مِنْ الْمَاءِ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وجوبِ غسل آبِ حیات کے خروج پر ہوتا ہے

"الماء من الماء" ← رَسُولِ اللَّهِ أَنَّهُ ← أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← ابْنِ شِهَابٍ، ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ← رشدين ← يَحْيَى بْنُ غَيْلَانَ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 11263

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 11264

حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ أَخْبَرَنَا لَيْثٌ عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْهَادِ عَنْ عَمْرٍو عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ إِبْلِيسَ قَالَ لِرَبِّهِ بِعِزَّتِكَ وَجَلَالِكَ لَا أَبْرَحُ أُغْوِي بَنِي آدَمَ مَا دَامَتْ الْأَرْوَاحُ فِيهِمْ فَقَالَ اللَّهُ فَبِعِزَّتِي وَجَلَالِي لَا أَبْرَحُ أَغْفِرُ لَهُمْ مَا اسْتَغْفَرُونِي

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ شیطان نے کہا تھا کہ پروردگار! مجھے تیری عزت کی قسم! میں تیرے بندوں کو اس وقت تک گمراہ کرتا رہوں گا جب تک ان کے جسم میں روح رہے گی اور پروردگار عالم نے فرمایا تھا مجھے اپنی عزت و جلال کی قسم! جب تک وہ مجھ سے معافی مانگتے رہیں گے، میں انہیں معاف کرتا رہوں گا

لِرَبِّهِ بِعِزَّتِكَ وَجَلَالِكَ لَا أَبْرَحُ أُغْوِي بَنِي آدَمَ مَا دَامَتْ الْأَرْوَاحُ فِيهِمْ ← إن إبليس ← رَسُولِ اللَّهِ ← أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← عَمْرٍو، ← یَزِیْدُ بْنُ الْھَادِ ← لَيْثٌ، ← أَبُو سَلَمَةَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 11264

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 11265

حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ نَهَارٍ الْعَبْدِيِّ أَنَّهُ سَمِعَهُ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى لَيَسْأَلُ الْعَبْدَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ حَتَّى يَقُولَ مَا مَنَعَكَ إِذْ رَأَيْتَ الْمُنْكَرَ تُنْكِرُهُ فَإِذَا لَقَّنَ اللَّهُ عَبْدًا حُجَّتَهُ قَالَ يَا رَبِّ وَثِقْتُ بِكَ وَفَرِقْتُ مِنْ النَّاسِ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت کے دن اللہ تعالیٰ بندے سے پوچھے گا کہ جب تم نے کوئی گناہ کا کام ہوتے ہوئے دیکھا تھا تو نے اس سے روکا کیوں نہیں تھا؟ پھر جسے اللہ دلیل سمجھا دے گا، وہ کہہ دے گا کہ پروردگار! مجھے آپ سے معافی کی امید تھی لیکن لوگوں سے خوف تھا

اَبِیْ سَعِیْدٍ ← نَهَارٍ الْعَبْدِيِّ أَنَّهُ سَمِعَهُ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ← أَبُو سَلَمَةَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 11265

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 11266

حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ النُّعْمَانِ الْأَنْصَارِيُّ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ مَوْلَى الْمَهْرِيِّ قَالَ تُوُفِّيَ أَخِي وَأَتَيْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ فَقُلْتُ يَا أَبَا سَعِيدٍ إِنَّ أَخِي تُوُفِّيَ وَتَرَكَ عِيَالًا وَلِي عِيَالٌ وَلَيْسَ لَنَا مَالٌ وَقَدْ أَرَدْتُ أَنْ أَخْرُجَ بِعِيَالِي وَعِيَالِ أَخِي حَتَّى نَنْزِلَ بَعْضَ هَذِهِ الْأَمْصَارِ فَيَكُونَ أَرْفَقَ عَلَيْنَا فِي مَعِيشَتِنَا قَالَ وَيْحَكَ لَا تَخْرُجْ فَإِنِّي سَمِعْتُهُ يَقُولُ يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ صَبَرَ عَلَى لَأْوَائِهَا وَشِدَّتِهَا كُنْتُ لَهُ شَفِيعًا أَوْ شَهِيدًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ

ابوسعید رحمۃ اللہ علیہ جو مہری کے آزاد کردہ غلام ہیں کہتے ہیں کہ میرے بھائی کا انتقال ہو تو میں حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ اے ابوسعید! میرے بھائی کا انتقال ہوگیا ہے، اس نے بچے بھی چھوڑے ہیں ۔ خود میرے اپنے بچے بھی ہیں اور روپیہ پیسہ ہمارے پاس نہیں ہے، میں یہ سوچ رہا ہوں کہ اپنے اور بھائی کے بچوں کو لے کر کسی شہر میں منتقل ہوجاؤں تاکہ ہماری معیشت مستحکم ہوجائے؟ انہوں نے فرمایا تمہاری سوچ پر افسوس ہے۔ یہاں سے مت جانا، کیوں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص مدینہ منورہ کی تکالیف اور پریشانیوں پر صبر کرتا ہے، میں قیامت کے دن اس کے حق میں سفارش کروں گا

تُوُفِّيَ أَخِي وَأَتَيْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ فَقُلْتُ يَا أَبَا سَعِيدٍ ← أَبِي سَعِيدٍ مَوْلَى الْمَهْرِيِّ ← أَبُو النُّعْمَانِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنِ النُّعْمَانِ الْأَنْصَارِيُّ ← أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 11266

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 11267

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى حَدَّثَنِي حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ بِشْرِ بْنِ حَرْبٍ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ أَتَى أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ فَقَالَ يَا أَبَا سَعِيدٍ أَلَمْ أُخْبَرْ أَنَّكَ بَايَعْتَ أَمِيرَيْنِ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَجْتَمِعَ النَّاسُ عَلَى أَمِيرٍ وَاحِدٍ قَالَ نَعَمْ بَايَعْتُ ابْنَ الزُّبَيْرِ فَجَاءَ أَهْلُ الشَّامِ فَسَاقُونِي إِلَى جَيْشِ بْنِ دَلَحَةَ فَبَايَعْتُهُ فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ إِيَّاهَا كُنْتُ أَخَافُ إِيَّاهَا كُنْتُ أَخَافُ وَمَدَّ بِهَا حَمَّادٌ صَوْتَهُ قَالَ أَبُو سَعِيدٍ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَوَلَمْ تَسْمَعْ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ اسْتَطَاعَ أَنْ لَا يَنَامَ نَوْمًا وَلَا يُصْبِحَ صَبَاحًا وَلَا يُمْسِيَ مَسَاءً إِلَّا وَعَلَيْهِ أَمِيرٌ قَالَ نَعَمْ وَلَكِنِّي أَكْرَهُ أَنْ أُبَايِعَ أَمِيرَيْنِ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَجْتَمِعَ النَّاسُ عَلَى أَمِيرٍ وَاحِدٍ

بشر بن حرب کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما، حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور کہنے لگے کہ مجھے معلوم ہوا ہے کہ آپ نے ایک امیر پر اتفاق رائے ہونے سے قبل ہی دو امیروں کی بیعت کر لی ہے؟ انہوں نے فرمایا ہاں ! میں نے حضرت ابن زبیر رضی اللہ عنہ کی بیعت کی تھی، پھر اہل شام آکر مجھے ابن دلحہ کے لشکر کے پاس کھینچ کرلے گئے چنانچہ میں نے مجبوراً اس سے بھی بیعت کرلی۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا مجھے بھی اسی کا خطرہ ہے (دو مرتبہ فرمایا) پھر حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ نے فرمایا اے عبدالرحمن! کیا آپ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نہیں سنا کہ جو شخص اس بات کی استطاعت رکھتا ہو کہ کوئی نیند ایسی نہ سوئے، کوئی صبح اور شام ایسی نہ کرے جس میں اس پر کوئی حکمران نہ ہو تو وہ ایسا ہی کرے؟ انہوں نے فرمایا ہاں ! سنا تو ہے لیکن میں اس چیز کو ناپسند سمجھتا ہوں کہ کسی ایک امیر پر لوگوں کے اتفاق رائے ہونے سے قبل ہی دو امیروں کی بیعت کرلوں

بِشْرِ بْنِ حَرْبٍ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 11267

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 11268

حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ مُبَارَكٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ إِيَاسٍ الْجُرَيْرِيِّ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا اسْتَجَدَّ ثَوْبًا سَمَّاهُ بِاسْمِهِ قَمِيصٌ أَوْ عِمَامَةٌ ثُمَّ يَقُولُ اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ كَسَوْتَنِيهِ أَسْأَلُكَ مِنْ خَيْرِهِ وَخَيْرِ مَا صُنِعَ لَهُ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّهِ وَشَرِّ مَا صُنِعَ لَهُ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب کوئی نیا کپڑا پہنتے تو پہلے اس کا نام رکھتے مثلاً قمیص یا عمامہ، پھر یہ دعاء پڑھتے کہ اے اللہ! تیرا شکر ہے کہ تو نے مجھے یہ لباس پہنایا، میں تجھ سے اس کی خیر اور جس مقصد کے لئے اسے بنایا گیا ہے، اس کی خیر مانگتا ہوں اور اس کے شر اور جس مقصد کے لئے اسے بنایا گیا ہے اس کے شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں

كَانَ رَسُولُ اللَّهِ إِذَا اسْتَجَدَّ ثَوْبًا سَمَّاهُ بِاسْمِهِ قَمِيصٌ أَوْ عِمَامَةٌ ثُمَّ ← أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَبِي نَضْرَةَ ← سَعِيدِ بْنِ إِيَاسٍ الْجُرَيْرِيِّ، ← ابْنُ مُبَارَكٍ، ← خَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 11268

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 11269

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ لَهِيعَةَ بْنِ عُقْبَةَ حَدَّثَنَا بُكَيْرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ سُوَيْدٍ السَّاعِدِيِّ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَّنِي جِبْرِيلُ فِي الصَّلَاةِ فَصَلَّى الظُّهْرَ حِينَ زَالَتْ الشَّمْسُ وَصَلَّى الْعَصْرَ حِينَ كَانَ الْفَيْءُ قَامَةً وَصَلَّى الْمَغْرِبَ حِينَ غَابَتْ الشَّمْسُ وَصَلَّى الْعِشَاءَ حِينَ غَابَ الشَّفَقُ وَصَلَّى الْفَجْرَ حِينَ طَلَعَ الْفَجْرُ ثُمَّ جَاءَهُ الْغَدُ فَصَلَّى الظُّهْرَ وَفَيْءُ كُلِّ شَيْءٍ مِثْلُهُ وَصَلَّى الْعَصْرَ وَالظِّلُّ قَامَتَانِ وَصَلَّى الْمَغْرِبَ حِينَ غَابَتْ الشَّمْسُ وَصَلَّى الْعِشَاءَ إِلَى ثُلُثِ اللَّيْلِ الْأَوَّلِ وَصَلَّى الصُّبْحَ حِينَ كَادَتْ الشَّمْسُ تَطْلُعُ ثُمَّ قَالَ الصَّلَاةُ فِيمَا بَيْنَ هَذَيْنِ الْوَقْتَيْنِ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک مرتبہ حضرت جبرائیل علیہ السلام نے نماز میں میری امامت کی، چنانچہ انہوں نے ظہر کی نماز زوالِ آفتاب کے وقت پڑھائی، عصر کی نماز اس قات پڑھائی جب سایہ ایک مثل کے برابر تھا، مغرب کی نماز غروبِ آفتاب کے وقت پڑھائی، نمازِ عشاء غروبِ شفق کے بعد پڑھائی اور فجر طلوعِ فجر کے بعد پڑھائی، پھر اگلے دن دوبارہ آئے اور ظہر کی نماز اس وقت پڑھائی جب ہر چیز کا سایہ ایک مثل ہوچکا تھا ، عصر کی نماز دو مثل میں پڑھائی، مغرب کی نماز غروبِ آفتاب کے وقت اور عشاء کی نماز رات کی پہلی تہائی میں پڑھائی اور فجر کی نماز اس وقت پڑھائی جب سورج نکلنے کے قریب ہوگیا تھا اور فرمایا کہ نماز کا وقت ان دونوں وقتوں کے درمیان ہے

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ سُوَيْدٍ السَّاعِدِيِّ ← بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ لَهِيعَةَ بْنِ عُقْبَةَ ← إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 11269

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 11270

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ قَالَ أَخْبَرَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ عَنْ بُكَيْرٍ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ عَنْ عَمْرِو بْنِ سُلَيْمٍ الزُّرَقِيِّ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنْ أَبِيهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْغُسْلُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ عَلَى كُلِّ مُحْتَلِمٍ وَالسِّوَاكُ وَإِنَّمَا يَمَسُّ مِنْ الطِّيبِ مَا يَقْدِرُ عَلَيْهِ وَلَوْ مِنْ طِيبِ أَهْلِهِ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جمعہ کے دن ہر بالغ آدمی پر غسل کرنا، مسواک کرنا، اور اپنی گنجائش کے مطابق خوشبو لگانا خواہ اپنے گھر کی ہو، واجب ہے

أَبِيهِ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← عَمْرِو بْنِ سُلَيْمٍ الزُّرَقِيِّ ← أَبِي بَكْرِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ← بُكَيْرٍ، ← ابْنُ لَهِيعَةَ ← إِسْحَاقُ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 11270

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 11271

حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ حَرْبٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ يَقُولُ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ الْوِصَالِ قَالَ فَقِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَمَا لَكَ أَنْ تَفْعَلَهُ قَالَ إِنِّي لَسْتُ كَأَحَدِكُمْ إِنِّي أُطْعَمُ وَأُسْقَى

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک سحری سے مسلسل کئی روزے رکھنے سے منع فرمایا ہے، صحابہ کرام نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ تو اس طرح تسلسل کے ساتھ روزے رکھتے ہیں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس معاملے میں میں تمہاری طرح نہیں ہوں ، میں تو اس حال میں رات گذارتا ہوں کہ میرا رب خود ہی مجھے کھلاتا پلا دیتا ہے

أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، ← بِشْرِ بْنِ حَرْبٍ ← حَمَّادٌ -يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ-، ← يُونُسَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 11271

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 11272

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ رُبَيْحِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ كُنَّا نَتَنَاوَبُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَبِيتُ عِنْدَهُ تَكُونُ لَهُ الْحَاجَةُ أَوْ يَطْرُقُهُ أَمْرٌ مِنْ اللَّيْلِ فَيَبْعَثُنَا فَيَكْثُرُ الْمُحْتَسِبُونَ وَأَهْلُ النُّوَبِ فَكُنَّا نَتَحَدَّثُ فَخَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ اللَّيْلِ فَقَالَ مَا هَذِهِ النَّجْوَى أَلَمْ أَنْهَكُمْ عَنْ النَّجْوَى قَالَ قُلْنَا نَتُوبُ إِلَى اللَّهِ يَا نَبِيَّ اللَّهِ إِنَّمَا كُنَّا فِي ذِكْرِ الْمَسِيحِ فَرَقًا مِنْهُ فَقَالَ أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِمَا هُوَ أَخْوَفُ عَلَيْكُمْ مِنْ الْمَسِيحِ عِنْدِي قَالَ قُلْنَا بَلَى قَالَ الشِّرْكُ الْخَفِيُّ أَنْ يَقُومَ الرَّجُلُ يَعْمَلُ لِمَكَانِ رَجُلٍ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم لوگ باری باری رات کے وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس رکتے تھے، تاکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو رات کے وقت کوئی ضرورت یا کام پیش آجائے تو وہ ہمیں بھیج سکیں ، بعض اوقات یہ ثواب کمانے والے اور باری والے افراد کافی تعداد میں اکٹھے ہوجاتے تھے، اس صورت میں ہم لوگ آپس میں باتیں کرتے رہتے تھے، ایک مرتبہ رات کے وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا یہ کیسی سرگوشیاں ہیں ؟ کیا میں تمہیں سرگوشیاں کرنے سے منع نہیں کرتا؟ ہم نے کہا اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم توبہ کرتے ہیں ، دراصل ہم لوگ دجال کا تذکرہ کررہے تھے، ہمیں اس سے ڈر لگ رہا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا میں تمہیں ایسی چیز نہ بتاؤں جو میرے نزدیک تمہارے لئے دجال سے بھی زیادہ خطرناک ہے؟ ہم نے عرض کیا کیوں نہیں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ شرکِ خفی ہے کہ انسان کسی عمل کے لئے کسی دوسرے انسان کی وجہ سے کھڑا ہو

جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← رُبَيْحُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ ← كَثِيرُ بْنُ زَيْدٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 11272

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 11273

حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي الْعُمَرِيَّ عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسِ ذَوْدٍ صَدَقَةٌ وَلَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسِ أَوَاقٍ صَدَقَةٌ وَلَا فِيمَا دُونَ خَمْسَةِ أَوْسُقٍ صَدَقَةٌ

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا پانچ اونٹوں سے کم میں زکوۃ نہیں ہے، پانچ اوقیہ سے کم چاندی میں زکوۃ نہیں ہے اور پانچ وسق سے کم گندم میں بھی زکوۃ نہیں ہے

اَبِیْ سَعِیْدٍ ← أَبِيهِ ← الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ ← عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي الْعُمَرِيَّ ← حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 11273

chevron_left Previous
1…798081…264
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    0. Chapter
2. Book
    0. Chapter
3. Book
    0. Chapter
4. Book
    0. Chapter
5. Book
    0. Chapter
6. Book
    0. Chapter
7. Book
    0. Chapter
8. Book
    0. Chapter
9. Book
    0. Chapter