Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Jumada I 7, 1448 AH · Oct 17, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند امام احمد بن حنبل

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble

by Musnad Imam Bin Hanble

28,221 Hadith18 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 12721

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَحَاسَدُوا وَلَا تَقَاطَعُوا وَلَا تَدَابَرُوا وَكُونُوا عِبَادَ اللَّهِ إِخْوَانًا وَلَا يَحِلُّ لِمُسْلِمٍ أَنْ يَهْجُرَ أَخَاهُ فَوْقَ ثَلَاثٍ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا آپس میں قطع تعلقی، بغض، پشت پھیرنا اور حسد نہ کیا کرو اور اللہ کے بندو! بھائی بھائی بن کر رہا کرو، اور کسی مسلمان کے لئے اپنے بھائی سے تین دن سے زیادہ قطع کلامی کرنا حلال نہیں ہے۔

أَنَسٍ، ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 12721

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 12722

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ أَنَّ رَجُلًا مِنْ الْأَعْرَابِ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَتَى السَّاعَةُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَا أَعْدَدْتَ لَهَا فَقَالَ الْأَعْرَابِيُّ مَا أَعْدَدْتُ لَهَا مِنْ كَبِيرٍ أَحْمَدُ عَلَيْهِ نَفْسِي إِلَّا أَنِّي أُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَإِنَّكَ مَعَ مَنْ أَحْبَبْتَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک دیہاتی آیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! قیامت کب قائم ہوگی؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم نے قیامت کے لئے کیا تیاری کر رکھی ہے؟ اس نے کہا کہ میں نے کوئی بہت زیادہ اعمال تو مہیا نہیں کر رکھے، البتہ اتنی بات ضرور ہے کہ میں اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہوں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انسان قیامت کے دن اس شخص کے ساتھ ہوگا جس کے ساتھ وہ محبت کرتا ہے۔

أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَعْرَابِ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ: ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 12722

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 12723

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ أَشْعَثَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ كَانَ شَعَرُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى أَنْصَافِ أُذُنَيْهِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بال نصف کانوں تک ہوتے تھے۔

کَانَ شَعَرُ رَسُولِ اللَّهِ إِلَی أَنْصَافِ أُذُنَيْهِ ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← أَشْعَثَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 12723

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 12724

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ نَظَرَ بَعْضُ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَضُوءًا فَلَمْ يَجِدُوا قَالَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَاهُنَا مَاءٌ قَالَ فَرَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَضَعَ يَدَهُ فِي الْإِنَاءِ الَّذِي فِيهِ الْمَاءُ ثُمَّ قَالَ تَوَضَّئُوا بِسْمِ اللَّهِ فَرَأَيْتُ الْمَاءَ يَفُورُ يَعْنِي بَيْنَ أَصَابِعِهِ وَالْقَوْمُ يَتَوَضَّئُونَ حَتَّى تَوَضَّئُوا عَنْ آخِرِهِمْ قَالَ ثَابِتٌ قُلْتُ لِأَنَسٍ كَمْ تُرَاهُمْ كَانُوا قَالَ نَحْوًا مِنْ سَبْعِينَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ بعض صحابہ رضی اللہ عنہم نے وضو کے لئے پانی تلاش کیا لیکن وہ انہیں مل نہ سکا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا کیا یہاں تھوڑا پانی ہے؟ میں نے دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس برتن میں اپنا ہاتھ ڈالا اور فرمایا اللہ کا نام لے کر وضو کرو، میں نے دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلیوں کے درمیان پانی ابل رہا تھا، لوگ اس سے وضو کرنے لگے حتیٰ کہ سب نے وضو کر لیا،ثابت نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ اس وقت آپ کتنے لوگ تھے؟ انہوں نے بتایا کہ ستر کے قریب۔

أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 12724

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 12725

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ أَوْ عَنِ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَعَدَنِي أَنْ يُدْخِلَ الْجَنَّةَ مِنْ أُمَّتِي أَرْبَعَ مِائَةِ أَلْفٍ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ زِدْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ وَهَكَذَا وَجَمَعَ كَفَّهُ قَالَ زِدْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ وَهَكَذَا فَقَالَ عُمَرُ حَسْبُكَ يَا أَبَا بَكْرٍ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ دَعْنِي يَا عُمَرُ مَا عَلَيْكَ أَنْ يُدْخِلَنَا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ الْجَنَّةَ كُلَّنَا فَقَالَ عُمَرُ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ إِنْ شَاءَ أَدْخَلَ خَلْقَهُ الْجَنَّةَ بِكَفٍّ وَاحِدٍ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَدَقَ عُمَرُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ نے مجھ سے یہ وعدہ فرمایا ہے کہ وہ میری امت کے چار لاکھ آدمیوں کو جنت میں داخل فرمائے گا، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اس تعداد میں اضافہ کیجئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ہتھیلی جمع کر کے فرمایا کہ اتنے افراد مزید ہوں گے، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے پھر عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اس تعداد میں اضافہ کیجئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر اپنی ہتھیلی جمع کر کے فرمایا کہ اتنے افراد مزید ہوں گے، اس پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ ابوبکر ! بس کیجئے، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا عمر! پیچھے ہٹو، اگر اللہ تعالیٰ ہم سب ہی کو جنت میں کلی طور پر داخل فرما دے تو تمہارا اس میں کوئی حرج نہیں ہے، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اگر اللہ چاہے تو ایک ہی ہاتھ میں ساری مخلوق کو جنت میں داخل کر دے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عمر سچ کہتے ہیں ۔

أَنَسٍ، ← النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ، ← أنس أو ← قَتَادَةَ ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 12725

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 12726

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ أَنَّ نَاسًا مِنْ الْأَنْصَارِ قَالُوا يَوْمَ حُنَيْنٍ حِينَ أَفَاءَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ أَمْوَالَ هَوَازِنَ وَطَفِقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْطِي رِجَالًا مِنْ قُرَيْشٍ الْمِائَةَ مِنْ الْإِبِلِ كُلَّ رَجُلٍ فَقَالُوا يَغْفِرُ اللَّهُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْطِي قُرَيْشًا وَيَتْرُكُنَا وَسُيُوفُنَا تَقْطُرُ مِنْ دِمَائِهِمْ قَالَ أَنَسٌ فَحُدِّثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَقَالَتِهِمْ فَأَرْسَلَ إِلَى الْأَنْصَارِ فَجَمَعَهُمْ فِي قُبَّةٍ مِنْ أَدَمٍ وَلَمْ يَدْعُ أَحَدًا غَيْرَهُمْ فَلَمَّا اجْتَمَعُوا جَاءَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَا حَدِيثٌ بَلَغَنِي عَنْكُمْ فَقَالَتْ الْأَنْصَارُ أَمَّا ذَوُو رَأْيِنَا فَلَمْ يَقُولُوا شَيْئًا وَأَمَّا نَاسٌ حَدِيثَةٌ أَسْنَانُهُمْ فَقَالُوا كَذَا وَكَذَا لِلَّذِي قَالُوا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنِّي لَأُعْطِي رِجَالًا حُدَثَاءَ عَهْدٍ بِكُفْرٍ أَتَأَلَّفُهُمْ أَوْ قَالَ أَسْتَأْلِفُهُمْ أَفَلَا تَرْضَوْنَ أَنْ يَذْهَبَ النَّاسُ بِالْأَمْوَالِ وَتَرْجِعُونَ بِرَسُولِ اللَّهِ إِلَى رِحَالِكُمْ فَوَاللَّهِ لَمَا تَنْقَلِبُونَ بِهِ خَيْرٌ مِمَّا يَنْقَلِبُونَ بِهِ قَالُوا أَجَلْ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَدْ رَضِينَا فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّكُمْ سَتَجِدُونَ بَعْدِي أَثَرَةً شَدِيدَةً فَاصْبِرُوا حَتَّى تَلْقَوْا اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَإِنِّي فَرَطُكُمْ عَلَى الْحَوْضِ قَالَ أَنَسٌ فَلَمْ نَصْبِرْ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ غزوہ حنین کے موقع پر اللہ نے جب بنو ہوازن کا مالِ غنیمت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو عطاء فرمایا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم قریش کے ایک ایک یہودی کو سو سو اونٹ دینے لگے تو انصار کے کچھ لوگ کہنے لگے اللہ تعالیٰ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بخشش فرمائے، کہ وہ قریش کو دیئے جا رہے ہیں اور ہمیں نظر انداز کرر ہے ہیں جب کہ ہماری تلواروں سے ابھی تک خون کے قطرے ٹپک رہے ہیں ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات معلوم ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انصاری صحابہ رضی اللہ عنہم کو بلا بھیجا اور انہیں چمڑے سے بنے ہوئے ایک خیمے میں جمع کیا اور ان کے علاوہ کسی اور کو آنے کی اجازت نہ دی، جب وہ سب جمع ہوگئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور فرمایا کہ آپ کے حوالے سے مجھے کیا باتیں معلوم ہو رہی ہیں ؟ انہوں نے بتایا کہ ہمارے صاحب الرائے حضرات نے تو کچھ بھی نہیں کہا، باقی کچھ نوعمر لوگوں نے ایسی ایسی بات کہی ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں ان لوگوں کو مال دیتا ہوں جن کا زمانہ کفر قریب ہی ہے اور اس کے ذریعے میں ان کی تالیف قلب کرتا ہوں ، کیا تم لوگ اس بات پر خوش نہیں ہو کہ لوگ مال و دولت لے کر چلے جائیں اور تم پیغمبر اللہ کو اپنے خیموں میں لے جاؤ، بخدا! جس چیز کو لے کر تم لوٹو گے وہ اس چیز سے بہت بہتر ہے، جو وہ لوگ لے کر واپس جائیں گے، تمام انصاری صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم راضی ہیں ، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عنقریب تم میرے بعد بہت زیادہ ترجیحات دیکھو گے لیکن تم صبر کرنا یہاں تک کہ اللہ اور اس کے رسول سے آملو، کیونکہ میں اپنے حوض پر تمہارا انتظار کروں گا، حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم صبر نہیں کرسکے۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 12726

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 12727

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ قَالَ كُنَّا جُلُوسًا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَطْلُعُ عَلَيْكُمْ الْآنَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَطَلَعَ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ تَنْطِفُ لِحْيَتُهُ مِنْ وُضُوئِهِ قَدْ تَعَلَّقَ نَعْلَيْهِ فِي يَدِهِ الشِّمَالِ فَلَمَّا كَانَ الْغَدُ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَ ذَلِكَ فَطَلَعَ ذَلِكَ الرَّجُلُ مِثْلَ الْمَرَّةِ الْأُولَى فَلَمَّا كَانَ الْيَوْمُ الثَّالِثُ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَ مَقَالَتِهِ أَيْضًا فَطَلَعَ ذَلِكَ الرَّجُلُ عَلَى مِثْلِ حَالِهِ الْأُولَى فَلَمَّا قَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَبِعَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ فَقَالَ إِنِّي لَاحَيْتُ أَبِي فَأَقْسَمْتُ أَنْ لَا أَدْخُلَ عَلَيْهِ ثَلَاثًا فَإِنْ رَأَيْتَ أَنْ تُؤْوِيَنِي إِلَيْكَ حَتَّى تَمْضِيَ فَعَلْتَ قَالَ نَعَمْ قَالَ أَنَسٌ وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ يُحَدِّثُ أَنَّهُ بَاتَ مَعَهُ تِلْكَ اللَّيَالِي الثَّلَاثَ فَلَمْ يَرَهُ يَقُومُ مِنْ اللَّيْلِ شَيْئًا غَيْرَ أَنَّهُ إِذَا تَعَارَّ وَتَقَلَّبَ عَلَى فِرَاشِهِ ذَكَرَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَكَبَّرَ حَتَّى يَقُومَ لِصَلَاةِ الْفَجْرِ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ غَيْرَ أَنِّي لَمْ أَسْمَعْهُ يَقُولُ إِلَّا خَيْرًا فَلَمَّا مَضَتْ الثَّلَاثُ لَيَالٍ وَكِدْتُ أَنْ أَحْتَقِرَ عَمَلَهُ قُلْتُ يَا عَبْدَ اللَّهِ إِنِّي لَمْ يَكُنْ بَيْنِي وَبَيْنَ أَبِي غَضَبٌ وَلَا هَجْرٌ ثَمَّ وَلَكِنْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَكَ ثَلَاثَ مِرَارٍ يَطْلُعُ عَلَيْكُمْ الْآنَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَطَلَعْتَ أَنْتَ الثَّلَاثَ مِرَارٍ فَأَرَدْتُ أَنْ آوِيَ إِلَيْكَ لِأَنْظُرَ مَا عَمَلُكَ فَأَقْتَدِيَ بِهِ فَلَمْ أَرَكَ تَعْمَلُ كَثِيرَ عَمَلٍ فَمَا الَّذِي بَلَغَ بِكَ مَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَا هُوَ إِلَّا مَا رَأَيْتَ قَالَ فَلَمَّا وَلَّيْتُ دَعَانِي فَقَالَ مَا هُوَ إِلَّا مَا رَأَيْتَ غَيْرَ أَنِّي لَا أَجِدُ فِي نَفْسِي لِأَحَدٍ مِنْ الْمُسْلِمِينَ غِشًّا وَلَا أَحْسُدُ أَحَدًا عَلَى خَيْرٍ أَعْطَاهُ اللَّهُ إِيَّاهُ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ هَذِهِ الَّتِي بَلَغَتْ بِكَ وَهِيَ الَّتِي لَا نُطِيقُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ابھی تھوڑی دیر کے بعد تمہارے پاس ایک جنتی آئے گا، دیکھا تو ایک انصاری صحابی چلے آ رہے ہیں جن کی ڈاڑھی سے وضو کے پانی کے قطرات ٹپک رہے ہیں ، انہوں نے اپنے بائیں ہاتھ میں اپنی جوتی اٹھا رکھی ہے، دوسرے دن بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی اعلان کیا اور وہی صحابی آئے، تیسرے دن اعلان کیا تب بھی وہی صحابی رضی اللہ عنہ آئے، تیسرے دن جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم چلے گئے تو حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہم ان صحابی کے پیچھے چلے گئے اور ان سے کہنے لگے کہ میں نے اپنے والد صاحب کو قسمیں دے کر اور بہت اصرار کے بعد اس بات پر آمادہ کیا ہے کہ میں تین دن تک گھر نہیں جاؤں گا، اگر آپ مجھے اپنے یہاں ٹھہرا سکتے ہیں تو آپ جو عمل کریں گے میں بھی وہی عمل کروں گا، انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کو اجازت دے دی۔ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ بتاتے ہیں کہ وہ ان تین راتوں میں ان کے ساتھ رہے لیکن کسی رات انہیں قیام کرتے ہوئے نہیں دیکھا، البتہ اتنا ضرور ہوتا تھا کہ جب وہ سو کر بیدار ہوتے اور بستر سے اٹھتے تو اللہ کا ذکر کرتے ہوئے نماز فجر کے لئے اٹھ جاتے، نیز میں نے انہیں ہمیشہ خیر ہی کی بات کرتے ہوئے دیکھا، جب تین راتیں گذر گئیں اور میں اپنی ساری محنت کو حقیر سمجھنے لگا، تو میں نے ان سے کہا کہ بندہ خدا! میرے اور والد صاحب کے درمیان کوئی ناراضگی یا قطع تعلقی نہیں ہے (جس کی وجہ سے میں یہاں رہ پڑا ہوں ) لیکن میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو تین مرتبہ یہ فرماتے ہوئے سنا کہ ابھی تمہارے پاس ایک جنتی آدمی آئے گا اور تینوں مرتبہ آپ ہی آئے تو مجھے یہ خواہش پیدا ہوئی کہ میں آپ کے پاس کچھ وقت گذار کر آپ کے اعمال دیکھوں اور خود بھی اس کی اقتداء کروں ، لیکن میں نے آپ کو اس دوران کوئی بہت زیادہ عمل کرتے ہوئے نہیں دیکھا، پھر آپ اس مقام تک کیسے پہنچ گئے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کے متعلق اتنی بڑی بات فرمائی؟ انہوں نے جواب دیا کہ عمل تو وہی ہے جو آپ نے دیکھا، پھر جب میں پلٹ کر واپس جانے لگا تو انہوں نے مجھے آواز دے کر بلایا تو کہنے لگے کہ عمل تو وہی ہیں جو آپ نے دیکھے، البتہ میں اپنے دل میں کسی مسلمان کے متعلق کوئی کینہ نہیں رکھتا اور کسی مسلمان کو ملنے والی نعمتوں اور خیر پر اس سے حسد نہیں کرتا، حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا یہی وہ چیز ہے جس نے آپ کو اس درجے تک پہنچایا اور جس کی ہم میں طاقت نہیں ہے۔

كنا جلوساً مع رسول الله ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 12727

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 12728

حَدَّثَنَا مَحْبُوبُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ هِلَالِ بْنِ أَبِي زَيْنَبَ عَنْ خَالِدٍ يَعْنِي الْحَذَّاءَ عَنْ مُحَمَّدٍ يَعْنِي ابْنَ سِيرِينَ قَالَ سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ هَلْ قَنَتَ عُمَرُ قَالَ نَعَمْ وَمَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنْ عُمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ الرُّكُوعِ

امام ابن سیرین رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کیا حضرت عمر رضی اللہ عنہ قنوتِ نازلہ پڑھتے تھے؟ انہوں نے فرمایا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے بہتر ذات یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی قنوت نازلہ رکوع کے بعد پڑھتے تھے۔

نَعَمْ وَمَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنْ عُمَرَ رَسُولُ اللَّهِ بَعْدَ الرُّكُوعِ ← سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ هَلْ قَنَتَ عُمَرُ ← مُحَمَّدٍ يَعْنِي ابْنَ سِيرِينَ ← خَالِدٍ يَعْنِي الْحَذَّاءَ ← مَحْبُوبُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ هِلَالِ بْنِ أَبِي زَيْنَبَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 12728

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 12729

حَدَّثَنَا غَسَّانُ بْنُ مُضَرَ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ يَعْنِي ابْنَ يَزِيدَ أَبُو مَسْلَمَةَ قَالَ سَأَلْتُ أَنَسًا أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فِي النَّعْلَيْنِ قَالَ نَعَمْ

ابو مسلمہ رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے جوتوں میں نماز پڑھ لیتے تھے؟ انہوں نے فرمایا جی ہاں !

نَعَمْ ← سَأَلْتُ أَنَسًا أَكَانَ رَسُولُ اللهِ يُصَلِّي فِي النَّعْلَيْنِ ← سَعِيدٌ يَعْنِي ابْنَ يَزِيدَ أَبُو مَسْلَمَةَ ← غَسَّانُ بْنُ مُضَرَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 12729

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 12730

حَدَّثَنَا غَسَّانُ بْنُ مُضَرَ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ يَعْنِي ابْنَ يَزِيدَ أَبُو مَسْلَمَةَ قَالَ سَأَلْتُ أَنَسًا أَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ أَوْ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ فَقَالَ إِنَّكَ لَتَسْأَلُنِي عَنْ شَيْءٍ مَا أَحْفَظُهُ أَوْ مَا سَأَلَنِي أَحَدٌ قَبْلَكَ

ابومسلمہ رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم قرأت کا آغاز بسم اللہ سے کرتے تھے یا الحمدللہ سے؟ انہوں نے فرمایا کہ تم نے مجھ سے ایسا سوال پوچھا ہے جس کے متعلق مجھے ابھی کچھ یاد نہیں ہے۔

سَعِيدٌ يَعْنِي ابْنَ يَزِيدَ أَبُو مَسْلَمَةَ ← غَسَّانُ بْنُ مُضَرَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 12730

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 12731

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ الْعَمِّيُّ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَطُوفُ عَلَى نِسَائِهِ فِي لَيْلَةٍ وَاحِدَةٍ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کبھی کبھار اپنی تمام ازواج مطہرات کے پاس ایک ہی رات میں ایک ہی غسل سے چلے جایا کرتے تھے۔

أَنَسٍ، ← قَتَادَةَ ← سَعِيدٌ، ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ الْعَمِّيُّ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 12731

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 12732

حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ عَنْ أَبِيهِ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسًا يَقُولُ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنْ النَّارِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص میری طرف سے جان بوجھ کر کسی جھوٹی بات کی نسبت کرے، اسے اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنالینا چاہئے ۔

أَنَسًا ← أَبِيهِ ← مُعْتَمِرٌ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 12732

chevron_left Previous
1…201202203…264
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    0. Chapter
2. Book
    0. Chapter
3. Book
    0. Chapter
4. Book
    0. Chapter
5. Book
    0. Chapter
6. Book
    0. Chapter
7. Book
    0. Chapter
8. Book
    0. Chapter
9. Book
    0. Chapter