Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Friday, Jumada I 6, 1448 AH · Oct 16, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند امام احمد بن حنبل

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble

by Musnad Imam Bin Hanble

28,221 Hadith18 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 12853

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ وَعَبْدُ الصَّمَدِ قَالَا حَدَّثَنَا هِشَامٌ وَعَبْدُ الْوَهَّابِ قَالَ أَخْبَرَنَا هِشَامٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا عَدْوَى وَلَا طِيَرَةَ وَيُعْجِبُنِي الْفَأْلُ قَالَ قِيلَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ مَا الْفَأْلُ قَالَ الْكَلِمَةُ الْحَسَنَةُ قَالَ أَبُو عَامِرٍ أَوْ قَالَ الْكَلِمَةُ الطَّيِّبَةُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بدشگونی کی کوئی حیثیت نہیں ، البتہ مجھے فال یعنی اچھا لگتا ہے، کسی نے پوچھا اے اللہ کے نبی! فال سے کیا مراد ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اچھی بات۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← قَتَادَةَ ← هِشَامٍ ← هِشَامٌ وَعَبْدُ الْوَهَّابِ ← عَبْدُ الْمَلِكِ وَعَبْدُ الصَّمَدِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 12853

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 12854

حَدَّثَنَا هِشَامٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ أَوْ أَعْرَابِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَتَى السَّاعَةُ قَالَ وَمَا أَعْدَدْتَ لَهَا قَالَ مَا أَعْدَدْتُ لَهَا إِلَّا أَنِّي أُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَقَالَ أَنْتَ مَعَ مَنْ أَحْبَبْتَ قَالَ أَنَسٌ فَمَا رَأَيْتُ الْمُسْلِمِينَ فَرِحُوا بِشَيْءٍ بَعْدَ الْإِسْلَامِ أَشَدَّ مَا فَرِحُوا يَوْمَئِذٍ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک دیہاتی آیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! قیامت کب قائم ہوگی؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم نے قیامت کے لئے کیا تیاری کر رکھی ہے؟ اس نے کہا اللہ اور اس کے رسول سے محبت ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم اسی کے ساتھ ہوگے جس سے تم محبت کرتے ہو، حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مسلمان ہونے کے بعد میں نے لوگوں کا اتنا خوش کبھی نہیں دیکھا تھا جتنا اس دن دیکھا۔

جَاءَ رَجُلٌ أَوْ أَعْرَابِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ فَقَالَ ← أَنَسٍ، ← قَتَادَةَ ← هِشَامٍ ← عَبْد الْمَلِكِ؛ ← هِشَامٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 12854

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 12855

حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا حَرْبُ بْنُ مَيْمُونٍ أَبُو الْخَطَّابِ الْأَنْصَارِيُّ عَنِ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ حَدَّثَنِي نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنِّي لَقَائِمٌ أَنْتَظِرُ أُمَّتِي تَعْبُرُ عَلَى الصِّرَاطِ إِذْ جَاءَنِي عِيسَى فَقَالَ هَذِهِ الْأَنْبِيَاءُ قَدْ جَاءَتْكَ يَا مُحَمَّدُ يَسْأَلُونَ أَوْ قَالَ يَجْتَمِعُونَ إِلَيْكَ وَيَدْعُونَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ يُفَرِّقَ جَمْعَ الْأُمَمِ إِلَى حَيْثُ يَشَاءُ اللَّهُ لِغَمِّ مَا هُمْ فِيهِ وَالْخَلْقُ مُلْجَمُونَ فِي الْعَرَقِ وَأَمَّا الْمُؤْمِنُ فَهُوَ عَلَيْهِ كَالزَّكْمَةِ وَأَمَّا الْكَافِرُ فَيَتَغَشَّاهُ الْمَوْتُ قَالَ قَالَ لِعِيسَى انْتَظِرْ حَتَّى أَرْجِعَ إِلَيْكَ قَالَ فَذَهَبَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى قَامَ تَحْتَ الْعَرْشِ فَلَقِيَ مَا لَمْ يَلْقَ مَلَكٌ مُصْطَفًى وَلَا نَبِيٌّ مُرْسَلٌ فَأَوْحَى اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَى جِبْرِيلَ اذْهَبْ إِلَى مُحَمَّدٍ فَقُلْ لَهُ ارْفَعْ رَأْسَكَ سَلْ تُعْطَ وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ قَالَ فَشُفِّعْتُ فِي أُمَّتِي أَنْ أُخْرِجَ مِنْ كُلِّ تِسْعَةٍ وَتِسْعِينَ إِنْسَانًا وَاحِدًا قَالَ فَمَا زِلْتُ أَتَرَدَّدُ عَلَى رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ فَلَا أَقُومُ مَقَامًا إِلَّا شُفِّعْتُ حَتَّى أَعْطَانِي اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ ذَلِكَ أَنْ قَالَ يَا مُحَمَّدُ أَدْخِلْ مِنْ أُمَّتِكَ مِنْ خَلْقِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ مَنْ شَهِدَ أَنَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ يَوْمًا وَاحِدًا مُخْلِصًا وَمَاتَ عَلَى ذَلِكَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے بیان فرمایا کہ قیامت کے دن میں کھڑا اپنی امت کا انتظار کر رہا ہوں گا تاکہ وہ پل صراط کو عبور کر لے، کہ اسی اثناء میں میرے پاس حضرت عیسیٰ علیہ السلام آئیں گے اور کہیں گے کہ اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ سارے انبیاء علیہم السلام اکٹھے ہو کر آپ کے پاس آئے ہیں تاکہ آپ اللہ سے دعاء کر دیں کہ امتوں کی اس بھیڑ کو جہاں چاہے متفرق کر کے ان کے ٹھکانوں میں پہنچا دے کیونکہ لوگ بہت پریشان ہو رہے ہیں ، اس وقت سب لوگ پیسنے کی لگام منہ میں ڈالے ہوں گے۔ مسلمان پر تو وہ زکام کی طرح ہوگا اور کافر پر موت جیسی کیفیت طاری ہوجائے گی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان سے فرمائیں گے کہ آپ یہاں میرا انتظار کیجئے، میں ابھی آپ کے پاس آتا ہوں ، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جا کر عرش کے نیچے کھڑے ہو جائیں گے، اور وہ رتبہ آپ کو ملے گا جو کسی منتخب فرشتے اور نبی مرسل کو عطاء نہ ہوگا، پھر اللہ تعالیٰ حضرت جبرائیل علیہ السلام کو یہ پیغام دیں گے کہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے پاس جاؤ اور ان سے کہو کہ سر اٹھائیے ، سوال تو کیجئے، عطاء ہوگا، اور سفارش کیجئے قبول ہوگی، چنانچہ میری امت کے متعلق یہ سفارش قبول ہوگی کہ ہر ننانوے میں سے ایک آدمی جہنم سے نکال لوں ، لیکن میں اپنے رب سے مسلسل اصرار کرتا رہوں گا اور اس وقت تک وہاں سے نہ ہٹوں گا جب تک میری سفارش قبول نہ ہوجائے، حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ مجھے اس سفارش کی قبولیت عطاء فرماتے ہوئے کہے گا کہ اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! اللہ نے آپ کی امت میں جتنے لوگ پیدا کئے ہیں ان میں سے ہر اس شخص کو جہنم سے نکال لیجئے جس نے ایک دن بھی اخلاص کے ساتھ لا الہ الا اللہ کی گواہی دی اور اسی پر فوت ہوگیا ہو۔

أَنَسٍ، ← النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ، ← حَرْبُ بْنُ مَيْمُونٍ أَبُو الْخَطَّابِ الأَنْصَارِيُّ ← يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 12855

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 12856

حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا حَرْبُ بْنُ مَيْمُونٍ عَنِ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ سَأَلْتُ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَشْفَعَ لِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ قَالَ قَالَ أَنَا فَاعِلٌ بِهِمْ قَالَ فَأَيْنَ أَطْلُبُكَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يَا نَبِيَّ اللَّهِ قَالَ اطْلُبْنِي أَوَّلَ مَا تَطْلُبُنِي عَلَى الصِّرَاطِ قَالَ قُلْتُ فَإِذَا لَمْ أَلْقَكَ عَلَى الصِّرَاطِ قَالَ فَأَنَا عِنْدَ الْمِيزَانِ قَالَ قُلْتُ فَإِنْ لَمْ أَلْقَكَ عِنْدَ الْمِيزَانِ قَالَ فَأَنَا عِنْدَ الْحَوْضِ لَا أُخْطِئُ هَذِهِ الثَّلَاثَ مَوَاطِنَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی کہ قیامت کے دن میری سفارش فرمائیں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں کر دوں گا، میں نے پوچھا کہ میں قیامت کے دن آپ کو کہاں تلاش کروں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سب سے پہلے تو مجھے پل صراط پر تلاش کرنا، میں نے عرض کیا اگر میں آپ کو وہاں نہ پاؤں تو؟ فرمایا پھر میں میزان عمل کے پاس موجود ہوں گا، میں نے عرض کیا اگر آپ وہاں بھی نہ ملیں تو؟ فرمایا پھر میں حوضِ کوثر پر ہوں گا، اور قیامت کے دن ان تینوں جگہوں سے آگے پیچھے نہ جاؤں گا۔

فَأَنَا عِنْدَ الْحَوْضِ لَا أُخْطِئُ هَذِهِ الثَّلَاثَ مَوَاطِنَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ← قُلْتُ فَإِنْ لَمْ أَلْقَكَ عِنْدَ الْمِيزَانِ ← فَأَنَا عِنْدَ الْمِيزَانِ ← قُلْتُ فَإِذَا لَمْ أَلْقَكَ عَلَى الصِّرَاطِ ← اطْلُبْنِي أَوَّلَ مَا تَطْلُبُنِي عَلَى الصِّرَاطِ ← فَأَيْنَ أَطْلُبُكَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يَا نَبِيَّ اللَّهِ ← فَاعِلٌ بِهِمْ ← سَأَلْتُ نَبِيَّ اللَّهِ أَنْ يَشْفَعَ لِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ ← أَنَسٍ، ← النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ، ← حَرْبُ بْنُ مَيْمُونٍ ← يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 12856

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 12857

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ مُخْتَارِ بْنِ فُلْفُلٍ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسًا قَالَ قَالَ رَجُلٌ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا خَيْرَ الْبَرِيَّةِ قَالَ فَقَالَ ذَاكَ إِبْرَاهِيمُ عَلَيْهِ السَّلَام

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کرتے ہوئے " یا خیر البریہ " کہہ دیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ تو حضرت ابراہیم علیہ السلام تھے۔

فَقَالَ ذَاكَ إِبْرَاهِيمُ ← رَجُلٌ لِلنَّبِيِّ يَا خَيْرَ الْبَرِيَّةِ ← أَنَسًا ← مُخْتَارِ بْنِ فُلْفُلٍ ← سُفْيَانَ، ← وَكِيعٌ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 12857

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 12858

حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ يُوسُفَ يَعْنِي الْمِسْمَعِيَّ عَنْ حُمَيْدٍ وَيَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ وَلِأَهْلِ الْمَدِينَةِ يَوْمَانِ يَلْعَبُونَ فِيهِمَا فَقَالَ قَدِمْتُ عَلَيْكُمْ وَلَكُمْ يَوْمَانِ تَلْعَبُونَ فِيهِمَا فَإِنَّ اللَّهَ قَدْ أَبْدَلَكُمْ يَوْمَيْنِ خَيْرًا مِنْهُمَا يَوْمَ الْفِطْرِ وَيَوْمَ النَّحْرِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ منورہ تشریف لائے تو پتہ چلا کہ دو دن ایسے ہیں جن میں لوگ زمانہ جاہلیت سے جشن مناتے آرہے ہیں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ نے ان دونوں کے بدلے میں تمہیں اس سے بہتر دن یوم الفطر اور یوم الاضحی عطاء فرمائے ہیں ۔

قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ الْمَدِينَةَ وَلِأَهْلِ الْمَدِينَةِ يَوْمَانِ يَلْعَبُونَ فِيهِمَا ← أَنَسٍ، ← حُمَيْدٍ ← حُمَيْدٍ وَيَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← سَهْلُ بْنُ يُوسُفَ يَعْنِي الْمِسْمَعِيَّ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 12858

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 12859

حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ يُوسُفَ عَنْ حُمَيْدٍ قَالَ سُئِلَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ هَلْ خَضَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا لَمْ يَشِنْهُ الشَّيْبُ قَالَ فَقِيلَ يَا أَبَا حَمْزَةَ وَشَيْنٌ هُوَ قَالَ يُقَالُ كُلُّكُمْ يَكْرَهُهُ وَخَضَبَ أَبُو بَكْرٍ بِالْحِنَّاءِ وَالْكَتَمِ وَخَضَبَ عُمَرُ بِالْحِنَّاءِ

حمید کہتے ہیں کہ کسی شخص نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم خضاب لگاتے تھے؟ انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک ڈاڑھی کے اگلے حصے میں صرف سترہ یا بیس بال سفید تھے، اور ان پر بڑھاپے کا عیب نہیں آیا، کسی نے پوچھا کہ کیا بڑھاپا عیب ہے؟ انہوں نے فرمایا تم میں سے ہر شخص اسے ناپسند سمجھتا ہے، البتہ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ مہندی اور وسمہ کا خضاب لگاتے تھے، جب کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ صرف مہندی کا خضاب لگاتے تھے۔

يُقَالُ كُلُّكُمْ يَكْرَهُهُ وَخَضَبَ أَبُو بَكْرٍ بِالْحِنَّاءِ وَالْكَتَمِ وَخَضَبَ عُمَرُ بِالْحِنَّاءِ ← فَقِيلَ يَا أَبَا حَمْزَةَ وَشَيْنٌ هُوَ ← لَا لَمْ يَشِنْهُ الشَّيْبُ ← سُئِلَ أَنَسُ بْنُ مَالِکٍ هَلْ خَضَبَ رَسُولُ اللَّهِ ← حُمَيْدٍ ← سَهْلُ بْنُ يُوسُفَ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 12859

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 12860

حَدَّثَنَا سَهْلٌ أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَجُلًا اطَّلَعَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ خَلَلٍ فَسَدَّدَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِشْقَصٍ فَأَخْرَجَ الرَّجُلُ رَأْسَهُ

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر میں بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک آدمی آکر کسی سوراخ سے اندر جھانکنے لگا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ میں پکڑی ہوئی کنگھی سیدھی کی تو اس نے اپنا سر نکال دیا۔

حُمَيْدٍ ← سَهْلٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 12860

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 12861

حَدَّثَنَا سَهْلٌ عَنْ حُمَيْدٍ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَكْرٍ حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُضَحِّي بِكَبْشَيْنِ أَمْلَحَيْنِ قَالَ ابْنُ بَكْرٍ إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَحَّى بِكَبْشَيْنِ أَمْلَحَيْنِ قَالَ أَبِي أَسْنَدَاهُ جَمِيعًا عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم دو چتکبرے سینگ دار مینڈھے قربانی میں پیش کیا کرتے تھے۔

أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← حُمَيْدٍ ← حُمَيْدٍ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَكْرٍ ← سَهْلٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 12861

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 12862

حَدَّثَنَا سَهْلٌ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شُجَّ يَوْمَ أُحُدٍ وَكَسَرُوا رَبَاعِيَتَهُ فَجَعَلَ يَمْسَحُ الدَّمَ عَنْ وَجْهِهِ وَهُوَ يَقُولُ كَيْفَ يُفْلِحُ قَوْمٌ خَضَّبُوا وَجْهَ نَبِيِّهِمْ بِالدَّمِ وَهُوَ يَدْعُوهُمْ إِلَى رَبِّهِمْ عَزَّ وَجَلَّ فَأُنْزِلَتْ لَيْسَ لَكَ مِنْ الْأَمْرِ شَيْءٌ أَوْ يَتُوبَ عَلَيْهِمْ أَوْ يُعَذِّبَهُمْ فَإِنَّهُمْ ظَالِمُونَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ غزوہ احد کے دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اگلے چار دانت ٹوٹ گئے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشانی پر بھی زخم آیا تھا، حتیٰ کہ اس کا خون آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک پر بہنے لگا، اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ قوم کیسے فلاح پائے گی جو اپنے نبی کے ساتھ یہ سلوک کرے جب کہ وہ انہیں ان کے رب کی طرف بلا رہا ہو؟ اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ " آپ کو کسی قسم کا کوئی اختیار نہیں ہے کہ اللہ ان پر متوجہ ہوجائے یا انہیں سزا دے کہ وہ ظالم ہیں ۔ "

أَنَسٍ، ← حُمَيْدٍ ← سَهْلٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 12862

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 12863

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ حُمَيْدٍ قَالَ سُئِلَ أَنَسٌ عَنْ صَوْمِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَطَوُّعًا قَالَ كَانَ يَصُومُ حَتَّى نَقُولَ لَا يُفْطِرُ وَيُفْطِرُ حَتَّى نَقُولَ لَا يَصُومُ

حمید کہتے ہیں کہ کسی نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نفلی روزوں کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کسی مہینے میں تسلسل کے ساتھ روزے رکھتے کہ ہم یہ سوچنے لگتے کہ اب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کوئی روزہ نہیں چھوڑیں گے، اور بعض اوقات روزے چھوڑتے تو ہم کہتے کہ شاید اب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کوئی روزہ نہیں رکھیں گے۔

كَانَ يَصُومُ حَتَّى نَقُولَ لَا يُفْطِرُ وَيُفْطِرُ حَتَّى نَقُولَ لَا يَصُومُ ← صَوْمِ رَسُولِ اللَّهِ تَطَوُّعًا ← سُئِلَ أَنَسٌ ← حُمَيْدٍ ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 12863

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 12864

حَدَّثَنَا يَحْيَى حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ الْكَسَلِ وَالْبُخْلِ وَعَذَابِ الْقَبْرِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعاء کیا کرتے تھے کہ اے اللہ! میں سستی، بخل اور عذابِ قبر سے آپ کی پناہ میں آتا ہوں ۔

أَنَسٍ، ← حُمَيْدٍ ← يَحْيَى

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 12864

chevron_left Previous
1…212213214…264
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    0. Chapter
2. Book
    0. Chapter
3. Book
    0. Chapter
4. Book
    0. Chapter
5. Book
    0. Chapter
6. Book
    0. Chapter
7. Book
    0. Chapter
8. Book
    0. Chapter
9. Book
    0. Chapter