Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Sunday, Jumada I 8, 1448 AH · Oct 18, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند امام احمد بن حنبل

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble

by Musnad Imam Bin Hanble

28,221 Hadith18 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 12481

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ ثَلَاثَةَ نَفَرٍ فِيمَا سَلَفَ مِنْ النَّاسِ انْطَلَقُوا يَرْتَادُونَ لِأَهْلِهِمْ فَأَخَذَتْهُمْ السَّمَاءُ فَدَخَلُوا غَارًا فَسَقَطَ عَلَيْهِمْ حَجَرٌ مُتَجَافٍ حَتَّى مَا يَرَوْنَ مِنْهُ حُصَاصَةً فَقَالَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ قَدْ وَقَعَ الْحَجَرُ وَعَفَا الْأَثَرُ وَلَا يَعْلَمُ بِمَكَانِكُمْ إِلَّا اللَّهُ فَادْعُوا اللَّهَ بِأَوْثَقِ أَعْمَالِكُمْ قَالَ فَقَالَ رَجُلٌ مِنْهُمْ اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنَّهُ قَدْ كَانَ لِي وَالِدَانِ فَكُنْتُ أَحْلِبُ لَهُمَا فِي إِنَائِهِمَا فَآتِيهُمَا فَإِذَا وَجَدْتُهُمَا رَاقِدَيْنِ قُمْتُ عَلَى رُءُوسِهِمَا كَرَاهِيَةَ أَنْ أَرُدَّ سِنَتَهُمَا فِي رُءُوسِهِمَا حَتَّى يَسْتَيْقِظَا مَتَى اسْتَيْقَظَا اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنِّي إِنَّمَا فَعَلْتُ ذَلِكَ رَجَاءَ رَحْمَتِكَ وَمَخَافَةَ عَذَابِكَ فَفَرِّجْ عَنَّا فَزَالَ ثُلُثُ الْحَجَرِ وَقَالَ الْآخَرُ اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنِّي اسْتَأْجَرْتُ أَجِيرًا عَلَى عَمَلٍ يَعْمَلُهُ فَأَتَانِي يَطْلُبُ أَجْرَهُ وَأَنَا غَضْبَانُ فَزَبَرْتُهُ فَانْطَلَقَ فَتَرَكَ أَجْرَهُ ذَلِكَ فَجَمَعْتُهُ وَثَمَّرْتُهُ حَتَّى كَانَ مِنْهُ كُلُّ الْمَالِ فَأَتَانِي يَطْلُبُ أَجْرَهُ فَدَفَعْتُ إِلَيْهِ ذَلِكَ كُلَّهُ وَلَوْ شِئْتُ لَمْ أُعْطِهِ إِلَّا أَجْرَهُ الْأَوَّلَ اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنِّي إِنَّمَا فَعَلْتُ ذَلِكَ رَجَاءَ رَحْمَتِكَ وَمَخَافَةَ عَذَابِكَ فَفَرِّجْ عَنَّا قَالَ فَزَالَ ثُلُثَا الْحَجَرِ وَقَالَ الثَّالِثُ اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنَّهُ أَعْجَبَتْهُ امْرَأَةٌ فَجَعَلَ لَهَا جُعْلًا فَلَمَّا قَدَرَ عَلَيْهَا وَقَرَّ لَهَا نَفْسَهَا وَسَلَّمَ لَهَا جُعْلَهَا اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنِّي إِنَّمَا فَعَلْتُ ذَلِكَ رَجَاءَ رَحْمَتِكَ وَمَخَافَةَ عَذَابِكَ فَفَرِّجْ عَنَّا فَزَالَ الْحَجَرُ وَخَرَجُوا مَعَانِيقَ يَتَمَاشَوْنَ قَالَ عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنَا أَبُو بَحْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ قَتَادَةَ قَالَ عَبْد اللَّهِ عَنْ أَنَسٍ فَذَكَرَ نَحْوَهُ حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ ثَلَاثَةَ نَفَرٍ انْطَلَقُوا فَذَكَرَ مَعْنَاهُ قَالَ أَبِي وَلَمْ يَرْفَعْهُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا گز شتہ زمانہ میں تین آدمی جا رہے تھے راستہ میں بارش شروع ہوگئی یہ تینوں پہاڑ کے ایک غار میں پناہ گزین ہوئے ، اوپر سے ایک پتھر آکر دروازہ پر گرا اور غار کا دروازہ بند ہو گیا ، یہ لوگ آپس میں ایک دوسرے سے کہنے لگے پتھر آگرا ، نشانات قدم مٹ گئے اور یہاں تمہاری موجودگی کا اللہ کے علاوہ کسی کو علم نہیں ہے ، لہذا جس شخص نے اپنی دانست میں جو کوئی سچائی کا کام کیا ہو اس کو پیش کر کے اللہ سے دعا کرے۔ ایک شخص کہنے لگا الٰہی ! تو واقف ہے کہ مسرے والدین بہت بوڑھے تھے ، میں ان کو روزانہ شام کو اپنی بکریوں کا دودھ (دوھ کر ) دیا کرتا تھا ، ایک روز مجھے (جنگل سے آنے میں ) دیر ہوگئی ، جس وقت میں آیا تو وہ سوچکے تھے اور میرے بیوی بچے بھوک کی وجہ سے چلا رہے تھے ، لیکن میرا قاعدہ تھا کہ جب تک میرے ماں باپ نہ پی لیتے تھے میں ان کو نہ پلاتا تھا ( اس لئے بڑا حیران ہوا ) نہ تو ان کو بیدار کرنا مناسب معلوم ہوا نہ کچھ اچھا معلوم ہوا کہ ان کو ایسے ہی چھوڑ دوں کہ ( نہ کھانے سے ) کمزوری ہو جائے ، اور صبح تک میں ان کی ( آنکھ کھلنے کے ) انتظار میں ( کھڑا ) رہا ، الٰہی ! اگر تیری دانست میں میرا یہ فعل تیرے خوف کی وجہ سے تھا تو ہم سے اس مصیبت کو دور فرما دے ، پتھر ایک تہائی کے قریب کھل گیا ۔ دوسرا شخص بولا، الٰہی ! تو واقف ہے کہ میرے پاس ایک مزدور نے آٹھ سیر چاول مزدوری پر کام کیا تھا لیکن کام کرنے کے بعد وہ مزدوری چھوڑ کر چلا گیا میں نے وہ ( پیمانہ بھر ) چاول لے کر بو دیئے ، نتیجہ یہ ہوا کہ اسی کے حاصل سے میں نے گائے بیل خریدے ، کچھ دنوں کے بعد وہ شخص اپنی مزدوری مانگتا ہوا میرے پاس آیا میں نے کہا یہ گائے بیل لے جا، وہ کہنے لگا میرے تو تیرے ذمہ ایک پیمانہ بھر چاول ہیں ، میں نے جواب دیا یہ گائے بیل لے جا، یہ انہی چاولوں کے ذریعہ سے حاصل ہوئے ہیں ، الٰہی ! اگر تیری دانست میں میں نے یہ فعل صرف تیرے خوف سے کیا ہے تو ہم سے یہ مصیبت دور فرما دے ، چنانچہ اس کی دعا کی برکت سے پتھر دو تہائی کے قریب کھل گیا۔ تیسرا شخص بولا الٰہی ! تو واقف ہے کہ ایک عورت تھی جو میری نظر میں سب سے زیادہ محبوب تھی ، جب اس نے اپنے نفس کو میرے قبضے میں دے دیا ، میں فوراً اٹھ کھڑا ہوا اور سو دینار پھی چھوڑ دیئے ، الٰہی ! اگر میرا یہ فعل صرف تیرے خوف کی وجہ سے تھا تو یہ مصیبت ہم سے دور کر دے چنانچہ وہ پتھر ہٹ گیا اور وہ باہر نکل کر چلنے پھر نے لگے ۔ گذشتہ حدیث اس دوسرے سند سے بھی مروی ہے۔

أَنَسٍ، ← قَتَادَةَ ← أَبُو عَوَانَةَ، ← يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 12481

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 12482

قَالَ عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنَا أَبُو بَحْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ قَتَادَةَ قَالَ عَبْد اللَّهِ عَنْ أَنَسٍ فَذَكَرَ نَحْوَهُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا گز شتہ زمانہ میں تین آدمی جا رہے تھے راستہ میں بارش شروع ہوگئی یہ تینوں پہاڑ کے ایک غار میں پناہ گزین ہوئے ، اوپر سے ایک پتھر آکر دروازہ پر گرا اور غار کا دروازہ بند ہو گیا ، یہ لوگ آپس میں ایک دوسرے سے کہنے لگے پتھر آگرا ، نشانات قدم مٹ گئے اور یہاں تمہاری موجودگی کا اللہ کے علاوہ کسی کو علم نہیں ہے ، لہذا جس شخص نے اپنی دانست میں جو کوئی سچائی کا کام کیا ہو اس کو پیش کر کے اللہ سے دعا کرے۔ ایک شخص کہنے لگا الٰہی ! تو واقف ہے کہ مسرے والدین بہت بوڑھے تھے ، میں ان کو روزانہ شام کو اپنی بکریوں کا دودھ (دوھ کر ) دیا کرتا تھا ، ایک روز مجھے (جنگل سے آنے میں ) دیر ہوگئی ، جس وقت میں آیا تو وہ سوچکے تھے اور میرے بیوی بچے بھوک کی وجہ سے چلا رہے تھے ، لیکن میرا قاعدہ تھا کہ جب تک میرے ماں باپ نہ پی لیتے تھے میں ان کو نہ پلاتا تھا ( اس لئے بڑا حیران ہوا ) نہ تو ان کو بیدار کرنا مناسب معلوم ہوا نہ کچھ اچھا معلوم ہوا کہ ان کو ایسے ہی چھوڑ دوں کہ ( نہ کھانے سے ) کمزوری ہو جائے ، اور صبح تک میں ان کی ( آنکھ کھلنے کے ) انتظار میں ( کھڑا ) رہا ، الٰہی ! اگر تیری دانست میں میرا یہ فعل تیرے خوف کی وجہ سے تھا تو ہم سے اس مصیبت کو دور فرما دے ، پتھر ایک تہائی کے قریب کھل گیا ۔ دوسرا شخص بولا، الٰہی ! تو واقف ہے کہ میرے پاس ایک مزدور نے آٹھ سیر چاول مزدوری پر کام کیا تھا لیکن کام کرنے کے بعد وہ مزدوری چھوڑ کر چلا گیا میں نے وہ ( پیمانہ بھر ) چاول لے کر بو دیئے ، نتیجہ یہ ہوا کہ اسی کے حاصل سے میں نے گائے بیل خریدے ، کچھ دنوں کے بعد وہ شخص اپنی مزدوری مانگتا ہوا میرے پاس آیا میں نے کہا یہ گائے بیل لے جا، وہ کہنے لگا میرے تو تیرے ذمہ ایک پیمانہ بھر چاول ہیں ، میں نے جواب دیا یہ گائے بیل لے جا، یہ انہی چاولوں کے ذریعہ سے حاصل ہوئے ہیں ، الٰہی ! اگر تیری دانست میں میں نے یہ فعل صرف تیرے خوف سے کیا ہے تو ہم سے یہ مصیبت دور فرما دے ، چنانچہ اس کی دعا کی برکت سے پتھر دو تہائی کے قریب کھل گیا۔ تیسرا شخص بولا الٰہی ! تو واقف ہے کہ ایک عورت تھی جو میری نظر میں سب سے زیادہ محبوب تھی ، جب اس نے اپنے نفس کو میرے قبضے میں دے دیا ، میں فوراً اٹھ کھڑا ہوا اور سو دینار پھی چھوڑ دیئے ، الٰہی ! اگر میرا یہ فعل صرف تیرے خوف کی وجہ سے تھا تو یہ مصیبت ہم سے دور کر دے چنانچہ وہ پتھر ہٹ گیا اور وہ باہر نکل کر چلنے پھر نے لگے ۔ گذشتہ حدیث اس دوسرے سند سے بھی مروی ہے۔

أنس فذكر نحوه ← عَبْدُ اللَّهِ ← قَتَادَةَ ← أَبُو عَوَانَةَ، ← أَبُو بحر ← عَبْدُ اللَّهِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 12482

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 12483

حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ ثَلَاثَةَ نَفَرٍ انْطَلَقُوا فَذَكَرَ مَعْنَاهُ قَالَ أَبِي وَلَمْ يَرْفَعْهُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا گز شتہ زمانہ میں تین آدمی جا رہے تھے راستہ میں بارش شروع ہوگئی یہ تینوں پہاڑ کے ایک غار میں پناہ گزین ہوئے ، اوپر سے ایک پتھر آکر دروازہ پر گرا اور غار کا دروازہ بند ہو گیا ، یہ لوگ آپس میں ایک دوسرے سے کہنے لگے پتھر آگرا ، نشانات قدم مٹ گئے اور یہاں تمہاری موجودگی کا اللہ کے علاوہ کسی کو علم نہیں ہے ، لہذا جس شخص نے اپنی دانست میں جو کوئی سچائی کا کام کیا ہو اس کو پیش کر کے اللہ سے دعا کرے۔ ایک شخص کہنے لگا الٰہی ! تو واقف ہے کہ مسرے والدین بہت بوڑھے تھے ، میں ان کو روزانہ شام کو اپنی بکریوں کا دودھ (دوھ کر ) دیا کرتا تھا ، ایک روز مجھے (جنگل سے آنے میں ) دیر ہوگئی ، جس وقت میں آیا تو وہ سوچکے تھے اور میرے بیوی بچے بھوک کی وجہ سے چلا رہے تھے ، لیکن میرا قاعدہ تھا کہ جب تک میرے ماں باپ نہ پی لیتے تھے میں ان کو نہ پلاتا تھا ( اس لئے بڑا حیران ہوا ) نہ تو ان کو بیدار کرنا مناسب معلوم ہوا نہ کچھ اچھا معلوم ہوا کہ ان کو ایسے ہی چھوڑ دوں کہ ( نہ کھانے سے ) کمزوری ہو جائے ، اور صبح تک میں ان کی ( آنکھ کھلنے کے ) انتظار میں ( کھڑا ) رہا ، الٰہی ! اگر تیری دانست میں میرا یہ فعل تیرے خوف کی وجہ سے تھا تو ہم سے اس مصیبت کو دور فرما دے ، پتھر ایک تہائی کے قریب کھل گیا ۔ دوسرا شخص بولا، الٰہی ! تو واقف ہے کہ میرے پاس ایک مزدور نے آٹھ سیر چاول مزدوری پر کام کیا تھا لیکن کام کرنے کے بعد وہ مزدوری چھوڑ کر چلا گیا میں نے وہ ( پیمانہ بھر ) چاول لے کر بو دیئے ، نتیجہ یہ ہوا کہ اسی کے حاصل سے میں نے گائے بیل خریدے ، کچھ دنوں کے بعد وہ شخص اپنی مزدوری مانگتا ہوا میرے پاس آیا میں نے کہا یہ گائے بیل لے جا، وہ کہنے لگا میرے تو تیرے ذمہ ایک پیمانہ بھر چاول ہیں ، میں نے جواب دیا یہ گائے بیل لے جا، یہ انہی چاولوں کے ذریعہ سے حاصل ہوئے ہیں ، الٰہی ! اگر تیری دانست میں میں نے یہ فعل صرف تیرے خوف سے کیا ہے تو ہم سے یہ مصیبت دور فرما دے ، چنانچہ اس کی دعا کی برکت سے پتھر دو تہائی کے قریب کھل گیا۔ تیسرا شخص بولا الٰہی ! تو واقف ہے کہ ایک عورت تھی جو میری نظر میں سب سے زیادہ محبوب تھی ، جب اس نے اپنے نفس کو میرے قبضے میں دے دیا ، میں فوراً اٹھ کھڑا ہوا اور سو دینار پھی چھوڑ دیئے ، الٰہی ! اگر میرا یہ فعل صرف تیرے خوف کی وجہ سے تھا تو یہ مصیبت ہم سے دور کر دے چنانچہ وہ پتھر ہٹ گیا اور وہ باہر نکل کر چلنے پھر نے لگے ۔ گذشتہ حدیث اس دوسرے سند سے بھی مروی ہے۔

أَبِي وَلَمْ يَرْفَعْهُ ← أَنَسٍ أَنَّ ثَلَاثَةَ نَفَرٍ انْطَلَقُوا فَذَكَرَ مَعْنَاهُ ← قَتَادَةَ ← أَبُو عَوَانَةَ، ← بَهْزٌ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 12483

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 12484

حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ كُنَّا قَدْ نُهِينَا أَنْ نَسْأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ شَيْءٍ فَكَانَ يُعْجِبُنَا أَنْ يَجِيءَ الرَّجُلُ مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ الْعَاقِلُ فَيَسْأَلُهُ وَنَحْنُ نَسْمَعُ فَجَاءَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ فَقَالَ يَا مُحَمَّدُ أَتَانَا رَسُولُكَ فَزَعَمَ لَنَا أَنَّكَ تَزْعُمُ أَنَّ اللَّهَ أَرْسَلَكَ قَالَ صَدَقَ قَالَ فَمَنْ خَلَقَ السَّمَاءَ قَالَ اللَّهُ قَالَ فَمَنْ خَلَقَ الْأَرْضَ قَالَ اللَّهُ قَالَ فَمَنْ نَصَبَ هَذِهِ الْجِبَالَ وَجَعَلَ فِيهَا مَا جَعَلَ قَالَ اللَّهُ قَالَ فَبِالَّذِي خَلَقَ السَّمَاءَ وَخَلَقَ الْأَرْضَ وَنَصَبَ هَذِهِ الْجِبَالَ آللَّهُ أَرْسَلَكَ قَالَ نَعَمْ قَالَ فَزَعَمَ رَسُولُكَ أَنَّ عَلَيْنَا خَمْسَ صَلَوَاتٍ فِي يَوْمِنَا وَلَيْلَتِنَا قَالَ صَدَقَ قَالَ فَبِالَّذِي أَرْسَلَكَ آللَّهُ أَمَرَكَ بِهَذَا قَالَ نَعَمْ قَالَ فَزَعَمَ رَسُولُكَ أَنَّ عَلَيْنَا زَكَاةً فِي أَمْوَالِنَا قَالَ صَدَقَ قَالَ فَبِالَّذِي أَرْسَلَكَ آللَّهُ أَمَرَكَ بِهَذَا قَالَ نَعَمْ قَالَ وَزَعَمَ رَسُولُكَ أَنَّ عَلَيْنَا صَوْمَ شَهْرِ رَمَضَانَ فِي سَنَتِنَا قَالَ نَعَمْ صَدَقَ قَالَ فَبِالَّذِي أَرْسَلَكَ آللَّهُ أَمَرَكَ بِهَذَا قَالَ نَعَمْ قَالَ وَزَعَمَ رَسُولُكَ أَنَّ عَلَيْنَا حَجَّ الْبَيْتِ مَنْ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلًا قَالَ صَدَقَ قَالَ ثُمَّ وَلَّى فَقَالَ وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ نَبِيًّا لَا أَزِيدُ عَلَيْهِنَّ شَيْئًا وَلَا أَنْقُصُ مِنْهُنَّ شَيْئًا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَئِنْ صَدَقَ لَيَدْخُلَنَّ الْجَنَّةَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ( چونکہ ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بکثرت سوال کرنے سے ہمیں قرآن میں ممانعت کر دی گئی تھی ، اس لئے ہم دل سے خواہش مند ہوتے تھے کہ کوئی عقل مند بدوی آکر حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی مسئلہ دریافت کرے اور ہم سنیں چنانچہ (ایک مرتبہ ) بدوی نے حاضر ہو کر ( حضور صلی اللہ علیہ وسلم ) سے عرض کیا کہ آپ کا قاصد ہمارے پاس آیا تھا اور کہتا تھا کہ آپ فرماتے ہیں کہ اللہ نے مجھ کو پیغمبر بنایا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ ٹھیک کہتا تھا ، بدوی بولا آسمانوں ، زمینوں اور پہاڑوں کو کس نے پیدا کیا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ نے ، بدوی بولا آپ کو قسم ہے اس ذات پاک کی جس نے آسمانوں اور زمینوں کو پیدا کیا ، پہاڑوں کو قائم کیا (یہ بتائیے کہ) کیا واقعی اللہ تعالیٰ نے آپ کو رسول بنا کر بھیجا ہے ؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں ! بدوی بولا آپ کا قاصد کہتا ہے کہ ہم پر دان رات میں پانچ نمازیں فرض ہیں ، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس نے ٹھیک کہا ، بدوی بولا آب کو اس اللہ کی قسم ! جس نے آپ کو رسول بنا کر بھیجا ہے ( بتایئے) کیا آپ کو اللہ نے اس کا حکم دیا ہے ؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں ! بدوی بولا آپ کے قاصد نے کہا تھا کہ ہم پر اپنے مال کی زکوۃ نکالنا فرض ہے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس نے سچ کہا ، اس نے کہا کہ اس اللہ کی قسم جس نے آپ کو بھیجا کیا اس نے آپ کو اس کا حکم دیا ہے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا ہاں ! اس نے کہا کہ آپ کے قاصد کا یہ بھی کہنا تھا کہ ہم پر سال میں ایک ماہ کے روزے فرض ہیں ؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس نے سچ کہا ، بدوی بولا آپ کو اس اللہ کی قسم جس نے آپ کو پیغمبر بنایا ہے ( یہ بتائیے کہ) کیا آپ کو اللہ نے اس کا حکم دیا ہے ؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں ! بدوی بولا آپ کے قاصد نے یہ بھی کہا تھا کہ ہم میں سے صاحب استطاعت پر کعبہ کا حج فرض ہے ؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس نے سچ کہا ! آخر کار وہ بدوی پیٹھ کر جاتے ہوئے کہنے لگا کہ اس اللہ کی قسم ! جس نے آپ کو سچائی کے ساتھ مبعوث فرمایا میں اس میں ذرا بھی کمی بیشی نہیں کروں گا ، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر یہ سچا ہے تو جنت میں داخل ہوگا ۔

كُنَّا قَدْ نُهِينَا ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← ثَابِتٍ، ← سُلَيْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ ← هاشم بن القاسم

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 12484

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 12485

حَدَّثَنِي عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ وَأَبُو دَاوُدَ قَالَ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ الْمَعْنَى حَدَّثَنَا ثَابِتٌ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسًا يَقُولُ لِامْرَأَةٍ مِنْ أَهْلِهِ أَتَعْرِفِينَ فُلَانَةَ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِهَا وَهِيَ تَبْكِي عَلَى قَبْرٍ فَقَالَ لَهَا اتَّقِي اللَّهَ وَاصْبِرِي فَقَالَتْ لَهُ إِيَّاكَ عَنِّي فَإِنَّكَ لَا تُبَالِي بِمُصِيبَتِي قَالَ وَلَمْ تَكُنْ عَرَفَتْهُ فَقِيلَ لَهَا إِنَّهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخَذَ بِهَا مِثْلُ الْمَوْتِ فَجَاءَتْ إِلَى بَابِهِ فَلَمْ تَجِدْ عَلَيْهِ بَوَّابًا فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي لَمْ أَعْرِفْكَ فَقَالَ إِنَّ الصَّبْرَ عِنْدَ أَوَّلِ صَدْمَةٍ

ایک مرتبہ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے اپنے گھر کی کسی خاتون سے فرمایا کہ تم فلاں عورت کو جانتی ہو ؟ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس سے گزرے ، اس وقت وہ ایک قبر پر رو رہی تھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا اللہ سے ڈرو اور صبر کرو ، وہ کہنے لگی کہ مجھ سے پیچھے ہی رہو تمہیں میری مصیبت کا کیا پتہ ، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو پہچان نہ سکی ، کسی نے بعد میں اسے بتایا کہ یہ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم تھے ، یہ سن کر اس پر موت طاری ہوگئی اور فوراً نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی ، وہاں اسے کوئی دربان نظر نہ آیا اور کہنے لگی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں آپ کو پہچان نہ پائی تھی ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا صبر تو صدمہ کے آغاز میں ہوتا ہے۔

أَنَسًا ← ثَابِتٍ، ← شُعْبَةُ الْمَعْنَی ← شُعْبَةُ وَأَبُو دَاوُدَ ← عَبْدُ الصَّمَدِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 12485

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 12486

حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا أَبِي وَعَفَّانُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ حَدَّثَنَا شُعَيْبٌ يَعْنِي ابْنَ الْحَبْحَابِ عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكْثَرْتُ عَلَيْكُمْ فِي السِّوَاكِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میں نے تمہیں مسواک کرنے کا حکم کثرت سے دیا ہے ۔

أَنَسٍ، ← شُعَيْبٌ يَعْنِي ابْنَ الْحَبْحَابِ ← عَبْدُ الْوَارِثِ ← أَبِي وَعَفَّانُ ← عَبْدُ الصَّمَدِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 12486

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 12487

حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ حَدَّثَنَا أَبِي قَالَ سَمِعْتُ حُمَيْدًا الطَّوِيلَ يُحَدِّثُ عَنْ أَنَسٍ قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَجْمَعُ بَيْنَ الرُّطَبِ وَالْخِرْبِزِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کھجور کے ساتھ خربوزہ کھاتے ہوئے دیکھا ۔

«رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ يَجْمَعُ بَيْنَ الرَّطِبِ وَالْخِرْبِزِ» ← أَنَسٍ، ← حُمَيْدًا الطَّوِيلَ ← أَبِي ← وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 12487

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 12488

حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ يَحْيَى حَدَّثَنَا ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ مَثَلُ أُمَّتِي مَثَلُ الْمَطَرِ لَا يُدْرَى أَوَّلُهُ خَيْرٌ أَوْ آخِرُهُ حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ ثَابِتٍ وَحُمَيْدٍ وَيُونُسَ عَنِ الْحَسَنِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَثَلُ أُمَّتِي فَذَكَرَهُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میری امت کی مثال بارش کی سی ہے کہ کچھ معلوم نہیں اس کا آغاز بہتر ہے یا انجام ۔

الْحَسَنِ، ← ثَابِتٍ وَحُمَيْدٍ وَيُونُسَ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← حَسَنُ بْنُ مُوسَی ← مَثَلُ أُمَّتِي مَثَلُ الْمَطَرِ لَا يُدْرَى أَوَّلُهُ خَيْرٌ أَوْ آخِرُهُ ← النَّبِیِّ اَنَّہٗ ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ← حَمَّادُ بْنُ يَحْيَى، ← حَسَنُ بْنُ مُوسَی

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 12488

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 12489

حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ ثَابِتٍ وَحُمَيْدٍ وَيُونُسَ عَنِ الْحَسَنِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَثَلُ أُمَّتِي فَذَكَرَهُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میری امت کی مثال بارش کی سی ہے کہ کچھ معلوم نہیں اس کا آغاز بہتر ہے یا انجام ۔

الْحَسَنِ، ← ثَابِتٍ وَحُمَيْدٍ وَيُونُسَ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← حَسَنُ بْنُ مُوسَی

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 12489

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 12490

حَدَّثَنَا يُونُسُ وَسُرَيْجٌ قَالَا حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ عَنْ هِلَالِ بْنِ عَلِيٍّ قَالَ قَالَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ لَمْ يَكُنْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبَّابًا وَلَا فَحَّاشًا وَلَا لَعَّانًا وَكَانَ يَقُولُ لِأَحَدِنَا عِنْدَ الْمَعْتَبَةِ مَا لَهُ تَرِبَتْ جَبِينُهُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم گالیاں دینے والے ، لعنت ملامت کرنے والے یا بیہودہ باتیں کرنے والے نہ تھے ، عتاب کے وقت بھی صر ف ات نافرماتے تھے کہ اسے کیا ہوگیا ، اس کی پیشانی خاک آلود ہو۔

هِلَالِ بْنِ عَلِيٍّ ← فُلَيْحٌ، ← يُونُسُ وَسُرَيْجٌ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 12490

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 12491

حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سُلَيْمٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّهُ قَالَ صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِنًى رَكْعَتَيْنِ وَمَعَ أَبِي بَكْرٍ رَكْعَتَيْنِ وَمَعَ عُمَرَ رَكْعَتَيْنِ وَمَعَ عُثْمَانَ رَكْعَتَيْنِ صَدْرًا مِنْ إِمَارَتِهِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے میدان منیٰ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ دو رکعتیں پڑھی ہیں ، حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ بھی اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے ابتدائی دور خلافت میں بھی دو رکعتیں پڑھی ہیں ۔

أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّهُ ← محمد بن عبد الله بن أبي سليم ← بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ← ليث يعني ابن سعد ← يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 12491

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 12492

حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُسَاحِقٍ عَنْ عَامِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ الزُّبَيْرِ عَنْ أَنَسٍ قَالَ مَا رَأَيْتُ إِمَامًا أَشْبَهَ بِصَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ إِمَامِكُمْ هَذَا لِعُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ وَهُوَ بِالْمَدِينَةِ يَوْمَئِذٍ وَكَانَ عُمَرُ لَا يُطِيلُ الْقِرَاءَةَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمۃ اللہ علیہ کے متعلق " جبکہ وہ مدینہ منورہ میں تھے " فرماتے تھے کہ میں نے تمہارے اس امام سے زیادہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مشابہت رکھنے والی نماز پڑھتے ہوئے کسی کو نہیں دیکھا، حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمۃ اللہ علیہ طویل قرأت نہ کرتے تھے۔

أَنَسٍ، ← عَامِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ الزُّبَيْرِ ← مُحَمَّدِ بْنِ مُسَاحِقٍ، ← فُلَيْحٌ، ← يُونُسَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 12492

chevron_left Previous
1…181182183…264
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    0. Chapter
2. Book
    0. Chapter
3. Book
    0. Chapter
4. Book
    0. Chapter
5. Book
    0. Chapter
6. Book
    0. Chapter
7. Book
    0. Chapter
8. Book
    0. Chapter
9. Book
    0. Chapter