Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Sunday, Jumada I 8, 1448 AH · Oct 18, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
مسند امام احمد بن حنبل

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble

by Musnad Imam Bin Hanble

28,221 Hadith18 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 12433

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ عَنْ أَنَسٍ أَوْ غَيْرِهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَأْذَنَ عَلَى سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ فَقَالَ السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ فَقَالَ سَعْدٌ وَعَلَيْكَ السَّلَامُ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَلَمْ يُسْمِعْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى سَلَّمَ ثَلَاثًا وَرَدَّ عَلَيْهِ سَعْدٌ ثَلَاثًا وَلَمْ يُسْمِعْهُ فَرَجَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاتَّبَعَهُ سَعْدٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي مَا سَلَّمْتَ تَسْلِيمَةً إِلَّا هِيَ بِأُذُنِي وَلَقَدْ رَدَدْتُ عَلَيْكَ وَلَمْ أُسْمِعْكَ أَحْبَبْتُ أَنْ أَسْتَكْثِرَ مِنْ سَلَامِكَ وَمِنْ الْبَرَكَةِ ثُمَّ أَدْخَلَهُ الْبَيْتَ فَقَرَّبَ لَهُ زَبِيبًا فَأَكَلَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا فَرَغَ قَالَ أَكَلَ طَعَامَكُمْ الْأَبْرَارُ وَصَلَّتْ عَلَيْكُمْ الْمَلَائِكَةُ وَأَفْطَرَ عِنْدَكُمْ الصَّائِمُونَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کے یہاں تشریف لے گئے اور اجازت لے کر " السلام علیکم ورحمۃ اللہ " کہا، حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے آہستہ آواز سے " جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے کانوں تک نہ پہنچی" اس کا جواب دیا، حتیٰ کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ سلام کیا اور تینوں مرتبہ انہوں نے اس طرح جواب دیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نہ سن سکے، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم واپس لوٹ گئے، حضرت سعد رضی اللہ عنہ بھی پیچھے دوڑے اور کہنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ، آپ نے جتنی مرتبہ بھی سلام کیا، میں نے اپنے کانوں سے سنا اور اس کا جواب دیا لیکن آپ کو نہیں سنایا (آواز آہستہ رکھی) میں چاہتا تھا کہ آپ کی سلامتی اور برکت کی دعاء کثرت سے حاصل کروں ، پھر وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے گھر لے گئے اور کشمش پیش کی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے تناول کرنے کے بعد فرمایا تمہارا کھانا نیک لوگ کھاتے رہیں ، تم پر ملائکہ رحمت کی دعائیں کرتے رہیں اور روزہ دار تمہارے یہاں افطار کرتے رہیں ۔

أَنَسٍ أَوْ غَيْرِهِ ← ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 12433

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 12434

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُشِيرُ فِي الصَّلَاةِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں اشارہ کر دیتے تھے۔

أَنَسٍ، ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 12434

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 12435

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ حَفْصِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَنَسٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَجْمَعُ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ وَالْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ فِي السَّفَرِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سفر میں نماز ظہر اور عصر اور نماز مغرب و عشاء اکٹھی پڑھ لیتے تھے۔

كَانَ رَسُولُ اللَّهِ يَجْمَعُ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ وَالْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ فِي السَّفَرِ ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← حَفْصِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَنَسٍ، ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 12435

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 12436

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ قَالَ سَمِعْتُ ثَابِتًا يُحَدِّثُ عَنْ أَنَسٍ قَالَ لَمَّا افْتَتَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْبَرَ قَالَ الْحَجَّاجُ بْنُ عِلَاطٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ لِي بِمَكَّةَ مَالًا وَإِنَّ لِي بِهَا أَهْلًا وَإِنِّي أُرِيدُ أَنْ آتِيَهُمْ فَأَنَا فِي حِلٍّ إِنْ أَنَا نِلْتُ مِنْكَ أَوْ قُلْتُ شَيْئًا فَأَذِنَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَقُولَ مَا شَاءَ فَأَتَى امْرَأَتَهُ حِينَ قَدِمَ فَقَالَ اجْمَعِي لِي مَا كَانَ عِنْدَكِ فَإِنِّي أُرِيدُ أَنْ أَشْتَرِيَ مِنْ غَنَائِمِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابِهِ فَإِنَّهُمْ قَدْ اسْتُبِيحُوا وَأُصِيبَتْ أَمْوَالُهُمْ قَالَ فَفَشَا ذَلِكَ فِي مَكَّةَ وَانْقَمَعَ الْمُسْلِمُونَ وَأَظْهَرَ الْمُشْرِكُونَ فَرَحًا وَسُرُورًا قَالَ وَبَلَغَ الْخَبَرُ الْعَبَّاسَ فَعَقِرَ وَجَعَلَ لَا يَسْتَطِيعُ أَنْ يَقُومَ قَالَ مَعْمَرٌ فَأَخْبَرَنِي عُثْمَانُ الْجَزَرِيُّ عَنْ مِقْسَمٍ قَالَ فَأَخَذَ ابْنًا لَهُ يُقَالُ لَهُ قُثَمُ فَاسْتَلْقَى فَوَضَعَهُ عَلَى صَدْرِهِ وَهُوَ يَقُولُ حَيَّ قُثَمْ حَيَّ قُثَمْ شَبِيهَ ذِي الْأَنْفِ الْأَشَمْ بَنِي ذِي النَّعَمْ يَرْغَمْ مَنْ رَغَمْ قَالَ ثَابِتٌ عَنْ أَنَسٍ ثُمَّ أَرْسَلَ غُلَامًا إِلَى الْحَجَّاجِ بْنِ عِلَاطٍ وَيْلَكَ مَا جِئْتَ بِهِ وَمَاذَا تَقُولُ فَمَا وَعَدَ اللَّهُ خَيْرٌ مِمَّا جِئْتَ بِهِ قَالَ الْحَجَّاجُ بْنُ عِلَاطٍ لِغُلَامِهِ اقْرَأْ عَلَى أَبِي الْفَضْلِ السَّلَامَ وَقُلْ لَهُ فَلْيَخْلُ لِي فِي بَعْضِ بُيُوتِهِ لِآتِيَهُ فَإِنَّ الْخَبَرَ عَلَى مَا يَسُرُّهُ فَجَاءَ غُلَامُهُ فَلَمَّا بَلَغَ بَابَ الدَّارِ قَالَ أَبْشِرْ يَا أَبَا الْفَضْلِ قَالَ فَوَثَبَ الْعَبَّاسُ فَرَحًا حَتَّى قَبَّلَ بَيْنَ عَيْنَيْهِ فَأَخْبَرَهُ مَا قَالَ الْحَجَّاجُ فَأَعْتَقَهُ ثُمَّ جَاءَهُ الْحَجَّاجُ فَأَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ افْتَتَحَ خَيْبَرَ وَغَنِمَ أَمْوَالَهُمْ وَجَرَتْ سِهَامُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فِي أَمْوَالِهِمْ وَاصْطَفَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَفِيَّةَ بِنْتَ حُيَيٍّ فَاتَّخَذَهَا لِنَفْسِهِ وَخَيَّرَهَا أَنْ يُعْتِقَهَا وَتَكُونَ زَوْجَتَهُ أَوْ تَلْحَقَ بِأَهْلِهَا فَاخْتَارَتْ أَنْ يُعْتِقَهَا وَتَكُونَ زَوْجَتَهُ وَلَكِنِّي جِئْتُ لِمَالٍ كَانَ لِي هَاهُنَا أَرَدْتُ أَنْ أَجْمَعَهُ فَأَذْهَبَ بِهِ فَاسْتَأْذَنْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَذِنَ لِي أَنْ أَقُولَ مَا شِئْتُ فَأَخْفِ عَنِّي ثَلَاثًا ثُمَّ اذْكُرْ مَا بَدَا لَكَ قَالَ فَجَمَعَتْ امْرَأَتُهُ مَا كَانَ عِنْدَهَا مِنْ حُلِيٍّ وَمَتَاعٍ فَجَمَعَتْهُ فَدَفَعَتْهُ إِلَيْهِ ثُمَّ اسْتَمَرَّ بِهِ فَلَمَّا كَانَ بَعْدَ ثَلَاثٍ أَتَى الْعَبَّاسُ امْرَأَةَ الْحَجَّاجِ فَقَالَ مَا فَعَلَ زَوْجُكِ فَأَخْبَرَتْهُ أَنَّهُ قَدْ ذَهَبَ يَوْمَ كَذَا وَكَذَا وَقَالَتْ لَا يُخْزِيكَ اللَّهُ يَا أَبَا الْفَضْلِ لَقَدْ شَقَّ عَلَيْنَا الَّذِي بَلَغَكَ قَالَ أَجَلْ لَا يُخْزِنِي اللَّهُ وَلَمْ يَكُنْ بِحَمْدِ اللَّهِ إِلَّا مَا أَحْبَبْنَا فَتَحَ اللَّهُ خَيْبَرَ عَلَى رَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَرَتْ فِيهَا سِهَامُ اللَّهِ وَاصْطَفَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَفِيَّةَ بِنْتَ حُيَيٍّ لِنَفْسِهِ فَإِنْ كَانَتْ لَكِ حَاجَةٌ فِي زَوْجِكِ فَالْحَقِي بِهِ قَالَتْ أَظُنُّكَ وَاللَّهِ صَادِقًا قَالَ فَإِنِّي صَادِقٌ الْأَمْرُ عَلَى مَا أَخْبَرْتُكِ فَذَهَبَ حَتَّى أَتَى مَجَالِسَ قُرَيْشٍ وَهُمْ يَقُولُونَ إِذَا مَرَّ بِهِمْ لَا يُصِيبُكَ إِلَّا خَيْرٌ يَا أَبَا الْفَضْلِ قَالَ لَهُمْ لَمْ يُصِبْنِي إِلَّا خَيْرٌ بِحَمْدِ اللَّهِ قَدْ أَخْبَرَنِي الْحَجَّاجُ بْنُ عِلَاطٍ أَنَّ خَيْبَرَ قَدْ فَتَحَهَا اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ وَجَرَتْ فِيهَا سِهَامُ اللَّهِ وَاصْطَفَى صَفِيَّةَ لِنَفْسِهِ وَقَدْ سَأَلَنِي أَنْ أُخْفِيَ عَلَيْهِ ثَلَاثًا وَإِنَّمَا جَاءَ لِيَأْخُذَ مَالَهُ وَمَا كَانَ لَهُ مِنْ شَيْءٍ هَاهُنَا ثُمَّ يَذْهَبَ قَالَ فَرَدَّ اللَّهُ الْكَآبَةَ الَّتِي كَانَتْ بِالْمُسْلِمِينَ عَلَى الْمُشْرِكِينَ وَخَرَجَ الْمُسْلِمُونَ وَمَنْ كَانَ دَخَلَ بَيْتَهُ مُكْتَئِبًا حَتَّى أَتَوْا الْعَبَّاسَ فَأَخْبَرَهُمْ الْخَبَرَ فَسُرَّ الْمُسْلِمُونَ وَرَدَّ اللَّهُ يَعْنِي مَا كَانَ مِنْ كَآبَةٍ أَوْ غَيْظٍ أَوْ حُزْنٍ عَلَى الْمُشْرِكِينَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب خیبر فتح کرچکے تو حجاج بن غلاط رضی اللہ عنہ کہنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! مکہ مکرمہ میں میرا کچھ مال و دولت اور اہل خانہ ہیں ، میں ان کے پاس جانے کا ارادہ رکھتا ہوں (تاکہ انہیں یہاں لے آؤں ) کیا مجھے آپ کی طرف سے اس بات کی اجازت ہے کہ میں آپ کے حوالے سے یونہی کوئی بات اڑا دوں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اجازت دے دی کہ جو چاہیں کہیں ، چنانچہ وہ مکہ مکرمہ پہنچ کر اپنی بیوی کے پاس آئے اور اس سے کہنے لگے کہ تمہارے پاس جو کچھ ہے، سب اکٹھا کر کے مجھے دے دو، میں چاہتا ہوں کہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اور ان کے ساتھیوں کا مال غنیمت خرید لوں کیونکہ ان کا خوب قتل عام ہوا ہے اور ان کا سب مال ودولت لوٹ لیا گیا ہے، یہ خبر پورے مکہ میں پھیل گئی، مسلمانوں کی کمر ٹوٹ گئی اور مشرکین خوب خوشی کے شادیانے بجانے لگے، حضرت عباس رضی اللہ عنہ کو بھی یہ خبر معلوم ہوئی تو وہ گر پڑے اور ان کے اندر کھڑا ہونے ہمت نہ رہی، پھر انہوں نے ایک بیٹے " قثم " کو بلایا، اور چت لیٹ کر اسے اپنے سینے پر بٹھا کر یہ شعر پڑھنے لگے کہ میرا پیارا بیٹا قثم خوشبودار ناک والے کا ہم شکل ہے، جو ناز و نعمت میں پلنے والوں کا بیٹا ہے اگرچہ کسی کی ناک ہی خاک آلود ہوتی ہے۔ پھر انہوں نے ایک غلام کو حجاج بن غلاط رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجا اور فرمایا کہ افسوس! یہ تم کیسی خبر لائے ہو اور یہ کیا کہہ رہے ہو؟ اللہ نے جو وعدہ کیا ہے وہ تمہاری اس خبر سے بہت بہتر ہے، حجاج نے اس غلام سے کہا کہ ابوالفضل (حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ) کو میرا سلام کہنا اور یہ پیغام پہنچانا کہ اپنے کسی گھر میں میرے لئے تخلیہ کا موقع فراہم کریں تاکہ میں ان کے پاس آسکوں کیونکہ خبر ہی ایسی ہے کہ وہ خوش ہو جائیں گے، وہ غلام واپس پہنچ کر جب گھر کے دروازے تک پہنچا تو کہنے لگا کہ اے ابوالفضل! خوش ہوجائیے ، یہ سن کر حضرت عباس رضی اللہ عنہ خوشی سے اچھل پڑے اور اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان بوسہ دیا،غلام نے انہیں حجاج کی بات بتائی تو انہوں نے اسے آزاد کر دیا۔ تھوڑی دیر بعد حجاج ان کے پاس آئے اور انہیں بتایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم خیبر کو فتح کر چکے ہیں، ان کے مال کو غنیمت بنا چکے ، اللہ کا مقرر کردہ حصہ ان میں جاری ہوچکا، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صفیہ بنت حیی کو اپنے لئے منتخب کرلیا، اور انہیں اختیار دے دیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم انہیں آزاد کر دیں اور وہ ان کی بیوی بن جائیں یا اپنے اہل خانہ کے پاس واپس چلی جائیں ، انہوں نے اس بات کو ترجیح دی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم انہیں آزاد کر دیں اور وہ ان کی بیوی بن جائیں ، لیکن میں اپنے اس مال کی وجہ سے " جو یہاں پر تھا " آیا تھا تاکہ اسے جمع کر کے لے جاؤں ، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت لی تھی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اس بات کی اجازت دے دی تھی کہ میں جو چاہوں کہہ سکتا ہوں ، اب آپ یہ خبر تین دن تک مخفی رکھئے، اس کے بعد مناسب سمجھیں تو ذکر کر دیں ۔ اس کے بعد انہوں نے اپنی بیوی کے پاس جو کچھ زیورات اور سازو سامان تھا اور جو اس نے جمع کر رکھا تھا، اس نے وہ سب ان کے حوالے کیا اور وہ اسے لے کر روانہ ہوگئے، تین دن گذرنے کے بعد حضرت عباس رضی اللہ عنہ حجاج کی بیوی کے پاس آئے اور اس سے پوچھا کہ تمہارے شوہر کا کیا بنا؟ اس نے بتایا کہ وہ فلاں دن چلے گئے اور کہنے لگی کہ اے ابوالفضل! اللہ آپ کو شرمندہ نہ کرے، آپ کی پریشانی ہم پر بھی بڑی شاق گذری ہے، انہوں نے فرمایا ہاں ! اللہ مجھے شرمندہ نہ کرے، اور الحمدللہ! ہوا وہی کچھ ہے جو ہم چاہتے تھے، اللہ نے اپنے نبی کے ہاتھ پر خیبر کو فتح کروا دیا، مال غنیمت تقسیم ہوچکی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صفیہ بنت حیی کو اپنے لئے منتخب فرما لیا، اب اگر تمہیں اپنے خاوند کی ضرورت ہو تو اس کے پاس چلی جاؤ، وہ کہنے لگی کہ بخدا! میں آپ کو سچا ہی سمجھتی ہوں ، انہوں نے فرمایا کہ میں نے تمہیں جو کچھ بتایا ہے وہ سب سچ ہے۔ پھر حضرت عباس رضی اللہ عنہ وہاں سے چلے گئے اور قریش کی مجلسوں کے پاس سے گذرے، وہ کہنے لگے ابوالفضل! تمہیں ہمیشہ خیر ہی حاصل ہو، انہوں نے فرمایا الحمدللہ! مجھے خیر ہی حاصل ہوئی ہے، مجھے حجاج بن غلاط نے بتایا کہ خیبر کو اللہ نے اپنے پیغمبر کے ہاتھوں فتح کروادیا ہے، مال غنیمت تقسیم ہوچکا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صفیہ کو اپنے لئے منتخب کرلیا، اور حجاج نے مجھ سے درخواست کی تھی کہ تین دن کت میں یہ خبر مخفی رکھوں ، وہ تو صرف اپنا مال اور سازو سامان یہاں سے لینے کے لئے آئے تھے، پھر واپس چلے گئے، اس طرح مسلمانوں پر جو غم کی کیفیت تھی وہ اللہ نے مشرکین پر الٹادی، اور مسلمان اور وہ تمام لوگ جو اپنے گھروں میں غمگین ہو کر پڑگئے تھے اپنے اپنے گھروں سے نکل آئے اور حضرت عباس رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچے، انہوں نے انہیں سارا واقعہ سنایا، جس پر مسلمان بہت خوش ہوئے اور اللہ نے وہ غم و غصہ مشرکین پر لوٹا دیا۔

الْحَجَّاجُ بْنُ عِلَاطٍ: ← لَمَّا افْتَتَحَ رَسُولُ اللَّهِ خَيْبَرَ ← أَنَسٍ، ← ثَابِتًا ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 12436

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 12437

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ قَالَ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ عَاصِمٍ قَالَ رَأَيْتُ عِنْدَ أَنَسٍ قَدَحَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهِ ضَبَّةٌ مِنْ فِضَّةٍ

عاصم رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ کے پاس نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک پیالہ دیکھا جس میں چاندی کا حلقہ لگا ہوا تھا۔

رَأَيْتُ عِنْدَ أَنَسٍ قَدَحَ النَّبِيِّ فِيهِ ضَبَّةٌ مِنْ فِضَّةٍ ← عَاصِمٍ، ← شَرِيکٍ ← يَحْيَی بْنُ آدَمَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 12437

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 12438

حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ حُمَيْدٍ قَالَ رَأَيْتُ عِنْدَ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَدَحًا كَانَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهِ ضَبَّةُ فِضَّةٍ

حمید رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ کے پاس نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک پیالہ دیکھا جس میں چاندی کا حلقہ لگا ہوا تھا۔

رَأَيْتُ عِنْدَ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَدَحًا كَانَ لِلنَّبِيِّ فِيهِ ضَبَّةُ فِضَّةٍ ← حُمَيْدٍ ← شَرِيکٍ ← أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 12438

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 12439

حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ عَنْ ثَابِتٍ قَالَ قُلْتُ لِأَنَسٍ حَدِّثْنَا يَا أَبَا حَمْزَةَ مِنْ هَذِهِ الْأَعَاجِيبِ شَيْئًا شَهِدْتَهُ لَا تُحَدِّثُهُ مِنْ غَيْرِكَ قَالَ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الظُّهْرِ يَوْمًا ثُمَّ انْطَلَقَ حَتَّى قَعَدَ عَلَى الْمَقَاعِدِ الَّتِي كَانَ يَأْتِيهِ عَلَيْهَا جِبْرِيلُ فَجَاءَ بِلَالٌ فَنَادَاهُ بِالْعَصْرِ فَقَامَ كُلُّ مَنْ كَانَ لَهُ بِالْمَدِينَةِ أَهْلٌ يَقْضِي الْحَاجَةَ وَيُصِيبُ مِنْ الْوَضُوءِ وَبَقِيَ رِجَالٌ مِنْ الْمُهَاجِرِينَ لَيْسَ لَهُمْ أَهَالِي بِالْمَدِينَةِ فَأُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَدَحٍ أَرْوَحَ فِيهِ مَاءٌ فَوَضَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَفَّهُ فِي الْإِنَاءِ فَمَا وَسِعَ الْإِنَاءُ كَفَّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُلَّهَا فَقَالَ بِهَؤُلَاءِ الْأَرْبَعِ فِي الْإِنَاءِ ثُمَّ قَالَ ادْنُوا فَتَوَضَّئُوا وَيَدُهُ فِي الْإِنَاءِ فَتَوَضَّئُوا حَتَّى مَا بَقِيَ مِنْهُمْ أَحَدٌ إِلَّا تَوَضَّأَ قَالَ قُلْتُ يَا أَبَا حَمْزَةَ كَمْ تَرَاهُمْ قَالَ بَيْنَ السَّبْعِينَ وَالثَّمَانِينَ حَدَّثَنَا عَفَّانُ قَالَ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ عَنْ ثَابِتٍ قَالَ قُلْتُ لِأَنَسٍ حَدِّثْنَا بِشَيْءٍ مِنْ هَذِهِ الْأَعَاجِيبِ لَا تُحَدِّثُهُ عَنْ غَيْرِكَ قَالَ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الظُّهْرِ فَذَكَرَ مَعْنَاهُ

ثابت رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے عرض کیا کہ اے ابوحمزہ! ہمیں کوئی ایسا عجیب واقعہ بتائیے ، جس میں آپ خود موجود ہوں اور آپ کسی کے حوالے سے اسے بیان نہ کرتے ہوں ؟ انہوں نے فرمایا کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر کی نماز پڑھائی، اور جا کر اس جگہ پر بیٹھ گئے جہاں حضرت جبرائیل علیہ السلام ان کے پاس آیا کرتے تھے، پھر حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے آکر عصر کی اذان دی، ہر وہ آدمی جس کا مدینہ منورہ میں گھر تھا وہ اٹھ کر قضاء حاجت اور وضو کے لئے چلا گیا، کچھ مہاجرین رہ گئے جن کا مدینہ میں کوئی گھر نہ تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک کشادہ برتن پانی کا لایا گیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ہتھیلیاں اس میں رکھ دیں لیکن اس برتن میں اتنی گنجائش نہ تھی، لہٰذا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے چار انگلیاں ہی رکھ کر فرمایا قریب آکر اس سے وضو کرو، اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا دست مبارک برتن میں ہی تھا، چنانچہ ان سب نے اس سے وضو کرلیا اور ایک آدمی بھی ایسا نہ رہا جس نے وضو نہ کیا ہو۔ میں نے پوچھا اے ابوحمزہ! آپ کی رائے میں وہ کتنے لوگ تھے؟ انہوں نے فرمایا ستر سے اسی کے درمیان۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

ثَابِتٍ، ← سُلَیْمَانَ ← هاشم بن القاسم

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 12439

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 12440

حَدَّثَنَا عَفَّانُ قَالَ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ عَنْ ثَابِتٍ قَالَ قُلْتُ لِأَنَسٍ حَدِّثْنَا بِشَيْءٍ مِنْ هَذِهِ الْأَعَاجِيبِ لَا تُحَدِّثُهُ عَنْ غَيْرِكَ قَالَ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الظُّهْرِ فَذَكَرَ مَعْنَاهُ

ثابت رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے عرض کیا کہ اے ابوحمزہ! ہمیں کوئی ایسا عجیب واقعہ بتائیے ، جس میں آپ خود موجود ہوں اور آپ کسی کے حوالے سے اسے بیان نہ کرتے ہوں ؟ انہوں نے فرمایا کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر کی نماز پڑھائی، اور جا کر اس جگہ پر بیٹھ گئے جہاں حضرت جبرائیل علیہ السلام ان کے پاس آیا کرتے تھے، پھر حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے آکر عصر کی اذان دی، ہر وہ آدمی جس کا مدینہ منورہ میں گھر تھا وہ اٹھ کر قضاء حاجت اور وضو کے لئے چلا گیا، کچھ مہاجرین رہ گئے جن کا مدینہ میں کوئی گھر نہ تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک کشادہ برتن پانی کا لایا گیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ہتھیلیاں اس میں رکھ دیں لیکن اس برتن میں اتنی گنجائش نہ تھی، لہٰذا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے چار انگلیاں ہی رکھ کر فرمایا قریب آکر اس سے وضو کرو، اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا دست مبارک برتن میں ہی تھا، چنانچہ ان سب نے اس سے وضو کرلیا اور ایک آدمی بھی ایسا نہ رہا جس نے وضو نہ کیا ہو۔ میں نے پوچھا اے ابوحمزہ! آپ کی رائے میں وہ کتنے لوگ تھے؟ انہوں نے فرمایا ستر سے اسی کے درمیان۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَاةَ الظُّهْرِ فَذَكَرَ مَعْنَاهُ ← غَيْرِكَ ← بِشَيْءٍ مِنْ هَذِهِ الْأَعَاجِيبِ لَا تُحَدِّثُهُ ← قُلْتُ لأَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← سُلَيْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ ← عَفَّانُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 12440

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 12441

حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ حَدَّثَنَا الْمُبَارَكُ عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ شَقَّ عَلَى الْأَنْصَارِ النَّوَاضِحُ فَاجْتَمَعُوا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْأَلُونَهُ أَنْ يُجْرِيَ لَهُمْ نَهْرًا سَيْحًا فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرْحَبًا بِالْأَنْصَارِ وَاللَّهِ لَا تَسْأَلُونِي الْيَوْمَ شَيْئًا إِلَّا أَعْطَيْتُكُمُوهُ وَلَا أَسْأَلُ اللَّهَ لَكُمْ شَيْئًا إِلَّا أَعْطَانِيهِ فَقَالَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ اغْتَنِمُوهَا وَاطْلُبُوا الْمَغْفِرَةَ فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ ادْعُ اللَّهَ لَنَا بِالْمَغْفِرَةِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِلْأَنْصَارِ وَلِأَبْنَاءِ الْأَنْصَارِ وَلِأَبْنَاءِ أَبْنَاءِ الْأَنْصَارِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ انصار میں کچھ کھیت تقسیم ہوئے، وہ لوگ اکٹھے ہو کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس یہ درخواست لے کر آئے کہ انہیں ایک جاری نہر میں سے پانی لینے کی اجازت دی جائے، وہ اس کا کرایہ ادا کر دیں گے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انصار کو خوش آمدید! بخدا! آج تم مجھ سے جو مانگو گے میں تمہیں دوں گا اور میں اللہ سے تمہارے لئے جس چیز کا سوال کروں گا، اللہ وہ مجھے ضرور عطاء فرمائے گا، یہ سن کر وہ ایک دوسرے سے کہنے لگے موقع غنیمت سمجھو اور اپنے گناہوں کی معافی کا مطالبہ کرلو، چنانچہ وہ کہنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہمارے لئے اللہ سے بخشش کی دعاء کردیجئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے اللہ! انصار کی انصار کے بچوں کی اور انصار کے بچوں کے بچوں کی مغفرت فرما۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ← المبارك ← أَبُو النَّضْرِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 12441

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 12442

حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ حَدَّثَنَا الْمُبَارَكُ حَدَّثَنِي حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ لَمَّا تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ كَانَ رَجُلٌ يَلْحَدُ وَآخَرُ يَضْرَحُ فَقَالُوا نَسْتَخِيرُ رَبَّنَا فَبَعَثَ إِلَيْهِمَا فَأَيُّهُمَا سَبَقَ تَرَكْنَاهُ فَأَرْسَلَ إِلَيْهِمَا فَسَبَقَ صَاحِبُ اللَّحْدِ فَأَلْحَدُوا لَهُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم دنیا سے رخصت ہوگئے تو اس وقت مدینہ میں ایک صاحب بغلی قبر بناتے تھے اور دوسرے صاحب صندوقی قبر، لوگوں نے سوچا کہ ہم اپنے رب سے خیر طلب کرتے ہیں اور دونوں کے پاس ایک ایک آدمی بھیج دیتے ہیں ، جو نہ مل سکا اسے چھوڑ دیں گے، چنانچہ انہوں نے دونوں کے پاس ایک ایک آدمی بھیج دیا، لحد بنانے والے صاحب مل گئے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے لحد کھودی۔

كَانَ رَجُلٌ يَلْحَدُ وَآخَرُ يَضْرَحُ ← لَمَّا تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ، ← المبارك ← أَبُو النَّضْرِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 12442

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 12443

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ حَدَّثَنَا عِمْرَانُ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ قَالَ كَوَانِي أَبُو طَلْحَةَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَظْهُرِنَا فَمَا نُهِيتُ عَنْهُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ مجھے حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں داغا لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اس سے منع نہیں فرمایا۔

كواني أبو طلحة ورسول الله بين أظهرنا فما نهيت عنه. ← أَنَسٍ، ← قَتَادَةَ ← عِمْرَانُ، ← سُلَيْمَانَ بْنِ دَاوُدَ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 12443

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 12444

حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ حَدَّثَنَا الْمُبَارَكُ عَنْ الْحَسَنِ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ دَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَلَى سَرِيرٍ مُضْطَجِعٌ مُرْمَلٌ بِشَرِيطٍ وَتَحْتَ رَأْسِهِ وَسَادَةٌ مِنْ أَدَمٍ حَشْوُهَا لِيفٌ فَدَخَلَ عَلَيْهِ نَفَرٌ مِنْ أَصْحَابِهِ وَدَخَلَ عُمَرُ فَانْحَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ انْحِرَافَةً فَلَمْ يَرَ عُمَرُ بَيْنَ جَنْبِهِ وَبَيْنَ الشَّرِيطِ ثَوْبًا وَقَدْ أَثَّرَ الشَّرِيطُ بِجَنْبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَكَى عُمَرُ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا يُبْكِيكَ يَا عُمَرُ قَالَ وَاللَّهِ إِلَّا أَنْ أَكُونَ أَعْلَمُ أَنَّكَ أَكْرَمُ عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ كِسْرَى وَقَيْصَرَ وَهُمَا يَعْبَثَانِ فِي الدُّنْيَا فِيمَا يَعْبَثَانِ فِيهِ وَأَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْمَكَانِ الَّذِي أَرَى فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا تَرْضَى أَنْ تَكُونَ لَهُمْ الدُّنْيَا وَلَنَا الْآخِرَةُ قَالَ عُمَرُ بَلَى قَالَ فَإِنَّهُ كَذَاكَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی چارپائی پر لیٹے ہوئے تھے، جسے کھجور کی بٹی ہوئی رسی سے باندھا گیا تھا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر مبارک کے نیچے چمڑے کا ایک تکیہ تھا جس میں چھال بھری ہوئی تھی، اسی اثناء میں چند صحابہ کرام رضی اللہ عنہم بھی آگئے جن میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ بھی تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم پلٹ کر اٹھے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلو اور رسی کے درمیان کوئی کپڑا نظر نہ آیا اسی وجہ سے اس کے نشانات نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک پہلو پر پڑ گئے تھے، یہ دیکھ کر حضرت عمر رضی اللہ عنہ رونے لگے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عمر! کیوں روتے ہو؟ انہوں نے عرض کیا بخدا! میں صرف اس لئے روتا ہوں کہ میں چاہتا ہوں کہ اللہ کی نگاہوں میں آپ قیصروکسریٰ سے کہیں زیادہ معزز ہیں اور وہ دنیا میں عیاشی کر رہے ہیں ، جب کہ آپ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اس جگہ پر ہیں جو میں دیکھ رہا ہوں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم اس بات پر راضی نہیں ہو کہ ان کے لئے دنیا ہو اور ہمارے لئے آخرت؟ انہوں نے عرض کیا کیوں نہیں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تو پھر اسی طرح ہوگا۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← الْحَسَنِ، ← المبارك ← أَبُو النَّضْرِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 12444

chevron_left Previous
1…177178179…264
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    0. Chapter
2. Book
    0. Chapter
3. Book
    0. Chapter
4. Book
    0. Chapter
5. Book
    0. Chapter
6. Book
    0. Chapter
7. Book
    0. Chapter
8. Book
    0. Chapter
9. Book
    0. Chapter