Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Friday, Jumada I 6, 1448 AH · Oct 16, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند امام احمد بن حنبل

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble

by Musnad Imam Bin Hanble

28,221 Hadith18 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 12972

حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ صُهَيْبٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اتَّخَذَ خَاتَمًا مِنْ فِضَّةٍ وَنَقَشَ فِيهِ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنِّي قَدْ اتَّخَذْتُ خَاتَمًا مِنْ فِضَّةٍ وَنَقَشْتُ فِيهِ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ فَلَا تَنْقُشُوا عَلَيْهِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے لئے چاندی کی ایک انگوٹھی بنوائی اور فرمایا کہ ہم نے ایک انگوٹھی بنوائی ہے اور اس پر ایک عبارت محمد رسول اللہ نقش کروائی ہے، لہٰذا کوئی شخص اپنی انگوٹھی پر یہ عبارت نقش نہ کروائے۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ ← حَمَّادٌ -يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ-، ← يُونُسَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 12972

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 12973

حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الرِّجَالَ عَنْ الْمُزَعْفَرِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مردوں کو زعفران کی خوشبو لگانے سے منع فرمایا ہے۔

الْمُزَعْفَرِ ← نَهَى رَسُولُ اللَّهِ الرِّجَالَ ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← عَبْدُ الْعَزِيزِ، ← حَمَّادٌ -يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ-، ← يُونُسَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 12973

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 12974

حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ يَحْيَى الدِّمَشْقِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو مُعِيدٍ حَدَّثَنَا مَكْحُولٌ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَتَى نَدَعُ الِائْتِمَارَ بِالْمَعْرُوفِ وَالنَّهْيَ عَنْ الْمُنْكَرِ قَالَ إِذَا ظَهَرَ فِيكُمْ مَا ظَهَرَ فِي بَنِي إِسْرَائِيلَ إِذَا كَانَتْ الْفَاحِشَةُ فِي كِبَارِكُمْ وَالْمُلْكُ فِي صِغَارِكُمْ وَالْعِلْمُ فِي رُذَالِكُمْ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کسی شخص نے بارگاہ نبوت میں عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم لوگ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کب چھوڑیں گے؟ فرمایا جب تم میں وہ چیزیں ظاہر ہوجائیں جو بنی اسرائیل میں در آئی تھیں ، جب بے حیائی بڑوں میں اور حکومت چھوٹوں میں اور علم کمینوں میں آجائے۔

قِيلَ ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← مَكْحُولٌ ← أَبُو مُعَيْدٍ، ← زَيْدُ بْنُ يَحْيَى الدِّمَشْقِيُّ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 12974

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 12975

حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ فِي الْمَسِيرِ وَكَانَ حَادٍ يَحْدُو بِنِسَائِهِ أَوْ سَائِقٌ قَالَ فَكَانَ نِسَاؤُهُ يَتَقَدَّمْنَ بَيْنَ يَدَيْهِ فَقَالَ يَا أَنْجَشَةُ وَيْحَكَ ارْفُقْ بِالْقَوَارِيرِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سفر پر تھے اور حدی خوان امہات المومنین کی سواریوں کو ہانک رہا تھا، اس نے جانوروں کو تیزی کے ساتھ ہانکنا شروع کردیا، اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہنستے ہوئے فرمایا انجثہ! ان آبگینوں کو آہستہ لے کر چلو۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ← شُعْبَةُ، ← حجاج،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 12975

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 12976

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ عَنِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ الْمَدِينَةِ فَجَعَلَ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ حَتَّى رَجَعَ قَالَ يَحْيَى فَقُلْتُ لِأَنَسٍ كَمْ أَقَامَ قَالَ عَشْرًا

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدینہ منورہ سے نکلے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم واپسی تک دو دو رکعتیں پڑھتے رہے، راوی کہتے ہیں کہ میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سفر میں کتنے دن قیام فرمایا تھا؟ انہوں نے بتایا دس دن۔

عَشْرًا ← يحيى فقلت لأنس كم أقام ← خرجنا مع رسول الله من المدينة فجعل يصلي ركعتين ركعتين حتى رجع ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← يَحْيَى بْنِ أَبِي إِسْحَاقَ ← عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 12976

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 12977

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى عَنْ يَحْيَى عَنْ أَنَسٍ قَالَ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى مَكَّةَ فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ لَبَّيْكَ عُمْرَةً وَحَجَّةً

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مکہ مکرمہ روانہ ہوئے، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حج وعمرہ کا تلبیہ اکٹھے پڑھتے ہوئے سنا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم یوں فرما رہے تھے " لبیک عمرۃ و حجا "

لَبَّيْكَ عُمْرَةً وَحَجَّةً ← خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ إِلَى مَكَّةَ فَسَمِعْتُهُ ← أَنَسٍ، ← يَحْيَى ← عَبْدُ الْأَعْلَى

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 12977

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 12978

عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ أَنَسٍ قَالَ أَقْبَلْنَا مِنْ خَيْبَرَ أَنَا وَأَبُو طَلْحَةَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصَفِيَّةُ رَدِيفَتُهُ قَالَ فَعَثَرَتْ نَاقَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصُرِعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصُرِعَتْ صَفِيَّةُ قَالَ فَاقْتَحَمَ أَبُو طَلْحَةَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ جَعَلَنِي اللَّهُ فِدَاكَ قَالَ أَشُكُّ قَالَ ذَاكَ أَمْ لَا أَضُرِرْتَ قَالَ لَا عَلَيْكَ الْمَرْأَةَ قَالَ فَأَلْقَى أَبُو طَلْحَةَ عَلَى وَجْهِهِ الثَّوْبَ فَانْطَلَقَ إِلَيْهَا فَمَدَّ ثَوْبَهُ عَلَيْهَا ثُمَّ أَصْلَحَ لَهَا رَحْلَهَا فَرَكِبْنَا ثُمَّ اكْتَنَفْنَاهُ أَحَدُنَا عَنْ يَمِينِهِ وَالْآخَرُ عَنْ شِمَالِهِ فَلَمَّا أَشْرَفْنَا عَلَى الْمَدِينَةِ أَوْ كُنَّا بِظَهْرِ الْحَرَّةِ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آيِبُونَ عَابِدُونَ تَائِبُونَ لِرَبِّنَا حَامِدُونَ فَلَمْ يَزَلْ يَقُولُهُنَّ حَتَّى دَخَلْنَا الْمَدِينَةَ

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں اور حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ خیبر سے واپس آرہے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے حضرت صفیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سوار تھیں ، ایک مقام پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی پھسل گئی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت صفیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا گر گئے، حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ تیزی سے وہاں پہنچے اور کہنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اللہ مجھے آپ پر قربان کرے، کوئی چوٹ تو نہیں آئی؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں ، خاتون کی خبر لو، چنانچہ حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ اپنے چہرے پر کپڑا ڈال کر ان کے پاس پہنچے اور حضرت صفیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا پر کپڑا ڈال دیا، اس کے بعد سواری کو دوبارہ تیار کیا، پھر ہم سب سوار ہوگئے اور ہم میں سے ایک نے دائیں جانب سے اور دوسرے نے بائیں جانب سے اسے اپنے گھیرے میں لے لیا، جب ہم لوگ مدینہ منورہ کے قریب پہنچے یا پتھریلے علاقوں کی پشت پر پہنچے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ( آيِبُونَ عَابِدُونَ تَائِبُونَ لِرَبِّنَا حَامِدُونَ) ہم اللہ کی عبادت کرتے ہوئے، توبہ کرتے ہوئے، اور اپنے رب کی تعریف کرتے ہوئے واپس آئے ہیں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم مسلسل یہ جملے کہتے رہے تاآنکہ ہم مدینہ منورہ میں داخل ہوگئے۔

فَاقْتَحَمَ أَبُو طَلْحَةَ فَقَالَ ← فَعَثَرَتْ نَاقَةُ رَسُولِ اللَّهِ فَصُرِعَ رَسُولُ اللَّهِ وَصُرِعَتْ صَفِيَّةُ ← وَأَبُو طَلْحَةَ وَرَسُولُ اللَّهِ وَصَفِيَّةُ رَدِيفَتُهُ ← أَقْبَلْنَا مِنْ خَيْبَرَ ← أَنَسٍ، ← يَحْيَى بْنِ أَبِي إِسْحَاقَ ← عَبْدُ الْأَعْلَى

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 12978

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 12979

حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ حَسَّانَ قَالَ كُنَّا عِنْدَ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ فَدَعَا بِإِنَاءٍ وَفِيهِ ثَلَاثُ ضِبَابٍ حَدِيدٍ وَحَلْقَةٌ مِنْ حَدِيدٍ فَأُخْرِجَ مِنْ غِلَافٍ أَسْوَدَ وَهُوَ دُونَ الرُّبُعِ وَفَوْقَ نِصْفِ الرُّبُعِ فَأَمَرَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ فَجُعِلَ لَنَا فِيهِ مَاءٌ فَأُتِينَا بِهِ فَشَرِبْنَا وَصَبَبْنَا عَلَى رُءُوسِنَا وَوُجُوهِنَا وَصَلَّيْنَا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

حجاج بن حسان رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم لوگ حضرت انس رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، اسی اثناء میں انہوں نے ایک برتن منگوایا جس میں لوہے کے تین ٹکڑے اور ایک حلقہ لگا ہوا تھا، انہوں نے وہ برتن ایک کالے غلاف سے نکالا تھا ، جو چوتھائی سے کم اور نصف سے کچھ زیادہ تھا، حضرت انس رضی اللہ عنہ کے حکم پر اس میں ہمارے لئے پانی ڈالا گیا، ہم نے وہ پانی نوش کیا اور اپنے سر اور چہروں پر ڈالا، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر درود و سلام پڑھا۔

حَجَّاجِ بْنِ حَسَّانَ ← رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 12979

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 12980

حَدَّثَنَا عُبَيْدَةُ عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ قَالَ سُئِلَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ عَنْ رَفْعِ الْأَيْدِي فَقَالَ قَامَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ بَعْضُ الْمُسْلِمِينَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَحَطَ الْمَطَرُ وَأَجْدَبَتْ الْأَرْضُ هَلَكَ الْمَالُ قَالَ فَاسْتَسْقَى فَرَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى رَأَيْتُ بَيَاضَ إِبْطَيْهِ وَمَا نَرَى فِي السَّمَاءِ سَحَابَةً فَقَامَ فَصَلَّى حَتَّى جَعَلَ يَهُمُّ الْقَرِيبُ الدَّارِ الرُّجُوعَ إِلَى أَهْلِهِ مِنْ شِدَّةِ الْمَطَرِ قَالَ فَمَكَثْنَا سَبْعًا فَلَمَّا كَانَتْ الْجُمُعَةُ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ تَهَدَّمَتْ الْبُيُوتُ وَاحْتَبَسَ الرُّكْبَانُ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللَّهُمَّ حَوَالَيْنَا وَلَا عَلَيْنَا قَالَ فَتَكَشَّفَتْ عَنْ الْمَدِينَةِ

حمید رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ کسی شخص نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا کہ کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم دعاء میں ہاتھ اٹھاتے تھے؟ تو انہوں نے فرمایا کہ ایک مرتبہ جمعہ کے دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے لوگوں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! بارش رکی ہوئی ہے، زمینیں خشک پڑی ہیں اور مال تباہ ہو رہے ہیں ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سن کر اپنے ہاتھ بلند کئے کہ مجھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک بغلوں کی سفیدی نظر آنے لگی، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے طلب باراں کے حوالے سے دعاء فرمائی، جس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دست مبارک بلند کئے تھے، اس وقت ہمیں آسمان پر کوئی بادل نظر نہیں آرہا تھا، اور جب نماز سے فارغ ہوئے تو قریب کے گھر میں رہنے والے نوجوانوں کو اپنے گھر واپس پہنچنے میں دشواری ہو رہی تھی، جب اگلا جمعہ ہوا تو لوگوں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! گھروں کی عمارتیں گر گئیں اور سوار مدینہ سے باہر ہی رکنے پر مجبور ہوگئے، یہ سن کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ سے دعاء کی کہ اے اللہ! یہ بارش ہمارے ارد گرد فرما، ہم پر نہ برسا، چنانچہ مدینہ سے بارش چھٹ گئی۔

رَفْعِ الْأَيْدِي فَقَالَ قَامَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ بَعْضُ الْمُسْلِمِينَ فَقَالَ ← سُئِلَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، ← حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ، ← عُبَيْدَةُ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 12980

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 12981

حَدَّثَنَا عُبَيْدَةُ بْنُ حُمَيْدٍ عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ خَرَجَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَلَقَّتْهُ الْأَنْصَارُ بَيْنَهُمْ فَقَالَ وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ إِنِّي لَأُحِبُّكُمْ إِنَّ الْأَنْصَارَ قَدْ قَضَوْا مَا عَلَيْهِمْ وَبَقِيَ الَّذِي عَلَيْكُمْ فَأَحْسِنُوا إِلَى مُحْسِنِهِمْ وَتَجَاوَزُوا عَنْ مُسِيئِهِمْ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم باہر نکلے تو انصار سے ملاقات ہوگئی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے، میں تم سے محبت کرتا ہوں ، تم انصار کے نیکیوں کی نیکی قبول کرو، اور ان کے گناہگار سے تجاوز اور درگذر کرو، کیونکہ انہوں نے اپنا فرض نبھا دیا اور ان کا حق باقی رہ گیا۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ، ← عبيدة بن حميد

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 12981

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 12982

حَدَّثَنَا عُبَيْدَةُ عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَدَاةٍ قَرَّةٍ أَوْ بَارِدَةٍ فَإِذَا الْمُهَاجِرُونَ وَالْأَنْصَارُ يَحْفِرُونَ الْخَنْدَقَ فَقَالَ اللَّهُمَّ إِنَّ الْخَيْرَ خَيْرُ الْآخِرَهْ فَاغْفِرْ لِلْأَنْصَارِ وَالْمُهَاجِرَهْ فَأَجَابُوهُ نَحْنُ الَّذِينَ بَايَعُوا مُحَمَّدًا عَلَى الْجِهَادِ مَا بَقِينَا أَبَدًا

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سردی کے ایک دن باہر نکلے تو دیکھا کہ مہاجرین و انصار خندق کھود رہے ہیں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے اللہ! اصل خیر تو آخرت کی ہی خیر ہے، پس انصار اور مہاجرین کو معاف فرما، صحابہ رضی اللہ عنہم نے جواباً یہ شعر پڑھا کہ " ہم ہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے جہاد پر بیعت کی ہے جب تک ہم زندہ ہیں ۔ "

خَرَجَ النَّبِيُّ فِي غَدَاةٍ قَرَّةٍ أَوْ بَارِدَةٍ فَإِذَا الْمُهَاجِرُونَ وَالْأَنْصَارُ يَحْفِرُونَ الْخَنْدَقَ ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ، ← عُبَيْدَةُ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 12982

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 12983

حَدَّثَنَا عُبَيْدَةُ بْنُ حُمَيْدٍ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ أَعْطَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ غَنَائِمِ حُنَيْنٍ عُيَيْنَةَ وَالْأَقْرَعَ وَغَيْرَهُمَا فَقَالَتْ الْأَنْصَارُ أَيُعْطِي غَنَائِمَنَا مَنْ تَقْطُرُ سُيُوفُنَا مِنْ دِمَائِهِمْ أَوْ تَقْطُرُ دِمَاؤُهُمْ مِنْ سُيُوفِنَا فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَعَا الْأَنْصَارَ فَقَالَ يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ أَمَا تَرْضَوْنَ أَنْ يَذْهَبَ النَّاسُ بِالدُّنْيَا وَتَذْهَبُونَ بِمُحَمَّدٍ إِلَى دِيَارِكُمْ قَالُوا بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَوْ سَلَكَ النَّاسُ وَادِيًا وَسَلَكَتْ الْأَنْصَارُ شِعْبًا لَسَلَكْتُ شِعْبَ الْأَنْصَارِ الْأَنْصَارُ كَرِشِي وَعَيْبَتِي وَلَوْلَا الْهِجْرَةُ لَكُنْتُ امْرَأً مِنْ الْأَنْصَارِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ غزوہ حنین کے موقع پر اللہ نے جب بنو ہوازن کا مالِ غنیمت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو عطاء فرمایا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم عیینہ اور اقرع وغیرہ کے ایک ایک یہودی کو سو سو اونٹ دینے لگے تو انصار کے کچھ لوگ کہنے لگے اللہ تعالیٰ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بخشش فرمائے، کہ وہ قریش کو دیئے جا رہے ہیں اور ہمیں نظر انداز کر رہے ہیں جب کہ ہماری تلواروں سے ابھی تک خون کے قطرے ٹپک رہے ہیں ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات معلوم ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انصاری صحابہ رضی اللہ عنہم کو بلا بھیجا اور فرمایا کیا تم لوگ اس بات پر خوش نہیں ہو کہ لوگ مال و دولت لے کر چلے جائیں اور تم پیغمبر اللہ کو اپنے گھروں میں لے جاؤ، وہ کہنے لگے کیوں نہیں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے، اگر لوگ ایک وادی میں چل رہے ہوں اور انصار دوسری جانب، تو میں انصار کی وادی اور گھاٹی کو اختیار کروں گا۔ انصار میرا پردہ ہیں ، اور اگر ہجرت نہ ہوتی تو میں انصار ہی کا ایک فرد ہوتا۔

أَعْطَى النَّبِيُّ مِنْ غَنَائِمِ حُنَيْنٍ عُيَيْنَةَ وَالْأَقْرَعَ وَغَيْرَهُمَا ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← حُمَيْدٍ ← عبيدة بن حميد

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 12983

chevron_left Previous
1…222223224…264
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    0. Chapter
2. Book
    0. Chapter
3. Book
    0. Chapter
4. Book
    0. Chapter
5. Book
    0. Chapter
6. Book
    0. Chapter
7. Book
    0. Chapter
8. Book
    0. Chapter
9. Book
    0. Chapter