Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Friday, Jumada I 6, 1448 AH · Oct 16, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند امام احمد بن حنبل

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble

by Musnad Imam Bin Hanble

28,221 Hadith18 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 12984

حَدَّثَنَا عُبَيْدَةُ بْنُ حُمَيْدٍ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ جَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى أُمِّ سُلَيْمٍ فَقَرَّبَتْ إِلَيْهِ سَمْنًا وَتَمْرًا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعِيدُوا سَمْنَكُمْ فِي سِقَائِكُمْ وَتَمْرَكُمْ فِي وِعَائِكُمْ فَإِنِّي صَائِمٌ ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى فِي نَاحِيَةِ الْبَيْتِ فَصَلَّيْنَا بِصَلَاتِهِ ثُمَّ دَعَا لِأُمِّ سُلَيْمٍ وَأَهْلِهَا ثُمَّ قَالَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ لِي خُوَيْصَّةً قَالَ وَمَا هِيَ قَالَتْ أَنَسٌ قَالَ فَمَا تَرَكَ يَوْمَئِذٍ مِنْ خَيْرِ آخِرَةٍ وَلَا دُنْيَا إِلَّا دَعَا بِهِ مِنْ قَوْلِهِ اللَّهُمَّ ارْزُقْهُ مَالًا وَوَلَدًا وَبَارِكْ لَهُ فِيهِمْ قَالَ فَقَالَ أَنَسٌ حَدَّثَتْنِي ابْنَتِي أَنَّهُ دُفِنَ مِنْ صُلْبِي عِشْرُونَ وَمِائَةٌ وَنَيِّفٌ وَإِنِّي لَمِنْ أَكْثَرِ الْأَنْصَارِ مَالًا

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ام سلیم رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے یہاں تشریف لائے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کھجوریں اور گھی پیش کیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس دن روزے سے تھے اس لئے فرمایا کہ کھجوریں اس کے برتن میں اور گھی اس کی بالٹی میں ڈال دو، پھر گھر کے ایک کونے میں کھڑے ہو کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعت نماز پڑھی، ہم نے بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ام سلیم رضی اللہ تعالیٰ عنہا اور ان کے اہل خانہ کے لئے دعاء فرمائی، حضرت ام سلیم رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میری ایک خاص چیز بھی ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا وہ کیا ہے؟ عرض کیا آپ کا خادم انس، اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دنیا و آخرت کی کوئی خیر ایسی نہ تھی جو میرے لئے نہ مانگی ہو، اور فرمایا اے اللہ! اسے مال اور اولاد عطاء فرما اور ان میں برکت عطاء فرما، وہ خود کہتے ہیں کہ مجھے میری بیٹی نے بتایا ہے کہ میری نسل میں سے ایک سو چوبیس سے زائد آدمی فوت ہو کر دفن ہوچکے ہیں اور میں مال و دولت میں تمام انصار سے بڑھ کر ہوں ۔

أُمِّ سُلَيْمٍ ← جَاءَ النَّبِيُّ إِلَى أُمِّ سُلَيْمٍ فَقَرَّبَتْ إِلَيْهِ سَمْنًا وَتَمْرًا ← أَنَسٍ، ← حُمَيْدٍ ← عبيدة بن حميد

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 12984

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 12985

حَدَّثَنَا عُبَيْدَةُ عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ اسْتَشَارَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَخْرَجَهُ إِلَى بَدْرٍ فَأَشَارَ عَلَيْهِ أَبُو بَكْرٍ ثُمَّ اسْتَشَارَ عُمَرَ فَأَشَارَ عَلَيْهِ عُمَرُ ثُمَّ اسْتَشَارَهُمْ فَقَالَ بَعْضُ الْأَنْصَارِ إِيَّاكُمْ يُرِيدُ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ فَقَالَ قَائِلُ الْأَنْصَارِ تَسْتَشِيرُنَا يَا نَبِيَّ اللَّهِ إِنَّا لَا نَقُولُ لَكَ كَمَا قَالَتْ بَنُو إِسْرَائِيلَ لِمُوسَى عَلَيْهِ السَّلَام اذْهَبْ أَنْتَ وَرَبُّكَ فَقَاتِلَا إِنَّا هَاهُنَا قَاعِدُونَ وَلَكِنْ وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ لَوْ ضَرَبْتَ أَكْبَادَهَا إِلَى بَرْكٍ قَالَ ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ إِلَى بَرْكِ الْغِمَادِ لَاتَّبَعْنَاكَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب بدر کی طرف روانہ ہوگئے تو لوگوں سے مشورہ کیا، اس کے جواب میں حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے ایک مشورہ دیا، پھر دوبارہ مشورہ مانگا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے مشورہ دے دیا، یہ دیکھ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہوگئے، ایک انصاری نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تم سے مشورہ لینا چاہتے ہیں ، اس پر انصاری صحابہ رضی اللہ عنہم کہنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! بخدا! ہم اس طرح نہ کہیں گے جیسے بنی اسرائیل نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے کہا تھا کہ تم اور تمہارا رب جا کر لڑو، ہم یہاں بیٹھے ہیں ، بلکہ اگر آپ اونٹوں کے جگر مارتے ہوئے برک الغماد تک جائیں گے تب بھی ہم آپ کے ساتھ ہوں گے۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ، ← عُبَيْدَةُ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 12985

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 12986

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ يَعْنِي الْأَنْصَارِيَّ حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ عَنْ أَنَسٍ قَالَ سَمِعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نِدَاءَ صَبِيٍّ وَهُوَ فِي الصَّلَاةِ فَخَفَّفَ فَظَنَنَّا أَنَّهُ إِنَّمَا فَعَلَ ذَلِكَ رَحْمَةً لِلصَّبِيِّ إِذْ عَلِمَ أَنَّ أُمَّهُ مَعَهُ فِي الصَّلَاةِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھاتے ہوئے کسی بچے کے رونے کی اواز سنی اور نماز ہلکی کر دی، ہم لوگ سمجھ گئے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی ماں کی وجہ سے نماز کو ہلکا کر دیا ہے، یہ اس پر شفقت کا اظہار تھا۔

أَنَسٍ، ← حُمَيْدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ -يَعْنِي الْأَنْصَارِيَّ-،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 12986

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 12987

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ عَنْ أَنَسٍ أَنَّهُ سُئِلَ اخْتَضَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَمْ يَشِنْهُ الشَّيْبُ

حمید کہتے ہیں کہ کسی شخص نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم خضاب لگاتے تھے؟ انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر بڑھاپے کا عیب نہیں آیا۔

لَمْ يَشِنْهُ الشَّيْبُ ← أَنَسٍ أَنَّهُ سُئِلَ اخْتَضَبَ النَّبِيُّ ← حُمَيْدٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 12987

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 12988

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَدْخُلُ عَلَى أُمِّ سُلَيْمٍ وَلَهَا ابْنٌ مِنْ أَبِي طَلْحَةَ يُكْنَى أَبَا عُمَيْرٍ وَكَانَ يُمَازِحُهُ فَدَخَلَ عَلَيْهِ فَرَآهُ حَزِينًا فَقَالَ مَالِي أَرَى أَبَا عُمَيْرٍ حَزِينًا فَقَالُوا مَاتَ نُغَرُهُ الَّذِي كَانَ يَلْعَبُ بِهِ قَالَ فَجَعَلَ يَقُولُ أَبَا عُمَيْرٍ مَا فَعَلَ النُّغَيْرُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کا ایک بیٹا " جس کا نام ابو عمیر تھا " نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کے ساتھ ہنسی مذاق کیا کرتے تھے، ایک دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے غمگین دیکھا تو فرمایا اے ابو عمیر! کیا کیا نغیر (چڑیا، جو مر گئی تھی)

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ، ← مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 12988

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 12989

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ أُمَّ سُلَيْمٍ وَلَدَتْ غُلَامًا مِنْ أَبِي طَلْحَةَ فَبَعَثَتْ بِهِ مَعَ ابْنِهَا أَنَسٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَحَنَّكَهُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت ام سلیم رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے یہاں حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کا بچہ پیدا ہوا، انہوں نے اپنے بیٹے انس کے ساتھ اسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے گھٹی دی۔

حُمَيْدٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 12989

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 12990

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ عَنْ أَنَسٍ قَالَ رَأَى نُخَامَةً فِي قِبْلَةِ الْمَسْجِدِ فَشَقَّ عَلَيْهِ حَتَّى عُرِفَ ذَاكَ فِي وَجْهِهِ فَحَكَّهُ وَقَالَ إِنَّ أَحَدَكُمْ أَوْ الْمَرْءَ إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ فَإِنَّهُ يُنَاجِي رَبَّهُ عَزَّ وَجَلَّ أَوْ رَبَّهُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ فَلْيَبْزُقْ إِذَا بَزَقَ عَنْ يَسَارِهِ أَوْ تَحْتَ قَدَمِهِ وَأَوْمَأَ هَكَذَا كَأَنَّهُ فِي ثَوْبِهِ قَالَ وَكُنَّا نَقُولُ لِحُمَيْدٍ فَيَقُولُ سُبْحَانَ اللَّهِ مَنْ هُوَ يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا يَزِيدُنَا عَلَيْهِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو قبلہ مسجد کی طرف تھوک لگا ہوا نظر آیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طبیعت پر یہ چیز اتنی شاق گذری کہ چہرہ مبارک پر ناگواری کے آثار واضح ہوگئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے صاف کر کے فرمایا کہ انسان جب نماز پڑھنے کے لئے کھڑا ہوتا ہے تو اپنے رب سے مناجات کرتا ہے، اس لئے اسے چاہئے کہ اپنی بائیں جانب یا پاؤں کے نیچے تھوکے، اور اس طرح اشارہ کیا کہ اسے کپڑے میں لے کر مل لے۔

أَنَسٍ، ← حُمَيْدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُثَنَّی

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 12990

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 12991

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ عَنْ أَنَسٍ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ أَسْرَعَ الْمَشْيَ فَانْتَهَى إِلَى الْقَوْمِ وَقَدْ انْبَهَرَ فَقَالَ حِينَ قَامَ فِي الصَّلَاةِ الْحَمْدُ لِلَّهِ حَمْدًا كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيهِ فَلَمَّا قَضَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّلَاةَ قَالَ مَنْ الْمُتَكَلِّمُ أَوْ مَنْ الْقَائِلُ قَالَ فَسَكَتَ الْقَوْمُ فَقَالَ مَنْ الْمُتَكَلِّمُ أَوْ مَنْ الْقَائِلُ فَإِنَّهُ قَالَ خَيْرًا أَوْ لَمْ يَقُلْ بَأْسًا فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي انْتَهَيْتُ إِلَى الصَّفِّ وَقَدْ انْبَهَرْتُ أَوْ حَفَزَنِي النَّفَسُ قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَقَدْ رَأَيْتُ اثْنَيْ عَشَرَ مَلَكًا يَبْتَدِرُونَهَا أَيُّهُمْ يَرْفَعُهَا ثُمَّ قَالَ إِذَا جَاءَ أَحَدُكُمْ إِلَى الصَّلَاةِ فَلْيَمْشِ عَلَى هِينَتِهِ فَلْيُصَلِّ مَا أَدْرَكَ وَيَقْضِ مَا سَبَقَهُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نماز کھڑی ہوئی اور ایک آدمی تیزی سے آیا، اس کا سانس پھولا ہوا تھا، صف تک پہنچ کر وہ کہنے لگا " الحمدللہ حمدا کثیرا طیبا مبارکا فیہ" نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز سے فارغ ہو کر پوچھا کہ تم میں سے کون بولا تھا؟ اس نے اچھی بات کہی تھی، چنانچہ وہ آدمی کہنے لگا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں بولا تھا، میں تیزی سے آرہا تھا، اور صف کے قریب پہنچ کر میں نے یہ جملہ کہا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے بارہ فرشتوں کو اس کی طرف تیزی سے بڑھتے ہوئے دیکھا کہ کون اس جملے کو پہلے اٹھاتا ہے، پھر فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص نماز کے لئے آئے تو سکون سے چلے، جتنی نماز مل جائے سو پڑھ لے اور جو رہ جائے اسے قضاء کرلے۔

أَنَسٍ، ← حُمَيْدٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 12991

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 12992

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ عَنْ أَنَسٍ قَالَ نَادَى رَجُلٌ يَا أَبَا الْقَاسِمِ فَالْتَفَتَ إِلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَمْ أَعْنِكَ إِنَّمَا دَعَوْتُ فُلَانًا قَالَ تَسَمَّوْا بِاسْمِي وَلَا تَكَنَّوْا بِكُنْيَتِي

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جنت البقیع میں تھے، کہ ایک آدمی نے " ابوالقاسم " کہہ کر کسی کو آواز دی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو اس نے کہا کہ میں آپ کو مراد نہیں لے رہا، اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے نام پر تو اپنا نام رکھ سکتے ہو لیکن میری کنیت پر اپنی کنیت نہ رکھا کرو۔

نادى رجل يا أبا القاسم فالتفت إليه النبي فقال ← أَنَسٍ، ← حُمَيْدٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 12992

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 12993

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ قَالَ سُئِلَ أَنَسٌ هَلْ اتَّخَذَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاتَمًا قَالَ نَعَمْ أَخَّرَ لَيْلَةً صَلَاةَ الْعِشَاءِ الْآخِرَةِ إِلَى قُرْبٍ مِنْ شَطْرِ اللَّيْلِ فَلَمَّا صَلَّى أَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ فَقَالَ النَّاسُ قَدْ صَلَّوْا وَنَامُوا وَلَمْ تَزَالُوا فِي صَلَاةٍ مَا انْتَظَرْتُمُوهَا قَالَ أَنَسٌ كَأَنِّي أَنْظُرُ الْآنَ إِلَى وَبِيصِ خَاتَمِهِ

حمید کہتے ہیں کہ کسی شخص نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انگوٹھی بنوائی تھی؟ انہوں نے فرمایا ہاں ! ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز عشاء کو نصف رات تک مؤخر کر دیا، اور نماز کے بعد ہماری طرف متوجہ ہو کر فرمایا لوگ نماز پڑھ کر سو گئے لیکن تم نے جتنی دیر تک نماز کا انتظار کیا تم نماز ہی میں شمار ہوئے، اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی انگوٹھی کی سفیدی اب تک میری نگاہوں کے سامنے ہے۔

سُئِلَ أَنَسٌ هَلْ اتَّخَذَ النَّبِيُّ خَاتَمًا ← حُمَيْدٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 12993

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 12994

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ عَنْ أَنَسٍ قَالَ سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ وَقْتِ صَلَاةِ الْغَدَاةِ فَصَلَّى حِينَ طَلَعَ الْفَجْرُ ثُمَّ أَسْفَرَ بِهِمْ حَتَّى أَسْفَرَ فَقَالَ أَيْنَ السَّائِلُ عَنْ وَقْتِ صَلَاةِ الْغَدَاةِ قَالَ مَا بَيْنَ هَذَيْنِ وَقْتٌ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کسی شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے فجر کا وقت پوچھا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو طلوع فجر کے وقت حکم دیا اور نماز کھڑی کر دی، پھر اگلے دن خوب روشنی میں کر کے نماز پڑھائی، اور فرمایا نمازِ فجر کا وقت پوچھنے والا کہاں ہے؟ ان دو وقتوں کے درمیان نمازِ فجر کا وقت ہے۔

«مَا بَيْنَ هَذَيْنِ وَقْتٌ» ← وَقْتِ صَلَاةِ الْغَدَاةِ ← "أَيْنَ السَّائِلُ ← وَقْتِ صَلَاةِ الْغَدَاةِ فَصَلَّى حِينَ طَلَعَ الْفَجْرُ ثُمَّ أَسْفَرَ بِهِمْ حَتَّى أَسْفَرَ ← سُئِلَ النَّبِيُّ ← أَنَسٍ، ← حُمَيْدٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 12994

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 12995

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ عَنْ أَنَسٍ قَالَ كُنَّا نُصَلِّي الْمَغْرِبَ ثُمَّ يَنْطَلِقُ الْمُنْطَلِقُ مِنَّا إِلَى بَنِي سَلِمَةَ وَهُوَ يَرَى مَوَاقِعَ نَبْلِهِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مغرب کی نماز پڑھتے تھے، پھر ہم میں سے کوئی شخص بنو سلمہ کے پاس جاتا تو اس وقت بھی وہ اپنا تیر گرنے کی جگہ کو بخوبی دیکھ سکتا تھا۔

أَنَسٍ، ← حُمَيْدٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 12995

chevron_left Previous
1…223224225…264
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    0. Chapter
2. Book
    0. Chapter
3. Book
    0. Chapter
4. Book
    0. Chapter
5. Book
    0. Chapter
6. Book
    0. Chapter
7. Book
    0. Chapter
8. Book
    0. Chapter
9. Book
    0. Chapter