Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Jumada I 7, 1448 AH · Oct 17, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند امام احمد بن حنبل

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble

by Musnad Imam Bin Hanble

28,221 Hadith18 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 11094

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ أَخْبَرَنَا ابْنُ عَوْنٍ عَنْ مُحَمَّدٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ بِشْرِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ فَرَدَّ الْحَدِيثَ حَتَّى رَدَّهُ إِلَى أَبِي سَعِيدٍ قَالَ ذُكِرَ ذَلِكَ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ وَمَا ذَاكُمْ قَالُوا الرَّجُلُ تَكُونُ لَهُ الْمَرْأَةُ تُرْضِعُ فَيُصِيبُ مِنْهَا وَيَكْرَهُ أَنْ تَحْمِلَ مِنْهُ وَالرَّجُلُ تَكُونُ لَهُ الْجَارِيَةُ فَيُصِيبُ مِنْهَا وَيَكْرَهُ أَنْ تَحْمِلَ مِنْهُ فَقَالَ فَلَا عَلَيْكُمْ أَنْ تَفْعَلُوا ذَاكُمْ فَإِنَّمَا هُوَ الْقَدَرُ قَالَ ابْنُ عَوْنٍ فَحَدَّثْتُ بِهِ الْحَسَنَ فَقَالَ فَلَا عَلَيْكُمْ لَكَأَنَّ هَذَا زَجْرٌ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ ایک مرتبہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا کہ ایک آدمی کی بیوی اپنے بچے کو دودھ پلاتی ہے، وہ اس سے اپنی خواہش بھی پوری کرتا ہے اور اس کے حاملہ ہونے کو بھی اچھا نہیں سمجھتا، اسی طرح کسی شخص کی اگر باندی ہو اور وہ اس سے اپنی خواہش بھی پوری کرتا ہے لیکن اس کے حاملہ ہونے کو بھی اچھا نہیں سمجھتا، وہ کیا کرے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تم یہ کام کرو تو تم پر کوئی گناہ نہیں ہے، کیوں کہ یہ چیز تقدیر کا حصہ ہے۔

وَمَا ذَاكُمْ؟ ← ذَلِكَ عِنْدَ النَّبِيِّ ← فَرَدَّ الْحَدِيثَ حَتَّى رَدَّهُ إِلَى أَبِي سَعِيدٍ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ بِشْرِ بْنِ مَسْعُودٍ ← مُحَمَّدٍ ← ابْنِ عَوْنٍ ← إِسْمَاعِيلُ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 11094

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 11095

حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَسُبُّوا أَصْحَابِي فَإِنَّ أَحَدَكُمْ لَوْ أَنْفَقَ مِثْلَ أُحُدٍ ذَهَبًا مَا بَلَغَ مُدَّ أَحَدِهِمْ وَلَا نَصِيفَهُ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے صحابہ کو برا بھلا مت کہا کرو ، کیونکہ اگر تم میں سے کوئی شخص احد پہاڑ کے برابر بھی سونا خرچ کردے تو وہ ان میں سے کسی کے مد بلکہ اس کے نصف تک کو بھی نہیں پہنچ سکتا۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو مُعَاوِيَةَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 11095

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 11096

حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ أَوْ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ شَكَّ الْأَعْمَشُ قَالَ لَمَّا كَانَ غَزْوَةُ تَبُوكَ أَصَابَ النَّاسَ مَجَاعَةٌ فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ لَوْ أَذِنْتَ لَنَا فَنَحَرْنَا نَوَاضِحَنَا فَأَكَلْنَا وَادَّهَنَّا فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ افْعَلُوا فَجَاءَ عُمَرُ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهُمْ إِنْ فَعَلُوا قَلَّ الظَّهْرُ وَلَكِنْ ادْعُهُمْ بِفَضْلِ أَزْوَادِهِمْ ثُمَّ ادْعُ لَهُمْ عَلَيْهِ بِالْبَرَكَةِ لَعَلَّ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَ فِي ذَلِكَ فَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنِطَعٍ فَبَسَطَهُ ثُمَّ دَعَاهُمْ بِفَضْلِ أَزْوَادِهِمْ فَجَعَلَ الرَّجُلُ يَجِيءُ بِكَفِّ الذُّرَةِ وَالْآخَرُ بِكَفِّ التَّمْرِ وَالْآخَرُ بِالْكِسْرَةِ حَتَّى اجْتَمَعَ عَلَى النِّطْعِ مِنْ ذَلِكَ شَيْءٌ يَسِيرٌ ثُمَّ دَعَا عَلَيْهِ بِالْبَرَكَةِ ثُمَّ قَالَ لَهُمْ خُذُوا فِي أَوْعِيَتِكُمْ قَالَ فَأَخَذُوا فِي أَوْعِيَتِهِمْ حَتَّى مَا تَرَكُوا مِنْ الْعَسْكَرِ وِعَاءً إِلَّا مَلَئُوهُ وَأَكَلُوا حَتَّى شَبِعُوا وَفَضَلَتْ مِنْهُ فَضْلَةٌ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ لَا يَلْقَى اللَّهَ بِهَا عَبْدٌ غَيْرُ شَاكٍّ فَتُحْجَبَ عَنْهُ الْجَنَّةُ

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ یا حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ تبوک میں تشریف لے گئے، وہاں مسلمانوں کو بھوک نے ستایا اور انہیں کھانے کی شدید حاجت نے آگھیرا، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اونٹ ذبح کرنے کی اجازت مانگی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اجازت دے دی، حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو یہ بات معلوم ہوئی تو وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس طرح تو سواریاں کم پڑ جائیں گی، آپ ان سے ان کے پاس متفرق طور پر جو چیزیں موجود ہیں ، وہ منگوا لیجئے اور اللہ سے اس میں برکت کی دعا فرما لیجئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی رائے کو قبول کرلیا اور متفرق چیزیں جو توشے میں موجود تھیں ، منگوالیں ۔ چنانچہ کوئی شخص ایک مٹھی بھر جو لایا، کوئی مٹھی بھر ٹکڑے، جب دسترخوان پر کچھ چیزیں جمع ہوگئیں تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ سے اس میں برکت کی دعاء کی اور فرمایا کہ اپنے اپنے برتن لے کر آؤ، سب کے برتن بھر گئے اور سب لوگوں نے خوب سیر ہو کر کھایا، اور بہت سی مقدار بچ بھی گئی، اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں ، اور یہ کہ میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں، اور جو شخص ان دونوں گواہیوں کے ساتھ اللہ سے ملے گا اور اسے ان میں کوئی شک نہ ہوا تو وہ جنت میں داخل ہوگا۔

لَمَّا كَانَ غَزْوَةُ تَبُوكَ أَصَابَ النَّاسَ مَجَاعَةٌ، فَقَالُوا: ← أبي هريرة شك الأعمش ← أَبِي سَعِيدٍ أَوْ ← اَبِیْ صَالِحٍ ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو مُعَاوِيَةَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 11096

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 11097

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ قَالَ حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُغِيرَةِ بْنِ مُعَيْقِيبٍ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَبْدٍ الْعُتْوَارِيِّ أَحَدُ بَنِي لَيْثٍ وَكَانَ يَتِيمًا فِي حِجْرِ أَبِي سَعِيدٍ سُلَيْمَانَ بْنِ عُمَرَ وَهُوَ أَبُو الْهَيْثَمِ الَّذِي يَرْوِي عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ يُوضَعُ الصِّرَاطُ بَيْنَ ظَهْرَيْ جَهَنَّمَ عَلَيْهِ حَسَكٌ كَحَسَكِ السَّعْدَانِ ثُمَّ يَسْتَجِيزُ النَّاسُ فَنَاجٍ مُسَلَّمٌ وَمَجْدُوحٌ بِهِ ثُمَّ نَاجٍ وَمُحْتَبِسٌ بِهِ مَنْكُوسٌ فِيهَا فَإِذَا فَرَغَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ الْقَضَاءِ بَيْنَ الْعِبَادِ يَفْقِدُ الْمُؤْمِنُونَ رِجَالًا كَانُوا مَعَهُمْ فِي الدُّنْيَا يُصَلُّونَ بِصَلَاتِهِمْ وَيُزَكُّونَ بِزَكَاتِهِمْ وَيَصُومُونَ صِيَامَهُمْ وَيَحُجُّونَ حَجَّهُمْ وَيَغْزُونَ غَزْوَهُمْ فَيَقُولُونَ أَيْ رَبَّنَا عِبَادٌ مِنْ عِبَادِكَ كَانُوا مَعَنَا فِي الدُّنْيَا يُصَلُّونَ صَلَاتَنَا وَيُزَكُّونَ زَكَاتَنَا وَيَصُومُونَ صِيَامَنَا وَيَحُجُّونَ حَجَّنَا وَيَغْزُونَ غَزْوَنَا لَا نَرَاهُمْ فَيَقُولُ اذْهَبُوا إِلَى النَّارِ فَمَنْ وَجَدْتُمْ فِيهَا مِنْهُمْ فَأَخْرِجُوهُ قَالَ فَيَجِدُونَهُمْ قَدْ أَخَذَتْهُمْ النَّارُ عَلَى قَدْرِ أَعْمَالِهِمْ فَمِنْهُمْ مَنْ أَخَذَتْهُ إِلَى قَدَمَيْهِ وَمِنْهُمْ مَنْ أَخَذَتْهُ إِلَى نِصْفِ سَاقَيْهِ وَمِنْهُمْ مَنْ أَخَذَتْهُ إِلَى رُكْبَتَيْهِ وَمِنْهُمْ مَنْ أَزِرَتْهُ وَمِنْهُمْ مَنْ أَخَذَتْهُ إِلَى ثَدْيَيْهِ وَمِنْهُمْ مَنْ أَخَذَتْهُ إِلَى عُنُقِهِ وَلَمْ تَغْشَ الْوُجُوهَ فَيَسْتَخْرِجُونَهُمْ مِنْهَا فَيُطْرَحُونَ فِي مَاءِ الْحَيَاةِ قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا مَاءُ الْحَيَاةِ قَالَ غُسْلُ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَيَنْبُتُونَ نَبَاتَ الزَّرْعَةِ وَقَالَ مَرَّةً فِيهِ كَمَا تَنْبُتُ الزَّرْعَةُ فِي غُثَاءِ السَّيْلِ ثُمَّ يَشْفَعُ الْأَنْبِيَاءُ فِي كُلِّ مَنْ كَانَ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ مُخْلِصًا فَيُخْرِجُونَهُمْ مِنْهَا قَالَ ثُمَّ يَتَحَنَّنُ اللَّهُ بِرَحْمَتِهِ عَلَى مَنْ فِيهَا فَمَا يَتْرُكُ فِيهَا عَبْدًا فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ حَبَّةٍ مِنْ إِيمَانٍ إِلَّا أَخْرَجَهُ مِنْهَا

سلیمان بن عمرو رحمۃ اللہ علیہ جو یتیمی کی حالت میں حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کے زیر پرورش تھے کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان بیان کرتے ہوئے سنا ہے کہ جہنم کے اوپر پل صراط قائم کیا جائے گا، جس پر " سعدان " جیسے کانٹے ہوں گے، پھر لوگوں کو اس کے اوپر سے گذارا جائے گا مسلمان اس سے نجات پاجائیں گے، کچھ زخمی ہو کر بچ نکلیں گے، کچھ ان سے الجھ کر جہنم میں گر پڑیں گے۔ جب اللہ اپنے بندوں کے حساب سے فارغ ہوجائے گا تو مسلمانوں کو کچھ لوگ نظر نہ آئیں گے جو دنیا میں ان کے ساتھ ہوتے تھے، ان ہی کی طرح نماز پڑھتے، زکوۃ دیتے، روزہ رکھتے، حج کرتے اور جہاد کرتے تھے، چنانچہ وہ بارگاہ الٰہی میں عرض کریں گے کہ پروردگار! آپ کے کچھ بندے دنیا میں ہمارے ساتھ ہوتے تھے، ہماری طرح نماز پڑھتے، زکوۃ دیتے، روزہ رکھتے، حج کرتے اور جہاد کرتے تھے، لیکن وہ ہمیں نظر نہیں آرہے؟ اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کہ جہنم کی طرف جاؤ اور ان میں سے جتنے لوگ جہنم میں ملیں ، انہیں اس میں سے نکال لو، چنانچہ وہ جائیں گے تو دیکھیں گے کہ انہیں جہنم کی آگ نے ان کے اعمال کے بقدر اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے، کسی کو قدموں تک، کسی کو نصف پنڈلی تک، کسی کو گھٹنوں تک، کسی کو تہبند تک، کسی کو چھاتیوں تک اور کسی کو گردنوں تک، لیکن چہروں پر اس کی لپٹ نہیں پہنچی ہوگی، وہ مسلمان انہیں اس میں سے نکالیں گے، پھر انہیں " ماءِ حیات " میں ڈال دیا جائے گا۔ کسی نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ماءِ حیات سے کیا مراد ہے؟ فرمایا : اہلِ جنت کے غسل کرنے کی نہر، وہ اس میں غسل کرنے سے اس طرح اگ آئیں گے جیسے سیلاب کے کوڑے پر خود رو گھاس اگ آتی ہے، اس کے بعد انبیاء کرام ہر اس شخص کے حق میں سفارش کریں گے جو " لا الہ الا اللہ " کی گواہی خلوصِ قلب سے دیتے ہوں گے اور انہیں بھی جہنم میں سے نکال لیا جائے گا، پھر اللہ اہل جہنم پر اپنی خصوصی رحمت فرمائے گا اور اس میں کوئی ایک بندہ بھی ایسا نہ چھوڑے گا جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر بھی ایمان موجود ہوگا۔

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 11097

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 11098

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ حَدَّثَنَا الدَّسْتُوَائِيُّ حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ حَدَّثَنَا عِيَاضٌ قَالَ قُلْتُ لِأَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَحَدُنَا يُصَلِّي فَلَا يَدْرِي كَمْ صَلَّى فَقَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ فَلَمْ يَدْرِ كَمْ صَلَّى فَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ وَإِذَا جَاءَ أَحَدَكُمْ الشَّيْطَانُ فَقَالَ إِنَّكَ قَدْ أَحْدَثْتَ فَلْيَقُلْ كَذَبْتَ إِلَّا مَا وَجَدَ رِيحَهُ بِأَنْفِهِ أَوْ سَمِعَ صَوْتَهُ بِأُذُنِهِ

عیاض رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے عرض کیا کہ بعض اوقات ہم میں سے ایک آدمی نماز پڑھ رہا ہوتا ہے اور اسے یاد نہیں رہتا کہ اس نے کتنی رکعتیں پڑھی ہیں ؟ انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے جب تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھ رہا ہو اور اسے یاد نہ رہے کہ اس نے کتنی رکعتیں پڑھی ہیں تو اسے چاہئے کہ بیٹھے بیٹھے سہو کے دو سجدے کرلے، اور جب تم میں سے کسی کے پاس شیطان آکر یوں کہے کہ تمہارا وضو ٹوٹ گیا ہے تو اسے کہہ دو کہ تو جھوٹ بولتا ہے، الاّیہ اس کی ناک میں بدبو آجائے اس کے کان اس کی آواز سن لیں ۔

قلت لأبي سعيد الخدري أحدنا يصلي فلا يدري كم صلى فقال ← عِيَاضٍ، ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← الدَّسْتُوَائِيُّ؛ ← إِسْمَاعِيلُ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 11098

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 11099

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ أَخْبَرَنَا الْجُرَيْرِيُّ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ كُنَّا نَغْزُو مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمِنَّا الصَّائِمُ وَمِنَّا الْمُفْطِرُ فَلَا يَجِدُ الصَّائِمُ عَلَى الْمُفْطِرِ وَلَا الْمُفْطِرُ عَلَى الصَّائِمِ يَرَوْنَ أَنَّهُ يَعْنِي مَنْ وَجَدَ قُوَّةً فَصَامَ فَإِنَّ ذَلِكَ حَسَنٌ وَيَرَوْنَ أَنَّهُ مَنْ وَجَدَ ضَعْفًا فَأَفْطَرَ فَإِنَّ ذَلِكَ حَسَنٌ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے غزوات میں شریک ہوتے تو ہم میں سے کچھ لوگ روزہ رکھ لیتے اور کچھ نہ رکھتے، لیکن روزہ رکھنے والا چھوڑنے والے پر یا چھوڑنے والا روزہ رکھنے والے پر کوئی احسان نہیں جتاتا تھا ، (مطلب یہ ہے کہ جس آدمی میں روزہ رکھنے کی ہمت ہوتی، وہ روزہ رکھ لیتا اور جس میں ہمت نہ ہوتی وہ چھوڑ دیتا، بعد میں قضاء کرلیتا)

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَبِي نَضْرَةَ ← الْجُرَيْرِيِّ، ← إِسْمَاعِيلُ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 11099

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 11100

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ اَخْبَرَنَا الْجُزَیْرِیُّ عَنْ اَبِی نَضْرَۃَ عَنْ اَبِی سَعِیدٍ قَالَ لَمْ نَعُدْ اَنْ فُتِحَتْ خَیْبَرُ وَقَعْنَا فِیْ تِلْکَ الْبَقْلَۃِ فَاَکَلْنَا مِنْھَا اَکْلًا شَدِیْدًا وَنَاسٌ جِیَاعٌ ثُمَّ رَحَلْنَا إِلَی الْمَسْجِدِ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ الرَّیحَ فَقَالَ مَنْ اَکَلَ مِنْ ھَذِہِ الشَّجَرَۃِ الْخَبِیثَۃِ شَیْئًا یَقْرَبْنَا فِی الْمَسْجِدِ فَقَالَ النَّاسُ حُرَّمَتْ حُرَّمَتْ فَبَلَغَ ذَلِکَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ اَیُّھَا النَّاسُ إِنَّہُ لَیْسَ لِی تَحْرِیمُ مَا أَحَلَّ اللہُ وَلَکِنَّھَا شَجَرَۃٌ اَکْرَہُ رِیحَھَا

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ فتح خیبر کے بعد ہم لوگ اس سبزی (لہسن) پر جھپٹ پڑے اور ہم نے اسے خوب کھایا، کچھ لوگ ویسے ہی خالی پیٹ تھے، جب ہم لوگ مسجد میں پہنچے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی بو محسوس ہوئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص اس گندے درخت کا پھل کھائے وہ ہماری مسجدوں میں ہمارے قریب نہ آئے، لوگ یہ سن کر کہنے لگے کہ لہسن حرام ہوگیا، جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی خبر ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لوگو! جس چیز کو اللہ نے حلال قرار دیا ہو، مجھے اسے حرام قرار دینے کا کوئی اختیار نہیں ، البتہ مجھے اس درخت کی بو پسند نہیں ہے۔

اَبِیْ سَعِیْدٍ ← أَبِي نَضْرَةَ ← الْجُزَیْرِیُّ ← إِسْمَاعِيلُ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 11100

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 11101

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ أَخْبَرَنَا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَكْتُبُوا عَنِّي شَيْئًا سِوَى الْقُرْآنِ وَمَنْ كَتَبَ شَيْئًا سِوَى الْقُرْآنِ فَلْيَمْحُهُ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے حوالے سے قرآن کریم کے علاوہ کچھ نہ لکھا کرو، اور جس شخص نے قرآن کریم کے علاوہ کچھ اور لکھ رکھا ہو اسے چاہئے کہ وہ اسے مٹادے۔

اَبِیْ سَعِیْدٍ ← عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ← زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، ← هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى ← إِسْمَاعِيلُ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 11101

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 11102

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ عَنْ هِشَامٍ الدَّسْتُوَائِيِّ قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ أَبِي رِفَاعَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ السَّحُورُ أَكْلُهُ بَرَكَةٌ فَلَا تَدَعُوهُ وَلَوْ أَنْ يَجْرَعَ أَحَدُكُمْ جُرْعَةً مِنْ مَاءٍ فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى الْمُتَسَحِّرِينَ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سحری کھانا باعث برکت ہے، اس لئے اسے ترک نہ کیا کرو، خواہ پانی کا ایک گھونٹ ہی پی لیا کرو، کیوں کہ اللہ اور اس کے فرشتے سحری کھانے والوں کے لئے اپنے اپنے انداز میں رحمت کا سبب بنتے ہیں ۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أبي رفاعة ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ ← إِسْمَاعِيلُ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 11102

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 11103

حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ حَرْبٍ قَالَ أَخْبَرَنَا هَمَّامٌ قَالَ أَخْبَرَنَا زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَكْتُبُوا عَنِّي شَيْئًا فَمَنْ كَتَبَ عَنِّي شَيْئًا فَلْيَمْحُهُ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے حوالے سے ( قرآن کریم کے علاوہ) کچھ نہ لکھا کرو، اور جس شخص نے قرآن کریم کے علاوہ کچھ اور لکھ رکھا ہو اسے چاہئے کہ وہ اسے مٹادے۔

اَبِیْ سَعِیْدٍ ← عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ← زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، ← هَمَّامٌ، ← شُعَيْبُ بْنُ حَرْبٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 11103

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 11104

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ قَالَ سَأَلْتُ جَابِرًا عَنْ الرَّجُلِ يَشْرَبُ وَهُوَ قَائِمٌ قَالَ جَابِرٌ كُنَّا نَكْرَهُ ذَلِكَ

ابواثیر رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے کھڑے ہو کر پانی پینے کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ ہم اسے اچھا نہیں سمجھتے۔

جَابِرٌ كُنَّا نَكْرَهُ ذَلِكَ ← الرَّجُلِ يَشْرَبُ وَهُوَ قَائِمٌ ← سَأَلْتُ جَابِرًا ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← ابْنُ لَهِيعَةَ ← مُوسَى بْنُ دَاوُدَ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 11104

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 11105

حَدَّثَنَا مُوسَى قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ أَنَّهُ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ يَشْهَدُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَجَرَ عَنْ ذَاكَ وَزَجَرَ أَنْ نَسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةَ لِبَوْلٍ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق اس بات کی شہادت دیتے ہوئے سنا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے، نیز قضاءِ حاجت کے وقت قبلہ کی جانب رخ کرکے بیٹھنے سے بھی سختی سے منع فرمایا ہے۔

أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ يَشْهَدُ ← جَابِرٍ أَنَّهُ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← ابْنُ لَهِيعَةَ ← مُوسَى

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 11105

chevron_left Previous
1…656667…264
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    0. Chapter
2. Book
    0. Chapter
3. Book
    0. Chapter
4. Book
    0. Chapter
5. Book
    0. Chapter
6. Book
    0. Chapter
7. Book
    0. Chapter
8. Book
    0. Chapter
9. Book
    0. Chapter