Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Sunday, Jumada I 8, 1448 AH · Oct 18, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند امام احمد بن حنبل

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble

by Musnad Imam Bin Hanble

28,221 Hadith18 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 11214

حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ عَوْفٍ حَدَّثَنَا أَبُو نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْتَرِقُ أُمَّتِي فِرْقَتَيْنِ فَيَتَمَرَّقُ بَيْنَهُمَا مَارِقَةٌ يَقْتُلُهَا أَوْلَى الطَّائِفَتَيْنِ بِالْحَقِّ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میری امت دو فرقوں میں بٹ جائے گی اور ان دونوں کے درمیان ایک گروہ نکلے گا جسے ان دو فرقوں میں سے حق کے زیادہ قریب فرقہ قتل کرے گا

اَبِیْ سَعِیْدٍ ← أَبُو نَضْرَةَ، ← عَوْفٌ، ← يَحْيَى

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 11214

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 11215

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ حَدَّثَنَا عِيَاضٌ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ دَخَلَ رَجُلٌ الْمَسْجِدَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ فَدَعَاهُ فَأَمَرَهُ أَنْ يُصَلِّيَ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ دَخَلَ الْجُمُعَةَ الثَّانِيَةَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ فَدَعَاهُ فَأَمَرَهُ ثُمَّ دَخَلَ الْجُمُعَةَ الثَّالِثَةَ فَأَمَرَهُ أَنْ يُصَلِّيَ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ قَالَ تَصَدَّقُوا فَفَعَلُوا فَأَعْطَاهُ ثَوْبَيْنِ مِمَّا تَصَدَّقُوا ثُمَّ قَالَ تَصَدَّقُوا فَأَلْقَى أَحَدَ ثَوْبَيْهِ فَانْتَهَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَرِهَ مَا صَنَعَ ثُمَّ قَالَ انْظُرُوا إِلَى هَذَا فَإِنَّهُ دَخَلَ الْمَسْجِدَ فِي هَيْئَةٍ بَذَّةٍ فَدَعَوْتُهُ فَرَجَوْتُ أَنْ تُعْطُوا لَهُ فَتَصَدَّقُوا عَلَيْهِ وَتَكْسُوهُ فَلَمْ تَفْعَلُوا فَقُلْتُ تَصَدَّقُوا فَتَصَدَّقُوا فَأَعْطَيْتُهُ ثَوْبَيْنِ مِمَّا تَصَدَّقُوا ثُمَّ قُلْتُ تَصَدَّقُوا فَأَلْقَى أَحَدَ ثَوْبَيْهِ خُذْ ثَوْبَكَ وَانْتَهَرَهُ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی جمعہ کے دن مسجد نبوی میں داخل ہوا اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر خطبہ ارشاد فرما رہے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بلا کر دو رکعتیں پڑھنے کا حکم دیا، پھر یکے بعد دیگرے دو آدمی اور آئے، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بھی یہی حکم دیا، پھر لوگوں کو صدقہ دینے کی ترغیب دی، لوگ صدقات دینے لگے، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان صدقات میں سے دو کپڑے لے کر اس آنے والے کو دے دئیے ، اور فرمایا کہ لوگو! صدقہ دو، اس پر اس آدمی نے ایک کپڑا صدقات میں ڈال دیا، اس کی اس حرکت پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ڈانٹا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی یہ حرکت ناگوار گذری، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس شخص کو دیکھو، یہ مسجد میں پراگندہ حالت میں آیا تھا ، میں نے اسے بلایا، مجھے امید تھی کہ تم اسے کچھ دے کر اس پر صدقہ کرو گے اور اسے صاف کپڑے پہناؤ دوگے، لیکن تم نے ایسا نہ کیا، پھر میں نے تم سے صراحۃً صدقہ کرنے کے لئے کہا، تم نے صدقہ کیا اور میں نے اس میں سے دو کپڑے اسے دے دئیے ، پھر دوبارہ صدقہ کی ترغیب دی تو اس نے ان میں سے ایک کپڑا اس میں ڈال دیا، یہ اپنا کپڑالے لو، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ڈانٹ کر فرمایا

اَبِیْ سَعِیْدٍ ← عِيَاضٍ، ← ابْنِ عَجْلَانَ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 11215

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 11216

حَدَّثَنَا يَحْيَى حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ حُبِسْنَا يَوْمَ الْخَنْدَقِ عَنْ الصَّلَوَاتِ حَتَّى كَانَ بَعْدَ الْمَغْرِبِ هَوِيًّا وَذَلِكَ قَبْلَ أَنْ يَنْزِلَ فِي الْقِتَالِ مَا نَزَلَ فَلَمَّا كُفِينَا الْقِتَالَ وَذَلِكَ قَوْلُهُ وَكَفَى اللَّهُ الْمُؤْمِنِينَ الْقِتَالَ وَكَانَ اللَّهُ قَوِيًّا عَزِيزًا أَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِلَالًا فَأَقَامَ الظُّهْرَ فَصَلَّاهَا كَمَا يُصَلِّيهَا فِي وَقْتِهَا ثُمَّ أَقَامَ الْعَصْرَ فَصَلَّاهَا كَمَا يُصَلِّيهَا فِي وَقْتِهَا ثُمَّ أَقَامَ الْمَغْرِبَ فَصَلَّاهَا كَمَا يُصَلِّيهَا فِي وَقْتِهَا حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ فَذَكَرَهُ بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ وَزَادَ فِيهِ قَالَ وَذَلِكَ قَبْلَ أَنْ يَنْزِلَ صَلَاةَ الْخَوْفِ فَرِجَالًا أَوْ رُكْبَانًا

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ غزوہ خندق کے دن ہم لوگوں کو نماز پڑھنے کا موقع ہی نہیں ملا، یہاں تک کہ مغرب کے بعد بھی کچھ وقت بیت گیا، اس وقت تک میدانِ قتال میں نمازِ خوف کا وہ طریقہ نازل نہیں ہوا تھا، جو بعد میں نازل ہوا، جب قتال کے معاملے میں ہماری کفایت ہوگئی " یعنی اللہ نے یہ فرما دیا کہ اللہ مسلمانوں کی قتال میں کفایت کرے گا۔ اور اللہ طاقتور اور غالب ہے " تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا، انہوں نے ظہر کے لئے اقامت کہی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھائی جیسے عام وقت میں نماز پڑھاتے تھے، پھر نمازِ عصر بھی اسی طرح پڑھائی جیسے اپنے وقت میں پڑھاتے تھے، اسی طرح مغرب بھی اس کے اپنے وقت کی طرح پڑھائی گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 11216

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 11217

حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ فَذَكَرَهُ بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ وَزَادَ فِيهِ قَالَ وَذَلِكَ قَبْلَ أَنْ يَنْزِلَ صَلَاةَ الْخَوْفِ فَرِجَالًا أَوْ رُكْبَانًا

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ غزوہ خندق کے دن ہم لوگوں کو نماز پڑھنے کا موقع ہی نہیں ملا، یہاں تک کہ مغرب کے بعد بھی کچھ وقت بیت گیا، اس وقت تک میدانِ قتال میں نمازِ خوف کا وہ طریقہ نازل نہیں ہوا تھا، جو بعد میں نازل ہوا، جب قتال کے معاملے میں ہماری کفایت ہوگئی " یعنی اللہ نے یہ فرما دیا کہ اللہ مسلمانوں کی قتال میں کفایت کرے گا۔ اور اللہ طاقتور اور غالب ہے " تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا، انہوں نے ظہر کے لئے اقامت کہی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھائی جیسے عام وقت میں نماز پڑھاتے تھے، پھر نمازِ عصر بھی اسی طرح پڑھائی جیسے اپنے وقت میں پڑھاتے تھے، اسی طرح مغرب بھی اس کے اپنے وقت کی طرح پڑھائی گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے

وَذَلِكَ قَبْلَ أَنْ يَنْزِلَ صَلَاةَ الْخَوْفِ فَرِجَالًا أَوْ رُكْبَانًا ← ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ فَذَكَرَهُ بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ وَزَادَ فِيهِ ← أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 11217

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 11218

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ غِيَاثٍ قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ يُعْرَضُ النَّاسُ عَلَى جِسْرِ جَهَنَّمَ وَعَلَيْهِ حَسَكٌ وَكَلَالِيبُ وَخَطَاطِيفُ تَخْطَفُ النَّاسَ قَالَ فَيَمُرُّ النَّاسُ مِثْلَ الْبَرْقِ وَآخَرُونَ مِثْلَ الرِّيحِ وَآخَرُونَ مِثْلَ الْفَرَسِ الْمُجِدِّ وَآخَرُونَ يَسْعَوْنَ سَعْيًا وَآخَرُونَ يَمْشُونَ مَشْيًا وَآخَرُونَ يَحْبُونَ حَبْوًا وَآخَرُونَ يَزْحَفُونَ زَحْفًا فَأَمَّا أَهْلُ النَّارِ فَلَا يَمُوتُونَ وَلَا يَحْيَوْنَ وَأَمَّا نَاسٌ فَيُؤْخَذُونَ بِذُنُوبِهِمْ فَيُحْرَقُونَ فَيَكُونُونَ فَحْمًا ثُمَّ يَأْذَنُ اللَّهُ فِي الشَّفَاعَةِ فَيُوجَدُونَ ضِبَارَاتٍ ضِبَارَاتٍ فَيُقْذَفُونَ عَلَى نَهَرٍ فَيَنْبُتُونَ كَمَا تَنْبُتُ الْحِبَّةُ فِي حَمِيلِ السَّيْلِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَلْ رَأَيْتُمْ الصَّبْغَاءَ فَقَالَ وَعَلَى النَّارِ ثَلَاثُ شَجَرَاتٍ فَتَخْرُجُ أَوْ يَخْرُجُ رَجُلٌ مِنْ النَّارِ فَيَكُونُ عَلَى شَفَتِهَا فَيَقُولُ يَا رَبِّ اصْرِفْ وَجْهِي عَنْهَا قَالَ فَيَقُولُ وَعَهْدِكَ وَذِمَّتِكَ لَا تَسْأَلُنِي غَيْرَهَا قَالَ فَيَرَى شَجَرَةً فَيَقُولُ يَا رَبِّ أَدْنِنِي مِنْ هَذِهِ الشَّجَرَةِ أَسْتَظِلُّ بِظِلِّهَا وَآكُلُ مِنْ ثَمَرَتِهَا قَالَ فَيَقُولُ وَعَهْدِكَ وَذِمَّتِكَ لَا تَسْأَلُنِي غَيْرَهَا قَالَ فَيَرَى شَجَرَةً أُخْرَى أَحْسَنَ مِنْهَا فَيَقُولُ يَا رَبِّ حَوِّلْنِي إِلَى هَذِهِ الشَّجَرَةِ فَأَسْتَظِلَّ بِظِلِّهَا وَآكُلَ مِنْ ثَمَرَتِهَا فَيَقُولُ وَعَهْدِكَ وَذِمَّتِكَ لَا تَسْأَلُنِي غَيْرَهَا قَالَ فَيَرَى الثَّالِثَةَ فَيَقُولُ يَا رَبِّ حَوِّلْنِي إِلَى هَذِهِ الشَّجَرَةِ أَسْتَظِلُّ بِظِلِّهَا وَآكُلُ مِنْ ثَمَرَتِهَا قَالَ وَعَهْدِكَ وَذِمَّتِكَ لَا تَسْأَلُنِي غَيْرَهَا قَالَ فَيَرَى سَوَادَ النَّاسِ وَيَسْمَعُ أَصْوَاتَهُمْ فَيَقُولُ رَبِّ أَدْخِلْنِي الْجَنَّةَ قَالَ فَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ وَرَجُلٌ آخَرُ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اخْتَلَفَا فَقَالَ أَحَدُهُمَا فَيَدْخُلُ الْجَنَّةَ فَيُعْطَى الدُّنْيَا وَمِثْلَهَا مَعَهَا وَقَالَ الْآخَرُ يُدْخَلُ الْجَنَّةَ فَيُعْطَى الدُّنْيَا وَعَشَرَةَ أَمْثَالِهَا حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ غِيَاثٍ حَدَّثَنَا أَبُو نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ يَمُرُّ النَّاسُ عَلَى جِسْرِ جَهَنَّمَ فَذَكَرَهُ قَالَ بِجَنْبَتَيْهِ مَلَائِكَةٌ يَقُولُونَ اللَّهُمَّ سَلِّمْ سَلِّمْ وَقَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَا رَأَيْتُمْ الصَّبْغَاءَ شَجَرَةٌ تَنْبُتُ فِي الْغُثَاءِ وَقَالَ وَأَمَّا أَهْلُ النَّارِ الَّذِينَ هُمْ أَهْلُهَا فَذَكَرَ مَعْنَاهُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ غِيَاثٍ وَأَمْلَاهُ عَلَيَّ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا نَضْرَةَ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ ذَكَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الشَّفَاعَةَ فَقَالَ إِنَّ النَّاسَ يُعْرَضُونَ عَلَى جِسْرِ جَهَنَّمَ وَعَلَيْهِ حَسَكٌ وَكَلَالِيبُ يَخْطَفُ النَّاسَ وَبِجَنْبَتَيْهِ الْمَلَائِكَةُ يَقُولُونَ اللَّهُمَّ سَلِّمْ سَلِّمْ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ لوگوں کو جہنم کے پل پر لایا جائے گا جہاں آنکڑے، کانٹے اور اچکنے والی چیزیں ہوں گی، کچھ لوگ تو اس پر سے بجلی کی طرح گذر جائیں گے، کچھ ہوا کی طرح، کچھ تیز رفتار گھوڑوں کی طرح، کچھ دوڑتے ہوئے، کچھ چلتے ہوئے، کچھ گھسیٹتے ہوئے اور کچھ اپنی سرین کے بل چلتے ہوئے گذریں گے، باقی جہنمی تو وہ اس میں زندہ ہوں گے نہ مردہ، البتہ کچھ لوگوں کو ان کے گناہوں کی وجہ سے پکڑ لیا جائے گا اور وہ جل کر کوئلہ ہوجائیں گے، پھر اللہ تعالیٰ سفارش کی اجازت دیں گے اور انہیں گروہ در گروہ جہنم سے نکال لیا جائےگا۔ پھر انہیں ایک نہر میں غوطہ دیا جائے گا اور وہ اس طرح اگ آئیں گے جیسے کیچڑ میں دانہ اگ آتا ہے، اس کی مثال نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے " صبغاء" سے دی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مزید فرمایا کہ پل صراط پر تین درخت ہوں گے، جہنم سے ایک آدمی نکل کر ان کے کنارے پہنچے گا اور کہے گا کہ پروردگار! میرا رخ جہنم سے پھیر دے، اللہ تعالیٰ اس سے یہ عہد و پیمان لے گا کہ تو اس کے بعد مجھ سے مزید کچھ نہ مانگے گا، اسی اثناء میں وہ ایک درخت دیکھے گا تو کہے گا کہ پروردگار! مجھے اس درخت کے قریب کردے تاکہ میں اس کا سایہ حاصل کروں اور اس درخت کے پھل کھاؤں ۔ اللہ اس سے پھر وہی وعدہ لے گا، اچانک وہ ایک اور درخت دیکھے گا تو کہے گا کہ پروردگار! مجھے اس درخت کے قریب کردے تاکہ میں اس کا سایہ حاصل کروں اور اس کے پھل کھاؤں ، اللہ اس سے پھر وہی وعدہ لے گا، اچانک وہ اس سے بھی خوبصورت درخت دیکھے گا تو کہے گا کہ پروردگار! مجھے اس درخت کے قریب کردے تاکہ میں اس کا سایہ حاصل کروں اور اس کے پھل کھاؤں ، اللہ اس سے پھر وہی وعدہ لے گا، پھر وہ لوگوں کا سایہ دیکھے اور ان کی آوازیں سنے گا تو کہے گا کہ پروردگار! مجھے جنت میں داخل فرما۔ اس کے حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ اور ایک دوسرے صحابی رضی اللہ عنہ کے درمیان یہ اختلاف رائے ہے کہ ان میں سے ایک کے مطابق اسے جنت میں داخل کرکے دنیا اور اس سے ایک گنا مزید دیا جائے گا اور دوسرے کے مطابق اسے دنیا اور اس سے دس گنامزید دیا جائے گا

يُعْرَضُ النَّاسُ عَلَى جِسْرِ جَهَنَّمَ وَعَلَيْهِ حَسَكٌ وَكَلَالِيبُ وَخَطَاطِيفُ تَخْطَفُ النَّاسَ ← أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَبُو نَضْرَةَ، ← عُثْمَانُ بْنُ غِيَاثٍ ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 11218

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 11219

حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ غِيَاثٍ حَدَّثَنَا أَبُو نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ يَمُرُّ النَّاسُ عَلَى جِسْرِ جَهَنَّمَ فَذَكَرَهُ قَالَ بِجَنْبَتَيْهِ مَلَائِكَةٌ يَقُولُونَ اللَّهُمَّ سَلِّمْ سَلِّمْ وَقَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَا رَأَيْتُمْ الصَّبْغَاءَ شَجَرَةٌ تَنْبُتُ فِي الْغُثَاءِ وَقَالَ وَأَمَّا أَهْلُ النَّارِ الَّذِينَ هُمْ أَهْلُهَا فَذَكَرَ مَعْنَاهُ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ لوگوں کو جہنم کے پل پر لایا جائے گا جہاں آنکڑے، کانٹے اور اچکنے والی چیزیں ہوں گی، کچھ لوگ تو اس پر سے بجلی کی طرح گذر جائیں گے، کچھ ہوا کی طرح، کچھ تیز رفتار گھوڑوں کی طرح، کچھ دوڑتے ہوئے، کچھ چلتے ہوئے، کچھ گھسیٹتے ہوئے اور کچھ اپنی سرین کے بل چلتے ہوئے گذریں گے، باقی جہنمی تو وہ اس میں زندہ ہوں گے نہ مردہ، البتہ کچھ لوگوں کو ان کے گناہوں کی وجہ سے پکڑ لیا جائے گا اور وہ جل کر کوئلہ ہوجائیں گے، پھر اللہ تعالیٰ سفارش کی اجازت دیں گے اور انہیں گروہ در گروہ جہنم سے نکال لیا جائےگا۔ پھر انہیں ایک نہر میں غوطہ دیا جائے گا اور وہ اس طرح اگ آئیں گے جیسے کیچڑ میں دانہ اگ آتا ہے، اس کی مثال نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے " صبغاء" سے دی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مزید فرمایا کہ پل صراط پر تین درخت ہوں گے، جہنم سے ایک آدمی نکل کر ان کے کنارے پہنچے گا اور کہے گا کہ پروردگار! میرا رخ جہنم سے پھیر دے، اللہ تعالیٰ اس سے یہ عہد و پیمان لے گا کہ تو اس کے بعد مجھ سے مزید کچھ نہ مانگے گا، اسی اثناء میں وہ ایک درخت دیکھے گا تو کہے گا کہ پروردگار! مجھے اس درخت کے قریب کردے تاکہ میں اس کا سایہ حاصل کروں اور اس درخت کے پھل کھاؤں ۔ اللہ اس سے پھر وہی وعدہ لے گا، اچانک وہ ایک اور درخت دیکھے گا تو کہے گا کہ پروردگار! مجھے اس درخت کے قریب کردے تاکہ میں اس کا سایہ حاصل کروں اور اس کے پھل کھاؤں ، اللہ اس سے پھر وہی وعدہ لے گا، اچانک وہ اس سے بھی خوبصورت درخت دیکھے گا تو کہے گا کہ پروردگار! مجھے اس درخت کے قریب کردے تاکہ میں اس کا سایہ حاصل کروں اور اس کے پھل کھاؤں ، اللہ اس سے پھر وہی وعدہ لے گا، پھر وہ لوگوں کا سایہ دیکھے اور ان کی آوازیں سنے گا تو کہے گا کہ پروردگار! مجھے جنت میں داخل فرما۔ اس کے حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ اور ایک دوسرے صحابی رضی اللہ عنہ کے درمیان یہ اختلاف رائے ہے کہ ان میں سے ایک کے مطابق اسے جنت میں داخل کرکے دنیا اور اس سے ایک گنا مزید دیا جائے گا اور دوسرے کے مطابق اسے دنیا اور اس سے دس گنامزید دیا جائے گا

بِجَنْبَتَيْهِ مَلَائِكَةٌ يَقُولُونَ اللَّهُمَّ سَلِّمْ سَلِّمْ وَقَالَ ← يَمُرُّ النَّاسُ عَلَى جِسْرِ جَهَنَّمَ فَذَكَرَهُ ← النَّبِیِّ اَنَّہٗ ← أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَبُو نَضْرَةَ، ← عُثْمَانُ بْنُ غِيَاثٍ ← رَوْحٌ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 11219

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 11220

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ غِيَاثٍ وَأَمْلَاهُ عَلَيَّ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا نَضْرَةَ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ ذَكَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الشَّفَاعَةَ فَقَالَ إِنَّ النَّاسَ يُعْرَضُونَ عَلَى جِسْرِ جَهَنَّمَ وَعَلَيْهِ حَسَكٌ وَكَلَالِيبُ يَخْطَفُ النَّاسَ وَبِجَنْبَتَيْهِ الْمَلَائِكَةُ يَقُولُونَ اللَّهُمَّ سَلِّمْ سَلِّمْ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ لوگوں کو جہنم کے پل پر لایا جائے گا جہاں آنکڑے، کانٹے اور اچکنے والی چیزیں ہوں گی، کچھ لوگ تو اس پر سے بجلی کی طرح گذر جائیں گے، کچھ ہوا کی طرح، کچھ تیز رفتار گھوڑوں کی طرح، کچھ دوڑتے ہوئے، کچھ چلتے ہوئے، کچھ گھسیٹتے ہوئے اور کچھ اپنی سرین کے بل چلتے ہوئے گذریں گے، باقی جہنمی تو وہ اس میں زندہ ہوں گے نہ مردہ، البتہ کچھ لوگوں کو ان کے گناہوں کی وجہ سے پکڑ لیا جائے گا اور وہ جل کر کوئلہ ہوجائیں گے، پھر اللہ تعالیٰ سفارش کی اجازت دیں گے اور انہیں گروہ در گروہ جہنم سے نکال لیا جائےگا۔ پھر انہیں ایک نہر میں غوطہ دیا جائے گا اور وہ اس طرح اگ آئیں گے جیسے کیچڑ میں دانہ اگ آتا ہے، اس کی مثال نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے " صبغاء" سے دی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مزید فرمایا کہ پل صراط پر تین درخت ہوں گے، جہنم سے ایک آدمی نکل کر ان کے کنارے پہنچے گا اور کہے گا کہ پروردگار! میرا رخ جہنم سے پھیر دے، اللہ تعالیٰ اس سے یہ عہد و پیمان لے گا کہ تو اس کے بعد مجھ سے مزید کچھ نہ مانگے گا، اسی اثناء میں وہ ایک درخت دیکھے گا تو کہے گا کہ پروردگار! مجھے اس درخت کے قریب کردے تاکہ میں اس کا سایہ حاصل کروں اور اس درخت کے پھل کھاؤں ۔ اللہ اس سے پھر وہی وعدہ لے گا، اچانک وہ ایک اور درخت دیکھے گا تو کہے گا کہ پروردگار! مجھے اس درخت کے قریب کردے تاکہ میں اس کا سایہ حاصل کروں اور اس کے پھل کھاؤں ، اللہ اس سے پھر وہی وعدہ لے گا، اچانک وہ اس سے بھی خوبصورت درخت دیکھے گا تو کہے گا کہ پروردگار! مجھے اس درخت کے قریب کردے تاکہ میں اس کا سایہ حاصل کروں اور اس کے پھل کھاؤں ، اللہ اس سے پھر وہی وعدہ لے گا، پھر وہ لوگوں کا سایہ دیکھے اور ان کی آوازیں سنے گا تو کہے گا کہ پروردگار! مجھے جنت میں داخل فرما۔ اس کے حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ اور ایک دوسرے صحابی رضی اللہ عنہ کے درمیان یہ اختلاف رائے ہے کہ ان میں سے ایک کے مطابق اسے جنت میں داخل کرکے دنیا اور اس سے ایک گنا مزید دیا جائے گا اور دوسرے کے مطابق اسے دنیا اور اس سے دس گنامزید دیا جائے گا

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَبَا نَضْرَةَ ← عثمان بن غياث وأملاه علي ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 11220

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 11221

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ مَالِكٍ حَدَّثَنِي أَيُّوبُ بْنُ حَبِيبٍ عَنْ أَبِي الْمُثَنَّى قَالَ كُنْتُ عِنْدَ مَرْوَانَ فَدَخَلَ أَبُو سَعِيدٍ فَقَالَ سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَى عَنْ النَّفْخِ فِي الشَّرَابِ قَالَ نَعَمْ فَقَالَ رَجُلٌ إِنِّي لَا أُرْوَى مِنْ نَفَسٍ وَاحِدٍ قَالَ أَبِنْهُ عَنْكَ ثُمَّ تَنَفَّسْ قَالَ أَرَى فِيهِ الْقَذَاةَ قَالَ فَأَهْرِقْهَا

ابوالمثنیٰ رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں مروان کے پاس تھا کہ حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بھی تشریف لے آئے، مروان نے ان سے پوچھا کہ کیا آپ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مشروبات میں سانس لینے سے منع فرماتے ہوئے سنا ہے؟ انہوں نے فرمایا ہاں ! ایک آدمی کہنے لگا میں ایک ہی سانس میں سیراب نہیں ہوسکتا، میں کیا کروں ؟ انہوں نے فرمایا برتن کو اپنے منہ سے جدا کر کے پھر سانس لیا کرو، اس نے کہا کہ اگر مجھے اس میں کوئی تنکا وغیرہ نظر آئے تب بھی پھونک نہ ماروں ؟ فرمایا اسے بہا دیا کرو

فَأَهْرِقْهَا ← أَرَى فِيهِ الْقَذَاةَ ← أَبِنْهُ عَنْكَ ثُمَّ تَنَفَّسْ ← نَعَمْ فَقَالَ رَجُلٌ إِنِّي لَا أُرْوَى مِنْ نَفَسٍ وَاحِدٍ ← النَّفْخِ فِي الشَّرَابِ ← رَسُولَ اللَّهِ «يَنْهَى ← كُنْتُ عِنْدَ مَرْوَانَ فَدَخَلَ أَبُو سَعِيدٍ فَقَالَ ← أَبِي الْمُثَنَّی ← أَيُّوبَ بْنِ حَبِيبٍ ← مَالِكٍ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 11221

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 11222

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ مُجَالِدٍ قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو الْوَدَّاكِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْعَزْلِ قَالَ اصْنَعُوا مَا بَدَا لَكُمْ فَإِنْ قَدَّرَ اللَّهُ شَيْئًا كَانَ

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عزل کے متعلق فرمایا تم جو مرضی کرتے رہو، اللہ نے تقدیر میں جو کچھ لکھ دیا ہے وہ ہو کر رہے گا

اصْنَعُوا مَا بَدَا لَكُمْ فَإِنْ قَدَّرَ اللَّهُ شَيْئًا كَانَ ← النبي في العزل ← اَبِیْ سَعِیْدٍ ← أَبُو الْوَدَّاكِ: ← مجالد ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 11222

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 11223

حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ مُجَالِدٍ حَدَّثَنِي أَبُو الْوَدَّاكِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ قُلْنَا لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا حُرِّمَتْ الْخَمْرُ إِنَّ عِنْدَنَا خَمْرًا لِيَتِيمٍ لَنَا فَأَمَرَنَا فَأَهْرَقْنَاهَا

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب شراب حرام ہوگئی تو ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ ہمارے پاس ایک یتیم بچے کی شراب پڑی ہوئی ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اسے بہانے کا حکم دیا، چنانچہ ہم نے اسے بہا دیا

اَبِیْ سَعِیْدٍ ← أَبُو الْوَدَّاكِ: ← مجالد ← يَحْيَى

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 11223

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 11224

حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ مُجَالِدٍ قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو الْوَدَّاكِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ أَهْلَ الدَّرَجَاتِ الْعُلَى لَيَرَوْنَ مَنْ فَوْقَهُمْ كَمَا تَرَوْنَ الْكَوْكَبَ الدُّرِّيَّ فِي أُفُقِ السَّمَاءِ وَإِنَّ أَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ مِنْهُمْ وَأَنْعَمَا

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جنت میں اونچے درجات والے اس طرح نظر آئیں گے جیسے تم آسمان کے افق میں روشن ستاروں کو دیکھتے ہو، اور ابوبکر رضی اللہ عنہ و عمر رضی اللہ عنہ بھی ان میں سے ہیں اور یہ دونوں وہاں ناز و نعم میں ہوں گے

النَّبِيِّ ← اَبِیْ سَعِیْدٍ ← أَبُو الْوَدَّاكِ: ← مجالد ← يَحْيَى

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 11224

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 11225

حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ شُعْبَةَ عَنِ الْحَكَمِ عَنْ أَبِي صَالِحٍ ذَكْوَانَ السَّمَّانِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَى مَنْزِلَ رَجُلٍ مِنْ الْأَنْصَارِ فَخَرَجَ وَرَأْسُهُ يَقْطُرُ قَالَ لَعَلَّنَا أَعْجَلْنَاكَ قَالَ إِذَا أُعْجِلْتَ أَوْ أُقْحِطْتَ فَلَيْسَ عَلَيْكَ غُسْلٌ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک انصاری صحابی کی طرف گئے، وہ آئے تو ان کے سر سے پانی کے قطرے ٹپک رہے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا شاید ہم نے تمہیں جلدی فراغت پانے پر مجبور کر دیا؟ انہوں نے کہا جی ہاں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب ایسی کیفیت میں جلدی ہو تو صرف وضو کرلیا کرو ،غسل نہ کیا کرو۔ (بلکہ بعد میں اطمینان سے غسل کیا کرو)

اَبِیْ سَعِیْدٍ ← أَبِي صَالِحٍ ذَكْوَانَ السَّمَّانِ ← الْحَكَمِ ← شُعْبَةُ، ← يَحْيَى

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 11225

chevron_left Previous
1…757677…264
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    0. Chapter
2. Book
    0. Chapter
3. Book
    0. Chapter
4. Book
    0. Chapter
5. Book
    0. Chapter
6. Book
    0. Chapter
7. Book
    0. Chapter
8. Book
    0. Chapter
9. Book
    0. Chapter