مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 14110
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَرَكَ قَتْلَى بَدْرٍ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ حَتَّى جَيَّفُوا ثُمَّ أَتَاهُمْ فَقَامَ عَلَيْهِمْ فَقَالَ يَا أُمَيَّةُ بْنَ خَلَفٍ يَا أَبَا جَهْلِ بْنَ هِشَامٍ يَا عُتْبَةُ بْنَ رَبِيعَةَ يَا شَيْبَةُ بْنَ رَبِيعَةَ هَلْ وَجَدْتُمْ مَا وَعَدَكُمْ رَبُّكُمْ حَقًّا فَإِنِّي قَدْ وَجَدْتُ مَا وَعَدَنِي رَبِّي حَقًّا قَالَ فَسَمِعَ عُمَرُ صَوْتَهُ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَتُنَادِيهِمْ بَعْدَ ثَلَاثٍ وَهَلْ يَسْمَعُونَ يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِنَّكَ لَا تُسْمِعُ الْمَوْتَى فَقَالَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا أَنْتُمْ بِأَسْمَعَ مِنْهُمْ وَلَكِنَّهُمْ لَا يَسْتَطِيعُونَ أَنْ يُجِيبُوا
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ تین دن کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم مقتولین بدر کی لاشوں کے پاس گئے اور فرمایا اے ابوجہل بن ہشام! اے عتبہ بن ربیعہ! اے شیبہ بن خلف! کیا تم سے تمہارے رب نے جو وعدہ کیا تھا اسے تم نے سچا پایا؟ مجھ سے تو میرے رب نے جو وعدہ کیا تھا میں نے اسے سچا پایا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ ان لوگوں کو آواز دے رہے ہیں جو مردہ ہوچکے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں جو بات کہہ رہا ہوں تم ان سے زیادہ نہیں سن رہے، البتہ وہ اس کا جواب نہیں دے سکتے۔
أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← حَمَّادٌ، ← عَفَّانُ،
Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 14110
