Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Friday, Jumada I 6, 1448 AH · Oct 16, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند امام احمد بن حنبل

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble

by Musnad Imam Bin Hanble

28,221 Hadith18 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 12817

حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِأَصْحَابِهِ سَلُونِي فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَنْ أَبِي قَالَ أَبُوكَ حُذَافَةُ لِلَّذِي كَانَ يُنْسَبُ إِلَيْهِ فَقَالَتْ لَهُ أُمُّهُ يَا بُنَيَّ لَقَدْ قُمْتَ بِأُمِّكَ مَقَامًا عَظِيمًا قَالَ أَرَدْتُ أَنْ أُبَرِّئَ صَدْرِي مِمَّا كَانَ يُقَالُ وَقَدْ كَانَ يُقَالُ فِيهِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا قیامت تک ہونے والی کسی چیز کے معلق تم مجھ سے سوال کر سکتے ہو، ایک آدمی نے پوچھ لیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میرا باپ کون ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہارا باپ حذافہ ہے، ان کی والدہ نے ان سے کہا کہ تمہارا اس سے کیا مقصد تھا؟ انہوں نے کہا کہ میں لوگوں کی باتوں سے چھٹکارا حاصل کرنا چاہت تھا، دراصل ان کے متعلق کچھ باتیں مشہور تھیں ۔

أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← حَمَّادٌ، ← مُؤَمَّلٍ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 12817

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 12818

حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ ثَابِتٍ وَحُمَيْدٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْجِبُهُ الْقَرْعُ فَكَانَ إِذَا جِيءَ بِمَرَقَةٍ فِيهَا قَرْعٌ جُعِلَتْ الْقَرْعُ مِمَّا يَلِيهِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کدو بہت پسند تھا، جب بھی کدو کا سالن آتا تو میں اسے الگ کر کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کرتا تھا۔

أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ وَحُمَيْدٌ ← حَمَّادٌ، ← مُؤَمَّلٍ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 12818

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 12819

حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ عِتْبَانَ بْنَ مَالِكٍ ذَهَبَ بَصَرُهُ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَوْ جِئْتَ صَلَّيْتَ فِي دَارِي أَوْ قَالَ فِي بَيْتِي لَاتَّخَذْتُ مُصَلَّاكَ مَسْجِدًا فَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى فِي دَارِهِ أَوْ قَالَ فِي بَيْتِهِ وَاجْتَمَعَ قَوْمُ عِتْبَانَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَذَكَرُوا مَالِكَ بْنَ الدُّخْشُمِ فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهُ وَإِنَّهُ يُعَرِّضُونَ بِالنِّفَاقِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَلَيْسَ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ قَالُوا بَلَى قَالَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَا يَقُولُهَا عَبْدٌ صَادِقٌ بِهَا إِلَّا حُرِّمَتْ عَلَيْهِ النَّارُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت عتبان رضی اللہ عنہ کی آنکھیں شکایت کرنے لگیں ، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پیغام بھیج کر اپنی مصیبت کا ذکر کیا اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے گھر تشریف لا کر نماز پڑھ دیجئے تاکہ میں اس جگہ کو اپنی جائے نماز بنا لوں ، چنانچہ ایک دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے کچھ صحابہ رضی اللہ عنہم کے ساتھ ان کے یہاں تشریف لے گئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھنے کھڑے ہوگئے اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم آپس میں باتیں کرنے لگے، اور منافقین کی طرف سے پہنچنے والی تکالیف کا ذکر کرنے لگے۔ اور اس میں سب سے زیادہ حصہ دار مالک بن دخیثم کو قرار دینے لگے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز سے فارغ ہو کر فرمایا کیا وہ اس بات کی گواہی نہیں دیتا کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور میں اللہ کا رسول ہوں ؟ ایک آدمی نے کہا کیوں نہیں ، لیکن یہ دل سے نہیں ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص اس بات کی گواہی دے کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور یہ کہ میں اللہ کا رسول ہوں تو جہنم کی آگ اس پر حرام کر دی جاتی ہے۔

أَنَسٍ أَنَّ عِتْبَانَ بْنَ مَالِكٍ ذَهَبَ بَصَرُهُ فَقَالَ ← ثَابِتٍ، ← حَمَّادٌ، ← مُؤَمَّلٍ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 12819

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 12820

حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ وَفْدًا مِنْ أَهْلِ الْيَمَنِ قَدِمُوا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَرَادَ أَنْ يَبْعَثَ مَعَهُمْ رَجُلًا فَقَالُوا ابْعَثْ مَعَنَا رَجُلًا فَقَالَ أَبْعَثُ مَعَكُمْ أَمِينَ هَذِهِ الْأُمَّةِ فَبَعَثَ أَبَا عُبَيْدَةَ بْنَ الْجَرَّاحِ قَالَ أَبِي وَفِي مَوْضِعٍ آخَرَ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ ابْعَثْ مَعَنَا رَجُلًا يُعَلِّمُنَا فَأَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ الْجَرَّاحِ فَقَالَ لِكُلِّ أُمَّةٍ أَمِينٌ وَهَذَا أَمِينُ هَذِهِ الْأُمَّةِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب اہل یمن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی کہ ان کے ساتھ ایک آدمی کو بھیج دیں جو انہیں دین کی تعلیم دے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں تمہارے ساتھ اس امت کے امین کو بھیجوں گا، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ساتھ حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کو بھیج دیا۔

أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← حَمَّادٌ، ← مُؤَمَّلٍ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 12820

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 12821

حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْأَلُهُ فَأَعْطَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَنَمًا بَيْنَ جَبَلَيْنِ فَأَتَى الرَّجُلُ قَوْمَهُ فَقَالَ أَيْ قَوْمِي أَسْلِمُوا فَوَاللَّهِ إِنَّ مُحَمَّدًا لَيُعْطِي عَطِيَّةَ رَجُلٍ مَا يَخَافُ الْفَاقَةَ أَوْ قَالَ الْفَقْرَ قَالَ وَحَدَّثَنَاهُ ثَابِتٌ قَالَ قَالَ أَنَسٌ إِنْ كَانَ الرَّجُلُ لَيَأْتِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسْلِمُ مَا يُرِيدُ إِلَّا أَنْ يُصِيبَ عَرَضًا مِنْ الدُّنْيَا أَوْ قَالَ دُنْيَا يُصِيبُهَا فَمَا يُمْسِي مِنْ يَوْمِهِ ذَلِكَ حَتَّى يَكُونَ دِينُهُ أَحَبَّ إِلَيْهِ أَوْ قَالَ أَكْبَرَ عَلَيْهِ مِنْ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی آیا اور اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ مانگا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے صدقہ کی دو بکریوں میں سے بہت سی بکریاں " جو دو پہاڑوں کے درمیان آسکیں " دینے کا حکم دیا، وہ آدمی اپنی قوم کے پاس آکر کہنے لگا لوگو! اسلام قبول کرلو، کیونکہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اتنی بخشش دیتے ہیں کہ انسان کو فقر و فاقہ کا کوئی اندیشہ نہیں رہتا، دوسری سند سے اس میں یہ اضافہ بھی ہے کہ بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک آدمی آکر صرف دنیا کا سازوسامان حاصل کرنے کے لئے اسلام قبول کر لیتا، لیکن اس دن کی شام تک دین اس کی نگاہوں میں سب سے زیادہ محبوب ہوچکا ہوتا تھا۔

أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← حَمَّادٌ، ← مُؤَمَّلٍ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 12821

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 12822

حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ وَحَسَنٌ الْأَشْيَبُ قَالَا حَدَّثَنَا حَمَّادٌ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ عَنْ أَنَسٍ قَالَ حَسَنٌ عَنْ ثَابِتٍ وَحُمَيْدٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ عَلَى بَغْلَتِهِ الشَّهْبَاءِ بِحَائِطٍ لِبَنِي النَّجَّارِ فَسَمِعَ أَصْوَاتَ قَوْمٍ يُعَذَّبُونَ فِي قُبُورِهِمْ فَحَاصَتْ الْبَغْلَةُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْلَا أَنْ لَا تَدَافَنُوا لَسَأَلْتُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ يُسْمِعَكُمْ عَذَابَ الْقَبْرِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے سفید خچر پر سوار مدینہ منورہ میں بنو نجار کے کسی باغ سے گذرے، وہاں کسی قبر میں عذاب ہو رہا تھا، چنانچہ خچر بدک گیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تم لوگ اپنے مردوں کو دفن کرنا چھوڑ نہ دیتے تو میں اللہ سے یہ دعاء کرتا کہ وہ تمہیں بھی عذابِ قبر کی آواز سنا دے۔

أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ وَحُمَيْدٌ ← حَسَنٌ ← أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← حَمَّادٌ، ← مُؤَمَّلٌ وَحَسَنٌ الْأَشْيَبُ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 12822

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 12823

حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ غُلَامًا يَهُودِيًّا كَانَ يَضَعُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَضُوءَهُ وَيُنَاوِلُهُ نَعْلَيْهِ فَمَرِضَ فَأَتَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَخَلَ عَلَيْهِ وَأَبُوهُ قَاعِدٌ عِنْدَ رَأْسِهِ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا فُلَانُ قُلْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ فَنَظَرَ إِلَى أَبِيهِ فَسَكَتَ أَبُوهُ فَأَعَادَ عَلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَظَرَ إِلَى أَبِيهِ فَقَالَ أَبُوهُ أَطِعْ أَبَا الْقَاسِمِ فَقَالَ الْغُلَامُ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ فَخَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَقُولُ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَخْرَجَهُ بِي مِنْ النَّارِ حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ عَنْ أَنَسٍ مِثْلَهُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی کہ ایک یہودی لڑکا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے وضو کا پانی رکھتا تھا اور جوتے پکڑاتا تھا، ایک مرتبہ وہ بیمار ہوگیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس تشریف لے گئے، وہاں اس کا باپ اس کے سرہانے بیٹھا ہوا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کلمہ پڑھنے کی تلقین کی، اس نے اپنے باپ کو دیکھا، وہ خاموش رہا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بات دوبارہ دہرائی اور اس نے دوبارہ اپنے باپ کو دیکھا، اس نے کہا ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کی بات مانو، چنانچہ اس لڑکے نے کلمہ پڑھ لیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب وہاں سے نکلے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ فرما رہے تھے کہ اس اللہ کا شکر ہے جس نے اسے میری وجہ سے جہنم سے بچا لیا۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← حَمَّادٌ، ← مُؤَمَّلٍ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 12823

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 12824

حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ عَنْ أَنَسٍ مِثْلَهُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی کہ ایک یہودی لڑکا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے وضو کا پانی رکھتا تھا اور جوتے پکڑاتا تھا، ایک مرتبہ وہ بیمار ہوگیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس تشریف لے گئے، وہاں اس کا باپ اس کے سرہانے بیٹھا ہوا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کلمہ پڑھنے کی تلقین کی، اس نے اپنے باپ کو دیکھا، وہ خاموش رہا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بات دوبارہ دہرائی اور اس نے دوبارہ اپنے باپ کو دیکھا، اس نے کہا ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کی بات مانو، چنانچہ اس لڑکے نے کلمہ پڑھ لیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب وہاں سے نکلے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ فرما رہے تھے کہ اس اللہ کا شکر ہے جس نے اسے میری وجہ سے جہنم سے بچا لیا۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

أَنَسٍ، مِثْلَهُ ← ثَابِتٍ، ← حَمَّادٌ، ← مُؤَمَّلٍ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 12824

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 12825

حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ وَعَفَّانُ قَالَا حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ حَضَرَتْ الصَّلَاةُ فَقَامَ جِيرَانُ الْمَسْجِدِ إِلَى مَنَازِلِهِمْ يَتَوَضَّئُونَ وَبَقِيَ فِي الْمَسْجِدِ نَاسٌ مِنْ الْمُهَاجِرِينَ مَا بَيْنَ السَّبْعِينَ إِلَى الثَّمَانِينَ فَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَاءٍ فَأُتِيَ بِمِخْضَبٍ مِنْ حِجَارَةٍ فِيهِ مَاءٌ فَوَضَعَ أَصَابِعَ يَدِهِ الْيُمْنَى فِي الْمِخْضَبِ فَجَعَلَ يَصُبُّ عَلَيْهِمْ وَهُمْ يَتَوَضَّئُونَ وَيَقُولُ تَوَضَّئُوا حَيَّ عَلَى الْوُضُوءِ حَتَّى تَوَضَّئُوا جَمِيعًا وَبَقِيَ فِيهِ نَحْوٌ مِمَّا كَانَ فِيهِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی کہ ایک مرتبہ نماز کا وقت آیا تو ہر وہ آدمی جس کا مدینہ منورہ میں گھر تھا وہ اٹھ کر قضاء حاجت اور وضو کے لئے چلا گیا، کچھ مہاجرین رہ گئے جن کا مدینہ میں کوئی گھر نہ تھا، اور وہ ستر اسی کے درمیان تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک کشادہ برتن پانی کا لایا گیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ہتھیلیاں اس میں رکھ دیں لیکن اس برتن میں اتنی گنجائش نہ تھی، لہٰذا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے چار انگلیاں ہی رکھ کر فرمایا قریب آکر اس سے وضو کرو، اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا دست مبارک برتن میں ہی تھا، چنانچہ ان سب نے اس سے وضو کرلیا اور ایک آدمی بھی ایسا نہ رہا جس نے وضو نہ کیا ہو اور پھر بھی اس میں اتنا ہی پانی بچ گیا۔

أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← مُؤَمَّلٌ وَعَفَّانُ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 12825

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 12826

حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ وَعَفَّانُ قَالَا حَدَّثَنَا حَمَّادٌ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ عَنْ أَنَسٍ قَالَ انْطَلَقْتُ بِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ وُلِدَ فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي عَبَاءَةٍ يَهْنَأُ بَعِيرًا لَهُ فَقَالَ لِي أَمَعَكَ تَمْرٌ قُلْتُ نَعَمْ فَتَنَاوَلَ تَمَرَاتٍ فَأَلْقَاهُنَّ فِي فِيهِ فَلَاكَهُنَّ فِي حَنَكِهِ فَفَغَرَ الصَّبِيُّ فَاهُ فَأَوْجَرَهُ فَجَعَلَ الصَّبِيُّ يَتَلَمَّظُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبَتْ الْأَنْصَارُ إِلَّا حُبَّ التَّمْرِ وَسَمَّاهُ عَبْدَ اللَّهِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی کہ جب حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے گھر میں ان کا بیٹا عبداللہ پیدا ہوا تو میں اس بچے کو لے کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، میں نے دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اونٹوں کو قطران مل رہے ہیں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تمہارے پاس کھجور ہے؟ میں نے عرض کیا جی ہاں ! نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کھجور لے کر اسے منہ میں چبا کر نرم کیا اور تھوک جمع کر کے اس کے منہ میں ٹپکا دیا، جسے وہ چاٹنے لگا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کھجور انصار کی محبوب چیز ہے، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا نام عبداللہ رکھ دیا۔

أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← حَمَّادٌ، ← مُؤَمَّلٌ وَعَفَّانُ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 12826

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 12827

حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ أَصْحَابَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالُوا لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّا إِذَا كُنَّا عِنْدَكَ فَحَدَّثْتَنَا رَقَّتْ قُلُوبُنَا فَإِذَا خَرَجْنَا مِنْ عِنْدِكَ عَافَسْنَا النِّسَاءَ وَالصِّبْيَانَ وَفَعَلْنَا وَفَعَلْنَا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ تِلْكَ السَّاعَةَ لَوْ تَدُومُونَ عَلَيْهَا لَصَافَحَتْكُمْ الْمَلَائِكَةُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی کہ ایک مرتبہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے بارگاہ نبوت میں عرض کیا کہ جب ہم آپ کی خدمت میں ہوتے ہیں ، آپ ہم سے احادیث بیان فرماتے ہیں تو ہمارے دلوں پر رقت طاری ہوجاتی ہے اور جب ہم آپ کی مجلس سے نکل جاتے ہیں تو اپنے بیوی بچوں میں مگن ہوجاتے ہیں اور اپنے کاموں میں لگ جاتے ہیں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر ہمیشہ تمہاری یہ کیفیت رہنے لگے تو فرشتے تم سے مصافحہ کرنے لگیں۔

لِلنَّبِيِّ ← أَنَسٍ أَنَّ أَصْحَابَ النَّبِيِّ ← ثَابِتٍ، ← حَمَّادٌ، ← مُؤَمَّلٍ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 12827

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 12828

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابْنَ إِبْرَاهِيمَ ابْنِ عُلَيَّةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ صُهَيْبٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى الصِّبْيَانَ وَالنِّسَاءَ مُقْبِلِينَ قَالَ عَبْدُ الْعَزِيزِ حَسِبْتُ أَنَّهُ قَالَ مِنْ عُرْسٍ فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُمْثِلًا فَقَالَ اللَّهُمَّ أَنْتُمْ مِنْ أَحَبِّ النَّاسِ إِلَيَّ اللَّهُمَّ أَنْتُمْ مِنْ أَحَبِّ النَّاسِ إِلَيَّ اللَّهُمَّ أَنْتُمْ مِنْ أَحَبِّ النَّاسِ إِلَيَّ يَعْنِي الْأَنْصَارَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے انصار کی کچھ عورتیں اور بچے ایک شادی سے آتے ہوئے گذرے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے کھڑے تین مرتبہ فرمایا اللہ کی قسم! تم لوگ میرے نزدیک سب سے زیادہ محبوب ہو۔

أَنَسٍ، ← عَبْدُ الْعَزِيزِ، يَعْنِي ابْنَ صُهَيْبٍ، ← إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابْنَ إِبْرَاهِيمَ ابْنِ عُلَيَّةَ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 12828

chevron_left Previous
1…209210211…264
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    0. Chapter
2. Book
    0. Chapter
3. Book
    0. Chapter
4. Book
    0. Chapter
5. Book
    0. Chapter
6. Book
    0. Chapter
7. Book
    0. Chapter
8. Book
    0. Chapter
9. Book
    0. Chapter