Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Friday, Jumada I 6, 1448 AH · Oct 16, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند امام احمد بن حنبل

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble

by Musnad Imam Bin Hanble

28,221 Hadith18 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 13068

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنَا رَبَاحٌ عَنْ مَعْمَرٍ عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ أَلَا أُصَلِّي لَكُمْ صَلَاةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى بِهِمْ صَلَاةً حَسَنَةً لَمْ يُطَوِّلْ فِيهَا

حضرت انس رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ لوگوں سے فرمایا کیا میں تمہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم جیسی نماز نہ پڑھاؤں ؟ پھر انہوں نے عمدہ طریقے سے نماز پڑھائی اور اسے زیادہ لمبا نہیں کیا۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ← مَعْمَرٌ، ← رَبَاحٍ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ خَالِدٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 13068

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 13069

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي دَارِنَا فَحُلِبَ لَهُ دَاجِنٌ فَشَابُوا لَبَنَهَا بِمَاءِ الدَّارِ ثُمَّ نَاوَلُوهُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَشَرِبَ وَأَبُو بَكْرٍ عَنْ يَسَارِهِ وَأَعْرَابِيٌّ عَنْ يَمِينِهِ فَقَالَ لَهُ عُمَرُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَعْطِ أَبَا بَكْرٍ عِنْدَكَ وَخَشِيَ أَنْ يُعْطِيَهُ الْأَعْرَابِيَّ قَالَ فَأَعْطَاهُ الْأَعْرَابِيَّ ثُمَّ قَالَ الْأَيْمَنَ فَالْأَيْمَنَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے گھر تشریف لائے، ہم نے ایک پالتو بکری کا دودھ دوہا اور گھر کے کنویں میں سے پانی لے کر اس میں ملایا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کر دیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دائیں جانب ایک دیہاتی تھا، اور بائیں جانب حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب اسے نوش فرما چکے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ یہ ابوبکر کو دے دیجئے، لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دودھ کا وہ برتن دیہاتی کو دے دیا اور فرمایا پہلے دائیں ہاتھ والے کو، پھر اس کے بعد والے کو۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 13069

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 13070

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ مُرَّ بِجِنَازَةٍ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَثْنُوا عَلَيْهَا فَقَالُوا كَانَ مَا عَلِمْنَا يُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَأَثْنَوْا عَلَيْهِ خَيْرًا فَقَالَ وَجَبَتْ ثُمَّ مُرَّ عَلَيْهِ بِجِنَازَةٍ أُخْرَى فَقَالَ أَثْنُوا عَلَيْهَا فَقَالُوا بِئْسَ الْمَرْءُ كَانَ فِي دِينِ اللَّهِ فَقَالَ وَجَبَتْ أَنْتُمْ شُهَدَاءُ اللَّهِ فِي الْأَرْضِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سے ایک جنازہ گذرا، کسی شخص نے اس کی تعریف کی، پھر کئی لوگوں نے اس کی تعریف کی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا واجب ہوگئی، پھر دوسرا جنازہ گذرا اور لوگوں نے اس کی مذمت کی، ان کی دیکھا دیکھی بہت سے لوگوں نے اس کی مذمت کی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا واجب ہوگئی، تم لوگ زمین میں اللہ کے گواہ ہو۔

وجبت أنتم شهداء الله في الأرض ← بئس المرء كان في دين الله ← أَثْنُوا عَلَيْهَا ← وَجَبَتْ ثُمَّ مُرَّ عَلَيْهِ بِجِنَازَةٍ أُخْرَى ← كَانَ مَا عَلِمْنَا يُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَأَثْنَوْا عَلَيْهِ خَيْرًا ← أَثْنُوا عَلَيْهَا ← مُرَّ بِجِنَازَةٍ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ ← أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 13070

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 13071

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ وَرَوْحٌ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ عَنْ مَرْوَانَ مَوْلَى هِنْدِ ابْنَةِ الْمُهَلَّبِ قَالَ رَوْحٌ أَرْسَلَتْنِي هِنْدٌ إِلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ وَلَمْ يَقُلْ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَاجَةٍ فَسَمِعْتُهُ يُحَدِّثُ أَصْحَابَهُ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ الْوِصَالِ

مروان " جو کہ ہند بنت مہلب کے آزاد کردہ غلام تھے " کہتے ہیں کہ مجھے ہند نے حضرت انس رضی اللہ عنہ کے پاس اپنے کسی کام سے بھیجا تو میں نے انہیں اپنے ساتھیوں کو یہ حدیث سناتے ہوئے سنا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صوم وصال (بغیر افطاری کے مسلسل کئی دن روزہ رکھنے) سے منع فرمایا ہے۔

أَصْحَابَهُ. ← رَوْحٌ أَرْسَلَتْنِي هِنْدٌ إِلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ وَلَمْ يَقُلْ زَوْجَ النَّبِيِّ فِي حَاجَةٍ ← مَرْوَانَ مَوْلَى هِنْدِ ابْنَةِ الْمُهَلَّبِ ← هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ ← هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ، وَرَوْحٌ ← مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 13071

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 13072

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ حَدَّثَنَا أَبُو أَيُّوبَ الْإِفْرِيقِيُّ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ حُنَيْنٍ مَنْ تَفَرَّدَ بِدَمِ رَجُلٍ فَقَتَلَهُ فَلَهُ سَلَبُهُ قَالَ فَجَاءَ أَبُو طَلْحَةَ بِسَلَبِ أَحَدٍ وَعِشْرِينَ رَجُلًا

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ حنین کے دن اعلان فرما دیا کہ جو شخص کسی کافر کو قتل کرے گا، اس کا سازوسامان اسی کو ملے گا، چنانچہ حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے اکیس آدمیوں کو قتل کر کے ان کا سامان حاصل کیا۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، ← أبو أيوب الأفريقي ← يَحْيَی بْنُ زَکَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 13072

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 13073

حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ أُسَامَةَ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ جَاءَ أَبُو طَلْحَةَ يَوْمَ حُنَيْنٍ يُضْحِكُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أُمِّ سُلَيْمٍ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَمْ تَرَ إِلَى أُمِّ سُلَيْمٍ مُتَقَلِّدَةً خِنْجَرًا فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا تَصْنَعِينَ بِهِ يَا أُمَّ سُلَيْمٍ قَالَتْ أَرَدْتُ إِنْ دَنَا مِنِّي أَحَدٌ مِنْهُمْ طَعَنْتُهُ بِهِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ غزوہ حنین کے دن حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ہنسانے کے لئے آئے اور عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ام سلیم کو دیکھیں کہ ان کے پاس خنجر ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا کہ اے ام سلیم! تم اس کا کیا کرو گی؟ انہوں نے کہا کہ اگر کوئی مشرک میرے قریب آیا تو میں اس سے اس کا پیٹ پھاڑ دوں گی۔

جَاءَ أَبُو طَلْحَةَ يَوْمَ حُنَيْنٍ يُضْحِكُ رَسُولَ اللَّهِ مِنْ أُمِّ سُلَيْمٍ ← أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← سُلَيْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ ← حَمَّادُ بْنُ أُسَامَةَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 13073

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 13074

حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ قَالَ أَخْبَرَنِي هِلَالُ بْنُ سُوَيْدٍ أَبُو مُعَلَّى قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ وَهُوَ يَقُولُ أُهْدِيَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثَةُ طَوَائِرَ فَأَطْعَمَ خَادِمَهُ طَائِرًا فَلَمَّا كَانَ مِنْ الْغَدِ أَتَتْهُ بِهِ فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَلَمْ أَنْهَكِ أَنْ تَرْفَعِي شَيْئًا فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَأْتِي بِرِزْقِ كُلِّ غَدٍ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ہدیہ کے طور پر تین پرندے آئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں سے ایک پرندہ اپنی ایک خادمہ کو دے دیا، اگلے دن اس نے وہی پرندہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا میں نے تمہیں اگلے دن کے لئے کوئی چیز اٹھا رکھنے سے منع نہیں کیا تھا؟ ہر دن کا رزق اللہ خود دیتا ہے۔

أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ وَهُوَ ← هِلَالُ بْنُ سُوَيْدٍ أَبُو مُعَلَّى، ← مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 13074

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 13075

حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا حَنْظَلَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ السَّدُوسِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ قَالَ قَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَحَدُنَا يَلْقَى صَدِيقَهُ أَيَنْحَنِي لَهُ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا قَالَ فَيَلْتَزِمُهُ وَيُقَبِّلُهُ قَالَ لَا قَالَ فَيُصَافِحُهُ قَالَ نَعَمْ إِنْ شَاءَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے بارگاہ نبوت میں عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم میں سے جب کوئی اپنے دوست سے ملے تو کیا اس سے جھک کر مل سکتا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں ، سائل نے پوچھا کیا اس سے چمٹ کر اسے بوسہ دے سکتا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں ، سائل نے پوچھا کہ مصافحہ کرسکتا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں ! اگر چاہے تو مصافحہ کرسکتا ہے۔

رَجُلٌ: ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← حنظلة بن عبد الله السدوسي ← مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 13075

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 13076

حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ قَالَ حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو قِلَابَةَ الْجَرْمِيُّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ قَدِمَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَمَانِيَةُ نَفَرٍ مِنْ عُكْلٍ فَأَسْلَمُوا فَاجْتَوَوْا الْمَدِينَةَ فَأَمَرَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَأْتُوا إِبِلَ الصَّدَقَةِ فَيَشْرَبُوا مِنْ أَبْوَالِهَا وَأَلْبَانِهَا فَفَعَلُوا فَصَحُّوا فَارْتَدُّوا وَقَتَلُوا رُعَاتَهَا أَوْ رِعَاءَهَا وَسَاقُوهَا فَبَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي طَلَبِهِمْ قَافَةً فَأُتِيَ بِهِمْ فَقَطَّعَ أَيْدِيَهُمْ وَأَرْجُلَهُمْ وَلَمْ يَحْسِمْهُمْ حَتَّى مَاتُوا وَسَمَلَ أَعْيُنَهُمْ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ قبیلہ عکل کے آٹھ آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آکر مسلمان ہوگئے، لیکن انہیں مدینہ منورہ کی آب و ہوا موافق نہ آئی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ اگر تم ہمارے اونٹوں کے پاس جا کر ان کا دودھ پیو تو شاید تندرست ہوجاؤ، چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا، لیکن جب وہ صحیح ہوگئے تو دوبارہ مرتد ہو کر کفر کی طرف لوٹ گئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مسلمان چرواہے کو قتل کر دیا، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اونٹوں کو بھگا کر لے گئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے پیچھے صحابہ کو بھیجا، انہیں پکڑ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کیا گیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ہاتھ پاؤں مخالف سمت سے کٹوا دئیے ، ان کی آنکھوں میں سلائیاں پھروادیں اور انہیں پتھریلے علاقوں میں چھوڑ دیا یہاں تک کہ وہ مر گئے۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← أَبُو قِلَابَةَ الْجَرْمِيُّ، ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 13076

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 13077

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّهُ حَدَّثَهُمْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرَادَ أَنْ يَكْتُبَ إِلَى الْأَعَاجِمِ فَقِيلَ إِنَّهُمْ لَا يَقْبَلُونَ كِتَابًا إِلَّا بِنَقْشٍ فَاتَّخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاتَمًا مِنْ فِضَّةٍ وَنَقَشَ فِيهِ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عجمیوں کو خط لکھنے کا ارادہ کیا تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا کہ وہ لوگ صرف مہر شدہ خطوط ہی پڑھتے ہیں ، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے چاندی کی انگوٹھی بنوالی، اس کی سفیدی اب تک میری نگاہوں کے سامنے ہے، اس پر یہ عبارت نقش تھی، " محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم "

أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّهُ ← قَتَادَةَ ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 13077

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 13078

حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ قَالَ حَدَّثَنِي حُسَيْنُ بْنُ وَاقِدٍ قَالَ حَدَّثَنِي ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ قَالَ حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ أَنَّ رَجُلًا قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَتَى السَّاعَةُ قَالَ مَا قَدَّمْتَ لَهَا قَالَ حُبَّ اللَّهِ وَرَسُولِهِ قَالَ أَنْتَ مَعَ مَنْ أَحْبَبْتَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک دیہاتی آیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! قیامت کب قائم ہوگی؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم نے قیامت کے لئے کیا تیاری کر رکھی ہے؟ اس نے کہا کہ میں نے کوئی بہت زیادہ اعمال تو مہیا نہیں کر رکھے، البتہ اتنی بات ضرور ہے کہ میں اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہوں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم اس کے ساتھ ہوگے جس کے ساتھ محبت کرتے ہو۔

أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ: أَنَّ رَجُلًا ← ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ← حُسَيْنُ بْنُ وَاقِدٍ، ← زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 13078

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 13079

حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ قَالَ أَخْبَرَنِي عَلِيُّ بْنُ مَسْعَدَةَ الْبَاهِلِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَسْتَقِيمُ إِيمَانُ عَبْدٍ حَتَّى يَسْتَقِيمَ قَلْبُهُ وَلَا يَسْتَقِيمُ قَلْبُهُ حَتَّى يَسْتَقِيمَ لِسَانُهُ وَلَا يَدْخُلُ رَجُلٌ الْجَنَّةَ لَا يَأْمَنُ جَارُهُ بَوَائِقَهُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کسی شخص کا ایمان اس وقت تک مستقیم نہیں ہوسکتا جب تک اس کا دل مستقیم نہ ہو، اور دل اس وقت تک مستقیم نہیں ہوسکتا جب تک زبان مستقیم نہ ہو، اور کوئی ایسا شخص جنت میں داخل نہیں ہوگا جس کا پڑوسی اس کی ایذاء رسانی سے محفوظ نہ ہو۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← قَتَادَةَ ← عَلِيُّ بْنُ مَسْعَدَةَ الْبَاهِلِيُّ ← زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 13079

chevron_left Previous
1…230231232…264
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    0. Chapter
2. Book
    0. Chapter
3. Book
    0. Chapter
4. Book
    0. Chapter
5. Book
    0. Chapter
6. Book
    0. Chapter
7. Book
    0. Chapter
8. Book
    0. Chapter
9. Book
    0. Chapter