Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Sunday, Jumada I 8, 1448 AH · Oct 18, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند امام احمد بن حنبل

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble

by Musnad Imam Bin Hanble

28,221 Hadith18 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 12325

حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ عِيسَى وَزَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ قَالَا أَنَا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَى عَلَى حَمْزَةَ فَوَقَفَ عَلَيْهِ فَرَآهُ قَدْ مُثِّلَ بِهِ فَقَالَ لَوْلَا أَنْ تَجِدَ صَفِيَّةُ فِي نَفْسِهَا لَتَرَكْتُهُ حَتَّى تَأْكُلَهُ الْعَافِيَةُ وَقَالَ زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ تَأْكُلَهُ الْعَاهَةُ حَتَّى يُحْشَرَ مِنْ بُطُونِهَا ثُمَّ قَالَ دَعَا بِنَمِرَةٍ فَكَفَّنَهُ فِيهَا قَالَ وَكَانَتْ إِذَا مُدَّتْ عَلَى رَأْسِهِ بَدَتْ قَدَمَاهُ وَإِذَا مُدَّتْ عَلَى قَدَمَيْهِ بَدَا رَأْسُهُ قَالَ وَكَثُرَ الْقَتْلَى وَقَلَّتْ الثِّيَابُ قَالَ وَكَانَ يُكَفَّنُ أَوْ يُكَفِّنُ الرَّجُلَيْنِ شَكَّ صَفْوَانُ وَالثَّلَاثَةَ فِي الثَّوْبِ الْوَاحِدِ قَالَ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْأَلُ عَنْ أَكْثَرِهِمْ قُرْآنًا فَيُقَدِّمُهُ إِلَى الْقِبْلَةِ قَالَ فَدَفَنَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ يُصَلِّ عَلَيْهِمْ وَقَالَ زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ فَكَانَ الرَّجُلُ وَالرَّجُلَانِ وَالثَّلَاثَةُ يُكَفَّنُونَ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کی نعش مبارک کے پاس آکر کھڑے ہوگئے، دیکھا تو ان کی لاش کا مشرکین نے مثلہ کر دیا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر صفیہ اپنے دل میں بوجھ نہ بناتیں تو میں انہیں یونہی چھوڑ دیتا تاکہ پرندے ان کا گوشت کھالیتے اور قیامت کے دن یہ پرندوں کے پیٹوں سے نکلتے، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک چادر منگوا کر اس میں انہیں کفنایا، جب اس چادر کو سر پر ڈالا جاتا تو پاؤں کھل جاتے اور پاؤں پر ڈالا جاتا تو سر کھل جاتا۔ غزوہ احد کے موقع پر شہداء کی تعداد زیادہ اور کفن کم پڑگئے تھے، جس کی وجہ سے ایک ایک کفن میں دو دو تین تین آدمیوں کو لپٹ دیا جاتا تھا، البتہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم یہ پوچھتے جاتے تھے کہ ان میں سے قرآن کسے زیادہ آتا تھا؟ پھر پہلے اس ہی کو قبلہ رخ فرماتے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طرح ان سب کو دفنا دیا اور ان کی نماز جنازہ نہیں پڑھی۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← الزُّهْرِيِّ، ← أَسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ← صَفْوَانُ بْنُ عِيسَى وَزَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 12325

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 12326

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ انْتَهَيْتُ إِلَى السِّدْرَةِ فَإِذَا نَبْقُهَا مِثْلُ الْجِرَارِ وَإِذَا وَرَقُهَا مِثْلُ آذَانِ الْفِيَلَةِ فَلَمَّا غَشِيَهَا مِنْ أَمْرِ اللَّهِ مَا غَشِيَهَا تَحَوَّلَتْ يَاقُوتًا أَوْ زُمُرُّدًا أَوْ نَحْوَ ذَلِكَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں سدرۃ المنتہیٰ پہنچا تو دیکھا کہ اس کے پھل مٹکے برابر اور پتے ہاتھی کے کان برابر ہیں ، جب اسے اللہ کے حکم سے اس چیز نے ڈھانپ لیا جس نے ڈھانپا تو وہ یاقوت اور زمرد میں تبدیل ہوگیا۔

أَنَسٍ، ← حُمَيْدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 12326

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 12327

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ الرُّبَيِّعَ عَمَّةَ أَنَسٍ كَسَرَتْ ثَنِيَّةَ جَارِيَةٍ فَطَلَبُوا إِلَى الْقَوْمِ الْعَفْوَ فَأَبَوْا فَأَتَوْا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ الْقِصَاصُ قَالَ أَنَسُ بْنُ النَّضْرِ يَا رَسُولَ اللَّهِ تَكْسِرُ ثَنِيَّةَ فُلَانَةَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا أَنَسُ كِتَابُ اللَّهِ الْقِصَاصُ قَالَ فَقَالَ وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ لَا تُكْسَرُ ثَنِيَّةُ فُلَانَةَ قَالَ فَرَضِيَ الْقَوْمُ فَعَفَوْا وَتَرَكُوا الْقِصَاصَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ مِنْ عِبَادِ اللَّهِ مَنْ لَوْ أَقْسَمَ عَلَى اللَّهِ أَبَرَّهُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ربیع " جو حضرت انس رضی اللہ عنہ کی پھوپھی ہیں " نے ایک لڑکی کا دانت توڑ دیا، پھر ان کے اہل خانہ نے لڑکی والوں سے معافی مانگی لیکن انہوں نے معاف کرنے سے انکار کر دیا، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آکر قصاص کا مطالبہ کرنے لگے، انس بن نضر رضی اللہ عنہ کہنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا فلاں (میری بہن) کا دانت توڑ دیا جائے گا؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا انس! کتاب اللہ کا فیصلہ قصاص ہی کا ہے، وہ کہنے لگے کہ اس ذات کی قسم! جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے، فلاں عورت کا دانت نہیں توڑا جائے گا، اسی اثناء میں وہ لوگ راضی ہوگئے اور انہوں نے انہیں معاف کر دیا اور قصاص کا مطالبہ ترک کر دیا، اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ کے بعض بندے ایسے ہوتے ہیں جو اگر کسی کام پر اللہ کی قسم کھالیں تو اللہ انہیں ان کی قسم میں ضرور سچا کرتا ہے۔

أَنَسٍ، ← حُمَيْدٍ ← ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 12327

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 12328

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ ابْنِ عَوْنٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ الْمُنْذِرِ بْنِ جَارُودٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ صَنَعَ بَعْضُ عُمُومَتِي طَعَامًا فَقَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنِّي أُحِبُّ أَنْ تَأْكُلَ فِي بَيْتِي وَتُصَلِّيَ فِيهِ قَالَ فَأَتَى وَفِي الْبَيْتِ فَحْلٌ مِنْ تِلْكَ الْفُحُولِ قَالَ فَأَمَرَ بِنَاحِيَةٍ مِنْهُ فَكُنِسَ وَرُشَّ وَصَلَّى وَصَلَّيْنَا

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میرے ایک چچا نے ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی کھانے پر دعوت کی اور عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میری خواہش ہے کہ آپ میرے گھر میں کھانا کھائیں اور اس میں نماز پڑھیں ، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے، وہاں گھر میں ایک چٹائی پڑی ہوئی تھی جو پرانی ہو کر کالی ہوچکی تھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ایک کونے میں رکھنے کا حکم دیا، اسے جھاڑا گیا اور اس پر پانی چھڑک دیا گیا، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وہاں نماز پڑھی اور ہم نے بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی۔

فَأَمَرَ بِنَاحِيَةٍ مِنْهُ فَكُنِسَ وَرُشَّ وَصَلَّى وَصَلَّيْنَا ← فَأَتَى وَفِي الْبَيْتِ فَحْلٌ مِنْ تِلْكَ الْفُحُولِ ← لِلنَّبِيِّ إِنِّي أُحِبُّ أَنْ تَأْكُلَ فِي بَيْتِي وَتُصَلِّيَ فِيهِ ← صَنَعَ بَعْضُ عُمُومَتِي طَعَامًا ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ الْمُنْذِرِ بْنِ جَارُودٍ، ← أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ ← ابْنِ عَوْنٍ ← ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 12328

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 12329

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ سُلَيْمَانَ عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ بَدْرٍ مَنْ يَنْظُرُ مَا فَعَلَ أَبُو جَهْلٍ قَالَ فَانْطَلَقَ ابْنُ مَسْعُودٍ فَوَجَدَهُ قَدْ ضَرَبَهُ ابْنَا عَفْرَاءَ حَتَّى بَرَكَ قَالَ فَأَخَذَ بِلِحْيَتِهِ وَقَالَ أَنْتَ أَبُو جَهْلٍ قَالَ وَهَلْ فَوْقَ رَجُلٍ قَتَلَهُ قَوْمُهُ أَوْ قَالَ قَتَلْتُمُوهُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ غزوہ بدر کے دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کون جا کر دیکھے گا کہ ابوجہل کا کیا بنا؟ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ اس خدمت کے لئے چلے گئے، انہوں نے دیکھا کہ عفراء کے دونوں بیٹوں نے اسے مارمار کر ٹھنڈا کردیا ہے، حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے ابوجہل کی ڈاڑھی پکڑ کر فرمایا کیا تو ہی ابوجہل ہے؟ اس نے کہا کیا تم نے مجھ سے بڑے بھی کسی آدمی کو قتل کیا ہے؟

أَنَسٍ، ← سُلَیْمَانَ ← ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 12329

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 12330

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ وَعَفَّانُ قَالَا حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ هِشَامٍ قَالَ عَفَّانُ أَخْبَرَنِي هِشَامُ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَنَسٍ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ جَاءَتْ امْرَأَةٌ مِنْ الْأَنْصَارِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ عَفَّانُ مَعَهَا ابْنٌ لَهَا فَقَالَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ وَقَالَ ابْنُ جَعْفَرٍ قَالَ فَخَلَا بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنَّكُمْ لَأَحَبُّ النَّاسِ إِلَيَّ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک انصاری عورت (اپنے بچے کے ساتھ) نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے تخلیہ میں فرمایا اس ذات کی قسم! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے، تم لوگ مجھے تمام لوگوں میں سب سے زیادہ محبوب ہو، یہ جملہ تین مرتبہ فرمایا۔

فَخَلَا بِهَا رَسُولُ اللَّهِ ← ابْنُ جَعْفَرٍ ← وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ← عَفَّانُ مَعَهَا ابْنٌ لَهَا ← جَاءَتِ امْرَأَةٌ مِنَ الْأَنْصَارِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← هِشَامُ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَنَسٍ ← عَفَّانُ، ← هِشَامٍ ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ وَعَفَّانُ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 12330

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 12331

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ هِشَامِ بْنِ زَيْدٍ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي الْأَنْصَارِ إِنَّكُمْ لَمِنْ أَحَبِّ النَّاسِ إِلَيَّ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار کے متعلق فرمایا تم لوگ مجھے تمام لوگوں میں سب سے زیادہ محبوب ہو۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← هِشَامِ بْنِ زَيْدٍ ← شُعْبَةُ، ← سُلَيْمَانَ بْنِ دَاوُدَ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 12331

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 12332

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سَهْلِ أَبِي الْأَسَدِ قَالَ حَدَّثَنِي بُكَيْرُ بْنُ وَهْبٍ الْجَزَرِيُّ قَالَ قَالَ لِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ أُحَدِّثُكَ حَدِيثًا مَا أُحَدِّثُهُ كُلَّ أَحَدٍ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ عَلَى بَابِ الْبَيْتِ وَنَحْنُ فِيهِ فَقَالَ الْأَئِمَّةُ مِنْ قُرَيْشٍ إِنَّ لَهُمْ عَلَيْكُمْ حَقًّا وَلَكُمْ عَلَيْهِمْ حَقًّا مِثْلَ ذَلِكَ مَا إِنْ اسْتُرْحِمُوا فَرَحِمُوا وَإِنْ عَاهَدُوا وَفَوْا وَإِنْ حَكَمُوا عَدَلُوا فَمَنْ لَمْ يَفْعَلْ ذَلِكَ مِنْهُمْ فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ

بکیر بن وہب رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ مجھ سے حضرت انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں تم سے ایک ایسی حدیث بیان کرتا ہوں جو میں ہر ایک سے بیان نہیں کرتا، اور وہ یہ کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک گھر کے دروازے پر کھڑے ہوئے، ہم اس کے اندر تھے اور فرمایا امراء قریش میں سے ہوں گے، اور ان کا تم پر حق بنتا ہے، اور ان پر تمہارا بھی اسی طرح حق بنتا ہے، جب ان سے لوگ رحم کی درخواست کریں تو رحم کا معاملہ کریں ، وعدہ کریں تو پورا کریں ، فیصلہ کریں تو انصاف کریں ، جو شخص ایسا نہ کرے اس پر اللہ کی، فرشتوں کی اور تمام لوگوں کی لعنت ہے۔

لِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ أُحَدِّثُكَ حَدِيثًا مَا أُحَدِّثُهُ كُلَّ أَحَدٍ ← بُكَيْرُ بْنُ وَهْبٍ الْجَزَرِيُّ ← سَهْلٍ أَبِي الأَسْدِ ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 12332

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 12333

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ حَمْزَةَ الضَّبِّيِّ عَنْ أَنَسٍ أَنَّهُ قَالَ أَلَا أُحَدِّثُكَ حَدِيثًا لَعَلَّ اللَّهَ يَنْفَعُكَ بِهِ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا نَزَلَ مَنْزِلًا لَمْ يَرْتَحِلْ حَتَّى يُصَلِّيَ الظُّهْرَ قَالَ فَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو وَإِنْ كَانَ بِنِصْفِ النَّهَارِ قَالَ وَإِنْ كَانَ بِنِصْفِ النَّهَارِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ وَحَمْزَةُ الضَّبِّيُّ قَالَ لَقِيتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ بِفَمِ النِّيلِ وَمَشَى وَبَيْنِي وَبَيْنَهُ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو فَذَكَرَ مِثْلَهُ قَالَ فَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو وَإِنْ كَانَ بِنِصْفِ النَّهَارِ

حمزہ رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا کیا میں تم سے ایک حدیث بیان کروں کہ اللہ تمہیں اس سے فائدہ پہنچائے اور وہ یہ کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی منزل پر پڑاؤ کرتے تو ظہر کی نماز پڑھنے سے پہلے وہاں سے کوچ نہیں کرتے تھے، محمد بن عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ اے ابوحمزہ! اگرچہ نصف النہار کے وقت میں ہو؟ انہوں نے فرمایا ہاں ! اگرچہ نصف النہار کے وقت ہی ہو۔ حمزہ رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ دریائے نیل کے کنارے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے میری ملاقات ہوگئی، میرے اور ان کے درمیان محمد بن عمرو تھے، پھر راوی نے مکمل حدیث ذکر کی۔

أَلا أُحَدِّثُكَ حَدِيثًا لَعَلَّ اللَّهَ يَنْفَعَكَ بِهِ ← أَنَسِ، أَنَّهُ ← حَمْزَةَ الضَّبِّيِّ، ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 12333

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 12334

حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ وَحَمْزَةُ الضَّبِّيُّ قَالَ لَقِيتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ بِفَمِ النِّيلِ وَمَشَى وَبَيْنِي وَبَيْنَهُ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو فَذَكَرَ مِثْلَهُ قَالَ فَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو وَإِنْ كَانَ بِنِصْفِ النَّهَارِ

حمزہ رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ دریائے نیل کے کنارے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے میری ملاقات ہوگئی، میرے اور ان کے درمیان محمد بن عمرو تھے، پھر راوی نے مکمل حدیث ذکر کی۔

مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو وَإِنْ كَانَ بِنِصْفِ النَّهَارِ ← مِثْلَہُ ← لَقِيتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ بِفَمِ النِّيلِ وَمَشَى وَبَيْنِي وَبَيْنَهُ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ← شُعْبَةُ وَحَمْزَةُ الضَّبِّيُّ ← عَبْدُ الصَّمَدِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 12334

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 12335

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ عَنْ أَبِي فَزَارَةَ قَالَ سَأَلْتُ أَنَسًا عَنْ الرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْمَغْرِبِ قَالَ كُنَّا نَبْتَدِرُهُمَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ شُعْبَةُ ثُمَّ قَالَ بَعْدُ وَسَأَلْتُهُ غَيْرَ مَرَّةٍ فَقَالَ كُنَّا نَبْتَدِرُهُمَا وَلَمْ يَقُلْ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

ابوفزارہ رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مغرب سے پہلے دو رکعتوں کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دورِ باسعادت میں ان کی طرف سبقت کیا کرتے تھے، اس کے بعد دوبارہ پوچھا تو انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دورِ باسعادت کا تذکرہ نہیں کیا۔

كُنَّا نَبْتَدِرُهُمَا وَلَمْ يَقُلْ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ ← بَعْدُ وَسَأَلْتُهُ غَيْرَ مَرَّةٍ ← شُعْبَةُ: ثُمَّ ← كُنَّا نَبْتَدِرُهُمَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ ← الرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْمَغْرِبِ ← سَأَلْتُ أَنَسًا ← أَبِي فَزَارَةَ ← يَعْلَى بْنُ عَطَاءٍ ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 12335

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 12336

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي صَدَقَةَ مَوْلَى أَنَسٍ قَالَ سَأَلْتُ أَنَسًا عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ كَانَ يُصَلِّي الظُّهْرَ إِذَا زَالَتْ الشَّمْسُ وَالْعَصْرَ بَيْنَ صَلَاتَيْكُمْ هَاتَيْنِ وَالْمَغْرِبَ إِذَا غَرَبَتْ الشَّمْسُ وَالْعِشَاءَ إِذَا غَابَ الشَّفَقُ وَالصُّبْحَ إِذَا طَلَعَ الْفَجْرُ إِلَى أَنْ يَنْفَسِحَ الْبَصَرُ

ابوصدقہ " کو حضرت انس رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام ہیں " کہتے ہیں کہ میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ظہر کی نماز زوال کے بعد پڑھتے تھے، عصر ان دو نمازوں کے درمیان پڑھتے تھے، مغرب غروب آفتاب کے وقت پڑھتے تھے اور نماز عشاء شفق غائب ہوجانے کے بعد پڑھتے تھے اور نماز فجر اس وقت پڑھتے تھے جب طلوع فجر ہوجائے یہاں تک کہ نگاہیں کھل جائیں ۔

صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ ← سَأَلْتُ أَنَسًا ← أَبِي صَدَقَةَ مَوْلَى أَنَسٍ ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 12336

chevron_left Previous
1…168169170…264
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    0. Chapter
2. Book
    0. Chapter
3. Book
    0. Chapter
4. Book
    0. Chapter
5. Book
    0. Chapter
6. Book
    0. Chapter
7. Book
    0. Chapter
8. Book
    0. Chapter
9. Book
    0. Chapter