Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Friday, Jumada I 6, 1448 AH · Oct 16, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند امام احمد بن حنبل

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble

by Musnad Imam Bin Hanble

28,221 Hadith18 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 13092

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ سَلْمٍ الْعَلَوِيِّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُ يَا بُنَيَّ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے " اے میرے پیارے بیٹے " کہہ کر مخاطب کیا تھا۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← سَلْمٍ الْعَلَوِيِّ ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← عَبْدُ الْوَاحِدِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 13092

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 13093

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَجَرَ عَنْ الشُّرْبِ قَائِمًا قَالَ فَقِيلَ لِأَنَسٍ فَالْأَكْلُ قَالَ ذَاكَ أَشَدُّ أَوْ أَشَرُّ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا ہے کہ کوئی شخص کھڑے ہو کر پیے میں نے کھانے کا حکم پوچھا تو فرمایا یہ اس سے بھی زیادہ سخت ہے۔

أَنَسٍ، ← قَتَادَةَ ← هَمَّامٌ، ← عَبْدُ الْوَاحِدِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 13093

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 13094

حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَنْبَأَنَا عَاصِمٌ قَالَ سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ أَحَرَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ قَالَ نَعَمْ هِيَ حَرَامٌ حَرَّمَهَا اللَّهُ وَرَسُولُهُ لَا يُخْتَلَى خَلَاهَا فَمَنْ فَعَلَ ذَلِكَ فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ

عاصم رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ کو حرم قرار دیا تھا؟ انہوں نے فرمایا ہاں ! یہ حرم ہے، اللہ اور اس کے رسول نے اسے حرم قرار دیا ہے، اس کی گھاس تک نہیں کاٹی جاسکتی، جو شخص ایسا کرتا ہے اس پر اللہ، فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہے۔

سألت أنس بن مالك أحرم رسول الله المدينة؟ ← عَاصِمٍ، ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 13094

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 13095

حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَنْبَأَنَا حُمَيْدٌ عَنْ أَنَسٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحِبُّ أَنْ يَلِيَهُ الْمُهَاجِرُونَ وَالْأَنْصَارُ فِي الصَّلَاةِ لِيَأْخُذُوا عَنْهُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس بات کو پسند فرماتے تھے کہ نماز میں مہاجرین اور انصار مل کر ان کے قریب کھڑے ہوں تاکہ مسائل نماز سیکھ سکیں ۔

كَانَ رَسُولُ اللَّهِ يُحِبُّ أَنْ يَلِيَهُ الْمُهَاجِرُونَ وَالْأَنْصَارُ فِي الصَّلَاةِ لِيَأْخُذُوا عَنْهُ ← أَنَسٍ، ← حُمَيْدٍ ← يَزِيدُ:

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 13095

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 13096

حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَنْبَأَنَا حُمَيْدٌ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ ذَاتَ لَيْلَةٍ يُصَلِّي فِي حُجْرَتِهِ فَجَاءَ أُنَاسٌ مِنْ أَصْحَابِهِ فَصَلَّوْا بِصَلَاتِهِ فَخَفَّفَ ثُمَّ دَخَلَ الْبَيْتَ ثُمَّ خَرَجَ فَفَعَلَ ذَلِكَ مِرَارًا كُلُّ ذَلِكَ يُصَلِّي وَيَنْصَرِفُ فَلَمَّا أَصْبَحَ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّيْنَا مَعَكَ الْبَارِحَةَ وَنَحْنُ نُحِبُّ أَنْ تَمُدَّ فِي صَلَاتِكَ فَقَالَ قَدْ عَلِمْتُ بِمَكَانِكُمْ وَعَمْدًا فَعَلْتُ ذَلِكَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک مرتبہ رات کے وقت اپنے حجرے میں نماز پڑھ رہے تھے، کچھ لوگ آئے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز میں شریک ہوگئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز مختصر کرکے اپنے گھر تشریف لے گئے، ایسا کئی مرتبہ ہوا حتیٰ کہ صبح ہوگئی، تب لوگوں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ نماز پڑھ رہے تھے، ہماری خواہش تھی کہ آپ اسے لمبا کر دیتے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے تمہاری موجودگی کا علم تھا لیکن میں نے جان بوجھ کر ہی ایسا کیا تھا۔

أَنَسٍ، ← حُمَيْدٍ ← يَزِيدُ:

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 13096

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 13097

حَدَّثَنَا يَزِيدُ حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى نُخَامَةً فِي قِبْلَةِ الْمَسْجِدِ فَحَكَّهَا فَرُئِيَ فِي وَجْهِهِ شِدَّةُ ذَلِكَ عَلَيْهِ فَقَالَ إِنَّ الْعَبْدَ إِذَا قَامَ يُصَلِّي فَإِنَّمَا يُنَاجِي رَبَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِيمَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ فَإِذَا بَصَقَ أَحَدُكُمْ فَلْيَبْصُقْ عَنْ يَسَارِهِ أَوْ تَحْتَ قَدَمِهِ الْيُسْرَى أَوْ يَفْعَلْ هَكَذَا وَأَخَذَ طَرَفَ رِدَائِهِ فَبَصَقَ فِيهِ ثُمَّ دَلَكَ بَعْضَهُ بِبَعْضٍ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو قبلہ مسجد کی طرف تھوک لگا ہوا نظر آیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طبیعت پر یہ چیز اتنی شاق گذری کہ چہرہ مبارک پر ناگواری کے آثار واضح ہوگئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے صاف کر کے فرمایا کہ انسان جب نماز پڑھنے کے لئے کھڑا ہوتا ہے تو اپنے رب سے مناجات کرتا ہے، اس لئے اسے چاہئے کہ اپنی بائیں جانب یا پاؤں کے نیچے تھوکے، اور اس طرح اشارہ کیا کہ اسے کپڑے میں لے کر مل لے۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← حُمَيْدٍ ← يَزِيدُ:

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 13097

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 13098

حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَنا حُمَيْدٌ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ أُمَّ سُلَيْمٍ أَخَذَتْ بِيَدِهِ مَقْدَمَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا أَنَسٌ ابْنِي وَهُوَ غُلَامٌ كَاتِبٌ قَالَ أَنَسٌ فَخَدَمْتُهُ تِسْعَ سِنِينَ فَمَا قَالَ لِي لِشَيْءٍ صَنَعْتُهُ أَسَأْتَ أَوْ بِئْسَمَا صَنَعْتَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مدینہ منورہ تشریف آوری پر حضرت ام سلیم رضی اللہ تعالیٰ عنہا میرا ہاتھ پکڑ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور کہنے لگیں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ میرا بیٹا ہے اور لکھنا جانتا ہے، چنانچہ میں نے نو سال تک نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کی، میں نے جس کام کو کر لیا ہو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی مجھ سے یہ نہیں فرمایا کہ تم نے بہت برا کیا، یا غلط کیا۔

أَنَسٍ أَنَّ أُمَّ سُلَيْمٍ أَخَذَتْ بِيَدِهِ مَقْدَمَ رَسُولِ اللَّهِ الْمَدِينَةَ فَقَالَتْ ← حُمَيْدٍ ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 13098

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 13099

حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ وَالْأَنْصَارِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ الْمَعْنَى عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ إِنْ كَانَ يُعْجِبُنَا الرَّجُلُ مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ يَجِيءُ فَيَسْأَلُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَجَاءَ أَعْرَابِيٌّ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَتَى السَّاعَةُ قَالَ وَأُقِيمَتْ الصَّلَاةُ فَنَهَضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى فَلَمَّا قَضَى الصَّلَاةَ قَالَ أَيْنَ السَّائِلُ عَنْ السَّاعَةِ فَقَامَ الرَّجُلُ فَقَالَ أَنَا فَقَالَ وَمَا أَعْدَدْتَ لَهَا قَالَ مَا أَعْدَدْتُ لَهَا مِنْ كَثِيرِ صَلَاةٍ وَلَا صِيَامٍ إِلَّا أَنِّي أُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَرْءُ مَعَ مَنْ أَحَبَّ قَالَ فَمَا رَأَيْتُ الْمُسْلِمِينَ فَرِحُوا بِشَيْءٍ بَعْدَ الْإِسْلَامِ فَرَحَهُمْ بِذَلِكَ وَقَالَ الْأَنْصَارِيُّ مِنْ كَثِيرِ عَمَلٍ صَلَاةٍ وَلَا صَوْمٍ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہمیں اس بات سے بڑی خوشی ہوتی تھی کہ کوئی دیہاتی آکر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کرے، چنانچہ ایک مرتبہ ایک دیہاتی آیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! قیامت کب قائم ہوگی؟ اس وقت اقامت ہوچکی تھی اس لئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھانے لگے، نماز سے فارغ ہو کر فرمایا کہ قیامت کے متعلق سوال کرنے والا آدمی کہاں ہے؟ اس نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں یہاں ہوں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم نے قیامت کے لئے کیا تیاری کر رکھی ہے؟ اس نے کہا کہ میں نے کوئی بہت زیادہ اعمال، نماز، روزہ تو مہیا نہیں کر رکھے البتہ اتنی بات ضرور ہے کہ میں اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہوں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انسان قیامت کے دن اس شخص کے ساتھ ہوگا جس کے ساتھ وہ محبت کرتا ہے، حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے مسلمانوں کو اسلام قبول کرنے کے بعد اس دن جتنا خوش دیکھا اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھا۔

فَجَاءَ أَعْرَابِيٌّ فَقَالَ ← إِنْ كَانَ يُعْجِبُنَا الرَّجُلُ مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ يَجِيءُ فَيَسْأَلُ رَسُولَ اللَّهِ ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← حُمَيْدٌ الْمَعْنَى ← حُمَيْدٌ وَالْأَنْصَارِيُّ ← يَزِيدُ:

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 13099

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 13100

حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ سُئِلَ هَلْ اصْطَنَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاتَمًا قَالَ نَعَمْ أَخَّرَ لَيْلَةً الصَّلَاةَ صَلَاةَ الْعِشَاءِ إِلَى شَطْرِ اللَّيْلِ ثُمَّ صَلَّى فَلَمَّا صَلَّى أَقْبَلَ بِوَجْهِهِ فَقَالَ إِنَّ النَّاسَ قَدْ صَلَّوْا وَنَامُوا وَإِنَّكُمْ لَمْ تَزَالُوا فِي صَلَاةٍ مُنْذُ انْتَظَرْتُمْ الصَّلَاةَ قَالَ فَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى وَبِيصِ خَاتَمِهِ

حمید رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ کسی شخص نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انگوٹھی بنوائی تھی؟ انہوں نے فرمایا ہاں ! ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نمازِ عشاء کو نصف رات تک موخر کردیا، اور فرمایا لوگ نماز پڑھ کر سو گئے لیکن تم نے جتنی دیر تک نماز کا انتظار کیا، تم نماز ہی میں شمار ہوئے، اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی انگوٹھی کی سفیدی اب تک میری نگاہوں کے سامنے ہے۔

أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ سُئِلَ هَلْ اصْطَنَعَ رَسُولُ اللَّهِ خَاتَمًا ← حُمَيْدٍ ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 13100

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 13101

حَدَّثَنَا يَزِيدُ حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاصَلَ فِي آخِرِ الشَّهْرِ فَوَاصَلَ نَاسٌ مِنْ النَّاسِ فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَوْ مُدَّ لَنَا الشَّهْرُ لَوَاصَلْتُ وِصَالًا يَدَعُ الْمُتَعَمِّقُونَ تَعَمُّقَهُمْ إِنِّي لَسْتُ مِثْلَكُمْ إِنِّي أَبِيتُ يُطْعِمُنِي رَبِّي وَيَسْقِينِي

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی مہینے کے آخر میں صوم وصال فرمایا: کچھ لوگوں نے بھی ایسا ہی کیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر ہوئی تو فرمایا کہ اگر یہ مہینہ لمبا ہوجاتا تو میں اتنے دن مسلسل روزہ رکھتا کہ دین میں تعمق کرنے والے اپنا تعمق چھوڑ دیتے، میں تمہاری طرح نہیں ہوں ، مجھے تو میرا رب کھلاتا پلاتا رہتا ہے۔

أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← حُمَيْدٍ ← يَزِيدُ:

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 13101

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 13102

حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ انْفَكَّتْ قَدَمُهُ فَقَعَدَ فِي مَشْرُبَةٍ لَهُ دَرَجَتُهَا مِنْ جُذُوعٍ وَآلَى مِنْ نِسَائِهِ شَهْرًا فَأَتَاهُ أَصْحَابُهُ يَعُودُونَهُ فَصَلَّى بِهِمْ قَاعِدًا وَهُمْ قِيَامٌ فَلَمَّا حَضَرَتْ الصَّلَاةُ الْأُخْرَى قَالَ لَهُمْ ائْتَمُّوا بِإِمَامِكُمْ فَإِذَا صَلَّى قَائِمًا فَصَلُّوا قِيَامًا وَإِنْ صَلَّى قَاعِدًا فَصَلُّوا مَعَهُ قُعُودًا قَالَ وَنَزَلَ فِي تِسْعٍ وَعِشْرِينَ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّكَ آلَيْتَ شَهْرًا قَالَ الشَّهْرُ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاؤں میں موچ آگئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے بالا خانے میں تشریف فرما ہوگئے، جس کی سیڑھیاں لکڑی کی تھیں ، اور ازواج مطہرات سے ایک مہینے کے لئے ایلاء کرلیا، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی عیادت کے لئے آئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بیٹھ کر نماز پڑھائی جب کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کھڑے رہے، جب اگلی نماز کا وقت ہوا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا اپنے امام کی اقتداء کیا کرو، اگر وہ کھڑے ہو کر نماز پڑھے تو تم بھی کھڑے ہو کر نماز پڑھو، اور اگر وہ بیٹھ کر نماز پڑھے تو تم بھی اس کے ساتھ بیٹھ کر نماز پڑھو، الغرض! ٢٩دن گذرنے کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نیچے اتر آئے، لوگوں نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ نے تو ایک مہینے کے لئے ایلاء فرمایا تھا؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مہینہ بعض اوقات ٢٩ کا بھی ہوتا ہے۔

أَنَسٍ، ← حُمَيْدٍ ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 13102

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 13103

حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونٍَ أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ عَنْ أَنَسٍ قَالَ أَوْلَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِزَيْنَبَ فَأَشْبَعَ الْمُسْلِمِينَ خُبْزًا وَلَحْمًا ثُمَّ خَرَجَ كَمَا كَانَ يَصْنَعُ إِذَا تَزَوَّجَ فَيَأْتِي حُجَرَ أُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ فَيُسَلِّمُ عَلَيْهِنَّ وَيَدْعُو لَهُنَّ وَيُسَلِّمْنَ عَلَيْهِ وَيَدْعُونَ لَهُ ثُمَّ رَجَعَ وَأَنَا مَعَهُ فَلَمَّا انْتَهَى إِلَى الْبَابِ إِذَا رَجُلَانِ قَدْ جَرَى بَيْنَهُمَا الْحَدِيثُ فِي نَاحِيَةِ الْبَيْتِ فَلَمَّا أَبْصَرَهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ انْصَرَفَ فَلَمَّا رَأَى الرَّجُلَانِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ رَجَعَ وَثَبَا فَزِعَيْنِ فَخَرَجَا فَلَا أَدْرِي أَنَا أَخْبَرْتُهُ أَوْ مَنْ أَخْبَرَهُ فَرَجَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے ولیمے میں مسلمانوں کو خوب پیٹ بھر کر روٹی اور گوشت کھلایا، پھر حسب معمول واپس تشریف لے گئے اور ازواج مطہرات کے گھر میں جا کر انہیں سلام کیا اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے دعائیں کیں ، پھر واپس تشریف لائے، جب گھر پہنچے تو دیکھا کہ دو آدمیوں کے درمیان گھر کے ایک کونے میں باہم گفتگو جاری ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان دونوں کو دیکھ کر پھر واپس چلے گئے، جب ان دونوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے گھر سے پلٹتے ہوئے دیکھا تو وہ جلدی سے اٹھ کھڑے ہوئے، اب مجھے یاد نہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے جانے کی خبر میں نے دی یا کسی اور نے، بہرحال! نبی صلی اللہ علیہ وسلم گھر واپس آگئے۔

أَنَسٍ، ← حُمَيْدٍ ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 13103

chevron_left Previous
1…232233234…264
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    0. Chapter
2. Book
    0. Chapter
3. Book
    0. Chapter
4. Book
    0. Chapter
5. Book
    0. Chapter
6. Book
    0. Chapter
7. Book
    0. Chapter
8. Book
    0. Chapter
9. Book
    0. Chapter