Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Tuesday, Jumada I 10, 1448 AH · Oct 20, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند امام احمد بن حنبل

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble

by Musnad Imam Bin Hanble

28,221 Hadith18 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 12193

حَدَّثَنَا أَسْبَاطُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا التَّيْمِيُّ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ قَالَ كَانَتْ عَامَّةُ وَصِيَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ حَضَرَهُ الْمَوْتُ الصَّلَاةَ وَمَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ حَتَّى جَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُغَرْغِرُ بِهَا صَدْرُهُ وَمَا يَكَادُ يُفِيضُ بِهَا لِسَانُهُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ دنیا سے رخصتی کے وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی عمومی وصیت نماز اور غلاموں کا خیال رکھنے سے متعلق تھی حتیٰ کہ جب غرغرہ کی کیفیت طاری ہوئی تب بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک پر یہی الفاظ جاری تھے۔

أَنَسٍ، ← قَتَادَةَ ← التَّيْمِيِّ ← أَسْبَاطُ بْنُ مُحَمَّدٍ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 12193

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 12194

حَدَّثَنَا قُرَّانُ بْنُ تَمَّامٍ عَنْ يُونُسَ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ بُرَيْدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا اسْتَجَارَ عَبْدٌ مِنْ النَّارِ ثَلَاثَ مِرَارٍ إِلَّا قَالَتْ النَّارُ اللَّهُمَّ أَجِرْهُ مِنِّي وَلَا يَسْأَلُ الْجَنَّةَ إِلَّا قَالَتْ الْجَنَّةُ اللَّهُمَّ أَدْخِلْهُ إِيَّايَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص تین مرتبہ جہنم سے پناہ مانگ لے جہنم خود کہتی ہے کہ اے اللہ! اس بندے کو مجھ سے بچالے اور جو شخص تین مرتبہ جنت کا سوال کرلے تو جنت خود کہتی ہے کہ اے اللہ! اس بندے کو مجھ میں داخلہ عطاء فرما۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← بُرَيْدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ: ← أَبِي إِسْحَاقَ ← يُونُسَ ← قران بن تمام

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 12194

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 12195

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنْ مُحَمَّدٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ النَّحْرِ مَنْ كَانَ ذَبَحَ قَبْلَ الصَّلَاةِ فَلْيُعِدْ فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا يَوْمٌ يُشْتَهَى فِيهِ اللَّحْمُ وَذَكَرَ هَنَةً مِنْ جِيرَانِهِ كَأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَدَّقَهُ قَالَ وَعِنْدِي جَذَعَةٌ هِيَ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ شَاتَيْ لَحْمٍ قَالَ فَرَخَّصَ لَهُ قَالَ فَلَا أَدْرِي أَبَلَغَتْ رُخْصَتُهُ مَنْ سِوَاهُ أَوْ لَا قَالَ ثُمَّ انْكَفَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى كَبْشَيْنِ فَذَبَحَهُمَا فَقَامَ النَّاسُ إِلَى غُنَيْمَةٍ فَتَوَزَّعُوهَا أَوْ قَالَ فَتَجَزَّعُوهَا

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عیدالاضحی کے دن فرمایا کہ جس شخص نے نماز سے پہلے قربانی کرلی ہو، اسے دوبارہ قربانی کر لینی چاہئے ، ایک آدمی یہ سن کر کھڑا ہوگیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ دن ایسا ہے جس میں لوگوں کو عام طور پر گوشت کی خواہش ہوتی ہے پھر اس نے اپنے کسی پڑوسی کے اس معاملے کا تذکرہ کیا تو ایسا محسوس ہوا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کی تصدیق کر رہے ہیں ، پھر اس نے کہا کہ میرے پاس ایک چھ ماہ کا بچہ ہے، جو مجھے دو بکریوں کے گوشت سے بھی زیادہ محبوب ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اس ہی کی قربانی کرنے کی اجازت دے دی، اب مجھے نہیں معلوم کہ یہ اجازت دوسروں کے لئے بھی ہے یا نہیں ، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے دو مینڈھوں کی طرف متوجہ ہوئے اور انہیں ذبح فرمایا: لوگ " مال غنیمت " کے انتظار میں کھڑے تھے، سو انہوں نے اسے تقسیم کرلیا۔

أَنَسٍ، ← مُحَمَّدٍ ← أَيُّوبَ، ← إِسْمَاعِيلُ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 12195

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 12196

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ خَطَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ أَخَذَ الرَّايَةَ زَيْدٌ فَأُصِيبَ ثُمَّ أَخَذَهَا جَعْفَرٌ فَأُصِيبَ ثُمَّ أَخَذَهَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَوَاحَةَ فَأُصِيبَ ثُمَّ أَخَذَهَا خَالِدٌ عَنْ غَيْرِ إِمْرَةٍ فَفَتَحَ اللَّهُ عَلَيْهِ وَقَالَ مَا يَسُرُّهُمْ أَوْ قَالَ مَا يَسُرُّنِي أَنَّهُمْ عِنْدَنَا قَالَ وَإِنَّ عَيْنَيْهِ لَتَذْرِفَانِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیتے ہوئے ہمیں خبر دی کہ زید نے جھنڈا پکڑا لیکن شہید ہوگئے، پھر جعفر نے پکڑا لیکن وہ بھی شہید ہوگئے، پھر عبداللہ بن رواحہ نے اسے پکڑا لیکن وہ بھی شہید ہوگئے، پھر خالد بن ولید نے کسی سالاری کے بغیر جھنڈا پکڑا اور اللہ نے ان کے ہاتھوں پر مسلمانوں کو فتح عطاء فرمائی، اور مجھے اس بات کی خوشی نہیں ہے کہ وہ ہمارے پاس ہی رہتے، اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ، ← أَيُّوبَ، ← إِسْمَاعِيلُ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 12196

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 12197

حَدَّثَنَا وَكِيعُ بْنُ الْجَرَّاحِ الرُّؤَاسِيُّ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ عَنْ يُوسُفَ عَنْ أَنَسٍ قَالَ رَخَّصَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الرُّقْيَةِ مِنْ الْعَيْنِ وَالْحُمَةِ وَالنَّمْلَةِ حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ يُوسُفَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ عَنْ أَنَسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ مِثْلَهُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نظر بد، ڈنک اور نملہ (جس کی بیماری میں پسلی دانوں سے بھر جاتی ہے) کے لئے جھاڑ پھونک کی اجازت دی ہے ۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

النَّبِيِّ فَذَكَرَ مِثْلَهُ ← أَنَسٍ، ← يُوسُفَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ، ← عَاصِمٍ، ← سُفْيَانَ، ← أَبُو أَحْمَدَ ← «رَخَّصَ رَسُولُ اللَّهِ فِي الرُّقْيَةِ مِنَ الْعَيْنِ، وَالْحُمَةِ، وَالنَّمْلَةِ» ← أَنَسٍ، ← يُوسُفُ، ← عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ ← سُفْيَانَ، ← وَكِيعُ بْنُ الْجَرَّاحِ الرُّؤَاسِيُّ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 12197

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 12198

حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ يُوسُفَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ عَنْ أَنَسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ مِثْلَهُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نظر بد، ڈنک اور نملہ (جس کی بیماری میں پسلی دانوں سے بھر جاتی ہے) کے لئے جھاڑ پھونک کی اجازت دی ہے ۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

النَّبِيِّ فَذَكَرَ مِثْلَهُ ← أَنَسٍ، ← يُوسُفَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ، ← عَاصِمٍ، ← سُفْيَانَ، ← أَبُو أَحْمَدَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 12198

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 12199

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ وَبَهْزٌ قَالَا حَدَّثَنَا هَمَّامٌ عَنْ قَتَادَةَ قَالَ بَهْزٌ فِي حَدِيثِهِ أَخْبَرَنَا قَتَادَةُ عَنْ أَنَسٍ قَالَ كَانَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَعْرٌ يُصِيبُ مَنْكِبَيْهِ وَقَالَ بَهْزٌ يَضْرِبُ مَنْكِبَيْهِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بال کندھوں تک آتے تھے۔

كَانَ لِرَسُولِ اللَّهِ شَعْرٌ يُصِيبُ مَنْكِبَيْهِ وَقَالَ بَهْزٌ يَضْرِبُ مَنْكِبَيْهِ ← أَنَسٍ، ← قَتَادَةَ ← بَهْزٌ فِي حَدِيثِهِ ← قَتَادَةَ ← هَمَّامٌ، ← وَكِيعٌ وَبَهْزٌ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 12199

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 12200

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا عَزْرَةُ بْنُ ثَابِتٍ الْأَنْصَارِيُّ عَنْ ثُمَامَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَنَسٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أُتِيَ بِطِيبٍ لَمْ يَرُدَّهُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں جب خوشبو پیش کی جاتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے رد نہ فرماتے تھے۔

«كَانَ رَسُولُ اللهِ إِذَا أُتِيَ بِطِيبٍ لَمْ يَرْدَّهُ» ← أَنَسٍ، ← ثُمَامَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَنَسٍ، ← عُزْرَةُ بْنُ ثَابِتٍ الأَنْصَارِيُّ ← وَكِيعٌ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 12200

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 12201

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا هِشَامٌ وَإِسْحَاقُ الْأَزْرَقُ قَالَ أَخْبَرَنَا الدَّسْتُوَائِيُّ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَفْطَرَ عِنْدَ أَهْلِ بَيْتٍ قَالَ أَفْطَرَ عِنْدَكُمْ الصَّائِمُونَ وَأَكَلَ طَعَامَكُمْ الْأَبْرَارُ وَتَنَزَّلَتْ عَلَيْكُمْ الْمَلَائِكَةُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی کے یہاں روزہ افطار کرتے تو فرماتے تمہارے یہاں روزہ داروں نے روزہ کھولا، نیکوں نے تمہارا کھانا کھایا اور رحمت کے فرشتوں نے تم پر نزول کیا۔

أفطر عنْدكُمْ الصائمون وَأكل طَعَامكُمْ الْأَبْرَار وتنزلت عَلَيْكُم الْمَلَائِكَة ← كَانَ النَّبِيُّ إِذَا أَفْطَرَ عِنْدَ أَهْلِ بَيْتٍ ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← الدَّسْتُوَائِيُّ؛ ← هِشَامٌ وَإِسْحَاقُ الْأَزْرَقُ ← وَكِيعٌ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 12201

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 12202

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ كَانَ مَوْضِعُ مَسْجِدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِبَنِي النَّجَّارِ وَكَانَ فِيهِ نَخْلُ وَقُبُورُ الْمُشْرِكِينَ فَقَالَ لَهُمْ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَامِنُونِي بِهِ فَقَالُوا لَا نَأْخُذُ لَهُ ثَمَنًا وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَبْنِيهِ وَهُمْ يُنَاوِلُونَهُ وَهُوَ يَقُولُ أَلَا إِنَّ الْعَيْشَ عَيْشُ الْآخِرَهْ فَاغْفِرْ لِلْأَنْصَارِ وَالْمُهَاجِرَهْ قَالَ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي قَبْلَ أَنْ يُبْنَى الْمَسْجِدُ حَيْثُ أَدْرَكَتْهُ الصَّلَاةُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی جگہ دراصل بنونجار کی تھی، یہاں ایک درخت اور مشرکین کی چند قبریں ہوا کرتی تھیں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو نجار سے فرمایا کہ میرے ساتھ اس کی قیمت طے کرلو، انہوں نے عرض کیا کہ ہم اس کی قیمت نہیں لیں گے، مسجد نبوی کی تعمیر میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم خود بھی شریک تھے، لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اینٹیں پکڑا تے تھے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے جا رہے تھے کہ اصل زندگی تو آخرت کی ہے، اے اللہ! انصار اور مہاجرین کی مغفرت فرما اور مسجد نبوی کی تعمیر سے پہلے جہاں بھی نماز کا وقت ہو جاتا نبی صلی اللہ علیہ وسلم یہیں نماز پڑھ لیتے۔

أَلَا إِنَّ الْعَيْشَ عَيْشُ الْآخِرَهْ فَاغْفِرْ لِلْأَنْصَارِ وَالْمُهَاجِرَهْ ← لَا نَأْخُذُ لَهُ ثَمَنًا وَكَانَ النَّبِيُّ يَبْنِيهِ وَهُمْ يُنَاوِلُونَهُ وَهُوَ ← لَهُمْ النَّبِيُّ ثَامِنُونِي بِهِ ← كَانَ مَوْضِعُ مَسْجِدِ النَّبِيِّ لِبَنِي النَّجَّارِ وَكَانَ فِيهِ نَخْلُ وَقُبُورُ الْمُشْرِكِينَ ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← أَبِي التَّيَّاحِ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← وَكِيعٌ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 12202

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 12203

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ شُعْبَةَ وَالدَّسْتُوَائِيِّ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا طِيَرَةَ وَيُعْجِبُنِي الْفَأْلُ قَالَ وَالْفَأْلُ الْكَلِمَةُ الْحَسَنَةُ الطَّيِّبَةُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بدشگونی کی کوئی حیثیت نہیں ، البتہ مجھے فال یعنی اچھا اور پاکیزہ کلمہ اچھا لگتا ہے۔

أَنَسٍ، ← قَتَادَةَ ← شُعْبَةَ وَالدَّسْتُوَائِيِّ ← وَكِيعٌ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 12203

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 12204

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنِي هَمَّامٌ عَنْ غَالِبٍ هَكَذَا قَالَ وَكِيعٌ غَالِبٍ وَإِنَّمَا هُوَ أَبُو غَالِبٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّهُ أُتِيَ بِجِنَازَةِ رَجُلٍ فَقَامَ عِنْدَ رَأْسِ السَّرِيرِ ثُمَّ أُتِيَ بِجِنَازَةِ امْرَأَةٍ فَقَامَ أَسْفَلَ مِنْ ذَلِكَ حِذَاءَ السَّرِيرِ فَلَمَّا صَلَّى قَالَ لَهُ الْعَلَاءُ بْنُ زِيَادٍ يَا أَبَا حَمْزَةَ أَهَكَذَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُومُ مِنْ الرَّجُلِ وَالْمَرْأَةِ نَحْوًا مِمَّا رَأَيْتُكَ فَعَلْتَ قَالَ نَعَمْ قَالَ فَأَقْبَلَ عَلَيْنَا الْعَلَاءُ بْنُ زِيَادٍ فَقَالَ احْفَظُوا

مروی ہے کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ کے سامنے ایک مرد کا جنازہ لایا گیا وہ اس کی چارپائی کے سرہانے کھڑے ہوئے اور عورت کا جنازہ لایا گیا تو چارپائی کے سامنے اس سے نیچے ہٹ کر کھڑے ہوئے، نماز جنازہ سے فارغ ہوئے تو علاء بن زیاد رحمۃ اللہ علیہ کہنے لگے کہ اے ابوحمزہ! جس طرح کرتے ہوئے میں نے آپ کو دیکھا ہے کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی مرد و عورت کے جنازے میں اسی طرح کھڑے ہوتے تھے؟ انہوں نے فرمایا ہاں ! تو علاء نے ہماری طرف متوجہ ہو کر کہا کہ اسے محفوظ کرلو۔

أَنَسٍ، ← وَكِيعٌ غَالِبٍ وَإِنَّمَا هُوَ أَبُو غَالِبٍ ← غَالِبٍ هَكَذَا ← هَمَّامٌ، ← وَكِيعٌ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 12204

chevron_left Previous
1…157158159…264
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    0. Chapter
2. Book
    0. Chapter
3. Book
    0. Chapter
4. Book
    0. Chapter
5. Book
    0. Chapter
6. Book
    0. Chapter
7. Book
    0. Chapter
8. Book
    0. Chapter
9. Book
    0. Chapter