Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Jumada I 7, 1448 AH · Oct 17, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند امام احمد بن حنبل

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble

by Musnad Imam Bin Hanble

28,221 Hadith18 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 12625

حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنَا زَائِدَةُ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَعْمَرٍ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسًا يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ فَضْلَ عَائِشَةَ عَلَى النِّسَاءِ كَفَضْلِ الثَّرِيدِ عَلَى سَائِرِ الطَّعَامِ

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو دیگر عورتوں پر ایسی فضیلت ہے جیسے ثرید کو دوسرے کھانوں پر ۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے لوٹ مار کرنے سے منع کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ جو شخص لوٹ مار کرتا ہے وہ ہم میں سے نہیں ہے۔

أَنَسًا ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَعْمَرٍ، ← زَائِدَۃَ، ← مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 12625

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 12626

حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ عَنِ الرَّبِيعِ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُنْبَذَ التَّمْرُ وَالزَّبِيبُ جَمِيعًا وَالتَّمْرُ وَالْبُسْرُ جَمِيعًا

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کھجور اور کشمش یا کچی اور پکی کھجور کو اکٹھا کر کے (نبیذ بنانے سے) منع فرمایا ہے۔

نَهَى رَسُولُ اللهِ أَنْ يُنْبَذَ التَّمْرُ وَالزَّبِيبُ جَمِيعًا وَالتَّمْرُ وَالْبُسْرُ جَمِيعًا. ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← الرَّبِيعِ، ← أبو جعفر ← خَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 12626

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 12627

حَدَّثَنَا هَيْثَمُ بْنُ خَارِجَةَ حَدَّثَنَا رِشْدِينُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْوَلِيدِ عَنْ أَبِي حَفْصٍ حَدَّثَهُ أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ مَثَلَ الْعُلَمَاءِ فِي الْأَرْضِ كَمَثَلِ النُّجُومِ فِي السَّمَاءِ يُهْتَدَى بِهَا فِي ظُلُمَاتِ الْبَرِّ وَالْبَحْرِ فَإِذَا انْطَمَسَتْ النُّجُومُ أَوْشَكَ أَنْ تَضِلَّ الْهُدَاةُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا زمین میں علماء کی مثال ایسی ہے جیسے آسمان میں ستارے کہ جن کے ذریعے بر و بحر کی تاریکیوں میں راستہ کی رہنمائی حاصل کی جاتی ہے، اگر ستارے بے نور ہوجائیں تو راستے پر چلنے والے بھٹک جائیں ۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← أَنَّهُ ← أَبِي حَفْصٍ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْوَلِيدِ، ← رشدين بن سعد ← هَيْثَمُ بْنُ خَارِجَةَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 12627

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 12628

حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ كَانَ شَعَرُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يُجَاوِزُ أُذُنَيْهِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بال کانوں سے آگے نہ بڑھتے تھے۔

كَانَ شَعَرُ رَسُولِ اللَّهِ لَا يُجَاوِزُ أُذُنَيْهِ ← أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← حَمَّادٌ، ← عَبْدُ الصَّمَدِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 12628

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 12629

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ عَنْ حُمَيْدٍ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسًا يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَدْوَةٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَوْ رَوْحَةٌ خَيْرٌ مِنْ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ کے راستے میں ایک صبح یا شام کو جہاد کے لئے نکلنا دنیا و مافیہا سے بہتر ہے۔

أَنَسًا ← حُمَيْدٍ ← يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ← يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 12629

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 12630

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَقَابُ قَوْسِ أَحَدِكُمْ خَيْرٌ مِنْ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا وَلَوْ أَنَّ امْرَأَةً مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ اطَّلَعَتْ إِلَى الدُّنْيَا لَمَلَأَتْ مَا بَيْنَهُمَا رِيحَ الْمِسْكِ وَلَطُيِّبَ مَا بَيْنَهُمَا وَلَنَصِيفُهَا عَلَى رَأْسِهَا خَيْرٌ مِنْ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ کے راستے میں ایک صبح یا شام جہاد کرنا، دنیا و مافیھا سے بہتر ہے، اور تم میں سے کسی کے کمان یا کوڑا رکھنے کی جنت میں جو جگہ ہوگی وہ دنیا و مافیہا سے بہتر ہے، اور اگر کوئی جنتی عورت زمین کی طرف جھانک کر دیکھ لے تو ان دونوں کے درمیانی جگہ خوشبو سے بھر جائے، اور مہک پھیل جائے اور اس کے سر کا دوپٹہ دنیا و مافیہا سے بہتر ہے۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← حُمَيْدٍ ← يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ← يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 12630

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 12631

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا مَهْدِيٌّ قَالَ حَدَّثَنَا غَيْلَانُ بْنُ جَرِيرٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ إِنَّكُمْ لَتَعْمَلُونَ أَعْمَالًا هِيَ أَدَقُّ فِي أَعْيُنِكُمْ مِنْ الشَّعْرِ إِنْ كُنَّا لَنَعُدُّهَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ الْمُوبِقَاتِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ تم لوگ ایسے اعمال کرتے ہو جن کی تمہاری نظروں میں پر سے بھی کم حیثیت ہوتی ہے، لیکن ہم انہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دورِ باسعادت میں مہلک چیزوں میں شمار کرتے تھے۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← غَيْلَانَ بْنِ جَرِيرٍ، ← مَهْدِيٌّ، ← يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 12631

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 12632

حَدَّثَنَا عَارِمٌ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَصَمِّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ بِجُبَّةِ سُنْدُسٍ فَقَالَ عُمَرُ أَتَبْعَثُ بِهَا إِلَيَّ وَقَدْ قُلْتَ فِيهَا مَا قُلْتَ قَالَ إِنِّي لَمْ أَبْعَثْ بِهَا إِلَيْكَ لِتَلْبَسَهَا إِنَّمَا بَعَثْتُ بِهَا إِلَيْكَ لِتَبِيعَهَا وَتَنْتَفِعَ بِثَمَنِهَا

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس ایک ریشمی جبہ بھیجا، حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے ملاقات ہوئی تو وہ کہنے لگے کہ آپ نے مجھے ریشمی جبہ بھجوایا ہے حالانکہ اس کے متعلق آپ نے جو فرمایا ہے وہ فرمایا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے وہ تمہارے پاس پہننے کے لئے نہیں بھیجا، میں نے تو صرف اس لئے بھیجا تھا کہ تم اسے بیچ دو یا اس سے کسی اور طرح نفع حاصل کرلو۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ الأَصَمِّ ← أَبُو عَوَانَةَ، ← عَارِمٌ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 12632

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 12633

حَدَّثَنَا عَارِمٌ حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ قَالَ سَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ أَنَّهُ ذُكِرَ لَهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِمُعَاذٍ مَنْ لَقِيَ اللَّهَ لَا يُشْرِكُ بِهِ دَخَلَ الْجَنَّةَ قَالَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ أَفَلَا أُبَشِّرُ النَّاسَ قَالَ لَا إِنِّي أَخَافُ أَنْ يَتَّكِلُوا عَلَيْهَا أَوْ كَمَا قَالَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے فرمایا جو شخص اللہ سے اس حال میں ملاقات کرے کہ وہ اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو تو وہ جنت میں داخل ہوگا، انہوں نے عرض کیا اے اللہ کے نبی! کیا میں لوگوں کو یہ خوشخبری نہ سنادوں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں ، مجھے اندیشہ ہے کہ وہ اسی پر بھروسہ کر کے بیٹھ جائیں گے۔

لَهُ: ← أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّهُ ← أَبِي ← مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← عَارِمٌ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 12633

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 12634

حَدَّثَنَا عَارِمٌ حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ قَالَ سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ أَنَّ أَنَسًا قَالَ قِيلَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْ أَتَيْتَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أُبَيٍّ فَانْطَلَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَكِبَ حِمَارًا وَانْطَلَقَ الْمُسْلِمُونَ يَمْشُونَ وَهِيَ أَرْضٌ سَبِخَةٌ فَلَمَّا انْطَلَقَ إِلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِلَيْكَ عَنِّي فَوَاللَّهِ لَقَدْ آذَانِي رِيحُ حِمَارِكَ فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ وَاللَّهِ لَحِمَارُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَطْيَبُ رِيحًا مِنْكَ قَالَ فَغَضِبَ لِعَبْدِ اللَّهِ رَجُلٌ مِنْ قَوْمِهِ قَالَ فَغَضِبَ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا أَصْحَابُهُ قَالَ وَكَانَ بَيْنَهُمْ ضَرْبٌ بِالْجَرِيدِ وَبِالْأَيْدِي وَالنِّعَالِ فَبَلَغَنَا أَنَّهَا نَزَلَتْ فِيهِمْ وَإِنْ طَائِفَتَانِ مِنْ الْمُؤْمِنِينَ اقْتَتَلُوا فَأَصْلِحُوا بَيْنَهُمَا

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کسی شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو (رئیس المنافقین) عبداللہ بن ابی کے پاس جانے کا مشورہ دیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گدھے پر سوار ہو کر چلے گئے، مسلمان بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پیدل روانہ ہوگئے، زمین کچی تھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس پہنچے تو وہ کہنے لگا کہ آپ مجھ سے دور ہی رہیں ، آپ کے گدھے کی بدبو سے مجھے تکلیف ہو رہی ہے، اس پر ایک انصاری نے کہا کہ بخدا! نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا گدھا تجھ سے زیادہ خوشبودار ہے، ادھر عبداللہ بن ابی کی قوم کا ایک آدمی اس کی طرف سے غضب ناک ہوگیا، پھر دونوں کے ساتھیوں میں غم و غصہ کی لہر دوڑ گئی، اور شاخوں ، ہاتھوں اور جوتوں سے لڑائی کی نوبت آگئی، ہمیں معلوم ہوا ہے کہ یہ آیت انہی کے بارے میں نازل ہوئی کہ" اگر مسلمانوں کے دو گروہ آپس میں لڑ پڑیں تو آپ ان کے درمیان صلح کرا دیں ۔ "

رَكِبَ حِمَارًا وَانْطَلَقَ الْمُسْلِمُونَ يَمْشُونَ وَهِيَ أَرْضٌ سَبِخَةٌ فَلَمَّا انْطَلَقَ إِلَيْهِ النَّبِيُّ ← قِيلَ لِلنَّبِيِّ لَوْ أَتَيْتَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أُبَيٍّ فَانْطَلَقَ رَسُولُ اللَّهِ ← أَنَّ أَنَسًا ← أَبِي ← مُعْتَمِرٌ ← عَارِمٌ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 12634

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 12635

حَدَّثَنَا عَارِمٌ حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيُّ قَالَ سَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ حَدَّثَنَا السُّمَيْطُ السَّدُوسِيُّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ فَتَحْنَا مَكَّةَ ثُمَّ إِنَّا غَزَوْنَا حُنَيْنًا فَجَاءَ الْمُشْرِكُونَ بِأَحْسَنِ صُفُوفٍ رَأَيْتُ أَوْ رَأَيْتَ فَصُفَّ الْخَيْلُ ثُمَّ صُفَّتْ الْمُقَاتِلَةُ ثُمَّ صُفَّتْ النِّسَاءُ مِنْ وَرَاءِ ذَلِكَ ثُمَّ صُفَّتْ الْغَنَمُ ثُمَّ صُفَّتْ النَّعَمُ قَالَ وَنَحْنُ بَشَرٌ كَثِيرٌ قَدْ بَلَغْنَا سِتَّةَ آلَافٍ وَعَلَى مُجَنِّبَةِ خَيْلِنَا خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ قَالَ فَجَعَلَتْ خُيُولُنَا تَلُوذُ خَلْفَ ظُهُورِنَا قَالَ فَلَمْ نَلْبَثْ أَنْ انْكَشَفَتْ خُيُولُنَا وَفَرَّتْ الْأَعْرَابُ وَمَنْ نَعْلَمُ مِنْ النَّاسِ قَالَ فَنَادَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا لَلْمُهَاجِرِينَ يَا لَلْمُهَاجِرِينَ ثُمَّ قَالَ يَا لَلْأَنْصَارِ يَا لَلْأَنْصَارِ قَالَ أَنَسٌ هَذَا حَدِيثُ عِمِّيَّةٍ قَالَ قُلْنَا لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ فَتَقَدَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَيْمُ اللَّهِ مَا أَتَيْنَاهُمْ حَتَّى هَزَمَهُمْ اللَّهُ قَالَ فَقَبَضْنَا ذَلِكَ الْمَالَ ثُمَّ انْطَلَقْنَا إِلَى الطَّائِفِ فَحَاصَرْنَاهُمْ أَرْبَعِينَ لَيْلَةً ثُمَّ رَجَعْنَا إِلَى مَكَّةَ قَالَ فَنَزَلْنَا فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْطِي الرَّجُلَ الْمِائَةَ وَيُعْطِي الرَّجُلَ الْمِائَةَ قَالَ فَتَحَدَّثَ الْأَنْصَارُ بَيْنَهَا أَمَّا مَنْ قَاتَلَهُ فَيُعْطِيهِ وَأَمَّا مَنْ لَمْ يُقَاتِلْهُ فَلَا يُعْطِيهِ قَالَ فَرُفِعَ الْحَدِيثُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ أَمَرَ بِسَرَاةِ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ أَنْ يَدْخُلُوا عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ لَا يَدْخُلْ عَلَيَّ إِلَّا أَنْصَارِيٌّ أَوْ الْأَنْصَارُ قَالَ فَدَخَلْنَا الْقُبَّةَ حَتَّى مَلَأْنَا الْقُبَّةَ قَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ أَوْ كَمَا قَالَ مَا حَدِيثٌ أَتَانِي قَالُوا مَا أَتَاكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ مَا حَدِيثٌ أَتَانِي قَالُوا مَا أَتَاكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ أَلَا تَرْضَوْنَ أَنْ يَذْهَبَ النَّاسُ بِالْأَمْوَالِ وَتَذْهَبُونَ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى تَدْخُلُوا بُيُوتَكُمْ قَالُوا رَضِينَا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْ أَخَذَ النَّاسُ شِعْبًا وَأَخَذَتْ الْأَنْصَارُ شِعْبًا لَأَخَذْتُ شِعْبَ الْأَنْصَارِ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ رَضِينَا قَالَ فَارْضَوْا أَوْ كَمَا قَالَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم نے مکہ فتح کر لیا پھر ہم نے حنین کا جہاد کیا، مشرکین اچھی صف بندی کر کے آئے جو میں نے دیکھیں ، پہلے گھڑ سواروں نے صف باندھی پھر پیدل لڑنے والوں نے اس کے پیچھے عورتوں نے صف بندی کی پھر بکریوں کی صف باندھی گئی۔ پھر اونٹوں کی صف بندی کی گئی اور ہم بہت لوگ تھے اور ہماری تعداد چھ ہزار کو پہنچ چکی تھی اور ایک جانب کے سواروں پر حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ سالار تھے۔ پس ہمارے سوار ہماری پشتوں کے پیچھے پناہ گزیں ہونا شروع ہوئے اور زیادہ دیر نہ گزری تھی کہ ہمارے گھوڑے ننگے ہوئے اور دیہاتی بھاگے اور وہ لوگ جن کو ہم جانتے ہیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پکارا اے مہاجرین! اے مہاجرین! پھر فرمایا اے انصار، اے انصار! حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ یہ حدیث میرے چچاؤں کی ہے۔ ہم نے کہا لبیک اے اللہ کے رسول پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم آگے بڑھے، پس اللہ کی قسم ہم پہنچنے بھی نہ پائے تھے کہ اللہ نے ان کو شکست دے دی۔ پھر ہم نے وہ مال قبضہ میں لے لیا پھر ہم طائف کی طرف چلے تو ہم نے اس کا چالیس روز محاصرہ کیا پھر ہم مکہ کی طرف لوٹے اور اترے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ایک کو سو سو اونٹ دینے شروع کر دیئے ، یہ دیکھ کر انصار آپس میں باتیں کرنے لگے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم انہی لوگوں کو عطاء فرما رہے ہیں جنہوں نے آپ سے قتال کیا تھا اور جنہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے قتال نہیں کیا انہیں کچھ نہیں دے رہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو ایک خیمہ میں جمع کر کے فرمایا: اے انصار کی جماعت مجھے تم سے کیا بات پہنچی ہے، وہ کہنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ کو کیا بات معلوم ہوئی ہے؟ دو مرتبہ یہی بات ہوئی، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے جماعت انصار کیا تم خوش نہیں ہو کہ لوگ تو دنیا لے جائیں اور تم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو گھیرے ہوئے اپنے گھروں کو جاؤ، انہوں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ہم خوش ہیں ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر لوگ ایک وادی میں چلیں اور انصار ایک گھاٹی میں چلیں تو میں انصار کی گھاٹی کو اختیار کروں گا وہ کہنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم راضی ہیں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا خوش رہو۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← السُمَيْط السدوسي ← أَبِي ← مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيُّ، ← عَارِمٌ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 12635

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 12636

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ حَدَّثَنَا فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ عَنْ هِلَالٍ يَعْنِي ابْنَ عَلِيٍّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ لَمْ يَكُنْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبَّابًا وَلَا فَحَّاشًا وَلَا لَعَّانًا كَانَ يَقُولُ لِأَحَدِنَا عِنْدَ الْمُعَاتَبَةِ مَا لَهُ تَرِبَتْ جَبِينُهُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم گالیاں دینے والے، لعنت ملامت کرنے والے یا بے ہودہ باتیں کرنے والے نہ تھے، عتاب کے وقت بھی صرف ات نافرماتے تھے کہ اسے کیا ہوگیا، اس کی پیشانی خاک آلود ہو۔

لِأَحَدِنَا عِنْدَ الْمُعَاتَبَةِ مَا لَهُ تَرِبَتْ جَبِينُهُ ← لم يكن رسول الله سبابا ولا فحاشا ولا لعانا كان ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← هلال، يعني ابن علي، ← فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ← مُوسَى بْنُ دَاوُدَ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 12636

chevron_left Previous
1…193194195…264
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    0. Chapter
2. Book
    0. Chapter
3. Book
    0. Chapter
4. Book
    0. Chapter
5. Book
    0. Chapter
6. Book
    0. Chapter
7. Book
    0. Chapter
8. Book
    0. Chapter
9. Book
    0. Chapter