Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Jumada I 7, 1448 AH · Oct 17, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند امام احمد بن حنبل

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble

by Musnad Imam Bin Hanble

28,221 Hadith18 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 11046

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ ابْنِ أَبِي صَعْصَعَةَ شَيْخٌ مِنْ الْأَنْصَارِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُوشِكُ أَنْ يَكُونَ خَيْرَ مَالِ الرَّجُلِ الْمُسْلِمِ غَنَمٌ يَتْبَعُ بِهَا شَعَفَ الْجِبَالِ وَمَوَاقِعَ الْقَطْرِ يَفِرُّ بِدِينِهِ مِنْ الْفِتَنِ

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عنقریب ایک مسلم کا سب سے بہترین مال " بکری " ہوگی، جسے لے کر وہ پہاڑوں کی چوٹیوں اور بارش کے قطرات گرنے کی جگہ پر چلا جائے اور فتنوں سے اپنے دین کو بچالے۔

اَبِیْ سَعِیْدٍ ← أَبِيهِ ← ابْنِ أَبِي صَعْصَعَةَ شَيْخٌ مِنْ الْأَنْصَارِ ← سُفْيَانَ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 11046

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 11047

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ ضَمْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ أَبِي قُلْتُ سُفْيَانُ سَمِعَهُ قَالَ زَعَمَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَلَاةٍ بَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّى تَغْرُبَ وَبَعْدَ الصُّبْحِ حَتَّى تَطْلُعَ

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نمازِ عصر کے بعد سے غروب آفتاب تک اور نمازِ فجر کے بعد سے طلوعِ آفتاب تک نوافل پڑھنے سے منع فرمایا ہے۔

صَلَاةٍ بَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّى تَغْرُبَ وَبَعْدَ الصُّبْحِ حَتَّى تَطْلُعَ ← زَعَمَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ ← أَبِي قُلْتُ سُفْيَانُ سَمِعَهُ ← اَبِیْ سَعِیْدٍ ← ضَمْرَةُ ← سُفْيَانَ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 11047

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 11048

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو عَنْ أَبِي سَلَمَةَ وَابْنُ أَبِي لَبِيدٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ وَابْنُ جُرَيْجٍ عَنْ سُلَيْمَانَ الْأَحْوَلِ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ اعْتَكَفَ الْعَشْرَ الْوَسَطَ وَاعْتَكَفْنَا مَعَهُ يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا كَانَ صَبِيحَةُ عِشْرِينَ مَرَّ بِنَا وَنَحْنُ نَنْقُلُ مَتَاعَنَا فَقَالَ مَنْ كَانَ مُعْتَكِفًا فَلْيَكُنْ فِي مُعْتَكَفِهِ إِنِّي رَأَيْتُ هَذِهِ اللَّيْلَةَ فَنُسِّيتُهَا وَرَأَيْتُنِي أَسْجُدُ فِي مَاءٍ وَطِينٍ وَعَرِيشُ الْمَسْجِدِ جَرِيدٌ فَهَاجَتْ السَّمَاءُ فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَإِنَّ عَلَى أَنْفِهِ وَجَبْهَتِهِ أَثَرَ الْمَاءِ وَالطِّينِ

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان کے درمیانی عشرے کا اعتکاف فرمایا: ہم نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اعتکاف کیا، جب بیسویں تاریخ کی صبح ہوئی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس سے گذرے، ہم اس وقت اپنا سامان منتقل کر رہے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص معتکف تھا، وہ اب بھی اپنے اعتکاف میں رہے، میں نے شب قدر کو دیکھ لیا تھا لیکن پھر مجھے اس کی تعیین بھلا دی گئی، البتہ اس رات میں نے اپنے آپ کو کیچڑ میں سجدہ کرتے ہوئے دیکھا تھا ، اس زمانے میں مسجد نبوی کی چھت لکڑی کی تھی، اسی رات بارش ہوئی اور میں نے دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ناک اور پیشانی پر کیچڑ کے نشان پڑگئے ہیں ۔

أَبِي سَعِيدٍ اعْتَكَفَ الْعَشْرَ الْوَسَطَ ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← سُلَيْمَانَ الْأَحْوَلِ، ← أَبَا سَعِيدٍ، وَابْنُ جُرَيْجٍ ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← أَبِي سَلَمَةَ، وَابْنُ أَبِي لَبِيدٍ، ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، ← سُفْيَانَ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 11048

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 11049

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي سَرْحٍ سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ إِنَّ أَخْوَفَ مَا أَخَافُ عَلَيْكُمْ مَا يُخْرِجُ اللَّهُ مِنْ نَبَاتِ الْأَرْضِ وَزَهْرَةِ الدُّنْيَا فَقَالَ رَجُلٌ أَيْ رَسُولَ اللَّهِ أَوَ يَأْتِي الْخَيْرُ بِالشَّرِّ فَسَكَتَ حَتَّى رَأَيْنَا أَنَّهُ يَنْزِلُ عَلَيْهِ قَالَ وَغَشِيَهُ بُهْرٌ وَعَرَقٌ فَقَالَ أَيْنَ السَّائِلُ فَقَالَ هَا أَنَا وَلَمْ أُرِدْ إِلَّا خَيْرًا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الْخَيْرَ لَا يَأْتِي إِلَّا بِالْخَيْرِ إِنَّ الْخَيْرَ لَا يَأْتِي إِلَّا بِالْخَيْرِ إِنَّ الْخَيْرَ لَا يَأْتِي إِلَّا بِالْخَيْرِ وَلَكِنَّ الدُّنْيَا خَضِرَةٌ حُلْوَةٌ وَكَانَ مَا يُنْبِتُ الرَّبِيعُ يَقْتُلُ حَبَطًا أَوْ يُلِمُّ إِلَّا آكِلَةُ الْخَضِرِ فَإِنَّهَا أَكَلَتْ حَتَّى امْتَدَّتْ خَاصِرَتَاهَا وَاسْتَقْبَلَتْ الشَّمْسَ فَثَلَطَتْ وَبَالَتْ ثُمَّ عَادَتْ فَأَكَلَتْ فَمَنْ أَخَذَهَا بِحَقِّهَا بُورِكَ لَهُ فِيهِ وَمَنْ أَخَذَهَا بِغَيْرِ حَقِّهَا لَمْ يُبَارَكْ لَهُ وَكَانَ كَالَّذِي يَأْكُلُ وَلَا يَشْبَعُ قَالَ سُفْيَانُ وَكَانَ الْأَعْمَشُ يَسْأَلُنِي عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے منبر پر جلوہ افروز ہو کر ایک مرتبہ فرمایا مجھے تم پر سب سے زیادہ اندیشہ اس چیز کا ہے کہ اللہ تمہارے لئے زمین کی نباتات اور دنیا کی رونقیں نکال دے گا، ایک آدمی نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا خیر بھی شر کو لاسکتی ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے، حتیٰ کہ ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہوتی دیکھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر پسینہ اور گھبراہٹ طاری ہوگئی، پھر فرمایا وہ سائل کہاں ہے؟ اس نے عرض کیا میں یہاں موجود ہوں اور میرا ارادہ صرف خیر ہی کا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ فرمایا خیر ہمیشہ خیر ہی کو لاتی ہے، البتہ یہ دنیا بڑی شاداب اور شیریں ہے، اور موسم بہار میں اگنے والی خود رو گھاس جانور کو پیٹ پھلا کر یا بدہضمی کرکے مار دیتی ہے، لیکن جو جانور عام گھاس چرتا ہے، وہ اسے کھاتا رہتا ہے، جب اس کی کھوکھیں بھر جاتی ہیں تو وہ سورج کے سامنے آکر لید اور پیشاب کرتا ہے، پھر دوبارہ آکر کھالیتا ہے ، اسی طرح جو شخص مال حاصل کرے اس کے حق کے ساتھ، تو اس کے لئے اس میں برکت ڈال دی جاتی ہے اور جو ناحق اسے پالیتا ہے ، اس کے لئے اس میں برکت نہیں ڈالی جاتی اور وہ اس شخص کی طرح ہوتا ہے جو کھاتا جائے لیکن سیراب نہ ہو۔

أَبَا سَعِيدٍ ← عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي سَرْحٍ، ← ابْنِ عَجْلَانَ، ← سُفْيَانَ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 11049

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 11050

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ أَبِي الْمُتَوَكِّلِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَتَوَضَّأُ إِذَا جَامَعَ وَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْجِعَ قَالَ سُفْيَانُ أَبُو سَعِيدٍ أَدْرَكَ الْحَرَّةَ قَالَ قَالَ يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ عَنْ هِشَامٍ عَنْ يَحْيَى عَنْ هِلَالٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ يَقْتُلُ حَبَطًا أَوْ خَبْطًا وَإِنَّمَا هُوَ حَبَطًا

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر کوئی آدمی اپنی بیوی کے قریب جائے، پھر دوبارہ جانے کی خواہش ہو تو وضو کرلے۔

أَبِي سَعِيدٍ يَقْتُلُ حَبَطًا أَوْ خَبْطًا وَإِنَّمَا هُوَ حَبَطًا ← هِلَالٍ، ← يَحْيَى ← هِشَامٍ ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← سُفْيَانُ أَبُو سَعِيدٍ أَدْرَكَ الْحَرَّةَ ← يَتَوَضَّأُ إِذَا جَامَعَ وَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْجِعَ ← النَّبِيِّ ← اَبِیْ سَعِیْدٍ ← أَبِي الْمُتَوَكِّلِ، ← عَاصِمٍ، ← سُفْيَانَ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 11050

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 11051

قَالَ يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ عَنْ هِشَامٍ عَنْ يَحْيَى عَنْ هِلَالٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ يَقْتُلُ حَبَطًا أَوْ خَبْطًا وَإِنَّمَا هُوَ حَبَطًا

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے منبر پر جلوہ افروز ہو کر ایک مرتبہ فرمایا مجھے تم پر سب سے زیادہ اندیشہ اس چیز کا ہے کہ اللہ تمہارے لئے زمین کی نباتات اور دنیا کی رونقیں نکال دے گا، ایک آدمی نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا خیر بھی شر کو لاسکتی ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے، حتیٰ کہ ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہوتی دیکھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر پسینہ اور گھبراہٹ طاری ہوگئی، پھر فرمایا وہ سائل کہاں ہے؟ اس نے عرض کیا میں یہاں موجود ہوں اور میرا ارادہ صرف خیر ہی کا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ فرمایا خیر ہمیشہ خیر ہی کو لاتی ہے، البتہ یہ دنیا بڑی شاداب اور شیریں ہے، اور موسم بہار میں اگنے والی خود رو گھاس جانور کو پیٹ پھلا کر یا بدہضمی کرکے مار دیتی ہے، لیکن جو جانور عام گھاس چرتا ہے، وہ اسے کھاتا رہتا ہے، جب اس کی کھوکھیں بھر جاتی ہیں تو وہ سورج کے سامنے آکر لید اور پیشاب کرتا ہے، پھر دوبارہ آکر کھالیتا ہے ، اسی طرح جو شخص مال حاصل کرے اس کے حق کے ساتھ، تو اس کے لئے اس میں برکت ڈال دی جاتی ہے اور جو ناحق اسے پالیتا ہے ، اس کے لئے اس میں برکت نہیں ڈالی جاتی اور وہ اس شخص کی طرح ہوتا ہے جو کھاتا جائے لیکن سیراب نہ ہو۔

أَبِي سَعِيدٍ يَقْتُلُ حَبَطًا أَوْ خَبْطًا وَإِنَّمَا هُوَ حَبَطًا ← هِلَالٍ، ← يَحْيَى ← هِشَامٍ ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 11051

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 11052

قَالَ سَمِعْت سُفْيَانَ قَالَ وَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ مُسْتَخْلِفُكُمْ فِيهَا فَيَنْظُرُ كَيْفَ تَعْمَلُونَ أَلَا وَإِنَّ لِكُلِّ غَادِرٍ لِوَاءً يَوْمَ الْقِيَامَةِ عِنْدَ اسْتِهِ بِقَدْرِ غَدْرَتِهِ وَقُرِئَ عَلَى سُفْيَانَ سَمِعْتُ عَلِيَّ بْنَ زَيْدٍ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں زمین میں اپنا نائب بنایا ہے، اب وہ دیکھے گا کہ تم کس قسم کے اعمال سر انجام دیتے ہو، یاد رکھو! قیامت کے دن ہر دھوکے باز کی سرین کے پاس اس کے دھوکے کی مقدار کے مطابق جھنڈا ہوگا ۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند کے ساتھ بھی مروی ہے۔

سُفْيَانَ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 11052

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 11053

وَقُرِئَ عَلَى سُفْيَانَ سَمِعْتُ عَلِيَّ بْنَ زَيْدٍ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں زمین میں اپنا نائب بنایا ہے، اب وہ دیکھے گا کہ تم کس قسم کے اعمال سر انجام دیتے ہو، یاد رکھو! قیامت کے دن ہر دھوکے باز کی سرین کے پاس اس کے دھوکے کی مقدار کے مطابق جھنڈا ہوگا ۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند کے ساتھ بھی مروی ہے۔

النَّبِيِّ ← أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَبِي نَضْرَةَ ← عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ← وَقُرِئَ عَلَى سُفْيَانَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 11053

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 11054

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ مُطَرِّفٍ عَنْ عَطِيَّةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ كَيْفَ أَنْعَمُ وَقَدْ الْتَقَمَ صَاحِبُ الْقَرْنِ الْقَرْنَ وَحَنَى جَبْهَتَهُ وَأَصْغَى سَمْعَهُ يَنْظُرُ مَتَى يُؤْمَرُ قَالَ الْمُسْلِمُونَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَمَا نَقُولُ قَالَ قُولُوا حَسْبُنَا اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ عَلَى اللَّهِ تَوَكَّلْنَا

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں ناز و نعم کی زندگی کیسے گزار سکتا ہوں جب کہ صور پھونکنے والے فرشتے نے صور اپنے منہ سے لگا رکھا ہے، اپنی پیشانی جھکا رکھی ہے اور اپنے کانوں کو متوجہ کیا ہوا ہے اور اس انتظار میں ہے کہ کب اسے صور پھونکنے کا حکم ہوتا ہے، مسلمانوں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! پھر ہمیں کیا کہنا چاہئے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم یوں کہا کرو " حسبنا اللہ ونعم الوکیل علیٰ اللہ توکلنا "

اَبِیْ سَعِیْدٍ ← عَطِيَّةَ، ← مُطَرِّفٍ ← سُفْيَانَ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 11054

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 11055

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ عَنْ قَزَعَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ رِوَايَةً يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تُسَافِرُ الْمَرْأَةُ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ إِلَّا وَمَعَهَا ذُو مَحْرَمٍ وَنَهَى عَنْ صِيَامِ الْفِطْرِ وَيَوْمِ النَّحْرِ وَنَهَى عَنْ صَلَاتَيْنِ صَلَاةٍ بَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ وَبَعْدَ الصُّبْحِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ وَلَا تُشَدُّ الرِّحَالُ إِلَّا إِلَى ثَلَاثَةِ مَسَاجِدَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَمَسْجِدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْمَسْجِدِ الْأَقْصَى

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کوئی عورت تین دن کا سفر اپنے محرم کے بغیر نہ کرے، نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عیدالفطر اور عیدالاضحی کے دن روزہ رکھنے سے منع فرمایا ہے، اور نمازِعصرکے بعد سے غروب آفتاب تک اور نمازِ فجر کے بعد سے طلوع آفتاب تک دو وقتوں میں نوافل پڑھنے سے منع فرمایا ہے اور فرمایا ہے کہ سوائے تین مسجدوں کے یعنی مسجد حرام، مسجد نبوی اور مسجد اقصیٰ کے خصوصیت کے ساتھ کسی اور مسجد کا سفر کرنے کے لئے سواری تیار نہ کی جائے۔

قَزَعَةَ ← عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، ← سُفْيَانَ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 11055

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 11056

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرٍو سَمِعَ جَابِرًا يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ يَغْزُو فِئَامٌ مِنْ النَّاسِ فَيُقَالُ هَلْ فِيكُمْ مَنْ صَاحَبَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَقُولُونَ نَعَمْ فَيُفْتَحُ لَهُمْ ثُمَّ يَغْزُو فِئَامٌ مِنْ النَّاسِ فَيُقَالُ هَلْ فِيكُمْ مَنْ صَاحَبَ مَنْ صَاحَبَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَقُولُونَ نَعَمْ فَيُفْتَحُ لَهُمْ ثُمَّ يَغْزُو فِئَامٌ مِنْ النَّاسِ فَيَقُولُونَ هَلْ فِيكُمْ مَنْ صَاحَبَ مَنْ صَاحَبَ أَصْحَابَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَقُولُونَ نَعَمْ فَيُفْتَحُ لَهُمْ

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لوگوں پر ایک زمانہ ایسا بھی آئے گا جس میں لوگوں کی جماعتیں جہاد کے لئے نکلیں گی، کوئی آدمی پوچھے گا کہ کیا تم میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی صحابی موجود ہے؟ لوگ اثبات میں جواب دیں گے اور مسلمانوں کو فتح نصیب ہوجائے گی، پھر ایک اور موقع پر لوگوں کی جماعتیں جہاد کے لئے نکلیں گی، کوئی آدمی پوچھے گا کیا تم میں صحابی کا صحابی موجود ہے؟ لوگ اثبات میں جواب دیں گے اور مسلمانوں کو فتح نصیب ہوجائےگی، پھر ایک اور موقع پر لوگوں کی جماعتیں جہاد کے لئے نکلیں گی اور کوئی آدمی پوچھے گا کہ کیا تم میں صحابی کے صحابی کا صحابی موجود ہے؟ لوگ اثبات میں جواب دیں گے اور مسلمانوں کوفتح نصیب ہوگی۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← جَابِرًا ← عَمْرٍو، ← سُفْيَانَ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 11056

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 11057

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ سَمِعَ عَمْرًا عَنْ عَتَّابِ بْنِ حُنَيْنٍ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ سُفْيَانُ لَا أَدْرِي مَنْ عَتَّابٌ لَوْ أَمْسَكَ اللَّهُ الْقَطْرَ عَنْ النَّاسِ سَبْعَ سِنِينَ ثُمَّ أَرْسَلَهُ لَأَصْبَحَتْ طَائِفَةٌ بِهِ كَافِرِينَ يَقُولُونَ مُطِرْنَا بِنَوْءِ الْمِجْدَحِ

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر اللہ تعالیٰ سات سال تک لوگوں سے بارش کو روکے رکھے، توجب وہ بارش برسائے گا، اس وقت بھی لوگوں کا ایک گروہ ناشکری کرتے ہوئے یہی کہے گا کہ مجدح کے ستارے کی تاثیر سے ہم پر بارش ہوئی ہے۔

اَبِیْ سَعِیْدٍ ← عَتَّابُ بْنُ حُنَيْنٍ، ← عَمْرًا ← سُفْيَانَ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 11057

chevron_left Previous
1…616263…264
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    0. Chapter
2. Book
    0. Chapter
3. Book
    0. Chapter
4. Book
    0. Chapter
5. Book
    0. Chapter
6. Book
    0. Chapter
7. Book
    0. Chapter
8. Book
    0. Chapter
9. Book
    0. Chapter