Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند امام احمد بن حنبل

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble

by Musnad Imam Bin Hanble

28,221 Hadith18 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 13164

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ حُمَيْدٍ قَالَ سُئِلَ أَنَسٌ عَنْ عَذَابِ الْقَبْرِ فَقَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَعَوَّذُ يَقُولُ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ الْكَسَلِ وَالْهَرَمِ وَالْجُبْنِ وَالْبُخْلِ وَفِتْنَةِ الدَّجَّالِ وَعَذَابِ الْقَبْرِ

حمید رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ کسی شخص نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے عذاب قبر کے متعلق سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کی پناہ مانگتے ہوئے کہتے تھے اے اللہ! میں سستی، بڑھاپے، بزدلی، بخل، فتنہ دجال اور عذابِ قبر سے آپ کی پناہ میں آتا ہوں ۔

كَانَ النَّبِيُّ يَتَعَوَّذُ ← عَذَابُ الْقَبْرِ. ← سُئِلَ أَنَسٌ ← حُمَيْدٍ ← ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 13164

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 13165

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ أُقِيمَتْ الصَّلَاةُ وَعَرَضَ رَجُلٌ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَحَدَّثَهُ فَحَبَسَهُ بَعْدَمَا أُقِيمَتْ الصَّلَاةُ حَتَّى نَعَسَ بَعْضُ الْقَوْمِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نماز کا وقت ہوگیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک آدمی کے ساتھ مسجد میں تنہائی میں گفتگو فرما رہے تھے جس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لئے اٹھے تو بعض لوگ سو چکے تھے۔

فَحَبَسَهُ بَعْدَمَا أُقِيمَتْ الصَّلَاةُ حَتَّى نَعَسَ بَعْضُ الْقَوْمِ ← أُقِيمَتْ الصَّلَاةُ وَعَرَضَ رَجُلٌ لِلنَّبِيِّ ← أَنَسٍ، ← حُمَيْدٍ ← ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 13165

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 13166

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُحِبُّ أَنْ يَلِيَهُ فِي الصَّلَاةِ الْمُهَاجِرُونَ وَالْأَنْصَارُ لِيَحْفَظُوا عَنْهُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس بات کو پسند فرماتے تھے کہ مہاجرین اور انصار مل کر ان کے قریب کھڑے ہوں تاکہ مسائل نماز سیکھ لیں ۔

أَنَسٍ، ← حُمَيْدٍ ← ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 13166

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 13167

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ أُقِيمَتْ الصَّلَاةُ وَكَانَ بَيْنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبَيْنَ نِسَائِهِ شَيْءٌ فَجَعَلَ يَرُدُّ بَعْضُهُنَّ عَلَى بَعْضٍ فَجَاءَ أَبُو بَكْرٍ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ احْثُ فِي أَفْوَاهِهِنَّ التُّرَابَ وَاخْرُجْ إِلَى الصَّلَاةِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی کہ ایک مرتبہ نماز کا وقت قریب آگیا، اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور ازواجِ مطہرات کے درمیان کچھ تلخی ہو رہی تھی، اور ازواج مطہرات ایک دوسرے کا دفاع کر رہی تھیں، اسی اثناء میں حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ تشریف لے آئے اور کہنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ان کے منہ میں مٹی ڈالئے اور نماز کے لئے باہر چلئے ۔

أَنَسٍ، ← حُمَيْدٍ ← ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 13167

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 13168

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ ذَاتَ يَوْمٍ وَهُوَ مَعْصُوبُ الرَّأْسِ قَالَ فَتَلَقَّاهُ الْأَنْصَارُ وَنِسَاؤُهُمْ وَأَبْنَاؤُهُمْ فَإِذَا هُوَ بِوُجُوهِ الْأَنْصَارِ فَقَالَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنِّي لَأُحِبُّكُمْ وَقَالَ إِنَّ الْأَنْصَارَ قَدْ قَضَوْا مَا عَلَيْهِمْ وَبَقِيَ مَا عَلَيْكُمْ فَأَحْسِنُوا إِلَى مُحْسِنِهِمْ وَتَجَاوَزُوا عَنْ مُسِيئِهِمْ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم باہر نکلے تو انصار سے ملاقات ہوگئی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے، میں تم سے محبت کرتا ہوں ، تم انصار کے نیکوں کی نیکی قبول کرو، اور ان کے گناہگار سے تجاوز کرو، کیونکہ انہوں نے اپنا فرض نبھا دیا ہے اور ان کا حق باقی رہ گیا۔

أَنَسٍ، ← حُمَيْدٍ ← ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 13168

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 13169

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ لَمَّا كَانَ يَوْمُ أُحُدٍ كُسِرَتْ رَبَاعِيَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَشُجَّ فِي وَجْهِهِ قَالَ فَجَعَلَ الدَّمُ يَسِيلُ عَلَى وَجْهِهِ فَجَعَلَ يَمْسَحُ الدَّمَ عَنْ وَجْهِهِ وَيَقُولُ كَيْفَ يُفْلِحُ قَوْمٌ خَضَبُوا وَجْهَ نَبِيِّهِمْ بِالدَّمِ وَهُوَ يَدْعُوهُمْ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَيْسَ لَكَ مِنْ الْأَمْرِ شَيْءٌ أَوْ يَتُوبَ عَلَيْهِمْ أَوْ يُعَذِّبَهُمْ فَإِنَّهُمْ ظَالِمُونَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ غزوہ احد کے دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اگلے چار دانت ٹوٹ گئے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشانی پر بھی زخم آیا تھا، حتیٰ کہ اس کا خون آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک پر بہنے لگا، اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ قوم کیسے فلاح پائے گی جو اپنے نبی کے ساتھ یہ سلوک کرے جب کہ وہ انہیں ان کے رب کی طرف بلا رہا ہو؟ اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ " آپ کو کسی قسم کا کوئی اختیار نہیں ہے کہ اللہ ان پر متوجہ ہو جائے یا انہیں سزا دے کہ وہ ظالم ہیں ۔ "

أَنَسٍ، ← حُمَيْدٍ ← ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 13169

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 13170

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ كَانَ أَبُو طَلْحَةَ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْفَعُ رَأْسَهُ مِنْ خَلْفِهِ يَنْظُرُ إِلَى مَوَاقِعِ نَبْلِهِ فَيَتَطَاوَلُ أَبُو طَلْحَةَ بِصَدْرِهِ يَقِي بِهِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ وَيَقُولُ يَا رَسُولَ اللَّهِ نَحْرِي دُونَ نَحْرِكَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے کھڑے ہوئے تیر اندازی کر رہے تھے، بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ وسلم تیروں کی بوچھاڑ دیکھنے کے لئے پیچھے سر اٹھاتے تو حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ سینہ سپر ہوجاتے تاکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت کرسکیں ، اور عرض کرتے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ کے سینے کے سامنے میرا سینہ پہلے ہے۔

أَنَسٍ، ← حُمَيْدٍ ← ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 13170

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 13171

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ سَارَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى خَيْبَرَ فَانْتَهَى إِلَيْهَا لَيْلًا قَالَ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا طَرَقَ لَيْلًا لَمْ يُغِرْ عَلَيْهِمْ حَتَّى يُصْبِحَ فَإِنْ سَمِعَ أَذَانًا أَمْسَكَ وَإِنْ لَمْ يَكُونُوا يُصَلُّونَ أَغَارَ عَلَيْهِمْ قَالَ فَلَمَّا أَصْبَحْنَا رَكِبَ وَرَكِبَ الْمُسْلِمُونَ قَالَ فَخَرَجَ أَهْلُ الْقَرْيَةِ إِلَى حُرُوثِهِمْ مَعَهُمْ مَكَاتِلُهُمْ وَمَسَاحِيهِمْ فَلَمَّا رَأَوْا رَسُولَ اللَّهِ وَالْمُسْلِمِينَ قَالُوا مُحَمَّدٌ وَاللَّهِ وَالْخَمِيسُ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ خَرِبَتْ خَيْبَرُ إِنَّا إِذَا نَزَلْنَا بِسَاحَةِ قَوْمٍ فَسَاءَ صَبَاحُ الْمُنْذَرِينَ قَالَ أَنَسٌ وَإِنِّي لَرَدِيفُ أَبِي طَلْحَةَ وَإِنَّ قَدَمِي لَتَمَسُّ قَدَمَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی قوم پر حملے کا ارادہ کرتے تو رات کو حملہ نہ کرتے بلکہ صبح ہونے کا انتظار کرتے، اگر وہاں سے اذان کی آواز سنائی دیتی تو رک جاتے ورنہ حملہ کر دیتے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ خیبر کے لئے تشریف لے گئے، تو رات کو خیبر پہنچے، صبح ہوئی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری پر سوار ہوئے اور مسلمان اپنی سواری پر، الغرض! جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم شہر میں داخل ہوئے تو اللہ اکبر کہہ کر فرمایا خیبر برباد ہوگیا، جب ہم کسی قوم کے صحن میں اترتے ہیں تو ڈرائے ہوئے لوگوں کی صبح بڑی بدترین ہوتی ہے، لوگ اس وقت اپنے اوزار لے کر کام پر نکلے ہوئے تھے، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں کو دیکھ کر کہنے لگے کہ محمد اور لشکر آگئے، حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے پیچھے بیٹھا ہوا تھا اور میرے پاؤں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاؤں سے لگ جاتے تھے۔

أَنَسٍ، ← حُمَيْدٍ ← ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 13171

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 13172

حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِي زِيَادٌ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ أَخْبَرَهُ أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ أخْبَرَهُ أَنَّهُ رَأَى فِي يَدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاتَمًا مِنْ وَرِقٍ يَوْمًا وَاحِدًا ثُمَّ إِنَّ النَّاسَ اضْطَرَبُوا الْخَوَاتِيمَ مِنْ وَرِقٍ وَلَبِسُوهَا فَطَرَحَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاتَمَهُ فَطَرَحَ النَّاسُ خَوَاتِيمَهُمْ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دن انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں چاندی کی ایک انگوٹھی دیکھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ کر لوگوں نے بھی چاندی کی انگوٹھیاں بنوالیں ، اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگوٹھی اتار کر پھینک دی، اور لوگوں نے بھی اپنی اپنی انگوٹھیاں اتار پھینکیں ۔

أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ ← زِيَادٌ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← ابْنُ جُرَيْجٍ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ ← رَوْحٌ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 13172

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 13173

حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا زُرَارَةُ بْنُ أَبِي الْحَلَالِ الْعَتَكِيُّ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْكُلُ وَبَيْنَ يَدَيْهِ مَرَقَةٌ فِيهَا دُبَّاءٌ فَجَعَلَ يَتَتَبَّعُهُ يَأْكُلُهُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کھانا کھاتے ہوئے دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے جو شوربہ تھا اس میں کدو تھا، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسے تلاش کر کے کھا رہے تھے۔

رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ يَأْكُلُ وَبَيْنَ يَدَيْهِ مَرَقَةٌ فِيهَا دُبَّاءٌ فَجَعَلَ يَتَتَبَّعُهُ يَأْكُلُهُ ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← زُرَارَةُ بْنُ أَبِي الْحَلَالِ الْعَتَكِيُّ ← رَوْحٌ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 13173

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 13174

حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ مُحَمَّدٍ قَالَ سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ هَلْ خَضَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَمْ يَكُنْ رَأَى مِنْ الشَّيْبِ إِلَّا يَعْنِي يَسِيرًا وَقَدْ خَضَبَ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ أَحْسِبُ بِالْحِنَّاءِ وَالْكَتَمِ

حمید کہتے ہیں کہ کسی شخص نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم خضاب لگاتے تھے؟ انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک ڈاڑھی کے اگلے حصے میں صرف سترہ یا بیس بال سفید تھے، اور ان پر بڑھاپے کا عیب نہیں آیا، کسی نے پوچھا کہ کیا بڑھاپا عیب ہے؟ انہوں نے فرمایا تم میں سے ہر شخص اسے ناپسند سمجھتا ہے، البتہ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ مہندی اور وسمہ کا خضاب لگاتے تھے، جب کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ صرف مہندی کا خضاب لگاتے تھے۔

سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ: هَلْ خَضَّبَ رَسُولُ اللَّهِ ← مُحَمَّدٍ ← هِشَامٍ ← رَوْحٌ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 13174

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 13175

حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا زُرَارَةُ بْنُ أَبِي الْحَلَالِ الْعَتَكِيُّ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يُحَدِّثُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَا أَنْجَشَةُ كَذَاكَ سَيْرُكَ بِالْقَوَارِيرِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انجثہ! آبگینوں کو آہستہ لے کر چلو۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← زُرَارَةُ بْنُ أَبِي الْحَلَالِ الْعَتَكِيُّ ← رَوْحٌ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 13175

chevron_left Previous
1…238239240…264
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    0. Chapter
2. Book
    0. Chapter
3. Book
    0. Chapter
4. Book
    0. Chapter
5. Book
    0. Chapter
6. Book
    0. Chapter
7. Book
    0. Chapter
8. Book
    0. Chapter
9. Book
    0. Chapter