Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Jumada I 7, 1448 AH · Oct 17, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند امام احمد بن حنبل

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble

by Musnad Imam Bin Hanble

28,221 Hadith18 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 11082

حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ وَمُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ قَالَا حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا دَخَلَ أَهْلُ الْجَنَّةِ الْجَنَّةَ وَأَهْلُ النَّارِ النَّارَ يُجَاءُ بِالْمَوْتِ كَأَنَّهُ كَبْشٌ أَمْلَحُ فَيُوقَفُ بَيْنَ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ فَيُقَالُ يَا أَهْلَ الْجَنَّةِ هَلْ تَعْرِفُونَ هَذَا قَالَ فَيَشْرَئِبُّونَ فَيَنْظُرُونَ وَيَقُولُونَ نَعَمْ هَذَا الْمَوْتُ قَالَ فَيُقَالُ يَا أَهْلَ النَّارِ هَلْ تَعْرِفُونَ هَذَا قَالَ فَيَشْرَئِبُّونَ فَيَنْظُرُونَ وَيَقُولُونَ نَعَمْ هَذَا الْمَوْتُ قَالَ فَيُؤْمَرُ بِهِ فَيُذْبَحُ قَالَ وَيُقَالُ يَا أَهْلَ الْجَنَّةِ خُلُودٌ لَا مَوْتَ وَيَا أَهْلَ النَّارِ خُلُودٌ لَا مَوْتَ قَالَ ثُمَّ قَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنْذِرْهُمْ يَوْمَ الْحَسْرَةِ إِذْ قُضِيَ الْأَمْرُ وَهُمْ فِي غَفْلَةٍ قَالَ وَأَشَارَ بِيَدِهِ قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ فِي حَدِيثِهِ إِذَا دَخَلَ أَهْلُ الْجَنَّةِ الْجَنَّةَ وَأَهْلُ النَّارِ النَّارَ يُجَاءُ بِالْمَوْتِ كَأَنَّهُ كَبْشٌ أَمْلَحُ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ جب جنتی جنت میں اور جہنمی جہنم میں داخل ہوجائیں گے تو موت کو ایک مینڈھے کی شکل میں لا کر پل صراط پر کھڑا کردیا جائے گا اور اہل جنت کو پکار کر بلایا جائے گا، وہ خوفزدہ ہو کر جھانکیں گے کہ کہیں انہیں جنت سے نکال تو نہیں دیا جائے گا، پھر ان سے پوچھا جائے گا کہ کیا تم اسے پہچانتے ہو؟ وہ کہیں گے جی ہاں ! یہ موت ہے، چنانچہ اللہ کے حکم پر اسے پل صراط پر ذبح کردیا جائے گا اور دونوں گروہوں سے کہا جائے گا کہ تم جن حالات میں رہ رہے ہو، اس میں تم ہمیشہ ہمیش رہو گے، اس میں کبھی موت نہ آئے گی، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت کی" انہیں حسرت کے دن سے ڈرا دیجئے جب معاملات کا فیصلہ کیا جائے گا اور وہ غفلت میں رہے " یہ کہہ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے اشارہ فرمایا: محمد بن عبید اپنی حدیث میں کہتے کہ اہل دنیا اپنی دنیا کی غفلتوں میں رہے۔

اَبِیْ سَعِیْدٍ ← اَبِیْ صَالِحٍ ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو مُعَاوِيَةَ وَمُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 11082

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 11083

حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَثَلِي وَمَثَلُ النَّبِيِّينَ مِنْ قَبْلِي كَمَثَلِ رَجُلٍ بَنَى دَارًا فَأَتَمَّهَا إِلَّا لَبِنَةً وَاحِدَةً فَجِئْتُ أَنَا فَأَتْمَمْتُ تِلْكَ اللَّبِنَةَ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میری اور مجھ سے پہلے انبیاء کی مثال ایسے ہے جیسے کسی شخص نے ایک گھر بنایا، اسے مکمل کرلیا، لیکن ایک اینٹ کی جگہ چھوڑ دی، میں نے آکر اس اینٹ کی جگہ بھی مکمل کردی۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو مُعَاوِيَةَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 11083

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 11084

حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ وَكَذَلِكَ جَعَلْنَاكُمْ أُمَّةً وَسَطًا قَالَ عَدْلًا

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے " امۃوسطاً " کی تفسیر امت معتدلہ سے فرمائی ہے۔

«عَدْلًا» ← النَّبِيِّ فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ وَكَذَلِكَ جَعَلْنَاكُمْ أُمَّةً وَسَطًا ← اَبِیْ سَعِیْدٍ ← اَبِیْ صَالِحٍ ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو مُعَاوِيَةَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 11084

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 11085

حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ سَعْدٍ الطَّائِيِّ عَنْ عَطِيَّةَ الْعَوْفِيِّ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ ذَكَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَاحِبَ الصُّورِ فَقَالَ عَنْ يَمِينِهِ جِبْرِيلُ وَعَنْ يَسَارِهِ مِيكَائِيلُ عَلَيْهِمْ السَّلَام

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صور پھونکنے والے فرشتے (اسرافیل علیہ السلام) کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا کہ اس کی دائیں جانب حضرت جبرائیل علیہ السلام اور بائیں جانب حضرت میکائیل علیہ السلام ہیں ۔

يَمِينِهِ جِبْرِيلُ وَعَنْ يَسَارِهِ مِيكَائِيلُ عَلَيْهِمْ السَّلَام ← رَسُولُ اللَّهِ صَاحِبَ الصُّورِ فَقَالَ ← أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← عَطِّيَةَ الْعَوْفِيِّ ← سَعْدٍ الطَّائِیِّ ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو مُعَاوِيَةَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 11085

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 11086

حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ إِيَاسٍ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ بَعَثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَرِيَّةٍ ثَلَاثِينَ رَاكِبًا قَالَ فَنَزَلْنَا بِقَوْمٍ مِنْ الْعَرَبِ قَالَ فَسَأَلْنَاهُمْ أَنْ يُضَيِّفُونَا فَأَبَوْا قَالَ فَلُدِغَ سَيِّدُهُمْ قَالَ فَأَتَوْنَا فَقَالُوا فِيكُمْ أَحَدٌ يَرْقِي مِنْ الْعَقْرَبِ قَالَ فَقُلْتُ نَعَمْ أَنَا وَلَكِنْ لَا أَفْعَلُ حَتَّى تُعْطُونَا شَيْئًا قَالُوا فَإِنَّا نُعْطِيكُمْ ثَلَاثِينَ شَاةً قَالَ فَقَرَأْتُ عَلَيْهَا الْحَمْدُ لِلَّهِ سَبْعَ مَرَّاتٍ قَالَ فَبَرَأَ قَالَ فَلَمَّا قَبَضْنَا الْغَنَمَ قَالَ عَرَضَ فِي أَنْفُسِنَا مِنْهَا قَالَ فَكَفَفْنَا حَتَّى أَتَيْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَذَكَرْنَا ذَلِكَ لَهُ قَالَ فَقَالَ أَمَا عَلِمْتَ أَنَّهَا رُقْيَةٌ اقْسِمُوهَا وَاضْرِبُوا لِي مَعَكُمْ بِسَهْمٍ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں تیس سواروں کے ایک دستے میں بھیجا، دوران سفر ہمارا گزر عرب کے کسی قبیلے پر ہوا صحابہ رضی اللہ عنہم نے اہل قبیلہ سے مہمان نوازی کی درخواست کی لیکن انہوں نے مہمان نوازی کرنے سے انکار کر دیا، اتفاقاً ان کے سردار کو کسی زہریلی چیز نے ڈس لیا، وہ لوگ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کے پاس آکر کہنے لگے کیا آپ میں سے کوئی جھاڑ پھونک کرنا جانتا ہے ؟ میں نے " ہاں " کہہ دیا ، لیکن یہ شرط لگادی کہ میں اس وقت تک دم نہیں کروں گا جب تک تم ہمیں کچھ نہ دوگے ، انہوں نے کہا کہ ہم آپ کو تیس بکریاں دیں گے ، چنانچہ میں نے سات مرتبہ اسے سورت فاتحہ پڑھ کر دم کر دیا ، وہ تندرست ہوگیا، جب ہم نے بکریوں پر قبضہ کرلیا تو ہمارے دل میں کچھ خیال آیا اور ہم نے اس سے ہاتھ روک لیا ، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر سارا وقعہ ذکر کیا ، اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہیں کیسے پتہ چلا کہ وہ منتر ہے ، پھر فرمایا کہ بکریوں کا وہ ریوڑ لے لو اور اپنے ساتھ اس میں میرا حصہ بھی شامل کرو۔

فَقَالَ أَمَا عَلِمْتَ أَنَّهَا رُقْيَةٌ اقْسِمُوهَا وَاضْرِبُوا لِي مَعَكُمْ بِسَهْمٍ ← فَذَكَرْنَا ذَلِكَ لَهُ ← فَكَفَفْنَا حَتَّى أَتَيْنَا النَّبِيَّ ← عَرَضَ فِي أَنْفُسِنَا مِنْهَا ← فَلَمَّا قَبَضْنَا الْغَنَمَ ← فَبَرَأَ ← فَقَرَأْتُ عَلَيْهَا الْحَمْدُ لِلَّهِ سَبْعَ مَرَّاتٍ ← فَإِنَّا نُعْطِيكُمْ ثَلَاثِينَ شَاةً ← وَلَكِنْ لَا أَفْعَلُ حَتَّى تُعْطُونَا شَيْئًا ← فَقُلْتُ نَعَمْ ← فَأَتَوْنَا فَقَالُوا فِيكُمْ أَحَدٌ يَرْقِي مِنْ الْعَقْرَبِ ← فَلُدِغَ سَيِّدُهُمْ ← فَسَأَلْنَاهُمْ أَنْ يُضَيِّفُونَا فَأَبَوْا ← فَنَزَلْنَا بِقَوْمٍ مِنْ الْعَرَبِ ← بَعَثَنَا رَسُولُ اللَّهِ فِي سَرِيَّةِ ثَلَاثِينَ رَاكِبًا ← أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَبِي نَضْرَةَ ← جَعْفَرِ بْنِ إِيَاسٍ، ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو مُعَاوِيَةَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 11086

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 11087

حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ جَابِرٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى حَصِيرٍ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے چٹائی پر نماز پڑھی ہے ۔

صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ عَلَى حَصِيرٍ ← أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← جَابِرٍ ← أَبِي سُفْيَانَ ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو مُعَاوِيَةَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 11087

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 11088

حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ جَابِرٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ وَاضِعًا طَرَفَيْهِ عَلَى عَاتِقَيْهِ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کپڑے میں اس کے دونوں پلّو دونوں کندھوں پر ڈال کر بھی نماز پڑھی ہے ۔

صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ وَاضِعًا طَرَفَيْهِ عَلَى عَاتِقَيْهِ ← أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← جَابِرٍ ← أَبِي سُفْيَانَ ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو مُعَاوِيَةَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 11088

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 11089

حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ رَجَاءٍ عَنْ أَبِيهِ وَعَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ كِلَاهُمَا عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ أَخْرَجَ مَرْوَانُ الْمِنْبَرَ فِي يَوْمِ عِيدٍ وَلَمْ يَكُنْ يُخْرَجُ بِهِ وَبَدَأَ بِالْخُطْبَةِ قَبْلَ الصَّلَاةِ وَلَمْ يَكُنْ يُبْدَأُ بِهَا قَالَ فَقَامَ رَجُلٍ فَقَالَ يَا مَرْوَانُ خَالَفْتَ السُّنَّةَ أَخْرَجْتَ الْمِنْبَرَ يَوْمَ عِيدٍ وَلَمْ يَكُنْ يُخْرَجُ بِهِ فِي يَوْمِ عِيدٍ وَبَدَأْتَ بِالْخُطْبَةِ قَبْلَ الصَّلَاةِ وَلَمْ يَكُنْ يُبْدَأُ بِهَا قَالَ فَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ مَنْ هَذَا قَالُوا فُلَانُ بْنُ فُلَانٍ قَالَ فَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ أَمَّا هَذَا فَقَدْ قَضَى مَا عَلَيْهِ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ رَأَى مِنْكُمْ مُنْكَرًا فَإِنْ اسْتَطَاعَ أَنْ يُغَيِّرَهُ بِيَدِهِ فَلْيَفْعَلْ وَقَالَ مَرَّةً فَلْيُغَيِّرْهُ بِيَدِهِ فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ بِيَدِهِ فَبِلِسَانِهِ فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ بِلِسَانِهِ فَبِقَلْبِهِ وَذَلِكَ أَضْعَفُ الْإِيمَانِ

ابوسعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ مروان نے عید کے دن منبر نکلوایا جو نہیں نکالا جاتا تھا اور نماز سے پہلے خطبہ دینا شروع کیا جو کہ پہلے کبھی نہیں ہوا تھا ، یہ دیکھ کر ایک آدمی کھڑا ہو کر کہنے لگا مروان ! تم نے سنت کی مخالفت کی ، تم نے عید کے دن منبر نکلوایا جو کہ پہلے نہیں نکالا جاتا تھا ، اور تم نے نماز سے پہلے خطبہ دیا جو کہ پہلے کبھی نہیں ہوا تھا ، اس مجلس میں خضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بھی تھے ، انہوں نے پوچھا کہ یہ آدمی کون ہے ؟ لوگوں نے بتایا کہ فلاں بن فلاں ہے ، انہوں نے فرمایا کہ اس شخص نے اپنی ذمہ داری پوری کردی ، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ تم میں سے جو شخص کوئی برائی ہوتے ہوئے دیکھے اور اسے ہاتھ سے بدلنے کی طاقت رکھتا ہو تو ایسا ہی کرے ، اگر ہاتھ سے بدلنے کی طاقت نہیں رکھتا تو زبان سے اور اگر زبان سے بھی نہیں کرسکتا تو دل سے اسے برا سمجھے اور یہ ایمان کا سب سے کمزور درجہ ہے ۔ حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے " وھم فی غفلۃ " کا تعلق دنیا سے بیان کیا ہے۔ (کہ وہ لوگ دنیا میں غفلت کے شکار رہے)

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← طارق بن شهاب كلاهما ← قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ، ← أَبِيهِ ← اِسْمَاعِیْلَ بْنِ رَجَاءٍ، ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو مُعَاوِيَةَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 11089

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 11090

حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ الْوَصَّافِيُّ عَنْ عَطِيَّةَ الْعَوْفِيِّ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ قَالَ حِينَ يَأْوِي إِلَى فِرَاشِهِ أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ غَفَرَ اللَّهُ لَهُ ذُنُوبَهُ وَإِنْ كَانَتْ مِثْلَ زَبَدِ الْبَحْرِ وَإِنْ كَانَتْ مِثْلَ رَمْلٍ عَالِجٍ وَإِنْ كَانَتْ مِثْلَ عَدَدِ وَرَقِ الشَّجَرِ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص اپنے بستر کے پاس آکر تین مرتبہ یہ کہے" استغفر اللہ الذی لا الہ الا ھوالحی القیوم واتوب الیہ" اس کے سارے گناہ معاف ہوجائیں گے، خواہ سمندر کی جھاگ، ریت کے ذرات اور درختوں کے پتوں کے برابر ہی ہوں ۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← عَطِّيَةَ الْعَوْفِيِّ ← عبيد الله بن الوليد الوصافي ← أَبُو مُعَاوِيَةَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 11090

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 11091

حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ قَالَ قُلْتُ لِأَبِي سَعِيدٍ أَسَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الذَّهَبِ بِالذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ بِالْفِضَّةِ قَالَ سَأُخْبِرُكُمْ مَا سَمِعْتُ مِنْهُ جَاءَهُ صَاحِبُ تَمْرِهِ بِتَمْرٍ طَيِّبٍ وَكَانَ تَمْرُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَالُ لَهُ اللَّوْنُ قَالَ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَيْنَ لَكَ هَذَا التَّمْرُ الطَّيِّبُ قَالَ ذَهَبْتُ بِصَاعَيْنِ مِنْ تَمْرِنَا وَاشْتَرَيْتُ بِهِ صَاعًا مِنْ هَذَا قَالَ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبَيْتَ قَالَ ثُمَّ قَالَ أَبُو سَعِيدٍ فَالتَّمْرُ بِالتَّمْرِ أَرْبَى أَمْ الْفِضَّةُ بِالْفِضَّةِ وَالذَّهَبُ بِالذَّهَبِ

ابونضرہ رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ میں حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کیا آپ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سونے کی سونے کے بدلے اور چاندی کی چاندی کے بدلے بیع کے بارے میں کچھ سناہے؟ انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے جو کچھ سنا ہے تمہیں بتائے دیتا ہوں ایک مرتبہ کجھور والا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کچھ عمدہ کھجوریں لے کر آیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی کھجوروں کا نام " لون " تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا کہ یہ تم کہاں سے لائے؟ اس نے کہا کہ ہم نے اپنی دو صاع کھجوریں دے کر ان عمدہ کھجوروں کا ایک صاع لے لیا ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم نے سودی معاملہ کیا پھر حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ نے فرمایا کجھور کے معاملے میں سود کا پہلو زیادہ ہوگا یا سونا اور چاندی کے معاملے میں ؟

أَبُو سَعِيدٍ فَالتَّمْرُ بِالتَّمْرِ أَرْبَى أَمْ الْفِضَّةُ بِالْفِضَّةِ وَالذَّهَبُ بِالذَّهَبِ ← ثُمَّ ← فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ أَرْبَيْتَ ← ذَهَبْتُ بِصَاعَيْنِ مِنْ تَمْرِنَا وَاشْتَرَيْتُ بِهِ صَاعًا مِنْ هَذَا ← فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ مِنْ أَيْنَ لَكَ هَذَا التَّمْرُ الطَّيِّبُ ← مِنْهُ جَاءَهُ صَاحِبُ تَمْرِهِ بِتَمْرٍ طَيِّبٍ وَكَانَ تَمْرُ النَّبِيِّ يُقَالُ لَهُ اللَّوْنُ ← سَأُخْبِرُكُمْ مَا ← قُلْتُ لِأَبِي سَعِيدٍ أَسَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ فِي الذَّهَبِ بِالذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ بِالْفِضَّةِ ← أَبِي نَضْرَةَ ← دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، ← أَبُو مُعَاوِيَةَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 11091

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 11092

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ سَعِيدٍ الْجُرَيْرِيِّ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ اعْتَكَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعَشْرَ الْأَوْسَطَ مِنْ رَمَضَانَ وَهُوَ يَلْتَمِسُ لَيْلَةَ الْقَدْرِ قَبْلَ أَنْ تُبَانَ لَهُ فَلَمَّا تَقَضَّيْنَ أَمَرَ بِبُنْيَانِهِ فَنُقِضَ ثُمَّ أُبِينَتْ لَهُ أَنَّهَا فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ فَأَمَرَ بِالْبِنَاءِ فَأُعِيدَ ثُمَّ اعْتَكَفَ الْعَشْرَ الْأَوَاخِرَ ثُمَّ خَرَجَ عَلَى النَّاسِ فَقَالَ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّهَا أُبِينَتْ لِي لَيْلَةُ الْقَدْرِ فَخَرَجْتُ لِأُخْبِرَكُمْ بِهَا فَجَاءَ رَجُلَانِ يَحِيفَانِ مَعَهُمَا الشَّيْطَانُ فَنُسِّيتُهَا فَالْتَمِسُوهَا فِي التَّاسِعَةِ وَالسَّابِعَةِ وَالْخَامِسَةِ فَقُلْتُ يَا أَبَا سَعِيدٍ إِنَّكُمْ أَعْلَمُ بِالْعَدَدِ مِنَّا قَالَ أَنَا أَحَقُّ بِذَاكَ مِنْكُمْ فَمَا التَّاسِعَةُ وَالسَّابِعَةُ وَالْخَامِسَةُ قَالَ تَدَعُ الَّتِي تَدْعُونَ إِحْدَى وَعِشْرِينَ وَالَّتِي تَلِيهَا التَّاسِعَةُ وَتَدَعُ الَّتِي تَدْعُونَ ثَلَاثَةً وَعِشْرِينَ وَالَّتِي تَلِيهَا السَّابِعَةُ وَتَدَعُ الَّتِي تَدْعُونَ خَمْسَةً وَعِشْرِينَ وَالَّتِي تَلِيهَا الْخَامِسَةُ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان کے درمیانی عشرے کا اعتکاف فرمایا نبی صلی اللہ علیہ وسلم لیلۃ القدر کی تلاش میں تھے، اور اس وقت تک وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر واضح نہیں ہوئی تھی، جب وہ عشرہ ختم ہوگیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر ان کا خیمہ ہٹا دیا گیا ، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا گیا کہ وہ آخری عشرے میں ہوگی، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر ان کا خیمہ دوبارہ لگا دیا گیا ، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے آخری عشرے کا بھی اعتکاف فرمایا: پھر لوگوں کے پاس نکل کر فرمایا لوگو! مجھے لیلۃ القدرکے بارے میں بتادیا گیا تھا، میں تمہیں بتانے کے لئے نکلا تو دو آدمی جھگڑتے ہوئے آئے، ان کے ساتھ شیطان بھی تھا، چنانچہ مجھے اس کی تعیین بھلادی گئی، اب تم اسے نویں ، ساتویں اور پانچویں میں تلاش کیا کرو، میں نے عرض کیا اے ابوسعید! آپ تو ہم سے زیادہ گنتی جانتے ہیں ، انہوں نے فرمایا میں تم سے اس کا زیادہ حقدارہوں ۔ میں نے ساتویں ، نویں اور پانچویں کا مطلب پوچھا تو فرمایا اکیسویں اور اس کے ساتھ والی رات نویں ہے،٢٣ویں اور اس کے ساتھ والی رات ساتویں ہے اور٢٥ویں اور اس کے ساتھ والی رات پانچویں ہے۔

اَبِیْ سَعِیْدٍ ← أَبِي نَضْرَةَ ← سَعِیْدٍ الْجُرَیْرِیِّ، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 11092

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 11093

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ يَزِيدَ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَّا أَهْلُ النَّارِ الَّذِينَ هُمْ أَهْلُهَا فَإِنَّهُمْ لَا يَمُوتُونَ فِيهَا وَلَا يَحْيَوْنَ وَلَكِنْ نَاسٌ أَوْ كَمَا قَالَ تُصِيبُهُمْ النَّارُ بِذُنُوبِهِمْ أَوْ قَالَ بِخَطَايَاهُمْ فَيُمِيتُهُمْ إِمَاتَةً حَتَّى إِذَا صَارُوا فَحْمًا أَذِنَ فِي الشَّفَاعَةِ فَجِيءَ بِهِمْ ضَبَائِرَ ضَبَائِرَ ضَبَائِرَ فَنَبَتُوا عَلَى أَنْهَارِ الْجَنَّةِ فَيُقَالُ يَا أَهْلَ الْجَنَّةِ أَفِيضُوا عَلَيْهِمْ فَيَنْبُتُونَ نَبَاتَ الْحِبَّةِ تَكُونُ فِي حَمِيلِ السَّيْلِ قَالَ فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ الْقَوْمِ حِينَئِذٍ كَأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ كَانَ بِالْبَادِيَةِ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا وہ جہنمی جو اس میں ہمیشہ رہیں گے، ان پر تو موت آئے گی اور نہ ہی انہیں زندگانی نصیب ہوگی، البتہ جن لوگوں پر اللہ اپنی رحمت کا ارادہ فرمائے گا، انہیں جہنم میں بھی موت دے دے گا۔ پھر جب وہ جل کر کوئلہ ہوجائیں گے توسفارش کرنے والے ان کی سفارش کریں گے اور ہر آدمی اپنے اپنے دوستوں کو نکال کرلے جائے گا، وہ لوگ ایک خصوصی نہر میں " جس کا نام نہر حیاء یاحیوان یاحیات یا نہر جنت ہوگا " غسل کریں گے اور ایسے اگ آئیں گے جیسے سیلاب کے بہاؤ میں دانہ اگ آتا ہے، اس پر ایک آدمی کہنے لگا ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم جنگل میں بھی رہے ہیں (کہ وہاں کے حالات خوب معلوم ہیں )

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَبِي نَضْرَةَ ← سَعِيدِ بْنِ يَزِيدَ ← إِسْمَاعِيلُ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 11093

chevron_left Previous
1…646566…264
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    0. Chapter
2. Book
    0. Chapter
3. Book
    0. Chapter
4. Book
    0. Chapter
5. Book
    0. Chapter
6. Book
    0. Chapter
7. Book
    0. Chapter
8. Book
    0. Chapter
9. Book
    0. Chapter