Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Sunday, Jumada I 8, 1448 AH · Oct 18, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند امام احمد بن حنبل

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble

by Musnad Imam Bin Hanble

28,221 Hadith18 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 12457

حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ وَاقِدٍ حَدَّثَنِي ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ قَالَ كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ مَرَّ رَجُلٌ فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ الْقَوْمِ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي لَأُحِبُّ هَذَا الرَّجُلَ قَالَ هَلْ أَعْلَمْتَهُ ذَلِكَ قَالَ لَا فَقَالَ قُمْ فَأَعْلِمْهُ قَالَ فَقَامَ إِلَيْهِ فَقَالَ يَا هَذَا وَاللَّهِ إِنِّي لَأُحِبُّكَ فِي اللَّهِ قَالَ أَحَبَّكَ الَّذِي أَحْبَبْتَنِي لَهُ

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں بیٹھا ہوا تھا کہ وہاں سے ایک آدمی کا گذر ہوا، بیٹھے ہوئے لوگوں میں سے کسی نے کہا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں اس شخص سے محبت کرتا ہوں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا کیا تم نے اسے یہ بات بتائی ہے؟ اس نے کہا نہیں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر جا کر اسے بتا دو، اس پر وہ آدمی کھڑا ہوا اور جا کر اس سے کہنے لگا بھائی! میں اللہ کی رضا کے لئے آپ سے محبت کرتا ہوں ، اس نے جواب دیا کہ جس ذات کی خاطر تم مجھ سے محبت کرتے ہو وہ تم سے محبت کرے۔

كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ إِذْ مَرَّ رَجُلٌ فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ الْقَوْمِ ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ← حُسَيْنُ بْنُ وَاقِدٍ، ← زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 12457

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 12458

حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ حَدَّثَنِي حُسَيْنُ بْنُ وَاقِدٍ حَدَّثَنِي ثَابِتٌ البُنَانِيُّ حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَفَعَ إِلَى حَفْصَةَ ابْنَةِ عُمَرَ رَجُلًا فَقَالَ احْتَفِظِي بِهِ قَالَ فَغَفَلَتْ حَفْصَةُ وَمَضَى الرَّجُلُ فَدَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ يَا حَفْصَةُ مَا فَعَلَ الرَّجُلُ قَالَتْ غَفَلْتُ عَنْهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَخَرَجَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَطَعَ اللَّهُ يَدَكِ فَرَفَعَتْ يَدَيْهَا هَكَذَا فَدَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَا شَأْنُكِ يَا حَفْصَةُ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ قُلْتَ قَبْلُ لِي كَذَا وَكَذَا فَقَالَ لَهَا صُفِّي يَدَيْكِ فَإِنِّي سَأَلْتُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ أَيُّمَا إِنْسَانٍ مِنْ أُمَّتِي دَعَوْتُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ عَلَيْهِ أَنْ يَجْعَلَهَا لَهُ مَغْفِرَةً

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی حضرت حفصہ بنت عمر رضی اللہ عنہ کے حوالے کیا اور فرمایا کہ اس کی نگرانی کرنا، حضرت حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا غافل ہوئیں تو وہ آدمی کھسک گیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم واپس تشریف لائے تو پوچھا حفصہ! وہ آدمی کیا ہوا؟ انہوں نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں غافل ہوگئی اور وہ بھاگ گیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ کرے تمہارے ہاتھ ٹوٹ جائیں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے جانے کے بعد انہوں نے اپنے ہاتھ اونچے کر لئے ، تھوڑی دیر بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم دوبارہ آئے تو پوچھا حفصہ! تمہیں کیا ہوا؟ انہوں نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ نے کچھ دیر پہلے مجھے ایسے ایسے کہا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنے ہاتھ کھول لو، میں نے اللہ سے یہ کہہ رکھا ہے کہ میں اپنی امت میں سے جس شخص کو کوئی بددعاء دوں وہ اسے اس کے حق میں مغفرت کا سبب بنا دے۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ← حُسَيْنُ بْنُ وَاقِدٍ، ← زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 12458

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 12459

حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ حَدَّثَنَا الْمُبَارَكُ عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنِّي أُحِبُّ هَذِهِ السُّورَةَ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حُبُّكَ إِيَّاهَا أَدْخَلَكَ الْجَنَّةَ حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا الْمُبَارَكُ قَالَ سَمِعْتُ ثَابِتًا عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أُحِبُّ هَذِهِ السُّورَةَ فَذَكَرَ مِثْلَهُ

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ میں سورت اخلاص سے محبت رکھتا ہوں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہارا اس سورت سے محبت کرنا تمہیں جنت میں داخل کروا دے گا۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

رَجُلٌ: ← أَنَسٍ، ← ثَابِتًا ← المبارك ← خَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ ← رَسُولُ اللَّهِ حُبُّكَ إِيَّاهَا أَدْخَلَكَ الْجَنَّةَ ← إِنِّي أُحِبُّ هَذِهِ السُّورَةَ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ ← جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ← المبارك ← أَبُو النَّضْرِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 12459

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 12460

حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا الْمُبَارَكُ قَالَ سَمِعْتُ ثَابِتًا عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أُحِبُّ هَذِهِ السُّورَةَ فَذَكَرَ مِثْلَهُ

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ میں سورت اخلاص سے محبت رکھتا ہوں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہارا اس سورت سے محبت کرنا تمہیں جنت میں داخل کروا دے گا۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

رَجُلٌ: ← أَنَسٍ، ← ثَابِتًا ← المبارك ← خَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 12460

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 12461

حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ حَدَّثَنَا الْمُبَارَكُ عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ عَنْ أَنَسٍ قَالَ لَمَّا قَالَتْ فَاطِمَةُ ذَلِكَ يَعْنِي لَمَّا وَجَدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ كَرْبِ الْمَوْتِ مَا وَجَدَ قَالَتْ فَاطِمَةُ وَا كَرْبَاهُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا بُنَيَّةُ إِنَّهُ قَدْ حَضَرَ بِأَبِيكِ مَا لَيْسَ اللَّهُ بِتَارِكٍ مِنْهُ أَحَدًا لِمُوَافَاةِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ حَدَّثَنَا خَلَفٌ حَدَّثَنَا الْمُبَارَكُ حَدَّثَنِي ثَابِتٌ عَنْ أَنَسٍ قَالَ لَمَّا قَالَتْ فَاطِمَةُ فَذَكَرَ مِثْلَهُ

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر موت کی شدت طاری ہوئی تو حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اس کیفیت کو دیکھ کر کہنے لگیں ، ہائے تکلیف! نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا: تمہارے باپ پر جو کیفیت طاری ہو رہی ہے قیامت تک آنے والے کسی انسان سے اللہ اسے معاف کرنے والا نہیں ہے۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

فَاطِمَةُ وَا كَرْبَاهُ ← فَاطِمَةُ ذَلِكَ يَعْنِي لَمَّا وَجَدَ رَسُولُ اللَّهِ مِنْ كَرْبِ الْمَوْتِ مَا وَجَدَ ← لَمَّا ← أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ← المبارك ← أَبُو النَّضْرِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 12461

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 12462

حَدَّثَنَا خَلَفٌ حَدَّثَنَا الْمُبَارَكُ حَدَّثَنِي ثَابِتٌ عَنْ أَنَسٍ قَالَ لَمَّا قَالَتْ فَاطِمَةُ فَذَكَرَ مِثْلَهُ

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر موت کی شدت طاری ہوئی تو حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اس کیفیت کو دیکھ کر کہنے لگیں ، ہائے تکلیف! نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا: تمہارے باپ پر جو کیفیت طاری ہو رہی ہے قیامت تک آنے والے کسی انسان سے اللہ اسے معاف کرنے والا نہیں ہے۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

فَاطِمَةُ فَذَكَرَ مِثْلَهُ ← لَمَّا ← أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← المبارك ← خلف

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 12462

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 12463

حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَغُدْوَةٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَوْ رَوْحَةٌ خَيْرٌ مِنْ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا وَلَقَابُ قَوْسِ أَحَدِكُمْ أَوْ مَوْضِعُ قَدِّهِ يَعْنِي سَوْطَهُ مِنْ الْجَنَّةِ خَيْرٌ مِنْ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا وَلَوْ اطَّلَعَتْ امْرَأَةٌ مِنْ نِسَاءِ أَهْلِ الْجَنَّةِ إِلَى الْأَرْضِ لَمَلَأَتْ مَا بَيْنَهُمَا رِيحًا وَلَطَابَ مَا بَيْنَهُمَا وَلَنَصِيفُهَا عَلَى رَأْسِهَا خَيْرٌ مِنْ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا حَدَّثَنَا الْهَاشِمِيُّ يَعْنِي سُلَيْمَانَ عَنْ إِسْمَاعِيلَ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسٍ مَعْنَاهُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ کے راستے میں ایک صبح یا شام جہاد کرنا، دنیا و مافیھا سے بہتر ہے، اور تم میں سے کسی کے کمان یا کوڑا رکھنے کی جنت میں جو جگہ ہوگی وہ دنیا و مافیہا سے بہتر ہے، اور اگر کوئی جنتی عورت زمین کی طرف جھانک کر دیکھ لے تو ان دونوں کے درمیانی جگہ خوشبو سے بھر جائے، اور مہک پھیل جائے اور اس کے سر کا دوپٹہ دنیا و مافیہا سے بہتر ہے۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

أَنَسٍ، ← حُمَيْدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ ← أَبُو النَّضْرِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 12463

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 12464

حَدَّثَنَا الْهَاشِمِيُّ يَعْنِي سُلَيْمَانَ عَنْ إِسْمَاعِيلَ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسٍ مَعْنَاهُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ کے راستے میں ایک صبح یا شام جہاد کرنا، دنیا و مافیھا سے بہتر ہے، اور تم میں سے کسی کے کمان یا کوڑا رکھنے کی جنت میں جو جگہ ہوگی وہ دنیا و مافیہا سے بہتر ہے، اور اگر کوئی جنتی عورت زمین کی طرف جھانک کر دیکھ لے تو ان دونوں کے درمیانی جگہ خوشبو سے بھر جائے، اور مہک پھیل جائے اور اس کے سر کا دوپٹہ دنیا و مافیہا سے بہتر ہے۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

أَنَسٍ مَعْنَاهُ ← حُمَيْدٍ ← إِسْمَاعِيلُ ← الْهَاشِمِيُّ يَعْنِي سُلَيْمَانَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 12464

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 12465

حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ حَدَّثَنَا مَالِكٌ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ كَانَ أَبُو طَلْحَةَ أَكْثَرَ أَنْصَارِيٍّ بِالْمَدِينَةِ مَالًا وَكَانَ أَحَبَّ أَمْوَالِهِ إِلَيْهِ بَيْرُحَاءُ وَكَانَتْ مُسْتَقْبِلَةَ الْمَسْجِدِ فَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْخُلُهَا وَيَشْرَبُ مِنْ مَاءٍ فِيهَا طَيِّبٍ قَالَ أَنَسٌ فَلَمَّا نَزَلَتْ لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ قَالَ أَبُو طَلْحَةَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ يَقُولُ لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ وَإِنَّ أَحَبَّ أَمْوَالِي إِلَيَّ بَيْرُحَاءُ وَإِنَّهَا صَدَقَةٌ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ أَرْجُو بِرَّهَا وَذُخْرَهَا عِنْدَ اللَّهِ فَضَعْهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ حَيْثُ أَرَاكَ اللَّهُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَخٍ ذَلِكَ مَالٌ رَابِحٌ ذَاكَ مَالٌ رَابِحٌ وَقَدْ سَمِعْتُ وَأَنَا أَرَى أَنْ تَجْعَلَهَا فِي الْأَقْرَبِينَ فَقَالَ أَبُو طَلْحَةَ أَفْعَلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ فَقَسَمَهَا أَبُو طَلْحَةَ فِي أَقَارِبِهِ وَبَنِي عَمِّهِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ مدینہ منورہ میں حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ سب سے زیادہ مالدار انصاری تھے، اور انہیں اپنے سارے مال میں بیر حاء نامی باغ جو مسجد کے سامنے تھا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی اس میں تشریف لے جاتے اور وہاں کا عمدہ پانی نوش فرماتے تھے" سب سے زیادہ محبوب تھا، جب یہ آیت نازل ہوئی " تم نیکی کا اعلیٰ درجہ اس وقت تک حاصل نہیں کرسکتے جب تک کہ اپنی محبوب چیز نہ خرچ کر دو " تو حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اللہ تعالیٰ یہ فرماتا ہے اور مجھے اپنے سارے مال میں " بیرحاء" سب سے زیادہ محبوب ہے، میں اسے اللہ کے نام پر صدقہ کرتا ہوں اور اللہ کے یہاں اس کی نیکی اور ثواب کی امید رکھتا ہوں ، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ اسے جہاں مناسب سمجھیں خرچ فرما دیں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا واہ! یہ تو بڑا نفع بخش مال ہے، یہ تو بڑا نفع بخش مال ہے، میں نے تمہاری بات سن لی ہے، میری رائے یہ ہے کہ تم اسے اپنے قریبی رشتہ داروں میں تقسیم کر دو، حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں ایسا ہی کروں گا، پھر انہوں نے وہ باغ اپنے قریبی رشتہ داروں اور چچا زاد بھائیوں میں تقسیم کر دیا۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، ← مَالِكٍ، ← رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 12465

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 12466

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ بُرَيْدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا يَسْأَلُ رَجُلٌ مُسْلِمٌ اللَّهَ الْجَنَّةَ ثَلَاثًا إِلَّا قَالَتْ الْجَنَّةُ اللَّهُمَّ أَدْخِلْهُ وَلَا اسْتَجَارَ رَجُلٌ مُسْلِمٌ اللَّهَ مِنْ النَّارِ ثَلَاثًا إِلَّا قَالَتْ النَّارُ اللَّهُمَّ أَجِرْهُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص تین مرتبہ جنت کا سوال کرلے تو جنت خود کہتی ہے کہ اے اللہ! اس بندے کو مجھ میں داخلہ عطاء فرما اور جو شخص تین مرتبہ جہنم سے پناہ مانگ لے جہنم خود کہتی ہے کہ اے اللہ! اس بندے کو مجھ سے بچالے ۔

أَنَسٍ، ← بُرَيْدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ: ← يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ ← يَحْيَی بْنُ آدَمَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 12466

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 12467

حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا أَبَانُ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تَزَالُ جَهَنَّمُ تَقُولُ هَلْ مِنْ مَزِيدٍ فَيَقُولُ رَبُّ الْعَالَمِينَ فَيَضَعُ قَدَمَهُ فِيهَا فَيَنْزَوِي بَعْضُهَا إِلَى بَعْضٍ وَتَقُولُ بِعِزَّتِكَ قَطْ قَطْ وَلَا يَزَالُ فِي الْجَنَّةِ فَضْلًا حَتَّى يُنْشِئَ اللَّهُ خَلْقًا آخَرَ فَيُسْكِنَهُ فِي فُضُولِ الْجَنَّةِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جہنم مسلسل یہ کہتی رہے گی کہ کوئی اور بھی ہے تو لے آؤ، یہاں تک کہ پروردگار عالم اس میں اپنا پاؤں لٹکا دے گا، اس وقت اس کے حصے ایک دوسرے کے ساتھ مل کر سکڑ جائیں گے اور وہ کہے گی کہ تیری عزت کی قسم! بس بس اسی طرح جنت میں بھی جگہ زائد بچ جائے گی حتیٰ کہ اللہ اس کے لئے ایک اور مخلوق کو پیدا کر کے جنت کے باقی ماندہ حصے میں اسے آباد کر دے گی۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← قَتَادَةَ ← أَبَانُ، ← عَبْدُ الصَّمَدِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 12467

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 12468

حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ سَعِيدٍ الطَّالَقَانِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَصَمِّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى عُمَرَ بِجُبَّةِ سُنْدُسٍ قَالَ فَلَقِيَ عُمَرُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ بَعَثْتَ إِلَيَّ بِجُبَّةِ سُنْدُسٍ وَقَدْ قُلْتَ فِيهَا مَا قُلْتَ قَالَ إِنِّي لَمْ أَبْعَثْ بِهَا إِلَيْكَ لِتَلْبَسَهَا إِنَّمَا بَعَثْتُ بِهَا إِلَيْكَ لِتَبِيعَهَا أَوْ تَسْتَنْفِعَ بِهَا

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس ایک ریشمی جبہ بھیجا، حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے ملاقات ہوئی تو وہ کہنے لگے کہ آپ نے مجھے ریشمی جبہ بھجوایا ہے حالانکہ اس کے متعلق آپ نے جو فرمایا ہے وہ فرمایا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے وہ تمہارے پاس پہننے کے لئے نہیں بھیجا، میں نے تو صرف اس لئے بھیجا تھا کہ تم اسے بیچ دو یا اس سے کسی اور طرح نفع حاصل کر لو۔

بَعَثْتَ إِلَيَّ بِجُبَّةِ سُنْدُسٍ وَقَدْ قُلْتَ فِيهَا مَا قُلْتَ ← فَلَقِيَ عُمَرُ رَسُولَ اللَّهِ ← بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ إِلَی عُمَرَ بِجُبَّةِ سُنْدُسٍ ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ الأَصَمِّ ← أَبُو عَوَانَةَ، ← هِشَامُ بْنُ سَعِيدٍ الطَّالْقَانِيُّ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 12468

chevron_left Previous
1…179180181…264
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    0. Chapter
2. Book
    0. Chapter
3. Book
    0. Chapter
4. Book
    0. Chapter
5. Book
    0. Chapter
6. Book
    0. Chapter
7. Book
    0. Chapter
8. Book
    0. Chapter
9. Book
    0. Chapter