Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Sunday, Jumada I 8, 1448 AH · Oct 18, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند امام احمد بن حنبل

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble

by Musnad Imam Bin Hanble

28,221 Hadith18 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 12505

حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ وَعُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْ يَبِيعَ الرَّجُلُ فَحْلَةَ فَرَسِهِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انسان کو اپنا نر گھوڑا بیچنے سے منع فرمایا ہے۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← ابْنِ شِهَابٍ، ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ وَعُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ، ← ابْنُ لَهِيعَةَ ← حَسَنٌ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 12505

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 12506

حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الْأَشَجِّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سُلَيْمٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّلَاةَ بِمِنًى رَكْعَتَيْنِ وَصَلَّاهَا أَبُو بَكْرٍ بِمِنًى رَكْعَتَيْنِ وَصَلَّاهَا عُمَرُ بِمِنًى رَكْعَتَيْنِ وَصَلَّاهَا عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ بِمِنًى رَكْعَتَيْنِ أَرْبَعَ سِنِينَ ثُمَّ أَتَمَّهَا بَعْدُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے میدان منیٰ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ دو رکعتیں پڑھی ہیں ، حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ بھی اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے ابتدائی دور خلافت میں بھی دو رکعتیں پڑھی ہیں ۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← محمد بن عبد الله بن أبي سليم ← بُكَيْرِ بْنِ الْأَشَجِ، ← ابْنُ لَهِيعَةَ ← حَسَنٌ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 12506

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 12507

حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ يَزِيدَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ بَنِي إِسْرَائِيلَ تَفَرَّقَتْ عَلَى إِحْدَى وَسَبْعِينَ فِرْقَةً فَهَلَكَتْ سَبْعُونَ فِرْقَةً وَخَلَصَتْ فِرْقَةٌ وَاحِدَةٌ وَإِنَّ أُمَّتِي سَتَفْتَرِقُ عَلَى اثْنَتَيْنِ وَسَبْعِينَ فِرْقَةً فَتَهْلِكُ إِحْدَى وَسَبْعِينَ وَتَخْلُصُ فِرْقَةٌ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ مَنْ تِلْكَ الْفِرْقَةُ قَالَ الْجَمَاعَةُ الْجَمَاعَةُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ بنی اسرائیل اکہتر فرقوں میں تقسیم ہوگئے تھے جن میں سے ستر فرقے ہلاک ہوگئے تھے اور صرف ایک بچا تھا جب کہ میری امت بہتر فرقوں میں تقسیم ہوجائے گی جن میں اکہتر فرقے ہلاک ہو جائیں گے اور صرف ایک فرقہ بچے گا، صحابہ رضی اللہ عنہم نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! وہ ایک فرقہ کون سا ہوگا؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو جماعت کے ساتھ چمٹا ہوا ہوگا۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ ← خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ ← ابْنُ لَهِيعَةَ ← حَسَنٌ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 12507

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 12508

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّهُ قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَرْفَعُوا أَصْوَاتَكُمْ إِلَى آخِرِ الْآيَةِ جَلَسَ ثَابِتُ بْنُ قَيْسٍ فِي بَيْتِهِ فَقَالَ أَنَا مِنْ أَهْلِ النَّارِ وَاحْتَبَسَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَعْدَ بْنَ مُعَاذٍ فَقَالَ يَا أَبَا عَمْرٍو مَا شَأْنُ ثَابِتٍ اشْتَكَى فَقَالَ سَعْدٌ إِنَّهُ لَجَارِي وَمَا عَلِمْتُ لَهُ شَكْوَى قَالَ فَأَتَاهُ سَعْدٌ فَذَكَرَ لَهُ قَوْلَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ ثَابِتٌ أُنْزِلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ وَلَقَدْ عَلِمْتُمْ أَنِّي مِنْ أَرْفَعِكُمْ صَوْتًا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَنَا مِنْ أَهْلِ النَّارِ فَذَكَرَ ذَلِكَ سَعْدٌ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَلْ هُوَ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی کہ " اے ایمان والو! نبی کی آواز پر اپنی آواز کو اونچا نہ کیا کرو، تو حضرت ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ " جن کی آواز قدرتی طور پر اونچی تھی " کہنے لگے کہ میری ہی آواز نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز سے اونچی ہوتی ہے، اس لئے میرے سارے اعمال ضائع ہوگئے اور میں جہنمی بن گیا، اور یہ سوچ کر اپنے گھر ہی میں غمگین ہو کر بیٹھ رہے، ایک دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی غیر حاضری کے متعلق دریافت کیا تو کچھ لوگ ان کے پاس آئے اور کہنے لگے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تمہاری غیر حاضری کے متعلق پوچھ رہے تھے، کیا بات ہے؟ وہ کہنے لگے کہ میں ہی تو وہ ہوں جس کی آواز نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز سے اونچی ہوتی ہے اور میں بات کرتے ہوئے اونچا بولتا ہوں ، اس لئے میرے سارے اعمال ضائع ہوگئے اور میں جہنمی ہوگیا، لوگوں نے یہی بات نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے آکر ذکر کر دی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں بلکہ وہ تو جنتی ہے۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← الْحَسَنِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 12508

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 12509

حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ أَهْلَ الْيَمَنِ قَدِمُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا ابْعَثْ مَعَنَا رَجُلًا يُعَلِّمُنَا فَأَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ الْجَرَّاحِ فَأَرْسَلَهُ مَعَهُمْ فَقَالَ هَذَا أَمِينُ هَذِهِ الْأُمَّةِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب اہل یمن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی کہ ان کے ساتھ ایک آدمی بھیج دیں ، جو انہیں دین کی تعلیم دے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ساتھ حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کو بھیج دیا اور فرمایا یہ اس امت کے امین ہیں ۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← حَسَنٌ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 12509

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 12510

حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَجُلًا قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ لِفُلَانٍ نَخْلَةً وَأَنَا أُقِيمُ حَائِطِي بِهَا فَأْمُرْهُ أَنْ يُعْطِيَنِي حَتَّى أُقِيمَ حَائِطِي بِهَا فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْطِهَا إِيَّاهُ بِنَخْلَةٍ فِي الْجَنَّةِ فَأَبَى فَأَتَاهُ أَبُو الدَّحْدَاحِ فَقَالَ بِعْنِي نَخْلَتَكَ بِحَائِطِي فَفَعَلَ فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي قَدْ ابْتَعْتُ النَّخْلَةَ بِحَائِطِي قَالَ فَاجْعَلْهَا لَهُ فَقَدْ أَعْطَيْتُكَهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمْ مِنْ عَذْقٍ رَاحَ لِأَبِي الدَّحْدَاحِ فِي الْجَنَّةِ قَالَهَا مِرَارًا قَالَ فَأَتَى امْرَأَتَهُ فَقَالَ يَا أُمَّ الدَّحْدَاحِ اخْرُجِي مِنْ الْحَائِطِ فَإِنِّي قَدْ بِعْتُهُ بِنَخْلَةٍ فِي الْجَنَّةِ فَقَالَتْ رَبِحَ الْبَيْعُ أَوْ كَلِمَةً تُشْبِهُهَا

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! فلاں آدمی کا ایک باغ ہے، میں وہاں اپنی دیوار قائم کرنا چاہتا ہوں ، آپ اسے حکم دیجئے کہ وہ مجھے یہ جگہ دے دے تاکہ میں اپنی دیوار کھڑی کر لوں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے متعلقہ آدمی سے کہہ دیا کہ جنت میں ایک درخت کے بدلے تم اسے یہ جگہ دے دو، لیکن اس نے انکار کر دیا، حضرت ابوالدحداح رضی اللہ عنہ کو پتہ چلا تو وہ اس کے پاس گئے اور کہنے لگے کہ اپنا باغ میرے باغ کے عوض فروخت کر دو، اس نے بیچ دیا، وہ اسے خریدنے کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہنے لگے کہ میں نے وہ باغ اپنے باغ کے بدلے خرید لیا ہے، آپ یہ اس شخص کو دے دیجئے، کہ میں نے یہ باغ آپ کو دے دیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سن کر کئی مرتبہ فرمایا کہ ابوالدحداح کے لئے جنت میں کتنے بہترین گھچے ہیں ، اس کے بعد وہ اپنی بیوی کے پاس پہنچے اور اس سے فرمایا کہ اے ام دحداح! اس باغ سے نکل چلو کہ میں نے اسے جنت کے باغ کے عوض فروخت کر دیا ہے، ان کی بیوی نے کہا کہ کامیاب تجارت کی۔

أَنَسٍ، أَنَّ رَجُلًا ← ثَابِتٍ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← حَسَنٌ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 12510

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 12511

حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ لَمَّا أَرَادَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَحْلِقَ الْحَجَّامُ رَأْسَهُ أَخَذَ أَبُو طَلْحَةَ شَعَرَ أَحَدِ شِقَّيْ رَأْسِهِ بِيَدِهِ فَأَخَذَ شَعَرَهُ فَجَاءَ بِهِ إِلَى أُمِّ سُلَيْمٍ قَالَ فَكَانَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ تَدُوفُهُ فِي طِيبِهَا

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے (حجۃ الوداع کے موقع پر) جب حلاق سے سر منڈوانے کا ارادہ کیا تو حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے سر کے ایک حصے کے بال اپنے ہاتھوں میں لے لئے ، پھر وہ بال ام سلیم اپنے ساتھ لے گئیں اور وہ انہیں اپنی خوشبو میں ڈال کر ہلا لیا کرتی تھیں ۔

لما أراد رسول الله ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← حَسَنٌ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 12511

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 12512

حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ سَوَادَةَ عَنْ وَفَاءٍ الْخَوْلَانِيِّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ بَيْنَمَا نَحْنُ نَقْرَأُ فِينَا الْعَرَبِيُّ وَالْعَجَمِيُّ وَالْأَسْوَدُ وَالْأَبْيَضُ إِذْ خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَنْتُمْ فِي خَيْرٍ تَقْرَءُونَ كِتَابَ اللَّهِ وَفِيكُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَسَيَأْتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ يَثْقَفُونَهُ كَمَا يَثْقَفُونَ الْقَدَحَ يَتَعَجَّلُونَ أُجُورَهُمْ وَلَا يَتَأَجَّلُونَهَا

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ قرآن کریم کی تلاوت کر رہے تھے، ہم میں عربی، عجمی اور کالے گورے، ہر طرح کے لوگ موجود تھے، اسی دوران نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے اور فرمانے لگے کہ تم بھلائی پر ہو (اور بہترین زمانے میں ہو) کہ تم کتاب اللہ کی تلاوت کر رہے ہو اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمہارے درمیان موجود ہیں ، عنقریب لوگوں پر ایک زمانہ ایسا بھی آئے گا جس میں لوگ ایسے کھڑ کھڑائیں گے جیسے برتن کھڑ کھڑاتے ہیں ، وہ اپنا اجر فوری وصول کر لیں گے، آگے کے لئے کچھ نہ رکھیں گے۔

الْعَجَمِيُّ وَالْأَسْوَدُ وَالْأَبْيَضُ إِذْ خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ ← بَيْنَمَا نَحْنُ نَقْرَأُ فِينَا الْعَرَبِيُّ ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← وَفَاءَ الْخَوْلَانِيِّ ← بَكْرِ بْنِ سَوَادَةَ، ← ابْنُ لَهِيعَةَ ← حَسَنٌ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 12512

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 12513

حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ قَالَ حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ عَنْ مَوْهُوبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَزْهَرَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّهُ كَانَ يُخَالِفُ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ فَقَالَ لَهُ عُمَرُ مَا يَحْمِلُكَ عَلَى هَذَا فَقَالَ إِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي صَلَاةً مَتَى تُوَافِقُهَا أُصَلِّي مَعَكَ وَمَتَى تُخَالِفُهَا أُصَلِّي وَأَنْقَلِبُ إِلَى أَهْلِي

مروی ہے کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ عمر بن عبدالعزیز رحمۃ اللہ علیہ کے خلاف کیا کرتے تھے، ایک مرتبہ عمر بن عبدالعزیز رحمۃ اللہ علیہ نے ان سے اس کی وجہ پوچھی تو انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو جو نماز پڑھتے ہوئے دیکھا، اگر تم اس کی موافقت کرو گے تو میں تمہارے ساتھ نماز پڑھوں گا اور اگر تم اس کے خلاف کرو گے تو میں اپنی نماز اکیلے پڑھ کر گھر چلا جاؤں گا۔

لَهُ عُمَرُ مَا يَحْمِلُكَ عَلَى هَذَا ← أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّهُ كَانَ يُخَالِفُ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ ← مَوْهُوبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَزْهَرَ ← ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← هَارُونُ بن معروف

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 12513

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 12514

حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ قَالَ وَأَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الْأَشَجِّ أَنَّ الضَّحَّاكَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ الْقُرَشِيَّ حَدَّثَهُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّهُ قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ صَلَّى سُبْحَةَ الضُّحَى ثَمَانِ رَكَعَاتٍ فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ إِنِّي صَلَّيْتُ صَلَاةَ رَغْبَةٍ وَرَهْبَةٍ سَأَلْتُ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ ثَلَاثًا فَأَعْطَانِي ثِنْتَيْنِ وَمَنَعَنِي وَاحِدَةً سَأَلْتُ أَنْ لَا يَبْتَلِيَ أُمَّتِي بِالسِّنِينَ فَفَعَلَ وَسَأَلْتُ أَنْ لَا يُظْهِرَ عَلَيْهِمْ عَدُوَّهُمْ فَفَعَلَ وَسَأَلْتُهُ أَنْ لَا يَلْبِسَهُمْ شِيَعًا فَأَبَى عَلَيَّ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو سفر میں چاشت کی آٹھ رکعتیں پڑھتے ہوئے دیکھا ہے، اور نماز سے فارغ ہو کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے شوق اور خوف والی نماز پڑھی، میں نے اپنے پروردگار سے تین چیزوں کی درخواست کی، اس نے مجھے دو چیزیں عطاء فرما دیں اور ایک سے روک دیا، میں نے یہ درخواست کی کہ میری امت قحط سالی میں مبتلاء ہو کر ہلاک نہ ہو، اللہ نے منظور کر لیا، میں نے دوسری درخواست کی کہ دشمن کو ان پر مکمل غلبہ نہ دیا جائے، اللہ نے اسے بھی منظور کر لیا، پھر میں نے تیسری درخواست یہ پیش کی کہ انہیں مختلف فرقوں میں تقسیم نہ ہونے دیا جائے لیکن اللہ نے اسے منظور نہیں کیا۔

رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ فِي سَفَرٍ صَلَّى سُبْحَةَ الضُّحَى ثَمَانِ رَكْعَاتٍ، فَلَمَّا انْصَرَفَ ← أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّهُ ← بُكَيْرِ بْنِ الْأَشَجِّ أَنَّ الضَّحَّاكَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ الْقُرَشِيَّ ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ وَهْبٍ ← هَارُونُ بن معروف

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 12514

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 12515

حَدَّثَنَا هَارُونُ قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْ هَارُونَ غَيْرَ مَرَّةٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ قَالَ حَدَّثَنِي جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ أَنَّهُ سَمِعَ قَتَادَةَ بْنَ دِعَامَةَ حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ أَنَّ رَجُلًا جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ تَوَضَّأَ وَتَرَكَ عَلَى قَدَمِهِ مِثْلَ مَوْضِعِ الظُّفُرِ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ارْجِعْ فَأَحْسِنْ وُضُوءَكَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اس نے وضو کر رکھا تھا لیکن پاؤں پر ناخن برابر جگہ چھوٹ گئی تھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا واپس جا کر اچھی طرح وضو کرو۔

قَتَادَةَ بْنِ دِعَامَةَ، ← جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ أَنَّهُ، ← عَبْدِ اللهِ بْنِ وَهْبٍ ← مِنْ هَارُونَ غَيْرَ مَرَّةٍ، ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← هَارُونُ:

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 12515

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 12516

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ قَالَ حَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ وَرْدَانَ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ رُبُعُ الْقُرْآنِ وَإِذَا زُلْزِلَتْ الْأَرْضُ رُبُعُ الْقُرْآنِ وَإِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ رُبُعُ الْقُرْآنِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سورت کافرون چوتھائی قرآن کے برابر ہے، سورت زلزال چوتھائی قرآن کے برابر ہے اور سورت نصر بھی چوتھائی قرآن کے برابر ہے۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← سَلَمَۃُ بْنُ وَرْدَانَ ← سُفْيَانَ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْوَلِيدِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 12516

chevron_left Previous
1…183184185…264
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    0. Chapter
2. Book
    0. Chapter
3. Book
    0. Chapter
4. Book
    0. Chapter
5. Book
    0. Chapter
6. Book
    0. Chapter
7. Book
    0. Chapter
8. Book
    0. Chapter
9. Book
    0. Chapter