Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Friday, Jumada I 6, 1448 AH · Oct 16, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند امام احمد بن حنبل

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble

by Musnad Imam Bin Hanble

28,221 Hadith18 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 13056

حَدَّثَنَا بَهْزٌ وَحَدَّثَنَا هَاشِمٌ قَالَا حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ عَنِ ثَابِتٍ عَنِ أَنَسٍ قَالَ لَمَّا انْقَضَتْ عِدَّةُ زَيْنَبَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِزَيْدٍ اذْهَبْ فَاذْكُرْهَا عَلَيَّ قَالَ فَانْطَلَقَ حَتَّى أَتَاهَا قَالَ وَهِيَ تُخَمِّرُ عَجِينَهَا فَلَمَّا رَأَيْتُهَا عَظُمَتْ فِي صَدْرِي حَتَّى مَا أَسْتَطِيعُ أَنْ أَنْظُرَ إِلَيْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَكَرَهَا فَوَلَّيْتُهَا ظَهْرِي وَرَكَضْتُ عَلَى عَقِبَيَّ فَقُلْتُ يَا زَيْنَبُ أَبْشِرِي أَرْسَلَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَذْكُرُكِ قَالَتْ مَا أَنَا بِصَانِعَةٍ شَيْئًا حَتَّى أُؤَامِرَ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ فَقَامَتْ إِلَى مَسْجِدِهَا وَنَزَلَ يَعْنِي الْقُرْآنَ وَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَخَلَ عَلَيْهَا بِغَيْرِ إِذْنٍ قَالَ وَلَقَدْ رَأَيْتُنَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَطْعَمَنَا الْخُبْزَ وَاللَّحْمَ قَالَ هَاشِمٌ حِينَ عَرَفْتُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطَبَهَا قَالَ هَاشِمٌ فِي حَدِيثِهِ لَقَدْ رَأَيْتُنَا حِينَ أُدْخِلَتْ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُطْعِمْنَا الْخُبْزَ وَاللَّحْمَ فَخَرَجَ النَّاسُ وَبَقِيَ رِجَالٌ يَتَحَدَّثُونَ فِي الْبَيْتِ بَعْدَ الطَّعَامِ فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاتَّبَعْتُهُ فَجَعَلَ يَتَتَبَّعُ حُجَرَ نِسَائِهِ فَجَعَلَ يُسَلِّمُ عَلَيْهِنَّ وَيَقُلْنَ يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ وَجَدْتَ أَهْلَكَ قَالَ فَمَا أَدْرِي أَنَا أَخْبَرْتُهُ أَنَّ الْقَوْمَ قَدْ خَرَجُوا أَوْ أُخْبِرَ قَالَ فَانْطَلَقَ حَتَّى دَخَلَ الْبَيْتَ فَذَهَبْتُ أَدْخُلُ مَعَهُ فَأَلْقَى السِّتْرَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ وَنَزَلَ الْحِجَابُ قَالَ وَوُعِظَ الْقَوْمُ بِمَا وُعِظُوا بِهِ قَالَ هَاشِمٌ فِي حَدِيثِهِ لَا تَدْخُلُوا بُيُوتَ النَّبِيِّ إِلَّا أَنْ يُؤْذَنَ لَكُمْ إِلَى طَعَامٍ غَيْرَ نَاظِرِينَ إِنَاهُ وَلَا مُسْتَأْنِسِينَ لِحَدِيثٍ إِنَّ ذَلِكُمْ كَانَ يُؤْذِي النَّبِيَّ فَيَسْتَحْيِي مِنْكُمْ وَاللَّهُ لَا يَسْتَحْيِي مِنْ الْحَقِّ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی عدت پوری ہوگئی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ زینب کے پاس جا کر میرا ذکر کرو، وہ چلے گئے جب ان کے پاس پہنچے تو خود کہتے ہیں کہ وہ آٹا گوندھ رہی تھیں ، جب میں نے انہیں دیکھا تو میرے دل میں ان کی اتنی عظمت پیدا ہوئی کہ میں ان کی طرف نظر اٹھا کر دیکھ بھی نہ سکا، کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا تذکرہ کیا تھا، چنانچہ میں نے اپنی پشت پھیری اور الٹے پاؤں لوٹ گیا اور ان سے کہہ دیا کہ زینب! خوشخبری ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے تمہارے پاس بھیجا ہے، وہ تمہارا ذکر کر رہے تھے، انہوں نے جواب دیا کہ میں جب تک اپنے رب سے مشورہ نہ کر لوں کچھ نہ کروں گی، یہ کہہ کر وہ اپنی جائے نماز کی طرف بڑھ گئیں اور اسی دوران قرآن کریم کی آیت نازل ہوگئی۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کے یہاں تشریف لائے اور ان سے اجازت لئے بغیر اندر تشریف لے گئے، اور اس نکاح کے ولیمے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں روٹی اور گوشت کھلایا، باقی تو سب لوگ کھا پی کر چلے گئے، لیکن کچھ لوگ کھانے کے بعد وہیں بیٹھ کر باتیں کرنے لگے، یہ دیکھ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم خود ہی گھر سے باہر چلے گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے پیچھے میں بھی نکل آیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم وقت گذارنے کے لئے باری باری اپنی ازواج مطہرات کے حجروں میں جاتے اور انہیں سلام کرتے، وہ پوچھتیں کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ نے اپنی بیوی کو کیسا پایا؟ اب مجھے یاد نہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو لوگوں کے جانے کی خبر دی یا کسی اور نے بہرحال! نبی صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے چلتے ہوئے اپنے گھر میں داخل ہوگئے، میں نے بھی داخل ہونا چاہا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پردہ لٹکا لیا اور آیت حجاب نازل ہوگئی، اور لوگوں کو اس کے ذریعے نصیحت کی گئی۔

لَمَّا انْقَضَتْ عِدَّةُ زَيْنَبَ ← أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← سُلَيْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ ← بَهْزٌ وَحَدَّثَنَا هَاشِمٌ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 13056

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 13057

حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ مَاتَ ابْنٌ لِأَبِي طَلْحَةَ مِنْ أُمِّ سُلَيْمٍ فَقَالَتْ لِأَهْلِهَا لَا تُحَدِّثُوا أَبَا طَلْحَةَ بِابْنِهِ حَتَّى أَكُونَ أَنَا أُحَدِّثُهُ قَالَ فَجَاءَ فَقَرَّبَتْ إِلَيْهِ عَشَاءً فَأَكَلَ وَشَرِبَ قَالَ ثُمَّ تَصَنَّعَتْ لَهُ أَحْسَنَ مَا كَانَتْ تَصَنَّعُ قَبْلَ ذَلِكَ فَوَقَعَ بِهَا فَلَمَّا رَأَتْ أَنَّهُ قَدْ شَبِعَ وَأَصَابَ مِنْهَا قَالَتْ يَا أَبَا طَلْحَةَ أَرَأَيْتَ أَنَّ قَوْمًا أَعَارُوا عَارِيَتَهُمْ أَهْلَ بَيْتٍ وَطَلَبُوا عَارِيَتَهُمْ أَلَهُمْ أَنْ يَمْنَعُوهُمْ قَالَ لَا قَالَتْ فَاحْتَسِبْ ابْنَكَ فَانْطَلَقَ حَتَّى أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ بِمَا كَانَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَارَكَ اللَّهُ لَكُمَا فِي غَابِرِ لَيْلَتِكُمَا قَالَ فَحَمَلَتْ قَالَ فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ وَهِيَ مَعَهُ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَتَى الْمَدِينَةَ مِنْ سَفَرٍ لَا يَطْرُقُهَا طُرُوقًا فَدَنَوْا مِنْ الْمَدِينَةِ فَضَرَبَهَا الْمَخَاضُ وَاحْتَبَسَ عَلَيْهَا أَبُو طَلْحَةَ وَانْطَلَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَبُو طَلْحَةَ يَا رَبِّ إِنَّكَ لَتَعْلَمُ أَنَّهُ يُعْجِبُنِي أَنْ أَخْرُجَ مَعَ رَسُولِكَ إِذَا خَرَجَ وَأَدْخُلَ مَعَهُ إِذَا دَخَلَ وَقَدْ احْتَبَسْتُ بِمَا تَرَى قَالَ تَقُولُ أُمُّ سُلَيْمٍ يَا أَبَا طَلْحَةَ مَا أَجِدُ الَّذِي كُنْتُ أَجِدُ فَانْطَلَقْنَا قَالَ وَضَرَبَهَا الْمَخَاضُ حِينَ قَدِمُوا فَوَلَدَتْ غُلَامًا فَقَالَتْ لِي أُمِّي يَا أَنَسُ لَا يُرْضِعَنَّهُ أَحَدٌ حَتَّى تَغْدُوَ بِهِ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَلَمَّا أَصْبَحْتُ احْتَمَلْتُهُ وَانْطَلَقْتُ بِهِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَصَادَفْتُهُ وَمَعَهُ مِيْسَمٌ فَلَمَّا رَآنِي قَالَ لَعَلَّ أُمَّ سُلَيْمٍ وَلَدَتْ قُلْتُ نَعَمْ قَالَ فَوَضَعَ الْمِيسَمَ قَالَ فَجِئْتُ بِهِ فَوَضَعْتُهُ فِي حِجْرِهِ قَالَ وَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَجْوَةٍ مِنْ عَجْوَةِ الْمَدِينَةِ فَلَاكَهَا فِي فِيهِ حَتَّى ذَابَتْ ثُمَّ قَذَفَهَا فِي فِي الصَّبِيِّ فَجَعَلَ الصَّبِيُّ يَتَلَمَّظُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ انْظُرُوا إِلَى حُبِّ الْأَنْصَارِ التَّمْرَ قَالَ فَمَسَحَ وَجْهَهُ وَسَمَّاهُ عَبْدَ اللَّهِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کا ایک بیٹا بیمار تھا، وہ فوت ہوگیا، ان کی زوجہ حضرت ام سلیم رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے گھر والوں سے کہہ دیا کہ تم میں سے کوئی بھی ابوطلحہ کو ان کے بیٹے کی موت کی خبر نہ دے، چنانچہ جب حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ واپس آئے ان کے سامنے رات کا کھانا لا کر رکھا انہوں نے کھانا کھایا، اور پانی پیا، پھر حضرت ام سلیم رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے خوب اچھی طرح بناؤ سنگھار کیا ، حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے ان سے خلوت کی، جب انہوں نے دیکھا کہ وہ اچھی طرح سیراب ہو چکے ہیں تو انہوں نے حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ سے کہا کہ اے ابوطلحہ! دیکھیں تو سہی فلاں لوگوں نے عاریۃً کوئی چیز لی، اس سے فائدہ اٹھاتے رہے جب ان سے واپسی کا مطالبہ ہو، کیا وہ انکار کر سکتے ہیں ؟ انہوں نے کہا نہیں ، انہوں نے کہا کہ پھر اپنے بیٹے پر صبر کیجئے۔ صبح ہوئی تو وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور سارا واقعہ ذکر کیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تم دونوں میاں بیوی کے لئے اس رات کو مبارک فرمائے، چنانچہ وہ امید سے ہوگئیں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک سفر میں تھے، حضرت ام سلیم رضی اللہ تعالیٰ عنہا بھی ان کے ہمراہ تھیں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول تھا کہ سفر سے واپس آنے کے بعد رات کے وقت مدینہ میں داخل نہیں ہوتے تھے، وہ مدینہ منورہ کے قریب پہنچے تو حضرت ام سلیم رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو درد کی شدت نے ستایا، حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ ان کے ساتھ رک گئے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم چلے گئے۔ حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ اے اللہ! تو جانتا ہے کہ مجھے یہ بات بڑی محبوب ہے کہ تیرے رسول جب مدینہ سے نکلیں تو میں ان کے ساتھ نکلوں اور جب داخل ہوں تو میں بھی داخل ہوں اور اب تو دیکھ رہا ہے کہ میں کیسے رک گیا ہوں ، حضرت ام سلیم رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا کہ اے ابوطلحہ ! اب مجھے درد کی شدت محسوس نہیں ہو رہی، لہٰذا ہم روانہ ہوگئے، اور مدینہ پہنچ کر ان کی تکلیف دوبارہ بڑھ گئی، اور بالآخر ان کے یہاں ایک لڑکا پیدا ہوا، انہوں نے مجھ سے کہا کہ انس! اسے کوئی عورت دودھ نہ پلائے، بلکہ تم پہلے اسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے کر جاؤ، چنانچہ صبح کو میں اس بچے کو اٹھا کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، میں نے دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اونٹوں کو قطران مل رہے ہیں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دیکھتے ہی فرمایا شاید ام سلیم کے یہاں بچہ پیدا ہوا ہے، میں نے عرض کیا جی ہاں ! اور اس بچے کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی گود میں رکھ دیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عجوہ کھجوریں منگوائیں ، ایک کجھور لے کر اسے منہ میں چبا کر نرم کیا اور تھوک جمع کر کے اس کے منہ میں ٹپکا دیا جسے وہ چاٹنے لگا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کھجور انصار کی محبوب چیز ہے، اور اس کا نام عبداللہ رکھ دیا۔

أحدثه: ← لِأَهْلِهَا لَا تُحَدِّثُوا أَبَا طَلْحَةَ بِابْنِهِ حَتَّی أَکُونَ ← مَاتَ ابْنٌ لِأَبِي طَلْحَةَ مِنْ أُمِّ سُلَيْمٍ ← أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← سُلَيْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ ← بَهْزٌ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 13057

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 13058

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّازَّقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ قَالَ أَخْبَرَنِي عَاصِمُ بْنُ سُلَيْمَانَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَدَ عَلَى شَيْءٍ قَطُّ مَا وَجَدَ عَلَى أَصْحَابِ بِئْرِ مَعُونَةَ أَصْحَابِ سَرِيَّةِ الْمُنْذِرِ بْنِ عَمْرٍو فَمَكَثَ شَهْرًا يَدْعُو عَلَى الَّذِينَ أَصَابُوهُمْ فِي قُنُوتِ صَلَاةِ الْغَدَاةِ يَدْعُو عَلَى رِعْلٍ وَذَكْوَانَ وَعُصَيَّةَ وَلِحْيَانَ وَهُمْ مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کسی لشکر کا اتنا دکھ نہیں ہوا جتنا بیر معونہ والے لشکر پر ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مہینے فجر کی نماز میں قنوت نازلہ پڑھی اور رعل، ذکوان، عصیہ اور بنو لحیان کے قبائل پر بددعاء کرتے رہے، جنہوں نے انہیں شہید کر دیا تھا۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← عَاصِمِ بْنِ سُلَيْمَانَ ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّازَّقِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 13058

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 13059

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّازَّقِ عَنْ مَعْمَرٍ قَالَ قَالَ الزُّهْرِيُّ وَأَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ قَالَ لَمَّا كَانَ يَوْمُ الِاثْنَيْنِ كَشَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سِتْرَ الْحُجْرَةِ فَرَأَى أَبَا بَكْرٍ وَهُوَ يُصَلِّي بِالنَّاسِ قَالَ فَنَظَرْتُ إِلَى وَجْهِهِ كَأَنَّهُ وَرَقَةُ مُصْحَفٍ وَهُوَ يَتَبَسَّمُ قَالَ وَكِدْنَا أَنْ نُفْتَتَنَ فِي صَلَاتِنَا فَرَحًا لِرُؤْيَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَرَادَ أَبُو بَكْرٍ أَنْ يَنْكُصَ فَأَشَارَ إِلَيْهِ أَنْ كَمَا أَنْتَ ثُمَّ أَرْخَى السِّتْرَ فَقُبِضَ مِنْ يَوْمِهِ ذَلِكَ فَقَامَ عُمَرُ فَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَمُتْ وَلَكِنَّ رَبَّهُ أَرْسَلَ إِلَيْهِ كَمَا أَرْسَلَ إِلَى مُوسَى فَمَكَثَ عَنْ قَوْمِهِ أَرْبَعِينَ لَيْلَةً وَاللَّهِ إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ يَعِيشَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى يَقْطَعَ أَيْدِي رِجَالٍ مِنْ الْمُنَافِقِينَ وَأَلْسِنَتَهُمْ يَزْعُمُونَ أَوْ قَالَ يَقُولُونَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ مَاتَ حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ قَالَ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ قَالَ أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ وَكَانَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَخَدَمَهُ وَصَحِبَهُ أَنَّ أَبَا بَكْرٍ كَانَ يُصَلِّي لَهُمْ فِي وَجَعِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّذِي تُوُفِّيَ فِيهِ حَتَّى إِذَا كَانَ يَوْمُ الِاثْنَيْنِ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا أَبِي عَنِ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ قَالَ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ أَنَّ أَبَا بَكْرٍ كَانَ يُصَلِّي بِهِمْ فِي وَجَعِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّذِي تُوُفِّيَ فِيهِ كَانَ يَوْمُ الِاثْنَيْنِ وَهُمْ صُفُوفٌ إِلَى الصَّلَاةِ قَالَ كَشَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سِتْرَ الْحُجْرَةِ فَذَكَرَ مَعْنَاهُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ پیر کے دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے حجرہ مبارک کا پردہ ہٹایا، لوگ اس وقت حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی امامت میں نماز ادا کر رہے تھے، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک کو دیکھا تو وہ قرآن کا ایک کھلا ہوا صفحہ محسوس ہو رہا تھا ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ کر ہمیں اتنی خوشی ہوئی، قریب تھا کہ ہم آزمائش میں پڑ جاتے، حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے اپنی جگہ سے حرکت کرنا چاہی ، لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اشارے سے اپنی جگہ رہنے کا حکم دیا، اور پردہ لٹکا لیا اور اسی دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم دنیا سے رخصت ہوگئے ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوگئے اور کہنے لگے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال نہیں ہوا ہے، ان کے پاس ان کے رب نے ویسا ہی پیغام بھیجا ہے جیسے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس بھیجا تھا اور وہ چالیس راتوں تک اپنی قوم سے دور رہے تھے، بخدا! مجھے امید ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم دوبارہ جسمانی حیات پائیں گے تاکہ ان منافقین کے ہاتھ اور زبانیں کاٹ دیں جو یہ کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوگیا ہے۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّازَّقِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 13059

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 13060

حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ قَالَ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ قَالَ أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ وَكَانَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَخَدَمَهُ وَصَحِبَهُ أَنَّ أَبَا بَكْرٍ كَانَ يُصَلِّي لَهُمْ فِي وَجَعِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّذِي تُوُفِّيَ فِيهِ حَتَّى إِذَا كَانَ يَوْمُ الِاثْنَيْنِ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ پیر کے دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے حجرہ مبارک کا پردہ ہٹایا، لوگ اس وقت حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی امامت میں نماز ادا کر رہے تھے، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک کو دیکھا تو وہ قرآن کا ایک کھلا ہوا صفحہ محسوس ہو رہا تھا ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ کر ہمیں اتنی خوشی ہوئی، قریب تھا کہ ہم آزمائش میں پڑ جاتے، حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے اپنی جگہ سے حرکت کرنا چاہی ، لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اشارے سے اپنی جگہ رہنے کا حکم دیا، اور پردہ لٹکا لیا اور اسی دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم دنیا سے رخصت ہوگئے ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوگئے اور کہنے لگے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال نہیں ہوا ہے، ان کے پاس ان کے رب نے ویسا ہی پیغام بھیجا ہے جیسے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس بھیجا تھا اور وہ چالیس راتوں تک اپنی قوم سے دور رہے تھے، بخدا! مجھے امید ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم دوبارہ جسمانی حیات پائیں گے تاکہ ان منافقین کے ہاتھ اور زبانیں کاٹ دیں جو یہ کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوگیا ہے۔

خَدَمَهُ وَصَحِبَهُ، ← كَانَ مَعَ النَّبِيِّ ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← الزُّهْرِيِّ، ← شُعَيْبٌ، ← أَبُو الْيَمَانِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 13060

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 13061

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا أَبِي عَنِ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ قَالَ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ أَنَّ أَبَا بَكْرٍ كَانَ يُصَلِّي بِهِمْ فِي وَجَعِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّذِي تُوُفِّيَ فِيهِ كَانَ يَوْمُ الِاثْنَيْنِ وَهُمْ صُفُوفٌ إِلَى الصَّلَاةِ قَالَ كَشَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سِتْرَ الْحُجْرَةِ فَذَكَرَ مَعْنَاهُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ پیر کے دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے حجرہ مبارک کا پردہ ہٹایا، لوگ اس وقت حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی امامت میں نماز ادا کر رہے تھے، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک کو دیکھا تو وہ قرآن کا ایک کھلا ہوا صفحہ محسوس ہو رہا تھا ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ کر ہمیں اتنی خوشی ہوئی، قریب تھا کہ ہم آزمائش میں پڑ جاتے، حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے اپنی جگہ سے حرکت کرنا چاہی ، لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اشارے سے اپنی جگہ رہنے کا حکم دیا، اور پردہ لٹکا لیا اور اسی دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم دنیا سے رخصت ہوگئے ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوگئے اور کہنے لگے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال نہیں ہوا ہے، ان کے پاس ان کے رب نے ویسا ہی پیغام بھیجا ہے جیسے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس بھیجا تھا اور وہ چالیس راتوں تک اپنی قوم سے دور رہے تھے، بخدا! مجھے امید ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم دوبارہ جسمانی حیات پائیں گے تاکہ ان منافقین کے ہاتھ اور زبانیں کاٹ دیں جو یہ کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوگیا ہے۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← ابْنِ شِهَابٍ، ← صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، ← أَبِي ← يَعْقُوبُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 13061

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 13062

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّازَّقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنِ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ فَاطِمَةَ بَكَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ يَا أَبَتَاهُ مِنْ رَبِّهِ مَا أَدْنَاهُ يَا أَبَتَاهُ إِلَى جِبْرِيلَ يَنْعَاهُ يَا أَبَتَاهُ جَنَّةُ الْفِرْدَوْسِ مَأْوَاهُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مرض الوفات میں حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا رونے لگیں اور کہنے لگیں ہائے ابا جان! آپ اپنے رب کے کتنے قریب ہوگئے، ہائے اباجان! جبرائیل علیہ السلام کو میں آپ کی رخصتی کی خبر دیتی ہوں ، ہائے اباجان! آپ کا ٹھکانہ جنت الفردوس ہے۔

أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ فَاطِمَةَ بَكَتْ رَسُولَ اللَّهِ ← ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّازَّقِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 13062

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 13063

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّازَّقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنِ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ أَخَذَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى النِّسَاءِ حِينَ بَايَعَهُنَّ أَنْ لَا يَنُحْنَ فَقُلْنَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ نِسَاءً أَسْعَدْنَنَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ أَفَنُسْعِدُهُنَّ فِي الْإِسْلَامِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا إِسْعَادَ فِي الْإِسْلَامِ وَلَا شِغَارَ وَلَا عَقْرَ فِي الْإِسْلَامِ وَلَا جَلَبَ فِي الْإِسْلَامِ وَلَا جَنَبَ وَمَنْ انْتَهَبَ فَلَيْسَ مِنَّا

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں سے بیعت لیتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ وہ نوحہ نہیں کریں گی، اس پر عورتوں نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! زمانہ جاہلیت میں کچھ عورتوں نے ہمیں پرسہ دیا تھا، کیا ہم انہیں اسلام میں پرسہ دے سکتے ہیں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسلام میں اس کی کوئی حیثیت نہیں ، نیز اسلام میں وٹے سٹے کے نکاح کی " جس میں مہر مقرر نہ کیا گیا ہو " کوئی حیثیت نہیں ہے، اسلام میں فرضی محبوباؤں کے نام لے کر اشعار میں تشبیہات دینے کی کوئی حٰثیت نہیں ، اسلام میں کسی قبیلے کا حلیف بننے کی کوئی حیثیت نہیں ، زکوۃ وصول کرنے والے کا اچھا مال چھانٹ لینا یا لوگوں کا زکوۃ سے بچنے کے حیلے اختیار کرنا بھی صحیح نہیں ہے اور جو شخص لوٹ مار کرے وہ ہم میں سے نہیں ہے۔

أَخَذَ النَّبِيُّ عَلَى النِّسَاءِ حِينَ بَايَعَهُنَّ أَنْ لَا يَنُحْنَ فَقُلْنَ ← أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّازَّقِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 13063

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 13064

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّازَّقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنِ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَذَلِكَ فِي السَّحَرِ يَا أَنَسُ إِنِّي أُرِيدُ الصِّيَامَ فَأَطْعِمْنِي شَيْئًا قَالَ فَجِئْتُهُ بِتَمْرٍ وَإِنَاءٍ فِيهِ مَاءٌ بَعْدَ مَا أَذَّنَ بِلَالٌ فَقَالَ يَا أَنَسُ انْظُرْ إِنْسَانًا يَأْكُلُ مَعِي قَالَ فَدَعَوْتُ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي شَرِبْتُ شَرْبَةَ سَوِيقٍ وَأَنَا أُرِيدُ الصِّيَامَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أُرِيدُ الصِّيَامَ فَتَسَحَّرَ مَعَهُ وَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ خَرَجَ فَأُقِيمَتْ الصَّلَاةُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا اے انس! میں روزہ رکھنا چاہتا ہوں ، مجھے کچھ کھلا دو، میں کچھ کھجوریں اور ایک برتن میں پانی لے کر حاضر ہوا، اس وقت تک حضرت بلال رضی اللہ عنہ اذان دے چکے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انس! کوئی آدمی تلاش کر کے لاؤ جو میرے ساتھ کھانے میں شریک ہو سکے، چنانچہ میں حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کو بلا کر لے آیا، وہ کہنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں نے ستوؤں کا شربت پیا ہے، اور میرا ارادہ روزہ رکھنے کا ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرا بھی ارادہ روزہ رکھنے ہی کا ہے، پھر دونوں نے اکٹھے سحری کی، اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعتیں پڑھیں اور باہر نکل آئے اور نماز کھڑی ہوگئی۔

أَنَسٍ، ← قَتَادَةَ ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّازَّقِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 13064

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 13065

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّازَّقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنِ ثَابِتٍ عَنِ أَنَسٍ قَالَ خَدَمْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَشْرَ سِنِينَ لَا وَاللَّهِ مَا سَبَّنِي سَبَّةً قَطُّ وَلَا قَالَ لِي أُفٍّ قَطُّ وَلَا قَالَ لِي لِشَيْءٍ فَعَلْتُهُ لِمَ فَعَلْتَهُ وَلَا لِشَيْءٍ لَمْ أَفْعَلْهُ أَلَّا فَعَلْتَهُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے دس سال سفر وحضر میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کا شرف حاصل کیا ہے، یہ ضروری نہیں ہے کہ میرا ہر کام نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو پسند ہی ہو، لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے کبھی اف تک نہیں کہا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے کبھی یہ نہیں فرمایا کہ تم نے یہ کام کیوں کیا؟ یا یہ کام کیوں نہیں کیا؟

لِي لِشَيْءٍ فَعَلْتُهُ لِمَ فَعَلْتَهُ وَلَا لِشَيْءٍ لَمْ أَفْعَلْهُ أَلَّا فَعَلْتَهُ ← لِي: أُفٍّ قَطُّ وَلَا ← خَدَمْتُ رَسُولَ اللَّهِ عَشْرَ سِنِينَ لَا وَاللَّهِ مَا سَبَّنِي سَبَّةً قَطُّ وَلَا ← أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّازَّقِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 13065

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 13066

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّازَّقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ قَالَ نَزَلَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيَغْفِرَ لَكَ اللَّهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ مَرْجِعَنَا مِنْ الْحُدَيْبِيَةِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَقَدْ أُنْزِلَتْ عَلَيَّ آيَةٌ أَحَبُّ إِلَيَّ مِمَّا عَلَى الْأَرْضِ ثُمَّ قَرَأَهَا عَلَيْهِمْ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا هَنِيئًا مَرِيئًا يَا رَسُولَ اللَّهِ لَقَدْ بَيَّنَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَكَ مَاذَا يَفْعَلُ بِكَ فَمَاذَا يَفْعَلُ بِنَا فَنَزَلَتْ عَلَيْهِمْ لِيُدْخِلَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ جَنَّاتٍ حَتَّى بَلَغَ فَوْزًا عَظِيمًا

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب حدیبیہ سے واپس آرہے تھے تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پر غم اور پریشانی کے آثار تھے کیونکہ انہیں عمرہ ادا کرنے سے روک دیا گیا تھا اور انہیں حدیبیہ میں ہی اپنے جانور قربان کرنے پڑے تھے، اس موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ آیت نازل ہوئی" انا فتحنا لک فتحا مبینا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ صراطا مستقیما " نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھ پر دو آیتیں ایسی نازل ہوئی ہیں جو مجھے ساری دنیا سے زیادہ محبوب ہیں ، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی تلاوت فرمائی، تو ایک مسلمان نے یہ سن کر کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ کو مبارک ہو کہ اللہ نے آپ کو یہ دولت عطاء فرمائی، ہمارے لئے کیا حکم ہے؟ اس پر یہ آیت نازل ہوئی " لیدخل المومنین والمومنات جنات ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ فوزا عظیما "

أَنَسٍ، ← قَتَادَةَ ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّازَّقِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 13066

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 13067

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنَا رَبَاحٌ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَكُونُ فِي أُمَّتِي اخْتِلَافٌ وَفُرْقَةٌ يَخْرُجُ مِنْهُمْ قَوْمٌ يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لَا يُجَاوِزُ تَرَاقِيَهُمْ سِيمَاهُمْ الْحَلْقُ وَالتَّسْبِيتُ فَإِذَا رَأَيْتُمُوهُمْ فَأَنِيمُوهُمْ التَّسْبِيتُ يَعْنِي اسْتِئْصَالَ الشَّعْرِ الْقَصِيرِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عنقریب میری امت میں اختلاف اور تفرقہ بازی ہوگی، اور ان میں سے ایک قوم ایسی نکلے گی جو قرآن پڑھتی ہوگی لیکن وہ اس کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا، ان کا شعار منڈوانا اور چھوٹے بالوں کو جڑ سے اکھیڑنا ہوگا، تم انہیں جب دیکھو تو قتل کر دو۔

أَنَسٍ، ← قَتَادَةَ ← مَعْمَرٌ، ← رَبَاحٍ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ خَالِدٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 13067

chevron_left Previous
1…229230231…264
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    0. Chapter
2. Book
    0. Chapter
3. Book
    0. Chapter
4. Book
    0. Chapter
5. Book
    0. Chapter
6. Book
    0. Chapter
7. Book
    0. Chapter
8. Book
    0. Chapter
9. Book
    0. Chapter