Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Friday, Jumada I 6, 1448 AH · Oct 16, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند امام احمد بن حنبل

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble

by Musnad Imam Bin Hanble

28,221 Hadith18 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 13032

حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ قَالَ سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَحْتَجِمُ ثَلَاثًا وَاحِدَةً عَلَى كَاهِلِهِ وَاثْنَتَيْنِ عَلَى الْأَخْدَعَيْنِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم دو مرتبہ اخدعین اور ایک مرتبہ کاہل نامی کندھوں کے درمیان مخصوص جگہوں پر سینگی لگواتے تھے۔

كَانَ رَسُولُ اللَّهِ يَحْتَجِمُ ثَلَاثًا وَاحِدَةً عَلَى كَاهِلِهِ وَاثْنَتَيْنِ عَلَى الْأَخْدَعَيْنِ ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← قَتَادَةَ ← جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، ← بَهْزٌ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 13032

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 13033

حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ قَالَ سَمِعْتُ قَتَادَةَ قَالَ قُلْتُ لِأَنَسٍ كَيْفَ كَانَتْ قِرَاءَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ كَانَ يَمُدُّ صَوْتَهُ مَدًّا

قتادہ رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ میں نے ایک مرتبہ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی قرأت کی کیفیت کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی آواز کو کھینچا کرتے تھے۔

کَانَ يَمُدُّ صَوْتَهُ مَدًّا ← قُلْتُ لِأَنَسٍ كَيْفَ كَانَتْ قِرَاءَةُ رَسُولِ اللَّهِ ← قَتَادَةَ ← جَرِيرٌ ← بَهْزٌ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 13033

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 13034

حَدَّثَنَا بَهْزٌ وَحَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ قَالَا حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ قَوْلٍ لَا يُسْمَعُ وَعَمَلٍ لَا يُرْفَعُ وَقَلْبٍ لَا يَخْشَعُ وَعِلْمٍ لَا يَنْفَعُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعاء فرمایا کرتے تھے اے اللہ! میں نہ سنی جانے والی بات، نہ بلند ہونے والے عمل، خشوع سے خالی دل، اور غیر نافع علم سے آپ کی پناہ میں آتا ہوں ۔

أَنَسٍ، ← قَتَادَةَ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← بَهْزٌ وَحَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 13034

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 13035

حَدَّثَنَا بَهْزٌ وَحَسَنُ بْنُ مُوسَى قَالَا حَدَّثَنَا حَمَّادٌ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ أَنَسٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ الْبَرَصِ وَالْجُنُونِ وَالْجُذَامِ وَمِنْ سَيِّئِ الْأَسْقَامِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعاء فرمایا کرتے تھے کہ ( اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ الْبَرَصِ وَالْجُنُونِ وَالْجُذَامِ وَمِنْ سَيِّئِ الْأَسْقَامِ) اے اللہ! میں برص، جنون، کوڑھ اور ہر بدترین بیماری سے آپ کی پناہ مانگتا ہوں ۔

اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ الْبَرَصِ وَالْجُنُونِ وَالْجُذَامِ وَمِنْ سَيِّئِ الْأَسْقَامِ ← كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ← أَنَسٍ، ← قَتَادَةَ ← حَمَّادٌ، ← بَهْزٌ وَحَسَنُ بْنُ مُوسَى

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 13035

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 13036

حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَمُرُّ بِالتَّمْرَةِ فَمَا يَمْنَعُهُ مِنْ أَخْذِهَا إِلَّا مَخَافَةُ أَنْ تَكُونَ صَدَقَةً

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو راستے میں کھجور پڑی ہوئی ملتی اور انہیں یہ اندیشہ نہ ہوتا کہ یہ صدقہ کی ہوگی تو وہ اسے کھا لیتے تھے۔

أَنَسٍ، ← قَتَادَةَ ← حَمَّادٌ، ← بَهْزٌ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 13036

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 13037

حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ جَارِيَةً وُجِدَ رَأْسُهَا بَيْنَ حَجَرَيْنِ فَقِيلَ لَهَا مَنْ فَعَلَ بِكِ هَذَا أَفُلَانٌ أَفُلَانٌ حَتَّى سَمَّى الْيَهُودِيَّ فَأَوْمَأَتْ بِرَأْسِهَا نَعَمْ فَأُخِذَ الْيَهُودِيُّ فَاعْتَرَفَ فَأَمَرَ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرُضَّ رَأْسُهُ بِالْحِجَارَةِ

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک یہودی نے ایک انصاری بچی کو پتھر مار مار کر اس کا سر کچل دیا، اس بچی سے پوچھا کہ کیا تمہارے ساتھ یہ سلوک فلاں نے کیا ہے، فلاں نے کیا ہے یہاں تک کہ جب اس یہودی کا نام آیا تو اس نے سر کے اشارے سے ہاں کہہ دیا، اس یہودی کو پکڑ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے لایا گیا، اس نے اپنے جرم کا اعتراف کر لیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا اور اس کا سر بھی پتھروں سے کچل دیا گیا۔

قَتَادَةَ ← حَمَّادٌ، ← بَهْزٌ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 13037

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 13038

حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا أَبُو هِلَالٍ قَالَ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ وَعَدَنِي رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ أَنْ يُدْخِلَ مِنْ أُمَّتِي الْجَنَّةَ مِائَةَ أَلْفٍ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ زِدْنَا قَالَ لَهُ وَهَكَذَا وَأَشَارَ بِيَدِهِ قَالَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ زِدْنَا فَقَالَ وَهَكَذَا وَأَشَارَ بِيَدِهِ قَالَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ زِدْنَا فَقَالَ وَهَكَذَا فَقَالَ عُمَرُ قَطْكَ يَا أَبَا بَكْرٍ قَالَ مَا لَنَا وَلَكَ يَا ابْنَ الْخَطَّابِ قَالَ لَهُ عُمَرُ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَادِرٌ أَنْ يُدْخِلَ النَّاسَ الْجَنَّةَ كُلَّهُمْ بِحَفْنَةٍ وَاحِدَةٍ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَدَقَ عُمَرُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ نے مجھ سے یہ وعدہ فرمایا ہے کہ وہ میری امت کے چار لاکھ آدمیوں کو جنت میں داخل فرمائے گا، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اس تعداد میں اضافہ کیجئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ہتھیلی جمع کر کے فرمایا کہ اتنے افراد مزید ہوں گے، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے پھر عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اس تعداد میں اضافہ کیجئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر اپنی ہتھیلی جمع کر کے فرمایا کہ اتنے افراد مزید ہوں گے، اس پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ ابوبکر ! بس کیجئے، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا عمر! پیچھے ہٹو، اگر اللہ تعالیٰ ہم سب ہی کو جنت میں کلی طور پر داخل فرما دے تو تمہارا اس میں کوئی حرج نہیں ہے، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اگر اللہ چاہے تو ایک ہی ہاتھ میں ساری مخلوق کو جنت میں داخل کر دے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عمر سچ کہتے ہیں ۔

أَنَسٍ، ← قَتَادَةَ ← أَبُو هِلَالٍ؛ ← بَهْزٌ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 13038

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 13039

حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا أَبُو هِلَالٍ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَزَالُ الْعَبْدُ بِخَيْرٍ مَا لَمْ يَسْتَعْجِلْ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَيْفَ يَسْتَعْجِلُ قَالَ يَقُولُ دَعَوْتُ رَبِّي فَلَمْ يَسْتَجِبْ لِي

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا بندہ اس وقت تک خیر پر رہتا ہے جب تک وہ جلد بازی سے کام نہ لے، صحابہ رضی اللہ عنہم نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! جلدی سے کیا مراد ہے؟ فرمایا بندہ یوں کہنا شروع کر دے کہ میں اپنے پروردگار سے اتنی دعائیں کیں لیکن اس نے قبول ہی نہیں کی۔

أَنَسٍ، ← قَتَادَةَ ← أَبُو هِلَالٍ؛ ← بَهْزٌ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 13039

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 13040

حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ قَالَ سَمِعْتُ قَتَادَةَ قَالَ حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَوْ تَعْلَمُونَ مَا أَعْلَمُ لَضَحِكْتُمْ قَلِيلًا وَلَبَكَيْتُمْ كَثِيرًا

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو میں جانتا ہوں اگر تم وہ جانتے ہوتے تو تم بہت تھوڑا ہنستے اور کثرت سے رویا کرتے۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← قَتَادَةَ ← هَمَّامٌ، ← بَهْزٌ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 13040

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 13041

حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا أَبَانُ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ بُعِثْتُ أَنَا وَالسَّاعَةُ كَهَاتَيْنِ وَرَفَعَ أُصْبُعَيْهِ السَّبَّابَةَ وَالْوُسْطَى فَضَّلَ إِحْدَاهُمَا عَلَى الْأُخْرَى

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں اور قیامت ان دو انگلیوں کی طرح اکٹھے بھیجے گئے ہیں ، یہ کہہ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے شہادت والی انگلی اور درمیانی انگلی کی طرف اشارہ فرمایا۔

وَالسَّاعَةُ كَهَاتَيْنِ وَرَفَعَ أُصْبُعَيْهِ السَّبَّابَةَ وَالْوُسْطَى فَضَّلَ إِحْدَاهُمَا عَلَى الْأُخْرَى ← بُعِثْتُ ← أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ كَانَ ← قَتَادَةَ ← أَبَانُ، ← بَهْزٌ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 13041

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 13042

حَدَّثَنَا بَهْزٌ وَحَدَّثَنَا عَفَّانُ قَالَا حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ عَنْ ثَابِتٍ قَالَ عَفَّانُ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ قَالَ أَنَسٌ كُنَّا نُهِينَا فِي الْقُرْآنِ أَنْ نَسْأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ شَيْءٍ قَالَ وَكَانَ يُعْجِبُنَا أَنْ يَجِيءَ الرَّجُلُ مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ الْعَاقِلُ يَسْأَلُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَجَاءَ رَجُلٌ فَقَالَ يَا مُحَمَّدُ أَتَانَا رَسُولُكَ وَزَعَمَ لَنَا أَنَّكَ تَزْعُمُ أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ أَرْسَلَكَ قَالَ صَدَقَ قَالَ فَمَنْ خَلَقَ السَّمَاءَ قَالَ اللَّهُ قَالَ فَمَنْ خَلَقَ الْأَرْضَ قَالَ اللَّهُ قَالَ فَمَنْ نَصَبَ هَذِهِ الْجِبَالَ قَالَ اللَّهُ قَالَ فَبِالَّذِي خَلَقَ السَّمَاءَ وَخَلَقَ الْأَرْضَ وَنَصَبَ الْجِبَالَ آللَّهُ أَرْسَلَكَ قَالَ نَعَمْ قَالَ وَزَعَمَ رَسُولُكَ أَنَّ عَلَيْنَا خَمْسَ صَلَوَاتٍ فِي يَوْمِنَا وَلَيْلَتِنَا قَالَ صَدَقَ قَالَ فَبِالَّذِي أَرْسَلَكَ آللَّهُ أَمَرَكَ بِهَذَا قَالَ نَعَمْ قَالَ وَزَعَمَ رَسُولُكَ أَنَّ عَلَيْنَا زَكَاةً فِي أَمْوَالِنَا قَالَ صَدَقَ قَالَ فَبِالَّذِي أَرْسَلَكَ آللَّهُ أَمَرَكَ بِهَذَا قَالَ نَعَمْ قَالَ وَزَعَمَ رَسُولُكَ أَنَّ عَلَيْنَا صَوْمَ شَهْرِ رَمَضَانَ فِي سَنَتِنَا قَالَ عَفَّانُ قَالَ صَدَقَ قَالَ فَبِالَّذِي أَرْسَلَكَ آللَّهُ أَمَرَكَ بِهَذَا قَالَ نَعَمْ وَزَعَمَ رَسُولُكَ أَنَّ عَلَيْنَا الْحَجَّ مَنْ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلًا قَالَ صَدَقَ قَالَ فَبِالَّذِي أَرْسَلَكَ آللَّهُ أَمَرَكَ بِهَذَا قَالَ نَعَمْ قَالَ عَفَّانُ ثُمَّ وَلَّى ثُمَّ قَالَ وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ لَا أَزِيدُ وَلَا أَنْتَقِصُ مِنْهُنَّ شَيْئًا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَئِنْ صَدَقَ لَيَدْخُلَنَّ الْجَنَّةَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ (چونکہ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بکثرت سوال کرنے سے ہمیں قرآن میں ممانعت کر دی گئی تھی، اس لئے ہم دل سے یہ خواہش مند ہوتے تھے کہ کوئی عقل مند بدوی آکر حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی مسئلہ دریافت کرے اور ہم سنیں ، چنانچہ (ایک مرتبہ) بدوی نے حاضر ہو کر (حضور صلی اللہ علیہ وسلم ) سے عرض کیا کہ آپ کا قاصد ہمارے پاس آیا تھا اور کہتا تھا کہ آپ فرماتے ہیں کہ اللہ نے مجھ کو پیغمبر بنایا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ ٹھیک کہتا تھا، بدوی بولا آسمانوں ، زمینوں اور پہاڑوں کو کس نے پیدا کیا؟ آپ نے فرمایا خداوند نے، بدوی بولا آپ کو قسم ہے اس ذات پاک کی جس نے آسمانوں اور زمینوں کو پیدا کیا، پہاڑوں کو قائم کیا، (یہ بتائیے کہ) کیا واقعی اللہ تعالیٰ نے آپ کو رسول بنا کر بھیجا ہے؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں ! بدوی بولا آپ کا قاصد کہتا تھا کہ ہم پر دن رات میں پانچ نمازیں فرض ہیں ، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس نے ٹھیک کہا، بدوی بولا آپ کو اس اللہ کی قسم! جس نے آپ کو رسول بنا کر بھیجا ہے ( بتائیے ) کیا آپ کو اللہ نے اس کا حکم دیا ہے؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں ! بدوی بولا آپ کے قاصد نے کہا تھا کہ ہم پر اپنے مال کی زکوۃ نکالنا فرض ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس نے سچ کہا، اس نے کہا کہ اس اللہ کی قسم جس نے آپ کو بھیجا ہے کیا اس نے آپ کو اس کا حکم دیا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں ! اس نے کہا کہ آپ کے قاصد کا یہ بھی کہنا تھا کہ ہم پر سال میں ایک ماہ کے روزے فرض ہیں ؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس نے سچ کہا، بدوی بولا آپ کو اس اللہ کی قسم! جس نے آپ کو پیغمبر بنایا ہے (یہ بتائیے کہ) کیا آپ کو اللہ نے اس کا حکم دیا ہے؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں ! بدوی بولا آپ کے قاصد نے یہ بھی کہا تھا کہ ہم میں سے صاحب استطاعت پر حج فرض ہے؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس نے سچ کہا آخر کار وہ بدوی پیٹھ پھیر کر جاتے ہوئے کہنے لگا کہ اس اللہ کی قسم! جس نے آپ کو سچائی کے ساتھ مبعوث فرمایا میں اس میں ذرا بھی کمی بیشی نہیں کروں گا، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر یہ سچا ہے تو جنت میں داخل ہوگیا۔

ثَابِتٍ، ← عَفَّانُ، ← ثَابِتٍ، ← سُلَيْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ ← عَفَّانُ، ← بَهْزٌ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 13042

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 13043

حَدَّثَنَا بَهْزٌ وَحَجَّاجٌ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ الْمَعْنَى عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فِي رَمَضَانَ فَجِئْتُ فَقُمْتُ خَلْفَهُ قَالَ وَجَاءَ رَجُلٌ فَقَامَ إِلَى جَنْبِي ثُمَّ جَاءَ آخَرُ حَتَّى كُنَّا رَهْطًا فَلَمَّا أَحَسَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّا خَلْفَهُ تَجَوَّزَ فِي الصَّلَاةِ ثُمَّ قَامَ فَدَخَلَ مَنْزِلَهُ فَصَلَّى صَلَاةً لَمْ يُصَلِّهَا عِنْدَنَا قَالَ فَلَمَّا أَصْبَحْنَا قَالَ قُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَفَطِنْتَ بِنَا اللَّيْلَةَ قَالَ نَعَمْ فَذَاكَ الَّذِي حَمَلَنِي عَلَى الَّذِي صَنَعْتُ قَالَ ثُمَّ أَخَذَ يُوَاصِلُ وَذَاكَ فِي آخِرِ الشَّهْرِ قَالَ فَأَخَذَ رِجَالٌ يُوَاصِلُونَ مِنْ أَصْحَابِهِ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا بَالُ رِجَالٍ يُوَاصِلُونَ إِنَّكُمْ لَسْتُمْ مِثْلِي أَمَا وَاللَّهِ لَوْ مُدَّ لِي الشَّهْرُ لَوَاصَلْتُ وِصَالًا يَدَعُ الْمُتَعَمِّقُونَ تَعَمُّقَهُمْ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ماہ رمضان میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھا رہے تھے، میں آکر ان کے پیچھے کھڑا ہوگیا، ایک اور آدمی آکر میرے ساتھ کھڑا ہوگیا، اسی طرح ہوتے ہوتے ایک جماعت بن گئی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو جب اپنے پیچھے میری موجودگی کا احساس ہوا تو نماز مختصر کر کے اپنے گھر چلے گئے، اور وہاں ویسی نماز پڑھی جو ہمارے سامنے نہ پڑھی تھی، صبح ہوئی تو ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! رات کو آپ نے ہماری موجودگی کو بھانپ لیا تھا؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں اور اسی وجہ سے میں نے ایسا کیا تھا، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مہینے کے آخر میں صوم وصال فرمایا: کچھ لوگوں نے بھی ایسا ہی کیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر ہوئی تو فرمایا کہ لوگوں کو کیا ہوگیا ہے کہ وہ وصال کرتے ہیں ، اگر یہ مہینہ لمبا ہوجاتا تو میں اتنے دن مسلسل روزہ رکھتا کہ دین میں تعمق کرنے والے اپنا تعمق چھوڑ دیتے، میں تمہاری طرح نہیں ہوں ، (مجھے تو میرا رب کھلاتا پلاتا رہتا ہے)

أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ الْمَعْنَى، ← بَهْزٌ وَحَجَّاجٌ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 13043

chevron_left Previous
1…227228229…264
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    0. Chapter
2. Book
    0. Chapter
3. Book
    0. Chapter
4. Book
    0. Chapter
5. Book
    0. Chapter
6. Book
    0. Chapter
7. Book
    0. Chapter
8. Book
    0. Chapter
9. Book
    0. Chapter